اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

اسوہ نبوی ؐ:انسانی ترقی کا پائیدار ماڈل شیخ محمد زکریا۔مربی سلسلہ نظارت نشرواشاعت قادیان

اسوہ نبوی ؐ:انسانی ترقی کا پائیدار ماڈل

شیخ محمد زکریا۔مربی سلسلہ نظارت نشرواشاعت قادیان

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاﭤ۔ (احزاب ۔22)

یقیناًتمہارےلئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس شخص کیلئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتاہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتاہے

قارئین کرام !مذکورہ بالا آیت سے واضح ہے کہ انسانی زندگی کے جملہ شعبہ ہائے حیات میں ترقی کیلئے رسول اللہ ؐکا اسوہ اور طریق رہتی دنیاتک کے بنی نوع انسان کیلئے واحد ولاشریک راہنمااصول ہے ۔آپؐ تمام اخلاق میں اعلیٰ ،افضل اور اکمل تھے ۔آپؐ خود فرماتےہیں کہبعثت لاتمم مکارم الاخلاق ۔یعنی میں گمشدہ اخلاق کودوبارہ اور مکمل طور پر قائم کرنے کیلئے مبعوث ہواہوں ۔اور آپؐ نے اپنایہ کام بخوبی سرانجام دیا ۔اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے متعلق فرمایا :

انک لعلیٰ خلق عظیم

اسوہ نبویؐ روحانی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ترقی کا ایک ایسا متوازن اور پائیدار ماڈل ہے جو فرد کی اصلاح سے لے کر عالمی فلاح و بہبود تک تمام انسانی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ یہ عدل، مساوات اور اعتدال پر مبنی ایک مثالی نظام حیات پیش کرتا ہے۔بالفاظ دیگر اسوۂ نبوی انسانی ترقی کے لیے ایک ایسا جامع، عالمگیر اور پائیدار ماڈل ہے جو مادیت اور روحانیت کو یکجا کر کے توازن قائم کرتا ہے۔یہ ماڈل فرد کی داخلی اصلاح سے لے کر معاشرتی و معاشی ترقی تک تمام شعبہ ہائے زندگی میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔

انسانی ترقی کا آغاز اندرونی پاکیزگی سے ہوتا ہے۔نبی کریمؐ نے اعلیٰ اخلاق، دیانت داری اور راست بازی کو معاشرے کی اساس بنایا، جس سے ایک پرامن اور مستحکم معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔یعنی کردار سازی اور اخلاقی اقدارلازمی ہیں ۔انسانی ترقی کی بنیاد اچھے اخلاق اور کردار پر رکھی گئی ہے۔ اسوۂ حسنہ سکھاتا ہے کہ سچائی، امانت داری، عفو و درگزر اور ایفائے عہد کے بغیر کوئی بھی معاشرہ مستحکم نہیں ہو سکتا۔ اخلاقی اقدار کا یہ پائیدار پہلو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے یکساں طور پر قابل عمل ہے۔

اسلامی معاشی نظام میں دولت کی منصفانہ تقسیم، زکوٰۃ، اور کاروبار میں شفافیت پر زور دیا گیا ہے۔یہ غریب اور نادار افراد کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور معاشی استحکام فراہم کرتا ہے۔یعنی منصفانہ معاشی نظام اور فلاحِ عامہ کیلئےاسوۂ نبوی کی معیشت کا محورہے جو دولت کی منصفانہ تقسیم، تجارت میں شفافیت، سود سے پاک معاشرہ اور محنت کش کے حقوق کا تحفظ ہے۔ آپ ﷺ نے مدینہ کی ریاست میں زکوٰۃ، صدقات اور وقف کے نظام کے ذریعے ایک ایسا فلاحی معاشرہ قائم کیا جو آج کے جدید معاشی نظاموں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔

خطبہ حجۃ الوداع انسانی مساوات کا عالمگیر منشور ہے۔اس میں نسل، رنگ اور مرتبے کی تفریق کے بغیر تمام انسانوں کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے۔یعنی عدل و انصاف اور مساوات انسانی حقوق کا عالمی منشور جو آج کی دنیا پیش کرتی ہے، اسوۂ نبوی اس کا عملی اور کامل نمونہ صدیوں قبل پیش کر چکا ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع کی صورت میں آپ ﷺ نے رنگ و نسل اور ذات پات کی تمیز مٹا کر پوری انسانیت کو برابری کا درجہ دیا، جو پائیدار سماجی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔

مضبوط خاندان معاشرتی ترقی کی اکائی ہیں۔تعلیمات نبویؐ خاندانی رشتوں، والدین کے حقوق اور باہمی احترام کو فروغ دیتی ہیں۔

آپؐ نے پانی کے بے جا استعمال سے منع فرمایا، درخت لگانے کی ترغیب دی، اور زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال اور توازن کا درس دیا جو کہ جدید پائیدار ترقی کا بھی بنیادی نکتہ ہے۔ ماحولیاتی تحفظ وسائل کے بے دریغ استعمال سے منع کیا گیا ہے اور پانی کے استعمال، شجر کاری، اور جانوروں کے حقوق کے حوالے سے جامع ہدایات دی گئی ہیں۔ آج کا پائیدار ترقیاتی ماڈل بھی ماحول کی حفاظت اور وسائل کی کفایت شعاری پر زور دیتا ہے، جس کی واضح مثال سیرت طیبہ میں موجود ہے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام رسول اللہ ؐکےکامل اخلاق کا ذکر کرتےہوئےیوں رقمطراز ہیں کہ:

’’عقل ِذکا ،سرعت فہم ،صفائی ذہن ،حسن ِتحفظ ، حسن ِتذکر ،عفت ،حیا،صبر،قناعت ،زہد ،تورّع، جوانمردی ،استقلال ،عدل ،امانت ،،صدق لہجہ ،سخاوت فی محلہ،کرم فی محلہ،مروت فی محلہ،شجاعت فی محلہ، ،علوہمت فی محلہ ،حلم فی محلہ,تحمل فی محلہ، حمیت فی محلہ، تواضع فی محلہ، ادب فی محلہ,شفقت فی محلہ, رافت فی محلہ,رحمت فی محلہ,خوف الٰہی ،محبت الٰہیہ،انس باللہ ،انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم ؐکے ایسےکمال موزونیت ولطافت ونورانیت پر واقعہ ہیں کہ الہام سے پہلےہی خود بخود روشن ہونےپر مستعد تھے ۔۔۔ان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الٰہی ہے ۔وارد ہوگیا ۔اور اس نورکے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاءکا مجمع الانوار بن گیا ۔‘‘

( براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول ص 195حاشیہ 11)

محمدؐ عربی بادشاہ ہر دو سرا

کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی

اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں

کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدادانی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

آپؐ کی سیرت کا اور اُسوہ کا مضمون تو نہ ختم ہونے والا مضمون ہے۔ ہر خُلق میں آپ کا عظیم نمونہ ہے اور کیوں نہ ہو۔ آپ ایک عظیم معلّم ہیں اور معلّمِ اخلاق ہیں۔ اگر کوئی برا بھی ہے جو آپ کے پاس آیا تو آپ اس سے بھی اخلاق سے پیش آئے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ یہ اپنے گھرانے میں بہت ہی بُرا بھائی ہے۔ مطلب سلوک اچھا نہیں ہے اپنے بھائی کی حیثیت سے۔ اور اپنے خاندان کا بہت ہی بُرا بیٹا ہے۔ جب وہ آ کر بیٹھ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔ باوجود اس کے کہ وہ بُرا بھائی تھا اور بُرا بیٹا تھا اور اس میں بداخلاقیاں تھیں۔ آپ نے اس سے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔ جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ نے اس کے بارے میں فلاں فلاں بات کی تھی اور پھر اس سے گفتگو کے دوران آپ نے کمال خندہ پیشانی کا مظاہرہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ السلام نے فرمایا عائشہ! تُو نے کب مجھے بدزبانی کرتے ہوئے پایا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ یقیناً سب سے بُرا آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس کی بدی سے ڈر کر لوگ اس کی ملاقات چھوڑ دیں‘‘۔

(صحیح البخاری کتاب الأدب باب لم یکن النبیؐ فاحشا ولا متفحشا حدیث6032)(ازخطبہ جمعہ یکم دسمبر 2017ء)

حسینان عالم ہوئے شرمگیں

جو دیکھا وہ حسن اور وہ نور جبیں

پھر اس پر وہ اخلاق اکمل تریں

کہ دشمن بھی کہنے لگے آفریں

زہے خلق کامل، زہے حسن تام

علیک الصلوۃ علیک السلام

نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا

’’ایک خُلقِ عظیم عجز و انکسار ہے یا کہہ سکتے ہیں عجز و انکسار میں بھی آپ کا خُلق اپنی عظمتوں کو چھو رہا تھا۔ آپ کے عجز و انکسار کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ میں سے یا اہل بیت میں سے، گھر والوں میں سے کسی نے آپ کو بلایا ہو اور آپ نے اس کو لبّیک کہہ کر جواب نہ دیا ہو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ(القلم:05) کہ تُو خُلقِ عظیم پر فائز کیا گیا ہے۔(تفسیر در منثور جلد 8 صفحہ 226 سورۃ القلم زیر آیت انک لعلیٰ خلق عظیم )(خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2017ء)

محبت سے گھائل کیا آپ نے

دلائل سے قائل کیا آپ نے

جہالت کو زائل کیا آپ نے

شریعت کو کامل کیا آپ نے

بیاں کر دیئے سب حلال و حرام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

رسول اکرم ؐکی پیروی اوراطاعت کا حکم دیتےہوئے اللہ تعالیٰ فرماتاہے

وَ مَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰه ط اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ( حشر:۷)

یعنی ۔ اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائے وہ لے لو اور جس سے منع فرمائے (اس سے) باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والاہے۔

اور ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْط وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘ (اٰل عمران:۳۱)

یعنی ۔اے رسول !کہہ دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبرداربن جاؤاللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

حضرت مسیح موعودؑفرماتےہیں :

’’اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اِتّباع کرو۔ اس اِتّباع کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں ’’پس اب اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ جب تک انسان کامل مُتّبعآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ سے فیوض و برکات پا نہیں سکتا اور وہ معرفت اور بصیرت جو اس کی گناہ آلود زندگی اور نفسانی جذبات کی آگ کو ٹھنڈا کر دے عطا نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ ہیں جو عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کے مفہوم کے اندر داخل ہیں‘‘۔

(ملفوظات جلد 8صفحہ 96-97۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

معلوم ہوا کہ حقیقی طور پر کامیاب زندگی اور ترقی کے اعلیٰ مدارج تک لے جانے والی زندگی وہی ہے جورسول کریم ؐکے نقش ِقدم پر ہو، اگر ہمارا جینا مرنا، سونا جاگنا حضورؐکے نقشِ قدم پر ہو جائے تو ہمارے سب کام عبادت بن جائیں گے۔اور ہم رسول اللہ ؐکا نمونہ جو ترقی کا پائیدارنمونہ ہے ،اس نمونہ کو اپناکر ترقی کی شاہراہ پر روز افزوں ترقیات حاصل کرتےچلے جائیں گے ۔ مسلمانوں میں اس اتباع رسول ؐکا فقدان ہونے کی وجہ سے ہی وہ خداسے دور اور مہجورہیں ۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس کا نقشہ کھینچتےہوئے فرماتےہیں :

’’مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی حُبّ دنیا ہی ہوئی ہے۔ کیونکہ اگر محض اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آ سکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کر کے ایک ہو جاتے۔ اب جبکہ حُبّ ِدنیا کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جا سکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ یعنی (کہو) اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’اب اس حُبُّ اللہ کی بجائے اور اِتّباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حُبُّ الدنیا کو مقدم کیا گیا ہے۔ کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِتّباع ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیادار تھے؟ کیا وہ (نعوذ باللہ) سود لیا کرتے تھے؟ یا فرائض اور احکامِ الٰہی کی بجاآوری میں غفلت کیا کرتے تھے؟ کیا آپ میں معاذ اللہ نفاق تھا، مداہنہ تھا؟ دنیا کو دین پر مقدم کرتے تھے؟ غور کرو! اِتّباع تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے‘‘۔

(ملفوظات جلد8صفحہ348-349۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آنحضرت ؐکےصحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نےآپؐ کے اسوہ کو اپنایا اور ہمہ قسم کی ترقیات سے ہمکنارہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےان معیاروں نے صحابہ میں جو انقلاب پیدا کیا، یہ بیان فرماتے ہوئے ۔ حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں کہ:

’’مَیں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکّا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آریہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور تاثیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقّانیت کی شہادت دینی پڑے گی۔ موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجیدنے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے۔‘‘ (آپ کے ماننے والے جو عرب کے لوگ تھے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے کہ) ’یَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ(محمد:13)‘‘ (یعنی اس طرح کھاتے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں۔ جانوروں والی حالت ہے۔) ’’یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی یہ حالت ہوگئی یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا(الفرقان:65) یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا اس ساری حالت کے نقشے کو دیکھنے سے بے اختیار ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ یہ نری کہانی نہیں۔ یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے‘‘۔

(ملفوظات جلد 9 صفحہ 144-145۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

صادفتھم قوم کروث ذلۃً

فجعلتھم کسبیکۃ العقیان

قارئین کرام !آج ایک احمدی ہی ہے جو خلیفہ وقت امیرالمومنین حضرت مرزامسروراحمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دکھائے ہوئے رسول اللہؐ کے سنہری اصولوں اور اسوہ حسنہ کواپناتےہوئے ترقیات کے نت نئےمدارج عالیہ حاصل کررہاہے اور کرناچاہئے۔حضور پرنور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس ضمن میں فرماتےہیں:

’’پس اپنے اخلاق ہر حال میں اچھے رکھنے کی ضرورت ہے اور یہی آج ایک احمدی کا شیوہ ہونا چاہئے۔ آج مسلمانوں میں جو فتنے ہیں، فساد ہیں ان کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ اخلاق کے معیار گر گئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو لوگ بھول گئے ہیں اور صرف زبانی دعوے ہیں۔۔۔۔پس آج اگر حقیقی خوشی منانی ہے تو پھرآپ کے اُسوہ پر عمل کر کے منائی جا سکتی ہے جہاں عبادتوں کے معیار بھی بلندہوں۔ جہاں توحید پہ بھی کامل یقین ہو اور اعلیٰ اخلاق کے معیار بھی بلند ہوں۔ اگر یہ نہیں تو ہم میں اور غیر میں کوئی فرق نہیں۔ اگر ہم عمل نہیں کر رہےتو وہ لوگ جو بکھرے ہوئے ہیں اور عارضی لیڈر اور نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر لوگوں کے لئے تنگیوں کے سامان کر رہے ہیں ان میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر کام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو سامنے رکھیں۔ اللہ کرے کہ اس کی ہم سب کو توفیق ملے۔(خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2017ء)

رسول اکرم ﷺپر حضرت مسیح موعودؑکے بھیجےہوئے درود کے ساتھ خاکسار اپنے اس مضمون کااختتام کرتاہے۔آپؑ فرماتےہیں:

’’وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر النبیین، جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدائِ دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

(اتمام الحجۃ۔ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ308)