لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ
(آل عمران آیت ۹۳)
یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم اُن چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔ اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر بیان کی ہے۔ فرمایا : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ قرآن کریم میں سورۃ بقرہ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتاہے وہاں متقی کی نسبت فرمایا ہے وَمِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ یعنی جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے۔ پھر اسی سورۃ میں کئی جگہ انفاق فی سبیل اللہ کی بڑی بڑی تاکیدیں آئی ہیں… پس تم حقیقی نیکی نہیں پاسکو گے جب تک تم مال سے خرچ نہیں کروگے۔ مِمَّا تُحِبُّوْنَ کے معنے میرے نزدیک مال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ(العادیات :۹) انسان کو مال بہت پیارا ہے۔ پس حقیقی نیکی پانے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔
(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم ؍و ۸ ؍جولائی ۱۹۰۹
بحوالہ حقائق الفرقان جلد اول صفحہ۵۰۰، ۵۰۱)
معزز ناظرین !اللہ تعالیٰ نے اس دور میں ہمیں خلافت احمدیہ کی نعمت عظمیٰ سے نوازا ہے جس سے ہماری تربیت اور تزکیہ کے سامان ہورہے ہیں۔ قرآن کریم میں تزکیہ نفوس کا ایک اہم ذریعہ انفاق فی سبیل اللہ بیان ہواہے۔ حضور انور احباب جماعت کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کی بار بار تلقین فرماتے ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کی تحریک و تحریص کبھی آیات قرآنی اور انکی پر معارف تفسیر کرکے کرتے ہیں تو کبھی مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے صحابہ رسول ﷺ کی مالی قربانیوں کا دلنشین تذکرہ فرماتے ہیں۔ پیارے آقا کے خطبات و خطابات میں حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ اور عالمگیر جماعت احمدیہ کے مخلصین کی مالی قربانیوں کی ایمان افروز داستان ہمارے ایمان و ایقان میںتقویت کا موجب بنتی ہے۔ مالی قربانی کے یہ واقعا ت صحابہ کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قربانیوں کے ان واقعات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعودؑ کا یہ شعر برملا زبان پر آتاہے کہ
مبارک وہ جو اَب ایمان لایا
صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
یہ حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کی ایک بھاری دلیل ہے کہ آپ کی جماعت کے افراد میں نیکی اور تقویٰ اور تزکیہ میں غیر معمولی ترقی پائی جاتی ہے ۔ چنانچہ آپؑفرماتے ہیں:
’’جو کچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے وہ زمانہ بھر میں اِس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد دہم صفحہ 243۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
نیز فرمایا
’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم ازکم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے ۔ ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو کہاجائے کہ اپنے تمام اموال سےدست بردار ہو جاؤ تو وہ دست بردار ہو جانے کیلئے مستعد ہیں۔‘‘
( سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 145)
معزز ناظرین !حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کے احباب کی یہ فدائیت اور مالی قربانی کے عدیم المثال نمونے آپؑکے دور مسعود تک ہی محیط و ممتد نہیں تھے بلکہ آج بھی انفاق فی سبیل اللہ کے عدیم المثال نظارے مشاہدے میں آرہے ہیں۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’پس آپ سے براہ راست فیض پانے والوں نے یہ مقام حاصل کیا اور آپ سے خوشنودی کی سند حاصل کی۔ لیکن کیا یہ اخلاص و وفا وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو گیا؟ یقینا نہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ آج بھی ایسے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں مَردوں میں سے بھی، عورتوں میں سے بھی اور بچوں میں سے بھی ہیں جو اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں۔ چند ایک اور چند مخصوص جگہوں پر نہیں بلکہ ہزاروں ایسی مثالیں ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں جو لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ کا صحیح ادراک رکھتے ہیں۔ جو قربانیوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ جن میں پرانے بھی ہیں اور نئے شامل ہونے والے بھی ہیں جن کو احمدیت قبول کئے تھوڑا عرصہ ہوا ہے بلکہ ایسے بھی ہیں جن کو شاید چند ماہ ہوئے ہوں۔ جن کی ترجیحات احمدیت قبول کرنے سے پہلے دنیاوی خواہشات تھیں لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد وہ دین کی خاطر اپنا محبوب مال یا جو کچھ بھی پاس تھا قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ یہ انقلاب ہے جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا فرمایا۔ لوگوں کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ اور آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ان پر صادق آتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی قربانیوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
آج جماعت میں ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جواس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے تکلیفیں اٹھا کر اپنی پاک کمائی میں سے جو قربانیاں کیں اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلوں کے اموال ونفوس میں بے انتہا ء برکت ڈالی۔
حضرت خلیفہ اوّلؓکا واقعہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کے بارہ میں لکھاہے لیکن ہر دفعہ پڑھنے سے ایمان میں ایک تازگی پیدا ہوتی ہے اور قربانی کی ایک نئی روح پیدا ہوتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’اگر مَیں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کاحق ادا کرتے۔ ان کے بعض خطوط کی چند سطریں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتاہوں :
’’مَیں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرانہیں آپ کا ہے۔ حضرت پیرومرشد میں کمال راستی سے عرض کرتاہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہوجائے تو مَیں مراد کو پہنچ گیا۔ اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنیٰ خدمت بجا لاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کردوں۔ حضرت پیرو مرشد نابکار شرمسار عرض کرتاہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔ میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ میرے پر ڈال دیاجائے۔ پھرجو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔ مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ دعافرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو‘‘۔
(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۳۶)
(یعنی پیسے بھی دے رہے ہیں اور فرمایا کہ اس کے بعد جو آمد ہو وہ بھی اسی کام کو جاری رکھنے کے لئے خرچ ہو)۔
پھر حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی مالی قربانی کا ایک عظیم الشان واقعہ کا ذکر ملتاہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لدھیانہ میں کسی ضروری تبلیغی اشتہار کے چھپوانے کے لئے ساٹھ روپے کی ضرورت پیش آئی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے اس بات کا ذکر کیا کہ کیا آپ کی جماعت اس رقم کا انتظام کر سکے گی۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب نےعرض کیا حضرت انشاء اللہ کر سکے گی۔ چنانچہ آپؓنے جماعت کے کسی فرد سے ذکر کرنے کے بغیر اپنی بیوی کا ایک زیور فروخت کر کے ساٹھ روپے حاصل کئے اور حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے ۔کپورتھلہ کی جماعت کے ایک اور مخلص صحابی حضرت منشی اروڑے خا ن صاحب اپنے دوست منشی ظفر احمد صاحب سے اس وجہ سے چھ ماہ تک ناراض رہے کہ انہوں نے انکومالی قربانی میں حصہ لینے سے محروم رکھا اور خود ہی ساری قربانی پیش کردی۔ اللہ! اللہ ! یہ وہ فدائی لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود مہدی معہود کو عطا ہوئے۔ ذرا غور فرمائیں کہ حضرت صاحب جماعت سے امداد طلب فرماتے ہیں مگر ایک اکیلا شخص اور غریب شخص اٹھتا ہے اور جماعت سے ذکر کرنے کے بغیر اپنی بیوی کا زیور فروخت کر کے اس رقم کو پورا کر دیتا ہے۔ اور پھر حضرت صاحب کے سامنے رقم پیش کرتے ہوئے یہ ذکر نہیں کرتا کہ یہ رقم میں دے رہا ہوں یا کہ جماعت۔ تاکہ حضرت صاحب کی دعا ساری جماعت کو پہنچے اور اس کے مقابل پر دوسرا فدائی یہ معلوم کر کے کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی اور میں اس خدمت سے محروم رہا۔ ایسا پیچ و تاب کھاتا ہے کہ اپنے دوست سے چھ ماہ تک ناراض رہتا ہے کہ تم نے حضرت صاحب کی اس ضرورت کا مجھ سے ذکر کیوں نہیں کیا۔
(الفضل ۴ ستمبر۱۹۱۴ء بحوالہ اصحاب احمد روایات حضرت منشی ظفراحمد صاحب کپور تھلوی صفحہ۶۱، ۶۲)
حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’ پانچواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے یعنی اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے جیسا کہ وہ فرماتا ہے… اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو اور جو کچھ ہم نے عقل اور علم اور فہم اور ہنر وغیرہ تم کو دیا ہے وہ سب کچھ خدا کی راہ میں لگاؤ۔ جو لوگ ہماری راہ میں ہر ایک طور سے کوشش بجا لاتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیا کرتے ہیں۔ ‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد۱۰ صفحہ۴۱۸، ۴۱۹)
پھر آپؑاپنی ایک رؤیا اور ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد نہیں رہے مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا:
اِنْ کُنْتُمْ مُسْلِمِیْنَ۔ اگر تم مسلمان ہو۔ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا:اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ مُسْلِمِیْنَ۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ اگر تم مسلمان ہو۔ فرمایا کہ مرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دو جماعت کی طرف تھے۔ دونوں فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔ چونکہ آجکل روپیہ کی ضرورت ہے۔ لنگر میں بھی خرچ بہت ہے اور عمارت پر بھی بہت خرچ ہو رہا ہے اس واسطے جماعت کو چاہئے کہ اس حکم پر توجہ کریں۔ پھر فرمایا کہ : مرغی اپنے عمل سے دکھاتی ہے کہ کس طرح انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ انسان کی خاطر اپنی ساری جان قربان کرتی ہے اور انسان کے واسطے ذبح کی جاتی ہے۔ اسی طرح مرغی نہایت محنت اور مشقت کے ساتھ ہر روز انسان کے واسطے انڈا دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :سو ہماری جماعت کے مومنین اگر ہماری آواز کو نہیں سنتے تو اس مرغی کی آواز کو سنیں۔ مگر سب برابر نہیں۔ کتنے مخلص ایسے ہیں کہ اپنی طاقت سے زیادہ خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ خدائے تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۵۸۲، ۵۸۳ بدر ۸؍ دسمبر ۱۹۰۵ء )
حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا، دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ، دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔
(بخاری -کتاب الزکوٰۃ باب انفاق المال فی حقہ)
تو یہ علم و حکمت بھی ایک نعمت ہے۔ ہمارے مخالفین جو ہر وقت اس بات پر پیچ و تاب کھاتے رہتے ہیں کہ جماعت کے افراد چندہ کیوں دیتے ہیں۔ چندہ ہم اپنی جماعت کو دیتے ہیں، تمہیں اس سے کیا؟کبھی یہ شور ہوتا ہے کہ فلاں دکانداروں کا بائیکاٹ ہو جاتا ہے کہ ان سے چیز نہیں خریدنی کہ وہ جو منافع ہے اس پہ چند دے دیں گے۔ تمہارے پیسے سے چندہ جائے گا۔ ہمارے شیزان جو س کے خلاف اکثر بڑا محاذاٹھتا رہتا ہے کہ یہ چندہ دیتے ہیں۔ اور حکومت کو بھی یہ مشورہ ہوتا ہے اور مخالفین کا یہ مطالبہ ہے کہ جماعت کے تمام فنڈ حکومت اپنے قبضے میں لے لے۔ تو یہ بیچارے حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی چٹیل زمین میں یہ برکت پڑ ہی نہیں سکتی۔ اور پھر سوائے حسد کے ان کے پاس اور کچھ رہ نہیں جاتا۔
ہم تو اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں اور اس بات سے اللہ کے رسولؐ نے ہم پر رشک کیا ہے۔ صحابہ ؓ تو ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تحریک ہو اور ہم عمل کریں۔ امراء تو اپنی کشائش کی وجہ سے خرچ کر دیتے تھے لیکن غرباء بھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔ وہ بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے تھے۔ چاہے وہ شبنم کے قطرے کے برابر ہی ہو۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا اور وہاں محنت مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مد اناج وغیرہ یا جو بھی چیز ملتی وہ اسے صدقہ کرتا، یہ کوشش ہوتی کہ ہم نے اس میں حصہ لینا ہے۔ اور کما کے حصہ لینا ہے۔ اور راوی بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے بعضوں کا یہ حال ہے کہ ایک ایک لاکھ درہم ان کے پاس موجود ہیں۔ جو مزدوری کرکے چندے دیا کرتے تھے۔
(بخاری کتاب الاجارۃ باب من آجر نفسہ لیحمل علی ظہرہ ثم تصدق بہ…)
تو یہ ہے برکت قربانی کی۔ اس لئے جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بہت غریب ہیں۔ بعض کہہ دیتے ہیں حالات اجازت نہیں دیتے کہ چندہ دے سکیں اس لئے معذرت۔ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ چندہ نہ دے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور وعدوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی غربت بہت زیادہ ہے لیکن وہاں اللہ کے فضل سے بڑھ چڑھ کر ہر تحریک میں حصہ لیتے ہیں چندہ دیتے ہیں…تو جن احمدیوں کو اس راز کا علم ہے۔ وہ اتنا بڑھ بڑھ کر چندہ دے رہے ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انہیں روکنا پڑتا ہے۔ لیکن ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہماری تھیلیوں کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں ؟ ہم نے اپنے خدا سے ایک سودا کیا ہوا ہے آپ اس کے بیچ میں حائل نہ ہوں۔ یہ اظہار دنیا میں ہر جگہ ہر قوم میں نظر آتا ہے۔ اور احمدی معاشرے میں ہر قوم میں نظر آنا چاہئے۔ جن میں کمی ہے ان کو بھی اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اور اللہ کے فضل سے بڑی تعداد ایسی ہے جو اس رویے کا اظہار کرتی ہے چاہے وہ افریقہ کے غریب ممالک ہوں یا امیر ممالک۔ یہ نہ کوئی سمجھے کہ افریقہ کے غریب لوگ صرف اپنے پر خرچ ہی کرواتے ہیں ان میں بھی بڑے بڑے اعلیٰ قربانی کرنے کے معیار قائم کرنے والے ہیں اور حسب توفیق دوسرا چندہ دینے والے بھی ہیں۔ اب گھانا کی مثال میں دیتا ہوں۔ ہمارے بڑے اعلیٰ قربانی کرنے والے بھی ہیں، ایک ہمارے یوسف آڈ وسئی صاحب ہیں وہ لوکل مشنری بھی تھے، بلکہ اب بھی ہیں لیکن آنریری۔ وہ کچھ دوائیاں وغیرہ بھی بنایا کرتے تھے۔ چھوٹا سا شاید کاروبار تھا۔ اور وہ بیمار بھی تھے ان کی ٹانگ میں ایک گہرا زخم تھا جو ہڈی تک چلا گیا تھا۔ بڑی تکلیف میں رہتے تھے۔ تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے علاج اور دعا سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، زخم ٹھیک ہو گیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے پہلے سے بڑھ کر جماعت کی خدمت کرنا شروع کر دی۔ اور کاروبار میں بھی کیونکہ ان کو کچھ جڑی بوٹیاں بنانے کا شوق تھا تو ایسی دوائیاں بنیں جن سے کاروبار خوب چمکا اور پیسے کی ایسی فراوانی ہوئی کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن یہ اس پیسے پر بیٹھ نہیں گئے، بلکہ اپنے وعدے کے مطابق جماعت کے لئے بے انتہا خرچ کیا، اور کر رہے ہیں۔ مختلف عمارات اور مساجد بنوائیں۔ اور بڑی بڑی شاندار مسجدیں بنوائیں، چھوٹی چھوٹی مسجدیں نہیں اور اب بھی ہمہ وقت قربانی کے لئے تیار ہیں۔
پس جماعت احمدیہ میں جو مختلف مالی قربانی کی تحریکات ہوتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے اور دلوں کو پاک کرنے کی کڑیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَ مَا لَکُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ (الحدید:11) اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ پس اپنی زندگیوں کو سنوارنے کے لئے مالی قربانیوں میں حصہ لینا انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ بھی تنبیہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ جیسے کہ فرماتا ہے۔وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ (البقرۃ۔ 196) اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ پس جیسا کہ میں نے کہا یہ مالی تحریکات جو جماعت میں ہوتی ہیں، یا لازمی چندوں کی طرف جو توجہ دلائی جاتی ہے یہ سب خداتعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہیں۔ پس ہر احمدی کو اگر وہ اپنے آپ کو حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ و السلام کی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور کرنا چاہتا ہے، اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین کی ایک بہت بڑی جماعت اس قربانی میں حصہ لیتی ہے…
جیسا کہ مَیں نے کہا جماعت میں بہت تعداد ہے جو دل کھول کر چندہ دینے والی ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتی ہے۔ لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو اچھی بھلی آمد ہوتی ہے تو حیلے بہانے تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ بہت سارے اپنے اخراجات شامل کرنے کے بعدکہتے ہیں کہ اصل آمد تو ہماری یہ ہے۔ اس پہ ہم چندہ دیں گے۔ یا اس کے مطابق ہم چندہ دیں گے۔ ہماری آمد کوئی نہیں، حالات بڑے خراب ہیں۔ تو ان کو بھی سوچنا چاہئے، ناشکری نہیں کرنی چاہئے۔ اس ناشکری کی وجہ سے جو اچھے بھلے حالات ٹھیک ہیں وہ خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ تو یہی کہتا ہے کہ میری راہ میں وہی مال خرچ کرو جو تمہیں زیادہ محبوب ہے۔ اپنی ضروریات کو پیچھے ڈالو اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ خدا کی رضا کو تم کسی طرح پا ہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔ لیکن اگر تم تلخی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے … لیکن اگر تم اپنے نفس سے درحقیقت مر جاؤ گے تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے۔ اور خدا تمہارے ساتھ ہو گا۔ اور وہ گھر بابرکت ہو گا جس میں تم رہتے ہو گے اور ان دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہو گی جو تمہارے گھر کی دیواریں ہیں اور وہ شہر بابرکت ہو گا جہاں ایساآدمی رہتا ہو گا‘‘۔
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 308-307)
قربانیوں کے چندنمونے مَیں اس وقت پیش کرتا ہوں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مشکل سے بدن پر لباس ہوتا ہے لیکن اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔
افریقہ کے ملک مالی کے ایک مخلص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ان کی پوسٹنگ مالی کے ریجن سیگو (Segou) میں ہوئی۔ ایک دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد معلم صاحب نے ایک شخص کو خاکسار سے ملوایا کہ یہ مولویوں کے سب سے بڑے خاندان سے ہیں اور انہوں نے بیعت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چندہ دینے آیا ہوں کیونکہ میں نے آج ریڈیو میں خلیفۃ المسیح کا خطبہ چندہ کے متعلق سنا ہے۔ کہتے ہیں خاکسار نے انہیں انفاق فی سبیل اللہ کی برکات بتانے کے لئے آیت لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ سنائی تو وہ بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے ریڈیو پر جو خطبہ سنا تھا اس میں بھی یہی آیت سنی تھی۔ سوچا تھا کہ پانچ ہزار سیفا چندہ دوں مگر بعد میں شیطان نے دل میں وسوسہ ڈال دیا کہ صرف دو ہزار سیفا ہی کافی ہے لیکن اب جب آپ نے یہی آیت دوبارہ سنائی ہے تو میرے دل کو یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی نظام ہے اور اب میں پانچ ہزار سیفہ ہی چندہ دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے پانچ ہزار سیفا چندہ دیا تو اللہ کے فضل سے نومبائعین مالی قربانی میں بھی اب بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔
حضرت خلیفتہ المسیح الخامس نے 6 نومبر 2011ء کو آئیوری کوسٹ کے ایک نومبائع کا یہ ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا۔
ہمارے آئیوری کوسٹ کے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک دوست آلیڈ وڈرا گو صاحب Alido Oudrago))نے 2009ء کے آخر میں بیعت کی اور بیعت کے پہلے دن سے ہی اپنی آمدنی کا حساب کرکے باقاعدہ شرح کے مطابق چندہ اداکرنا شروع کردیا ۔اس دوران انہوں نے چندے کی بے شمار برکات کا مشاہدہ کیا ۔ایک دن جماعت کے پرانے ممبران کے ساتھ ان برکات کا ذکر کررہے تھے ۔ان پرانے ممبران میں سےایک جس نے 2004ء میں بیعت کی تھی ان واقعات کو سنتے ہوئے اپنا چندہ دو ہزار فرانک سے بڑھا کر پانچ ہزار فرانک سیفا کرنے کی حامی بھر لی ۔کہتے ہیں کہ ابھی ادائیگی شروع نہ کی تھی کہ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ان کی آمدنی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے چنانچہ وہ پرانے ممبر میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کرکے کہا کہ انہوں نے پانچ ہزار فرانک سیفا کی حامی بھری تھی مگر آج سے میں پانچ ہزار کے بجائے دس ہزار فرانک سیفا ماہانہ اداکروں گا اور پھر اس کے مطابق ادائیگی بھی شروع کردی ۔اور اس طرح بے تحاشہ اور ممبران ہیں جو چندہ میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔
09 نومبر 2012ء کے خطبہ جمعہ میں حضور اقدس نےفرما یا:
کرغستان سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک کرغز دوست جو مارٹ صاحب نے 2006ء میں بیعت کی تھی ۔بہت ہی نیک فطرت نوجوان ہیں بیعت کے فوراًبعدہمارے مبلغ نے چندے کے بارے میں سمجھا نے کے لئےازراہ مزاح کہا کہ دوسرے لوگ تو اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لئے پیسے دیتے ہیں، جبکہ ہماری جماعت میں داخل ہو تو ہم اُس سے پیسے لیتے ہیں ۔جس پر انہوں نے کہا کہ ماہانہ تین سو کرغیز چندہ عام اداکیا کروں گا ۔کچھ عرصے کے بعد ہی انہوں نے چار سو کردئے پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد آٹھ سو کردئے ۔پھر کچھ مدت کے بعد خود ہی بغیر کسی کے کہنے کے ایک ہزار سُم ماہانہ ادا کرنا شروع کردیا۔
امیر صاحب فرانس مراکش کے دورے پر گئے تو کہتے ہیں وہاں نو احمدی احباب کو قربانی اور اخلاص سے بھرا ہوا پایا۔ اور خلافت سے اُن کو بے انتہا محبت تھی۔ اور جب اُن کو مالی قربانی کے بارے میں بتایا گیا اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کےاقتباسات پڑھ کر سنائے تو پھر کہتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد ایک دوست صدر صاحب کے پاس آئے اور ایک بڑی رقم اُن کو ادا کر دی اور کہا کہ مَیں جب سے احمدی ہوا ہوں، اُس وقت سے لے کر اب تک یہ چندہ ہے، کیونکہ چندے کے بارے میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات اور خلیفۂ وقت کی نصائح کو نہیں سنا تھا۔ اب مَیں نے سن لیا ہے تو اب مَیں پیچھے نہیں رہ سکتا۔
نائیجر سے اصغر علی بھٹی صاحب لکھتے ہیں کہ پچھلے سال اکتوبر2011ء میں تبلیغ کے دوران خاکسار گِدابراؤ (Gida Braoo) گاؤں میں پہنچا۔ نمازِ مغرب کے بعد تبلیغ کی گئی اور نمازِ عشاء کے بعد میرے دورہ جات کی جو مختلف ویڈیوز تھیں، وہ دکھائی گئیں۔ جلسے دکھائے، مساجد کے بارے میں پروگرام دکھائے، تبلیغی مساعی کے بارے میں پروگرام دکھائے، اسی طرح امام مہدی کی آمد کے بارے میں بتایا، بیت المال کے نظام کے بارے میں بتایا۔ یہ سب کچھ ویڈیو میں تھا تو جب ویڈیو ختم ہوئی تو ایک امام صاحب وہاں اُٹھے جو ہاؤسا لوگوں کو مخاطب ہوئے اور مسجد سے باہر چلے گئے۔ کہتے ہیں ہم پریشان تھے لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اب پتہ لگا ہے کہ امام مہدی آ گیا ہے اور بیت المال کا نظام قائم ہے۔ میں ان سب کو لے کر گیا تھا اس لئے کہ اس نظام میں ہمیں حصہ لینا چاہئے اور چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے وہاں فوری طور پر رقم اکٹھی کی اور وہ ہمارے مشنری کو ادا کی اور پھر ساتھ ہی انہوں نے بیعت فارم بھی فِل (Fill) کئے۔
دارالسلام تنزانیہ کے ایک احمدی دوست عیسیٰ صاحب بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے نوے کی دہائی میں احمدیت قبول کی تھی۔ اس سے پہلے وہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد ایمان میں کافی ترقی کی۔ اب ماشاء اللہ موصی ہیں اور مالی قربانی کرنے والے ہیں۔ ہمیشہ اپنی اور اپنی فیملی کا چندہ وعدے سے زیادہ ادا کرتے ہیں۔ جماعتی تعلیمات کو بجا لانے میں پرانے احمدیوں سے بہت آگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دارالسلام تنزانیہ کے ریجنل پریذیڈنٹ ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب سے مَیں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی شروع کی ہے، اللہ تعالیٰ کے بہت سے افضال اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھے ہیں۔ اتنی برکات نازل ہوئی ہیں کہ جو بیشمار ہیں۔ مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ خاکسار کا پہلے ایک گھر تھا۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین گھروں کا مالک ہوں۔ میری اولاد بھی بہترین جگہ پر تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
نائیجیریا کی ایک جماعت اوکینے (Okene) کے صدر صاحب کہتے ہیں۔ خاکسار کچھ عرصہ مالی مشکلات کا شکار رہا اس کی وجہ سے کافی پریشانی ہوئی۔ پھر ایک دن مجھے خیال آیا کہ خاکسار نے تین ماہ سے چندہ ادا نہیں کیا۔ ممکن ہے اسی سبب خاکسار اس مالی پریشانی میں مبتلا ہو۔ اس پر مَیں نے تین ماہ بعد چار ہزار نائرہ چندہ ادا کیا۔ خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی ماہ خاکسار نے ایک قطعہ زمین بیچا جس پر میرے مولیٰ کریم نے آٹھ لاکھ نائرہ کا منافع عطا فرمایا۔ اس وقت میرے ایمان کو جہاں مزید تقویت ملی وہیں یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔ اگر اس کی راہ میں قربانی کرو گے تو وہ ضرور کئی گنا بڑھا کر تمہیں واپس لوٹائے گا۔ اب انہوں نے کوگی (Kogi) سٹیٹ کے کیپیٹل لوکوجا (Lokoja) میں جماعت کو مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ایک بہت بڑا پلاٹ بھی شہر کے علاقے میں لے کر دیا ہے۔
ہمارے گنی کناکری کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی نوجوان محمد ساکوؔ نے بتایا کہ میری شادی کی تاریخ طے ہو گئی تھی اور گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ شادی کی تیاریاں کی جا سکیں اور جہاں سے رقم آنے کی امید تھی، وہاں سے مسلسل مایوسی ہو رہی تھی۔ اس دوران چندوں کا مطالبہ ہوا تو جو رقم گھر میں موجود تھی وہ چندے میں ادا کر دی۔ اس پر اس کی منگیتر نے بڑا شور مچایا کہ یہ تم نے کیا کیا۔ جو معمولی رقم تھی وہ چندے میں دے دی۔ تو یہ نوجوان کہتے ہیں کہ میں نے اُسے کہا کہ خدا کے فضل سے مَیں ایک ایماندار شخص ہوں اور خدا پر یقین رکھنے والا شخص ہوں اس لئے گھبراؤ نہیں، اللہ تعالیٰ خود ہماری مدد فرما دے گا اور خدا کی راہ میں دیا ہوا کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ اگلے روز ہی جب وہ کام پر گئے تو اُن کو وہ ساری رقم مل گئی جو ایک لمبے عرصے سے رُکی ہوئی تھی۔ اور جب شام کو گھر لا کر انہوں نے دی تو لوگ حیران رہ گئے کہ کس طرح اتنی جلدی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔
پس آج ہم دنیا پر نظر پھیریں تو اسلام کی تعلیم کے مطابق حقیقی رنگ میں اگر کوئی جماعت من الحیث الجماعت خرچ کر رہی ہے تو جماعت احمدیہ ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتی ہے یا قربانیاں دیتی ہے۔ باقی دنیا اگر کچھ کر بھی رہی ہے تو بہت معمولی۔ اور ہر ایک کھیل کود اور نفس کی خواہشات کی تکمیل میں لگا ہوا ہے۔ بہت ساری بدعات اور رسومات نے مسلمانوں میں راہ پا لی ہے۔ جو دنیاوی رسومات ہیں شادی بیاہ ہیں، ان پر دکھاوے کے لئے بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے۔ (خطبہ جمعہ 6 نومبر 2009)
پس آج احمدی اس ہاتھ پر جمع ہونے کی وجہ سے خیر اُمّت کہلاتے ہیں اور یہ ان کی ذمّہ داری ہے کہ نیک باتوں کا حکم دیں اور بُری باتوں سے روکیں اور یہ سب کچھ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اپنے عمل بھی اس کے مطابق نہ ہوں اور جب تک خداتعالیٰ پر مضبوط ایمان نہ ہو اور پھر ان نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں سے روکنے کے لئے مِنْ حَیْثُ الجماعۃ قربانی سکا جذبہ نہ ہو۔ بڑے مقاصد حاصل کرنے کے لئے بہر حال قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اپنی عبادتوں کے معیار قائم کرنے پڑتے ہیں اور اپنے مال کا تزکیہ کرنا ہوتا ہے۔ سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایاہے۔ فرمایا: اَلَّذِیْنَ اِنْ مَکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَآتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ۔ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ (الحج: 42) کہ جنہیں اگر ہم زمین میں تمکنت عطا کریں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور ہر بات کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔
معز ز ناظرین اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بیشمار واقعات دنیائے احمدیت میں رونما ہورہے ہیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات میں ہمیںاس قسم کے متنوع واقعات سننے کو ملتے ہیں جہاں احباب جماعت کے کاروبار میں بے انتہا برکت ہوگئی۔ انکی ایمانی حالت بدل گئی ۔وہ محبت الٰہی میں بڑھ گئے۔ وہ نقصان سے بچ گئے ۔غرض بیشمار واقعات ہیں جن کو وقت کی رعایت سے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ایمان افروزواقعہ گنی کناکری کا ہے چنانچہ گنی کناکری کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نوجوان محترم محمد ماریگا صاحب (Muhammad Marega) لمبا عرصہ تبلیغ کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں داخل ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے یہ ایک آرکیٹکٹ انجینئر ہیں۔ جب انہوں نے بیعت کی تو یہ کنسٹرکشن کمپنی
میں ملازمت کرتے تھے اور معمولی تنخواہ لیتے تھے۔ بیعت کے بعد جب ان کو جماعت کے مالی نظام کا تعارف کروایا تو انہوں نے پوچھا کہ ان چندوں میں سب سے اہم چندہ کونسا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ چندہ وصیت، چندہ عام اور چندہ جلسہ سالانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے جاری کردہ ہیں اور وصیت کی اہمیت کے متعلق انہیں بتایا۔ فوراً کہنے لگے کہ میں آج سے ہی چندہ وصیت ادا کروں گا۔ مبلغ نے انہیں بتایا کہ وصیت کا ایک نظام ہے اُس میں داخل ہونے کے بعد آپ چندہ وصیت ادا کر سکتے ہیں۔ تو کہنے لگے میں اس نظام میں بھی داخل ہوتا ہوں۔ پھر انہوں نے رسالہ الوصیت پڑھا اور اُس کے بعد وصیت کی اور بڑی ایمانداری سے اپنی تنخواہ کا دسواں حصہ چندہ دینا شروع کیا اور وصیت کی منظوری میں کچھ وقت لگتا ہے تو اُس وقت کے آنے تک مسلسل باقاعدگی سے چندہ وصیت دیتے رہے، اور پھر کچھ عرصے بعد اس کے علاوہ دوسری مالی تحریکات جو ہیں اُن میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔ پھر کچھ عرصے بعد کمپنی چھوڑ دی اور اپنا کاروبار شروع کیا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی کمپنی کے مالک ہیں اور سارے ملک میں اپنی ایمانداری کی وجہ سے مشہور ہیں اور اُس کی وجہ سے اُن کا کاروبار بھی بڑا چمکا ہے اور سب کے سامنے بیٹھ کر برملا اظہار کرتے ہیں کہ یہ نعمتیں خاکسار کو چندہ کی برکت سے عطا ہوئی ہیں۔ آخر پر اپنی معروضات کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مالی قربانی کے بارے میں ایک روح پر اقتباس پر ختم کرتاہوں آپؑفرماتے ہیں کہ :
’’میرے پیارے دوستو!مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے۔ اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔ سومَیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموالِ طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت وطاقت و مقتدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے۔ اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر مَیں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعے سے ان علوم و برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خداتعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں ‘‘۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 516)
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العٰلمین