اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-03-20

’’دعوۃ الی اللہ کے لئے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کاجذبہ، حضور انور کی نصائح اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں ‘‘ ( مکرم شیخ فاتح الدین شاہدؔ، نائب امیر و ایڈیشنل مبلغ دہلی و داعی خصوصی ضلع دہلی )

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
(سورۃ الانعام 163)
وَدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا
(الاحزاب 47)
مجھ کو دے اِک فوقِ عادت اے خدا جوش و تپش
جس سے ہوجائوں میں غم میں دیں کے اِک دیوانہ وار
وہ لگادے آگ میرےدل میں ملّت کے لئے
شعلے پہنچیں جس کے ہر دم آسماںتک بے شمار
ابھی آپکے سامنے جن آیات کی تلاوت کی گئی ہے وہ سورۃ الانعام کی آیت 163اور سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 47ہے جسکا ترجمہ اس طرح سے ہے کہ :
تو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔اور اللہ کی طرف اُس کے حکم سے بلانے والے اور ایک منور کر دینے والے سورج کے طور پر۔
قابل احترام ۔صدر اجلاس اورمعزز حضرات!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میری تقریر کاعنوان جیسا کہ آپ سن چکے ہیں ’’دعوۃ الی اللہ کے لئے مسیح موعود علیہ السلام کا جذبہ، حضور انور کی نصائح اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں‘‘ ہے۔
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام  فرماتے ہیں:
’’یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَفْ سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘
(کشتی نوح روحانی خزائن جلد19 صفحہ22)
حضرات!!اس آیت کریمہ میںجو خاکسار نے اپنی اس تقریر کی ابتداء میں تلاوت کی ہے ہمارے محبوب آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکا وہ بلند ترین مقام ِفنا فی اللہ بیان کیا گیا ہے جو عدیم المثال اور لاثانی ہے۔آ نحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کا ایسا دلربا نقشہ بیان کیا گیا ہے جو ہر جہت سے لاثانی اور بے نظیر ہے اِس دور آخرین میں اللہ تعالی نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزندِ جلیل اور آپ ﷺ کے عاشق صادق کو یہ سعادت اور توفیق عطا فرمائی کہ وہ کلیتاََاپنے آقاحضرت اقدس محمد ﷺ کے رنگ میں رنگین ہو گیا اور کچھ ایسا فنا ہوا کہ اِس مہتابِ ہدایت نے اپنے وجود میں آفتاب ہدایت کا ایک کامل اور حسین عکس پیدا کر لیا۔ غلام صادق کا وجود آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کاظلِ کامل بن گیا اُس کی زندگی آقائے دو جہان کی غلامی میں قدم بقدم چلتی ہوئی اس آیت کریمہ کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن گئی۔
حضرات!!
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اندر بھی غیرتِ دینی و اشاعت اسلام کی وہی تڑپ جاگزیں تھی جو کبھی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے اندرموجود تھی … وہی درد آپؑکو لاحق تھا جو کبھی پیارے نبی ﷺ کو دین کے لئے ہوا کرتا تھا…دین کی حالتِ زارکے باعث آپؑبھی اُسی طرح تڑپتے اور بے چین ہو جایا کرتےجیسا اضطراب نبی اکرمﷺ کو دین کی حالت زار پر ہوا کرتا تھا… آپؑنے بھی دینی مہم میں اُن صعوبتوںاور تکالیف سے حصہ پایا…جن تکالیف سے کبھی آپ ﷺگزرے ، اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کی خاطر آپ ﷺکو دیوانہ مجنون اور ساحر کہا گیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کافر و دجال کے نام سے موسوم کیا گیا… جیسے آپ ﷺ اپنی اُس بے چینی کی حالت میں اللہ رب العزت کے آستانے پر گرتےنظر آتے … ٹھیک اُسی طرح مسیح موعود علیہ السلام بھی اُس حالت کرب میں اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوتے نظر آتے…غرض یہ کہ آپ ﷺ کےغلام صادق ہونےکے اعتبار سے اپنے آقا اور محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے رنگ میں رنگین ہو گئے ۔یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود ؑ کا اپنے محبوب آقاسے مماثلت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اُسی محبت کا اظہار آپؑکے منظوم کلام میں بھی نظر آتا ہے۔ آپ لکھتے ہیںکہ
ربط ہے جان ِمحمدؐسے مری جاں کو مُدا م
دل کو وہ جام لبالب ہے پِلایا ہم نے
تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؐ
تیری خاطر سے یہ سب بار اُٹھایا ہم نے
کافر و مُلحد و دجال ہمیں کہتے ہیں
نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے
سامعین !!اِس سے قبل کہ میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں موجود دعوت الیٰ اللہ کے لئے جذبہ کاذکر کروں یہ مناسب ہوگا کہ اُس وقت اسلام کی کیا حالت تھی اس کا جائزہ لیا جائے … اسلام کی کشتی کس طوفانِ بے تمیزی میں گھری تھی اس پر بھی نظر رکھی جائے ۔
1890کا دور وہ دور تھا جب ہندوستان عیسائیت کی بھرپوریلغار کی زدمیں تھا ۔ہر طرف عیسائیت کی تبلیغی سرگرمیوں کا زور تھا مسلمان بالکل بے دست وپا تھے اور عیسائیوں کی یہ یلغار اُن کوخاشاک کی طرح بہائےلیے جا رہی تھی اِس کیفیت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں جو درد اُٹھا اور جس طرح خدمت اسلام کا بے پناہ جذبہ اُبھرا اُس کیفیت کا کچھ اندازہ آپ کی اِس درد بھری تحریر سے کیا جا سکتا ہے آپؑنے فرمایا :
کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصے میں اِس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو چھوڑ بیٹھے ہیں یہاں تک کہ وہ جو آلِ رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمنِ رسول بن گئے … اور اِس قدر بدگوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے دل پر لرزہ پڑتا ہے اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری انکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مار دیتے… اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جو ان گالیوں اور اس توہین سے جو ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی دکھا۔ اسلام کی اس حالت زار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سینے میں جو تلا تم برپا تھا وہ بیان سے باہر ہے ۔
جس زمانہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام مبعوث ہوئے اس وقت ہر جہت سے اسلام اور بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ و سلم پر دل خراش حملے ہو رہے تھے لیکن آپؑنےاللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ جس تڑپ ، جوش اور جاں فشانی کے ساتھ تکمیل اشاعت ہدایت کا فرض ادا کیا اس کی نظیر ہمیں کہیں نہیں ملتی نیز آ پؑکی اسلام کے لئے خدمات اور تڑپ کی یہ وہ عظیم داستان ہے جو آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔اس تڑپ اور جوش کا اظہار آپؑنے نثر اور نظم دونوں میں بارہا فرمایا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ آپؑنے اپنی ساری زندگی دین ِمصطفیٰ ﷺکی اشاعت کے لیے قربان کر دی تھی۔آپؑفرماتے ہیں:
جانَم فِدا شَوَد بَرہ ِدینِ مصطفےٰ
اِیں اَست کام ِدِل اگر آید میسّرم
کہ میری جان محمد مصطفےٰ ﷺ کے دین پر فدا ہو۔ یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش یہ مقصد مجھے مل جائے۔
1885ء میں اشاعت ہدایت کے لیے آپؑکی تڑپ کا اظہار اُس وقت بھی ہوا جب حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی سفر حج پر جانے لگے۔ آپ علیہ السلام نے اُن کو درج ذیل دعا لکھ کر دی اور ہدایت فرمائی کہ وہ یہ دعا خاص طور پر خانہ کعبہ اور میدانِ عرفات میں کریں۔وہ دردمندانہ دعا یہ تھی کہ:
’’اے ارحم الراحمین جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اُس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اِس عاجز کے ہاتھ سے حجّت اسلام مخالفین پر اور اُن سب پر جو اب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر‘‘ ۔
(تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 265)
حضرات!!یہ وہ دور تھا جب اسلام پر ہر طرف سے حملے ہو رہے تھے نیز اسلام کی کشتی ایک بھنور میں پھنسی دکھائی دیتی تھی ۔اسلام کے لئے فکر وں اور رنجوں اور پریشانیوں کا یہ وہ زمانہ تھا جس میں احمدیت کا نور طلوع ہوا اور اسلام کے احیائے نو کی ایک عظیم تحریک منصہ شُہودپر اُبھری…بچپن ہی سے آ پؑکو اسلام اور بانی اسلام ﷺایک بے پناہ خداداد عشق تھااور عبادت الٰہی کا ذوق دل میں جاگزیں تھا۔مسجد سے آپؑکو ایسی محبت تھی کہ بسا اوقات جب آپ کے والد سے آپ کے متعلق پوچھا جاتا کہ آپ کہاں ہوں گے تو وہ جواب دیتے کہ مسجد میں جا کردیکھو کسی صف میں لپٹا پڑا ہوگا۔ (ازسوانح فضل عمر )
آپؑکے اندر اشاعت اورہدایت کے لیے اتنا جوش موجزن تھاکہ اس کا اندازہ کرنا انسانی فکر و فہم سے باہر ہے۔ آپؑنے اپنی تحریرات میں اس تڑپ کا اظہار کئی بار فرمایا ۔آپؑفرماتے ہیں:
’’ مَیں اُس مولیٰ کریم کا اِس وجہ سے بھی شکر کرتا ہوں کہ اُس نے ایمانی جوش اسلام کی اشاعت میں مجھ کو اس قدر بخشا ہے کہ اگر اس راہ میں مجھے اپنی جان بھی فدا کرنی پڑے تو میرے پر یہ کام بفضلہ تعالیٰ کچھ بھاری نہیں۔اگرچہ مَیں اِس دنیا کے لوگوں سے تمام امیدیں قطع کر چکا ہوں مگر خدا تعالیٰ پر میری امیدیں نہایت قوی ہیں ۔سو میں جانتا ہوں کہ اگرچہ مَیں اکیلا ہوں مگر پھر بھی میں اکیلا نہیں وہ مولیٰ کریم میرے ساتھ ہے اور کوئی اُس سے بڑھ کر مجھ سے قریب تر نہیں اُسی کے فضل سے مجھ کو یہ عاشقانہ رُوح ملی ہے کہ دکھ اٹھا کر بھی اُس کے دین کے لئے خدمت بجا لاؤں اور اسلامی مہمّات کو بشوق و صدق تمام تر انجام دوں۔ اِس کام پر اُس نے آپ مجھے مامور کیا ہے اب کسی کے کہنے سے میں رُک نہیں سکتا…اور چاہتا ہوں کہ میری ساری
زندگی اِسی خدمت میں صرف ہو۔ اور در حقیقت خوش اور مبارک زندگی وہی زندگی ہے جو الٰہی دین کی خدمت اور اشاعت میں بسر ہو۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 35تا36)
حضرات!!حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی بعثت کا مشن ہی دین اسلام کی تجدید اور سیرت طیبہ ﷺ کو عملی رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا۔ آپؑفرماتے ہیں کہ:’’ ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر خداتعالیٰ کے سچے دین کی اشاعت کریں اور اُس ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچا لیں۔ اگر خداتعالیٰ ہمیں انگریزی زبان سکھا دے تو ہم خود پھر کر اور دورہ کرکے تبلیغ کریں اور اسی تبلیغ میں زندگی ختم کردیں خواہ مارے ہی جاویں۔‘‘
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 219۔ایڈیشن2003ء)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی حیات طیّبہ کا ہر لمحہ اشاعت دین اور ہدایت کے لیے صرف ہوتا تھا تا متلاشیان ِ حق کو حیات روحانی میسر آسکے۔ آپ کی سیرت کا یہ پہلو اپنے اندر ایک رعنائی اور دلکشی رکھتا ہے ۔ ایک جگمگاتے ہوئے ہیرے کی طرح کہ جسکو کسی رُخ سے بھی دیکھا جائے اس کا حسن ایک نئے انداز میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے آپؑکی اسلام کے لئے تڑپ اور تبلیغ اسلام آپؑکی پوری زندگی پر محیط تھااور یہی آپ کا اوڑھنا بچھوناتھایہی آپ کا مقصد حیات تھا اسی کے لئے آپ دنیا میں آئے اور اسی میں اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ صرف کیا۔ چنانچہ حضرت مولوی فتح دین صاحب دھرم کوٹی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
’’میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے حضور اکثر حاضر ہوا کرتا تھا اور کئی مرتبہ حضور کے پاس ہی رات کو قیام کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آدھی رات کے قریب حضرت صاحب بہت بے قراری سے تڑپ رہے ہیں اور ایک کونہ سے دوسرے کونہ کی طرف تڑپتے ہوئے چلے جاتے ہیں جیسے کہ ماہی بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدت ِدرد کی وجہ سے تڑپ رہا ہوتا ہے۔ میں اِس حالت کو دیکھ کر سخت ڈر گیا اور بہت فکر مند ہوا اور دل میں کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ اُس وقت میں پریشانی میں ہی مبہوت لیٹا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وہ حالت جاتی رہی۔
صبح میں نے اِس واقعہ کا حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے ذکر کیا کہ رات کو میری آنکھوں نے اِس قسم کا نظارہ دیکھا ہے کیا حضور کو کوئی تکلیف تھی یا درد ِگُردہ وغیرہ کا دورہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا’’ میاں فتح دین! کیا تم اُس وقت جاگتے تھے؟ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے اور جو جو مصیبتیں اِس وقت اسلام پر آرہی ہیں اُن کا خیال آتا ہے تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے اور یہ اسلام ہی کا درد ہے جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی، حصہ سوم صفحہ 29)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مختلف ذرائع اختیار فرمائے اور تبلیغ کے نئے سے نئے اندازاختیار کئے ان سب کی تفصیل میں جانا ممکن نہیں ہے لیکن اُن کی طرف اشارہ کیے بغیر آگے گزرنا بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا چنانچہ وقت کی رعایت سے چند عناوین عرض کرتا ہوں :
آپؑنے سب سے اول دردمندانہ دعائیں  کیں…اسلام بانی اسلام اور قرآن کریم کی افضلیت پر مشتمل 85سے زائد کتب تصنیف فرمائیں نیز منظوم کلام بھی لکھے جو ایک روحانی خزانہ ہے … اشتہارات شائع کئے ،مباحثے کئے،دنیوی بادشاہوںاور سربراہان کو خطوط لکھے ،دور دراز کے سفر اختیار کئے، محفلیں لگائیں ، جلسے کئے، ملاقاتوں کا دور جاری رکھا نیز اخبار و رسائل جاری فرمائے… مسیح موعود ؑ نے لنگر خانہ کی بنیاد رکھی تا لوگ جب آپ کے پاس آئیں تو ان کے لئے مناسب قیام وطعام کا انتظام ہو سکے … صحابہ کو تیار کیا اور ان میں بھی تبلیغی جوش پیدا کرنے کا کام کیا جسکا ایک نمونہ اس وقت نظر آیا جب مولانا برہان الدین جہلمیؓسفر میں پیچھے رہ گئے اور مخالفین نے ان کو پکڑ لیا نیز آپ کے ساتھ زیادتی کی اور آپ کے منہ پر گوبر بھی ڈالا لیکن یہ تبلیغ کا جوش ہی تھا کہ آپ کی زبان پر اُف تک نہ آیا بلکہ آپؓنے اِس چیز کو نعمت شمار کرتے ہوئے کہا … اے برہانیا ایہہ نعمتاں کیتھوں !! یعنی اے برہان الدین! یہ نعمتیں کہاں میسر آ سکتی ہیں۔ یعنی دین کی خاطر کب کوئی کسی کو دکھ دیتاہے۔ یہ تو خوش قسمتی ہے۔ یہ سب آپؑکے دلکش انداز تبلیغ کے مختلف عنوان ہیں جن کی تفصیل کی اس موقع پر گنجائش نہیں ہے۔
حضرات !!اِس امام الزمان کی دل کی کیفیت کے متعلق ایک نہایت دلربا واقعہ پیش ہے ۔
ایک دفعہ قادیان میں شدید گرمی پڑی۔ گلیاں سنسان ہو گئیں ۔ بازار بند ہو گئے۔ ایسی گرمی کہ ہر شخص الامان والحفیظ پکار اٹھا ۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے شدت گرما کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مخصوص شیریں اور دلر با انداز میں فرمایا کہ اس قدر شدید گرمی تھی کہ سب لوگ بے حال ہو گئے حتی کہ خدا کی مشین بھی بند ہو گئی مراد یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود جو کسی حال میں کسی موسم میں کام سے نہیں تھکتے آپ بھی آرام پر مجبور ہو گئے۔
حضرت مسیح موعود کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ ہم نےتو اس موسم میں بھی ایک لحظہ کے لئے کام بند نہیں کیا۔
(ذکر حبیب صفحہ 161 از حضرت مفتی محمد صادقؓ)
سامعین !!کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے…اور ہم میں  سے اکثر اس تجربہ سے گزرے ہوں گے کہ کئی باربچے اپنے والدین سے مطالبات کرتے ہیں…کبھی والدین اس کو پورا کرتے ہیں …اورکئی بار منع بھی کر دیتے ہیںاور کبھی ڈانٹ بھی لگا دیتے ہیں۔ لیکن اُس میں بھی بچوں کی بھلائی ہی مُضمر ہوتی ہے اور کئی مرتبہ منع کرنے کے بعد بچے کی د ل کی کیفیت اور حالات کو دیکھ کر یا اُس بھولی صورت کو دیکھ کر دل میں رحم اُمڈ آتا ہے کہ یہ میری اولاد ہی تو ہے پھر منع کرنے کے بعد ان کا مطالبہ پورا کر دیتے ہیں …یہ تو دنیوی پیار اور محبت کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے …اسکے بدلے خدا کی محبت اور شفقت کا ایک نمونہ پیش ہے :
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی عمر کے آخری لمحات تک تحریری جہاد میں مصروف عمل رہے ۔آپؑکو اس سلسلہ میں کئی مرتبہ بعض پریشانیوں کا سامنا بھی رہا۔اس سلسلہ میںمنشی ظفر احمد کپورتھلوی بتاتے ہیں :
ایک مرتبہ حضرت اقدس کو خارش کی بہت سخت شکایت ہو گئی تمام ہاتھ بھرے ہوئے تھے۔ لکھنا یا دوسری ضروریات کا سرانجام دینا مشکل تھا۔ علاج بھی برابر کرتے تھے مگر خارش دُور نہ ہوتی تھی ایک دن میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عصر کے قریب وقت تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ بالکل صاف ہیں مگر آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں میں نے جرأت کر کے پوچھا کہ حضور آج خلاف معمول آنسو کیوں بہ رہے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میرے دل میں ایک معصیت کا خیال گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے کام تو اتنا بڑا میرے سپرد کیا ہے اور ادھر صحت کا یہ حال ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی شکایت رہتی ہے۔ اس پر مجھے الہام ہواکہ:
ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے؟
اس سے میرے قلب پر بے حد رقت اور ہیبت طاری ہے کہ میں نے ایسا خیال کیوں کیا۔ ادھر تو یہ الہام ہوا مگر جب اٹھا تو ہاتھ بالکل صاف ہو گئے اور خارش کا نام ونشان نہ رہا۔ ایک طرف اِس پر شوکت الہام کو دیکھتا ہوں دوسری طرف اس فضل اور رحم کو تو میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اسکے رحم و کرم کو دیکھ دیکھ کر انتہائی جوش پیدا ہو گیا اور بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔
(تذکرہ صفحہ 685-686 )
پیارے دوستو ذرا اس خوبصورت واقعہ پر غور فرمائیں کہ جب خدا کا ایک بندہ اُسی کے دین کی خاطر ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہا تھا تو کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُس سے سلوک کیا اور اُس کی دعا کو سنا اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کر دی…یہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا ایک دلربا منظر ہے جس میںآپؑکےتبلیغ اسلام کا جذبہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے اظہار کا ایک خوبصورت درس ہے۔
الحمد للہ اب تک مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریرات سے لاکھوں سعید روحوں نے استفادہ کیا اور جماعت احمدیہ میں شامل ہونے والوں میں مسلمان، ہندو، عیسائی، اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں ان کتابوں کا فیض قیامت تک جاری رہے گا اور تشنہ روحیں اپنی تشنگی کو اس آب حیات سے دور کرتی رہیں گی۔ ان شاء اللہ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اعلیٰ توقعات کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے یہ واقعہ مکرم محمداحسن امروہی صاحب رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے روایت کیا ہے آپ بتاتے ہیں کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں:ایک دفعہ حضور کے کمرہ کے دروازے پر دستک ہوئی۔ حضور علیہ السلام نےاپنی مصروفیت کی وجہ سے مفتی محمد صادق صاحب جو اس وقت آپ کے پاس تھے ان کو فرمایا کہ باہر جا کر دیکھو۔ مفتی صاحب باہر گئے اور آکر حضور کو بتایا کہ مولوی محمد احسن صاحب یہ بتانے آئے ہیں کہ فلاں مولوی سے ان کی بحث ہوئی ہے اور انہوں نے اس کو شکست دے دی ہے۔ حضور نے فرمایا: میں زور دار دستک سے یہ سمجھا تھا کہ یورپ مسلمان ہو گیاہے اور یہ اس کی خبر لائے ہیں۔
(سیرت المہدی )
حضرات !!حضرت مسیح موعود ؑ کے اس قلمی جہاد اور اسلام کی دفاع نے نہ صرف آپؑکی جماعت کے لوگوں کو وہ حیات روحانی بخشی بلکہ غیروں میں بھی اسلام کی نئی روح پھونکنے کا کام کیا۔خدا تعالیٰ کے اس عاشق ،دین محمدﷺکی تڑپ اپنے اندر رکھنے والا وہ وجود… جب اِس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا…اُس موقع پر غیروں نے بھی اظہار افسوس کیا اِس ضمن میں صرف ایک اعتراف وقت کی رعایت سے پیش ہے :
اخبار وکیل امرتسر میں مولانا ابوالکلام آزاد صاحب لکھتے ہیں :
وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو، وہ شخص جود ماغی عجائبات کا مجسمہ تھا، جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی، جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں، وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا، جو شور قیامت ہو کر خُفتگانِ خوابِ ہستی کو بیدار کرتا رہا… دنیاسے اُٹھ گیا۔ مرزاغلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اِس قابل نہیں کہ اُس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے۔ ایسے شخص جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو… ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے ۔ یہ نازشِ فرزندانِ تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر کے دیکھا جاتے ہیں… اور اُس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اِس شاندار مدافعت کا جواُن کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی… خاتمہ ہو گیا۔ اُن کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اِس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے ۔ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر اُن سے ظہور میں آیا۔ قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اِس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آئندہ اُمید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اِس شان کا شخص پیدا ہو۔
(تاریخ احمدیت ، جلد 2 صفحہ (560)
حضرات!!اللہ تعالیٰ کے مامورین آسمانی بادشاہت کے نمائندہ ہوتے ہیں اور انہیں دنیاوی بادشاہتوں سے کچھ بھی سروکار نہیں ہوتا وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ اِس عارضی دنیا کےرؤساء اور بادشاہ اِس فانی دنیا کی عزت وافتخار کی بجائے اُس حقیقی خالق ومالک کی قُربت میں جگہ پائیں۔ اِسی لئے وہ اِن دنیاوی بادشاہوں کو پیغام حق پہنچا کر فرائض منصبی سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دنیا کے بادشاہوں کو اپنی بادشاہیاں مبارک ہوں، ہمیں اُن کی سلطنت اور دولت سے کچھ غرض نہیں، ہمارے لئے آسمانی بادشاہت ہی کافی ہے، ہاں نیک نیتی سے، سچی خیر خواہی سے بادشاہوں کو بھی آسمانی پیغام پہنچانا ضروری ہے۔
(تحفہ قیصریہ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۶۵)
مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا
مجھ کو کیا تاجوں سےمیرا تاج ہے رضوانِ یار
ہم تو بستے ہیں فلک پر اِس زمیں کو کیا کریں
آسماں کے رہنے والوں کو زمین سے کیا نقار؟
اب خاکسار اپنی تقریر کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہے جو کہ حضور انور کی نصائح اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
تبلیغ کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک سخت مشکل کام ہے ۔ایک مَحَل تیار کر لیناآسان ہے لیکن ایک شخص کا دل پھیردینا آسان نہیں کیونکہ بغیر مناسب تدبیر اور دلائل کے کسی شخص کا دل پھیرا نہیں جا سکتا۔
(خطبات محمودجلد 9ص125)
تبلیغ کے کام میں ہم سے پہلے لوگوں نے تلواروں کے سایہ میں بھی سستی نہیں کی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ وہ ہر طرف سے دشمنوں میں گھر ے ہوئے تھے۔ قسطنطنیہ میں عیسائیوں کی حکومت تھی اور یہ آدھی دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔ اور ادھر ایران میں جو حکومت تھی اس کا بھی آدھی دنیا پر اثر تھا۔ اس وقت مسلمانوں پر ہر طرف سے حملے ہو رہے تھے لیکن مسلمان تلواروں کے مقابلہ میں نہیں ڈرتے تھے تو کیا آج ہم دشمن کی زبان اور اس کے روپیہ سے ڈر سکتے ہیں۔ پس ہمیں اِس کے لئے تیار ہونا چاہئے اور ہر ایک قربانی جس کی ضرورت ہو اس کے لئے آمادہ ہونا چاہئے۔‘‘
(خطبات محمود جلد8 صفحہ47تا48)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ہمت کرو اور بڑھتے چلے جاؤ ۔ اور دنیا کے کناروں تک جا کے خدا کے نام کو پھیلا دو ۔ اس راستہ میں تمہیں جو بھی قربانی کرنی پڑے ۔ اس سے مت گھبراؤ ۔ اور نہ ڈرو۔ اگر تمہیں اِس راہ میں اپنی عزیز سے عزیز چیز بھی قربان کرنی پڑے تو کرو۔ اور صرف ایک مقصد لے کر کھڑے ہو جاؤ۔ اور اُس عرفان کے خزانے کو دنیا میں پہنچاؤ جس کے لئے احادیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود خزانے تقسیم کرے گا ۔ مگر لوگ لینگے نہیں مسیح موعود نے تمہیں قرآن کے خزانے دیئے ہیں ۔اُن کو تمام دنیا میں پہنچا دو۔ اور پھیلا دو۔
(خطبات محمود جلد اول ص 49)
حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی دعوت الی اللہ سے متعلق ایک نصیحت پیش ہے آپ فرماتے ہیں :
تبلیغ کی جو جوت میرے مولیٰ نے میرے دل میں جگائی ہے اورآج ہزار ہا احمدی سینوں میں یہ لَو جل رہی ہے اُس کو بجھنے نہیں دینا ۔اِس مقدس امانت کی حفاظت کرو۔ میں خدائے ذوالجلال و الاکرام کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر تم اس شمع کے امین بنے رہوگے تو خدا اُسے کبھی بجھنے نہیں دے گا۔یہ لَو بلند تر ہوگی اور پھیلے گی اور سینہ بسینہ روشن تر ہوتی چلی جائےگی ۔اور تمام روئے زمین کو گھیر لے گی اور تمام تاریکیوں کو اُجالوں میں بدل دے گی۔
(خطبات طاہر جلد 2ص422)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اِن دلائل سے اور عِلمی اورر روحانی خزانے سے کام لیتے ہوئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں دئیے ہیں، اپنی تبلیغی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے …اُس کے لئے عَملی نمونے اورعِلمی اور روحانی ترقی کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے۔ تقویٰ میں ترقی ضروری ہے۔ کیونکہ جب تک ہماری روحانی ترقی نہیں ہوتی ہماری تبلیغ میں بھی برکت نہیں پڑ سکتی …پس ایک داعی الی اللہ کے لئے یہ ضروری ہے اور صرف یہ داعی الی اللہ کو یاد رکھنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر احمدی چاہے وہ فعال ہو کر تبلیغ کرتا ہے یا نہیں اگر دنیا کے علم میں ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے، اگر ماحول اور معاشرہ جانتا ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے تو وہ احمدی یاد رکھے کہ اس کے ساتھ احمدی کا لفظ لگتا ہے، اگر وہ تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو تب بھی اس کا احمدی ہونا اسے خاموش داعی الی اللہ بنا دیتا ہے۔
ہر احمدی جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال اس لئے درست رکھے کہ اس پر ہر ایک کی نظر ہے۔ اگر کسی قسم کا ایسا دینی علم نہیں بھی ہے جو اسے فعّال داعی الی اللہ بنا سکے تب بھی اس کا ہر فعل اور عمل اور قول دوسروں کی توجہ کھینچنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر نیک اعمال ہیں تو لوگ نیکی سے متاثر ہو کر قریب آئیں گے…دلوں کو مائل کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے اور تبلیغ کرنا انبیاء کے ساتھ الٰہی جماعتوں کے افراد کا کام ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 9؍اپریل2010ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ تکمیل اشاعت ہدایت کا کام اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کیا گیا ہے۔ وہ ہدایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کُل انسانیت کے لئے لائے تھے اور جس کے پھیلانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین تھے اس کی تکمیل کا یہ زمانہ ہے جب سب ذرائع میسر ہیں۔ جس طرح یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کیا گیا تھا اسی طرح اب یہ کام آپؑ کے ماننے والوں کے سپرد کیا گیا ہے۔ ان کے سپرد ہے جو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 11؍نومبر 2016ء)
یہ موضوع ایسا نہیں کہ ایک قصۂ پارینہ ہوبلکہ ایسی جاری وساری رُود ِرواں ہے کہ جس کا کوئی کنارہ نظر نہیںآتا اورالحمدللہ ہم وہ خوش قسمت جماعت ہیں جو خلافت کی روحانی رہنمائی میںاُس تبلیغی جوش کو جسکی آگ آنحضرت ﷺ نے لگائی پھر سینہ بسینہ آپؐکے غلام صادق کے دور میں بھی اسُی لو کو جلتے ہوئے ہرآن مشاہدہ کر رہے ہیں۔
کیا ہم یہ گوارا کر سکتے ہیں ؟کہ جس پیغام کی اشاعت کے لیے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنی زندگی قربان کر دی تھی اُس پیغام کی اشاعت کئے بغیر آرام سے بیٹھے رہیں؟ اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو اشاعت ہدایت میں بھر پور حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
حضرات !! پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ مومن وہ ہے جو ہمیشہ خوب سے خوبتر کی طرف جانے کی کوشش کرتاجلا جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ہمیشہ طلبگار رہے …ورنہ یہ دنیا تو ہمیں کافر کہتی ہی ہے اگر ہم خدا کی نظر میں بھی مومنہ بنے تو افسوس ہے ۔
اس ضمن میں ایک روایت پیش ہے :
حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحبؓروایت کرتے ہیں :
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا … کہ جماعت احمدیہ کے لئے بہت فکر کا مقام ہے کیونکہ ایک طر ف تو لاکھوں آدمی انہیں کافر کافر کہتے ہیں اور دوسری طرف اگر یہ بھی خدا کی نظر میں مومن نہ بنے تو انکے لئے دوہرا گھاٹاہے ۔حشمت اللہ صاحب کہتے ہیں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ حضور کی آخری نصیحت یا وصیت تھی جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ان کے (یعنی مخالفین )کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر ﷺ کی ذاتِ والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کررکھا ہے خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد… اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کردئیے جائیں اور خود میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئےجائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مُرادوں سے محروم کردیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو اِن ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لیے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔ پس اے میرے آسمانی آقا تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش۔‘‘
(ترجمہ عربی عبارت روحانی خزائن جلد 5، آئینہ کمالات اسلام، صفحہ15)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی خدمت جس سچی محبت اور درد کے ساتھ ساری زندگی خود کار انداز میں جاری رکھی اس کی کیفیت اللہ ہی سب سے بہتر جانتا ہے۔ آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو کلیتا خدمت اسلام کی خاطر وقف کر دیا۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور طاقت کا ایک ایک ذرہ اس راہ میں قربان کر دیا۔ قلمی جہاد کے سلسلہ میں اتنی محنت فرماتے کہ بعض اوقات آپ پر انتہائی ضعف کی کیفیت طاری ہو جاتی ۔ جس علالت میں آپ کا وصال ہوا اس بیماری کے دوران بھی آپ اپنی آخری کتاب پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف رہے۔بالآخر اس قلمی جہاد کی حالت میں آپ نے وصال یار کا شیریں جام پیا۔ معزز سامعین ! دین اسلام کی اس قدر خدمت کرنے کے باوجود آپ کی زبان پر جوکلمات جاری تھے وہ یہ تھے : " میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا۔ اور میں اپنے تئیں
ایک نالائق مزدورسمجھتا ہوں "۔
آخر میں میں یہی عرض کروں گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم کا حق تو صحیح معنوں میں ادا کردیا اب ہم ان زندگی بخش کلمات کو بار بار پڑھیں اور اپنے دلوں کو ان سے منور کریں ۔ یہ روحانی خزانہ ساری انسانیت کی مشتر کہ دولت ہے ۔ پس آؤ کہ ہم اس دولت کو اس دنیا میں عام کر دیں ۔ ملک ملک اور قریہ قریہ اس کو پھیلاتے جائیں ۔ آمین ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نصیحت پر اپنی اس تقریر کو ختم کرتا ہوں ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اب وقت تنگ ہے۔ میں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔ تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے۔ اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے۔ زمانہ انقلاب میں ہے۔ یہ آخری زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صادق اور کا ذب کو آزمانا چاہتا ہے۔ اس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقع دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس لئے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہو گا۔ بڑا ہی بد قسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔ نرازبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے بلکہ کوشش کرو اور اللہ تعالی سے دعائیں مانگو کہ وہ تمہیں صادق بنا دے۔ اس میں کاہلی اور سستی سے کام نہ لو بلکہ مستعد ہو جاؤ اور اُس تعلیم پر جو میں پیش کر چکا ہوں عمل کرنے کے لئے کوشش کرو اور اس راہ پرچلو جو میں نے پیش کی ہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 6 صفحہ264-263 ایڈیشن 1984ء مطبوعہ انگلستان)
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
٭ ٭ ٭