اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-20

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا عظیم کارنامہ جماعتی تنظیم اور ذیلی تنظیموں کا قیام اور اسکی برکات

یہ تقریر کتاب سوانح فضل عمر سے ماخوذ ہے جس کی پانچ جلدیں ہماری ویب سائٹ الاسلام پر موجود ہیں۔ پہلی دو جلدوں کے مصنف حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں جو بعد میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔ اس لئے اس تقریر میں بیان افکار و خیالات اور الفاظ اُس عظیم ہستی کے ہیں جنہوںنے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو بہت قریب سے دیکھا، اور آپؓکی شخصیت اور اور آپؓکے کاموں کا ایسا دلربا اور حسین نقشہ کھینچا کہ اس سے بہتر ممکن نہیں۔
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ 52سال تک مسند خلافت پر متمکن رہے اس عرصہ میں آپ نے اسلام احمدیت کی وہ عظیم الشان خدمت کی اور ایسے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے کہ جو صرف اور صرف ایک نبی کا خاصہ ہوتا ہے ۔ گرچہ کہ اللہ جل شانہ نے آپ کو نبی کے نام سے موسوم نہیں کیا لیکن کام اُس نے آپؓسے نبیوں والا ہی لیا ۔ سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  :
’’ مَیں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔ مَیں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔ گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ اسے رائیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائے۔ جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے، اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفہ بھی روز روز نہیں آتے۔‘‘
(سوانح فضل عمرؓ،جلد4 ،صفحہ508 ،ناشر فضل عمر فاؤنڈیشن)
اللہ جل شانہ نے آپؓکی آمد کو اپنی آمد قرار دیتے ہوئے فرمایا :
کَاَنَّ اللہَ نَــــــزَلَ مِنَ السَّمَاءِ
یعنی آپؓکا آنا گویا ایسا ہی ہے جیسے خدا آسمان سے اُتر آیا ہو۔ یہ آپؓکی عظیم الشان تائید و نصرت کی طرف اشارہ تھا۔سامعین !یہ مقام ذرا رُک کر غور کرنے کا مقام ہے کہ وہ انسان جس کی آمد کو اللہ تعالیٰ اپنی آمد قرار دیتا ہے وہ کس شان اور مرتبہ اور مقام کا انسان ہوگا پس بلا شُبہ آپ کی ہستی کوئی معمولی ہستی نہیں تھی ، آپؓکا وجود کوئی معمولی وجود نہیں تھا بلکہ : ’’آپ اُن ممتاز اَبنائے آدم میں سے تھے جو صدیوں ہی میں نہیں بلکہ ہزاروں سال میں کبھی ایک بار اُفقِ انسانیت پر طلوع ہوتے ہیں اور جن کی روشنی صرف ایک نسل کو نہیں بلکہ بیسیوں انسانی نسلوں کو اپنی ضیاء پاشی سے منور کرتی رہتی ہے ۔ ‘‘
سامعین ! مسندِ خلافت پر متمکن ہوتے ہی سب سے پہلے آپ کو انکارِ خلافت کے فتنہ کا سامنا کرنا پڑا۔ نظامِ جماعت کے اہم عہدوں پر ابھی تک منکرین خلافت قابض تھے ۔ پریس کا بیشتر حصہ اُن کے ہاتھ میں تھا ۔ روپے پیسے کی کنجیاں ان کے پاس تھیں ۔ اور ایسی معروف اور بظاہر عظیم شخصیتیں ان کی ہم خیال تھیں جنکا اثر جماعت پر بڑا گہرا اور وسیع تھا ۔ اُنہوں نے جماعت کے تمام اِبلاغ و اِشاعت کے ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے سارے ہندوستان میں نظامِ خلافت کی تردید میں نہایت خطرناک اور زہریلے پراپیگنڈے کی مہم بڑی سرعت کے ساتھ شروع کردی ۔
سامعین! گو بعد میں بھی بہت ابتلاء آئے لیکن اولوا العزمی کے امتحانوں میں بِلا شُبہ یہ ایک خاص امتحان تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر مشکل وقت میں اپنے خاص فضل اور رحم کا سہارا دیا اور خطرناک سے خطرناک وادی سے آپ اپنی جماعت کو نہایت کامیابی اور کامرانی سے بچاتے ہوئے فتح و نصرت کی نئی منازل کی طرف بڑھتے چلے گئے ۔
سامعین! حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا تنظیمی کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے منتشر ہوتی ہوئی جماعت کو بڑی سرعت کے ساتھ ایک ہاتھ پر اکٹھاکیا۔ بکھرتے ہوئے اوراق مجتمع ہوکر ایک مضبوط شیرازے میں بندھ گئے وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰ۭ کا وعدہ ایک مرتبہ پھر پورا ہوا ایک بار پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ اسلام کی زندگی اِس کی تمکنت اور اِس کا امن ہمیشہ کے لئے نظام خلافت سے وابستہ ہوچکا ہے۔
ایک موعود مصلح کی حیثیت سے آپکے تمام کارناموں پر یکجائی نظر ڈالی جائے تو آپ کا یہ کارنامہ بلا شبہ ایک امتیازی شان اور دلربا چمک کیساتھ نظر کو اپنی جانب کھینچے گا کہ آپ نے احمدیوں کے قلوب میں خلافت کی عظمت اور اہمیت کو ہمیشہ کیلئے واضح جاگُزیں اور راسخ کردیا ۔ اِختلاف اور اِفتراق کے فلسفہ اور محرکات کو بار بار ایسی وضاحت کے ساتھ جماعت کے سامنے رکھا کہ نظام خلافت کو سبوتاژ کرنے کیلئے جب بھی اور جس لباس میں بھی کوئی تحریک اُٹھی جماعت نے بلا توقّف اُسے پہچانا اور سختی سے ردّ کردیا۔
بحیثیت امام جماعت احمدیہ ابتدائے خلافت ہی سے آپ کی توجّہ جماعتی نظام کو اِس طرح مستحکم کرنے کی طرف لگی ہوئی تھی کہ خلافتِ راشدہ اسلامیہ کو جن خطرات کا سامنا کرنا پڑا اگر دوبارہ اُسی قسم کے خطرات خلافت احمدیہ کو درپیش ہوں تو جماعت اُن کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرسکے ۔ علاوہ ازیں قوموں کی ترقی اور تنزّل کے اسباب پر نظر کرتے ہوئے آپ ایسے تمام ذرائع اختیار کرنا چاہتے تھے جو جماعت کے لئے رخنوں سے پاک اور ہمیشہ قائم رہنے والی سچی اور فعّال زندگی کے ضامن ہوسکیں ۔ نظامِ جماعت کی تشکیل کے سلسلہ میں آپ نے جو جو ذرائع اختیار فرمائے اور جو جو تدابیر سوچیں وہ ایک ایسے شخص سے ہی ممکن تھیں جو مؤرّخ بھی ہو اور مفکّر بھی ہو ۔ صاحبِ علم بھی ہو اور صاحبِ عمل بھی ۔ فطرتِ انسانی سے بھی آشنا ہو اور مختلف انسانی طبقات کے مزاج پر بھی گہری نظر رکھتا ہو اور اِن سب کے علاوہ ایک صاحبِ تجربہ روحانی وجود ہو ۔ یہ تمام کمالات آپ کی ذات میں جمع تھے اور اُن کے امتزاج نے اُس نظام کوجنم دیا جو آج نظام جماعت احمدیہ کی شکل میں نہایت مستحکم صُورت میں دُنیا کے سامنے ایک مثالی نظام کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ۔
یاد رکھنا چاہئے کہ سارے نظام کا اقتدار اعلیٰ خلیفۂ وقت کی ذات ہے ۔ اور عالمگیر جماعت کی شاخیں دیہاتوں شہروں سے نکل کر ضلعوں صوبوں اور ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں جو سب تسبیح کے دانوں کی طرح ایک مضبوط اور مربوط دھاگے میں منسلک ہیں۔ جس جگہ بھی تین یا اس سے زائد احمدی ہوں وہاں باقاعدہ جماعت قائم کردی جاتی ہے اور حسب حالات بذریعہ نامزدگی یا بذریعہ انتخاب وہاں ایک صدر مقرر کر دیاجاتا ہے ۔ بڑی جماعتوں میں امارت کا نظام قائم ہے۔ اس لحاظ سے ہر مقامی جماعت کا صدر یا امیر اعلیٰ عہدیدار ہوتا ہے۔ پھرہر ضلع یا صوبہ کی جماعتوںکا ایک امیر مقرر ہوتا ہے ۔پھر اِس سے اوپر تمام ملک کا ایک نیشنل امیر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جماعتی نظام کے مختلف شعبے قائم ہیں اور اس کے نگران سیکرٹری کہلاتے ہیں مثلا سیکرٹری مال ، سیکرٹری تعلیم ، سیکرٹری جائیداد ، سیکرٹری ضیافت وغیرہ ۔یہ تمام عہدیدار بذریعہ انتخاب یا بعض حالتوں میں بذریعہ نامزدگی مقرر کئے جاکر محض رضاکارانہ طور پر اخلاص اور قربانی کے ساتھ جماعت کی خدمات بجالانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ اِن مقامی ضلعی اور صوبائی اور ملکی عہدیداروں کے علاوہ خلیفۂ وقت کی نگرانی میں مندرجہ ذیل اہم ادارے کام کرتے ہیں ۔
صدر انجمن احمدیہ :
یہ جماعت کا سب سے بڑا اور اہم ادارہ ہے جو بانی ٔ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی زندگی ہی میںقائم فرمایا تھا ۔ ابتداء میں اس کی یہ صورت نہ تھی بلکہ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس نے رفتہ رفتہ موجودہ شکل اختیار کی ۔ جماعت کے لازمی چندہ جات کا انتظام و التزام اور تمام تربیتی ، تعلیمی ، تبلیغی اور رفاہی کاموں کی نگرانی اس انجمن کے سپرد ہے ۔ تمام مقامی ضلعی اور صوبائی امارت کے نظام اس انجمن کی نگرانی میں چلتے ہیں ۔ اس انجمن کے تحت کئی دفاتر اور نظارتیں ہیں ہرنظارت کا اعلیٰ عہدیدار ’’ناظر‘‘ کہلاتا ہے ۔ مثلاً ناظر تعلیم ، ناظراصلاح و ارشاد، ناظر نشر واشاعت، ناظربیت المال آمد و خرچ ، ناظر امور عامہ وغیرہ۔ اور پوری انجمن کانگران’’ ناظر اعلیٰ‘‘ کہلاتا ہے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا طریق کار یہ تھا کہ روز مرّہ کے انتظامی امور میں ناظروں کو بُلواکر براہِ راست ہدایات دیتے تھے اور ان کے کام کی خود نگرانی فرماتے تھے لیکن اِس کے علاوہ جماعتی تربیت کی خاطر بعض اوقات پبلک تقاریر میں بھی ناظروں کی اس رنگ میں رہنمائی فرماتے کہ جماعت بھی سلسلہ کے انتظامی طریقِ کار سے آگاہ ہوجائے اور آئندہ سلسلہ کو تربیت یافتہ کارکنان مہیا ہونے میں مدد ملے ۔
انتظامیہ کے سربراہِ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ جہاں اصولی اور بسا اوقات تفصیلی رہنمائی فرماتے وہاں وقتًا فوقتًا کام کا محاسبہ بھی کرتے رہتے اور کبھی سختی اور کبھی نرمی کے ساتھ ، کبھی سخت گرفت اور کبھی دل موہ لینے والے عفو کے ساتھ منتظمین اور کارکنان کی اصلاح فرماتے رہتے ۔ عفو کے وقت آپ کے درگزر کا انداز بہت پیارا ہوتا اور کئی غفلتوں سے آنکھیں بند کرلیتے اور گرفت کے وقت نہایت باریک نظر کے ساتھ انتظامی کمزوریوں کو کرید کرید کر باہر نکالتے ۔ اگرچہ عام کارکنان کے لئے روز مرّ ہ کے دفتری اوقات مقرر تھے مگر اہم جماعتی ضرورت کے وقت آپ دفتری اوقات کا کبھی لحاظ نہ کرتے اور ہر کارکن سے توقع رکھتے کہ اگر چوبیس گھنٹے حاضر رہنے کا مطالبہ کیا جائے تو چوبیس گھنٹے حاضر رہنے کے لئے تیار ہو جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق تھا آپ دفتری اوقات سے قطع نظر اور دن رات کی گردش سے بے نیاز حتّی الامکان اپنا اکثر وقت جماعتی کاموں کے لئے وقف رکھتے ۔ تقریبا سولہ گھنٹے روزانہ کام آپ کا عام دستور تھا ۔ اپنے ماتحت کارکنان سے بھی آپ اسی طرح محنت کی توقع رکھتے تھے۔ چنانچہ جب کبھی جماعتی مفادکا تقاضا ہوتا وقت کا لحاظ کئے بغیر آپ متعلقہ افسران کو یاد فرمالیتے اور ضرورت سمجھتے تو پُورے دفتر ہی کو کسی اہم فریضہ کے سرانجام دینے کے لئے کھلا رکھنے کی ہدایت فرمادیتے ۔ ایسے میں دفاتر بعض اوقات ۲۴-۲۴ گھنٹے کھلے رہتے اور کبھی یہ سلسلہ حسب حالات دنوں ہفتوں بلکہ مہینوں تک بھی جاری رہتا ۔ کارکنان کی باری باری ڈیوٹیاں لگادی جاتیں لیکن عمومًا ناظروں سے ہمہ وقت حاضر رہنے کی توقع کی جاتی تھی ۔ چنانچہ بعض دفعہ ناظر صاحبان اپنا بوریا بستر اُٹھاکر دفاتر میں ہی رہائش پذیر ہوجاتے اور حالات کے معمول میں آنے تک گھر کی خبر نہ لیتے ۔
تحریک جدید انجمن احمدیہ :
حضرت مصلح موعودؓنے 1934ء میں بیرونی ممالک میں تبلیغ و اشاعت اسلام کی غرض سے ایک نئی مالی تحریک ’’تحریک جدید ‘‘جاری فرمائی۔ اس تحریک کے چندہ سے جمع ہونے والے اموال اور واقفین زندگی وغیرہ کے انتظام اور بیرونی ممالک کے تبلیغی نظام کی نگرانی کیلئے’’ انجمن تحریک جدید‘‘ قائم کی گئی ۔ اس ادارے کے تحت بھی مختلف شعبے قائم ہیںہر شعبے کے انچارج کو ’’وکیل‘‘ کہا جاتا ہے ۔مثلاً وکیل التعلیم ، وکیل التبشیر، وکیل المال وغیرہ اور اس انجمن کے نگران اعلیٰ کو ’’وکیل اعلیٰ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
سامعین ! تحریک جدید کے ذکر کے ساتھ مجلس احرار کا مختصر تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
احرار نے 1934میں جماعت کی شدید مخالفت کی اور پورے ہندوستان میں مسلمانوں کو بھڑکایا اور جماعت کے خلاف ایسی شورش برپاکی کہ الامان والحفیظ ۔ مجلس احرار نے اعلان کیا کہ :
٭ ہم نے ایک سال کے لئے عہد کر لیا ہے کہ نہ
چماروں کو نہ ہندوؤں کو نہ سکھوں کو نہ عیسائیوں کو تبلیغ کریں گے اور نہ ان کے پاس جائیں گے صرف استیصال مرزائیت کریں گے ۔
احراریوں نے جماعت پر ایسے ایسے بے بنیاد الزامات لگائے جس سے مسلمانوں کو دھوکا دیا جاسکے کہ جماعت احمدیہ اسلام کی اور ملک کی خیر خواہ نہیںہے ۔سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بہت ہی صبر اور حوصلہ اور عزم و استقلال سے ان کے تمام بے ہودہ الزامات کا جواب دیا نیز انہیں مباہلہ کے لئے بلایا تاکہ سچے اور جھوٹے میں تمیز ہوجائے، لیکن اُنہوں نے راہِ فرار اختیار کی ۔
احراریوں کا مباہلہ سے فرار اتنا واضح اور نمایاں تھا کہ یہ اُن کی دُکھتی رگ بن گئی جسے چھیڑتے ہوئے ایک مشہور صحافی نے لکھا:
’’میں مرزا بشیر الدین محمود نہیں جس سے مباہلہ کا سن کر رہنمایانِ احرار کے بدن پر رعشہ طاری ہوجاتا ہے ۔ ‘‘
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا :
’’ تم احرار کے فتنہ سے مت گھبراؤ ۔مَیں ان کی شکست کو ا نکے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔ ‘‘
ایک طرف مجلس احرار جماعت کو مٹاڈالنے کے دعوے کر رہی تھی دوسری طرف اسلام کا پہلوان اسلام کو زمین کے کناروں تک پہنچانے میں اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کرچکا تھا۔تحریک جدید کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:-
’’ اس دَوران تحریک جدید کے ماتحت ہمارے مبلغ جاپان میں گئے ۔ تحریک جدید کے ماتحت چین میں مبلغ گئے تحریک جدید کے ماتحت سماٹرا اور جاوا میں مبلغ گئے اور اس تحریک کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے سپین ، اٹلی ، ہنگری ، پولینڈ ، البانیہ ، یوگوسلاویہ اور امریکہ میں مبلغ گئے اور افریقہ کے بعض ساحلوں پر بھی اس تحریک کے ماتحت مبلغ گئے اور ان مبلغین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے ۔ ‘‘ (الفضل 28نومبر1944ء) اورآج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو سو سے زائد ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے ۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیشگوئی کے مطابق بعد میں احرار کی خوب ذلّت و رسوائی ہوئی ۔ سبھی نے انہیں متفقہ طور پر اسلام کا غدّار قرار دیا ۔ دو بند جوانکے اپنوں نے انکے متعلق لکھا پیش ہیں :
اللہ کے قانون کی پہچان سے بیزار
اسلام اور ایمان اور احسان سے بیزار
ناموسِ پیغمبر کے نگہبان سے بیزار
کافر سے موالات مسلمان سے بیزار
اور اس پہ یہ دعویٰ کہ ہیں اسلام کے احرار
احرار کہاں ہیں یہ ہیں اسلام کے غدار
پنجاب کے احرار اسلام کے غدار
بیگانہ یہ بدبخت ہیں تہذیب عرب سے
ڈرتے نہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے
مل جائے حکومت کی وزارت کسی ڈھب سے
سرکارِ مدینہ سے نہیں ان کو سروکار
پنجاب کے احرار اسلام کے غدار
انجمن احمدیہ وقف جدید :
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ایک عظیم کارنامہ وقف جدید کا اجراء ہے۔ شروع میں یہ تحریک صرف بر صغیر کے لئے تھی بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے پوری دنیا کے لئے اس کو وسیع کر دیا۔وقفِ جدید کے قیام کا بنیادی مقصد دیہاتی جماعتوں کی تربیت و اصلاح ہے تاکہ ان کا رُخ انحطاط سے موڑ کر از سرِ نَو ترقی کی جانب پھیر دیا جائے۔اس کے بے حد شیریں ثمرات ظاہر ہوئے۔ مختصر یہ کہ معلمین و مبلغین کے ذریعہ دینی تعلیم و تربیت اور قرآن سیکھنے اور سکھانے کا ایسا کام شروع کیا گیا کہ پوری جماعت نہایت مضبوط و مستحکم مربوط و منظم اور یکجان ہوگئی ۔ اس تحریک سے جمع ہونے والے چندہ کے انتظام اور تعلیم و تربیت کیلئے مقرر کئے گئے معلمین کی نگرانی وغیرہ کیلئے ایک علیحدہ انجمن ’’وقف جدید انجمن احمدیہ ‘‘ کے نام سے قائم فرمائی گئی اس انجمن کے تحت مختلف شعبے قائم ہیں اور ہر شعبہ کے انچارج کو ناظم کہا جاتا ہے ۔
نظامِ امارت :
صدر انجمن احمدیہ کے نظام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ہر جگہ باقاعدہ امارت کا نظام رائج فرمایا اور اطاعت امیر کی روح کو نظامِ جماعت میں بڑی کوشش اور محنت سے جاری و ساری کیا ۔ اسلام نے امارت کا جو تصور قائم کیا ہے حضور اس سے بدرجہ کمال واقف تھے اور اس کے ہر پہلو پر آپ کی گہری نظر تھی ۔ آپ نے اس موضوع پر جماعت کو بڑی قابل قدر نصائح فرمائیں اور منصبِ امارت کو اچھی طرح احبابِ جماعت کے ذہنوں میں جاگزیں کرنے کی کوشش فرمائی ۔
مجلس شوریٰ یا مجلس مشاورت
1922میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ باقاعدہ سالانہ مجلس مشاورت کا نظام قائم فرمایا۔ 1922کی مجلس مشاورت جماعت کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے بالخصوص حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا افتتاحی خطاب جس میں آپ نے مجلس شوریٰ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلامی طریق مشاورت ، آدابِ شوریٰ ، رائے دہندہ کے فرائض ، ایجنڈے پر غور کا طریق اور شوریٰ کے فیصلے اور انکی حیثیت کو بیان فرمایا ۔ آپ کی یہ افتتاحی تقریر جماعت احمدیہ کے نظام شوریٰ کے لئے بلا شبہ ایک چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ 1922سے لیکر 1965تک یہ ادارہ براہِ راست حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی زیر تربیت اور زیر نگرانی نشو نما پاتا رہا ۔ اس مشاورت کے گوشہ گوشہ پر جسے ہم آج دیکھ رہے ہیں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے کردار اور شخصیت کی چھاپ ہے اور اس کو قائم کرنے میں آپ کی سالہا سال کی شدید محنت عرقریزی نگرانی اور پر خلوص دعاؤں کا بہت بڑا دخل ہے ۔
سامعین !ذیلی تنظیموں کا قیام حضور کی زبردست تنظیمی صلاحیت کا ثبوت ہے ۔سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پوری جماعت کو ایک دھاگے میں پرونے ،ایک دوسرے سے باندھے رکھنے اورا نہیں عمل کے سانچے میںڈھالنے کے لئے ذیلی تنظیموں کا قیام عمل میں لایا ۔ 1923میں لجنہ اماء اللہ، 1935میں خدام الاحمدیہ اور 1940میں مجلس انصار اللہ کی تنظیم آپ نے قائم فرمائی ۔
سب سے پہلے میں لجنہ اماء اللہ کا مختصر تذکرہ کرتاہوں ۔ احمدی عورتوں نے آپ کی قیادت میں ترقی کی جو منازل طے کیں اسکی تفصیل بڑی دلچسپ اور اہلِ اسلام کے لئے بہت ہی حوصلہ افزاء ہے۔ عورتوں کے خصوصی تعلیمی اداروں کا قیام ، جامعہ نصرت کے ذریعہ کالج کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام جس میں دینی تربیت کا پہلو بہت نمایاں تھا ۔ پھر لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کے ذریعہ مختلف دستکاریوں کی تربیت ، عورتوں کی علیحدہ کھیلوں کا انتظام ، ان میں مباحثوں اور تقاریر کا ذوق و شوق پیدا کرنا ، مضمون نگاری کی طرف انہیں توجہ دلانا ان کے لئے علیحدہ اخباروں اور
رسالوں کا اجراء اور جلسہ سالانہ میں عورتوں کے علیحدہ اجلاس جن میں خواتین مقررین کا خواتین کو خود خطاب کرنا۔ ہر قسم کی تعلیمی سہولتیں اس رنگ میں مہیا کرنا کہ غریب سے غریب احمدی بچی بھی کم از کم بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اپنے باون سالہ دور خلافت میں آپ نے ہندوستان کی پسماندہ عورت کو ادنیٰ مقام سے اُٹھاکرایک ایسے بلند مقام پر فائز کر دیا جسے دنیا کے سامنے اسلام کی عظمت کے نمونہ کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اور بعض امور میں وہ دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ اور آزاد ممالک کی عورتوں کے لئے بھی ایک مثال بن گئی ۔ احمدی مستورات کی عالمی تنظیم لجنہ اماء اللہ نے آپ کی عظیم الشان قیادت میں کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔غیر بھی اس تنظیم کی حسن کارکردگی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے :
اخبار’’ تنظیم ‘‘28دسمبر 1926لکھتا ہے : -
’’ لجنہ اماء اللہ قادیان احمدیہ خواتین کی انجمن کا نام ہے۔ اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجالس قائم کی گئی ہیں۔ اور اس طرح پر ہر وہ تحریک جو مَردوں کی طرف سے اٹھتی ہے خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے۔ اس انجمن نے تمام خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کر دیا ہے ۔ عورتوں کا ایمان مَردوں کی نسبت زیادہ مخلص اور مربوط ہوتا ہے ۔ عورتیں مذہبی جوش کو مَردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہیں ۔ لجنہ اماء اللہ کی جس قدر کارگزاریاں اخبار میں چھپ رہی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کی آئندہ نسلیں موجودہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پر جوش ہوں گی۔ اور احمدی عورتیں اِس چمن کو تازہ دم رکھیں گی جس کا مرورِ زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سرسبزی سے محروم ہونا لازمی تھا ۔ ‘‘
(اخبار تنظیم امرتسر ۲۸دسمبر ۱۹۲۶ء )
اسی طرح لجنہ کے ماہنامہ’’ مصباح ‘‘کو پڑھ کر ایک آریہ سماجی اخبار ’’تیج‘‘ کے ایڈیٹر نے لکھا :
’’میرے خیال میں یہ اخبار اِس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اِس کو دیکھے۔ اِس کے مطالعہ سے انہیں احمدی عورتوں کے متعلق جو غلط فہمی ہے کہ وہ پردہ کے اندر بند رہتی ہیں اِس لئے کچھ کام نہیں کرتیں فی الفور دُور ہوجائے گی اور اُنہیں معلوم ہوجائے گا کہ اُن میں مذہبی اخلاص اور تبلیغی جوش کس قدر ہے ۔ ہم اِستری سماج قائم کر کے مطمئن ہوچکے ہیں لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ باقاعدہ انجمنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہیں اُس کے آگے ہماری استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے ۔ مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ احمدی خواتین ہندوستان ، افریقہ ، عرب ، مصر ، یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں اُن کا مذہبی احساس اِس قدر قابلِ تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئے ۔ چند سال ہوئے اُن کے امیرنے ایک مسجد کے لئے پچاس ہزار روپے کی اپیل کی اور یہ قید لگادی کہ یہ رقم صرف عورتوں کے چندہ سے ہی پوری کی جائے ۔ چنانچہ پندرہ روز کی قلیل مدّت میں اُن عورتوں نے پچاس ہزار کی بجائے پچپن ہزار روپیہ جمع کردیا ۔ ‘‘
مجلس خدام الاحمدیہ :
1938میں اس مجلس کا قیام عمل میں آیا۔مجلس کے کام کو احسن طریق پر چلانے کے لئے اس تنظیم کومختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا ۔ مثلاً اعتماد، تجنید، مال، تعلیم ، تربیت ، اصلاح و ارشاد ، تحریک جدید ، خدمتِ خلق ، صحت جسمانی ، وقار عمل ، صنعت و تجارت، اشاعت ، اطفال ۔ شعبہ اعتماد کے انچارج کو معتمد اور باقی شعبہ جات میں سے ہر شعبہ کے انچارج کو مہتمم کہا جاتا ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ان شعبوں کے متعلق خدام کو وقتًا فوقتًا نہایت مفید ہدایات سے نوازتے رہتے۔حضور کے وہ ارشادات عالیہ ’’مشعلِ راہ‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب کی شکل میںطبع ہوچکی ہے ۔
مجلس اطفال الاحمدیہ :
جولائی 1940میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجلس خدام الاحمدیہ کو حکم دیا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر آٹھ سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کو منظم کریں اور اطفال الاحمدیہ کے نام سے ان کی جماعت قائم کریں کیونکہ یہ بچے در اصل مجلس خدام الاحمدیہ کی نرسری ہیں ۔ آگے چل کر انہی بچوں نے مجلس کے کام سنبھالنے ہیں ۔ اس لئے شروع سے ہی ان کی ٹریننگ ہونی چاہئے۔
مجلس انصار اللہ :
1940میں حضور ؓ نے مجلس انصار اللہ کی تنظیم قائم فرمائی اور فرمایا مجلس انصار اللہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ عمر کے اس حصہ میں جب انسان عمل میں سست ہوجاتا ہے دین کے کاموں میں سست نہ ہو اور وہ اپنے
آپ کو بے کار اور عضو معطل خیال نہ کرے ۔
اِن مجالس نے جہاں تنظیمی و تربیتی امور میں بہت مفید خدمات کی توفیق پائیں وہاں علمی میدان میں اِن کا ریکارڈ قابل رشک ہے ۔ اِن تنظیموںکی کامیابی اور اِنکے شاندار نتائج ایسے واضح حقائق تھے کہ جن سے غیر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ چنانچہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بدنامی کی حد تک شہرت یافتہ مجلس احرار کا ترجمان ’’زمزم‘‘ جماعت کی اس قابلِ رشک تنظیم کا ذکر کرتے ہوئے بصد حسرت و یاس لکھتا ہے :
’’ ایک ہم ہیں کہ ہماری کوئی بھی تنظیم نہیں اور ایک وہ ہیں کہ جن کی تنظیم در تنظیم کی تنظیمیں ہیں ۔ ایک ہم ہیں کہ آوارہ منتشر اور پریشان ہیں ایک وہ ہیں کہ حلقہ در حلقہ محدود و محصور اور مضبوط اور منظم ہیں۔ ایک حلقہ احمدیت ہے، اس میں چھوٹا بڑا زن و مرد بچہ بوڑھا ہر احمدی مرکز ’’نبوت‘‘ پر مرکوز و مجتمع ہے ۔ مگر تنظیم کی ضرورت اور برکات کا علم و احساس ملاحظہ ہو کہ اس جامع و مانع تنظیم پر بس نہیں اس وسیع حلقہ کے اندر متعدد چھوٹے چھوٹے حلقے بناکر ہر فرد کو اسطرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ہل نہ سکے ۔ عورتوں کی مستقل جماعت لجنہ اماء اللہ ہے ۔ اس کا مستقل نظام ہے ۔ سالانہ جلسہ کے موقعہ پر اس کا جُداگانہ سالانہ جلسہ ہوتا ہے ۔ خدام الاحمدیہ نوجوانوں کا جدا نظام ہے ۔ پندرہ تا چالیس سال کے ہر فرد جماعت کا خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا ضروری ہے ۔
چالیس سال سے اُوپر والوں کا مستقل ایک اَور حلقہ ہے’ انصار اللہ ‘ جس میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان تک شامل ہیں ۔ میں اِن واقعات اور حالات میں مسلمانوں سے صرف اس قدر دریافت کرتا ہوں کہ کیا ابھی تمہارے جاگنے اور اُٹھنے اور منظم ہونے کا وقت نہیں آیا ؟ تم نے ان متعدد مورچوں کے مقابلہ میں کوئی ایک بھی مورچہ لگایا ؟ حریف نے عورتوں تک کو میدانِ جہاد میں لاکھڑا کیا …میرے نزدیک ہماری ذلت و رسوائی اور میدان کشاکش میں شکست و پسپائی کا ایک بہت بڑا سبب یہی غلط معیارِ شرافت ہے ۔ ‘‘
(زمزم ، لاہور ، ۲۳جنوری۱۹۴۵ء بحوالہ الفضل ۱۸؍ اپریل ۱۹۴۵ء )
اب آخر میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ پر غیر وں کی آراء میں سے ایک پیش کر کے اپنی تقریر کو ختم کروں گا ۔ مولانا غلام رسول مہر جو ایک صحافی اور مؤرخ تھے اور کئی مواقع پر حضور کی رہنمائی میں خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی لکھتے ہیں:-
’’آپ لوگوں کی کسی کتاب میں اس عظیم الشان انسان کے کارناموں کی مکمل عکاسی نہیں ملتی ۔ ہم نے انہیں قریب سے دیکھا ہے ۔ کئی ملاقاتیں کی ہیں ۔ پرائیویٹ تبادلہ خیال کیا ہے ۔ مسلم قوم کیلئے تو ان کا وجود سراپا قربانی تھا۔ مجھے ایک دفعہ راتوں رات قادیان جاکر حضرت صاحب سے مشورہ کرناپڑا۔ وہ منظر اب بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ انسانیت کیلئے انکے دل میں بڑا درد تھا، اور جہاں کہیں مسلم قوم کی بہتری اور بہبودی کا مسئلہ درپیش ہوتا ان کی قابل عمل تجاویز ہمارا حوصلہ بڑھانے کا موجب بنتیں ۔ ایسے موقع پر آپ کا رُؤاں رُؤاں قومی درد سے تڑپ اٹھتا تھا ۔ فرقہ بازی کا تعصب میں نے اِس وجود میں نام کو نہیںدیکھا ۔ مرزا صاحب بلا کے ذہین تھے ۔ میں نے پاک وہند میں سیاسی نہ مذہبی لیڈر ایسا دیکھا ہے جس کا دماغ پالیٹیکل پالٹکس میں ایسا کام کرتا ہو جیسا مرزا صاحب کا دماغ کام کرتا تھا بے لوث مشورہ ، واضح تجویز اور پھر صحیح خطوط پر لائحہ عمل یہ ان کی خصوصیت تھی ۔ افسوس مسلمانوں نے مرزا صاحب کی قدر نہیں کی ۔ مخالفت کی سخت آندھیوں کے باوجود میں نے مرزا صاحب کو کبھی افسردہ اور سرد مہر نہیںدیکھا ۔ مرزا صاحب کے دل کی شمع ہمیشہ روشن رہتی ۔ ہم یاس و افسردگی کی تصویر بنے ان سے ملاقات کے لئے جاتے اورجب ان کے کمرہ سے باہر آتے تو یوں معلوم ہوتا کہ ناامیدی کے بادل چھٹ چکے ہیں اور مقصد میں کامیابی سامنے نظر آرہی ہے ۔ وزنی دلیل دیتے قابل عمل بات کرتے اور پھر اس پر بس نہیں ہر نوع کی قربانی اور تعاون کی پیش کش بھی ساتھ ہوتی جس سے ہم میں جرأت اور حوصلے کے جذبات پیدا ہوجاتے ۔
(اقبال اور احمدیت صفحہ ۵۰۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشادات و احکامات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔
…٭…٭…٭…