سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور بین المذاہب ہم آہنگی
محمد کلیم خان مبلغ سلسلہ ایڈیشنل نظارت اصلاح و ارشاد جنوبی ہند
حضرت اقدس محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش چھٹی صدی عیسوی مکہ مکرمہ میں ہوئی اور آپ اپنی طبعی عمر63سال گذار کر اپنے رفیق اعلیٰ کے حضور حاضر ہو گئے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے یہ مقدرکررکھاتھاکہرفعنا لک ذکر(الم نشرح: 5) تیرا ذکر خیر جاری رہے گا اور اس کی رفعت و بلندی ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔ آپ کے کار ہائے نمایاں تمام قوموں کے لیے ہیں اور ہر گوشۂ زندگی کے لئے کامل نمونہ کے ساتھ مفید کردار تھے ۔اقوام و مذاہب کے حوالے سے بات کریں تو اس میدان میں بھی آپ کا کوئی ثانی نہیں ۔آپ کا رول سب سے اعلیٰ و اہم ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بین المذاھب ہم آہنگی کےلئے سب سے عظیم کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں ۔یوں تو کہنے کے لیے تو بہت مذاہب ہیں ۔مثلا مذہب اسلام، مذہب مسیحی ، یہودی مذہب، ہندو مذہب، زرتشتی مذہب وغیرہ۔ان سب کے علاوہ ہر ملک میں اور بھی مذاہب پائے جاتے ہیں ۔ کچھ مذاہب کو چھوڑ کر اکثر مذاہب ادھر ادھر ملے ہوئے بھی ہوتے ہیں ۔اس لیے مذہب سے مراد اگر مکتبہ فکر لیا جائے تو بات زیادہ صاف ہو جاتی ہے ۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے ہی اگر سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا موازنہ کسی دوسرے مذہبی رہنما سے کیا ہی نہیں جا سکتا ۔
دنیا میں جتنی بھی اشیاء بنائی گئی ہیں سب کے اندر کوئی نہ کوئی خاصیت اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے پھر خاصیت در خاصیت بھی ہے۔مثلا لوہا، تانبا وغیرہ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے اندر ایسی خاصیت ہے کہ بجلی کے کرنٹ کو آرام سے روانی دیتی ہے۔پھر پانی ہے اس کے اندر ایک خاصیت ہے یعنی گرم بھی ہوتا ہے اور نارمل بھی ہوتا ہے پھر بھاپ بن کر ہوا میں تحلیل ہوتا ہے ۔لوہا اور تانبا کے اندر الیکٹرک کرنٹ کو پہنچانے کے لیے TESTER کا استعمال کرکے بتا سکتے ہیں کہ بظاہر یہ لوہا یا تانبا کا ٹکڑا ہے۔ مگر اس وقت اس کے اندر کرنٹ بھی ہے یا یہ بغیر کرنٹ کے ہے ۔اسی طرح THERMOMETER وغیرہ کے ذریعہ پانی کی گرماہٹ وغیرہ کو جانا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح’’اشرف المخلوقات‘‘کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سی خاصیتیں رکھی ہیں ۔اس کے اندر محبت بھی ہے ۔نفرت بھی ہے وغیرہ ۔ مگر جب ہمارے پیارے آقا حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاصیتوں کی باتیں ہوں تو امر واقعہ یہ ہے کہ تمام کے تمام کمالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر پائے جاتے تھے ۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ۔
’’آپ کے اندر شجاعت بھی پائی جاتی تھی،سخاوت بھی پائی جاتی تھی۔ احسان بھی پایا جاتا تھا، وفاداری بھی پائی جاتی تھی،تحمل بھی پایا جاتا تھا، رحم بھی پایا جاتا تھا،حلم بھی پایا جاتا تھا، ایثار بھی پایا جاتا تھا، دیانت بھی پائی جاتی تھی، اخوت بھی پائی جاتی تھی، تواضع بھی پائی جاتی تھی، غیرت بھی پائی جاتی تھی، شکر بھی پایا جاتا تھا، استقلال بھی پایا جاتا تھا، وقار بھی پایا جاتا تھا، بنی نوع انسان کی خیر خواہی بھی پائی جاتی تھی، بلند ہمتی بھی پائی جاتی تھی، صبر بھی پایا جاتا تھا، رافت بھی پائی جاتی تھی،بدی کے مقابلہ کی طاقت بھی پائی جاتی تھی، قوت برداشت بھی پائی جاتی تھی، جفا کشی بھی پائی جاتی تھی، سادگی بھی پائی جاتی تھی،صلہ رحمی بھی پائی جاتی تھی، سچائی بھی پائی جاتی تھی،غرباء پروری بھی پائی جاتی تھی، مصیبت زدوں کی مدد کی خواہش بھی پائی جاتی تھی، مہمان نوازی بھی پائی جاتی تھی، بزرگوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت بھی پائی جاتی تھی، محبت الٰہی بھی پائی جاتی تھی، توکل بھی پایا جاتا تھا، عبادات کیمحافظت بھی پائی جاتی تھی، غرض کون سی خوبی تھی جو آپ میں نہ پائی جاتی ہو اور کونسا کمال تھا جو آپ میں موجود نہ ہو۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 400 زیر تفسیر سورہ طہٰ مطبوعہ قادیان 2004ء)
ان کمالات والی خاصیتوں کو پہچاننے کے لیے کوئی ظاہری آلہ TESTER یا تھرمامیٹر وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جوہر شناس جوہری کی طرح قوت و فہم والا وجود ہونا چاہیے ۔
جہاں تک بین المذاھب ہم آہنگی والے کمال کی بات ہے تو وہ بھی شان آپ کے اندر سب سے اعلیٰ و ارفع نظر آتی ہے ۔جس کی ان گنت مثالیں موجود ہیں ۔چنانچہ جب کہ آپ منصب نبوت پر فائز بھی نہیں ہوئے تھے تو آپ کے سامنے ایک عجیب اختلافی مسئلہ پیش آیا ۔وہ واقعہ’’حجر اسود کی تنصیب‘‘ کے وقت کے اختلاف کا تھا ۔ جیسا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے قمر الانبیاء رضی اللہ عنہ نے تحریر کیا ہے کہ
’’جب قریش کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے حجر اسود کی جگہ پر پہنچے تو قبائل قریش کے اندر اس بات کا جھگڑا ہوا کہ کون قبیلہ اسے اس کی جگہ پر رکھے۔ ہر قبیلہ اس عزت کو اپنے لیے چاہتا تھا ۔حتی کہ لوگ آپس میں لڑنے مرنے کو تیار ہو گئے اور بعض نے تو زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق ایک خون سے بھرے ہوئے پیالے میں انگلیاں ڈبو کر قسمیں کھائیں کہ لڑ کر مر جائیں گے مگر اس عزت کو اپنے قبیلہ سے باہر نہ جانے دیں گے۔اس جھگڑے کی وجہ سے تعمیر کا کام کئی دن تک بند رہا آخر ابو امیہ بن مغیرہ نے تجویز پیش کی کہ جو شخص سب سے پہلے حرم کے اندر آتا دکھائی دے وہ اس بات میں حکم ہو کر فیصلہ کرے کہ اس موقعہ پر کیا کرنا چاہئے ۔اللہ کی قدرت لوگوں کی آنکھیں جو اٹھیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ۔آپ کو دیکھ کر سب پکار اٹھے’’امین امین‘‘اور سب نے با اتفاق کہا کہ ’’ہم اس کے فیصلہ پر راضی ہیں‘‘جب آپ قریب آے تو انہوں نے آپ سے حقیقت امر بیان کی اور فیصلہ چاہا ۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ایسا فیصلہ فرمایا کہ سب سرداران قریش دنگ رہ گئے اور آفرین پکار اٹھے ۔ آپ نے اپنی چادر لی اور اس پر حجر اسود کو رکھ دیا ۔اور تمام قبائل قریش کے رؤساء کو اس چادر کے کونے پکڑوا دیے اور چادر اٹھانے کا حکم دیا۔چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور کسی کو بھی شکایت نہ رہی ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصویری زبان میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل جو اب بر سر پیکار ہیں وہ اس پاک وجود کے ذریعہ سے ایک مرکز پر جمع ہو جائیں گے۔ جب حجر اسود کی اصلی جگہ کے محاذ میں چادر پہنچی تو آپ نے اپنے دست مبارک سے اسے چادر پر سے اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا ۔‘‘
(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 109 مطبوعہ یو کے 1996ء)
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مذہبی ہم آہنگی کی مثال قائم ہو گئی ۔پھر آپ کو اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت و رسالت عطا فرمایا ۔تو آپ کی ذمہ داریوں میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا ۔مذہب کے نام پر جتنے بھی فرقے یا گروہ ہیں ان سب میں قدر مشترک’’اللہ تعالیٰ‘‘کا وجود ہے ۔سارے اہل مذاہب کہلانے والے کسی نہ کسی صورت میں خدا کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں ۔اس سے انکار کو دہریہ ہی کہہ سکتے ہیں ۔اس مسئلہ میں یعنی خدا کے وجود اور اس کی توحید کے بارے میں آپ نے کبھی سمجھوتہ ہی نہیں کیا ۔آپ کی مخالفت ہوئی اور جم کر ہوی ہر طرح کی تکالیف آپ کو پہنچائی گئیں اور آپ کے متبعین کو تنگ کیا گیا اور سمجھوتے کی کوشش’’خدا تعالیٰ کے وجود اور توحید‘‘پر کی گئی ۔دھمکیاں اور لالچ بھی دئے گئے مگر آپ نے صاف اور برملا کہہ دیا کہ سورج کو دائیں اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ میں دے دینے سے بھی ہم اس مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کیوں کہ توحید الٰہی کے بارے میں کوئی مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنا چاہے تو ممکن ہی نہیں ہے ۔چنانچہ اسی وجہ سے آپ نے اپنے وطن عزیز کو خیر باد کہا اور ہجرت کر کے دوسرے مقام یعنی مدینہ منورہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے مذہبی ہم آہنگی کے جوہر دنیا کو دکھا دئے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد آپ جس علاقہ و ماحول میں رہنے لگے تھے وہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہا کرتے تھے ۔اختلاف عقائد رکھتے ہوئے امن سے زندگی گذارنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔مدینہ میں وارد ہونے والے حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال مقامی نہیں تھے مگر اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے کمالات میں سے مذہبی ہم آہنگی بنائے رکھنے کی خوبی و اور کمال آپ کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھا تھا۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد آپ نے تمام مذاہب اور مکتبہ فکر کے نمائندوں کو اکٹھا کیا اور آپس میں ایک معاہدہ کیا جسے ساروں نے تسلیم کر لیا ۔ وہ معاہدہ مدینہ چارٹر یعنی میثاق مدینہ کہلاتا ہے۔ چنانچہ مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے مدینہ چارٹر کے الفاظ یہ ہیں ۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
’’ معاہدہ ما بین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ مومنوں اور ان تمام لوگوں کے جو ان سے بخوشی مل جائیں مہاجرین سے اگر کوئی قتل ہو جاے تو وہ اس کے خون کا ذمہ دار ہوں گے اور اپنے قیدیوں کو خود چھڑائیں گے اور مدینہ کے مختلف مسلمان قبائل بھی اسی طرح ان امور میں اپنے قبائل کے ذمہ دار ہوں گے۔جو شخص بغاوت پھیلاے یا دشمنی پیدا کرے اور نظام میں تفرقہ ڈالے تمام معاہدین اس کے خلاف کھڑے ہو جایں گے ۔خواہ وہ ان کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو ۔ اگر کوئی کافر مسلمان کے ہاتھ سے لڑائی میں مارا جائے تو اس کے مسلمان رشتہ دار مسلمان سے بدلہ نہیں لیں گے اور نہ کسی مسلمان کے مقابلہ میں ایسے کافر کی مدد کریں گے۔جو کوئی یہودی ہمارے ساتھ مل جائے اس کی مدد ہم سب کریںگے۔یہودیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دی جائے گی ۔نہ کسی دشمن کی ان کے خلاف مدد کی جائے گی ۔کوئی غیر مومن مکہ کے لوگوں کو اپنے گھر میں پناہ نہیں دے گا نہ ان کی جائیداد اپنے پاس امانت رکھے گا اور نہ کافروں اور مومنوں کی لڑائی میں کسی قسم کی دخل اندازی کرے گا ۔ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو نا جائز طور پر مار دے تو تمام مسلمان اس کے خلاف متحدہ کوشش کریں گے۔اگر ایک مشرک دشمن مدینہ پر حملہ کرے تو یہودی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے اور بحصہ رسدی خرچ برداشت کریں گے۔ یہودی قبائل جو مدینہ کے مختلف قبائل کے ساتھ معاہدہ کر چکے ہیں ان کے حقوق مسلمانوں کے سے حقوق ہوں گے ۔یہودی اپنے مذہب پر قائم رہیں گے اور مسلمان اپنے مذہب پر قائم رہیں گے ۔جو حقوق یہودیوں کو ملیں گے وہی ان کے اتباع کو بھی ملیں گے۔ مدینہ کے لوگوں میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر کوئی لڑائی شروع نہیں کر سکے گا ۔لیکن اس شرط کے ماتحت کسی شخص کو اس کے جائز انتقام سے محروم نہیں کیا جاے گا ۔یہودی اپنی تنظیم میں اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے۔لیکن لڑائی کی صورت میں وہ دونوں مل کر کام کریں گے ۔مدینہ ان تمام لوگوں کے لئے جو اس معاہدہ میں شامل ہوتے ہیں ایک محترم جگہ ہوگی ۔جو اجنبی لوگ شہر کے لوگوں کی حمایت میں آ جائیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو اصل باشندگان شہر کے ساتھ ہوگا ۔ لیکن مدینہ کے لوگوں کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ کسی عورت کو اس کے رشتہ داروں کی مرضی کے بغیر گھروں میں رکھیں ۔ جھگڑے اور فساد خدا اور اس کے رسول کے پاس فیصلہ کے لیے پیش کیے جائیں گے ۔مکہ والوں اور ان کے حلیف قبائل کے ساتھ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔ کیوں کہ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے مدینہ کے دشمنوں کے خلاف اس معاہدہ کے ذریعہ سے اتفاق کر چکے ہیں ۔جس طرح جنگ علیحدہ نہیں کی جا سکے گی اسی طرح صلح بھی علیحدہ نہیں کی جا سکے گی ۔لیکن کسی کو مجبور نہیں کیا جاےگا کہ وہ لڑائی میں شامل ہو۔ ہاں اگر کوئی شخص ظلم کا کوئی فعل کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہوگا۔یقیناً خدا نیکوں اور دینداروں کا محافظ ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کے رسول ہیں۔‘‘
(منقول از دیباچہ تفسیر القرآن 142 .143مطبوعہ قادیان 2010ء)
مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔
آپ نے توحید کی منادی کرتے ہوئے کبھی کسی مخالفت کی پرواہ نہیں کی۔اور کبھی کسی سے توحید کے معاملے میں کوئی مصالحت نہیں کی۔ مگر بعض حالات ایسے آے جن میں جائز حد تک رعایت کی جا سکتی تھی آپ نے کی اور اس پر آپ نے مذہبی ہم آہنگی کے جذبہ کو قائم کرتے ہوئے مد مقابل کی پیش کردہ ایسی شرائظ کو تسلیم کر لیا جو آپ کے کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گوارا نہ تھی ۔مگر آپ کی مصالحت نے رنگ بدل دیا ۔ مثلاً مصالحت کرنے والے دونوں فریقوں میں سے ایک فریق کے سربراہ بہر حال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ تھے مگر مد مقابل نے آپ کے نام’’محمد‘‘ کے ساتھ’’رسول اللہ‘‘لکھنا منظور نہیں کیا ۔باوجود خود’’امی‘‘ہونے کے اس فقرہ ’’رسول اللہ‘‘ کی شناخت دوسرے کے ذریعہ کرنے کے بعد اپنے دست مبارک سے اسے مٹا دیا۔
بہر حال اس صلح نامہ کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
’’خدا کے نام پر یہ شرائط صلح محمد ابن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور سہیل ابن عمرو قائم مقام حکومت مکہ کے درمیان طے پائی ہیں۔ جنگ دس سال کے لیے بند کی جاتی ہے ۔جو شخص محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ملنا چاہے یا ان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے۔ وہ ایسا کر سکتا ہے اور جو شخص قریش کے ساتھ ملنا چاہے یا معاہدہ کرنا چاہے وہ بھی ایسا کر سکتا ہے ۔اگر کوئی لڑکا جس کا باپ زندہ ہو یا ابھی چھوٹی عمر کا ہو وہ اپنے باپ یا متولی کی مرضی کے بغیر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاے تو اس کے باپ یا متولی کے پاس واپس کر دیا جائے گا ۔لیکن اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کی طرف جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائےگا ۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے ۔لیکن اگلے سال محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اور ان کے ساتھی مکہ میں آ سکتے ہیں اور تین دن وہاں ٹھہر کر کعبہ کا طواف کر سکتے ہیں اس عرصہ میں قریش شہر سے باہر پہاڑی پر چلے جائیں گے ۔لیکن یہ شرط ہوگی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں تو ان کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو سوائے اس ہتھیار کے جو ہر مسافر اپنے پاس رکھتا ہے یعنی نیام میں ڈالی ہوئی تلوار ‘‘
(دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 191)
حالانکہ مذہبی ہم آہنگی کا یہ لچکدار معاہدہ بظاہر دوسرے بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نہ سمجھ آیا مگر خدا تعالیٰ نے اس فعل کو’’ فتح مبین‘‘ بنا دیا ۔صلح حدیبیہ کا واقعہ تو مکہ کے قریش یا مشرکین مکہ سے تعلق رکھتا تھا ۔مذہبی دنیا کا دوسرا عظیم گروہ عیسائیوں ہے۔ عیسائیوں کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی کی مثال بھی گویا صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں ہونے والے واقعات اور نتائج کی صورت میں رونما ہوئی ۔تفصیل اس اجمال کی مولانا دوست محمد صاحب شاہد مرحوم تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’ مکہ معظمہ سے یمن کی طرف سات منزل پر نجران کی عیسائی ریاست تھی جہاں ایک عظیم الشان گرجہ تھا جس کو وہ کعبہ نجران کہتے تھےاور حرم کعبہ کا جواب سمجھتے تھے ۔یہ کعبہ تین سو کھالوں سے گنبد کی شکل میں بنایا گیا تھا ۔ عرب میں عیسائیوں کا کوئی مذہبی مرکز اس کا ہمسر نہ تھا ۔اس ریاست کا انتظام تین شعبوں پر منقسم تھا۔خارجی اور جنگی امور کے ناظم کو’’سید‘‘ کہتےتھے۔دنیاوی امور ’’عاقب‘‘کے سپردہوتے اور دینی امور کا ذمہ دار ’’اسقف‘‘(لارڈ بشپ)کہلاتا تھا۔ان مذہبی پیشواؤں کا تقرر خود قیصر روم کیا کرتا تھا ۔ ( معجم البلدان جلد ٨ صفحہ ٩٦٣)آنحضرت صلی اللہ علیہ نے ان کو دوسرے بادشاہوں کے ساتھ تبلیغی خط لکھا جس پر ٧ ہجری میں نجران کا ایک پر شکوہ وفد مدینہ حاضر ہوا ۔یہ وفد ساٹھ ارکان پر مشتمل تھا اور اس میں ریاست کے تین لیڈر بھی تھے ۔جن کے نام یہ ہیں ۔عبد المسیح (عاقب) شرجیل یا اسیم (سید) اور ابو حارثہ بن علقمہ (اسقف) یہ وفد شاہی تزک و احتشام کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا ۔آنحضور نے انہیں مسجد نبوی میں اتارا ۔ تھوڑی دیر بعد ان کی نماز کا وقت آیا تو پیغمبر امن صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ان لوگوں نے مسجد نبوی میں ہی اپنی مخصوص عبادت کی‘‘
(منقول از وفات مسیح اور احیاء اسلام صفحہ 24 مطبوعہ ربوہ دسمبر 1979 ۔ مولانا دوست محمد صاحب شاہد)
پھر فتح مکہ کا جلالی دور بھی آیا تو آپ کے سامنے بڑے بڑے جنگی جرائم کے مرتکب بھی تھے ان میں سے بعض کو قتل کر دینے کا تقاضا انصاف تھا مگر ان میں سے بھی بعض کو آپ نے اپنی اعلیٰ ظرفی سے معاف فرما دیا ۔ خصوصا عکرمہ بن ابو جہل کا واقعہ ہے ان کو بھی امن دے دیا گیا۔ ان کے اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی امن دیا گیا ۔پھر حجتہ الوداع کا واقعہ بھی ہوا۔اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمگیر امن کے احکام کا اعلان فرمایا پھر اس اعلان کو آگے دور دور تک زمان و مکان تک پہنچانے کی ہدایت بھی فرمائی ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس خطبہ حجۃ الوداع کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
’’تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو ۔یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا دیں اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔ تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔پھر فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے آج کون سا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا علاقہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟ لو گوں نے کہا ہاں ! یہ مقدس مہینہ ہے۔یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے ۔ہر جواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے۔ جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے ۔جس طرح یہ دن مقدس ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اس کے مال کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی نا جائز ہے جیسے کہ اس مہینے اور اس علاقہ اور اس دن کی ہتک کرنا ۔یہ حکم آج کے لیے نہیں۔ کل کے لیے نہیں بلکہ اس دن تک کے لیے ہے کہ تم خدا سے جاکر ملو۔پھر فرمایا:یہ باتیں جو میں تمہیں آج کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیوں کہ ممکن ہے کو جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں ان کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے نہیں سن رہے ۔‘‘
(دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 346تا347)
محبت سے گھائل کیا آپ نے
دلائل سے قائل کیا آپ نے
جہالت کو زائل کیا آپ نے
شریعت کو کامل کیا آپ نے
بیاں کر دیے سب حلال و حرام
علیک الصلوٰۃ علیک السلام
***