اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-22

’’خلیفہ وقت کا مقام و مرتبہ خلافت کی اطاعت اور اس سے وابستگی کی اہمیت و برکات‘‘ (مظفر احمد ناصر صاحب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ ،قادیان)

وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰی لَهُمْ وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفُسِقُون۔
خلافت کا جس کو نہیں احترام
زمانے میں ہوگا نہ وہ شاد کام
نہ کیوں جان و دل سے ہوں اس پر فدا
اسی کے ہے دم سے ہماری بقاء
قابل احترام صدر جلسہ اور معزز سامعین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جیسا کہ آپنے سماعت فرمالیا ہے ،خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے’’خلیفہ وقت کا مقام و مرتبہ خلافت کی اطاعت اور اس سے وابستگی کی اہمیت و برکات‘‘ ابھی خاکسار نے سورۃ نورکی آیت استخلاف کی تلاوت کی ہے جسکا ترجمہ یہ ہے۔
یعنی ! تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے دین کو جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کوشریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نا فرمان ہیں۔
(ترجمہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ، سورۃ النور : آیت 56)
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :
خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں۔ اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو … خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کیلئے دائمی طور پر بقا نہیں۔ لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کیلئے تا قیامت قائم رکھے۔ سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سےمحروم نہ رہے ۔“
( شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد ۶ ص ۳۵۳)
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓفرماتے ہیں: ’’کسی قسم کاخلیفہ ہو اس کا بنانا جناب الٰہی کا کام ہے۔آدمؑ کو بنایا تو اللہ نے، داؤدؑ کو بنایا تو اس نے،ہم سب کو بنایا تو اس نے۔پھر حضرت نبی کریم ﷺ کے جانشینوں کو ارشاد ہوتا ہے: وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا (النور:۵۶) جو مومنوں میں سے خلیفہ ہوتے ہیں ان کو بھی اللہ ہی بناتا ہے۔ان کو خوف پیش آتا ہے مگر خداتعالیٰ ان کو تمکنت عطا کرتا ہے۔جب کسی قسم کی بدامنی پھیلے تو اللہ ان کے لئے امن کی راہیں نکال دیتا ہے۔ جو ان کا منکر ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ اعمال صالحہ میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں سے رہ جاتا ہے۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد ۱صفحہ ۱۲۵-۱۲۶)
خلیفہ وقت کا مقام
حضرت سیّد محمد اسماعیل صاحب شہید ؒ خلیفہ وقت کا مقام و مرتبہ کے متعلق تحریر کرتے ہیں۔:’’اس منصب پر فائز ہونے والا مبارک وجود سایہ رب العالمین ، ہمسایہ ٔ انبیاء ومر سلین ، سرمایہ ترقی دین اور ہم پا یہ ملائکہ مقربین ہے ۔ دائرہ امکان کا مرکز ، تمام وجوہ سے باعث فخر اور ارباب عرفان کا افسر ہے ۔ اس کا دل تجلّی ٔ رحمان کا عرش اور اس کا سینہ رحمت وافرہ اور اقبالِ جلالت ِیزداں کا پرتو ہےاسکی مقبولیت جمال ربّانی کا عکس ہے…اسکا قہر تیغِ قضا اور مہرِ عطیات کا منبع ہے ۔ اس سے اعراض، اعراضی تقدیر اور اس کی مخالفت ، مخالفتِ ربّ قدیر ہے…جو صاحب کمال اس کے ساتھ اپنے کمال کا موازنہ کرے وہ مشارکت حق تعالیٰ پر مبنی ہے۔ اہل کمال کی علامت یہی ہے کہ اس کی خدمت میں مشغول اور اس کی اطاعت میں مبذول رہیں ۔اس کی ہمسری کے دعویٰ سے دستبردار رہیں اور اسے وارث رسولﷺ شمار کریں ‘‘۔
(منصبِ امامت صفحہ122-121)
معزز سامعین ! خلیفۂ وقت نبی کے بعد ایک اعلیٰ اور منفرد مقام پر فائز ہوتا ہے،اس کو خداتعالیٰ قائم کرتاہے اور وہی قائم رکھتا ہے اس کی ہر طرح سے تائید و نصرت کرتا ہے ۔اسے علمِ لدنی عطا فرماتاہے ، اسے خود حکمت سکھاتا ہے ۔ قرآ ن کریم کے معانی ، مطالب ، اسرار، رموز اور حقائق دقائق سے مالا مال کرتا ہے جس کی بدولت وہ قرآن کریم کی تفسیر سب سے بہتر سمجھتا اور بیان کرتا ہے۔ خدا خود اس کی ہر مشکل مرحلہ پر رہنمائی کرتاہے۔
حضرت مصلح موعودؓفرماتے ہیں:
’’اطاعت جس طرح نبی کی ضروری ہوتی ہے ویسے ہی خلفاء کی ضروری ہوتی ہے۔ ہاں ان دونوں اطاعتوں میں ایک امتیاز اور فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نبی کی اطاعت اور فرمانبرداری اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ وہ وحی الٰہی اور پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے مگر خلیفہ کی اطاعت اس لئے نہیں کی جاتی کہ وہ وحی الٰہی اور تمام پاکیزگی کا مرکز ہے بلکہ اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ تنفیذ وحی الٰہی اور تمام نظام کا مرکز ہے۔ اسی لئے واقف اوراہل علم لوگ کہا کرتے ہیں کہ انبیاء کوعصمت کبریٰ حاصل ہوتی ہے اور خلفاء کو عصمت صغریٰ۔‘‘ ( الفضل ۱۷؍فروری ۱۹۳۵ء)پھرفرمایا:’’خدا تعالیٰ جس شخص کوخلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کوزمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے… تو اس کے کیا معنی ہیں کہ خلیفہ خود خدا بناتا ہے۔ اس کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جب کسی کو خدا خلیفہ بناتا ہے تو اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔ اگر وہ اسے اپنی صفات نہیں بخشتا تو خدا تعالیٰ کے خود خلیفہ بنانے کے معنی ہی کیا ہیں‘‘۔
(الفضل ۲۲؍ نومبر ۱۹۵۰ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں:
’’ہر خلیفہ کے وقت میں جو اس زمانے کے حالات ہیں ان کے متعلق جو خلیفہ وقت کی نصیحت ہے وہ لازماً دوسری نصیحتوں سے زیادہ مؤثر ہو گی۔اس تعلق کی بنا ء پر بھی اور اس وجہ سے بھی کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داری اس کے سپرد کی ہوتی ہے خود اس کے نتیجہ میں اس کو روشنی عطا کرتا ہے۔‘‘
(خطباتِ طاہر جلد ۱۰صفحہ ۸۹۴)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’ہمارا یہ ایمان ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ خود بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں ہوتا۔جسے خدا یہ کُرتہ پہنائے گا کوئی نہیں جو اس کُرتے کو اس سے اتار سکے یا چھین سکے۔ وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چُنتا ہےاسے اُٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے اور اپنی تائید ونصرت ہر حال میں اس کے شامل حال رکھتا ہے اور اس کے دل میں اپنی جماعت کا درد اس طرح پیدا فرما دیتا ہے کہ وہ اس درد کو اپنے درد سے زیادہ محسوس کرنے لگتا ہے اور یوں جماعت کا ہر فرد یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کا درد رکھنے والااس کے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والااس کا ہمدرد ایک وجود موجود ہے۔‘‘
(روزنامہ الفضل ۳۰؍مئی۲۰۰۳ءصفحہ ۶)
خلافت کی اطاعت :
معزز سامعین !!کسی بھی قوم ،مذہب وملت کی ترقی اسکے میعار ِاطاعت پر مبنی ہوتی ہے۔مذہب اسلام کی بناء تو محض اور محض اطاعت پر رکھی گئی ہے۔ کیونکہ اسلام کے معنی خود سپردگی کے ہیں ۔اس ضمن میں آنحضرت ﷺنے امّت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس نے میرے قائم کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور میری اطاعت کرنے والے نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی اور اسی طرح میرے امیر کی نافرمانی میری نافرمانی ہے اور میری نافرمانی خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
(صحیح البخاری کتاب الاحکام باب قول اللہ تعالیٰ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم حدیث 7137)
حضرت ابن عباسؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے ناپسندیدہ بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو نظام سے بالشت بھر جدا ہو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔
(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن وتحذیرالدعاۃ الی الکفر)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’کیا اطاعت ایک سہل امر ہے! جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلے کو بدنام کرتا ہے۔ حکم ایک نہیں ہوتابلکہ حکم تو بہت ہیں۔ جس طرح بہشت کے کئی دروازے ہیں کہ کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے اور کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے، اسی طرح دوزخ کے کئی دروازے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم ایک دروازہ تو دوزخ کا بند کرو اور دوسرا کھلا رکھو۔‘‘
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 411)( خطبہ جمعہ 27؍ اگست 2004ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل10؍ ستمبر2004ء صفحہ6 )
اطاعت کی مثال ہمیں قرون اولیٰ کے مسلمانوں  میں اس طرح ملتی ہے۔ ایک موقعہ پر رسول کریم ﷺ نےمسجد میں کھڑے صحابہ سے فرمایا کہ بیٹھ جائو ۔ گلی میں آتے ہوئےحضرت عبد اللہ بن رواحہ وہیں بیٹھ گئے۔ یہ سوچ کر کہ ایسا نہ ہوکہ آپ ﷺکے حکم کی تعمیل میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر ہو جائے۔
اسی طرح جب ایک جنگ کے دوران حضرت عمرؓنے جنگ کی کمان حضرت خالد بن ولید سے لیکر حضرت ابو عبیدہؓکے سپرد کر دی تھی تو حضرت ابوعبیدہؓ نے اس خیال سے کہ خالد بن ولید بہت عمدگی سے کام کر رہے ہیں، ان سے چارج نہ لیا تو جب حضرت خالد بن ولید کو یہ علم ہوا کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے یہ حکم آیا ہے تو آپ حضرت ابو عبیدہ کے پاس گئے اور کہا کہ چونکہ خلیفہ وقت کا حکم ہے اس لئے فوری طور پر آپ اس کی تعمیل کریں۔ مجھے ذرا بھی پرواہ نہیں ہوگی کہ میں آپ کے ماتحت رہ کر کام کروں ۔
معزز سامعین !آخرین کے دور میں بھی رسول کریم ﷺ کے غلام صادق حضرت مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلیفہ کی اطاعت کی ایسی ایسی عظیم مثالیں ملتی ہیں کہ اولین کے دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
آواز سن کر بیٹھ جانے کا واقعہ یہاں بھی ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر مسجد میں کھڑے احباب سے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور حضرت میاں کریم بخش صاحب جو اس وقت مسجد کی ساتھ والی گلی میں تھے، آواز سنتے ہی وہیں بیٹھ گئے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو یہی کہا کہ جب مسیح کا فرمان میرے کام میں پڑ گیا تو میرا فرض تھا کہ میں اسی وقت اطاعت کرتا۔
پھر آج قدرت ثانیہ کے مظہر سید نا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب منصب خلافت پر متمکن ہوئے تو دنیا نے ایک بار پھر ایک آواز پر بیٹھ جانے کا نظارہ مشاہدہ کیا ، ہزاروں فدائین خلافت مسجد فضل لندن سے باہر سڑکوں پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی شبیہہ مبارک کی ایک جھلک پانے کیلئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے کھڑے تھے۔ آپ کی ایک آواز پر کہ بیٹھ جائیں۔ تو ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر سب کے سب اس وقت بیٹھ گئے۔ اور ساری دنیا ایم ٹی اے کے توسط سے اس روح پرور نظارہ کی گواہ بنی۔
حضرت ابو عبد اللہ صاحب جوکھیوہ باجوہ کے تھے۔حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓکی صحبت میں بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے ایک دن عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت ارشاد فرمائیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓنے فرمایا ’’مولوی صاحب! مَیں نہیں سمجھتا کوئی چیز کرنے کی ہو اور آپ کر نہ چکے ہوں۔ اب تو حفظ قرآن ہی باقی ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓکی بات سن کر تقریباً پینسٹھ سال کی عمر میں انہوں نے قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا اور باوجود اتنی عمر ہونے کے حافظ قرآن ہوگئے۔‘‘
(ماخوذ از روزنامہ الفضل 8 دسمبر 2010ء
صفحہ 4 بحوالہ الفضل قادیان 19 اپریل 1947ء)
سامعین! خلافت کی اطاعت اور نظام جماعت کی اطاعت لازم ملزوم ہیں۔ ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔اس تعلق میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنظام جماعت کی اطاعت کے بارے فرماتے ہیں:
’’ہمیشہ یاد رکھو کہ تمہارا مطمح نظر، تمہارا مقصد حیات صرف اور صرف خداتعالیٰ کی رضا ہونا چاہئے۔ اور یہی کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے نظام کے جو احکامات و قواعد اور فیصلے ہیں ان کی پابندی کرنی ہے اور اس بارے میں اپنی اطاعت میں بالکل فرق نہیں آنے دینا۔‘‘
( خطبہ جمعہ 27؍ اگست 2004ء
مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 10 ؍ستمبر 2004ء صفحہ6تا7)
نیزحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’لوگ تو یہ کہہ لیتے ہیں کہ ہم خلیفہ کی اطاعت سے باہر نہیں ہیں، مکمل طور پر اطاعت میں ہیں، ہر حکم ماننے کو تیار ہیں۔ لیکن فلاں عہدیدار یا فلاں امیر میں فلاں فلاں نقص ہے اس کی اطاعت ہم نہیں کر سکتے۔ تو خلیفہ وقت کی اطاعت اسی صورت میں ہے جب نظام کے ہر عہدیدار کی اطاعت ہے۔ اور تب ہی اللہ کے رسول کی اور اللہ کی اطاعت ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 31؍ دسمبر 2004ء
مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 14؍ جنوری 2005ء صفحہ 8)
سامعین !خلافت کے تابع نظام کی اطاعت ہی درحقیقت خلافت کی اطاعت ہے اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ  فرماتے ہیں:
’’ جیسے قانون قدرت آپ کی بقا کیلئے لازم ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں ۔ اسی طرح نظام جماعت بھی آپ کی انفرادی بقا کیلئے لازم ہے۔ اگر نظام جماعت نہ ہو تو کسی کی روحانی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ باقی لوگوں کا حال دیکھو کیا ہوا ہے ۔ کس طرح تتر بتر ہو کر بکھر گئے ۔ کیسے اجتماعیت بٹ کر آخر انفرادیت میں بدل گئی اور ہر شخص آزاد ہے اور وہ اس آزادی کے مزے لے رہاہے۔ یعنی بظاہر وہ سمجھتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور احمدی غلام ہیں ۔ اور ہر وقت کی مصیبت۔ یہ بات ہو تو نظام سے پوچھو، بیٹھنا ہو تو نظام سے پوچھو، کیا مصیبت ہے…
حضور فرماتے ہیں:جماعت احمدیہ کا جو نظام ہے… ایک ایسا نظام ہے جو قانون قدرت کی طرح آپ کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب کوئی شخص کہہ سکتا ہے دنیا میں کہ عجیب قدرت ہے مصیبت پڑی ہوئی ہے۔ آگ میں ہاتھ نہ ڈالو اور زیادہ ٹھنڈی ہوا نہ کھاؤ، کپڑے گرم پہنو سردیوں میں، گرمیوں میں ٹھنڈے کپڑے پہنو اور بھوک لگے تو یہ کرو، بھوک نہ لگے تو فلاں کام کرو، اٹھو ،بیٹھو، سوو ،جا گو مگر توازن رکھو۔ کھانا کھاؤ مگر بھوک ختم ہونے سے پہلے ہاتھ روک لو یعنی وہ قانون قدرت جو تقاضے کرتا ہے…تمام دنیا کا نظام برابر ہرانسان پر پابندی لگائے ہوئےہے اور جہاں بھی اس پابندی کے تقاضے سے بچ کر کوئی انسان نہیں چلتا وہاں ضرور اس کو سزا ملتی ہے…چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم دنیا کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ اب دیکھو خدا کے رسول نے اس دنیا کو قید خانہ بتا دیا ہے اور مومن کی ساری زندگی قید خانے میں بسر ہوگی۔ اور کافر کے لئے جنت قرار دیا ہےاس کو۔ مگر وہ جو مومن بھی ہوں اور آزاد بھی ہوں پھر وہ کس شمار میں آئیں گے۔ پس مومن کے ساتھ نظام جماعت کی قید و بند ایک لازمہ ہے…
پس آپ اگر نظام جماعت کے ساتھ عدل کریں گے اور اس عدل کے تمام باریک تقاضے پورے کریں گے تو آپ کو آزادی کے سانس نصیب ہونگے ۔ آپ کو چین اور گہری طمانیت کے سانس نصیب ہونگے ۔ پس اس پہلو سے آپ نظام جماعت کی حفاظت پر مستعد ہوں اور اس کے سامنے سرجھکائیں کیونکہ یہ خدا کے سامنے سر جھکانا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں نظام کیا چیز ہے یونہی خواہ مخواہ بنایا ہوا ہےنظام،نظام۔
نظام خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے ، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ ہے اور یہ جو بیعت ہے نظام کی خاطر کی جاتی ہے۔ ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کو ماننے والے جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے بیٹھے تھے انہیں ایک کے بعد دوسرے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ اس بیعت میں جو اطاعت کا اقرار ہے اور پھر اس پر اصرار ہے اور بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم ضرور اطاعت کریں گے یہ صاف بتا رہا ہے کہ محض دین عقائد کا نام نہیں ہے یا شریعت کے عام فرائض کو پورا کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ جو شخص باقاعدہ نظام کا جزو بن کر اس کے سامنے سر نہیں جھکاتا وہ عملاً دین سے باہر رہتاہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مئی 1996 ء)
خلافت سے وابستگی کی اہمیت و برکات: ’’قرآن کریم کا حکم ہے وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو یعنی حبل اللہ کو ، جو اُس نے خلافت کی صورت میں ہمیں عطا فرمائی ہےمضبوطی سے تھامے رکھیں۔ اور خلافت کی کامل اطاعت کرنے والے ہم تب ہی بن سکتے ہیں جب خلیفہ وقت کی اطاعت کے ساتھ اس کے تابع نظام جماعت کی کامل اطاعت کرنے والے بن جائیں ۔ اس طرح ہر قسم کے تفرقہ سے بچنے والے ہوں گے اور خلافت کی اطاعت کے فیض سے صحیح معنوں میں فیضیاب ہوسکیں گے۔
خلافت اللہ تعالی کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جو قوم کو متحد کرتا اور تفرقہ سے محفوظ رکھتا ہے ۔ جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی جاتی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک موقعہ پر فرمایا’’آج ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اسنے ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کی توفیق عطاء فرمائی ہے اور ہم اس نظام میں پروئے گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول ﷺ کی سُنت کی طرف بھی توجہ دلاتا رہتا ہے اور ہم دوسرے مسلمان فرقوں کی طرح بکھرے ہوئے نہیں بلکہ خلافت کی برکت کی وجہ سے ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ‘‘
(خطبہ جمعہ 9 جون 2006)
خلافت سے وابستگی کے لیے خلافت کے ساتھ اخلاص وفا کا تعلق رکھنا لازمی ہے تبھی ہم خلافت کی برکات سے صحیح معنوں میں فیضیاب ہو سکتے ہیں ۔
پس ہمیں چاہیے کہ خلیفہ وقت کی ہر آواز پر لبیک کہنے والے ہوں اور اس کی اطاعت میں سرشار ہو کر وہ نمونہ قائم کرنے والے ہوں جس کی مثال حضرت محمدﷺاور حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے ۔
معزز سامعین ! آج دنیا کے حالات کس تیزی سے بدل رہے ہیں ہر طرف بے چینی ،بدامنی ہے دنیا آگ کے دہانے کھڑی ہے ۔تیسری عالمی جنگ منہ کھولے کھڑی ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ امام الزمان حضرت مسیح موعودؑ کا انکار کر کے خلافت جیسی نعمت عظمی سے محروم ہیں۔ یہ حبل اللہ جسے تھام کر جماعت احمدیہ اللہ تعالی کے بے شمار فضلوں سے فیض یاب ہو رہی ہے، وہ خلافت کی ہی برکت ہے آج کے تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں ہمارے پیارے امام خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دنیا کو عالمی جنگ کے نقصانات سے بچانے اور دنیا میں امن قائم کرنے کے سلسلہ میں شب و روز کوشاں ہیں ۔
آج اگر دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے کوئی بے چین اور بے قرار وجود دنیا میں ہے تو خلیفہ وقت ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ہی ہیں۔ خلیفہ وقت کی شکل میں اپنی جماعت کے لیے اور تمام بنی نو انسان کے لیے ہمارے اور خدا تعالیٰ کے بیچ قربت کا ایک واسطہ ہیں۔ خلیفہ وقت کے دل میں اپنی جماعت اور تمام بنی نو انسان سے جو ہمدردی اور پیار پایا جاتا ہے اس کا اندازہ دنیا نہیں کر سکتی۔ خلیفہ وقت کی قلبی کیفیت کیسی ہوتی ہے اس کا اظہار بہت ہی پیارے انداز میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ایک موقع پر فرمایا ہے آپؓفرماتے ہیں:
’’ میں آپ میں سے آپ کی طرح کا ہی ایک انسان ہوں اور آپ میں سے ہر ایک کے لیے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اتنا پیار پیدا کیا ہے کہ آپ لوگ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے ۔ بعض دفعہ سجدہ میں میں جماعت کے لیے اور جماعت کے افراد کے لیے یوں دعا کرتا ہوں کہ اے خدا! جو مجھے خط لکھنا چاہتے تھے لیکن کسی سستی کی وجہ سے نہیں لکھ سکے ان کی مرادیں پوری کر دے۔ اور اے خدا! جنہوں نے مجھے خط نہیں لکھا اور نہ انہیں خیال آیا ہے کہ دعا کے لیے خط لکھیں اگر انہیں کوئی تکلیف ہے یا اُن کی کوئی حاجت اور ضرورت ہے تو ان کی تکلیف کو بھی دور کردے اور حاجتیں بھی پوری کر دے ۔“
(روزنامہ الفضل ربوہ 21 دسمبر  1966ء  صفحہ 5)
آج بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بابرکت
وجود حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صورت میں موجود ہے۔ خلیفہ وقت کی محبت و شفقت اور دعائیں ہمارے لیے ایک ایسا خزانہ ہیں جس کی مالیت اور اہمیت کا احاطہ کرنا ناممکن ہے اور ہمار ا سر ساری عمر بھی خدا تعالیٰ کے حضور اس نعمت کے شکرانے کے لیے جھکا ر ہے تب بھی ہم شاید شکر ادا نہیں کر سکتے ۔ مگر اس نعمت پر شکر کا اظہار ضرور کرنا چاہیے اور اس کی کوشش کرتے رہنی چاہیے۔اس کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہم خلیفہ وقت کے لیے لازمی طور پر باقائدہ دعائیں کرتے رہیں۔ خدا تعالیٰ کے حضور رو رو کر یہ دعائیں مانگیں کہ اے اللہ تو ہمارے خلیفہ کو اپنی حفظ وامان میں رکھ۔ جیسے وہ ہمارے درد میں تڑپتےہیں اور ہمارے لیے دعائیں کرتےہیں ہمیں بھی دعاؤں کے ذریعے آپکا مددگار بنا۔ ہمیں خلیفہ وقت کا سلطانِ نصیر بنا اور خلافت کے ساتھ ہمیشہ جوڑے رکھ ۔آمین ۔
سامعین!خلافت سے وابستگی کیسی ہونی چاہئے اس بارے میںحضرت خلیفہ المسیح الاوّلؓنے فرمایا ہے کہ
’’تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ۔ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا۔ پس اس نعمت کا شکر ادا کرو کیونکہ شکر کرنے پر ازدیادِ نعمت ہوتا ہے۔“
( خطبات نور صفحہ 131)
سامعین کرام!! اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ترقی دینی ہے اور دے رہا ہے ،خود لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے خلافت کے ساتھ انکو جوڑتا ہے اور جوڑ رہا ہے اسکی چند مثالیں پیش ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’کیمرون کے شہر ’’گوانڈیرے‘‘ کے ایک محلہ میں آٹھ فیملیوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ نومبائعین کا کہنا ہے کہ ایم ٹی اے نے ہمارے بچوں کی زندگی بدل دی ہے اور دین کے بارے میں ان کے علم میں اضافہ ہوا ہے۔
ان میں سے ایک نوجوان عبدالرحمٰن ہے جو اَولیول کر رہا ہے۔ یہ میرے خطبات بڑے شوق سے سنتا ہے۔بڑا شیدائی ہے۔ جمعہ کے دن سکول ٹیچر سے کہتا ہے کہ میں نے گھر خطبہ سننے کے لیے جانا ہے۔ اور سکول چھوڑ سکتا ہوں ، خطبہ جمعہ نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ ان کا ایمان ہے۔ ان کے والد نے کہا کہ ہر جمعہ کو سکول چھوڑ کر ایم ٹی اے پر خطبہ سننے آ تا ہے اور عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ خطبہ سننے سے میرا ایمان اور علم بڑھتا ہے۔ پہلے میں جو بھی غلط کام کرتا تھا اب چھوڑ دیے ہیں ۔
پس یہ لوگ ہیں جو خلافت کے ساتھ جڑنے کے عہد کو بھی پورا کر رہے ہیں ۔ یقیناً ایک وقت آئے گا جب یہ ترقی کر کے سب سے اوپر ہوں گے کیونکہ یہ وعدوں کے مصداق بننا چاہتے ہیں ۔
پھر امیر صاحب بلجیم لکھتے ہیں کہ مراکش کے ایک دوست مصطفیٰ صاحب ہیں۔ لمبا عرصہ احمدیت کے بارے میں تحقیق کر کے انہوں نے بیعت کی۔ کہتے ہیں کہ میں نے بچپن سے ہی بہت سے علماء کی صحبت میں وقت گزارا ہے لیکن خلیفۂ وقت کے خطبات نہ صرف قرآن کریم کی صحیح تفسیر ہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتے ہیں ۔
کہتے ہیں یہ خطبات سننے کے بعد مجھے نمازوں کا مزہ آنے لگا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے سچی خوابیں بھی دکھائی ہیں۔احمدیت نے میری زندگی بدل دی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے موصوف آبدیدہ ہو جاتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جاری خلافت کی تائید فرماتا ہے، کس طرح سینے کھولتا ہے۔
گنی بساؤکے مبلغ کہتے ہیں کہ… ایک گاؤں میں گذشتہ سال تبلیغ کے ذریعہ احباب نے احمدیت قبول کر لی تھی مگر اس گاؤں کے چار خاندانوں نے احمدیت قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب ہماری ٹیم اس گاؤں میں ایم ٹی اے انسٹال کرنے گئی تو ہمارے معلم محمد مسالیوجالو صاحب نے ان تمام خاندانوں کو بھی مسجد میں مدعو کیا کہ وہ آ کر ہمارا مسلم چینل اور ہمارے خلیفہ اور امام مہدی علیہ السلام کی تصویر دیکھیں… نماز کے بعد جب ایم ٹی اے چلایا گیا تو اس میں خطبہ آ رہا تھا۔ غیر از جماعت دوست بڑے غور سے یہ سارا کچھ دیکھتے رہے۔معلم نے انہیں کہا کہ خطبہ انگلش میں چل رہا ہے میں آپ کے لیے ترجمہ کر دیتا ہوں۔ آپ کا حق ہے کہ آپ کو پتہ چل سکے کہ خلیفہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ اس پر اس نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ جھوٹ نہیں بول سکتے! اگر یہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہیں تو احمدیہ جماعت کبھی جھوٹی جماعت نہیں ہو سکتی اور میں ابھی اور اسی وقت احمدیت قبول کرنے کا اعلان کرتا ہوں ۔
پھرنائیجیریاکے مبلغ کہتے ہیں ۔ایم ٹی اے دیکھنے کے لیے بہت ساری جگہوں پر جو ڈشیں لگائی گئی ہیں وہاں خطبات دیکھتے ہیں اور دوسرے پروگرام دیکھتے ہیں۔تو کہتے ہیں ایک شخص نے کہا کہ مجھے جماعت کے متعلق بہت اعتراضات تھے اور دلی تسلی نہیں ہوتی تھی لیکن امام جماعت احمدیہ کا خطبہ سنا اور قدرتی طور پر میرا دل تسلی پا گیا۔ مجھے حقیقی اسلام مل گیا ہے اور سارے اعتراضات ختم ہو گئے اور میں نے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ (خطبہ جمعہ 24 مئی 2024؁ء)
اسی طرح ایک بچے کی مثال ہے۔ میسیڈونیا کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ گذشتہ دنوں بوسنیا کے دورے کے دوران میری ایک دوست سے واقفیت ہوئی۔ پاکستانی دوست تھے تبلیغی گفتگو ہوئی ۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل دبئی ایئر پورٹ پر ان کی ملاقات ایک فیملی سے ہوئی تھی جن کی ایک تین چار سالہ بچی کہہ رہی تھی ہم سب کو نماز پڑھنی چاہیے اور سچ بولنا چاہیے۔ جب مجھے پتا چلا کہ اس فیملی کا تعلق جماعت احمد یہ سے ہے تو میں نے اس بچی سے پوچھا کہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ تو کہنے لگی کہ لندن میں پیارے حضور سے ملنا چاہتی ہوں ۔ کہتے ہیں کہ اس بات نے مجھ پر بہت گہرا اثر چھوڑا کہ اتنی چھوٹی عمر ہے اور اس کی سب سے بڑی خواہش خلیفہ سے ملاقات کرنا ہے۔
(خطبہ جمعہ 29 مئی 2020)
سامعین کرام! خلافت سے وابستگی کیلئے خلیفہ وقت سے خود کو جوڑنا ہوگا۔ اور اس کا ایک اہم ذریعہ MTA ہے۔ ان واقعات سے ظاہر ہے کہ ساری دنیا MTA کی معرفت سے کس طرح خلیفہ وقت سے جڑ رہی ہے۔ اور کس طرح برکات خلافت سے فیضیاب ہو رہی ہے۔ پس احباب جماعت کو چاہئے کہ اپنے گھروں میں MTA کا نظام جاری کریں۔LIVE خطبات جمعہ اور خطابات کو با قاعدگی کے ساتھ خود سنیں اور اہل خانہ کو سنائیں ۔ حضور انور کا پروگرام THIS WEAK WITH HUZOOR جو ہر ہفتہ نشر ہوتا ہے ، خود دیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی دیکھنے کی تلقین کریں۔ خلیفہ وقت کی خدمت میں با قاعدگی سے دعا کیلئے خط لکھتے رہیں ۔ سید نا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحت و سلامتی کیلئے ہر نماز میں دعا کریں ۔ نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کا تقاضا ہے کہ اپنے گھروں میں نظام جماعت کا تقدس قائم کریں ۔ پھر دیکھیں ! کیسے آپ کے گھروں میں نیک اور پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ اور کیسے برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔
سامعین کرام!!’’ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لیے آخری دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔ اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تا کہ قیامت تک خلافت احمد یہ محفوظ چلی جائے ۔“
اللہ کرے کہ ہر احمدی مرد اورعورت اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو۔ خلافت سے وفا اورمحبت میں اعلیٰ معیار قائم کرنے والا ہو۔ اللہ تعالی ہمیں ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھے اور اسکے فیض سے فیضیاب فرماتا چلا جائے۔ آمین ثم آمین۔
ہمارا خلافت پہ ایمان ہے
یہ ملّت کی تنظیم کی جان ہے
اسی سے ہر اک مشکل آسان ہے
گریزاں ہے اس سے جو نادان ہے
رہیں گے خلافت سے وابستہ ہم
جماعت کا قائم ہے اس سے بھرم
واخر دعونا عن الحمد للہ رب العالمین
٭…٭…٭