اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران:32)
تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو ۔اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
قابل احترام صدر جلسہ ومعززسامعین ! جیسا کہ آپ نے سماعت فرمالیا ہے خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام
عشق رسول ﷺ کے آئینہ میں
سامعین کرام ! سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا ،کامل انعکاس ہے ‘‘ ۔
(نزول المسیح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۱،۳۸۲ حاشیہ)
سامعین کرام ! فی الحقیقت اس زمانہ میں سیدنا حضرت اقدس محمدمصطفیٰ ﷺکے کرامات ومعجزات ، کمالات وزندہ نشانات کا مشاہدہ کرناہےتو صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آئینہ میںہی مشاہدہ کرسکتےہیں کیونکہ اب فیضان خاتم النّبیین کا فیض پانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آئینہ کے سوا کوئی آئینہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت پاک محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت ،شان وشوکت اور تقدس کو دنیا میں قائم کرنے کے لئےحضرت مسیح موعودؑ کو مبعوث فرمایا اور اس مشن کی تکمیل کے لئےاللہ تعالیٰ نے آپؑکےاندر حضرت اقدس محمدمصطفیٰ ﷺکی محبت وفدائیت کے جذبہ کو اسطرح ودیعت کردیا کہ عشق محمد ﷺ آپ کی روح کی غذا بن گئی اورآپ کے لئے آب حیات بن گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں :
وَذِکرُ الْمُصْطَفٰی رُوحٌ لِقَلْبی
وَصَارَ لِمُھْجَتی مِثْلَ الطَّعَامٖ
یَاحِبِّ اِنَّکَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّۃً
فِیْ مُھْجَتِیْ وَمَدَارِکِیْ وَجَنَانِیْ
مِنْ ذِکْرِ وَجْھِکَ یَا حَدِیْقَۃَ بَھْجَتِیْ
لَمْ اَخْلُ فِیْ لَحْظٍ وَّلَا فِیْ اٰنِ
کہ محمد مصطفےٰﷺ کی یاد میرے دل کی روح ہےاور آپ کا ذکر میری غذا ہے جس کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا!
اَے میرے معشوق ! اَے میرے محبوب ! محبت کے لحاظ سے تُو میرے جسم و جان میں سرایت کرچکا ہے۔میری جان میں اور میرے دماغ میں اور میرے دل میں بس تُو ہی تُو ہے۔
اَے میری خوشی و شادمانی کے باغ! میں تیری یاد سے ایک لمحہ اور ایک آن کے لئے بھی کبھی خالی نہیں رہا۔
سامعین کرام ! حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیںکہ’’ اکثر میری آنکھ رات کو کھلتی اور دیکھتی کہ حضور علیہ السلام کی آنکھیں بظاہر بند ہیں مگر لبوں پر درود اور ذکر الٰہی جاری ہے۔‘‘
( روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍اکتوبر 1996ء)
سامعین کرام ! یہ وہ عاشق صادق رسول ﷺ ہے جو سوتےہوئے بھی یادحبیب میںدرود شریف کا ورد کرتاہے۔اسی محبت کی برکت ہے کہ پیارےمعشوق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے رئویا وکشوف میںحتیٰ کہ عین بیداری کی حالت میں اپنے عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ملاقات کا شرف عطا فرمایا، اپنے مبارک دیدار نصیب فرمائےاورشفقت ومحبت کا سلوک فرمایا۔
سامعین کرام ! یہ رئویا وکشوف عشق رسول کی ایسی ایمان افروز داستان ہیں جو ہر سننے والے کے اندر عشق محمدﷺکےجذبات کو ابھارتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور محبت پیدا کرتی ہیں۔ رئویا وکشوف کے واقعات تو بہت ہیں لیکن وقت کی رعایت سے صرف ایک کشف بیان کرتا ہوں ۔
آغاز جوانی کے ایک کشف کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ اپنے الفظ میںیوں بیان کرتے ہیں:
’’اوائل ایام جوانی میں، ایک رات میں نے (رؤیا میں) دیکھا کہ میں ایک عالیشان مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت ﷺ کا ذکر اور چرچا ہو رہا ہے۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کہاں تشریف فرما ہیں؟ انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کے اس کے اندر چلا گیا اور جب میں حضورؐ کی خدمت میں پہنچا تو حضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔ آپ ﷺ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ ﷺ کی پر شفقت و پر ُمحبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھےکبھی بھول نہیں سکتی۔ آپ ﷺ کی محبت نے مجھے فریفۃ کرلیا اور آپ ﷺ کے حسین و جمیل چہرہ نے ،مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس وقت آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ اے احمد! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟…میں نے عرض کیا حضور ﷺ! یہ میری ایک تصنیف ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا اس کتاب کا کیا نام ہے…میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کا نام قطبی ہے۔ فرمایا اپنی یہ کتاب قطبی مجھے دکھا۔جب حضور ﷺ نے اسے لیا تو حضور ﷺ کا مبارک ہاتھ لگتے ہی وہ ایک لطیف پھل بن گیا۔جو دیکھنے والوں کے لئے پسند یدہ تھا۔جب حضورﷺ نے اسے چیرا۔ جیسے پھلوں کو چیرتے ہیں تو اس سے بہتے پانی کی طرح مصفّا شہد نکلا۔ اور میں نے شہد کی طراوت ، آنحضرت ﷺ کے داہنے ہاتھ پر، انگلیوں سے کہنیوں تک دیکھی اور شہد حضورﷺ کے ہاتھ سے ٹپک رہا تھا۔ اور آنحضرتﷺ گویا مجھے اس لئے وہ دکھا رہے ہیں تا مجھے تعجب میں ڈالیں۔ پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ دروازے کی چوکھٹ کے پاس ایک مردہ پڑا ہے جس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اِس پھل کے ذریعہ مقدر کیا ہوا ہے اور یہی مقدر ہے کہ نبی کریم ﷺ ، اس کو زندگی عطا کریں۔ میں اسی خیال میں تھا کہ دیکھا کہ اچانک وہ مردہ زندہ ہو کر دوڑتا ہوا میرے پاس آگیا اور میرے پیچھے کھڑا ہو گیا مگر اُس میں کچھ کمزوری تھی گویا وہ بھوکا تھا تب نبی کریم ﷺ نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اس پھل کے ٹکڑے کئے اور ایک ٹکڑا ان میں سے حضورؐنے خود کھایا اور باقی سب مجھے دے دئے ۔ان سب ٹکڑوں سے شہد بہہ رہا تھا۔ اور فرمایا۔ اے احمد اِس مردہ کو ایک ٹکڑا دے دو تا اِسے کھا کر قوت پائے ۔میں نے دیا تو اس نے حریصوں کی طرح اسی جگہ ہی اسے کھانا شروع کر دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کی کرسی اونچی ہو گئی ہے حتیٰ کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعاعیں پڑ رہی ہیں ۔ میںآپ ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور ذوق اور وجد کی وجہ سے میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر میں بیدار ہو گیا اور اُس وقت بھی میں کافی رو رہا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اسے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا۔ اور تمہیں کیا پتہ شاید یہ وقت قریب ہو۔ اس لئے تم اس کے منتظر رہو۔ اور اس رؤیا میں آنحضرت ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے پاک کلام سے، اپنے انوار سے اور اپنے (باغِ مقدس کے) پھلوں کے ہدیہ سے میری تربیت فرمائی تھی۔‘
(ترجمہ از آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 548، 549، تذکرہ صفحہ 1-3۔ حاشیہ)
کوئی مذہب نہیں ایسا ،کہ نشاں دکھلائے یہ ثمر، باغ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے
سامعین کرام ! اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا یقیناًاللہ اور اس کے فرشتےاس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس نبی پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔
سامعین کرام ! اللہ تعالیٰ کےاس حکم کی تعمیل میں حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والے وجود ،حضرت مسیح موعودؑ ہی تھے ۔آپؑ فرماتےہیں:
’’ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہوگیا، اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تونے محمدؐ کی طرف بھیجی تھیں ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
(روحانی خزائن جلد 1 صفحہ598براہین احمدیہ حصہ چہارم)
پھر ایک مجلس میں آپؑنے فرمایا:
’’درود شریف کے طفیل مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیںاو رپھر وہاں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں جذب ہوجاتے ہیں اور وہاں سے نکل کران کی لاانتہاء نالیاں ہوجاتی ہیںاوربقدر حصہ رسدی ، ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔ یقینًا کوئی فیض، بدُوں وساطت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اُس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔‘‘
(الحکم۔ جلد 7نمبر 8مورخہ 28؍فروری1903ء صفحہ 7)
سامعین کرام !حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں کہ مجھےالہاماً یہ بتایا گیاکہ کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔ یعنی ہر ایک برکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ پس بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے تعلیم کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور پھر بعد اس کے بہت برکت والا وہ ہے جس نے تعلیم پائی یعنی یہ عاجز۔
سامعین کرام !حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب اطہر میں عشق رسول کا ٹھاٹھیں مارتاہو ا ایک سمندر موجزن تھا۔ اس جوش الفت میں کبھی بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ آپؑکی مرض کی دوا بھی عشق رسول ﷺ تھی ۔ایک دفعہ آپ کودرد ِسر کا دورہ اس قدر شدید پڑا کہ ہاتھ پیر برف کی مانند ٹھنڈے ہوگئے ۔ آپؑنے حضرت منشی ظفر احمد کپور تھلویؓکو فرمایاکہ آنحضرت ﷺ کی نعت میں سے کچھ اشعار پڑھ دو۔ منشی صاحب نے جب نعتیہ اشعار پڑھے تو آپؑکے بدن میں گرمی آنی شروع ہو گئی۔
(اصحاب احمد جلد 4 ص 96-95)
سامعین کرام !عشق رسولﷺ کا کرشمہ اور درود شریف کی برکت تودیکھئے ۔حضرت مسیح موعود ؑ ایک دفعہ سخت بیمار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے الہاماً آپؑ کو درود شریف کے ذریعہ ایک جان لیوا بیماری سے شفاء پانے کا نسخہ عطا فرمایااور اپنی جناب سے عظیم الشان معجزہ ونشان عطا ء فرمایا ۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتےہیں:
ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا۔ یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورۂ یاسین سنائی۔ جب تیسری مرتبہ سورہ یٰسین سنائی گئی تو مَیں دیکھتا تھا کہ بعض عزیز میرے جو اَب وہ دنیا سے گذر بھی گئے دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا اور بار بار دمبدم حاجت ہو کر خون آتا تھا۔ سولہ دن برابر ایسی حالت رہی اور اسی بیماری میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا۔ وہ آٹھویں دن راہیٔ ملکِ بقا ہو گیا۔ حالانکہ اس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔جب بیماری کو سولہواں دن چڑھا تو اس دن بکلّی حالاتِ یاس ظاہر ہو کر تیسری مرتبہ مجھے سورہ یٰسین سنائی گئی۔ اور تمام عزیزوں کے دل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہو گا۔ تب ایسا ہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کر کے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے۔
سُبْحَانَ الٰلہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم۔
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّد
اور میرے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینہ اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور مُنہ پر اس کو پھیر کہ اس سے تو شفا پائے گا۔ چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا اور مَیں نے اسی طرح عمل کرنا شروع کیا جیسا کہ مجھے تعلیم دی تھی اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن میں درد ناک جلن تھی اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اس حالت سے نجات ہو۔ مگر جب وہ عمل شروع کیا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلماتِ طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلّی مجھے چھوڑ گئی اور مَیں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا۔ جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہوا۔ وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّانَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِشِفَآئٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ
یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو شفاء دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اَور شفاء پیش کرو…
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ۲۰۸،۲۰۹)
ربط ہے جان محمدؐ سے میری جاں کو مدام
دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
مصطفی پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت
اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے
یَارَبِّ صَلّ عَلٰی نَبِیِّکَ دَائِمًا
فِیْ ھٰذِہِ الدُّنیَا وَبَعْثٍ ثَانٖ
اے میرے رب اپنے اس نبی پر ہمیشہ درود بھیج اِس دنیا میں بھی اور دوسرے بعث میں بھی۔
سامعین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کواتباع سنت رسول کا بہت خیال رہتاتھا۔آپ چھوٹی سی چھوٹی باتوں میں بھی آنحضرت ﷺ کی پیروی کیاکرتے تھے۔ آپؑفرماتے ہیںکہ’’میری صداقت کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے رسول ﷺ کی اتباع اور پیروی کی توفیق بخشی ہے۔ پس میں نے آنحضرت ﷺ کی باتوں میں سے کوئی بات ایسی نہیں دیکھی جس کو میں نے پورا نہ کیا ہو اور مشکلات کے پہاڑوں میں سے کوئی ایسا پہاڑ نہیں دیکھا جس کو میں نے سَر نہ کیا ہو، اور میرے ربّ نے مجھے ان لوگوں سے ملا دیا ہے جن پر انعام کیا جاتا ہے‘‘۔
(ترجمہ آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5۔ صفحہ 483)
سامعین کرام ! یہ صرف آپ کا زبانی دعویٰ نہیں تھابلکہ آپ نے اپنے عملی نمونے دنیا کے سامنے پیش کئے۔ اختصار کے ساتھ چند نمونےپیش کرتاہوں۔
٭ حضرت چودھری غلام محمد صاحبؓکی روایت ہے کہ جب مَیں قادیان آیا تو حضرت صاحب نے سبز پگڑی باندھی ہوئی تھی ۔مجھے یہ دیکھ کر کچھ گراں گذراکہ مسیحِ موعود علیہ السلام کو رنگدار پگڑی سے کیا کام۔ پھر مَیں نے مقدمہ ابنِ خلدون میں پڑھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سبز لباس میں ہوتے تھے تو آپ کو وحی زیادہ ہوتی تھی۔
(سیرۃ المہدی روایت نمبر۱۲۱)
سامعین کرام !اپنے آقاومطاع کی سنت کی پیروی کا یہ کیا ہی نرالا انداز ہے کہ آپ نے سبز پگڑی باندھ لی۔
ایک اور واقعہ ہےحضرت مرزا دین محمد صاحبؓآف لنگر وال بیان کرتے ہیں کہ نماز فجرکے وقت آپؑپانی کے ہلکے چھینٹوں سے مجھے جگاتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے دریافت کیا کہ حضور مجھے ویسے ہی کیوں نہیں جگا دیتے؟ آپؑنے فرمایا: رسول کریم ﷺ کا یہی طریق تھا، اس سنت پر میں عمل کرتاہوں۔
(سیرت المہدی روایت نمبر 492)
٭ آنحضورﷺ نے (بلاضرورت) کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا۔ ایڈیٹر صاحب البدر حضورؑ کے سفر گورداسپور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعودؑ کھڑے ہوئے تھے، آپؑ نے پانی مانگا۔ جب پانی آیا تو اُسے بیٹھ کر آپ نے پیا اور بھی کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ پانی وغیرہ آپ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیتے ہیں۔
دوسری روایت ہے کہ ایک موقع پرآپ کی مجلس میںباہر سےکسی کے دستک دینے پر ایک مہمان نے اٹھ کر دروازہ کھولنا چاہا ۔یہ دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی جلدی سے خود اٹھے اور اس دوست سے فرمایا:’’ٹھہریں ٹھہریں۔میں خود دروازہ کھولوں گا۔ آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے‘‘
(سیرت طیبہ صفحہ 110)
بیویوں سے حسن سلوک کے بارہ میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور ہمارے ہادیٔ کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ خَیْرُ کُمْ خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِہٖ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔ میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ مَیں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور مَیں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور باایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ مُنہ سے نہیں نکالا تھا۔ اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا …
(ملفوظات جلداوّل صفحہ۳۰۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
سامعین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آل محمد ﷺ اور کوچہ محمد ﷺسےبھی بے پایاں محبت تھی ۔آپؑفرماتےہیں ۔
جان و دلم فدائے جمال محمدؐ است
خاکم نثار کوچہ آلِ محمدؐ است
میری جان اور دل حضرت محمد ﷺ کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آل ِمحمد ﷺ کے کوچہ پر قربان ہے۔
(آئینہ کمالاتِ اسلام،روحانی خزائن جلد 5، صفحہ 645)
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی روایت ہےکہ محرم کے مہینہ میں آپ اپنے بچوں کو نواسہ رسول حضرت امام حسینؓکی شہادت کا واقعہ سنا رہے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے اور بڑے درد ناک آواز اور بڑے کرب کےساتھ فرمایا: یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی کریم کے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب میں پکڑا۔‘‘ اس وقت آپ پر عجیب کیفیت طاری تھی اور اپنے آقا ﷺ کے جگر گوشہ کی المناک شہادت کے تصور سے آپ کادل بہت بے چین ہورہا تھا اور یہ سب کچھ رسول پاک ﷺ کے عشق کی وجہ سے تھا۔‘‘
ایک دفعہ حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار صاحبؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میںنیچے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضورؑ کی سید صاحب پر نظر پڑی۔ حضورؑ نےسید صاحب کو خاص طور پر فرمایا کہ آپ میری چارپائی پر آکر بیٹھ جائیں کیونکہ آپ سید ہیں اور آپ کا احترام ہمیں منظور ہے۔
سا معین کرام !عشق رسول ﷺ کی ہی برکت ہےکہ تقدیر الٰہی ومنشاء الٰہی کےتحت آپؑ کا رشتہ سادات خاندان میںطے پایا اور اس مبارک رشتہ سےآپ کو مبشر اولاد یں عطا کی گئیں۔
حضرت مرزا بشیر احمدصاحبؓکی روایت ہے کہ ایک دفعہ گھریلو ماحول میں حج کا ذکر شروع ہوا تو حضرت میر ناصر نواب صاحبؓنے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لئے سفر کی سہولت پیدا ہورہی ہے، حج کو چلنا چاہئے۔ اُس وقت زیارت حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعودؑ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپؑہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔ آپؑنے فرمایا ’’یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر میں یہ سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرتﷺ کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا؟‘‘س یہ ایک خالصتاً گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اُس اتھاہ سمندر کی طغیانی لہریں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشقِ رسولؐ کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑکے قلب صافی میں موجزن تھیں۔ حج کی کسے خواہش نہیں ،مگر ذرا اُس شخص کی بے پایاں محبت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصور میں پروانہ وار رسول پاکؐ(فداہ نفسی) کے مزار پر پہنچ جاتی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی چل پڑتی ہے ۔
(سیرۃ طیبہ ، صفحہ ۳۵، ۳۶شائع کردہ نظارت نشرواشاعت جولائی ۲۰۰۸)
سامعین کرام !حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالطبع بہت حلیم، بردبار اورمجسم شفقت و پیار تھے۔ لیکن اپنے محبوب آقا حضرت مصطفیٰ ﷺکی شان میں، گستاخی یابے ادبی کے الفاظ سنتے توفوراً غیرت میںآجاتے۔ ایک موقع پر مخالفین کی بدزبانی کے تعلق میں آپؑنے فرمایا:’’ان مخالفین کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشرﷺ کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔ خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئے جائیں اور خود میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرمﷺ پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵صفحہ ۱۵/عربی حصہ کا اردو ترجمہ)
نیز فرماتےہیں…’’مَیں سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوںسے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی ﷺپر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں‘‘۔
(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 459)
سامعین کرام !حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفےٰﷺ سے جو سچا اور بے مثال عشق تھا اس کی ایک دنیا گواہ ہے۔ اپنے بھی اس کے شاہد بنے اور غیروں نے بھی اس کا اعتراف کیا ۔ ملاء اعلیٰ کی گواہی موجود ہے ۔احیاء اسلام کے لئے ایک محی کی تلاش کرتےہوئے ملاءاعلیٰ کے لوگوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف اشارہ کرکے یہ گواہی دی ھٰذَ ا رَجُلٌ یُّحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبّت رکھتا ہے اِس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرطِ اعظم اِس عہدہ کی محبّتِ رسول ہے۔سو وہ اِس شخص میں متحقّق ہے۔‘‘
( براہین احمدیہ حصہ چہارم،روحانی خزائن جلد اول صفحہ 598)
حضرت میر محمد اسماعیل صاحبؓعینی شہادت دیتےہیںکہ:
’’ میں نے آپ کو اُس وقت دیکھا جب میں دو برس کا بچہ تھا پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں 27 سال کا جوان تھا مگر میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ میں نےآپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا…اگر حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کَانَ خُلُقُہٗ القُرآنُ تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ کَانَ خُلُقُہٗ حُبَّ مُحَمَّدٍ وَّ اَتْبَاعِہٖ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام۔‘‘
(سیرۃ المہدی روایت نمبر۹۷۵شائع کردہ نظارت نشرواشاعت جولائی ۲۰۰۸)
سامعین کرام ! برصغیر کے نامور ادیب مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب کی شہادت بھی سننے کےلائق ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ان کے چچا مرزا عنایت اللہ بیگ نے انہیں ایک بار یہ تاکید کی کہ جب میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے ملنے جاؤں تو ان کی آنکھوں کو غور سے دیکھ کر آؤں ۔وہ لکھتے ہیں کہ میں قادیان گیا۔حضور کی آنکھوں کو غور سے دیکھاتو ان میں سبز رنگ کا پانی گردش کرتامعلوم ہوا۔میں نے واپس آکر اپنے چچا سے اس کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے:
’’فرحت !دیکھو ! اس شخص کو بُرا کبھی نہ کہنا۔ فقیر ہے اور یہ حضرت رسول کریم ﷺ کے عا شق ہیں۔‘‘ مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے چچا سے پوچھا کہ آپ نے یہ کیسے جانا۔تو انہوں نے فرمایا کہ جو عاشقِ رسول اپنے محبوب کے خیال میں ہر وقت غرق رہتا ہے تو اس کی آنکھوں میں سبزی آجاتی ہے اور سبز رنگ کی ایک لہر دوڑتی رہتی ہے۔‘
(تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 580-579)
ایک اور ایمان افروز گواہی سنئے1886ءمیں بمبئی کے سیٹھ اسماعیل آدم صاحب نے اپنے پیر رشیدالدین صاحب العلمؒ سے حضرت مرزا غلام احمدصاحب قادیانی کے دعویٰ کے بارے میںحلفیہ بیان چاہااور راہنمائی کے لئے درخواست کی۔ پیر سائیں نے اپنے جوابی خط میں تین تصدیقی شہادتیں درج فرمائیں پہلی شہادت پیر صاحب نے درج کی کہ (1) ایک روز ما بین نماز مغرب وعشاء اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتےہوئےبحالت کشف آنحضرت ﷺ کوہم نے دیکھا تو ہم نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ حضرت ! یہ شخص مرزا غلام احمد کون ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا ’’ازماست‘‘یعنی مرزا غلام احمد تو ہماری طرف سے ہے ۔ (2) دوسری شہادت پیر صاحب نے درج کی کہ ایک روز رات کوخواب میں ہم نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو ہم نے سوال کیا کہ حضور مولویوں نے اس شخص (مرزا غلام احمد قادیانی ) پر کفر کے فتوے دیئے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا’’در عشقِ ما دیوانہ شدہ است‘‘یعنی وہ ہمارے عشق اور محبت میں دیوانہ ہے۔(3) تیسری گواہی پیر صاحب نے درج کی کہ ایک روز نماز تہجد کے بعد کروٹ لیٹنے کی حالت میں کچھ غنودگی طاری ہوئی اور آنحضرت ﷺ تشریف فرما ہوئے ۔ اس وقت ہماری حالت نیند اور بیداری کے درمیان تھی تو ہم نے آپ ﷺ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! اب تو سارا ہندوسان چھوڑ عرب کے علماء نے بھی کفر کے فتوے دے دئے تو آپ ﷺ نے بڑے جلال میں تین بار دہرایا ھو صادقٌ ھو صادقٌ ھوصادقٌکہ مرزاغلام احمد سچے ہیں ،مرزاغلام احمد سچے ہیں ،مرزاغلام احمدسچے ہیں۔ پیر سائیں نے جناب سیٹھ اسماعیل آدم صاحب کو لکھا کہ یہ ہے سچی گواہی جو ہمارےپاس ہے ۔ ہم آپ کی قسم سے سبکدوش ہوگئے ۔ ماننانہ ماننا آپ کا کام ہے۔ یہ جواب پہنچنا ہی تھا کہ سیٹھ اسماعیل صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرلی اور آپ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہوگئے۔سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کے بعد کل کا اسماعیل بدل گیا اور حقیقی معنوں میں ابدال ہوگیا ۔
(مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ261 )
سامعین کرام!عاشق صادق حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں داخل ہونے کے بعد آپ کی قوت قدسیہ کی روحانی تاثیر سےآپ کےصحابہ میں غیرمعمولی روحانی تبدیلی نظر آتی ہے اور عشق محمد ﷺ کا بے پناہ جذبہ نمایاں نظر آتا ہے ۔حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نواب خان صاحب تحصیلدار نے ایک بار حضرت مولانا نور الدین صاحبؓسے پوچھا کہ مولانا آپ تو پہلے ہی باکمال بزرگ تھے۔ آپ کو حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے زیادہ کیا فائدہ حاصل ہوا۔ اس پر حضرت مولانانورالدین صاحبؓنے فرمایا:نواب خان ! مجھے حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے فوائد تو بہت حاصل ہوئے ہیں لیکن ایک فائدہ ان میں سے یہ ہوا ہے کہ پہلے مجھے حضرت نبی کریم ﷺ کی زیارت بذریعہ خواب ہوا کرتی تھی، اب بیداری میں بھی ہوتی ہے۔
(حیات نور مصنفہ شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگر مل صفحہ 194)
حضرت مولوی حسن علی صاحبؓبیان کرتےہیں کہ :
’’میںمردہ تھا زندہ ہوچلا ہوں،۔قرآن کریم کی جو عظمت اب میرے دل میں ہے ۔خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی عظمت جو میرے دل میں اب ہے ،پہلے نہ تھی۔ یہ سب حضرت مرزا صاحب کی بدولت ہے۔ گو میرا جسم بھاگلپور یا بنگال میں ہوتا ہے۔ لیکن میری روح قادیان ہی میں ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ
(اصحابؓاحمد ؑجلد14مؤلفہ ملک صلاح الدین ایم۔اے صفحہ58)
دورآخرین کے سید الشہداء حضرت شہزادہ عبد اللطیف صاحب شہیدؓنے خدا اوراس کے رسول ﷺ اور امام مہدیؑ کے عشق میں فنا ہوکر جام شہادت نوش فرماکر تاریخ مذاہب عالم میں ایک نیا باب رقم کردیا۔ سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ قادیان میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو کشوف و الہام ہوتے تھے۔ ایک دن سوکر اٹھے تو بتایا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا اور پھر یہ الہا م ہوا ۔
جِسْمُہٗ مَنَوَّرٌ مَعَمّرٌ مَعَطَّرٌ یُضِییُٔ کَالْلُؤلُؤِ الْمَکْنُوْن۔کہ اس مسیح موعود ؑ کا جسم منور،برکات وروحانیات سےآباد،اللہ اور رسولﷺ کی محبت کےعطر سے معطر، چھپی ہوئی مویتوں کی طرح چمکتاہوا روشن ستارہ رشد وہدایت ہے ۔
سامعین کرام !کابل میں جب حضرت شہزادہ عبد اللطیف صاحب شہید ؓ کو مقتل لے جارہے تھے جہاں آپ کو سنگسار کیا جانا تھا راستہ میںآپ بہت جلد جلد اور خوش خوش جارہے تھے اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں راستہ میں ایک مولوی نے پوچھا کہ آپ اتنے خوش کیوں ہیں اور کیوں ایسی جلدی کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ ہتھکڑیاں نہیں ہیں بلکہ محمد ﷺ کے دین کا زیور ہے۔
عاشقوں کا شوق قربانی تودیکھ
خون کی اس راہ میں ارزانی تو دیکھ
ہے اکیلاکفر سے زور آزما
احمدی کی روح ایمانی تو دیکھ
سامعین کرام !اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کی برکت سے عاشقان رسول ﷺکی ایسی جانثار جماعت قائم فرمائی ہے جو آج بھی آقا ئےنامدارحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت میں جا ن کے نذرانے پیش کررہی ہے ۔ خلافت احمدیہ کے زیر سایہ ہر احمدی کے سینہ میں عشق محمد ﷺ کا چراغ روشن ہے ۔
اےعشق رسول عربیﷺ کے متوالو ! عشق محمد ﷺ کے اس چراغ کو کبھی بجھنے نہیں دینا ،کبھی بجھنے نہیں دینا ۔اسی میں تمہاری زندگی ہے اسی میں تمہاری نجات ہے۔اسی راہ سے وصل الٰہی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :
تمام آدم زادوں کےلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد ﷺ ۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پرتم نجات یافتہ لکھے جائو ۔
(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19صفحی 13-14)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتےہیں: ’’ہمارا بھی کام ہے جنہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق اور امام الزمان کے سلسلے اور اس کی جماعت سے منسلک کیا ہواہے کہ اپنی دعاؤں کو درود میں ڈھال دیں اور فضا میں اتنا درود صدق دل کے ساتھ بکھیریں کہ فضا کا ہر ذرہ درودسے مہک اٹھے اور ہماری تمام دعائیں اس درود کے وسیلے سے خدا تعالیٰ کے دربارد میں پہنچ کر قبولیت کا درجہ پانے والی ہوں۔ یہ ہے اس پیار اور محبت کا اظہار جو ہمیں آنحضرت ﷺ کی ذات سے ہونا چاہئے اور آپؐ کی آل سے ہونا چاہئے…پس آج ہر احمدی کی ذمہ داری ہے ، بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس نے اس زمانہ کے امام کو پہچانا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی محبت کے جذبہ سے بہت زیادہ درود پڑھیں ،دعائیں کریں اپنے لئے بھی اور دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو تباہی سے بچالے … آنحضرت ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی دعائووں میں امت مسلمہ کو بہت جگہ دیں۔
(خطبہ جمعہ24فروری 2006ء )
آج ہم قادیان کی مقدس بستی میں موجود ہیں جو عاشق صادق رسول ﷺ کا مولد ومسکن ومدفن ہے جس نےیہ صدا بلند کی تھی کہ
اِنِّیْ اَمُوْتُ وَلَا تَمُوْتُ مَحَبَّتِیْ
یُدْرٰی بِذِکْرِکَ فِی التُّرَابِ نِدَائِیْ
مَیں تو ایک دن مرجاؤں گا مگر میری محبت کبھی نہیں مرے گی۔ میرے مرنے کے بعد بھی میری قبر کی مٹی سے تیری محبت کی ندا بلند ہوتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ان ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ حضرت پاک محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور تقدس کو ساری دنیا میں قائم کرنے کی ہمیں توفیق عطا ء فرمائے اور جلد سے جلد وہ دن دکھا ئے کہ ساری دنیا آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے آجائے آمین ۔
وہ پیشوا ہمارا جس سےہے نور سارا
نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے
اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
وَاٰخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن
٭ ٭ ٭