اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-03-20

’’سیرت صحابہؓ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مرزاشریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ ‘‘ ( مکرم تنویر احمد ناصر صاحب نائب ناظر نشرواشاعت قادیان )

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ-
اَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِی السَّمَآءِتُؤْتِیْ اُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا ۔
(سورہ ابراہیم آیت 25تا 26)
قابل احترام صدر جلسہ اور معزز سامعین۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز سامعین!! میری تقریر کا موضوع ہے :
’’سیرت صحابہ ؓ ۔ حضرت حمزہ ؓ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؓ‘‘
خاکسار نے سورۃ ابراہیم کی جو آیت تلاوت کی ہے اس میں غریب اسلام کو زندہ اسلام کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ اور اس کی مثال ایک پاک درخت کے ساتھ دی گئی ہے ۔اِس کی شان یہ ہے کہ اِس کی جڑیںزمین میں مضبوطی سے قائم ہیں اور اِس کی شاخیں آسمان کی بلندی سے باتیں کر رہی ہیں اور ہر موسم میں تازہ بتازہ پھلوں سے لدا رہتا ہے۔
شجر اسلام یا شجر محمدی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ اسلام کےدور اولیٰ کی ایک شان ہے تو اسلام کے دور ثانیہ کی بھی ایک شان ہے ۔ ان دونوں شانوں کے بارہ میں، بانی ٔ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے کیا ہی لطیف ،پُر حکمت اور سبق آموز مثال بیان فرمائی ہے کہ ’’مَثَلُ اُمَّتِيْ کَمَثَلِ الْمَطْرِ لَا يُدْرٰى اَوَّلُهُ خَيْرٌ اَمْ آخِرُهُ‘‘(ترمذی)
میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے ۔نہیں معلوم کہ اس کا پہلا حصہ خیر ہے یا آخری حصہ ۔
اگر ہم شجر محمدی کاذکرکریں تو دور اوّل میں جہاں ہمیں صدیق اکبر ، عمر ، عثمان اور علی جیسے عظیم پھل نظر آتے ہیں وہیں دورِ آخر میں بروز محمد ؐ یعنی امام مہدی اور مسیح موعود نے بھی ان اصحاب کے مثیل کو پیدا فرمایا ۔جنہیں آنحضرتؐنے ستاروں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ: ’’اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَیِّھِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح جلد 3باب مناقب صحابہ) میرے صحابہ ؓ ستاروں کی مانند ہیں پس ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے ہدایت پائو گے۔
سامعین کرام !!خاکسار کی معروضات انہیں اوّلین و آخرین کے دو روشن ستاروں یعنی حضرت حمزہ ؓ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓکی پاکیزہ سیرت سے تعلق رکھتی ہیں ۔
سید الشہداء ، اَسد اللہ اور اَسدِ رسول جیسے عظیم القاب سے ملقب حضرت حمزہ ؓ، سردارِ قریش حضرت عبدالمطلب کے صاحبزادے اور رسول اللہؐ کے چچا تھے۔ آپ کی ولادت آنحضرتؐسے دو سال پہلے ہوئی۔آپ کی کنیت ابو عمّار ہ ہے۔آپ بہت حسین و جمیل تھے۔خوبصورت پیشانی، درمیانہ قد، چھریرا بدن، گول بازو اور کلائیاں چوڑی تھیں۔ شعر و شاعری سے شغف تھا۔ شمشیر زنی، تیر اندازی اور پہلوانی کا بچپن سے شوق تھا۔ سیرو سیاحت کرنااور شکار کرنا مَن پسند مشغلہ تھا۔آپ کی والدہ کا نام ہالہ تھا اور یہ رسول اللہؐ کی والدہ ،حضرت آمنہ کی چچازاد بہن تھیں۔ آپ آنحضرتؐکے اہل بیت اوررضاعی بھائی بھی تھے۔ آپ نےسن6 نبوی میں دارِاَرقم کے زمانہ میں اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔
آپ کے قبول اسلام کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل نےآنحضرتؐکو سخت غلیظ گالیاں دیں اور آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔ مگر آپؐنےاسے کچھ نہیں کہا۔حضرت حمزہ کی ایک لونڈی یہ سارا نظارہ دیکھ رہی تھی۔ شام کوجب حضرت حمزہ شکار سے واپس آئےتو اس نے حضرت حمزہ کو سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہاری موجودگی میں تمہارے بھتیجے کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔
یہ سن کر حضرت حمزہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور وہ غصہ کی حالت میںکعبہ کی طرف گئےجہاں ابوجہل بیٹھا ہوا اِس واقعہ کو بڑے مزے لے لے کر سنا رہا تھا ۔ آپ نے جاتے ہی کمان بڑے زور کے ساتھ ابوجہل کے سر پر ماری اور کہا کہ یہاں تم اپنی بہادری کے دعوے کر رہے ہوکہ میں نے محمدؐ کو اس طرح ذلیل کیا اوروہ کچھ نہیں بول سکا۔ اب میں تجھے ذلیل کرتا ہوں، اگر تجھ میں ہمت ہے تو میرے سامنے بول اور میرا مقابلہ کر ۔ تو نے محمدؐ کو صرف اس لئےگالیاں دی ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں خدا کا رسول ہوں ۔ کان کھول کر سن لے کہ میں بھی آج سے محمدؐ کے دین پر ہوں۔
گھر لوٹنے پر آپ کو گمان گزرا کہ تم قریش کے سرداروں میںسے ہو ،کیا تم اپنا دین بدل دوگے؟ پوری رات بے چینی اور اضطراب میں گزری، صبح ہوتے ہی آنحضرتؐکی خدمت میں حاضر ہوئے اوراس پریشانی کا حل چاہا تو آنحضورؐنےآپ پر اسلام کی حقانیت اور صداقت واضح فرمائی تو آپ کا دل روشن ہوگیااور عرض گزار ہوئےکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں۔
اس کے بعد حضرت حمزہ آنحضورؐکے دست راست بن کر ایک مطیع و فرمانبردار ، وفا شعار اور جاں نثار پیروکار بن گئے ۔ آپ کے مسلمان ہونے کے بعد مکہ کے مسلمانوںکے ایمان کو بڑی تقویت ملی۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ بھی ان شدائد و مصائب میں حصہ دار ہو گئے جو آنحضورؐاور باقی مسلمانوں پر گزر رہے تھے ۔شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران آپ نے بھی تمام سختیاں اور تنگیا ں برداشت کیں اور پوری وفاداری سے آنحضرتؐکا ساتھ دیا ۔
آپ نے بھی دیگر مہاجرین کی طرح مدینہ ہجرت فرمائی اور حضرت کلثوم بن ھِدم کے مکان پر قیام کیا۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کے درمیان رشتہ ٔ اخوت قائم فرمایا۔ اسی بناء پر غزوۂ اُحُد پر جاتے ہوئےآپ نے حضرت زید کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔
مدینہ ہجرت کے بعد بھی کفار کی ریشہ دوانیاں ختم نہیں ہوئیں۔ قریش کی نقل و حرکت اور ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنے کے لئے نبی کریم ﷺکو مہمات کی ضرورت پیش آئی جن میں حضرت حمزہ کو غیر معمولی خدمت کی توفیق ملی۔رمضان المبارک1ہجری میں 30 سواروں کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی لشکر کا سب سے پہلا علَم آپ نے سنبھالا۔ اگرچہ لڑائی کی نوبت نہ آئی لیکن تاریخ میں اسے ”سرِیّہ حمزہ“ کے نام سےجانا جاتا ہے۔اسی سال غزوہ عُشیرہ بھی پیش آیا ۔ اس میں بھی علم برداری کا شرف آپ کو عطا ہوا۔ لیکن اس دفعہ بھی کوئی جنگ واقع نہیں ہوئی ۔
ہجرت کے بعد دیگر مسلمانوں کی طرح حضرت حمزہ کے مالی حالات بھی بہت خراب ہو گئے تھے ۔ انہوں نےان حالات کا ذکر آنحضرتؐسے کیا تو آپؐنے فرمایا کہ اے حمزہ اپنی عزت نفس قائم اور زندہ رکھنا زیادہ پسند ہے یا اسے مار دینا۔عرض کیا میں تو اسے زندہ رکھنا ہی پسند کرتا ہوں۔ آپؐنے فرمایا پھر اپنی عزت نفس کی حفاظت کرو۔
آپؐنےحضرت حمزہ کو فرمایا کہ اس دعا کو لازم پکڑو کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ وَرِضْوَانِکَ الْاَکْبَریعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے اسم اعظم اور رضوان اکبر کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں۔ اور ہمیشہ آپ نے اس کے پھل کھائے۔
حضرت حمزہ کئی غزوات میں آنحضرت ﷺ کےساتھ شامل ہوئے۔ غزوۂ بدر کے موقع پرآپ نے ایک ایسےشخص کو واصل جہنم کیا جس نے مسلمانوں کے پانی کے حوض کو خراب کرنے یا اس کے پاس مر جانے کا عہد کیا تھا ۔
جنگ بدر کےموقع پرحضرت حمزہ نے خود پہنی ہوئی تھی۔ عتبہ بن ربیعہ نے کہا کہ کچھ بات کرو تا کہ ہم تمہیں پہچان لیں ۔ حضرت حمزہ نے کہا کہ میں حمزہ ہوں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺکا شیر ہے۔ تو عتبہ نے کہا ،اچھا مقابل ہے۔ اس جنگ میں حضرت حمزہ نے عتبہ سمیت تیس سےزائد سرداران قریش کو قتل کیا۔
حضرت حمزہ کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ غزوہ بدر میں کفار میں دہشت ڈالنے کیلئے، آپ شتر مرغ کا پر، بطور نشانِ جنگ لگائے ہوئے تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ اُمیّہ بن خلف نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس کے سینہ میں شتر مرغ کا پر لگا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ حمزہ بن عبدالمطلب ہیں۔ اُمیّہ کہنے لگا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے آج ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
سن 2ہجری میں ہی غزوہ بنو قینقاع پیش آیا ۔ آنحضرتؐنے بنو قینقاع کی عہد شکنی کے باعث ان پر فوج کشی فرمائی اور انہیں مدینہ سے جلا وطن کردیا ۔ اس موقع پر بھی حضرت حمزہ علم برداری کے منصب پر مامور تھے۔
غزوہ اُحد میں بھی حضرت حمزہ نے شجاعت کے کمالات دکھائے۔جنگ بدر میں آپ نے چن چن کر اکثر صنادید قریش کو قتل کیا تھا ۔ مشرکین قریش کی نگاہ میں آپ کی یہ شجاعت بہت کھٹکی تھی اور وہ سب سے زیادہ آپ کے خون کے پیاسے تھے۔ اس روز آپ رسول اللہ ؐکے آگے دو تلواروں سے جنگ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں اسد اللہ ہوں۔ یہ کہتے ہوئے کبھی آگے جاتےاور کبھی پیچھے ہٹتے۔ اسی حالت میں یکایک پھسل کرآپ اپنی پیٹھ کے بل گرے ۔ وحشی اسود نےآپ کو دیکھ لیااوراس نے نیزہ کھینچ کر آپ کو مارا اورآپ شہید ہوگئے۔ اس وقت آپ انسٹھ سال کےتھے۔
روایات میں ہے کہ ہندہ نے اپنے باپ کا انتقام لینے کے لئے جو بدر میں حضرت حمزہ کےہاتھوں مارا گیا تھا یہ نذر مان رکھی تھی کہ مجھے موقع ملا تو میں حمزہ کا کلیجہ چباؤں گی ۔ جب حضرت حمزہ شہید ہو گئے تو مشرکین نےحضرت حمزہ کو مُثلہ کر دیا۔ وہ آپ کے جگر کا ایک ٹکڑا لائے۔ ہند ہ اسے لے کر چباتی رہی مگر جب وہ اس کو نگل نہ سکی تو پھینک دیا۔ یہ واقعہ رسول اللہؐ کو معلوم ہوا تو آپؐنے فرمایا کہ اللہ نے آگ پر ہمیشہ کے لئے حرام کر دیا ہے کہ حمزہ کے گوشت میں سے کچھ بھی چکھے۔ رسول کریم ؐ حضرت حمزہ کی نعش پر آ کر کھڑے ہوئے اور فرمایاکہ اے حمزہ تیری اس مصیبت جیسی کوئی مصیبت مجھے کبھی نہیں پہنچے گی۔ میں نے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آج تک نہیں دیکھا۔ پھر آپؐنے فرمایا جبریل نے آ کر مجھے خبر دی ہے کہ حمزہ بن عبدالمطلب کو سات آسمانوں میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر لکھا گیا ہے۔
رسول اللہؐ نے حضرت حمزہ کی نماز جنازہ اس طرح پڑھائی کہ ہر بار ایک انصاری صحابی کی نعش حضرت حمزہ کی نعش کے ساتھ رکھ کر نماز جنازہ پڑھائی جاتی۔ اس طرح ستر مرتبہ آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ میں نے کبھی آنحضرت ﷺ کو اس قدر گریہ و زاری کرتے نہیں دیکھا جس قدر آپؐنے حضرت حمزہ ؓ پر گریہ و زاری کی ۔ آپؓنے حضرت حمزہ کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا کہ :
’’اے حمزہ رسول اللہ ؐکے چچا ، اے اللہ کے شیر اور رسول اللہ ؐکے شیر ، اے حمزہ، اے تمام تر خیرات اور حسنات پر عمل کرنے والے ، اے حمزہ مصائب و مشکلات کے دور کرنے والے ، اے حمزہ ذات رسول ؐ کا دفاع اور تحفظ کرنے والے ۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ حالت جنابت میں قتل کئے گئے تھے تو رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ ان کو ملائکہ نے غسل دیا ہے ۔
(رواہ الحاکم جلد 4صفحہ 199)
ایک روایت میں ہے کہ آپؐنے حضرت حمزہ کو اس طرح ظلم و ستم کا نشانہ بنانے والوں کے لئے اپنا عزم یوں ظاہر فرمایا کہ :’’بخدا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قوم ِ کفار پر فتح عطا فرمائی تو ان کے ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے الہاماً آپؐکو اس اقدام سے روکا اور صبر کرنے کا حکم دیا ۔اس پر آپؐنے فرمایا کہ ہم صبر کریں گے اور مثلہ کا بدلہ نہیں لیں گے ۔اور اپنی قسم کا کفارہ ادا فرمایا۔(مدارج النبوۃ جلد 2صفحہ 491)
رسول اللہ ؐ کے چچا اور مسلمانوں کے اس بہادر سردارکی تدفین جس بے کسی اور کسمپرسی کے عالم میں ہوئی، صحابہ بڑے دکھ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔ بعد میں فراخی کے دَور میں حضرت خباب وہ تنگی کا زمانہ یاد کر کے کہا کرتے تھے کہ حضرت حمزہ کا کفن ایک چادر تھی وہ بھی پوری نہ ہوتی تھی۔ چنانچہ سر کو ڈھانک کر پاؤں پر گھاس ڈال دی گئی تھی۔
روایات میں ہے کہ وحشی جس نے حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا، معافی کا طلبگار ہو کر آنحضورؐکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپؐنے تین بار زمین پر تھوکا ۔اور اس کے سینے پر تین تھپڑ رسید کئے ۔اور فرمایا کہ آج کے بعد مجھے اپنی شکل نہ دکھانا ۔ مسلمان تو وہ ہوگیا لیکن شراب خوری کی وجہ سے اس پر حد لگتی رہی اور مار پڑتی رہی ۔یوں خدائی تقدیر کے ماتحت حضرت حمزہ کا بدلہ اس سے لیا جاتا رہا ۔
سامعین کرام !!حضرت حمزہ کے بے شمار فضائل و خصائص اور امتیازات ہیں جن کا مختصر تذکرہ بھی اس جگہ خالی از فائدہ نہ ہو گا۔
حضرت حمزہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے اور تمام نیک کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ چنانچہ شہادت کے بعد آنحضرتؐنے حضرت حمزہ کی لاش کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اللہ کی رحمتیں آپ پر ہوں۔ آپ ایسے تھے کہ معلوم نہیں کہ ایسا صلہ رحمی کرنے والا اور نیکیاں بجا لانے والا کوئی اور ہو۔
اس موقع پر آپؐنےیہ آیت تلاوت فرمائی کہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا(الاحزاب 23) مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اُسے سچا کر دکھایا۔ پس اُن میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی مَنّت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز (اپنے طرز عمل میں) کوئی تبدیلی نہیں کی۔یہ آیت کریمہ رہتی دنیا تک حضرت حمزہ کو ایک عظیم الشان خراج تحسین پیش کرتی رہے گی ۔
مستدرک حاکم میں ہے کہ نبی کریم ؐنے شہدا ئے احد کی قبور کی زیارت فرمائی تو کہا اے اللہ بے شک تیرا بندہ اور تیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ شہید ہیں ۔ اب تا قیامت جو بھی ان کی زیارت کرکے ان کو سلام دے گا تو یہ اس کے سلام کا جواب دیتے رہیں گے ۔چنانچہ رسول کریم ؐ ، حضرت فاطمہ اور کبار صحابہ ؓ حضرت حمزہ کے مزار کی زیارت کیا کرتے تھے ۔
فاطمہ خزاعیہ کہتی ہیں کہ ایک دن میں میدان احد سے گزر رہی تھی تو میں نے کہا :’’السلام علیکم یا عم رسول اللہ ﷺ‘‘اے اللہ کے رسول کے چچا آپ پر سلامتی ہو ۔ تو میں نے جواب میں سنا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘(بیہقی، دلائل النبوۃ)
آنحضور ؐ کو حضرت حمزہ اتنے محبوب تھے کہ آپؐصحابہ کرام کو اپنی اولاد کو سی نام سے موسوم کرنے کی ترغیب دیتے تھے ۔ آپؐفرمایاکرتے تھے کہ میرے چچاؤں میں سب سے بہتر حضرت حمزہ ہیں۔حضورؐنے آپ کے متعلق فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نذدیک تمام شہدا کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرتؐنے فرمایا کہ میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا اور دیکھا کہ جعفر بن ابی طالب ملائکہ کے ساتھ محو پرواز ہیں اور حمزہ تخت پر تکیہ لگائے تشریف فرما ہیں ۔
یہ وہ لوگ تھےجن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جنتوں کی خوشخبریاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے ساتھ مغفرت کا سلوک فرمائے اور درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔
معزز سامعین !خاکسار کی تقریر کا دوسرا حصہ شجر محمدی کے اس عظیم الشان پھل سے تعلق رکھتا ہے جس نے امت محمدیہ کے آخری حصہ میں پیدا ہونا تھا۔چنانچہ عین وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ نے امام مہدی اور مسیح موعود کو بھیجا جس نےایک طرف جہاں آنحضرتؐکے روحانی فیض سے آپؐکے ظل کامل ہونے کا مقام حاصل کیا وہیں آپؐکے صحابہ ؓ کے ہمرنگ ایک پاک جماعت کا قیام بھی فرمایا ۔
اسی پاک جماعت کے ایک روشن ستارے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا بھی خاکسار کو اس جگہ تذکرہ کرنا ہے جن کےاوصاف حمیدہ حیرت انگیز طور پر حضرت حمزہؓسے بہت مشابہت رکھتےہیں اور آپ کا وجود قرآنی پیشگوئی واخرین منھم اور آنحضرت ﷺکے ارشاد ما انا علیہ و اصحابی کا زندہ ثبوت ہے ۔
حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓحضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی مبشر اولاد اور ان پانچ تن میں سے تھے جنہیں حضورؑ نے اپنے خاندان کی بنیاد قرار دیا ہے۔آپ کی پیدائش سے قبل حضورعلیہ السلام کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ
’’آپ کو ایک فرزند عطا کیا جائے گا۔‘‘
(انوار السلام)
اس پیش خبری کے مطابق ۲۴؍مئی ۱۸۹۵ء کو آپؓکی ولادت ہوئی۔ اس موقع پر حضورؑ نے عالمِ کشف میں یہ دو نظارے دیکھے۔ فرمایا:
(1)۔ جب یہ پیدا ہوا تھا تو اس وقت عالم کشف میں آسمان پر ایک ستارہ دیکھا جس پر لکھا تھا:
’’مُعَمَّرُاللّٰہ‘‘
(2)۔ اس وقت عالم کشف میں مَیں نے دیکھاکہ آسمان پر سے ایک روپیہ اُترا اور میرے ہاتھ پر رکھا گیا۔ اِس پر لکھا تھا’’مُعَمَّرُاللّٰہ۔‘‘
(تذکرہ صفحہ 227 ایڈیشن پنجم)
خدا تعالیٰ نے آپؓکے متعلق کئی بشارات بھی دیں۔ مثلاً فرمایا: عمرہ اللّٰہ علٰی خلاف التوقع اس کو یعنی شریف احمد کو خدا تعالیٰ امید سے بڑھ کر عمر دے گا۔ (تذکرہ صفحہ 609)
چنانچہ آپؓکی زندگی میں کئی خطرناک مراحل آئے مگر اللہ تعالیٰ نے آپؓکی حفاظت فرمائی۔ مثلاً طاعون جب زوروں پر تھی تو آپؓکو شدید بخار ہوگیا اور بے ہوشی شروع ہو گئی اور بظاہرمایوس کن علامات ظاہر ہونی شروع ہو گئیں۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ مجھے خیال آیا کہ اگرچہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکاان دنوں میں فوت ہو گیاتو دشمن اس تپ کو طاعون ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اس پاک وحی کی تکذیب کریں گے جو اس نے فرمایا ہے’’اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلّ مَنْ فِیْ الدَّار یعنی مَیں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچائوں گا۔‘‘ (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 87)
چنانچہ حضورؑ دعا کے لیے کھڑے ہوگئے تو معاً وہ حالت میسر آگئی جو استجابت دعا کی کھلی کھلی نشانی ہے۔ حضورکو کشفاً دکھایا گیا کہ آپؓبالکل تندرست ہیں۔ جب کشفی حالت ختم ہوئی تو دیکھا کہ آپؓچارپائی پر بیٹھے ہیں اور پانی مانگتے ہیں۔ نماز ختم کر کے حضورؑ نے بدن پر ہاتھ لگا کے دیکھا تو تپ کا نام و نشان نہیں تھا۔
ایک اَور الہام تھا۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ:’’چند سال ہوئے ایک دفعہ عالمِ کشف میں اسی لڑکے شریف احمد کے متعلق کہا تھا کہ اب تُو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔‘‘ (تذکرہ صفحہ 406)
اس کشف میں اشارہ تھا کہ آپؓکی زندگی حضورؑ کے جاری فرمودہ کاموں کے سرانجام دینے میں گزرے گی۔ چنانچہ آپؓکی عمر کا اکثر حصہ بطور ناظر تعلیم و تربیت اورناظر اصلاح و ارشاد کے طور پر کام کرتے ہوئے بسر ہوا۔ پس حضورؑ کا یہ کشف ابتداء ًآپؓہی کے ذریعہ باحسن پورا ہوا اور بعض باتیں آپؓکی نسل کے ذریعے پوری ہو رہی ہیں کیونکہ حضرت اقدسؑ کی قائم مقامی اور جانشینی کرنے والے اصل وجود تو آپؑکے خلفاء ہی ہیں۔حضورؑ فرماتے ہیں:
’’ شریف احمد کو خواب میں دیکھا کہ اس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دو آدمی پاس کھڑے ہیں۔ ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کر کے کہا ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ دوسرے نے کہاکہ ’’ابھی تو اِس نے قاضی بننا ہے۔فرمایا :قاضی حکم کو بھی کہتے ہیں ۔ قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو رد ّکرے‘‘ (تذکرہ صفحہ 584)
حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب فرماتےہیں کہ :
’’ایک دفعہ ہم مسجد مبارک قادیان میں حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ سامنے سے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو آتے دیکھا جو ان دنو ں بچے تھے ۔ تو حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ وہ دیکھو بادشاہ آرہا ہے۔ ہم نےعرض کی کہ وہ تو مرزا شریف احمد ہیں ۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ یہ بادشاہ ہوگا۔ اگر یہ نہ ہوا تو اس کا بیٹا ہوگا۔ اور وہ نہ ہوا تو اس کا پوتا ضرور بادشاہ ہوگا۔‘‘
(تشہیذالاذھان ، سیدنا مسرور ایدہ اللہ نمبر صفحہ 137)
یہ پیشگوئی سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے وجود باجو د میں بڑی شان سے پوئی ہور رہی ہے ۔
نظامِ سلسلہ کے ماتحت آپؓایک دفعہ قاضی بھی مقرر ہوئے تھے۔ مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر جماعت لاہوربیان کرتے ہیں کہ ’’مَیں نے حضرت میاں صاحب کو نہایت صائب الرائے پایا۔ آپؓبہت جلد حقیقت کو پا لیتے تھے اور پھر اپنی رائے پرمضبوطی سے قائم ہو جاتے تھے۔ غلط نرمی اور سختی سے پوری طرح بچ کرانصاف کے ترازو کو کماحقہٗ قائم رکھتے تھے۔‘‘
حضور علیہ السلام نے اپنی اس رؤیا کی تشریح میں فرمایا تھا: ’’قاضی وہ ہوتا ہے جو تائیدِ حق کرے اور باطل کو ردّ کردے۔‘‘چنانچہ ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ الہام کی گواہی ہر وہ شخص دے سکتا ہے جس کو آپؓسے واسطہ پڑا ہو یا جس نے آپؓکو قریب سے دیکھا ہو۔ آپؓنے بہت شاہانہ مزاج پایا تھا۔ خرچ کرتے وقت یا خیرات کرتے وقت یہ نہیں سوچتے تھے کہ میرے پاس کچھ بچتا بھی ہے کہ نہیں۔ ہر ضرورتمند کی مدد فرماتے۔ کوئی سائل ملتا تو فوراً جیب میں ہاتھ ڈالتے اور جو نوٹ نکلتا وہ اُس کو دے دیتے ۔ سائل حیران ہوکر دیکھتا رہ جاتا اور آپؓآگے تشریف لے جاتے۔ آپؓنے سات سال کی عمر میں قرآنِ مجید پڑھ لیا۔ حضرت مسیح موعودؑ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:
شریف احمد کو بھی یہ پھل کھلایا
کہ اُس کو تُو نے خود فرقاں سکھایا
یہ چھوٹی عمر پر جب آزمایا
کلامِ حق کو ہے فَرفَر سُنایا
برس میں ساتویں جب پَیر آیا
تو سَر پر تاج قرآں کا سجایا
ابتدائی تعلیم مدرسہ احمدیہ قادیان سے حاصل کی۔ جامعہ الازہر مصر میں چھ ماہ تک عربی میں تعلیم حاصل کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓسے دینی علوم کے علاوہ بخاری شریف پڑھی۔ حضورؓکے درسوں میں شامل ہوکر بھی فیض حاصل کیا۔ حضورؓکی خاص توجہ آپؓکوحاصل تھی۔ حضرت منشی نور محمد صاحبؓبیان کرتے ہیں کہ ہم سترہ اٹھارہ آدمی حضورؓکی مجلس میںبیٹھے تھے کہ آپؓپرخاص حالت طاری ہوئی۔ حضورؓنے فرمایا: دیکھو! تمام لوگ مسجد میں موجود ہیں۔ عرض کیا گیا کہ میاں شریف احمدصاحبؓابھی باہرگئے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ انہیں فوراً بلالیں۔ جب آپؓواپس تشریف لائے توحضورؓنے ہاتھ اٹھائے اور بہت تضرّع سے لمبی دعا کی۔ دعا سے فارغ ہوکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی تھی کہ اس وقت مجلس میں شامل سب لوگ جنتی ہوں گے اس لیے مَیں نے چاہا کہ ہماری اس مجلس کا کوئی ساتھی اس وقت باہر نہ رہ جائے۔
قادیان سے مربیان کی جو پہلی کلاس جاری ہوئی اُس میں بھی آپؓشامل تھے۔قرآن مجید، حدیث اور علم الکلام سے آپؓکو خاص لگاؤ تھا۔ کئی دفعہ رمضان المبارک کے دوران مسجد مبارک میں بخاری شریف کا درس دیا۔ آپؓکو تاریخ سے بھی دلچسپی تھی۔ فوج اور صنعت و حرفت کے علوم پر بھی دسترس حاصل تھی۔ انگریزی اور عربی زبانوں میں خاص قابلیت رکھتے تھے۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓفرماتی ہیں کہ آپؓنے ظاہری تعلیم بہت التزام سے یا کالجوں وغیرہ میں حاصل نہیں کی تھی لیکن علم وسیع اور ٹھوس تھا۔ علمِ دین کے ہر پہلو پر عبور تھا۔ عربی ایسی پڑھاتے تھے کہ چند دن میں پڑھنے والے کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔گیارہ سال کی عمر میں آپؓکا رشتہ حضرت اقدسؑ نے حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓکی بیٹی حضرت بو زینب صاحبہؓسے تجویز فرمایا۔ 15؍نومبر1906ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓنے نکاح پڑھایا۔ ۹؍مئی ۱۹۰۹ء کو رخصتانہ ہوا۔
13مارچ 1914ء کو حضرت خلیفہ اوّل کا وصال ہو گیا اور 14مارچ 1914ء کو خلافتِ ثانیہ کا بابرکت آغاز ہوا۔ آپ نے منکرین خلافت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہمیشہ ہی خلافت کے پُرزور حامی اور علمبردار رہے۔
اکتوبر 1934 ء میں احراری شورش زوروں پر تھی اور انگریزی حکومت کے بعض اعلیٰ حکام بھی جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت پر تُلے ہوئے تھے۔ اس فتنہ کے سدّ باب کے لئے حضرت مصلح موعود نے ایک شعبہ خاص قائم کیا اور اس کا ناظم حضرت مرزا شریف احمد صاحب ہی کو نامزد فرمایا۔
جولائی 1956ء میں انکارِ خلافت کا فتنہ اٹھا جس پر آپ نے الفضل 3اگست 1956ء میں ایک پُر زور مضمون کے ذریعہ احباب کو توجہ دلائی کہ وہ اس فتنہ کو چھوٹا نہ سمجھیں بلکہ بہت بڑا فتنہ سمجھیں اور دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اور ہماری اولاد کو اس سے کلیۃً محفوظ رکھے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں کہ آپؓکو حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ بعض لحاظ سے خاص مشابہت تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح ان کے مزاج میں بھی ایک لطیف قسم کا توازن پایا جاتا تھا۔ عفو و شفقت کے موقع پر وہ پانی کی طرح نرم ہوتے تھے جو ہر چیز کو رستہ دیتا چلا جاتا ہے مگر سزا اور عقوبت کے جائز مواقع میں وہ ایک چٹان کی طرح مستحکم تھے اور طبیعت میں نہایت سادگی اور غریب نوازی تھی۔ کیا عجب کہ ان کی اسی جسمانی اور اخلاقی مشابہت کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام میں اشارہ ہو کہ
’’اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں ‘‘
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓفرماتی ہیں کہ میری اور آپؓکی عمر میں بہت کم فرق تھا۔ ہر وقت کا ساتھ، اکٹھے کھیلنا کودنا۔ بچپن میں بہت شوخ و شنگ بھی تھے مگر کبھی نہیں لڑے۔ مجھے کبھی انہوں نے نہیں ستایا، بلکہ ہمیشہ میرا ہی کہنا مان لیتے۔ آپؓکی رائے صائب ہوتی۔ مشورہ ہمیشہ دیانتدارانہ ہوتا۔ علمِ تعبیر اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص ودیعت فرمایا تھا۔ علمی پہلو کے علاوہ ایک نہایت شریف، اسم با مسمّٰی،نہایت صاف دل، غریب طبیعت، دل کے بادشاہ، عالی حوصلہ، صابر اور متحمل مزاج وجود تھے۔ اس لیے نہیں کہ وہ میرے بھائی تھے۔ بلکہ اس کو الگ رکھ کر کوئی بطور سچی شہادت کے مجھ سے ان کی بابت سوال کرے تو میں یہی کہوں گی اور وثوق سے کہوں گی کہ وہ ایک ہیرا تھا، نایاب، وہ سراپا شرافت تھا۔ ایک چاند تھا جو چھُپا رہا اکثر۔
حضرت نیک محمد خان صا حب بیان کرتے ہیں کہ انفلوئنزا کی وبا کے دوران آپؓنہایت شفقت، ادب اور محبت سے اپنی اہلیہ محترمہ کودوائی پلاتے۔ آپؓکوقرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ سے عشق تھا۔ دوسروں سے بھی پڑھواتے تھے۔ تربیت کے لیے بچوں سے کثرت سے قرآن مجید سنتے تھے۔ عموماً پیار محبت سے اوردعا سے ہی نصیحت فرماتے۔ کسی بات پر زور دینا ہو تو بار بار فرماتے لیکن غصہ میں نہ آتے۔ بچوں کو پڑھنے کی تلقین فرماتے اور مطالعہ کی عادت ڈالنے کے لیے اچھی کہانیوں کی کتب لا کر دیتے اور پھر وہ کہانیاں ان سے سنتے بھی۔ سائیکل چلانا سیکھنے کی تلقین فرماتے اور بندوق اور پستول سے نشانہ کرنا سکھاتے۔ آپؓکی گفتگو میں مزاح کا پہلو بھی پایا جاتا تھا۔ لطیف ادب سے لگائو تھا۔ شعر و سخن سے دلچسپی تھی، خود بھی شعر کہتے تھے۔آپؓاسیرراہ مولیٰ بھی رہے۔ ۱۹۵۳ء میں آپؓنے دو ماہ کی قید سخت کاٹی۔ اس دوران بھی آپؓہشاش بشاش اور مطمئن نظر آئے اور ساتھی قیدیوں کو دلچسپ واقعات اور ایمان افروز باتیں سنا کر اُن کاحوصلہ بلند کرتے رہے۔ گویا جیل میں بھی ہر روز مجلسِ عرفان سجتی تھی۔آپؓکچھ عرصہ فوج میں بھی رہے اور احمدیہ ٹیریٹوریل فورس کا انتظام بھی آپؓکے سپرد رہا۔ جب آپؓفوج میں گئے تو آپؓکے پاس نشانہ میں اوّل آنے کا تمغہ موجود تھا۔
محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمدصاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓصبح کی نماز کے بعد افرادِ خانہ کو اکٹھا کر کے ۱۵ یا ۲۰منٹ کا درس دیا کرتے تھے اور طریق یہ تھا کہ حاضرین میں سے کسی کوحضرت مسیح موعودؑ کی کتاب پڑھنے کو کہتے اور جس بات کی تشریح کی ضرورت ہوتی وہ فرماتے تھے۔ آپؓبلند آواز میں سفر میں بھی تلاوت کرتے تھے۔ صحابہؓ بتاتے تھے کہ آپؓکی آواز حضرت مسیح موعودؑ کی آواز سے ملتی تھی۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر’ذکرِ حبیبؑ‘ کے موضوع پر کئی تقاریر بھی فرمائیں۔حضرت مولانا ابوالعطا صاحب فرماتے تھے کہ جب کوئی نئی دکان کھلتی تو جا کر زیادہ سے زیادہ چیزیں خریدتے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ اور اگر کبھی کوئی آندھی یا طوفان آتا تو گھر سے نکلتے کہ کسی گھر کانقصان ہوگیا ہو تو اُسے پورا کروں۔ آپؓکی ہمدردی اور سلسلہ کے لیے غیرت ایک نمونہ تھی۔ اپنے ماتحتوں کی تکلیف کا بہت احساس ہوتا تھا اور تب تک چین نہیں آتا تھا جب تک اس تکلیف کا ازالہ نہ کرلیں۔
مردانہ شجاعت آپؓکی طبیعت کا نمایاں وصف تھا۔ قادیان میں حضرت مصلح موعودؓنے جماعت اور شعائراللہ کی حفاظت کے لیے نظارتِ خاص قائم فرمائی جس کا ناظر آپؓکو مقرر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے آپؓکی بیدار مغزی اور حُسنِ تدبیر سے احرار کی چالیں ناکام ہونے لگیںاور آپ کاوجود ان کی نظر میں کھٹکنے لگا تو دُشمن نے آپؓپر ایک شخص حنیفا کے ذریعے لاٹھی سے حملہ کروایا لیکن خداتعالیٰ کے فضل سے آپؓمحفوظ رہے۔آپؓبہت دلیر تھے۔
حضرت مرزا منصور احمد صاحبؒفرماتے ہیں کہ لاہور میں جماعت کے خلاف جلوس وغیرہ دیکھنے کے لیے کئی دفعہ آپؓاکیلے ہی گھر سے نکل جاتے تھے، ہم پریشان ہوجاتے لیکن آپؓبڑے آرام اور تسلی سے واپس آرہے ہوتے تھے کہ مَیں ذرا حالات دیکھنے گیا تھا۔
حضرت میاں صاحب بعض چیزوں کے موجد بھی تھے۔ مثلاً آپ نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا تھا جس سے شکار کے وقت فاصلہ ماپا جا سکتا تھا اور اس کے مطابق SIGHT کو فِٹ کیا جا سکتا۔ اسی طرح آپ نے ایک چھوٹاسا پمپ بھی ایجاد کیا تھا جسے سائیکل کے ساتھ ADJUST کردیا جاتا اور اگر سائیکل پنکچر ہو جائے تو اتر کر ہوا بھرنے کی ضرورت نہ تھی اور خود بخود سائیکل میں ہوا بھر جاتی تھی۔ اسی طرح آپ نے کشتی کو سائیکل کی طرح چلانے کے لئے پیڈل سسٹم بھی ایجاد فرمایا تھا۔ قادیان میں SWIMMING POOL آپ ہی کی توجہ اور محنت کا نتیجہ تھا۔
حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؒ اوصافِ حمیدہ کا دلکش نمونہ تھے۔ آپ کا حلیہ اور آواز سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حلیہ مبارک اور آواز سے بہت ملتی تھی اور اندازِ گفتگو بہت سادہ اور دلکش تھا۔ قرآن شریف اور احادیثِ نبویہ سے آپکو از حد محبت تھی۔ نمازِ فجر کے بعد بلا ناغہ قرآن شریف کی تلاوت بآوازِ بلند فرماتے۔ سورۃ فاتحہ درود شریف اور یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ نَسْتَغِیْثُ اور سُبْـحٰنَ اللہِ وِ بِـحَمْدِہٖ سُبْـحٰنَ اللہِ الْعَــظِیْمِ کا ورد بکثرت کرتے۔ سفر میں نماز ہمیشہ پہلے وقت میں ادا فرماتے۔ آپ صاحب کشف اور مستجاب الدعوات تھے۔
ایک مرتبہ ریاست کپورتھلہ میں شکار کی غرض سے تشریف لے گئے۔ دیر ہو جانے کی وجہ سے ایک گاؤں میں رات گزارنی پڑی۔ اسی رات اُس گھر سے ایک بچہ گُم ہو گیااور باوجود تلاش کرنے کے نہ ملا۔ اس پر آپؓنے خاص توجہ سے دعا کرنی شروع کی۔ دعا کی حالت میں غنودگی میں آپؓکو دکھایا گیاکہ ایک بوڑھا شخص بچے کو لے کر آرہا ہے۔ آپؓنے گھر والوں کو اسی وقت اطلاع دی کہ ایک بوڑھا شخص بچے کو گھر لے کر آئے گا۔ صبح جب آپؓکی روانگی کا وقت ہوا تو ابھی بچہ گھر نہیں پہنچا تھا۔ اس پر آپؓنے پھر دعا کی کہ مَیں اس حالت میں گھر والوں کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔ اے باری تعالیٰ! میرے ہوتے ہوئے اس بچے کو گھر پہنچا دے۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک معمر شخص بچے کو لے کر آگیا اور گھر والوں نے خوشی خوشی آپؓکو رُخصت کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپؓکو زبردست روحانی قوت عطا فرمائی تھی اورآپؓکی توجہ بڑی اثر انگیز تھی۔
آپؓنے اپنی بیماری کے ایّام صبرو شکر سے گزارے اور ۲۶؍دسمبر۱۹۶۱ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاح سے دو گھنٹے قبل ساڑھے ۶۶سال کی عمر میں آپؓنےوفات پائی۔ اُسی دن حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔
(الفضل انٹرنیشنل لندن 7 اگست 2023ء)
حضرت مصلح موعود ؓ سے والہانہ عشق اور ادب کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے بچپن کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ
’’میرے دادا…حضرت مرزا شریف احمد صاحب… ایک دفعہ مجھے ساتھ لے گئے کہ حضرت خلیفہ ثانی کو ملنے جانا ہے۔ جب ان کے گھر پہنچے تو وہ نیچے کھڑے ہو گئے۔ مجھے کہا کہ اوپر جا کے بتا کے آؤ کہ میں ملنے آ رہا ہوں اجازت لے کر آؤ۔ وہاں جا کر میں نے انہیں کہا کہ ابّا جان نے ملنے آنا ہے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے آجائیں۔ میں نیچے آیا ان کو بتایا پھر وہ اوپر گئے۔ وہاں کرسی رکھی تھی ان کے سرہانے جہاں وہ لیٹے ہوئے تھے۔ تو انہوں نے کرسی ہٹا دی اور نیچے بیٹھ گئے۔ اور دونوں بھائیوں کی جو باتیں ہو رہی تھیںاس میں بھی آپس کاایک تعلق اور محبت اور پیار کا اظہار دونوں طرف سے چل رہاتھا۔‘‘
معزز سامعین ! اسلام کےان دونوں ادوار کے صحابہ کی شان کے متعلق حضرت مصلح موعود ؓ فرماتےہیں :
’’ یہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ کے انبیا کی صحبت حاصل ہوتی ہے یہ لوگ انبیا کا قرب رکھتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفا کے بعد دوسرے درجہ پر دنیا کے امن اور سکون کا باعث ہوتےہیں ۔‘‘ (خطبہ جمعہ 22اگست 1941ء)
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بزرگ صحابہ ؓ پر کروڑ ہا کروڑ رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا چلا جائے اور ہمیں ان کے پاکیزہ اُسوہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ وآخر دعوٰنا ان الحمد للہ رب العلمین۔