اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَآشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدَہٗ وَرَسُوْلَہٗ۔
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠
(النور 31-32)
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی معرکۃ الآراتصنیف اسلامی اصول کی فلاسفی میں اسلامی پردہ کے حوالہ سے ان آیات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’..... ایمانداروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نا محرم عورتوںکودیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور سے نہ دیکھیںجو شہوت کا محل ہو سکتی ہوں اور ایسے موقع پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں۔ ایسا ہی کانوںکو نا محرموں سے بچاویں یعنی بیگانہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنیں۔ ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔ یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کے لئے عمدہ طریق ہے۔ ایسا ہی ایماندار عورتوںکو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نا محرم مردوں کے دیکھنے سےبچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نا محرموں سے بچائیںیعنی ان کی پُرشہوات آوازیں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنی ز ینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے یعنی گریبان اور دونوںکان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کےپردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کوزمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔ یہ وہ تدبیر ہے کہ جس کی پابندی ٹھوکر سے بچا سکتی ہے۔‘‘
( روحانی خزائن جلد ۱۰صفحہ ۳۴۱-۳۴۲)
جن آیات کی تلاوت خاکسار اوپر کر آ ئی ہے اس سے یہ بات عیاں ہے کہ پردے کے حکم کا آغاز غض بصر سے ہوتا ہے ۔آ نکھ کی پاکیزگی اصل پردے کی نشاندہی کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں مرد کو پہلےغض بصر کرنے کی تلقین فرمائی ہے گویا کہ غض بصر پردے کی پہلی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر مرد اور عورت دونوں ہی اپنی اپنی عصمت کی حفاظت کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غض بصر کریںجب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں تو محفوظ رہیں گے۔ اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے-قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں وہ غیر مرد کو نہ دیکھےجن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لیے پڑے ان کوگھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 405، مطبوعہ 2016ء)
انسانی اعضاء میں سے چہرہ سب سے زیادہ پُر کشش ہوتا ہے اور قرآن کریم میں عورتوں کو اپنی زینتیں چھپانے کا حکم دیا ہے۔ پس چہرہ کس طرح ننگا رکھا جا سکتا ہے جبکہ عورت فطری طور پر زیب و زینت کی طرف مائل ہے۔پردے کے حکم کے نزول کے بعد تمام مسلمان عورتیں اپنے چہروں کو چھپاتی تھیں تا کہ زینت کا اظہار نہ ہو۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: عورت کا سارا جسم ہی چھپانے کے لائق ہے ۔ اس حدیث سے صاف طور پر پتا چلتا ہے کہ چہرے کو پردےسے مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: آنکھیں اور ان کے ارد گرد کا تھوڑا تھوڑا حصہ ننگا رکھا جا سکتا ہے اس لئے آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(الازہار لذوات الخمار صفحہ 214)
نیزفرمایا:’’ جو عورتیں نا محرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کےساتھ ہے ۔‘‘
( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 69)
سامعات! اسلامی پردے سے مراد زینت کو ڈھکنے والا حیادار لباس اور حیادار اور پُر تقدس رویہ اختیار کرنا ہے۔اسلام نے انسان کو تمام اخلاقیات میں اعلیٰ معیار قائم کرنے والی تعلیم دی ہے اور حیا تو اسلام کا خاص خلق ہے ۔ جیسا کہ حدیث نبوی ﷺمیں آ تا ہے کہ ہر مذہب کا ایک خاص خُلق ہوتا ہے اور اسلام کا یہ خُلق حیا ہے ۔ اسلام جو دین فطرت ہےاس نے حیا کے خلق کو مرد و زن دونوں کے لیے لازم قرار دیا ہے اور آنحضرت ﷺ اس خلق کے کامل مظہر تھے ۔ حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتےہیں باحیا اور پاکیزہ ماحول کے قیام کے لیے اسلام مرد اور عورت دونوںکو ایک دوسرے سے پردے کا حکم دیتا ہے کیونکہ پردے کا حکم در اصل مرد و زن کے آزادانہ میل جول پر پابندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونےوالے اخلاقی بد نتائج سے بچاؤ کے لیے ہے اسی لیے پردے کے عملی اظہارکے لیے غض بصر کے حکم میں بلا تفریق مرد و عورت دونوں کو شریک کیا گیا ہے۔
معزز بہنو! اگر ہم پردے کی اہمیت و افادیت کے متعلق اسلامی احکامات کامطالعہ کریں تو بلا شبہ اسلام نے دیگر تمام مذاہب سے بڑھ کر پردہ کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے ام المومنین حضرت ام سلمیٰؓ اور حضرت میمونہ ؓ کو ایک نابیناصحابی ابن ام مکتومؓسے پردہ کرنے کا حکم دیا جب انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ وہ تو نابینا ہیں اور ہمیں نہیں دیکھ سکتے اس پر آپؐنےفرمایا کہ تم دونوں بھی نابینا ہو کہ اس کو نہیں دیکھ سکتی؟ ( مشکوٰۃ کتاب الادب)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’ اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے اس سےغرض یہ ہے کہ نفس انسانی پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچارہے۔‘‘
(البدر جلد 3صفحہ 34)
حیا کی وجہ سے انسان کے قول اور فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہےلہٰذا باحیا انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگارعالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے ۔قرآن مجید نے اس کے ثبوت کے طور پرحضرت موسیٰ ؑکے مدین ہجرت کے موقع پر ملنے والی لڑکیوں کے حوالےسے ان کی حیا کا ذکر کیا ہے کہ جب وہ حضرت موسیٰ ؑکے پاس اپنے باپ کا پیغام لے کر آئیں تو ان کی چال ڈھال میں بڑی حیا اور شائستگی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ شرم و حیا اس قدر پسند آئی کہ قرآن کریم میں اس کاتذکرہ یوں فرمایا:فَجَآءَتْہُ اِحْدٰھُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآءٍ یعنی پس ان دونوں میں سے ایک ان کے پاس حیا سے لجّاتی ہوئی آ ئی۔
( سو رۃ القصص آیت 26)
حیا وہ صفت ہے جس کی وجہ سے انسان پاکیزگی اور پاک دامنی کی زندگی گزارتا ہے لیکن اس کے برعکس جو شخص حیا جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے وہ حقیقت میں محروم القسمت بن جاتا ہے ۔خدا تعالیٰ ایسے شخص سے کراہت کرتا ہے اور ایسے انسان سے خیر کی توقع رکھنابھی فضول ہے چنانچہ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے ’جب شرم و حیا نہ رہے تو پھر جو جی میں آئے کرتا پھرے۔ ‘(صحیح البخاری کتاب الادب)اس سے معلوم ہوا کہ بے حیا انسان کسی ضابطہ اخلاق کا پابند نہیںہو سکتا اور اس کی زندگی شتر بے مہار کی طرح ہوتی ہے ۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آ ج اس نام نہاد ترقی یافتہ دور میں جہاں حیا کے معیارالٹا دیے گئے ہیں ہمیں امام وقت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مستقل راہ نمائی حاصل ہے تاکہ ہم مغرب کی اندھی تقلیدکے خوفناک نتائج سے بچ سکیںاوراسی حوالہ سے خاکسار کو جلسہ سالانہ کی آج کی اس نشست میں ’’اسلامی پردے کی اہمیت و برکات حضورانور کے ارشادات کی روشنی میں‘‘پیش کرنے کا حکم ہوا ہے۔
معزز بہنو!ہمارے پیارے امام سیدناحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزجہاں ایک طرف احمدی خواتین میں اسلامی پردہ کی ترویج کے لئے سعی فرمارہےہیں وہیں دوسری طرف غیر مسلموں کی طرف سے پردہ پر ہونےوالے حملوں کا بھی کامیاب دفاع فرماتے ہیں اور آپ کی ہرنصیحت ہماری دنیاوعاقبت کو سنوارنے والی ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم نہ صرف حضور انور کی ان نصائح کو بغور سنیں بلکہ اپنی اور اپنی نسلوں کے اندربھی ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطافرمائے۔آمین
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ’’ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی اکثریت دین سے دور ہٹ گئی ہے اس لئے ان کے برائی اور اچھائی کے میعار بھی بدلتے جا رہے ہیں مثلاً اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی اور فیشن کے نام پر عورتوں اور مردوں میں ملنا عام ہو رہا ہے ترقی یا فتہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ کھلے عام بے حیائی کی جائے۔ حیا نام کی کوئی چیز نہیں رہی اور ظاہر ہے اس کا اثر پھر ہمارے بچوں اور بچیوں پر بھی ہوگا جو یہاں رہتے ہیں اور کچھ حد تک ہو بھی رہا ہے ۔
بعض بچیاں جب جوانی میں قدم رکھنے لگتی ہیں تو مجھے لکھتی ہیں کہ اسلام میں پردہ کیوں ضروری ہے کیوں ہم تنگ جینزاور بلاؤز پہن کر بغیر برقعہ کے یا کوٹ کے گھر سے باہر نہیں جا سکتیں ؟کیوں ہم یہاں یورپ کی آزاد لڑکیوں جیسا لباس نہیں پہن سکتیں ؟پہلی بات تو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اگر ہمیں دین پر قائم رہنا ہے تو پھر ہمیں دینی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا اگر ہم نے یہ اعلان کرنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور دین پر قائم ہیں تو پھر پابندی بھی ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بات پر ان کے حکموں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کے حیا ایمان کا حصہ ہے۔ پس حیا دار لباس اورپردہ ہمارے ایمان کو بچانے کے لئے ضروری ہے اگر ترقی یا فتہ ملک آزادی اور ترقی کے نام پر اپنی حیا کو ختم کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دین سے بھی دور ہٹ چکے ہیں ۔ پس ایک احمدی بچی جس نے حضرت مسیح موعود ؑ کو مانا ہے اس نے یہ عہد کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی۔ایک احمدی بچے نے جس میں حضرت مسیح موعود ؑ کو مانا ہے ایک احمدی شخص نے ، مرد نے، عورت نے مانا ہے، اس نے دین کو دنیا پر مقد م کرنے کا عہد کیا ہے اور یہ مقدم رکھنا اسی وقت ہوگا جب دین کی تعلیم کے مطابق عمل کریں گے۔‘‘
(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز فرمودہ 13 جنوری 2017ء)
معزز بہنو! سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سےپردہ اورحیا کی تعلیم کی ترویج کی اہمیت کے حوالہ سےاحمدی ماؤں کو تربیت اولاد کی اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشادفرمایا :
’’جو مائیں بچپن سے ہی اپنے بچوں کے لباس کا خیال نہیں رکھیں گی وہ بڑے ہو کر بھی ان کو سنبھال نہیں سکیں گی بعض بچیوں کی اٹھان ایسی ہوتی ہے کہ 11-10 سال کی عمر کی بچی بھی 14 ۔ 15 سال کی لگ رہی ہوتی ہے۔ ان کو اگر حیا اور لباس کا تقدس نہیں سکھائیں گے تو پھربڑے ہو کر بھی ان میں یہ تقدس کبھی پیدا نہیں ہوگا بلکہ چاہے بچی بڑی نہ بھی نظر آرہی ہو چھوٹی عمر سے ہی اگر بچیوں میں حیا کا مادہ پیدا نہیںکریں گے اور اس طرح نہیں سمجھائیں گی کہ دیکھو! تم احمدی ہو ، تم یہاںکے لوگوں کے ننگے لباس کی طرف نہ جاؤ تم نے دنیا کی راہ نمائی کرنی ہے تم نے اس تعلیم پر عمل کرنا ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اس لیے تنگ جینز اور اس کے اوپر چھوٹے بلاؤز جو ہیں ایک احمدی بچی کوزیب نہیں دیتے تو آہستہ آہستہ بچپن سے ذہنوں میں ڈالی ہوئی بات اثر کرتی جائے گی اور بلوغت کو پہنچ کر حجاب یا اسکارف اور لمبا کوٹ پہننے کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہو جائے گی ورنہ پھر ان کی یہی حالت ہوگی جس طرح بعض بچیوں کی ہوتی ہے …کہ مسجد میں آتے ہوئے جماعتی فنکشن پر آتے ہوئے تو سر ڈھکا ہوا ہوتا ہے لباس بڑا اچھا پہنا ہوا ہوتا ہےاور باہر پھرتے ہوئے سر پر دوپٹہ بھی نہیں ہوتا بلکہ دوپٹہ سرے سےغائب ہوتا ہے۔ا سکارف کا تو سوال ہی نہیں پس مائیں اگر اپنے عمل سے بھی اور نصائح سے بھی بچیوں کو توجہ دلاتی رہیں گی یہ احساس دلاتی رہیںگی کہ ہمارے لباس حیادار ہونے چاہیے اور ہمارا ایک تقدس ہے تو بہت سی قباحتوں سے وہ خود بھی بچ جائیں گی اور ان کی بچیاں بھی بچ جائیں گی اگر ہم اپنے جذبات کی چھوٹی چھوٹی قربانیوں کے لیے تیار نہیں ہوں گےتو بڑی بڑی قربانیاں کس طرح دے سکتے ہیں۔‘‘
( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 28جون 2008ء)
حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے گھروں میں بھی حیادار لباس پہننے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آ پ نے فرمایا: ’’بعض لڑکیاں سمجھ لیتی ہیںکہ گھر میں جینس کے اوپر ٹی شرٹ پہن لیا یا چھوٹا بلاؤز پہن لیا تو ایساکوئی فرق نہیں پڑتا اس میں کوئی حرج نہیں ہے گھر سے باہر نکلتے ہوئےلمبا کوٹ پہن لیا جبکہ گھر میں اپنے باپ بھائیوں کے سامنے بھی ایسا لباس پہننا چاہیے جو حیادار ہو مناسب ہو بے شک اللہ تعالیٰ نے ان سے پردہ نہ کرنے کا کہا ہے لیکن حیا کو بہرحال ایمان کا حصہ قرار دیا ہے پھر گھرمیں کسی وقت بھی کوئی عزیز رشتہ دار بھی بعض دفعہ آجاتا ہے اپنے باپ بھائیوں کے سامنے بھی اچانک کوئی آ جاتا ہے تو سامنے ہونا پڑتا ہے اورایسا لباس پھر ان کے سامنے مناسب نہیں ہوتا اس لیے گھر میں بھی ایسالباس جو ہے حیادار رکھنا چاہیے بے شک حجاب کی ضرورت نہیں ہے۔ سرننگا پھر سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ اس کے احکام پرعمل ہو اور حیا دار لباس گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی پہنے۔یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے حیا کے تقاضے پورے کرنے کے بعد آ پ کو کوئی نہیں روکتا کہ آپ ڈاکٹر بنیں یا انجینئر بنیں یا ٹیچر بنیں یا کسی بھی ایسےپیشے میں جائیں جو انسانیت کے لیے فائدے مند پیشہ ہے آپ اس کے ساتھ بالکل آ زاد ہیں ۔ہر احمدی بچی کا ایک تقدس ہے اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ یہ اپنے تقدس کا خیال اور حیا کا اظہار ہی ہے جو آ پ کو نیکیوں کی تلقین کرنے والا اور برائیوں سے روکنے والا بنائے گا اور آپ کے نمونے آپ کو دوسروں کے لیے اپنی سہیلیوں کے لیے توجہ کا باعث بنائیں گےجس سے آپ کے لیے تبلیغ کے راستے کھلیں گے۔‘‘
(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ جرمنی 2 جون 2005 ء)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ناروے کی نیشنل مجلس عاملہ کے ساتھ ایک میٹنگ میں پردے کے بارے میں ہدایت فرمائی کہ:
’’گھروں میں مختلف فیملیوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ہمارے تعلقات ہیں ۔ ہم پرانے واقف ہیں یہ درست نہیں۔ جب ایک دوسرے کے گھروں میں آئیں تو مرد علیحدہ بیٹھیں اور عورتیں علیحدہ پردے میں بیٹھیں۔ نیز فرمایا: ’’بعض دفعہ نیکی کے نام پر انسانی ہمدردی کے نام پر دوسروں کی مدد کے نام پر مرد اور عورت کی آپس میں واقفیت پیدا ہوتی ہے جو بعض دفعہ پھر برے نتائج کی حامل بن جاتی ہے اس لئے آنحضرتﷺ ایسی عورتوں کے گھروں میں جانے سے بھی منع فرمایا کرتے تھے جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے۔‘‘
اسی سلسلہ میں احمدی عورتوں کی راہ نمائی کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نہایت پُر حکمت نصیحت یوں فرمائی :
’’اگر آپ برقعہ پہن کر مردوں کی مجلسوں میں بیٹھنا شروع کردیں مردوں سے مصافحے کرنا شروع کردیں تو پردے کا تو مقصد فوت ہو جاتا ہے…پردے کا مقصد تو یہ ہے کہ نا محرم مرد اور عورت آپس میں کھلے طور پر میل جول نہ کریں آپس میں نہ ملیں۔ دونوں کی جگہیں علیحدہ علیحدہ ہوں۔ اگر آپ اپنی سہیلی کے گھر جاکر اس کے خاوند یا بھائیوں یا رشتہ داروںسے آزادانہ ماحول میں بیٹھی ہیں چاہیں منہ کو ڈھانک کے بیٹھی ہوتی ہیں یا منہ ڈھانک کر کسی سے ہاتھ ملا رہی ہیں تو یہ تو پردہ نہیں ہے… ہر ایک کی مجلس علیحدہ ہوں بلکہ قرآن کریم میں تو یہ بھی حکم ہے کہ بعض ایسی عورتوں سے جو بازاری قسم کی ہوں یا خیالات گندہ کرنے والی ہوں ان سے بھی پردہ کرو۔ ان سے بھی بچنے کا حکم ہے۔ اس لئے احتیاط کریں اور ایسی مجلسوں سے بچیں۔‘‘
معزز بہنو ! حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حیا اور غضِ بصر کی عادت اپنانے کے ساتھ ساتھ عورتوں کو اپنی خوبصورتی ظاہر نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ :’’اللہ تعالیٰ کے احکامات میں یہ ہے کہ عورت اور مرد کی آپس میں ایک دوسرے سے نظریں نہ ٹکرائیں۔ایک حیا ان میں ہونی چاہیے دوسرے اپنی زینت چھپاؤ ایسا لباس ہو جس سے جسم کی نمائش نہ ہوتی ہو اور تیسرے یہ کہ اپنی زینت چھپانےکے لیے اپنے گریبانوں سر گردن اور سامنے کے حصوں کو ڈھانپ کررکھو جو برقع پہننا ہے وہ ڈھیلا ڈھالا ہو۔ جو میک اپ کر کے چہرہ ننگا کرکے پھرتی ہیں وہ بھی زینت ظاہر کرنے کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسی طرح بالوں کی نمائش جو کرتی ہیں وہ بھی زینت ظاہر کرنے کے زمرے میںآتی ہیں…اس لیے سر ڈھانکنا چہرے کو کم از کم اس حد تک ڈھانپنا کےچہرے کی نمائش نہ ہو رہی ہو اور لباس کو مناسب پہننا یہ کم از کم پردہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ کم از کم یہ معیار ہونا چاہیے ۔‘‘
(خطاب مستورات جلسہ سالانہ یو کے 30 جولائی 2010ء
مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11مارچ 2011ء)
شرم و حیا کو ملحوظ رکھتے ہوئے پردے کے قرآ نی حکم کو اختیار کرناہی ایک احمدی عورت کے شایان شان ہے ۔ اس اہم ذمہ داری کی طرف حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو بارہا توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:’’پھر ایک مومن عورت کو اللہ تعالیٰ کا ایک بہت اہم حکم ہے اپنی زینت چھپانے کا اور پردے کا … بعض پڑھی لکھی بچیاں اور عورتیں معاشرےکے زیر اثر یا خوف کی وجہ سے آج کل…پردے کا خیال نہیں رکھتے انکے لباس فیشن کی طرف زیادہ جا رہے ہیں۔ مسجد میں بھی اگر جانا ہو یاسینٹر میں آ نا ہو تو اس کے لیے تو پردے کے ساتھ یا اچھے لباس کے ساتھ آجاتی ہیں لیکن بعض یہ شکایتیں ہوتی ہیں کہ بازاروں میں اپنے لباس کاخیال نہیں رکھتے ایک بات یاد رکھیں کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور حیاعورت کا ایک خزانہ ہے اس لیے ہمیشہ حیادار لباس پہنیں۔ ہمیشہ یاد رکھیںکہ ایک احمدی عورت کا ایک احمدی بچی کا ایک تقدس ہے اس کو قائم رکھنا ہے آپ نے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پردے کاحکم دیا ہے تو یقیناً اس کی کوئی اہمیت ہے۔ ان مغرب زدہ لوگوں کی طرح نہ بنیں جو یہ کہتے ہیں کہ پردے کا حکم تو پرانا ہو گیا ہے یا خاص حالات میں تھا۔ قرآن کریم کا کوئی حکم بھی کبھی پرانا نہیں ہوتا اور کبھی بدلہ نہیںجاتا اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ ایک زمانہ میں ایسی سوچ پیدا ہوگی اس لیے یہ مستقل حکم اتارا ہے کہ منہ سے کہنے سے اللہ کی بندیاں نہیں بنو گی تم لوگ بلکہ جو نصائح کی جاتی ہیں، جو احکامات قرآ ن کریم میں دیے گئےہیں ان پر عمل کر کے حقیقی مومن کہلاؤ گی۔‘‘
(خطاب ازمستورات جلسہ سالانہ جرمنی یکم /ستمبر 2007 ء
بمقام منہا ئم۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 2 دسمبر 2016 ء)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطاب میںاحمدی مسلمان عورتوں اور بچیوں کو حقیقی رنگ میں حیا اور عصمت کی حفاظت کرنے کی اہمیت کے بارہ میں نہایت احسن رنگ میں یوں توجہ دلائی:’’ بعض لڑکیاں کہہ دیتی ہیں کہ ہم نے سر ڈھانک لیا ہے اور یہ کافی ہے لیکن سر اُس طرح نہیں ڈھانکا ہوتا جس طرح اللہ اور اس کے رسول نےحکم دیا ہے بال صاف نظر آ رہے ہوتے ہیں آ دھا سر ڈھکا ہوتا ہے آدھا ننگا ہوتا ہے گریبان تک نظر آ رہا ہوتا ہے کوٹ اگر پہنا ہوا ہے تو کہنیوںتک بازو ننگے ہوتے ہیں۔ گھٹنوں سے اوپر کوٹ ہوتے ہیں۔ یہ نہ ہی ایک احمدی لڑکی اور عورت کی حیا ہے اور نہ ہی یہ ایک احمدی عورت کی آزادی کی حد ہے بلکہ اس ذریعہ سے اس طرح کی حرکتیں کر کے وہ اپنی حیا پر الزام لا رہی ہوتی ہیں اور باحیثیت احمدی اپنی آ زادی کی حدود کوبھی توڑ رہی ہوتی ہیں…ایک احمدی عورت اور بچی کی عصمت کی قیمت ہزاروں لاکھوں جواہرات سے زیادہ قیمتی ہے بس اس کی حفاظت کرنااور اس کی حفاظت کے طریق جاننا ایک احمدی عورت اور لڑکی کے لیےانتہائی ضروری چیز ہے بلکہ فرض ہے بس ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایک احمدی لڑکی اور ایک احمدی عورت نے اپنی حیا کی حفاظت کرنی ہے،اپنی عصمت کی حفاظت کرنی ہے، اپنے تقدس کو قائم رکھنا ہے اور یہ…کلچر نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیم ہے…ایک بات ہر عورت میں قدرمشترک ہونی چاہیے کہ اس نے تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی زندگی گزارنی ہے اور اپنی حیا اور عصمت کی حفاظت کرنی ہے تبھی وہ حقیقی احمدی مسلمان کہلا سکتی ہے ۔‘‘مزید فرمایا: ’’ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک عورت جو خدا تعالیٰ کا قرب چاہتی ہے جو اپنے ایمان کو کامل کرنا چاہتی ہے اسے اپنے تقدس کا بھی خاص طور سے خیال رکھنا چاہیے اور ایک احمدی عورت جس نے زمانےکے امام کو مانتے ہوئے یہ عہد کیا ہے کہ اپنے آ پ کو تمام برائیوں سےبچائے رکھوں گی اسے تو اپنی عزت، عصمت اور تقدس کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے ۔‘‘
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: بازاروں اور تفریح گاہوںمیں پردے کا خیال نہ رکھنا مخلوط پارٹیوں میں بے پردہ شامل ہونا کزن، کلاس فیلو اور غیر مردوں کے ساتھ غیر ضروری دوستی، لغو اور بے ہودہ پروگرام دیکھنا ان میں شامل ہونا جینس کے ساتھ چھوٹا بلاؤز پہننا ایسی جگہ ملازمت کرنا جہاں لباس حیا کے تقاضوں کے خلاف پہننا پڑے فلمیںدیکھنا شادیوں میں ڈانس کرنا وہ شیطانی حربے ہیں جو عورت سے اس کی حیا چھین کر اسے بدصورت بنا دیتے ہیں۔
( خطبہ جمعہ 9 اکتوبر2011ء)
معزز بہنو! حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ نے احمدی طالبات کوتعلیمی اداروںمیں پردہ کا معیار قائم رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’جب بچی جوان ہو جاتی ہے تو پھر اس کا خیال رکھنا ماحول کا کام ہے اسلام کا توحج کے بارے میں بھی یہ حکم ہے کہ عورت اکیلی نہ جائے بلکہ اپنے محرم کو ساتھ لے کر جائے …بچیوں کو رئیلائز کرائیں کہ فلاں فلاں باتیںبرائیاں ہیں اور ان سے آپ نے بچنا ہے ۔‘‘
(کلاس طالبات جرمنی 10جون 2006 ء)
اسی طرح لڑکیوں کے دوسرے شہروں میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کےبارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے فرمایا کہ: اگر ماں باپ اجازت دیں تو پھر سوچا جا سکتا ہے کہ جہاں جانا ہے وہاں کس کے پاس رہنا ہے لڑکیوں کا علیحدہ ہوسٹل ہونا چاہیے اگر علیحدہ ہے تو ٹھیک ہےپھر وہاں پڑھتے ہوئے اپنے تقدس کا پاکیزگی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
’’اگر والدین کو تسلی نہیں ہے تو پھر بہتر ہے کہ اپنے علاقہ میں رہو اوریہیں پڑھائی کرو۔‘‘
(کلاس واقفات نو جرمنی 18 اکتوبر 2011ء)
ہم اپنے غیر مذہب والے دوستوں کو کس طرح سمجھائیں کہ پردہ کیوںضروری ہے؟اس سوال پر فرمایا:’’ایک تو یہ بتاؤ کہ ہم نے ایک عہد کیا ہے کہ ہم اس دین پر عمل کرنےوالے ہیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حکم دیاہے کہ تم پردہ کرو تاکہ تمہاری جو ایک sanctity ہے وہ قائم رہے اور تمہیں یہ احساس رہے کہ میں نے سوسائٹی میں لڑکوں میں زیادہ mixupنہیں ہونا اور اپنے درمیان اور لڑکوں کے درمیان ایک barrier رکھنا ہے۔‘‘
اسی طرح تبلیغ کے میدان میں اسلامی حکم پردہ کو ملحوظ رکھتےہوئے کام کرنے کا ارشاد یوں فرمایا:
’’انٹرنیٹ پر اگر تبلیغی رابطے کرنے ہوں تو عورتوں کا تبلیغی رابطہ صرف عورتوں سے ہونا چاہیے‘‘
حضور انور نے پردے کی اہمیت بھی واضح فرمائی۔ فرمایا: اگر کہیں مردوں سے رابطہ ہو جائے تو انہیں پھرمردوں کے پتے دے دیں اپنے فارم میں صرف عورتوں کو لے کر آ ئیں اوراگر کسی جگہ عورتیں پوری طرح جواب نہ دے سکتی ہوں اور کوئی مکس گیدرنگ ہو تو اپنے ساتھ لائی ہوئی مہمان خاتون کو لے کر ایک سائیڈ میںبیٹھے اور پردے کا خیال رکھیں لیکن جب کھانے پینے کا وقت آ ئے تو اس وقت مکس گیدرنگ میں نہیں بیٹھنا بلکہ علیحدہ انکلوزر (enclosure ) میںچلے جائیں اور جو عورتیں اکٹھی مجالس میں ملیں ان کے پتے حاصل کرکے ان کو صرف عورتوں کی مجالس میں بلائیں اس صورت میں ان کےذہنوں میں یہ سوال بھی اٹھیں گے کہ آپ مکس مجالس میں کیوں نہیں آتی اس پر آپ اسلامی پردہ کے متعلق وہاں ان کی غلط فہمیاں بھی دور کرسکتی ہیں۔‘‘
(میٹنگ نیشنل مجلس عا ملہ لجنہ اماء اللہ جرمنی 9 جون 2006ء)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک خطبہ جمعہ میں لڑکیوں کے ملازمت کرنے کےاور پردے کے حوالے سے راہ نمائی کرتے ہوئے تفصیلاً فرمایا:’’ایک بچی نے …لکھا کہ…مجھے بنک میں اچھا کام ملنے کی امید ہے …اگر وہاں حجاب لینے پردہ کرنے پر پابندی ہو، کوٹ بھی نہ پہن سکتی ہوںتو کیا میں یہ کام کر سکتی ہوں ؟ … کہتی ہے کہ میں نے سنا تھا کہ آپ نےکہا تھا کہ کام والی لڑکیاں اپنے کام کی جگہ پر اپنا برقع ، حجاب اتارکر کام کر سکتی ہیں…یہ اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ یہ ایک نہیں کئی لڑکیوں کے سوال ہیں، تو پہلی بات یہ ہے کہ میں نے اگر کہا تھا تو ڈاکٹرز کو بعض حالات میں مجبوری ہوتی ہے۔ وہاں روایتی برقع یا حجاب پہن کرکام نہیں ہو سکتا۔ مثلاً آپریشن کرتے ہوئے ۔ ان کا لباس وہاں ایسا ہوتا ہے کہ سر پر بھی ٹوپی ہوتی ہے، ماسک بھی ہوتا ہے، ڈھیلا ڈھالا لباس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تو ڈاکٹر بھی پردے میں کام کر سکتی ہیں۔ ربوہ میںہماری ڈاکٹر ز تھیں ۔ ڈاکٹر فہمیدہ کو ہمیشہ ہم نے پردہ میں دیکھا ہے۔ ڈاکٹرنصرت جہاں تھیں بڑا پکا پردہ کرتی تھیں … ہر سال اپنی قابلیت کونئی ریسرچ کے مطابق ڈھالنے کے لئے ، اس کے مطابق کرنے کے لئے یہاںلندن بھی آتی تھیں لیکن ہمیشہ پردہ میں رہیںبلکہ وہ پردہ کی ضرورت سےزیادہ پابند تھیں۔ ان پر یہاں کے کسی شخص نے نہ اعتراض کیا، نہ کام پراعتراض ہوا، نہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت میں اس سے کوئی اثر پڑا۔ آپریشن بھی انہوں نے بہت بڑے بڑے کئے تو اگر نیت ہو تو دین کی تعلیم پرچلنےکے راستے نکل آتے ہیں ۔‘‘
اپنے ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور نے اس حوالہ سے نصیحت کرتےہوئے فرمایا :
” اس کے ساتھ ہی میں ان احمدی لڑکیوں کو بھی کہتا ہوں جو کسی قسم کےcomplexمیں مبتلا ہیں کہ اگر دنیا کی باتوں سے گھبرا کر یا فیشن کی رومیں بہہ کر انہوں نے اپنے حجاب اور پر دے اتار دئیے تو پھر آپ کی عزتوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوگی ۔ آپ کی عزت دین کی عزت کےساتھ ہے۔حضور انور نے حجاب کی برکت اور اللہ تعالیٰ کی تائیدسے متعلق ایک واقعہ کاذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ ایک احمدی بچی کو اس کے باس (boss) نےنوٹس دیا کہ اگر تم حجاب لے کر دفتر آئی تو تمہیں کام سے فارغ کر دیاجائے گا اور ایک مہینہ کا نوٹس ہے۔ اس بچی نے دعا کی کہ اے اللہ! میں تو تیرے حکم کے مطابق یہ کام کر رہی ہوں۔ کوئی صورت نکال اوراگر ملازمت میرے لئے اچھی نہیں تو ٹھیک ہے پھر کوئی اور بہتر انتظام کردے۔تو بہرحال ایک مہینہ تک وہ افسر اس بچی کو تنگ کرتا رہا کہ بس اتنے دن رہ گئے ہیں اس کے بعد تمہیں فارغ کر دیا جائے گا اوریہ بھی دعا کرتی رہی۔ آخر ایک ماہ کے بعد یہ بچی تو اپنے کام پر قائم رہی لیکن اس افسر کو اس کے بالا افسر نے اس کی کسی غلطی کی وجہ سےفارغ کر دیا یا دوسری جگہ بھجوا دیا اور اس طرح اس کی جان چھوٹی ۔اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ اسباب پیدا فرما دیتا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو خدا تعالیٰ ایسے طریق سے مدد فرماتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کے الفاظ دل سے نکلتے ہیں۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 23 اپریل 2010ء بمقام سوئٹر لینڈ ۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 14مئی 2010ء)
معزز سامعات!آخر پر عرض کردوں کہ ہر قسم کے شیطانی اثرات سےبچنے اور نیکی کی راہ پر قائم رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے لیے دعابہت اہمیت رکھتی ہے چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی خواتین کو دعاکی مدد سے خدا تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :
’’اللہ تعالیٰ کے حضور ہر احمدی کو، عورت مرد کو یہ حکم ہے کہ دعائیںکرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے تو اس پر قائم بھی رکھے اورشیطانی خیالات کو اللہ تعالیٰ مجھ پر حاوی نہ ہونے دے اگر یہ سب کچھ ہوگا تو دنیا کی جو لذات ہیں دنیا کے فیشن ہیں یا یہ احساس کمتری کہ اگرہم دنیا کے مطابق نہ چلیں تو ہمیں دنیا کیا کہے گی، یہ سب چیزیںبے حیثیت ہو جائیں گی دین اور جماعت مقدم ہو جائے گی ۔ ایک احمدی لڑکی اپنی حیا کی حفاظت کرنے والی ہو جائے گی اس کو یہ خیال نہیں آئیں گے کہ کیا حرج ہے اگر میری تصویر رسالوں میں چھپ جائے بلکہ اللہ تعالیٰ کا جو پردہ کا حکم ہے اسے اس بات سے روکے رکھے گا کہ یہ حرکت نہیں کرنی ۔ یہ خیال پیدا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے اور یہ حکم بھی پردہ کا اور اپنی حیا کا قرآن کریم کےحکموں میں سے ایک حکم ہے۔ اس لیے میں نے بہرحال اپنی حیا اور اپنےپردہ کی حفاظت کرنی ہے۔ تمام ان باتوں پر عمل کرنا ہے یا کرنے کی کوشش کرنی ہے جن کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے…جب اس سوچ کے ساتھ ہر عورت …ہر مرد زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے گا تو پھر یہ کڑا جس پر اس نے ہاتھ ڈالا ہے اسے شیطانی اور دنیاوی خیالات سے بچانےکی ضمانت بن جائے گا…اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اللہ تعالیٰ ان کا دوست ہےجو ایمان لائے بس اس بات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ جس کادوست ہو جائے شیطان وہاں آ سکے ۔‘‘
(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 8 ستمبر 2012 ء
بمقام حدیقۃ المہدی مطبوعہ ا لفضل انٹرنیشنل 30 نومبر 2012ء)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ قرآن کریم، رہبرِ کامل حضرت محمد مصطفیٰﷺ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلیفۂ وقت کے تمام ارشادات پر عمل کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو پردے کے حقیقی معنے سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین