أَشْهَدُ أَنْ لَّا إلٰهَ إِلَّا اللّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ
(آل عمران:111)
’’تم بہترین امّت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو۔
بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتاہوں
ہوں بندہ مگر میں خدا چاہتاہوں
مجھے بیر ہر گزنہیں ہے کسی سے
میں دنیا میں سب کا بھلاچاہتاہوں
قابل احترام صدر اجلاس اور معزز سامعین !خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے ’’جماعت احمدیہ و خدمت خلق ‘‘ہے۔
سامعین کرام !مذہب کے دوہی حصے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا یعنی اس کی عبادت کر نی اور دوسرے اس کی مخلوق سے ہمدری اور خدمت کر نی آج خاکسار مخلوق خدا کی خدمت کے بارہ میں کچھ بیان کرے گاکہ اسلام کی اس بارہ میںکیا تعلیم ہے اور جماعت احمدیہ اس بارہ میں کیا کردار نبھارہی ہے۔
سامعین کرام !رضائے الٰہی کے حصول کے لیے جائز امور میںبغیر فرق مذہب اور رنگ ونسل مخلوقِ خدا کی خدمت، اعانت اور مدد کرنے کو خدمتِ خلق کہتے ہیں۔
خدمت خلق محبت الٰہی کا تقاضہ ،ایمان کی روح اور دنیا وآخرت کی سرخ روئی کا ذریعہ ہے، صرف مالی اعانت ہی خدمت خلق نہیں ہے بلکہ کسی کی کفالت کرنا ، کسی کو تعلیم دینا ،مفید مشورہ دینا ،کسی کوکوئی ہنر سکھانا، علمی سرپرستی کرنا، تعلیمی ورفاہی ادارہ قائم کرنا، کسی کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان جیسے دوسرے امور خدمت خلق کی مختلف راہیں ہیں۔
اسلام میں احترام انسانیت اور مخلوقِ خدا کے ساتھ خدمت وغم خواری کو بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے،چنانچہ قرآن مقدس اور احادیث نبویہ میں جگہ جگہ خدمت انسانیت کو بہترین اخلاق اورعظیم عبادت قراردیا گیا ہےجیسا کہ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خدمت خلق پر ابھارتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ترجمہ:اس بات میں کوئی کمال اور نیکی نہیں ہے کہ تم اپنارخ مشرق کی جانب کرو یا مغرب کی جانب،لیکن اصلی کمال اور نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللّٰہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پراور فرشتوں پر اور کتبِ سماویہ پر اور پیغمبروں پر اور وہ شخص مال دیتاہو اللّٰہ کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں کواور نادار مومنوں کو اور دوسرے غریب محتاجوں کو بھی اور بےخرچ مسافروں کو اور لاچاری میں سوال کرنے والوں کو اور قیدی اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں بھی مال خرچ کرتا ہو۔
(سورۂ بقرہ:۱۷۷)
قرآن کریم میں ایک مقام پراس تعلق سے یہ ارشاد ہے۔”وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ص وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ‘‘
(سورۂ مائدہ:۲)
ترجمہ: اے ایمان والو!نیکی اور پرہیزگاری [کے کاموں] میں ایک دوسرے سے تعاون و مدد کرو اورگناہ اور برائی [کے کاموں] میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔
اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ خیر و بھلائی اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و امداد کریں اور گناہوں اور برائی کے کاموں میں کسی کی مدد نہ کریں بلکہ گناہ اور برائی سے روکیں کہ یہ بھی خدمت خلق کا حصہ ہے۔
ایک حدیث شریف میں رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ ترجمہ لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع اور فائدہ پہنچائے(ترمذی)
ایک اور مقام پر فرمایا: ترجمہ ’’ اگر کوئی شخص راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح مسلم)
قرآن مقدّس اوررسول کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی تعلیمات وارشادات نے ہمیں یہ درس دیا کہ ہم میں بہترین اور سب سے اچھا اور عمدہ انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کرتا ہو۔ اوروہ اپنی ذات سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے، اور کسی کو تکلیف نہ دے، غریبوں، مسکینوں اور عام لوگوں کی مدد کرے، ان کی زندگی کے لمحات کو رنج و غم سے پاک کرنے کی کوشش کرے، چند لمحوں کے لئے ہی سہی، فرحت و مسرت اور شادمانی فراہم کرکے ان کے درد و الم اور حزن و ملال کو ہلکا کرے،انہیں اگر مدد کی ضرورت ہو تو ان کی مدد کرے اور اگر وہ کچھ نہ کرسکتا ہو تو کم از کم ان کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آکر،ان کی دلجوئی اور میٹھی بات کرکے ان کے تفکرات کو دور کرے۔خواجہ میر درد نے کیا ہی خوب فرمایاہےکہ
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
الغرض قرآن کی آیات اور احادیث نبویہ کی روشنی میں یہ بات بالکل ظاہر و باہر ہو جاتی ہے کہ اسلام ہمیں احترام انسانیت اور خلق خدا کے ساتھ خدمت وہمدردی اور تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔بیواؤں، مزدوروں، یتیموں،غریبوں، محتاجوں اور بے کسوں کے ساتھ غمخواری اور اظہار ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔
اور ہم سبھی لوگوں کو بھی چاہییے کہ ہم انفرادی یااجتماعی طور پر جس طرح بھی ممکن ہو مفلوک الحال اور پریشاں حال مخلوق خدا کی حتی الامکان خدمت اور تعاون کریں، کیوں کہ مخلوقِ خدا کو تو حدیث شریف میں اللّٰہ کا کنبہ کہاگیا ہے،اوران کے ساتھ بھلائی وہمدردی کو محبّت الٰہی کے حصول کاذریعہ بتایا گیا ہےجیسا کہ ارشاد نبوی ہے۔
’’
اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلَی عِیَالِہٖ ‘‘(مشکوٰة)
ترجمہ : ساری مخلوق اللّٰہ تعالیٰ کاکنبہ ہے اور مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب وپسندیدہ اللّٰہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو اللّٰہ کے عیال کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آئے۔
حضورؐنےایک موقع پر فرمایاوَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَایُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔(سنن ترمذی، کتاب السیر)’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ (بھلائی) نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے‘‘۔
مذکورہ روایتوں سے جہاں خدمت خلق کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے وہیں یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ مذہب اسلام نےخدمت خلق کے دائرہ کار کو کسی ایک فرد یا چند افراد کے بجائے تمام انسانیت پر تقسیم کردیا ہے، غریب ہویا ،امیربادشاہِ وقت ہو یا عام انسان ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق خدمت خلق کی انجام دہی کا ذمہ دار ہے۔
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے خدمت خلق کی محض زبانی تعلیم نہیں دی بلکہ آپ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی عملی زندگی خدمت خلق سے لبریز ہے۔
خدمت خلق کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب آپؐپہلی وحی نازل ہونے کے بعد گھر تشریف لائے تو غم گسار شریک حیات ام المومنین حضرت خدیجہؓ نے کیفیت کو دیکھ کر آپؐکے اخلاق پر جو گواہی دی وہ آپؐکی خدمت خلق سے عبارت ہے ۔ انہوں نے عرض کیا کہ فَوَاللّهِ لَا يُخْزِيكَ اللّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيْثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ یعنی خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپؐکو کبھی ضائع نہیں کرگا آپؐتو رشتہ داروں کے حق اداکرتے ہیں ، غرباء کا بوجھ اٹھاتےہیں ،دنیاسے ناپیداخلاق اور نیکیاں قائم کرتےہیں ،مہمان نوازی کرتےاور حقیقی مصائب میں مدد کرتےہیں ۔
پھرسیرت طیبہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بعثت سے قبل بھی آپ خدمت خلق میں مشہور تھے، بعثت کے بعد خدمت خلق کے جذبہ میں مزید اضافہ ہوا، مسکینوں کی دادرسی ،مفلوک الحال پر رحم وکرم ،محتاجوں ، بے کسوں اورکمزورں کی مدد آپ کے وہ نمایاں اوصاف تھے جس نے آپ کو خدا اور خلقِ خدا سے جوڑ رکھا تھا، حلف الفضول میں شرکت ،غیر مسلم بڑھیا کی گٹھری اٹھا کر چلنا ،فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان اور مدینہ منورہ کی باندیوں کا آپ صلّی اللّہ علیہ وسلّم سے کام کروالینا اس کی روشن مثالیں ہیں،آپ صلّی اللّہ علیہ وسلّم کے اصحاب بھی خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھے۔
حاضرین کرام !حضرت رسول کریم ؐکے ظل کامل ، آپؐکے غلام صادق ،اس زمانہ کے مسیح ومہدی حضرت مرزاغلام احمد قادیانی علیہ السلام نے بھی اپنے آقا ومطاع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی متابعت میں خدمت خلق کو اپناطرہ امتیاز قراردیا۔
حضور علیہ السلام شرائط بیعت کی چوتھی شرط میں فرماتےہیں۔
’’یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا، نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے
” اورنہم شرط ہے۔ “یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔‘‘
(اشتہارتکمیل تبلیغ 12جنوری 1889ء)
فرماتے ہیں:
’’دین کے دو ہی کامل حصے ہیں ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لیے دعا کرنا۔‘‘
(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد19 صفحہ464)
آپؑنے فرمایا:
’’وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔ اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا۔‘‘
(روحانی خزائن جلد23 صفحہ439)
فرماتےہیں : مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑدےاوراس سے دور ہوتا جاوے تورفتہ رفتہ پھروہ درندہ ہوجاتاہے ۔ انسان کی انسانیت کا یہی تقاضاہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنےدوسرےبھائی کیساتھ مروت سلوک اور احسان سےکام لیتاہے…یادررکھوہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے…تم خداتعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ وہ کوئی ہو۔ ہندو ہو یا مسلمان یاکوئی اور۔میں کبھی ایسےلوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتاجوہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرناچاہتےہیں ۔ (ملفوظات جلد چہارم ۔ص184)
حضرت مسیح موعودؑ کی ہمدردی خلق کے بے شمار واقعات مذکور ہیں وقت کی رعایت سے صرف ایک کا ذکر کیاجاتاہے ۔
بیماروں اور ضرورت مندوں کے لیے ایک مستعد خادم
حضرت مولوی عبدالکریمؓصاحب لکھتے ہیں کہ بعض وقت دوائیاں لینے کے لیے گنوار عورتیں زور زور سے دروازے پر دستک دیتی تھیں ۔ اور سادہ اور گنواری زبان میں کہتی تھیں کہ مِرجا جی ذرا بُوا کھولو۔ حضور اس طرح اٹھتے جس طرح مطاعِ ذیشان کا حکم آیاہے، یعنی کوئی بڑاحاکم باہر کھڑا ہے اور اس کی اطاعت کرتےہوئے فوراً اٹھ کر دروازہ کھولتے اور بڑی کشادہ پیشانی سے بڑی خوشدلی سے باتیں کرتے اور دوائی بتاتے۔ مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں وقت کی قدر پڑھی ہوئی جماعت کو بھی نہیں تو پھر گنوار تو اور بھی وقت کے ضائع کرنے والے ہوتے ہیں ۔ ویسے ابھی تک یہ حال ہے۔ ایک عورت بے معنی بات چیت کرنے لگ گئی ہے اور اپنے گھر کا رونا اور ساس نند کا گلہ شروع کر دیا ہے۔ گھنٹہ بھر اسی میں ضائع کر دیا ہے۔ آئی دوائی لینے اور ساتھ قصے شروع کر دیئے اور آپؑوقار اور تحمل سے بیٹھے سن رہے ہیں ۔ زبان سے یا اشارے سے اس کو کہتے نہیں کہ بس جاؤ دوا پوچھ لی اب کیا کام ہے ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے۔ وہ خود ہی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوتی اور مکان کو اپنی ہوا سے پاک کرتی۔
دشمنوں سے حسن سلوک
سامعین کرام !اپنوں اور دوسروں سے ہمدردی کرناجتنابڑاخلق ہے اس سے کئی گنازیادہ بڑا خلق دشمنوںسے حسن سلوک کرنا ہے کیونکہ اپنوں کی تو سبھی خدمت وہمدردی کرتےہیں اور دوسروں سے بھی بہت سارے لوگ ہمدردی دکھاتےہیں مگر دشمنوں سے ہمدردی دکھانااور انکی خدمت کرنانبی رسول اور خلفاء کرام کی شخصیات کا ہی خاصہ ہے ۔قرآن کریم میں اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (حٰم السجدۃ آیت 35)ترجمہ :نہ اچھائی برائی کے برابر ہوسکتی ہے اور نہ برائی اچھائی کے ۔ایسی چیز سے دفاع کروکہ جو بہترین ہو ۔ تب ایسا شخص جس کے اور تیرےدرمیان دشمنی تھی وہ گویااچانک ایک جاں نثار دوست بن جائےگا ۔
اسلام کی اس تعلیم کے پیش نظرجب رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کو پرکھاجائے تو وہ بےنظیر ہے ۔اس تعلیم کے پیش نظر آنحضرت ﷺ نے دشمنوںسے بہترین سلوک کیا ۔دشمنوں نے ہر طرح کی تکلیف دی اس کے باوجود جب مکہ فتح ہوا اور تمام مخالف آپؐکے قابو میں آگئے تو آپ نے ’’لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم‘‘ فرما کر اپنے جانی دشمنوں کو معاف کردیا۔ یہ واقعہ آنحضورﷺ کے دنیا کے تمام انسانوں سے زیادہ رحیم وکریم ہونے اور محسن انسانیت ہونےاوربےنظیر ہمدردی خلق کی قیامت تک گواہی دیتا رہے گا۔
اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعودؑنے آنحضرت ؐ کی متابعت میں اپنے دشمنوں سے ہمدردی کا شاندار نمونہ دکھایاہے۔
آپؑفرماتےہیں کہ ’’اُس کے بندوں پر رحم کرو اور اُن پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو۔ اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔ اور کسی پر تکبر نہ کرو گو وہ اپنا ماتحت ہو۔ اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔ … بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ اُن کی تحقیر۔ اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو، نہ خودنمائی سے اُن کی تذلیل۔ اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے اُن پر تکبر۔ ہلاکت کی راہوں سے ڈرو‘‘۔
(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19صفحہ11-12)
چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بے لوث خدمت و ایثار کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔
قادیان میں ایک شخص نہال چند (نہالا)ایک برہمن تھااپنی جوانی کے ایام میں وہ ایک مشہور مقدمہ باز تھا۔آخرعمرتک قریباًاس کی ایسی حالت رہی ۔وہ ان لوگوں میں سے تھاجوحضرت اقدس کے خاندان کے ساتھ عموماًمقابلہ اورشرارتیں کرتےرہتے تھے پھر سلسلہ کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہ رہتا۔اخیر عمر میں اس کی مالی حالت نہایت خراب ہوگئی ۔اور یہاں تک کہ بعض اوقات اس کو اپنی روزانہ ضروریات کیلئے بھی مشکلات پیش آتی تھیں ۔اس نے ایک مرتبہ حضرت اقدس کے دروازےپر آکر ملاقات کی خواہش کی اور اطلاع کرائی حضرت صاحب فوراًتشریف لے آئے۔اس نے سلام کرکے اپناقصہ کہناشروع کیا۔ حضرت اقدس نے نہ صرف تسلی دی بلکہ پچیس روپے کی رقم لاکر اس کے ہاتھ میں دے دی اور فرمایاکہ فی الحال اس سے کام چلاؤپھر جب ضرورت ہومجھے اطلاع دیناچنانچہ اس کے بعد اس شخص کا معمول ہوگیا کہ وہ مہینے دو مہینے کے بعد آتا اور ایک معقول رقم آپ سے اپنی ضرورت کیلئے لے جاتا۔
(سیرت حضرت مسیح موعودؑ ۔صفحہ 299)
سامعین !اسی طرح کا ایک اور مختصر واقعہ سماعت فرمائیے کہ:
’’جن دنوں پنجاب میںطاعون کا دور دورہ تھا اور بے شمار لوگ اس موذی مرض سےمر رہے تھےآپ علیہ السلام کی جذبہ ہمدردی کی وجہ سےکیا حالت تھی اس بارہ میںحضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو علیحدگی میں دعا کرتے سنا اور یہ نظارہ دیکھ کر محو حیرت ہو گئے ۔آپ فرماتے ہیں:
’’اس دعا میں آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والے کا پتہ پانی ہوتا تھا۔اورآپ اس طرح آستانہ الٰہی پر گریہ و زاری کر رہے تھے کہ جیسے کوئی عورت دردِ زہ سے بے قرا ر ہو۔میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق خدا کے واسطے طاعون کے عذاب سے نجات کے لئے دعا فرما رہے تھےکہ الٰہی ! اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو گئے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔‘‘
(سیرت طیبہ ،صفحہ 54، بحوالہ سیرت مسیح موعود علیہ السلام شمائل و اخلاق ، حصہ سوم،صفحہ 395، مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی ؓ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتےہیں :
گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
پس آج جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اورخلفائے احمدیت کی ہدایات کے زیر سایہ خدمت خلق کے اہم فریضہ کی بجا آوری کو اپنے لیے ایک فرض سمجھتی ہے اور اس شعبہ میں کار ہائے نمایاں سرانجام دینے کی سعی کرتی ہے ۔
طب کے ذریعہ خدمت خلق
حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاءکرام کی طرف سے علاج اور دعاؤں سے ہمدردانہ خدمات کا سلسلہ ہمیشہ جاری ہے ۔ نور ہسپتال قادیان ،فضل عمر ہسپتال ربوہ ،نصرت جہاں سکیم کے تحت افریقہ کے 39اسپتالوں کے ذریعہ بنی نوع انسان کی خدمت۔اسی طرح دنیابھر میں فری میڈیکل کیمپس کے ذریعہ لاکھوں مریضوں کا مفت معائنہ اور ادویات کی فراہمی کے ذریعہ خدمات ۔
ہومیوپیتھی طریق علاج کا دنیابھر میں جماعت کے ذریعہ سینکڑوں فری ہومیوپیتھی ڈسپنسریوں کا قیام نیز طاہر ہومیوپیتھک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ وہسپتال کے ذریعہ خدمات ۔ربوہ میں مستقل طور پر بلڈبنک کا قیام اور دنیابھر میں احمدیوں کی طرف سے عطیہ خون کا عظیم الشان جاری سلسلہ
تعلیمی خدمات
تعلیمی خدمات میں بھی جماعت احمدیہ ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے ۔نظارت تعلیم ،وکالت تعلیم اور ذیلی تنظیموں میں شعبہ تعلیم اور امور طلباءکا مستقل قیام ۔ نصرت جہاں آگےبڑھوسکیم کے تحت افریقہ کے مختلف ممالک میں سینکڑوں سکولوں کے ذریعہ لاکھوں طلباءکو تعلیمی سہولت کی فراہمی۔اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف وسکالرشپ اور تمغے کی فراہمی۔فری کوچنگ کلاسز، کیریئر پلاننگ سیمینارز،بُک بنک کے ذریعہ ضرورت مند طلباءکیلئے کتب کی فراہمی ،ایم ٹی اے کے ذریعہ مختلف زبانیں سکھانے کی کوششیں ،فری کمپیوٹر ایجوکیشن کا انتظام ،ووکیشنل ایجوکیشن کی سہولت وغیرہ بےشمار پروگراموں کے ذریعہ خدمات۔
کفالت یتامیٰ وبیوگان
دارالضعفاء،دارالشیوخ اور دارالاقامہ کے قیام کے ذریعہ یتامیٰ وبیوگان کی کفالت کی خدمات ۔
بیوگان کی مالی امداد کیلئےمستقل وظائف کی سہولت، بیوت الحمد سکیم کے تحت غرباءکیلئے مکان کی سہولت اور شہداءواسیران مولیٰ کے خاندانوں کیلئے سیدنابلال فنڈ کا قیام بھی منفرد حیثیت رکھتاہے ۔
سامعین !ساری دنیامیں مظلوم عوام کی ہمدردانہ امداد پر جماعت احمدیہ ہمہ وقت مستعد اور سرگرم عمل رہتی ہے ۔ جنگوں میں بدحال عوام کی امداد،قحط ،زلزلہ ، سونامی ،باڑھ وغیرہ قدرتی آفات سے پریشان حال لوگوں کی ہمدردانہ خدمات میں ہمیشہ حاضر رہتی ہے ۔
مظلوم اقوام کی امداد
افریقہ کے قحط زدہ اور جنگوں سے بدحال مظلوم عوام کیلئے غیر معمولی خدمات کا جاری سلسلہ ۔
بلقان کی ریاستوں ،بوسنیااور البانیہ کے جنگ سے تباہ حال عوام کیلئے مالی ومعاشرتی امداد ،گمشدہ عزیزوں کی تلاش کیلے احمدیہ ٹی وی پر خصوصی مہم چلائی گئی ۔
عالم عرب کے حقوق خصوصاًفلسطین اردن، مراکش، لبنان اور لیبیاکی آزادی کیلئے کامیاب سفارتی کوششیں دنیا کے کسی بھی خطہ میں مظلوم عوام کیلئے قانونی، طبی ،مالی اور جانی امداد اور عالمی رائے عامہ کی بیداری کا انتظام اور ہر ممکن عملی جد وجہد ۔
متفرق خدمات
اسی طرح کی بےشمار اور خدمات ہیں جو جماعت احمدیہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کے پیش نظر سرانجام دینااپناطرہ امتیاز گردانتی ہے ۔مثلاًمہمانوں کی خدمت کیلئے دنیابھر میں بیسیوں مقامات پر مسیح موعود علیہ السلام کے مستقل لنگر خانےہیں ،رمضان اور عیدین کے موقع پر جماعت کی طرف سے غرباءکیلئے گفٹ پیکٹس کی تقسیم ،گرمیوں میں مختلف مقامات پر ٹھنڈاپانی پلانےکا انتظام ،موسم گرمامیں مستحقین میں گندم اور سردیوں میں گرم کپڑوں کی فراہمی کا مستقل نظام ، بےکس قیدیوں کوقانونی اور مالی امداد کی فراہمی اور خوشیوں کے موقع پر تحائف کی تقسیم ،غرباءکی شادیوں پر سامان اور نقدی کی شکل میں گرانقدر امداد وغیرہ شامل ہیں ۔
خدمت خلق کی عالمی تنظیم ہیومنٹی فرسٹ
حاضرین کرام!خدمت خلق کےکاموںکو ایک مربوط نظام کےتحت سرانجام دینے کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے 1995 میں ہیومینٹی فرسٹ کا اجرا فرمایا ۔
اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافتِ خامسہ کے بابرکت دَور میں جماعتِ احمدیہ خیرِ اُمت بنتے ہوئے دنیا بھر میں بسنے والے انسانوں کی بھلائی کے لئے کام کررہی ہے۔ جماعت کی تنظیم ہیومینٹی فرسٹ دنیا بھر میں دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق پارہی ہے ۔
اللہ کے فضل سےہیومینٹی فرسٹ کی شاخیں پچاس سے زائد ممالک میں قائم ہو چکی ہیں جہاں بلا تفریق رنگ و نسل ،مذہب و فرقہ ،علاقائی یا لسانی اختلاف کے رضاکارانہ طور پر دکھی ، نادار اور مستحق انسانیت کی خدمت کےمتعددکام جاری ہیں۔
خدام الاحمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے 15 اپریل1938 کو سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
’’خدمت خلق کے کام میں جہاں تک ہو سکے وسعت اختیار کرنی چاہئے اور مذہب اور قوم کی حد بندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئےہر مصیبت زدہ کی مصیبت کودور کرنا چاہئے۔خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی ہو یا سکھ۔ہمارا خدا ربّ العالمین ہےاور جس طرح اس نے ہمیں پیدا کیا ہےاسی طرح اس نے ہندوؤں اور سکھوں اور عیسا ئیوں کو بھی پیدا کیا ہے۔پس اگر خدا ہمیں توفیق دےتو ہمیں سب کی خدمت کرنی چاہئے۔‘‘
( الفضل 22 اپریل 138)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ بنی نوع سے ہمدردی کے حوالہ سے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’میرے دل کی یہ خواہش ہے کہ ساری دنیا میں ہمدردی کرنےوالوں میں سب سے زیادہ ہمدردی کا عملی اظہار جماعت احمدیہ کی طرف سے ہو۔ ……میرے دل میں خداتعالیٰ نے اس معاملہ میں بے انتہا جوش پیدا کیا ہے ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ بنی نوع انسان کی ہمدردی میں ایسے عظیم الشان کام سرانجام دے جو اپنی وسعت کے ساتھ اپنی شدت میں بھی بڑھتے رہیں یہاں تک کہ جماعت احمدیہ ساری دنیا میں بنی نوع انسان کی سب سے زیادہ ہمدردی رکھنے والی اور ہمدردی میں عملی قدم اٹھانے والی جماعت بن جائے ۔‘‘
(خطبات طاہر جلد2 ص572۔573 اشاعت طبع اول فروری 2005ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
ہمیشہ یاد رکھیں کہ جلسہ کے مقاصد بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاں عبادتوں، تبلیغ، تقویٰ اور بہت سے دوسرے مقاصد کی طرف توجہ دلائی ہے، وہاں خاص طور پر بندوں کے حقوق اور اُن میں سے پھر ہمدردیٔ خلق کی طرف خاص طور پر بہت کچھ کہا ہے۔ تو دراصل حقیقی رنگ میں ہمدردیٔ خَلق کا جذبہ انسان میں پیدا ہو جائے تو حقوق العباد کی ادائیگی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے۔ پس اس طرف ہر احمدی کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کے بارے میں جب بھی اشتہار دیا اور اعلان فرمایا تو اس پہلو کو خاص طور پر بیان فرمایا۔ آپ نے جہاں خدا تعالیٰ کا خوف، تقویٰ، زہد وغیرہ کی طرف توجہ دلائی وہاں نرم دلی، آپس کی محبت، بھائی چارہ، عاجزی، انکساری کی طرف بھی اُسی شدت سے توجہ دلائی کہ صرف عبادتیں تقویٰ نہیں ہیں، صرف جماعت کی خدمت کر دینا تقویٰ نہیں، صرف اللہ اور رسول سے محبت کا اظہار کر دینا تقویٰ نہیں، صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلافتِ احمدیہ سے تعلق تقویٰ نہیں بلکہ تقویٰ تب کامل ہوتا ہے جب ماں باپ کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب بیوی بچوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب خاوندوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب عزیز رشتے داروں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب دوستوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب ہمسایوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب بہن بھائیوں کے حقوق بھی ادا ہورہے ہوں، جب افرادِ جماعت کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، یہاں تک کہ جب دشمنوں کے حقوق بھی ادا ہورہے ہوں تب تقویٰ کامل ہوتا ہے۔ اور یہ سب تعلیم قرآنِ کریم میں موجود ہے۔
(خطبہ جمعہ یکم جون 2012ء)
نیز فرماتے ہیں:
’’جماعت میں خدمت خلق اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے جتنا زور دیا جاتاہے اور ہر امیر غریب اپنی بساط کے مطابق اس کوشش میں ہوتاہے کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اللہ کی رضاکی خاطرخدمت خلق کے کام کو سرانجام دے۔ کیوں ہر احمدی کا دل خدمت خلق کے کاموں میں اتنا کھلاہے؟ اس لئے کہ اسلام کی جس خوبصورت تعلیم کو ہم بھول چکے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہوتو پھر اس کی مخلوق سے اچھا سلوک کروان کی ضروریات کا خیال رکھو۔ یہ بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب سے نوازے گا۔اس خوبصورت تعلیم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی شرائط بیعت کی ایک بنیاد ی شرط قرار دیاہے کہ میرے ساتھ منسلک ہونے کے بعد اپنی تمام تر طاقتوں اور نعمتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی نہ صرف ہمد ردی کرو بلکہ ان کو فائدہ بھی پہنچاؤ۔ اس لئے اگر زلزلہ زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔ بعض دفعہ تو ایسے مواقع بھی آئے کہ پانی کی تند و
تیز دھاروں میں بہہ کر احمدی نوجوانوں نے اپنی جانوں کو توقربان کردیا لیکن ڈوبتے ہوؤں کو کنارے پر پہنچا دیا۔ پھر خلیفہ ٔوقت نے جب یہ اعلان کیاکہ مجھے افریقہ کے غریب بچوں کی تعلیم اور بیماریوں کی وجہ سے دکھی مخلوق جنہیں علاج کی سہولت میسر نہیں، سکول اور ہسپتال کھولنے کے لئے اتنی رقم کی ضرورت ہے تو افراد جماعت اس جذبہ کے تحت جو ایک احمدی کے دل میں دکھی انسانیت کے لئے ہونا چاہئے یہ رقم مہیا کریں اور اس پیاری جماعت کے افراد نے خلیفہ ٔوقت کے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے اس سے کئی گنازیادہ رقم خلیفہ ٔ وقت کے سامنے رکھ دی جس کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ اورپھر جب خلیفہ ٔوقت نے یہ فرمایاکہ یہ رقم تو مہیاہو گئی اب مجھے ان سکولوں اور ہسپتالوں کو چلانے کے لئے افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے تو ڈاکٹر ز اور ٹیچرز نے انتہائی خلوص کےساتھ اپنے آپ کو پیش کیا۔ اب تو افریقہ کے حالات نسبتاً بہترہیں۔ ستّر کی دہائی میں جب یہ نصرت جہاں سکیم شروع کی گئی تھی انتہائی نامساعد حالات تھے۔ اور ان نامساعد حالات میں ان لوگوں نے گزارا کیا۔ بعض ڈاکٹر ز اور ٹیچرز اچھی ملازمتوں پرتھے لیکن وقف کے بعد دیہاتوں میں بھی جا کر رہے۔ اکثر ہسپتال اور سکول دیہاتوں میں تھے جہاں نہ بجلی کی سہولت نہ پانی کی سہولت لیکن دکھی انسانیت کی خدمت کے عہد بیعت کو نبھانا تھااس لئے کسی بھی روک اور سہولت کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کی۔ شروع میں ہسپتالوں کا یہ حال تھا کہ لکڑی کی میز لے کر اس پر مریض کو لٹایا، روشنی کی کمی چند لالٹینوں یا گیس لیمپ سے پوری کی اور جو بھی چاقو، چھریاں، قینچیاں، سامان آپریشن کا میسر تھا اس پر مریض کا آپریشن کردیا اور پھر دعا میں مشغول ہو گئے کہ اے خدا میرے پاس تو جو کچھ میسر تھا اس کا مَیں نے علاج کر دیاہے۔ میرے خلیفہ نے مجھے کہا تھاکہ دعا سے علاج کرو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ میں بہت شفا رکھے گا۔ توُ ہی شفا دے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان قربانی کرنے والے ڈاکٹروں کی قدرکی اور ایسے ایسے لاعلاج مریض شفا پاکر گئے کہ دنیا حیران ہوتی تھی۔ اورپھرمالی ضرورتیں بھی اس طرح خداتعالیٰ نے پوری کیں کہ بڑے بڑے امراء بھی شہروں کے بڑے ہسپتالوں کو چھوڑ کر ہمارے چھوٹے دیہاتی ہسپتالوں میں آ کر علاج کروانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح اساتذہ نے بھی بنی نوع انسان کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ ڈاکٹروں اور اساتذہ کی خدمات کے سلسلے آج بھی جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ سلسلے جاری رکھے اور ان سب خدمت کرنے والوں کو اجر عظیم سے نوازتارہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍اکتوبر 2003ء)
گزشتہ سالوں میں جب کورونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھااور غذائی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی۔ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی لپیٹ میں تھےلیکن غریب ممالک جہاں اس وائرس سے قبل بھی بھوک و افلاس سے لوگ پریشان تھے، وہاں اس وائرس سے پیدا شدہ حالات کےباعث لوگ مزید مشکل سے دوچار تھے۔ان کٹھن حالات میں بھی جماعت احمدیہ کے افراد دنیا کے ہر کونے میں انسانی ہمدردی کے جذبہ کے تحت ہرممکن کوشش کر کے لوگوں کی خدمت کے لئے کوشاں رہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں مجلس خدام الاحمدیہ نے ہیو مینٹی فرسٹ کے تحت رضاکارانہ طور پر گاؤں اور شہروں میں ہزاروں افراد تک راشن ، پانی ، فیس ماسکس اور hand sanitizer اوردیگر طبی خدمات بجا لاتی رہی اور مختلف ہسپتالوں کا وزٹ کر کے مریضوں کو بڑی تعداد میں فیس ماسکس مہیا کیے۔الغرض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ جو ایک عالمگیر مذہبی جماعت ہےجس کا شعار خدمت خلق اور ماٹو محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں ہے۔یہ بھی اپنے محدود وسائل کے باوجودپوری دنیا میں بلا تفریق مذہب و ملت و رنگ و نسل انسا نیت کی خدمت میں مصروف ہے۔
سامعین کرام !جماعت احمدیہ دنیا بھر میںخلافت حقہ اسلامیہ کی زیر نگرانی خدمت خلق کی عظیم ذمہ داری کو محض للہ بجا لا رہی ہے۔اور جماعت احمدیہ ہمیشہ اس اصول پر خدمت خلق کی راہ پر گامزن ہے کہ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ( الشعرا ء :165) یعنی میرا اجر ربّ العالمین کے ذمہ ہے۔ نیز ببانگ دہل یہ اعلان کرتی ہے لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا( الدھر: 10) کہ ہم اس خدمت کے بدلہ میں تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارا شکریہ ادا کرو۔
ہمیں چاہئے کہ ہم سراپا خیر بن کر فلاح انسانیت کے لئے کام کریںتاکہ یہ معاشرہ جنت نظیر بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ افراد جماعت کو اپنی تعلیمات کی روشنی میں بے لوث اور پُر خلوص خدمات کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ آمین۔
غیروں کا اعتراف
جماعت احمدیہ کی خدمت انسانیت کے حوالے سےسابق وزیر پنجاب نتھاسنگھ جی دالم نے گجرات میں آئےزلزلہ کے لئے قادیان سے ریلیف کو روانہ کرتے ہوئے کہا کہ :
’’مریضوں،ضرورتمندوں اور دُکھی انسانیت کی خدمت دنیا کی سب سے اعلیٰ خدمت ہے۔دُنیا کے
سارے مذاہب انسان کی خدمت اور آپسی پیارکی تعلیم دیتے ہیں۔شری دالم نے احمدیہ جماعت کے ذریعہ سماج کی بھلائی کے لئےکئے جا رہے کاموں کی تعریف کرتےہوئے کہا کہ اس جماعت نے ملک میں صحت و تعلیم کے میدان میں خصوصی تعاون کے علاوہ جب بھی ملک میں کوئی قدرتی آفت آئی تو انہوں نے سب سے اوّل قطار میں کھڑے ہو کر دُکھی انسانیت کی خدمت کی ہے اور گجرات کے زلزلہ سے متاثرین کے لئے پینتیس لاکھ روپے کی راحت امداد بھیجی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت نے مکھیہ منتری گجرات رلیف فنڈ میں بڑی رقم دے کر اپنا تعاون دیا ہے۔ احمدیہ جماعت کی لنڈن اور دوسرے ممالک سے آئی ٹیموں نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بھُج میں جا کرخدمت کی ، جو قابل تعریف ہے۔‘‘
(روزنامہ دینک جاگرن، جالندھر،23 مارچ 2001)
علامہ اقبال نے لکھاکہ ’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔
(قومی زندگی اور ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر صفحہ ۸۴)
علامہ نیاز فتح پوری نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھا:
’’اس میں کلام نہیں کہ انہوں نے یقیناً اخلاقِ اسلامی کو دوبارہ زندہ کیااور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھادی جس کی زندگی کو ہم یقینا اسوۂ نبیؐ کا پر تو کہہ سکتے ہیں ‘‘ (ملاحظات نیاز فتح پوری صفحہ ۲۹)
پھرایڈیٹر صاحب اخبار سٹیٹسمین دہلی نے لکھا :
’’ قادیان کے مقدس شہر میں ایک ہندوستانی پیغمبر پیدا ہوا جس نے اپنے گرد و پیش کو نیکی اور بلند اخلاق سے بھر دیا۔ یہ اچھی صفات اس کے لاکھوں ماننے والوں کی زندگی میں بھی منعکس ہیں ‘‘۔
(سٹیٹسمین دہلی ۱۲؍ فروری۱۹۴۹ ء)
سامعین کرام !خاکساربانی جماعت احمدیہ حضرت مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعودومہدی معہود ؑ کے ارشادات کے ساتھ اپنی تقریر ختم کرتاہے ۔
حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کاایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتاہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تاوہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوںاور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ ودانستہ اس سے سختی سے پیش آؤںبلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کیلئے روروکر دعاکروں کیوں کہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے اگر میرا بھائی سادہ ہو یاکم علم یاسادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ میں اس سے ٹھٹھاکروںیاچیں بجبیں ہوکر تیزی دکھاؤں یابدنیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں کوئی سچامومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو جب تک وہ اپنے تئیں ہر یک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دور نہ ہوجائیں خادم القوم ہونامخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہوکر اور جھک کر بات کرنامقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دیناسعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھالینااور تلخ بات کو پی جانانہایت درجہ کی جوانمردی ہے ۔ (روحانی خزائن جلد 6ص395)
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم ،احادیث نبویﷺ ،ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاءکرام کی روشنی میں خدمت خلق کو حرز جان بناتے ہوئےLOVE FOR ALL HATRED FOR NONEکا فلک بوس نعرا بلند کرتے ہوئے بلاامتیاز مذہب وملت ،رنگ ونسل تمام مخلوقات کی محض للہ خدمت کرتےہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
وآخر دعوناان الحمد للہ رب العٰلمین
٭ ٭ ٭