اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ دینا کے عظیم ترین ماہر نفسیات (عبد القیوم ناصر سابق امیر جماعت احمدیہ آسنور کشمیر)

قارئینِ کرام! اصل موضوع پر بات کرنے سے پہلے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ماہرِ نفسیات کون ہوتا ہے۔ ماہرِ نفسیات دراصل وہ شخص ہوتا ہے جو انسانی ذہن، جذبات، رویوں، خیالات اور دیگر نفسیاتی مسائل کا مطالعہ کرتا ہے، انہیں سمجھتا ہے اور پھر ان کا حل بھی فراہم کرتا ہے۔

اسلامی تعلیمات نے نفسیاتی صحت کے حوالے سے نہایت جامع اور گہرے اصول بیان کیے ہیں۔ ان تعلیمات میں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر امن، سکون اور خوشحالی کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا گیا ہے، تاکہ انسان نہ صرف ذہنی طور پر متوازن رہے بلکہ معاشرتی طور پر بھی پر سکون زندگی گزار سکے۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں نفس کی تربیت، اس کی اصلاح اور ذہنی صحت کے استحکام کے لیے متعدد راہنما اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کو نہ صرف عبادت کا ثمرہ قرار دیا گیا ہے، بلکہ اسے خیر اور فلاح کے حصول کا ذریعہ بھی سمجھا گیا ۔

ماہرِ نفسیات ایک جدید اصطلاح ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم یا احادیثِ نبویہ میں براہِ راست نہیں ملتا۔ تاہم انسانی نفسیات، جذبات، فطری میلانات اور باطنی کیفیات کے بارے میں قرآن و سنت ایسی جامع، عمیق اور مؤثر تعلیمات پیش کرتے ہیں جن کی مثال دنیا کے کسی اور نظامِ فکر میں نہیں ملتی۔ اسی بنا پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت، حکمت و بصیرت اور اصلاحِ نفس کا طریق ایک عظیم نفسیاتی سرمایہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے:

لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۔ (سورۃ التوبہ، آیت 128)

یعنی یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے۔ تمہاری تکلیف اس پر شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا نہایت خواہش مند ہے اور مومنوں کے لیے انتہائی شفیق اور بے حد رحم کرنے والا ہے۔

اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے حالات، احساسات، جذبات اور نفسیاتی کیفیات سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ آپؐ محض ظاہری اعمال کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ انسان کے باطن، اس کی روحانی ضروریات، نفسیاتی کمزوریوں اور فطری رجحانات کو بھی پوری حکمت کے ساتھ سمجھتے تھے، اور پھر ہر شخص کی استعداد اور کیفیت کے مطابق اس کی راہنمائی فرماتے تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے ”وہی ہے جس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔“

(سورۃ الجمعہ، آیت 2)

اس قرآنی ارشاد کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے معلم، مربی، مصلح اور راہنما تھے جو انسانی نفس، جذبات اور فطرتِ انسانی کی گہری معرفت رکھتے تھے۔ آپؐ صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے تھے بلکہ روحانی، اخلاقی اور عملی تربیت کے ذریعے انسان کی اندرونی اصلاح بھی فرماتے تھے۔

یہاں آپؐ کو معلمِ حکمت قرار دیا گیا ہے۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص کی ذہنی، نفسیاتی اور روحانی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت پر مناسب انداز میں ایسی تعلیم اور تربیت کی جائے جو اس کے دل و دماغ پر مثبت اثر چھوڑے۔ یہی غیر معمولی بصیرت، فہم، فراست، حسنِ تدبیر اور نفوسِ انسانی کی صحیح تشخیص آپؐ کو ایک بے مثال معلمِ حکمت بناتی ہے۔

اگرچہ ”ماہرِ نفسیات“ ایک جدید اصطلاح ہے، لیکن انسانی شخصیت کی تعمیر، ذہنی و روحانی بیماریوں کے علاج، اخلاقی اصلاح، جذبات کی تطہیر اور کردار سازی کے جس کامل اور مؤثر نظام کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی، اس کی ہمسری جدید نفسیات بھی نہیں کر سکتی۔ آپؐ نے محبت، شفقت، حکمت، انفرادی مزاج شناسی اور عملی نمونے کے ذریعے انسانوں کے قلوب و اذہان میں ایسی مثبت تبدیلیاں پیدا کیں جو محض نظریاتی گفتگو سے کبھی ممکن نہیں ہو سکتیں۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو آپؐ کو انسانیت کا کامل ترین مربی، معلمِ حکمت اور حقیقی معنوں میں انسانی نفسیات کا سب سے اعلیٰ راہنما قرار دیتے ہیں ۔ ایک ماہرِ نفسیات کا بنیادی مقصد انسان کے افکار، جذبات اور رویّوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس معیار پر آنحضرتؐ کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آپؐ نے نہایت مختصر عرصے میں ایک ایسی قوم کی کایا پلٹ دی جو شراب نوشی، خونریزی، قبائلی تعصب، جہالت، اخلاقی انحطاط اور بے شمار معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھی۔ آپؐ نے حکمت، محبت، شفقت، حسنِ تربیت اور روحانی تزکیہ کے ذریعے انہی افراد کو اعلیٰ اخلاق، تقویٰ، ایثار، رحم، عدل اور خدا ترسی کا پیکر بنا دیا۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اس عظیم انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”وہ نبی جس نے ایک وحشی قوم کو انسان بنایا، اور پھر انسان سے خدا نما انسان بنایا۔“

(آئینۂ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن، جلد 5،صفحہ 121)

یہ تبدیلی محض ظاہری اصلاح نہ تھی بلکہ انسان کے باطن، فکر، کردار اور نفسیات کی ہمہ جہت تطہیر تھی۔ یہی وہ غیر معمولی تربیتی اور نفسیاتی انقلاب ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ کسی بھی ماہرِ نفسیات کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ نفس شناس ہو، یعنی وہ انسانی جذبات، خیالات اور باطنی کیفیات کو گہرائی سے سمجھتا ہو۔ اسی بصیرت کی بنیاد پر وہ انسان کی اندرونی حالت کا درست ادراک کر سکتا ہے، جس کے بغیر کوئی بھی علاج یا تربیت مؤثر نہیں ہو سکتی۔

اس تناظر میں اگر ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ ہر فرد کو اس کی ذہنی کیفیت، عمر، علمی استعداد، اور موجود حالات کے مطابق نصیحت اور تربیت فرماتے تھے۔ آپ کا طرزِ عمل انفرادی نوعیت کا حامل تھا۔ اس کا واضح ثبوت صحیح بخاری کی مشہور حدیث سے ملتا ہے، جس میں ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے وصیت طلب کی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لا تغضب“ (غصہ نہ کرو)۔ اس شخص نے بار بار یہی سوال دہرایا اور آپ ﷺ نے ہر بار یہی جواب دیاکہ غصہ نہ کرو۔اس واقعے سے دو اہم نفسیاتی نکات سامنے آتے ہیں۔ایک یہ کہ آپ ﷺ نے اس شخص کی مزاجی کیفیت کو بھانپ لیا کہ اس کا اصل مسئلہ غصہ ہے، چاہے اس نے خود اس کا اظہار نہ کیا ہو۔اور دوسرا یہ کہ بار بار ایک ہی جواب دے کر آپ ﷺ نے اسے ذہنی طور پر اس نکتے پر مرکوز کیا، تاکہ یہ نصیحت اس کے شعور کا حصہ بن جائے اور عملی زندگی میں اس کا نفاذ ممکن ہو سکے۔ یہی وہ نفسیاتی بصیرت ہے جو سیرتِ نبوی کو ہر دور کے ماہرینِ نفسیات کے لیے ایک لازوال سرمایہ بناتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام گفتگو یا تبلیغ بھی سامنے والے کی نفسیات سے اسقدر ہم آہنگ ہوتی تھی کہ عقل حیران ہو جاتی ہے ۔ مسند احمد بن حنبل کی ایک حدیث ہے جس میں بیان ہے کہ ایک بدوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاظر ہوا اور کہنے لگا کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بلکل ۔ اس بدوی نے پھر سے پوچھا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اس خدا کی طرف بلاتا ہوں جسے اگر تم تکلیف میں پکارتے ہو تو وہ تمہاری تکلیف کو دور کرتا ہے ۔ قحط سالی میں پکارتے ہو تو وہ تمہارے لئے اناج پیدا کرتا ہے اور بے آب و گیاہ زمیں میں راستے سے بھٹک کر اسے پکارتے ہو تو تمہیں راستہ دکھا تا ہے ۔“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گفتگو سن کر وہ شخص مسلمان ہوگیا۔ یہ گفتگو اس ماہر نفسیات کی گہرائی اور بصیرت کو بیان کرتی ہے، جس نے ایک معمولی سی گفتگو میں ایک عام انسان کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو سمجھ کر اسے ایسا "تریاق" عطا کیا جو اس کی روحانی اور ذہنی پیاس کو ہمیشہ کے لیے بجھا گیا۔ یہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ سچی سمجھ اور ہمدردی سے بھری بات انسان کی زندگی میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔نفسیات کا ایک اور اہم نقطہ یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کے اندر مایوسی اور خوف و ہراس کے رجحان کو پنپنے نہ دیا جائے۔ اس تناظر میں جب ہم معلمِ انسانیت حضرت رسولِ کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ جذبات کو قابو میں رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ آپ ﷺ نے غصہ، حسد، خوف اور رنج جیسے منفی جذبات کو اپنی حکیمانہ نصائح کے ذریعے مٹانے اور ان سے اپنے نفس کو پاک رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ‏"‏‏.‏

”طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“

(صحیح بخاری كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ الحَذَرِ مِنَ الغَضَبِ) ۔

ماہرین کے نزدیک بھی انسانی شخصیت کی تعمیر میں خوف اور امید کے درمیان توازن بے حد ضروری ہے۔ آپ ﷺ نے جہاں مومنوں کو خشیتِ الٰہی (خدا خوفی) کی تعلیم دی، وہاں خدا کی رحمت، محبت اور لقائے الٰہی کی امید بھی دلائی۔ یہی متوازن نفسیاتی تربیت انسان کو مایوسی اور خوف کے غلبے سے بچاتی ہے۔

آپ ﷺ نے ہمیشہ مثبت طرزِ فکر کی تعلیم دی اور منفی سوچ، ناامیدی و مایوسی سے سختی سے منع فرمایا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے مایوسی کو کفر کے مترادف قرار دیا اور ہر حال میں امید، توکل اور حسنِ ظن کو فروغ دیا—اور یہی ایک کامیاب ماہرِ نفسیات کا اعلیٰ ترین وصف ہوتا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”لوگوں کو خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ؛ آسانیاں پیدا کرو، دشواریاں پیدا نہ کرو۔“

(صحیح .بخاری)۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے امت میں ایک خوشگوار ماحول کے قیام کے لیے کس قدر گہری نفسیاتی مہارت کا استعمال کیا اور اس کے بہترین مثبت نتائج حاصل کیے۔

” نفسیاتی طور پر کمزور انسان کے ساتھ محبت، ہمدردی اور شفقت کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم اسوۂ رسولﷺ سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ غلطیوں اور کمزوریوں پر سخت تنقید کے عمل کو ناپسند فرمایا، اور اس کے برعکس ایسے مواقع پر حکمت، شفقت اور ہمدردانہ اصلاح کو ترجیح دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اسوۂ رسولﷺ کے تعلق سے لکھتے ہیں :

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نوعِ انسان کے لئے اس قدر رحم دل تھے کہ اس سے بڑھ کر تصور نہیں کیا جا سکتا۔“ (حقیقت الوحی، روحانی خزائن جلد 22، صفحہ 118)۔

آج کے جدید دور میں نفسیاتی کمزوریوں کی کونسلنگ (Counselling) میں بھی ہمدردی اور شفقت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام حالات میں نہ صرف اپنے ماننے والوں بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی جس ہمدردی، محبت اور نرمی کا سلوک فرمایا، وہ انسانی نفسیات کی عمیق فہم و فراست کو اجاگر کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو ہمارے پیارے آقاﷺ کے اس خوبصورت وصف کے گواہ ہیں۔

جدید دور میں مادی ترقی کے باوجود انسان اندرونی طور پر بےچین اور پریشان نظر آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ روحانی اور قلبی سکون کا فقدان ہے۔اس مسلے کا موثر علاج رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی راہ ہے، یعنی ذکر الٰہی، نماز، دعا اور صبر۔ قرآن مجید نے بھی واضح فرمایا:

الَا بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔(سورۃ الرعد: 28)

خبر دار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سکونِ قلب کا واحد نسخہ ذکرِ الٰہی کو قرار دیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے خود عملی زندگی میں اس کی تعلیم دی اور صحابہ کرام کو ہر حال میں ذکر، نماز اور صبر کا پابند رہنے کی تلقین فرمائی۔ ایک روایت میں آپ ﷺ نے دل اور ذکر کے تعلق کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ انسان کے دل میں دو خانے ہوتے ہیں، ایک میں فرشتہ اور دوسرے میں شیطان کا اثر ہوتا ہے۔ جب بندہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب غافل ہوتا ہے تو شیطان وسوسے ڈالتا ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ ذکر الٰہی دل کو شیطانی وسوسوں اور بےچینی سے بچانے کا ذریعہ ہے۔

پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا یہ وہ راستہ ہے جو انسان کو نفسیاتی اتھل پتھل سے نکال کر سکون اور اطمینان عطا کرتا ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں اگر ہم ان اصولوں کو اپنا لیں تو بے شمار مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔

ایک ماہرِ نفسیات کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی نفسیات پر اپنے کردار، حسنِ اخلاق اور پاکیزہ جذبات کے ذریعے مثبت اثر ڈالے۔ محض الفاظ ہی نہیں بلکہ انسان کا طرزِ عمل، چہرے کے تاثرات اور گفتگو کا انداز بھی دوسروں کے دل و دماغ پر گہرا نقش چھوڑتے ہیں۔ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اس حقیقت کی روشن ترین مثال ہے۔ ہزاروں مستند روایات سے ثابت ہے کہ آپؐ نہایت خوش اخلاق، کشادہ رو، نرم خو اور ہمیشہ تبسم سے آراستہ رہتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن حارثؓ روایت کرتے ہیں”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسکرانے والا کسی کو نہیں دیکھا “ (جامع ترمذی، حدیث: 3641)

اسی طرح آپؐ نے خوش اخلاقی اور خوش کلامی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا” اپنے بھائی سے خوش دلی کے ساتھ بات کرنا بھی صدقہ ہے “

(جامع ترمذی، حدیث: 1956)

نفسیاتی اعتبار سے اگر غور کیا جائے تو جو شخص اپنے دوستوں سے ہی نہیں بلکہ اپنے مخالفین اور دشمنوں سے بھی مسکراتے چہرے، نرم لہجے اور شائستہ انداز میں گفتگو کرے، وہ ان کے دلوں پر ایسا گہرا اثر چھوڑتا ہے جس کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔ انسانی نفسیات کا مسلمہ اصول ہے کہ محبت، نرمی اور حسنِ سلوک اکثر وہ نتائج پیدا کرتے ہیں جو سختی، غصہ اور انتقام سے کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ سیرتِ نبویؐ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں مخالفین آپؐ کو برا بھلا کہتے، گالیاں دیتے اور ایذا پہنچاتے رہے، مگر آپؐ نے صبر، خاموشی، مسکراہٹ اور حسنِ اخلاق ہی سے ان کا مقابلہ فرمایا۔ یہی وہ اعلیٰ ترین نفسیاتی حکمت تھی جس نے سخت دل انسانوں کو نرم کر دیا، دشمنوں کو دوست بنا دیا اور نفرتوں کو محبت میں تبدیل کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف اخلاقِ حسنہ ہی نہیں بلکہ انسانی نفسیات پر کامل عبور کا بھی ایک بے مثال مظہر تھا۔یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ اگر انسان کی غلطیوں پر رویے سخت اور نفرت انگیز رکھے جائیں تو انسان گناہوں اور غلطیوں پر ڈھیٹ ہو جاتا ہے اور ان کا عادی بن کر سرکشی اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح اگر ہر غلطی پر صرف نرمی ہی برتی جائے تو یہ بھی اسے بے باک اور ضدی بنا دیتی ہے۔ نفسیاتی علم یہی بتاتا ہے کہ موقع اور محل کے مطابق ہی سختی یا نرمی برتنی چاہیے۔ ایک مرتبہ دیہات کے رہنے والے کچھ لوگ مدینہ تشریف لائے اور ان میں سے ایک ناواقف شخص نے مسجد ہی میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرامؓ غصے میں آ گئے اور اس شخص کی طرف لپکنے لگے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روکا اور ارشاد فرمایا:

”تم نرمی کے لئے بھیجے گئے ہو نہ کہ سختی کرنے کے لئے “ (بخاری: 220)۔

جب وہ دیہاتی فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس جگہ پر بہا دیا (تاکہ وہ پاک ہو جائے)۔

پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو بلا کر نہایت پیار بھرے لہجے میں سمجھایا کہ:

”یہ مسجدیں پیشاب یا گندگی کے لیے نہیں ہیں، یہ تو صرف اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے بنائی گئی ہیں“۔

آپ ﷺ کے اس حسنِ سلوک اور شفقت کا اس دیہاتی کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے گناہ کا اعتراف کیا اور دوبارہ ایسا نہ کرنے کا عہد کیا ۔ یہ تھی وہ نفس شناسی اور حکمتِ عملی جو جاہل سے جاہل انسان کی تربیت کا موجب بنی اور رہتی دنیا تک کے لیے نفسیاتِ انسانی کا سب سے بہترین اصول قرار پائی۔

جدید نفسیات میں جہاں بعض ماہرین گناہ یا کمزوری کے احساس کو محض جرم (Guilt) کے خانے میں ڈال کر اسے منفی اثر قرار دیتے ہیں، وہیں اسلام کا نقطہ نظر اس سے کہیں زیادہ جامع اور علاج پر مبنی ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے اس احساس کمزوری یا احساس گناہ کو انسان کی فطرت کا حصہ قرار دیا اور اسے روحانی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ آپ ﷺ نے توبہ کو صرف پچھلے قصور کا اعتراف نہیں، بلکہ مستقبل کی اصلاح اور خود احتسابی کا بہترین راستہ بتایا۔ بار بار استغفار اور توبہ کی تعلیم اس لیے دی گئی کہ انسان اپنی کمزوریوں کو اپنے اوپر بوجھ نہ بننے دے، بلکہ انہیں خدا کی طرف پلٹنے کا زینہ بنا لے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

”اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان کبھی مایوس نہ ہو اور ہر حالت میں خدا کی طرف رجوع کرے “

(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ18)

پس اس نکتہ نفسیات کو کس بہترین پیرائے میں اسلام نے پیش کیا ہے کہ گناہ کا احساس اگر مایوسی میں بدل جائے تو وہ شیطانی ہے، لیکن اگر وہی احساس خدا کی طرف رجوع کا سبب بنے تو وہ روحانی ترقی کی کنجی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں توبہ کو گناہوں کو مٹانے والا، اور نفس کی اصلاح کو قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ عذاب یا نفسیاتی الجھن کا باعث۔ یہ تعلیم انسان کو خود شناسی اور خدا شناسی دونوں کی طرف لے جاتی ہے۔احساسِ کمتری بھی ایک سنگین نفسیاتی مسئلہ ہے اور اس کا بہترین حل یہی ہے کہ ایسے شخص میں حوصلہ اور ہمت پیدا کی جائے اور اسے اس احساس کے جال سے نکالا جائے۔ ایک مرتبہ ایک شخص رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہا تھا اور دورانِ گفتگو (رعب کی وجہ سے) اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بھانپ لیا کہ وہ شخص آپ سے ہیبت زدہ ہے۔ اس کا حوصلہ بڑھانے اور اس کے اندر سے احساسِ کمتری و خوف کو ختم کرنے کے لیے آپ ﷺ نے نہایت شفقت سے فرمایا:

” میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو قریش کی ایک ایسی عام عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی“۔

یہ تھی وہ کمالِ نفسیاتی بصیرت اور عاجزی، جس کی بنا پر آپ ﷺ نے سامنے والے کے دل سے خوف اور احساسِ کمتری کو دور کر کے اس کی حکیمانہ تربیت فرمائی۔

قارئین کرام !دنیا کے سارے ماہرینِ نفسیات مل کر بھی کوشش کریں تو کیا وہ اتنی کم مدت میں لوگوں میں وہ تبدیلی پیدا کر سکیں گے جو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کر کے دکھائی؟ کیا سب ماہرینِ نفسیات مل کر ایک ایسے آدمی کو، جو دہائیوں سے شراب کا عادی ہو، شراب کی لت سے چھڑا سکتے ہیں کہ وہ بعد میں اس کا نام بھی نہ لے؟ یقیناً نہیں کر سکتے۔ مگر ہمارے عظیم رہبرِ کامل نے یہ شاہکار بھی کر کے دکھایا ہے۔ آپ کے ایک اشارے پر شراب کی عادی پوری قوم نے شراب سے ایک لمحے میں ایسا منہ موڑا کہ زندگی بھر اس لت کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) نے کیا خوب فرمایا ہے:

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سال کے عرصہ میں ایسا انقلاب پیدا کیا کہ اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔“ (براہینِ احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1)

یہ تبدیلی محض سیاسی یا معاشرتی حدود تک محدود نہ تھی بلکہ بنیادی طور پر یہ تبدیلی ایک نفسیاتی انقلاب تھا، جس کی وجہ سے روحیں بدل گئیں، دل بدل گئے، سوچ بدل گئی، ترجیحات بدل گئیں اور بالآخر زندگی کا مقصد ہی بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کی فطرت، جذبات اور نفسیات کو سب سے بہتر سمجھا اور ان کی تربیت کے لیے ایسی تعلیم اور طریقہ دیا جو ہر زمانے اور ہر معاشرے کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ تقلید ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عظیم فلسفے اور ان گہرے نفسیاتی اصولوں کو سمجھنے، انہیں اپنی زندگی میں اپنانے، اور اپنے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں عملی طور پر نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک متوازن، پُرامن، بااخلاق اور سلجھا ہوا معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں، جس کی آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ آمین۔

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ