اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

آنحضرت ﷺ کا بے مثال عشق الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی روشنی میں) حافظ سید اعزاز الدین مربی سلسلہ ہبلی کرناٹک

اللہ تعالیٰ کی اس وسیع قدرت کے نظام پر غور کرنے سے عقلمندوں کے لیے بہت فائدہ مند سبق ملتے ہیں۔ انسان کو جامع الصغیر کہا گیا ہے کیونکہ دنیا بھر کی خوبیاں کسی نہ کسی طرح اس جامع الصغیر انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ چنانچہ جب ہم غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر اپنے معبود حقیقی کے لیے کشش اسکی فطرت میں رکھی ہے،جیسا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا :

’’ جبکہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے کیونکہ بچہ پیدا ہوتے ہی پہلے روحانی خاصیت اپنی جو دکھاتا ہے وہ یہی ہے کہ ماں کی طرف جھکا جاتا ہے اور طبعا ًاپنی ماں کی محبت رکھتا ہے اور پھر جیسے جیسے حواس اس کے کھلتے جاتے ہیں اور شگوفہ فطرت اس کا کھلتا جاتا ہے یہ کشش محبت جو اس کے اندر چھپی ہوئی تھی اپنا رنگ روپ نمایاں طور پر دکھاتی چلی جاتی ہے۔ پھر تو یہ ہوتا ہے کہ بجز اپنی ماں کی گود کے کسی جگہ آرام نہیں پاتا اور پورا آرام اس کا اسی کے کنار عاطفت میں ہوتا ہے اور اگر ماں سے علیحدہ کر دیا جائے اور دور ڈال دیا جائے تو تمام عیش اس کا تلخ ہو جاتا ہے اور اگرچہ اس کے آگے نعمتوں کا ایک ڈھیر ڈال دیا جاوے تب بھی وہ اپنی سچی خوشحالی ماں کی گود میں ہی دیکھتا ہے اور اس کے بغیر کسی طرح آرام نہیں پاتا۔ سووہ کشش محبت جو اس کو اپنی ماں کی طرف پیدا ہوتی ہے۔ وہ کیا چیز ہے؟ در حقیقت یہ وہی کشش ہے جو معبود حقیقی کے لئے بچہ کی فطرت میں رکھی گئی ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو انسان تعلق محبت پیدا کرتا ہے درحقیقت وہی کشش کام کر رہی ہے اور ہر ایک جگہ جو یہ عاشقانه جوش دکھلاتا ہے در حقیقت اسی محبت کا وہ ایک عکس ہے‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 364)

اس ضمن میں حضرت مصلح موعود ؓنے کیا ہی لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ:

’’خدا تعالیٰ نے آدمی کو پیدا ہی محبت کے لئے کیا ہے اوراس کے پیدا کرنے کا مقصد اور غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو اور اس دائمی زندگی بخشنے والے سمندر رمیں ہمیشہ غوطہ زن رہے جیسا کہ کسی شخص کا قول ہے کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ور نہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

یعنی انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہے اور وہ درد جو کہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے اس سے ایک خاص لذت اٹھائے ورنہ تابعداری اور اطاعت کے لئے فرشتے موجود ہی تھے ۔‘‘

(محبت الٰہی ،انوار العلوم جلد 1 صفحہ 19-20)

محبت الہٰی کے اس مضمون کو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے عمل سے کر دکھایا ہے۔ چنانچہ اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

’’ ایک مومن کی خصوصیت یہ ہے، جس کا قرآن کریم میں یوں ذکر آتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرة: 166) یعنی اور جو لوگ مومنین ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں۔پس مومن ہونےکی یہ نشانی ہے کہ ایک سچے مومن کی زندگی صرف ایک ذات کے گرد گھومتی ہے اور گھومنی چاہئے کیونکہ اس کے بغیرایک مومن ، مومن کہلا ہی نہیں سکتا۔ایک مومن کا غیب پر ایمان ، نمازیں پڑھنا، قربانی کرنا ، انبیاء پر ایمان، اس وقت کامل ہوگا جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ان تمام احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہو گا جو اللہ تعالیٰ نےدیئے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس شدید محبت کا کیسا اعلیٰ نمونہ ہمارے سامنے رکھا کہ کفار بھی یہ کہہ اٹھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہ کہ محمد تو اپنے رب پر عاشق ہو گیا۔اور آپ نے ہمیں کیا خوبصورت دعا سکھائی ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔میں تجھ سے ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھےتیری محبت تک پہنچا دے۔اے اللہ اپنی اتنی محبت میرے دل میں ڈال دے جو میری اپنی ذات، میرے مال،میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔پس ایک مومن کا معیار اور خصوصیت یہ ہے جس کو حاصل کرنے کی ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔کوئی چیزبھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں مل سکتی۔اس لئے اس محبت کے حصول کے لئے بھی اسی کے آگے جھکنا اور اس سےدعائیں کرنا ضروری ہے۔ ( خطبات مسرور جلد 5صفحہ 292,293)

عشق الٰہی کا یہ مقدس فعل عبث نہیں ہے اور نہ یہ یکطرفہ ہے بلکہ محبوب حقیقی خدا تعالیٰ خود بھی از راہ احسان بندوں کے لیے محبت رکھتا ہے ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:

’’خدا تعالیٰ خود چاہتا ہے کہ بندہ اس سے ملے اگر یہ خواہش صرف ہماری طرف سے ہوتی تو اور بات تھی مگر اب تو یہ صورت ہے جس طرح کسی شاعر نے کہا

ملنے کا تب مزہ ہے کہ دونوں ہوں بے قرار

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی!

پس چونکہ خدا تعالیٰ خود بندے کے لقا ءکو چاہتا ہے اس لیے اسے نا امید نہیں ہونا چاہیے ‘‘

(ہستی باری تعالیٰ ،انوار العلوم جلد 6 صفحہ 438)

اگرہم آنحضرت ﷺ کی زندگی کوپرغور کر کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہ کی کامل تصویر بنے ہوئے تھے ۔آپ ﷺ بچپن سے دنیاوی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد صرف اپنے رب کی طرف متوجہ رہتے تھے۔ اس سیرت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کا اپنے برگزیدوں اور انبیاء سے عجیب سلوک ہوتا ہے۔وہ چھپتے ہیں اور خدا کی عبادت میں اپنےآپ کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ انہیں حکم دے کر باہر نکالتا ہے اور اس کا کامل اور اعلیٰ ترین نمونہ آنحضرت ﷺ کی ذات تھی۔آپ گوشئہ خلوت میں کئی کئی دن غار حرا میں اپنے مولا کی یاد میں محصور ہتے تھے۔دنیاوی معاملات سے کوئی رغبت نہیں تھی۔گو کہ دنیاوی اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانے میں بھی آپ کے برابر کوئی نہیں تھا اور نہ کوئی ہوسکتا ہے۔لیکن آپ کا اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا، اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہنا اور عبادت میں مصروف رہنا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ غار سے باہر نکلو اور دنیا کو خدائے واحد و یگانہ کی طرف بلاؤ تو آپ نے داعی الی اللہ ہونے کا بھی ایسا نمونہ قائم فرمایا جس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیارا جو دعوت الی اللہ کی وجہ سے معتوب ِقوم بھی ٹھہرا اور جس کو بے انتہا ظلموں کا نشانہ بنایا گیا۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشارا اور مخلوق خدا کی ہمدردی سے بھرا ہوا کسی بھی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہرلمحہ ایک نئی شان سے اپنے کام میں مگن نظر آرہا تھا اور ایک ایک دو دو کر کے ہر روز آپ ﷺ کی دعوت کے ذریعہ سے آپ کی جماعت میں وسعت پیدا ہو رہی تھی اور آپ کی زندگی میں ہی اسلام کا پیغام عرب سے باہر بھی پھیل گیا۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ تک مسلمان حکومتیں قائم ہو گئیں۔

(خطبات مسرور جلد 7 صفحہ 264)

نیز فرمایا :

آنحضرت ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے عبد کامل تھے ، آپ نے اپنی عبادتوں کے وہ نمونے قائم فرمائے جس کی کوئی مثال نہیں۔کبھی ویرانوں میں دنیا و مافیہا سے بے خبر خدا تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہیں۔ایک دن آپ کی ایک بیوی رات کو آپ کو بستر سے غائب پاتی ہیں تو شک کرتی ہیں کہ کہیں کسی دوسری بیوی کے گھر نہ گئے ہوں۔لیکن جب تلاش کے بعد اُس نظارے کو دیکھتی ہیں تو اپنی سوچ پر پریشان ہوتی ہیں کہ میں نے آپ سے دنیاوی سوچ کے مطابق کیا توقع رکھی تھی اور آپ کے مقام کو نہ پہچان سکی لیکن آپ تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہیں اور اس طرح گڑ گڑار ہےہیں جس کی کوئی مثال بیان نہیں کی جاسکتی۔کوئی آپ کے اس طرح اپنے مولیٰ کے حضور عبادت کی گڑ گڑاہٹ کو ہنڈیاکےابلنے کی آواز سے تشبیہ دیتا ہے، کوئی کسی اور مثال سے لیکن اس عبد کامل کی اپنے مولیٰ کے حضور عبادت کی گڑگڑاہٹ سب مثالوں سے بالا ہے۔شدید بیماری میں بھی نماز با جماعت نہیں چھوڑتے۔آخری بیماری میں انتہائی ضعف کی حالت میں مسجد میں تشریف لاتے ہیں، اپنے سامنے اپنے ماننے والوں اور مسلمانوں کی جماعت کو نماز پڑھتا دیکھ کر تبسم فرماتے ہیں کہ یہی ایک حقیقی مقصد ہے انسان کی پیدائش کا جس کو یہ مخلصین اور عبادالرحمٰن پورا کر رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں، میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہی ہے۔یہ اُسوہ ہے جو آپ نے نمازوں کی پابندی کے بارہ میں ہمارے سامنے قائم فرما دیا۔نوافل کی پابندی پر قائم فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قائم فرمایا۔یہ مقام تو ہر ایک کو حاصل نہیں ہو سکتا جو آپ کا تھا۔اُس مقام تک تو صرف وہ انسان کامل پہنچا تبھی تو خدا اور اس کے فرشتے آپ پر درود بھیج رہے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُوْلِ اللّٰهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورة الاحزاب:22) كه يقيناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے، ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے‘‘

(خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 340)

نیز آنحضرت ﷺ کی سیرت عشق الہٰی کے حوالے سے ایک جگہ یوں فرماتے ہیں :

’’نبوت کےزمانہ سے پہلے کی تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ گھنٹوں اور دنوں علیحد گی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتےتھے۔آپ کی ایک دعا ہے۔یہ دعا ہی خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے دلی خواہش اور بے چینی کا پتہ دیتی ہے۔آپ اپنے مولیٰ کے حضور بڑے بے چین ہو کر یہ عرض کرتے ہیں کہ :کہ اے اللہ ! مجھے اپنی محبت عطا کر اور اس کی محبت جس کی محبت مجھے تیرے حضور فائدہ دے۔اےاللہ ! جو میری پسندیدہ چیزیں ہیں مجھے عطا کر۔انہیں میرے لئے تقویت کا ذریعہ بنا دے، اپنی محبت میں بڑھنے کاذریعہ بنادے، ایمان میں ترقی کا ذریعہ بنا دے۔اور جو میری پیاری چیزیں مجھ سے علیحدہ کرے ان کے بدلے اپنی پسندیدہ چیزیں مجھے عطا کر۔

( خطبات مسرور جلد8 صفحہ 558)

اللہ تعالیٰ سے عشق کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔جنگ بدر کا واقعہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود جنگ کی اجازت دی اور فتح کی خوشخبری دی مگر اللہ تعالیٰ کی صفت ’’غنا ‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ ﷺ تڑپ تڑپ کر دعا کرتے تھے۔ اسی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

’’کیا جنگ بدر میں یا جنگ اُحد میں یا کسی بھی جنگ میں مال و دولت کی کثرت نے وہ نتائج مترتب کئے تھے جو ظاہر ہوئے۔یقینا نہیں۔ہاں ایک بات یقینا ہے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے وعدوں کے ، باوجود خدا تعالیٰ کی یقین دہانیوں کے، باوجود خدا تعالیٰ کے روشن نشانوں کے اللہ تعالیٰ کے رسول معمولی ظاہری کو شش اپنے وسائل کےمطابق ضرور کرتے ہیں۔لیکن اصلی توجہ اُن کی دعاؤں کی طرف ہوتی ہے اور اس میں سب سے بڑھ کر کامل نمونہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔

(بقیہ از صفحہ نمبر 18):

بدر کی جنگ ہمیں اس کا عظیم نظارہ پیش کرتی ہے۔باوجو د تمام تر تسلّیوں اور وعدوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی اور بے چین کیفیت میں دعائیں اور جو حالت تھی اور جو رقت تھی اور ایک ایسی حالت تھی کہ یوں لگتا تھا جس طرح بار بار کوئی جان کنی کی حالت ہو۔بار بار آپ کی چادر اس رقت کی وجہ سے کندھے سے اتر جاتی تھی جو دعاؤں میں پیدا ہو رہی تھی۔‘‘

(خطبات مسرور جلد 9 صفحہ 561)

ادھر اللہ تعالیٰ کی شان ایسی ہے کہ اگر کوئی بندہ اس کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے تو وہ دس قدم اس بندے کے قریب ہوتا ہے بندہ اگر چل کر اپنے رب کی طرف آتا ہے تو وہ رب اس بندے کی طرف دوڑ کر آتا ہے تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے رب سے محبت کرتے ہوئے خود کو فنا کر دیتے ہیں تو کیا وہ اس کے لیے شایان شان انعام نہیں دے گا ۔دے گا اور ضرور دے گا چنانچہ اوّل اللہ تعالیٰ آپ کو منصب عصمت عطا کرتا ہے یعنی معصوم بناتا ہے دوم آپ کو وہ مقام عطا فرماتا ہے کہ اب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ آپ ﷺ کی اطاعت و محبت میں فنا نہیں ہو جائے۔ سو مجموعی طور پر دَنَا فَتَدَلّٰى میں آپ ﷺ کو رکھا جاتا ہے۔

جہاں تک معصوم ہونے کا تعلق ہے تو حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ نبی استغراق محبت الٰہی کے باعث معصوم ہوتے ہیں

(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 7 صفحہ 229)

پھر جہاں تک دَنَا فَتَدَلّٰى نیز حصول محبت الٰہی کے شرائط کا تعلق ہے تو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا :

آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث قدسی ہے کہ لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ اگر میں تجھے پیدانہ کرتا تو د نیا پیدانہ کرتا۔یہ زمین و آسمان پیدانہ کرتاگو مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اس حدیث کی صحت پر اعتراض کرتا ہے لیکن ہمیں اس زمانہ کے امام اورآنحضرت ﷺ کے عاشق صادق نے اس حدیث کی صحت کا علم دیا ہے۔یہ وہ مقام ہے جو آنحضرت ﷺ کےانتہائی مقام کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔آپ تمام رسولوں سے افضل ہیں۔آپ تا قیامت تمام زمانوں کے لئےمبعوث ہوئے ہیں۔آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ مقام بخشا ہے کہ آپ کی اتباع سے انسان اللہ تعالیٰ کی محبت پاتا ہے۔آپ کو وہ مہر نبوت عطا ہوئی ہے جو تمام سابقہ انبیاء پر ثبت ہو کر ان انبیاء کے نبی ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔آپ کووہ مقام خاتم النبیین ملا ہے جس کے امتی کو بھی نبوت کا درجہ ملا اور آپ کا امتی اور عاشق صادق ہو نا ہی آپﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے مسیح و مہدی کو نبوت کا مقام دلا گیا۔آپ کا قرب خداوندی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یوں فرمایا ہے کہ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی (النجم:9) یہ اللہ تعالیٰ سے قرب کی انتہا ہے‘‘۔

(خطبات مسرور جلد 9 صفحہ 39)

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔

الھم صلّ علی محمد و علیٰ اٰل محمد و بارک وسلّم