اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-20

ذرا ذرا سی بات پر خلع اور طلاق تک نوبت پہنچا دینا نہایت بھیانک اور ناپسندیدہ طریق ہے ارشاد سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ

تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
’’انسانی زندگی کے اہم ارکان میں سے میاں بیوی کے اجزا ہوتے ہیں۔ دنیوی زندگی کے لئے انسان کے لئے جو چیزیں لازمی ہیں اور جن کے ذریعہ انسان آرام اور سکینت حاصل کر سکتا ہے وہ میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات سے جو سکون اور آرام انسان کو ملتا ہے وہ اُسے کسی اَور ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان وجودوں کو ایک دوسرے کے لئے سکینت اور تسکین کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اِسی طرح بائبل میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کے لئے حوّا پیدا کی تاکہ وہ آدم کے آرام اور سکینت کا موجب ہو۔ یعنی حوّا کے بغیر آدمؑ کے لئے تسکین اور آرام کی صورت اور کوئی نہ تھی۔ لیکن یہی دو وجود جو ایک دوسرے کے لئے تسکین ،آرام اور راحت کا موجب ہیں کبھی کبھی انہیں دو وجودوں کو لڑائی اور جھگڑے کا موجب بنا لیا جاتا ہے اور راحت اور سکون کی بجائے انسان کے لئے اس کا مدمقابل یعنی خاوند کے لئے بیوی اور بیوی کے لئے خاوند دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف دینے کا موجب بن جاتا ہے۔ ہزاروں خاوند ایسے ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بدترین عذاب ثابت ہوتے ہیں اور ہزاروں بیویاں ایسی ہیں جو اپنے خاوندوں کے لئے بد ترین عذاب ثابت ہوتی ہیں۔ اسلام نے ایسے حالات میں ہمارے لئے ایسی اعلیٰ راہنمائی کی ہے کہ درحقیقت ان احکام کی موجودگی میں ہمارے لئے گھبراہٹ اور تشویش کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کے لئے کتنے لوگ تیار ہوتے ہیں؟ غیر مسلم تو پہلے ہی اسلامی تعلیم پر اعتراض کرتے رہتے ہیں ۔ وہ مسلمان بھی جو اسلامی تعلیم کو ماننے والے ہیں اسلامی تعلیم سے بہت دور جا چکے ہیں اور قرآنی تعلیم کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے بلکہ دوسری عدالتوں کے ذریعہ اپنا فیصلہ کرانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی مرد اور عورت میں جھگڑا پیدا ہو جائے او ران کو کہا جائے کہ قرآن کی تعلیم کے مطابق اس جھگڑے کو دور کرنے کی کوشش کرو تو رشتہ دار درمیان میں کُود پڑتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان باتوں پر عمل کرنے سے کہیں گزارہ ہوتا ہے۔ ہم ان کے مطابق کیسے فیصلہ کریں۔ گویا اُن کے نزدیک قرآن کریم ایک افسانوں کی کتاب ہے جسے لائبریری کی زینت کے لئے رکھنا چاہئے لیکن اس پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ناقابلِ عمل ہے ایسا شخص اسلام کے دائرہ میں رہتا ہی کیوں ہے؟ ایسے شخص کو اسلام کی تعلیم کو چھوڑ دینا چاہئے اور کوئی ایسا مذہب تلاش کرنا چاہئے جس کی تعلیم اسے قابل عمل نظر آئے تاکہ کم از کم اُس کی ضمیر تو آزاد رہے۔ وہ جب اسلام کی تعلیم کو غلط اور ناپسندیدہ خیال کرتا ہے تو پھر ضمیر کو مارتے ہوئے اس کو کیوں پکڑے ہوئے ہے اور کیوں اسے چھوڑتا نہیں ؟
مَیں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت میں میاں بیوی کے جھگڑے پہلے کی نسبت زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ جہاں تک جھگڑوں کا سوال ہے جھگڑوں کا پیدا ہونا بُرا نہیں کیونکہ یہ انسانی خاصہ ہے کہ میاں بیوی میں کبھی کبھار رنجش بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن جھگڑا پیدا ہونے کے بعد اسلامی تعلیم کو نظر انداز کر دینا یہ بہت بُری چیز ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ لوگ ایسے حالات میں بالعموم اسلام کی تعلیم کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ظلم کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور اسلامی تعلیم کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ میرے لئے یہ صورت بہت ہی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ہمارے لئے رسول کریم ﷺ کامل اسوہ ہیں۔ ہم آپؐکو دیکھتے ہیں کہ آپ نہ صرف خاوند تھے بلکہ آپ نبی بھی تھے، آپؐپِیر بھی تھے اور آپ آقا بھی تھے۔ لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپ کی حالت یہ تھی کہ ایک دفعہ آپ نے اپنی ایک بیوی کو ایک راز کی بات بتائی اور حکم دیا کہ کسی اَور کو نہ بتانا لیکن انہوں نے اپنی بعض سہیلیوں سے جو کہ رسول کریم ﷺ کی بیویوں میں سے ہی تھیں اس بات کا ذکر کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً بتا دیا کہ آپ کی اس بیوی نے وہ راز آپ کی بعض دوسری بیویوں کو بھی بتا دیا ہے۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے ان کی تنبیہہ کے لئے یہ فیصلہ فرمایا کہ مَیں مسجد میں ہی رہوں گا اور گھر میں بیویوں کے پاس نہیں جاؤں گا۔ آپؐنے مسجد میں خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا۔ آپؐکے حکم پر مسجد میں آپؐکے لئے خیمہ لگا دیا گیا او رآپؐاُسی میں رہنے لگے۔ مکہ والے اپنی بیویوں سے نرمی کا سلوک نہیں کیا کرتے تھے بلکہ جس طرح پنجابی عورتوں کی درستی کا ایک ہی علاج جانتے ہیں کہ ڈنڈا لیا اور مار مار کر سیدھا کر دیا۔ اسی طرح مکہ والے بیویوں سے سختی سے پیش آتے تھے اور ان کی عورتوں کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کسی بات میں مشورہ دے سکیں یا مرد کے سامنے بول سکیں۔ مدینہ میں مکہ کی نسبت کسی حد تک عورتوں کو زیادہ آزادی تھی۔ گو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے ذریعہ جو آزادی عورتوں کو دلائی وہ اس پہلی آزادی سے بہت بڑھ کر ہے۔ بہرحال مدینے کی عورتیں کبھی کبھار اپنے مردوں کے سامنے بول لیتی تھیں لیکن مکہ والوں میں ابھی وہی سختی باقی تھی۔ جب رسول کریم ﷺ نے مسجد میں ڈیرا لگا لیا تو صحابہؓ میںچہ میگوئیاں ہونی شروع ہو گئیں کہ آپؐنے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ چنانچہ ایک صحابیؓگھبرائے ہوئے حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے۔ حضرت عمرؓ مدینہ سے دو تین میل باہر ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں اُن دنوں ہمیں گزارے کی تنگی تھی اِس لئے ہم لوگ روزانہ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر نہ ہو سکتے تھے بلکہ ہم نے باریاں مقرر کی ہوئی تھیں۔ ایک ساتھی جاتا اور وہ سارا دن رسول کریم ﷺ کی صحبت میں رہتا اور شام کو واپس آکر رسول اللہ ﷺ کی مجلس کی ساری باتیں اپنے ساتھی کو سناتا۔ دوسرے دن وہ کام کرتا اور اس کا وہ ساتھی جو پہلے دن نہیں گیا تھا رسول کریم ﷺ کی مجلس میں جاتا ، آپؐکی باتیں سنتا اور شام کو واپس آ کر تمام باتیں اپنے ساتھی کو سناتا۔ جس دن یہ واقعہ ہؤا اس دن حضرت عمرؓ کے ساتھی کی باری تھی۔ جب وہ مدینہ سے واپس گئے تو اُنہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا۔ عمر! تجھے پتہ ہے کہ مدینہ میں کیا ہو گیا ہے؟ حضرت عمرؓ نے پوچھا کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ اُن کی یہ بات سن کر حضرت عمرؓ بہت گھبرائے کیونکہ رسول کریم ﷺ کے نکاح میں حضرت عمرؓ کی بیٹی حفصہ ؓبھی تھیں۔ حضرت عمرؓ مدینہ گئے اور جاتے ہی حضرت حفصہؓکے گھر میں داخل ہوئے۔ جب پہنچے تو حضرت حفصہؓ بیٹھی رو رہی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے جاتے ہی حضرت حفصہؓ سے کہا۔ بیوقوف! کیامَیں تمہیں منع نہیں کیا کرتا تھا کہ تم رسول اللہ ﷺ کا ادب کیا کرو اور تم عائشہؓ کی نقلیں نہ کیا کرو۔ عائشہؓ کا مقام اَور ہے اور تمہارا مقام اَور ہے۔ لیکن تم نے میری بات نہ مانی اور اب نتیجہ نکل آیا۔ پھر حضرت حفصہؓسے پوچھا کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے سب بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ حضرت حفصہؓ نے کہا۔ نہیں طلاق تو نہیں دی البتہ ناراض ہوکر چلے گئے ہیں۔ حضرت عمرؓ وہاں سے نکلے اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اندر آنے کی اجازت مانگی۔ رسول کریم ﷺ نے آپ کو اندر آنے کی اجازت دی تو آپ اندر داخل ہوئے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب مَیں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور چٹائی کُھردری تھی۔ میرے جانے پر آپؐاٹھ کر بیٹھ گئے مگر حالت یہ تھی کہ تمام جسم پر چٹائی کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ مَیں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللہ! آرام اور آسائش کے تمام سامان قیصر و کسریٰ کے پاس ہیں اور وہ اپنے زندگی کے دن نہایت تعیُّش اور آرام کے ساتھ بسرکر رہے ہیں اور آپؐکے لئے آرام کا کوئی سامان نہیں۔ آپؐکے لئے یہ چٹائی ہے جس کے نشان آپ کے تمام جسم پر پڑ گئے ہیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں مَیں نے یہ بات جان بوجھ کر کہی تاکہ اگر آپؐکی طبیعت میں کوئی غصہ ہو تو وہ دور ہو جائے۔ میری بات پر آپؐہنس پڑے۔ مَیں نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! کیا یہ صحیح ہے کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپؐنے فرمایا
نہیں طلاق تو نہیں دی۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ یَا رَسُوْلَ اللہ! مَیں تو حفصہؓکو سمجھاتا رہتا ہوں کہ تم عائشہ کی نقلیں نہ کیا کرو او رآپ کا بہت ادب و احترام کیا کرو۔ پھر کہا یَا رَسُوْلَ اللہ!آپ سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ہم مکہ والوں کے سامنے ہماری بیویاں بولتی نہ تھیں۔ ایک دن کسی بات پر میری بیوی مجھے مشورہ دینے لگی تو مَیں نے اسے کہا تُو اپنی حیثیت تو دیکھ۔ تیرا کیا کام ہے کہ تُو مجھے مشورہ دے۔ لیکن ہماری عورتوں کو بھی آہستہ آہستہ مدینے کی عورتوں نے خراب کر دیا۔ ایک دن مَیں بات کر رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھے کسی معاملہ کے متعلق مشورہ دینے کی کوشش کی۔ جب مَیں نے اُسے روکا تو اُس نے مجھے جواب دیا کہ رسول اللہ کے گھر میں ان کی بیویاں آپؐکو مشورہ دیتی ہیں تو تم کون ہو ہمیں روکنے والے؟ اس طرح حضرت عمرؓ نے نہایت لطیف پیرایہ میں اس طرف اشارہ کیا کہ آپؐنے ہی عورتوں کو آزادی دی ہے۔ اگر ان سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو وہ معافی کی حقدار ہیں۔ مگر باوجود ان تمام باتوں کے رسول کریم ﷺ نے عورتوں کے حقوق کی نہایت اعلیٰ طور پر حفاظت کی۔ یہاں تک کہ آپؐنے اپنی آخری تقریر میں بھی یہی وصیت کی کہ عورتوں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا۔ اور اپنے غلاموں کو اپنے بھائیوں کی طرح رکھنا او ران سے ایسا کام نہ لینا جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔
بہرحال اسلام نے عورتوں کے حقوق کی جتنی حفاظت کی ہے کسی اَور مذہب نے نہیں کی۔ لیکن چونکہ انسان ایک ایسا مرکّب وجود ہے جس میں مختلف قسم کی عادات اور خواہشات موجود ہوتی ہیں اس لئے میاں بیوی میں کبھی نہ کبھی اختلاف بھی پیدا ہو جاتا ہے اور ان کے تعلقات ایک ہی حال پر نہیں رہ سکتے۔ اگر یہ اختلاف بہت شدت کا رنگ پکڑ لے تو ایسے مواقع کے لئے اسلام کا حکم ہے کہ مرد عورت کو طلاق دے دے یا عورت مرد سے خلع کرا لے۔ لیکن طلاق اور خلع سے پہلے کچھ احکام بیان کئے ہیں جن کو مدنظر رکھنا مرد، عورت اور قاضیوں کا فرض قرار دیا ہے تاکہ طلاق یا خلع عام نہ ہو جائے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اِنَّ اَبْغَضَ الْحَلَالِ عِنْدَ اللہِ الطَّلَاقُ یعنی حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق ہے۔ جب طلاق حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے تو ایک مومن جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہے وہ اس چیز کے کس طرح قریب جا سکتا ہے جس کے متعلق وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ ہر کام جو جائز ہے ضروری نہیں کہ اسے کیا بھی جائے۔ تم میں سے ہر ایک شخص جانتا ہے کہ بنارس، کلکتہ، مدراس یا بمبئی جانا حلال ہے لیکن کتنے ہیں جو ان جگہوں میں گئے ہیں؟ اگر حلال کے یہی معنے ہیں کہ اسے ضرور کیا جائے تو پھر تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ جن لوگوں کے پاس ان شہروں میں جانے کے لئے روپیہ نہ تھا وہ اپنی جائیدادیں بیچ ڈالتے اور اس حلال کام کو ضرور سر انجام دیتے۔ لیکن لوگوں کا اس پر عمل نہ کرنا بتاتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو بات حلال ہے ضروری نہیں کہ اس پر عمل کیا جائے۔ جگہ ، مناسب موقع اور محل کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر ایک حلال کام کے کرنے سے ناپسندیدگی کے سامان پیدا ہوتے ہیں تو اس کام سے بہرحال اجتناب کیا جائے گا۔ مثلاً پیاز کھانا حلال ہے لیکن مسجد میں پیاز کھا کر جانامنع ہے کیونکہ وہاں لوگوں کو اس کی بُو سے تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کے لئے یہ حلال ہے کہ وہ سبز رنگ کا کپڑا پہنے یا اُودے رنگ کا کپڑا پہنے یا زرد رنگ کا کپڑا پہنے۔ اگر کسی کا دوست کہے کہ یہ زرد رنگ کا کپڑا خرید لو تو وہ کہتا ہے۔ مجھے زرد رنگ اچھا نہیں لگتا۔ اب اس کے نزدیک حلال وہ چیز ہے جو اس کی پسند کے مطابق اور اس کی طبیعت کو اچھی لگتی ہے۔ کھانے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ۔ لیکن بعض لوگ بینگن نہیں کھاتے۔ بعض لوگ کدو کو پسند نہیں کرتے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ بینگن کیوں نہیں کھاتے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پسند نہیں۔ یا دوسرے شخص سے پوچھا جائے کہ آپ کدو کیوں نہیں کھاتے؟ تو وہ کہتا ہے میری بیوی اس کو ناپسند کرتی ہے۔ اسی طرح جب لوگ مکان تیار کرتے ہیں تو اپنے مذاق اور اپنی طبیعت کے مطابق بناتے ہیں ۔ کوئی ایک منزلہ مکان بناتا ہے، کوئی دو منزلہ اور کوئی سہ منزلہ۔ کوئی مکان میں باغیچہ لگانا پسند کرتا ہے اور کوئی بغیر باغیچہ کے۔ اب یہ ساری چیزیں حلال ہوتی ہیں لیکن وہ سب پر عمل نہیں کرتا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ہر حلال بات پر عمل کرنا ضروری نہیں لیکن جب بیوی کو طلاق دینے کا معاملہ پیش آ جائے تو یہ کہتے ہوئے کہ بیوی کو طلاق دینا جائز ہے۔ فوراً بے سوچے سمجھے طلاق دے دی جاتی ہے حالانکہ بعض حلال چیزیں انسان اپنے نفس کی خاطر ، بعض اپنے دوستوں کی خاطر اور بعض سوسائٹی کی خاطر ہمیشہ چھوڑتا رہتا ہے۔ درحقیقت ایسے موقع پر ایک مومن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس حلال کو خدا کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ چونکہ یہ کام میرے خدا کو پسند نہیں اِس لئے مَیں یہ کام نہیں کرتا تا میرا خدا مجھ پر ناراض نہ ہو۔
پس رُشد اور ہدایت یہ نہیں کہ طلاق کو عام کیا جائے بلکہ رشد اور ہدایت یہ ہے کہ طلاق سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ حلال کے معنے یہ ہیں کہ چاہو تو کر سکتے ہو۔ قانون کے لحاظ سے منع نہیں۔ لیکن تمہیں دوسروں کے خیالات، دوسروں کے جذبات، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔ جس حلال پر عمل کرنے سے دوسروں کے خیالات، دوسروں کے جذبات، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کا خون ہوتا ہو، وہ حلال نہیں بلکہ ایسا حلال ایک جہت سے حلال ہے اور دوسری جہت سے حرام ہے۔ جب لوگ اپنے دوستوں کی ناراضگی، سوسائٹی کی ناراضگی اور قوم کی ناراضگی کا خیال رکھتے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی ایسی چیز ہے جس سے انسان کو بے پروا ہونا چاہئے؟ کیا خدا تعالیٰ کا وجود ہی ایسا کمزور ہے کہ جس کی ناراضگی انسان کے لئے قابل اعتناء نہیں؟ جب دنیوی اور سفلی عشق رکھنے والے لوگ اپنے محبوب کی چھوٹی سے چھوٹی خفگی سے ڈرتے ہیں اور اس کو ناراض ہونے کا موقع نہیں دیتے۔ تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن جس نے ایمان کی حلاوت پائی ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے انتہائی طور پر خائف نہ ہو۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکرؓ کی کسی بات پر تکرار ہو گئی ۔ یہ تکرار بڑھ گئی۔ حضرت عمرؓ کی طبیعت تیز تھی اِس لئے حضرت ابو بکرؓ نے مناسب سمجھا کہ وہ اس جگہ سے چلے جائیں تاکہ جھگڑا خوامخواہ زیادہ نہ ہو جائے۔ حضرت ابو بکرؓ نے جانے کی کوشش کی تو حضرت عمرؓ نے آگے بڑھ کر حضرت ابو بکرؓ کا کُرتہ پکڑ لیا کہ میری بات کا جواب دے کر جاؤ۔ جب حضرت ابو بکرؓ اس کو چُھڑا کر جانے لگے تو آپ کا کُرتہ پھٹ گیا۔ آپ وہاں سے اپنے گھر کو چلے آئے۔ لیکن حضرت عمرؓ کو شبہ پیدا ہؤا کہ حضرت ابو بکرؓ رسول کریم ﷺ کے پاس میری شکایت کرنے گئے ہیں۔ وہ بھی پیچھے پیچھے چل پڑے تاکہ مَیں بھی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں اپنا عذر پیش کر سکوں لیکن راستے میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ حضرت عمرؓ یہی سمجھے کہ آپ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں شکایت کرنے گئے ہیں۔ وہ بھی سیدھے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں جا پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا تو حضرت ابو بکرؓ موجود نہ تھے لیکن چونکہ ان کے دل میں ندامت پیدا ہو چکی تھی اِس لئے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ مَیں ابوبکرؓ سے سختی سے پیش آیا ہوں۔ حضرت ابو بکرؓ کا کوئی قصور نہیں۔ میرا ہی قصور ہے۔ جب حضرت عمرؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکرؓ کو جا کر کسی نے بتایاکہ حضرت عمرؓ رسول کریم ﷺ کے پاس آپ کی شکایت کرنے گئے ہیں۔حضرت ابو بکرؓ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مجھے بھی اپنی براءت کے لئے جانا چاہئے تاکہ یکطرفہ بات نہ ہو جائے اور مَیں بھی اپنا نقطہ نگاہ پیش کر سکوں۔ جب حضرت ابو بکرؓ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں پہنچے تو حضرت عمرؓ عرض کر رہے تھے کہ یَا رَسُوْلَ اللہ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ مَیں نے ابو بکرؓ سے تکرار کی اور ان کا کُرتہ مجھ سے پھٹ گیا۔ جب رسول کریم ﷺ نے یہ بات سُنی تو غصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔ آپؐنے فرمایا اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ جب ساری دنیا میرا انکار کرتی تھی اور تم لوگ بھی میرے مخالف تھے اس وقت ابو بکرؓ ہی تھا جو مجھ پر ایمان لایا اور ہر رنگ میں اس نے میری مدد کی۔ پھر افسردگی کے ساتھ فرمایا کیا اب بھی تم مجھے اور ابو بکرؓ کو نہیں چھوڑتے؟ آپ یہ فرما رہے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ داخل ہوئے۔ یہ ہوتا ہے سچے عشق کا نمونہ کہ
بجائے یہ عذر کرنے کےکہ یَا رَسُوْلَ اللہ! میرا قصور نہ تھا عمرؓ کا قصور تھا آپؓنے جب دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کے دل میں خفگی پیدا ہو رہی ہے، آپ سچے عاشق کی حیثیت سے یہ برداشت نہ کر سکے کہ میری وجہ سے رسول کریم ﷺ کو تکلیف ہو۔ آتے ہی رسول کریم ﷺ کے سامنے گُھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! عمرؓ کا قصور نہیں تھا میرا قصور تھا۔ دیکھو حضرت ابو بکرؓ کس قدر سچے عاشق تھے کہ آپ یہ برداشت نہ کر سکے کہ آپ کے معشوق کے دل کو تکلیف ہو۔ آپ یہ دیکھ کرکہ رسول کریم ﷺ حضرت عمرؓ پر ناراض ہوئے ہیں، خوش نہیں ہوئے۔ عام طور پر لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے مد مقابل کو جھاڑ پڑتی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ خوب جھاڑ پڑی لیکن اس سچے عاشق نے یہ پسند نہ کیا کہ رسول کریم ﷺ کے دل کو تکلیف ہو۔ خواہ کسی وجہ سے ہو۔ آپ نے کہا مَیں مجرم بن جاتا ہوں لیکن مَیں اپنے معشوق کا دل رنجیدہ نہیں ہونے دوں گا۔ اور نہایت لجاجت سے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! عمرؓ کا قصور نہیں میرا قصور ہے۔ اگر حضرت ابو بکرؓ رسول کریم ﷺ کے دل کے ملال کو دور کرنے کی خاطر مظلوم ہونے کے باوجود ظالم ہونے کا اقرار کرتے ہیں تا آپ کے دل کو تکلیف نہ پہنچے۔ تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن بندہ اپنے خدا کی خوشنودی کے لئے وہ کام نہ کرے جو اسے خدا تعالیٰ کی رضا کے قریب کر دے۔ بے شک رسول کریم ﷺ ہمیں بہت پیارے ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے بعد کسی سے اتنی محبت کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن پھر بھی خدا خدا ہے اور رسول کریم ﷺ رسول کریم ﷺ ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ کا بہت بلند مرتبہ ہے جو کسی اَور انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس کے باوجود آپ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ معبود ہے۔ آپ مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ خالق ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات کے نیچے ہیں اور اللہ تعالیٰ محسن ہے، آپ فانی تھے اور اللہ تعالیٰ غیر فانی اور ازلی ابدی ہے۔ آپؐاللہ تعالیٰ کے محتاج تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کی حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ آپ کمزور تھے اور اللہ تعالیٰ بے انتہاء طاقتوں کا مالک ہے۔ پس جب حضرت ابو بکرؓ کا دل رسول کریم ﷺ کا ملال دیکھ کر تڑپ جاتا ہے تو ایک مومن رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث پڑھ کر یا سن کر کہ اِنَّ اَبْغَضَ الْحَلَالِ عِنْد اللہِ الطَّلَاقُکس طرح آسانی سے جرأت کر سکتا ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرے۔ جب شریعت کہتی ہے کہ تم اس اَبْغضُ الْحَلَالِکو اختیار کرنے سے پرہیز کرو۔ تو ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور میں کمی پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اس بات کو میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کے وقت بھول نہ جائے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ طلاق اور خلع درحقیقت ایک ہی معنے رکھتے ہیں۔ اگر مرد عورت کو چھوڑتا ہے تو وہ طلاق کہلائے گی۔ اور اگر عورت ہی اس سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ اسے آزاد کر ے تو وہ
خلع کہلائے گا اور خلع بھی اَبْغَضُ الْحَلَالِ کے ماتحت ہی آئے گا۔ جہاں تک انسانی حقوق کا سوال ہے طلاق اور خلع دونوں ہی مسلمانوں کے اندر سے تلف ہو چکے تھے اور مسلمان اس پر کسی صورت میں بھی عمل کرنے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ جس کی وجہ سے عورتوں کے لئے از حد مشکلات کا سامنا تھا۔ احمدیت نے ان دونوں حقوق کو قائم کیا اور عورتوں کو ان تکالیف سے نجات دی جو ان حقوق کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کو پہنچتی تھیں۔اور ساتھ ہی اس حدیث کے مضمون کو بھی لوگوں کے سامنے بوضاحت بیان کیا اور بتایا کہ ان دونوں رستوں کو اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اَبْغَضَ الْحَلَالِ ہے۔ لیکن چونکہ یہ حق ابھی نیا نیا حاصل ہؤا ہے اورہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ ہر نئے حق کو لوگ خوب استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اِسی وجہ سے ہماری جماعت نے ان دونوں رستوں کے اختیار کرنے میں جلد بازی سے کام لیاہے اور جماعت کا ایک حصہ طلاق اور خلع کی طرف مائل ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ جب میاں بیوی میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو اس کو دور کرنے کے لئے حَکم مقرر کئے جائیں۔ جو کوشش کریں کہ ان کی رنجش دور ہو جائے اور وہ پہلے کی طرح پیار اور محبت کی زندگی بسر کرنے لگیں۔ لیکن اگر ایسے ہی حالات پیدا ہو جائیں کہ صلح کی صورت نہ ہو سکے تو پھر خلع کی صورت میں قاضی کے سپرد یہ معاملہ کیا جائے اور وہ اس کا فیصلہ کرے۔ یونہی ذرا ذرا سی بات پر خلع اور طلاق تک نوبت پہنچا دینا نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔ اور یہ اتنا بھیانک اور ناپسندیدہ طریق ہے کہ ہر شریف آدمی کو اس سے نفرت ہونی چاہئے۔ میاں بیوی کا اتحاد معمولی اتحاد نہیں اور میاں بیوی کے تعلقات معمولی تعلقات نہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات ایسے ہیں کہ باپ بیٹے کے تعلقات بھی ایسے نہیں۔ مرد اپنے جسم کے وہ حصے جن کو وہ اپنے باپ اور اپنی ماں کے سامنے بھی ظاہر نہیں کر سکتا اپنی عورت کے سامنے ظاہر کر دیتا ہے۔ اسی طرح عورت اپنے وہ اجزا جن کا دیکھنا اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر حلال نہیں اپنے خاوند پر ظاہر کر دیتی ہے۔ اس قسم کے تعلقات کے بعد اگر ایک مرد اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے یا عورت خلع کرانا چاہتی ہے تو اُن دونوں نے میاں بیوی کے تعلقات کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک یہ ایک کھیل ہے جو کھیلا گیا۔ ایک عورت جو خلع کرانا چاہتی ہے یا ایک مرد جو اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے۔ ان دونوں نے اسلامی تعلیم کو ایک تمسخر سمجھا ہے۔ وہ عورت جو خلع کرانا چاہتی ہے آخر خلع کیوں کرائے گی؟ اسی لئے کہ وہ کسی اَور مرد سے شادی کرے۔ گویا دوسرے الفاظ میں اس کا یہ مفہوم ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو منڈی میں بیچنا چاہتی ہے حالانکہ اسلام نے اس کی بہت بڑی عزت قائم کی ہے۔ اور وہ مرد جو طلاق دے کر عورت کی عزت کو برباد کرنا چاہتا ہے غیر مسلم لوگوں سے بھی اخلاق میں پیچھے ہے کیونکہ ہر سوسائٹی میں اور ہر مذہب اور ہر طبقہ میں خواہ وہ مہذب ہو یا غیر مہذب، متمدن ہو یا غیر متمدن، عورت کی عزت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اسے ایک مقدس وجود قرار دیا گیا ہے۔ پس اگر ایک مرد بلاوجہ اپنی عورت کو طلاق دیتا ہے تو وہ غیر مسلم لوگوں سے بھی اخلاق میں پیچھے سمجھا جائے گا۔ اور اگر کوئی عورت بِلا وجہ خلع لینا چاہتی ہے تو اس نے بجائے اپنی عزت کرانے کے اپنے آپ کو بازار میں بیچنے کا ارادہ کیا اور اپنے مقدس مقام کو وہ بھول گئی ہے۔ پس وہ تمام لوگ جو ان چیزوں کی اہمیت کو نہیں سمجھتے وہ قومی اخلاق کو برباد کرنے والے ہیں۔ جماعت کا فرض ہے کہ وہ طلاق اور خلع کے خراب نتائج پر زور دے اور اس کو عام ہونے سے روکے۔ میرے پاس بعض مقدمات آتے ہیں تو مجھے حیرت آتی ہے کہ کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو لوگ انشقاق کا موجب بنا لیتے ہیں۔ مرد کہتا ہے کہ میری بیوی جاتے ہوئے ایک ٹرنک ساتھ لے گئی ہے اور بیوی کہتی ہے کہ انہوں نے میری مُرکیاں لے لی ہیں واپس نہیں کرتے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے تعلقات کو خراب کرنا عقلمندوں کا کام نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک اگر بیوی میں کوئی غلطی ہے تو اُس کی اخلاقی اصلاح کرنی چاہئے لیکن اسے چھوڑ دینے پر آمادہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہیڈ ماسٹر لڑکوں کو سبق دیتا ہے۔ کیا جو لڑکے سبق یاد نہیں کرتے اُنہیں سکول سے نکال دیتا ہے؟ اِسی طرح انسانوں میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں، کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں، کمزوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن مومن کا کام ہے کہ اُن کو دور کرنے کی کوشش کرے اور وہ جنس جسے اللہ تعالیٰ نے مقدس بنایا ہے اسے بازار میں بکنے والی جنس نہ بنا دے۔
پس مَیں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے ایسے جھگڑے نہایت سنجیدگی کے ساتھ سلجھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور مَیں قاضیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں ایسے معاملات میں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ مَیں حیران ہوں کہ قاضیوں نے بھی ان معاملات کو محض ایک تمسخر سمجھ لیا ہے، مقدمات کو لمبا کرتے چلے جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اصلاح کی صورت پیدا ہو، وقت کے زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ دلوں میں شکوک و شبہات بھی زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ مَیں قاضیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ ایسے معاملات میں وہ کسی فریق کے وکیل کو قریب بھی نہ آنے دیں اور وہ بجائے قاضی کے باپ بننے کی کوشش کریں اور لڑکے کو اپنا بیٹا سمجھیں اور لڑکی کو اپنی بیٹی سمجھیں۔ جس طرح باپ اپنے بچوں کو سمجھاتا ہے اسی رنگ میں ان کو سمجھائیں اور شریعت کے مسائل انہیں بتائیں اور انہیں طلاق اور خلع کے نقصانات بتائیں کہ اس کے عام ہونے سے قوم کے اخلاق گر جاتے ہیں۔ جن کی اولاد موجود ہو گی جب وہ بڑے ہوں گے تو اُن پر کیا اثر پڑے گا کہ ہمارے ماں باپ نے معمولی سی بات پر جدائی اختیار کر لی تھی اور وہ اپنے ماں باپ سے کونسا نیک نمونہ حاصل کریں گے اور ایسی اولاد کیسے ترقی حاصل کر سکتی ہے۔ پس یہ چیزیں اخلاق کو سنوارنے والی نہیں بلکہ اخلاق کو بگاڑنے والی ہیں۔جماعت کو ان کی اہمیت سمجھنی چاہئے کیونکہ میرے نزدیک یہ اہم امور سے بھی بالا چیز ہے۔ جب بھی قاضی کے پاس کوئی ایسا معاملہ پیش ہو اس کا دل کانپ جانا چاہئے کہ کہیں مَیں کوئی ایسا فیصلہ نہ کر دوں جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو۔ اور اسے معاملہ کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے فیصلہ کرنا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جب کوئی ایسا جھگڑا ہو جائے تو نہ مرد کے ماں باپ اور نہ ہی عورت کے ماں باپ اس میں دخل دینے کی کوشش کریں اور وہ قاضی پر پورا اعتماد رکھیں۔ اگر انہیں فیصلہ میں کوئی سقم معلوم ہو تو وہ ہمیں لکھ سکتے ہیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ اس فیصلہ میں واقع میں کوئی سُقم موجود ہے یا نہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ قاضیوں کی بھی عقل تیز ہو جائے گی۔
شادی کے بعد ماں باپ کے حقوق ختم نہیں ہو جاتے بلکہ شادی کے بعد بھی ماں باپ کے حقوق اولاد پر ہوتے ہیں۔ اگر ایک عورت ایسی ہے کہ اس کے پاس سوائے ایک لڑکی کے اَور کوئی بچہ نہیں جو اس کی خدمت کر سکے۔ جب وہ اس لڑکی کی شادی کر دیتی ہے تو اب اس کے داماد کا فرض ہے کہ یا تو اس لڑکی کو اپنی ماں کی خدمت کا موقع دے اور اسے اس کے پاس رہنے دے۔یا اگر وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اس کی بوڑھی والدہ کا بھی بوجھ اٹھائے۔ کیونکہ اصل میں یہ بوجھ اس کی بیوی کے ذمہ تھا۔ لیکن جب وہ یہ چاہتا ہے کہ میری بیوی میرے ساتھ رہے تو اسے اپنی ساس کا بوجھ بھی اٹھانا چاہئے۔ اسی طرح اگر لڑکے کے والدین بوڑھے ہیں اور انہیں خدمت کی ضرورت ہے تو لڑکی کا فرض ہے کہ ان کی خدمت کرے اور ان سے نرمی کے ساتھ پیش آئے۔ یہ ذمہ داریاں میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہیں۔ بعض لوگ ایسے موقع پر اپنے اخراجات کی تنگی کا عذر پیش کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ عذر اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ غریبوں کے گھروں میں اکثر بچے زیادہ ہوتے ہیں۔ آخر وہ بھی اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ میرے پاس غرباء کی جو درخواستیں غلّے کے لئے آئیں ان میں سے اکثر آدمی ایسے تھے جن کے چھ سات سے آٹھ نو بچے تھے۔ مَیں حیران ہوا کہ جو بھی درخواست کرتا ہے اسی کے آٹھ نو بچے ہوتے ہیں۔ مَیں یہ سمجھا کہ یہ لوگ مبالغہ سے کام لیتے ہیں لیکن جب مَیں نے تحقیقات کرائی تو بات درست نکلی۔ اب یہ لوگ آٹھ آٹھ نو نو بچے پیدا کرنے اور اُن کے پالنے سے نہیں گھبراتے تو آپ ماں باپ کی خدمت سے کیوں گھبراتے ہیں۔ ایک دو آدمی کا بوجھ اٹھانا میرے نزدیک کوئی مشکل نہیں۔ بشرطیکہ انسان اس کا ارادہ رکھتا ہو۔ اگر تم اپنی بیوی کے ماں باپ کی خدمت کرو گے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آؤ گے تو تمہاری بیوی دل سے تمہاری وفادار ہو گی اور تم سے زیادہ محبت کرے گی اور پہلے سے زیادہ تمہاری فرمانبردار ہو گی۔ لیکن اس بات کو ہمیشہ یاد رکھو کہ اگر اس کے والدین کو اپنے پاس رکھتے ہو تو انہیں نوکر سمجھ کر نہ رکھو۔ بلکہ انہیں اپنا سردار سمجھ کر رکھو۔اور ان سے ایسا سلوک نہ کرو جیسا کہ نوکروں سے کیا جاتا
ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اپنے یا اپنی بیوی کے ماں باپ کو اپنے پاس لے تو آتے ہیں لیکن ان سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کا کام کاج بھی کریں۔ یہ طریق پسندیدہ نہیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکی کے والدین لڑکی کویہ سمجھاتے ہیں کہ لڑکے کے والدین کو اس کے پاس نہ آنے دینا اور لڑکے کے ماں باپ لڑکے کو یہ سمجھاتے ہیں کہ دیکھنا! لڑکی کے والدین کو قریب نہ آنے دینا۔ ان کی ہدایت کے مطابق لڑکا اور لڑکی دونوں عمل کرنا شرع کرتے ہیں۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں لڑائی جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے۔ لڑکا کہتا ہے کہ یہ میرے والدین کو بُرا سمجھتی ہے اور لڑکی کہتی ہے کہ یہ میرے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔ تمام وہ والدین جو اپنے لڑکے لڑکیوں کو یہ ہدایت دیتے ہیں وہ اپنی اولاد کے خیر خواہ نہیں بلکہ وہ اپنی اولاد کے بد ترین دشمن ہیں۔ اور وہ میرے نزدیک شیطان کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ شیطان کا کام ہے کہ وہ افتراق اور انشقاق کو پسند کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی کسی دوسرے کے لڑکے یا لڑکی سے عزت نہیں کروا سکتے۔ جب ماں باپ ہی ایسی بیہودہ نصائح کریں تو تعلقات کیونکر اُستوار رہ سکتے ہیں۔ اور لڑکے اور لڑکی کی عمر تباہ کرنے میں سب سے زیادہ حصہ ان کے والدین کا ہوتا ہے۔ چونکہ والدین نے یہی کچھ سکھایا ہوتا ہے کہ والدین کو قریب نہیں آنے دینا چاہئے اِس لئے شادی کے بعد ایک دفعہ میاں بیوی میں کشیدگی ضرور پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ یہ تفرقہ خلع یا طلاق کی نوبت اختیار کر لیتا ہے۔ اور اگر ان میں سے ایک مغلوب ہو جائے اور دوسرا غالب ہو جائے تو جو غالب ہوتا ہے وہ دوسرے کے والدین کو جواب دے دیتا ہے۔ بہرحال یہ ایک ذلّت کی بات ہے اور یہ طریق میرے نزدیک نہایت ظالمانہ ہے۔ فرض کرو بیوی اپنے خاوند پر غالب آ گئی اور اس نے ماں باپ سے قطع تعلق کر لیا اور ان کی خدمت سے منہ پھیر لیا تو اُس لڑکے پر خدا کی لعنت ہوگی۔ لیکن ساتھ ہی اس لڑکی پر بھی خدا کی لعنت ہو گی۔کیونکہ اُس نے اُسے اس بات پر مجبور کیا کہ والدین سے قطع تعلق کرے۔ اور اگر لڑکی نے اپنے والدین کو چھوڑ دیا تو لڑکی پر خدا کی لعنت ہو گی اور ساتھ ہی اس لڑکے پر بھی خدا تعالیٰ کی لعنت ہو گی کیونکہ اُس نے اُسے سراسر مجبور کیا۔ پس اگر لڑکے کی وجہ سے لڑکی نے اپنے والدین کو چھوڑا تو لڑکی بھی لعنتی ہوئی اور یہ لڑکا بھی لعنتی ہوا۔ اور اگرلڑکی کی وجہ سے لڑکے نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا تو لڑکا بھی لعنتی ہوا اور لڑکی بھی لعنتی ہوئی۔ یہ چیز چاروں طرف سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے گِھری ہوئی ہے۔ مومن کا فرض ہے کہ اس سے بچنے کی کوشش کرے۔
ہمارے علماء کو چاہئے کہ رات دن اِن مسائل کو لوگوں کے سامنے بیان کریں اور اسلامی تعلیم کو بار بار لوگوں کے سامنے پیش کریں تاکہ لوگوں کے ذہن نشین ہو جائے کہ طلاق اور خلع نہایت ہی ناپسندیدہ چیزیں ہیں اور اِن پر اُس وقت عمل کرنا چاہئے جبکہ کوئی
صورت صلح کی باقی نہ رہے۔ اور قاضیوں کو بھی چاہئے کہ باپ بن کر صلح کرانے کی کوشش کریں اور کسی فریق کے وکیل کو دخل دینے کی اجازت نہ دیں اور ہمدردی، محبت او رنرمی سے جھگڑے کو مٹانے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات حالات بہت خراب ہو جاتے ہیں اور بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی لیکن اگر خلوصِ دل سے اس جھگڑے کو دور کرنے کا ارادہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان حالات کو درست کر دیتا ہے۔ ایک دفعہ میرے پاس اِسی قسم کا ایک جھگڑا آیا۔ میاں اور بیوی دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے سخت بُغض پیدا ہو چکا تھا۔ مَیں نے اُن دونوں کو بلایا اور محبت اور پیار سے سمجھایا لیکن لڑکے نے کہا کہ مَیں کبھی بھی اس کو رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اس نے میرے بھائی کی سخت بے عزتی کی ہے۔ اور لڑکی نے کہا مَیں اس کی شکل تک دیکھنے کو تیار نہیں کیونکہ اس نے میرے باپ کو بُرا بھلا کہا ہے۔ مَیں نے بہت کوشش کی کہ ان کی صلح ہو جائے لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ صلح کے لئے رضامند نہ ہوئے۔ مَیں نے اُن کو رخصت کر دیا اور چونکہ نماز کا وقت ہو چکا تھا نماز کے لئے چلا گیا۔ نماز میں اُن کی ضِد دیکھ کر مجھ پر رقّت طاری ہو گئی اور مَیں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا الٰہی! ہماری جماعت کے اخلاق کو کیاہو گیا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اِتنا طول دے دیتے ہیں ۔ دوسرے دن وہی لڑکی میرے پاس آئی اور وہ ہنس رہی تھی۔ اُس نے مجھے ہنستے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم کہا۔ مَیں نے کہا کیا بات ہے؟ اُس نے کہا وہ مجھے لینے آئے ہیں اور مَیں چلی ہوں۔ چنانچہ اُس کے بعد میاں بیوی میں محبت ہو گئی اور اب ان کے بہت سے بچے بھی ہیں۔
پس قاضیوں کا فرض ہے کہ وہ باپ بن کر معاملہ کو سُلجھانے کی کوشش کریں۔ وہ یہ سمجھیں کہ لڑکی کا خاوند میرا بیٹا ہے اور یہ لڑکی میری بیٹی ہے۔ اگر اس وقت میری بیٹی غلطی کرتی تو مَیں کیا کرتا۔ جو درد اُن کو اپنی اولاد کے متعلق ہے وہی درد انہیں دوسرے لوگوں کے متعلق ہونا چاہئے۔ اگر قاضیوں کے دل میں درد پیدا ہو گا تو لازمی بات ہے کہ دوسرے کے دل میں بھی درد پیدا ہو گا۔ میاں بیوی کے جھگڑے لین دین کے جھگڑوں کی طرح نہیں کہ قاضی ایک مجسٹریٹ کی حیثیت سے فیصلہ کرنے بیٹھے بلکہ یہ قوم کے اخلاق کا سوال ہے۔ اس لئے قاضی کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ کسی رنگ میں بھی وہ انسانی اخلاق کو تباہ کرنے والا نہ ہو۔ جب وہ فیصلہ کرنے لگے تو اُسے نظر آئے کہ میری بیٹی یا میرے بیٹے کی عمر کی بربادی کا سوال درپیش ہے۔ کبھی کبھار اُسے طلاق اور خلع کی بھی اجازت دینی پڑے گی لیکن ایسی صورت میں اخلاق کے بگڑنے کا امکان کم ہو گا اور امید کی جاتی ہے کہ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کوئی پہلو اس میں نہیں ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جون 1946ء )
(مطبوعہالفضل 25 جولائی 1946ء)