اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-22

’’عالمی جنگ کے بداثرات سے محفوظ رہنے کے لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات‘‘ (کے طارق احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد نورالاسلام ، قادیان)

مَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَایَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ وَمَنْضَلَّ فَاِنَّمَایَضِلُّ عَلَیْہَا وَلَاتَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی وَمَاکُنَّامُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 16)
ترجمہ: جو ہدایت پا جائے وہ خود اپنی جان ہی کے لئے ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہو تو وہ اسی کے مفاد کے خلاف گمراہ ہوتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں (اور حجت تمام کردیں)۔
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس دن آسمان سے ایک کھلا کھلا دھؤاں نازل ہوگا اور اس دن زمین زرد پڑجائے گی، یعنی سخت قحط کے آثار ظاہر ہوں گے۔ میں، بعد اس کے جو مخالف تیری توہین کریں تجھے عزت دوں گا اور تیرا اکرام کروں گا۔ وہ ارادہ کریں گے جو تیرا کام نا تمام رہے اور خدا نہیں چاہتا جو تجھے چھوڑ دے جب تک تیرے تمام کام پورے نہ کرے۔ میں رحمٰن ہوں اور ہر ایک امر میں تجھے سہولت دوں گا۔ ہر ایک طرف سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ98)
پھرایک اور جگہ پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اے سننے والو! تم یاد رکھو کہ اگر یہ پیشگوئیاں صرف معمولی طور پر ظہور میں آئیں تو سمجھ لو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ لیکن اگر ان پیشگوئیوں نے اپنے پورے ہونے کے وقت دنیا میں ایک تہلکہ برپا کر دیا اور شدت گھبراہٹ سے دیوانہ سا بنا دیا اور اکثر مقامات سے عمارتوں اور جانوں کو نقصان پہنچایا تو تم اس خدا سے ڈرو جس نےمیرے لئے یہ سب کچھ کر دکھایا۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ 396)
دوستو! جاگو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے
پھر خدا قُدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے
یارو! کچھ کرو اس کا علاج
آسماں اَے غافلو! اب آگ برسانے کو ہے
حضرات! ہر انسان آج کے دورمیں بد امنی کا شکار ہے اور امن و آشتی کی پامالی ہوتے ہوئےاپنی آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن رہا ہے۔آج دنیا ایک اضطراب اور بےچینی کا شکار ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ کی آگ بھڑک چکی ہے۔ آج کے دور میں خدا کی ایک قہری تجلی ایک اور عالمی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسی جنگ کے بداثرات اور تباہی صرف ایک روایتی جنگ یا صرف موجودہ نسل تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔ درحقیقت اس کے ہولناک نتائج آئندہ کئی نسلوں تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔
امام آخر الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ساری زندگی مسلمانوں کو بھی اور ساری دنیا کو بھی بار بار انذار کیا کہ اگر انہوں نے توبہ نہ کی اور سچے خدا پر اور اس کے رسولﷺ اور وقت کے امام پر ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
حضرات!قرآن مجید میں مذکور ہے کہ قوم نوح شرک اور بت پرستی کی وجہ سے طوفان کے ذریعہ سے ہلاک ہوئی۔ تکبر اور ناشکری کی وجہ سے قوم عاد شدید آندھی کی زد میں آئی۔ قوم ثمود اللہ تعالیٰ کی نشانی اونٹنی کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے زوردار چینخ اور زلزلہ سے تباہ ہوئی۔بدفعلی اور ہم جنس پرستی کی وجہ سے قوم لوط کی زمین اُلٹادی گئی۔ ناپ تول میں کمی اور دھوکہ دہی کی وجہ سے اصحاب الایکۃ پر شدید گرمی اور زلزلہ آئے۔
لیکن موجودہ زمانہ میں وہ قادر مطلق خدا ایک عرصہ سے خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے گذشتہ تمام قوموں کی مکروہ حرکتیں کی جاتی رہیں۔ آج کی دنیا پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تویہ کہنا بجا ہوگا کہ گذشتہ قوموں پر جن برائیوں کی وجہ سے خدا کا غضب بھڑکا وہ سب برائیاں آج کے دور میں پائی جاتی ہیں۔کفر و شرک اپنے عروج پر ہے، خدا کے انبیاء کو نہ صرف جھٹلایا جارہا ہے بلکہ ان کی تحقیر میں ایک طوفان بےتمیزی برپا ہے، ظلم و ستم کی انتہاء ہوچکی ہے، فحاشی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ شرم و حیا اور ستر و حجاب دنیا سے گویا کہ مفقود ہوچکی ہے۔
حضرات!تاریخ اب ان سیاہ ابواب کے اوراق کی ایک مرتبہ پھر ورق گردانی کر رہی ہے۔ اور خدا کی قہری تجلی کا ظہور ہورہا ہے۔اس زمانہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔ نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔ مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔ توبہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۲۶۹)
موت کی رہ سے ملے گی اب تو دیں کو کچھ مدد
ورنہ دیں اَے دوستو! اِک روز مَر جانے کو ہے
حضرات!حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے عظام کی پیشگوئیوں سے ہمیں اس حقیقت سے بھی آشناہی حاصل ہے کہ تیسری عالمگیر تباہی کی انتہا اسلام کے عالمگیر غلبہ اور اقتدار کی ابتدا ہو گی اور اس کے بعد بڑی سرعت کے ساتھ اسلام ساری دنیا میں پھیلنا شروع ہو گا اور لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیں گے اور یہ جان لیں گے کہ صرف اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور یہ کہ انسان کی نجات صرف محمد رسول اللہؐ کے پیغام کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔
پس جب زمانہ انسان کو مصائب اور مشکلات میں گرفتار کیا ہوا ہے تو ایسے میں ایک مومن کو پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا راستہ دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فرستادے کو بھیجا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪ وَاذْکُرُوْانِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْکُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًاۚ وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ (سورۃ آل عمران آیت نمبر ۱۰۴)
ترجمہ: اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر (کھڑے) تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔
اور آج خدا کا یہی فرستادہ حضرت خلیفۃ المسیح کے روپ میں مختلف طریقوں سے، مختلف ذریعوں سے، مختلف الفاظ میں مختلف باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ یہ رہنمائی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول ﷺکی تعلیمات پر مشتمل ہے ہمیں ہر قسم کے آفات سے بچانے اور ہماری زندگی کے سامان کرنے کے لئے ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہمیشہ کے لئے جاری رہنے والا ہے اور اگر ہم اس پر عمل کرنے والے ہوں تو بہترین نتائج پیدا کرنے والا ہے۔
پس انسان کے لئے تیسری عالمی جنگ کے بداثرات سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکے اور خدا تعالیٰ کو اپنا معاون و مددگار بنائے۔
گذشتہ دو دہائیوں سے سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے متنبہ فرمارہے ہیں اور افراد جماعت کو دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح اور تربیت کی طرف خصوصی توجہ دلارہے ہیں تاکہ افراد جماعت اس عالمگیر تباہی کے ہولناک بداثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی آئندہ نسل کو محفوظ کرسکیں۔
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ 7؍اکتوبر 2016ء میں فرماتے ہیں:
’’پس دنیا کی آج بھی جو حالت ہے وہ اس فکر میں ڈالنے والی ہے کہ دنیا کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک صاحب کہنے لگے کہ دنیا بڑی تیزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے تو ہمارا کیا ہو گا۔ تو اس کا جواب تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک شعر میں بھی دے دیا ہےکہ:
آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے
جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار
(درثمین اردو صفحہ 154)
پس یہ اصل ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں اور جہاں اللہ تعالیٰ کے حق ادا کریں، اس کے بندوں کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں۔ ان حسنات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے تحت حسنات ہیں اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں۔ ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک برائیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کر ہمیں قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے۔ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کے بعد اعتقادی اور عملی لحاظ سے مضبوط سے مضبوط تر ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہی چیزیں ہیں جو ہماری نجات کا باعث ہیں اور یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہیں … پس ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور یہ ہمیشہ جائزے لیتے رہنا چاہئے۔ ‘‘
حضرات!مسجد فضل لندن کے سو سال پورے ہونے پر جو تقریب منعقد ہوئی اس موقعہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تباہی کے بداثرات سے بچنے کے لئے ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے۔ حضور فرماتے ہیں:
’’یقینًا ہم ایک پُر آشوب زمانے سے گزر رہے ہیں اور دنیا میں نفرت کی آگ پھیلی ہوئی ہے ایسے میں ہمیں اپنے عمل اور کرداروں پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے ، ہمیں چاہیے کہ ایک خدا کی مخلوق ہونے کے ناطے ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ پیار ومحبت کو پروان چڑھائیں اور باہمی احترام کے رشتے کو مضبوط کریں۔ یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ساتھ ہم دنیا کو ہمیشہ قائم رہنے والے امن کی طرف لاسکتے ہیں، یہی وہ ذریعہ ہے جس کے طفیل انسانیت اپنے پیداکرنے والے کے قدموں
میں آسکتی ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے کہ یہ زندگی تو عارضی زندگی ہے اور اس کے بعد اُخروی زندگی اصل اور حقیقی زندگی ہے جہاں ہمیں اپنے تمام عملوں کا حساب دینا ہوگا۔ اس اعتبار سے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اپنے کل کے لیے کیا آگے بھیج رہے ہیں؟دنیا جس تیزی سے تباہی کے راستے پر جارہی ہے ہمیں اسے روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ جوہری تباہی کا یہ راستہ جس پر دنیا تیزی سے گامزن ہے اگر اسے بروقت نہ روکا گیا تو پھر دنیا کی آنے والی نسلیں اس کا خمیازہ بھگتیں گی اور اس کے خوفناک نتائج سے دنیا کی ایسی تباہی ہوگی کہ جس کے نتیجے میں آنے والی نسلیں اپاہج اور معذور پیداہوں گی۔ پس!آج ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیسی زمین اور کیسی دنیا کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔اللہ کرے کہ اُس کی محبت اور اس کی مخلوق کی محبت ہر انسان کے دل میں جاگزیں ہوجائے۔ یقیناً یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے اس مسجد فضل کا قیام کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم سَو سال کے بعد بھی اسی مقصد کے لیے کوشاں ہیں اور اسی مقصد کے لیے آج یہ تقریب منعقد کررہے ہیں۔اللہ کرے کہ ہم اپنے عقیدے اور مسلک سے بالا ہوکر اس معاشرے کی بہتری کے لیے کوشش کرنے والے ہوں۔ اللہ کرے کہ ہم اس اہم ترین مقصد کو حاصل کرنے والے ہوں۔
(الفضل8؍نومبر 2024ء)
کیوں نہ آویں زلزلے، تقویٰ کی رہ گم ہو گئی
اِک مسلماں بھی مسلماں صرف کہلانے کو ہے
حضرات! جنگ کے بداثرات سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے تقویٰ کے معیار کو اونچا کرنا ہوگا جس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ 15؍مارچ 2024ء میں فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ جنگ اور اس کے خطرناک نتائج سے بچائے۔ جنگ کی صور ت میں ظاہر ہے کہ احمدی بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اس سے بچنے کے لیے بھی ہر احمدی کو اپنے تقویٰ کا معیار اونچا کرنا ہو گا یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بھی ہر ایک کو توفیق دے۔‘‘
حضرات!احمدیوں کا حوصلہ اس قدر بلند ہونا چاہئے کہ اس عالمی جنگ کے بداثرات سے محفوظ رہنے کے لئے صرف اپنے اور اپنے تعلق داروں کے لئے ہی فکرمند نہ ہوں بلکہ افراد جماعت کی یہ عالمگیر ذمہ داری ہے کہ وہ نسل انسانی کے بقاء کے لئے جہد و جہد کریں۔ اس حوالہ سے حضور انور فرماتے ہیں:
حضور انور نے خطبہ عید الفطر فرمودہ2؍مئی 2022ء میں فرمایا کہ:
’’ دنیا آج کل تباہی کی طرف جارہی ہے اور دنیا کو بچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ اس لیے ہورہا ہے کہ دنیا میں بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیںدی جارہی ہے۔ اگر دنیا میں آپس میں بندوں کے حقوق ادا کیے جاتے تو نہ تو ہم عراق، شام، افغانستان میں تباہی دیکھتے۔ یہ بھی خوش فہمی ہے کہ ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں گے لیکن باتیں تو ہورہی ہیں اور اس کی کوئی ضمانت بھی نہیں دے سکتا۔ بہر حال اس کا انجام تو بے حد خطرناک ہوسکتاہے۔ اب یہ احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی جائے۔ سوشل میڈیا پر فضول باتیں کرکے وقت ضائع کرنے کے بجائے لوگوں کو خدا کی طرف بلانے کی دعوت دی جائے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کی ادائیگی پر ہی دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ پس یہ طریقہ تبلیغ کے نئے راستے بھی کھولے گا۔ ( خطبہ عید الفطرفرمودہ 2؍مئی 2022ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 6؍مئی2022ءصفحہ16)
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احمدی ڈاکٹرز اسوسیشن سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ہم جس پُر آشوب زمانے میں جی رہے ہیں اس میں جنگ کے گھنے بادل مسلسل ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ مختلف ملکوں کے درمیان تنازعات ایسی شدّت سے بڑھ رہے ہیں کہ بظاہر جنگِ عظیم کی آگ منہ کھولے کھڑی ہے، اللہ اس سے سب کو محفوظ رکھے۔اس جنگ سے بچنے کی دعا کے ساتھ ہمیں ایسے اقدام بھی کرنے چاہئیں جن سے ہم انسانیت کو اس بظاہر سامنے کھڑی تباہی سے بچا بھی سکیں۔اس سلسلے میں مَیں امریکہ اور باقی تمام ایسو سی ایشنز سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس حوالے سے تیزی کے ساتھ مؤثر، جامع اورہرطرح کے ہنگامی حالات سے نبرد آزما ہونے کی بھرپورمنصوبہ بندی کریں۔‘‘
(الفضل 21 نومبر 2024ء)
سیدنا حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ3؍مئی 2024ء میں عالمی جنگ کے بداثرات سے بچنے کے لئے تکبر سے اجتناب کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بہرحال ان حالات نے متکبروں کے غرور توڑنے کے بھی سامان پیدا کر دیے ہیں اور اب لگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے غرور توڑنے کے سامان پیدا کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ کب مکمل طور پر یہ کام مکمل ہوتا ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے لیکن بہرحال ان کا یہ تکبر اب ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے…اللہ تعالیٰ دنیا کی بڑی طاقتوں کو عقل دے اور انصاف سے کام لیں۔‘‘
حضرات!آج دنیا جس تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا سے عدل و انصاف کا فقدان ہے۔ سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےدنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں جاکر ان کو توجہ دلائی ہے کہ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہ کئے جائیں دنیا میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ حضرات یہ نصیحت صرف دوسروں کے لئے نہیں ہے بلکہ اول المخاطبین اس نصائح سے افراد جماعت بھی ہیں۔ افراد جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ ہر سطح پر عدل و انصاف کے قیام کو یقینی بنائیں۔ اپنے دنیاوی معاملات میں بھی اور دینی معاملات میں بھی۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں تبھی دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے اور یہی عدل و انصاف ہی جب ہمارے قول و عمل کی جڑ ہوگا تبھی ہم اس جنگ کے بداثرات سے بھی محفوظ کئے جائیں گے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عالمی جنگ کے ظاہری بداثرات سے محفوظ رہنے کے لئے اور ایٹمی تباہ کاری سے بچاؤ کے لئے ہومیو ادویات بھی تجویز فرمائی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت حفظ ما تقدّم کے طور پر Carcinosinاور Radium Bromکے ہومیو نسخہ کوایک مخصوص ترکیب میں استعمال کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔ نیز فرمایا کہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر خاص و عام کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ 22؍نومبر 2024ء میں جنگی حالات کی شدت سے متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ یورپ میں بھی حالات بڑی تیزی سے جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ یوکرین اور روس کی جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ دھمکیاں مل رہی ہیں یورپ کے باقی ملکوں کو بھی۔ اکثر جو ہیں عقل رکھنے والے اور امن پسند لوگ لیڈر اس بارے میں پریشان بھی ہیں۔ بہرحال دعا کریں اللہ تعالیٰ احمدیوں اور امن پسند لوگوں کو جنگ کے بداثرات سے محفوظ رکھے اور یہ لوگ ایسے ہتھیار استعمال نہ کریں جنگ میں جن کے استعمال سے آئندہ نسلیں متاثر ہوتی ہیں۔ مسلمان ممالک کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقل اور سمجھ دے اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ حق پہچاننے کی توفیق دے۔ دوسرے اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جو حالات جس طرح تیزی سے بگڑے ہیں اور بگڑ رہے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے پہلے لوگوں میں توجہ ہے لیکن مزید دوبارہ یاددہانی کرا دوں کہ گھروں میں دو تین مہینے کا راشن رکھنے کی کوشش کریں لیکن سب سے اہم نکتہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں اس سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں اس میں بڑھنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیںاس کی توفیق دے۔ آمین۔‘‘
حضرات!ایک ایسے وقت میں جب کہ دنیا آگ کے کنارے پر کھڑی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیں اس کے بداثرات سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے عملی نمونے کے ذریعہ سے تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دلارہے ہیں تاکہ عالمی جنگ کے بعد ایک جنت نظیر معاشرہ کا قیام ہوسکے اور جس کے نگہبان افراد جماعت ہوں۔ حضور فرماتے ہیں کہ:
’’آجکل اسلام کے خلاف،مسلمانوں کے خلاف بہت سی باتیں کی جاتی ہیں لیکن جب یہاں کے ماحول میں پیار،محبت اور بھائی چارہ دیکھیں گے اور ہمارے اعلیٰ اخلاق دیکھیں گے، ہمارے خداتعالیٰ سے تعلق دیکھیں گے تو بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے دماغوں میں سے یہ شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے کہ مسلمان غلط عمل کرنے والے ہیں، غلط تعلیم دینے والے ہیں۔ پس ان دنوں میں اپنے قول و فعل سے اس ماحول کو ایسا پرامن ماحول بنائیں بلکہ ہمیشہ اپنی زندگیوں میں اس کو لاگو کریں جس سے ایک ایسا اثر دنیا پر قائم ہو کہ لوگ کہیں کہ یہی لوگ ہیں جو اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں اور اسلام کی حقیقی تعلیم ہی ہے جو دنیا کو حقیقی امن اور سلامتی دے سکتی ہے۔ پس یہ خاموش تبلیغ بھی ہے جو بغیر کسی لٹریچر، بغیر کسی دلیل کے آپ لوگ کر رہے ہوں گے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں حقیقی اسلامی تعلیم کا اصل نمونہ پیدا کر لیں تو اپنا عہدِ بیعت پورا کرنے والے بن جائیں گے۔ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت تبھی فائدہ دے گی جب ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے، صرف کھوکھلے نعروں پر انحصار نہیں کرنے والے ہوں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 23؍اگست 2024)
حضور مزید فرماتے ہیں:
’’پس اس مقصد کو ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہیے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کے لیے پسند کرو۔ تو اس تعلیم کی رو سے ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ اس تبلیغ کو، اس پیغام کو جو اسلام کا پیار اور محبت اور امن سے رہنے کا پیغام ہے ،صلح اور آشتی کا پیغام ہے دنیا کو بتائیں اور آشنا کریں اور پھیلائیں کہ یہی انسان کی بقاکا ضامن ہے اس کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ورنہ آئندہ نسلیں تباہی اور بربادی کے گڑھے میں گرتی چلی جائیں گی اور ان جنگوں کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں اپاہج اور لنگڑی اور لُولی پیدا ہوں۔‘‘
(18؍اکتوبر 2024ء)
حضرات! سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دعا پر ایمان ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد7صفحہ 265-266۔ایڈیشن 1984ء)
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تیسری عالمی جنگ کے بداثرات سے بچنے کے لئے افراد جماعت کو ہمیشہ دعاؤں کی تحریک فرمائی ہے۔ حضورانور کا کوئی ایسا خطبہ یا خطاب نہیں ہے جس میں حضور انور ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ نہ دلاتے ہوں۔
حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ 5؍اپریل 2024ء میں فرماتے ہیں:
’’جنگوں کی آگ سے محفوظ رہنے اور اس کے بعد کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے بہت دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔ اور اب لگتا ہے کہ یہ جنگ سامنے کھڑی کیا اب تو شروع ہو چکی ہے بلکہ… احمدیوں کو اپنے آپ کو خدا کے قریب کرنے اور دعاؤں میں اضطرار پیدا کرنے کی بہت ضرورت ہے تاکہ ان کے شر سے بچ سکیں۔ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انسانیت کو بچا لےاور ہمیں دعاؤں میں بھی اپنا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
جلسہ سالانہ جرمنی 2024ء کے موقعہ پر سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خصوصی دعاؤں کی تحریک فرمائی ہے۔ جس کی پابندی کے نتیجہ میں انسان ایک محفوظ قلعہ میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ حضور انور نے فرمایا:
’’مَیں یہاں ایک تحریک بھی کر دینا چاہتا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا ایک رؤیا تھا کہ ان کو کسی بزرگ نے کہا کہ اگر جماعت کا ہر فرد، ہر بڑا دو سو200 دفعہ یہ درود شریف پڑھے
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّد
اور پھر آپؒنے فرمایا کہ جو درمیانی عمر کے ہیں پندرہ سے پچیس سال کے لوگ وہ بھی کم از کم سو100 دفعہ پڑھیں۔ بچے بھی کم از کم تینتیس33 دفعہ پڑھیں۔ چھوٹی عمر کے جو بچے ہیں ان کو ان کے ماں باپ تین3، چار4،دفعہ یہ پڑھائیں اور ساتھ ہی سو100 دفعہ استغفار (اَسْتَغْفِرُ اللہَ رَبی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ) بھی کریں۔ اسی طرح میں یہ بھی شامل کرتا ہوں کہ سو100 دفعہ
رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِی
کا ورد بھی ۔ ان دنوں میں خاص طور پہ اور عموماً ہمیشہ کے لیے کریں ۔آپؒ کو رؤیا میں یہی دکھایا گیا تھا کہ اگر یہ کرو گے تو تم ایک محفوظ قلعہ میں محفوظ ہو جاؤ گے جہاں شیطان کبھی داخل نہیں ہو سکتا اور لوہے کی دیواریں ہیں اس قلعہ کی جس کی دیواریں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ پس کوئی سوراخ ایسا نہیں رہے گا جہاں سے شیطان حملہ کر سکے۔
(ماخوذ از رپورٹ مجلس مشاورت جماعت احمدیہ 1968ء مطابق 7,6,5 اپریل 1968ء صفحہ233)
ان دنوں میں جبکہ شیطان ہر حیلے سے ہمارے پر بحیثیت جماعت بھی اور مجموعی طور پر، عمومی طور پر دنیا میں بھی حملے کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے بچنے کے لیے ایک ہی ذریعہ ہے کہ خاص طور پر دعاؤں پہ زور دیں اور صرف جلسہ کے دنوں میں نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے یہ درود شریف اور ذکرِالٰہی جو ہے، یہ ورد جو ہے اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں اور اس پر ہر ایک کو، بچے کو، بڑے کو ،عورت کو، مرد کو، سب کو توجہ دینی چاہیے۔
(خطبہ جمعہ 23؍اگست 2024)
نیز حضور ایک اور خطبے میں فرماتے ہیں :
’’دنیا کے حالات جیسا کہ آپ کو پتہ ہے دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ امریکہ اور بڑی طاقتیں انصاف سے کام لینا نہیں چاہتیں۔ جنگ وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ احمدیوں اور معصوموں کو اس کے خوفناک اور بداثرات سے بچائے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے تعلق میں ہمیں بڑھنا ہو گا اور دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینی ہو گی۔ اس کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہیے۔‘‘
(4؍اکتوبر 2024)
حضرات!دنیا جو تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اس کی ایک اہم وجہ امام آخر الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کاانکار بھی ہے۔ اس لئے لوگوں کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی طرف بلانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’دنیا میں مسلمانوں کی عمومی حالت کے لیے بھی دعا کریں۔یہ لوگ بھی زمانے کے امام کو مان کر اپنا وقار دوبارہ حاصل کر سکیں۔ دنیا میں جنگ کی جو عمومی صورتحال بن رہی ہے اس کے لیے بھی دعا کریں۔ جس طرف دنیا جا رہی ہے یہ جنگ تو لگتا ہے اب ضرور ہونی ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر احمدی اور ہر معصوم کو اس کے شر سے محفوظ رکھے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 28؍جون 2024)
آخر پر حضور پُر نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر ہی اپنی معروضات ختم کرنا چاہتا ہوں۔ حضور انور فرماتے ہیں:
’’دنیا بڑی خوفناک تباہی کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نہ مسلمانوں میں انصاف رہا ہے، نہ غیر مسلموں میں انصاف رہا ہے اور نہ صرف انصاف نہیں رہا بلکہ سب ظلموں کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔ پس ایسے وقت میں دنیا کی آنکھیں کھولنے اور ظلموں سے باز رہنے کی طرف توجہ دلا کر تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کا کردار صرف جماعت احمدیہ ہی ادا کر سکتی ہے۔ اس کے لئے جہاں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں عملی کوشش کرنی چاہئے، وہاں عملی کوشش کے ساتھ ہمیں دعاؤں کی طرف بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسلمان ممالک کی ناانصافیوں اور شامتِ اعمال نے جہاں اُن کو اندرونی فسادوں میں مبتلا کیا ہوا ہے وہاں بیرونی خطرے بھی بہت تیزی سے اُن پر منڈلا رہے ہیں۔ بلکہ اُن کے دروازوں تک پہنچ چکے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ بڑی جنگ منہ پھاڑے کھڑی ہے اور دنیا اگر اُس کے نتائج سے بےخبر نہیں تو لاپرواہ ضرور ہے۔ پس ایسے میں غلامانِ مسیح محمدی کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے دعاؤں کا حق ادا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا حق ادا کرنے والا بنائے اور دنیا کو تباہی سے بچا لے۔آمین۔‘‘
(فرمودہ26؍اپریل2013ء،
مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 17؍ مئی 2013ء، صفحہ7)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق بخشے۔ آمین۔
وآخر دعوانا عن الحمد للہ رب العالمین