رسول اکرم ﷺایسے دور میں پیدا ہوئے جب شِرک اور بُت پرستی عام تھی کُفر و ضلالت کادور دورہ تھا۔ مادہ پرستی اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے بغاوت لوگوں کی فطرت بن چکی تھی۔ گمراہی کو راہِ راست سمجھا جاتا تھا اور ہر وہ برائی معاشرے میں موجود تھی جو انسانیت کے منافی ہے۔ لیکن ان حالات اور ایسے ماحول میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ نے پورے چالیس برس نہایت ہی پاکیزگی اور شائستگی کے ساتھ زندگی گزاری۔ آپﷺکی شخصیت اور اخلاق لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ معاملات میں آپ صادق اور امین تھے۔ عام لوگ آپ کی باتوں کو غور سے سُنتے اور آپ سے مشورے طلب کرتے اور اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھتے تھے۔ گویا حُسنِ اخلاق کے تمام تر نمونے آپ کی سیرتِ پاک میں موجود تھے۔ تاریخ شاہد ہے رسول اللہ ﷺ نے ماں کی گود سے لے کر وفات تک عرب کے معاشرے اور گرد ونواح کے ماحول کا ذرّہ بھر بھی اثر قبول نہیںکیا۔ اس کے برعکس رسول ﷺ مسلسل چالیس سال تک سماج اور معاشرے کی بُرائیاں دیکھتے رہے اوراپنے دل ہی دل میں کُڑھتے رہے کہ ان بُرائیوں اوربدعنوانیوں کو کیسے ختم کیا جائے۔ ظاہر ہے بہتر اور مفید زندگی گزارنے اور پاکیزہ معاشرہ کو قائم کرنے کے لئے ایک انقلاب کی ضرورت تھی جو آپ نے پیدا کیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ایسے جامع و مانع اصلاحی نظام کی بنیاد رکھی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایسا نظام جو ساری دنیا کے لئے قابلِ قبول ہی نہیں قابلِ عمل بھی ہے اور عین فطرتِ انسانی کے مطابق ہے اور اس پر عمل کرنا سب کیلئے آسان ہے۔ اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں نہ صرف بُرائیاں دُور ہوجائیں گی بلکہ عالمِ انسانیت کو پر سکون اور امن کی زندگی گزارنے کے مواقع بھی میسّر آئیں گے۔
ظہورِ قدسی سے قبل ساری دنیا میں بندہ اورآقا کے درمیان بہت تفریق تھی۔ بادشاہ اور حاکمِ ضلِّ سُبحانی کہلاتے تھے۔ خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھّے ہوئے تھے۔ سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ ان کی زبان سے نِکلا ہوا ہر لفط قانون تھا۔ ان کے ہر حُکم کی تعمیل ضروری تھی اور لوگ مختلف طبقوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اونچے اوراعلیٰ درجہ کے لوگ ہر قسم کے قانون سے بالاتر تھے۔ کمزور، غریب اور بے سہارا لوگ مفلسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ انسانیت دم توڑ چُکی تھی۔ ذات پات کی خود ساختہ تفریق ،پست اور بُلند طبقوں کے من گھڑت امتیاز کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ محسنِ انسانیت ﷺ نے ان تمام حد بندیوں کو ختم کردیا اور ان کو ان کی چھِنی ہوئی عزّت و حرمت واپس دلادی۔ آدمیت کا بول بالا ہوا۔ انسانی مساوات کو فروغ ملا اور ببانگِ دہل یہ اعلان فرمایا:
لوگو خبردار ہوجاؤ تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارے جدّ اکرم حضرت آدم علیہ السلام ایک ہیں اور کان کھول کر سُنو عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللہِ اَتْقَاکُمْ۔(الحجرات:14)صرف تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنیاد پر فضیلت حاصل ہے۔ نسل و رنگ زبان و وطن، دولت و ثروت کی کمی و بیشی پر بھی اس کا انحصار نہیں۔ خدا کے نزدیک حُسنِ نیّت حُسنِ عمل اور حُسنِ اخلاق ہی بڑائی اور بُزرگی کی علامت اور بنیاد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا قانون کی نظر میں چھوٹا ہو یا بڑا ہو نوکر ہو یا مالک، غلام ہو یا آقا غریب ہو یا امیر رعایا ہو یا حاکم سب برابر ہیں۔ سب پر خدا کی بندگی اور اطاعت یکساں طور پر ضروری اور لازمی ہے۔ کسی سپہ سالار اور حکمران کو اور نہ ہی کسی مذہبی پیشوا کو یہ حق حاصل ہے کہ لوگوں کو خدا کی بجائے اپنی اطاعت پر مجبور کرے۔
سب انسان برابر ہیں۔ الناس كلهم بنو آدم وآدم خلق من تراب ۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کو مٹّی سے پیدا کیا ہے۔
ہادئ برحق نے جانی دشمنوں کو بھی اخوّت و محبّت کی لڑی میں پرو دیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کو بھائی بھائی بنادیا۔ بُغض و عناد، عداوت، کینہ ان سب کا خاتمہ کردیا۔ انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا رویہ اختیار کرنے کا پیغام دیا۔ انسانی جان و مال اور آبرو کی حرمت کا سبق دیا۔ میدان جنگ میں مسلمانوں کو ظلم سے باز رہنے کی تاکید فرمائی۔ معذوروں اور بے گناہوں کو قتل کرنے اور قیدیوں کو ستانے سے منع فرمایا۔
نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عورت کو معاشرہ میں کوئی مقام اور درجہ حاصل نہیں تھا۔ ہر جگہ عورت کو حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اس کو صرف باندی کا درجہ حاصل تھا۔ عورت صِرف بازار میں بِکنے والی اورلُبھانے والی چیز تھی۔ آپ ﷺ نے عورت کو ذلّت اور پستی کے گڑھے سے نکال کر مرد کے ساتھ برابری کا مقام دیا۔ اس کو نصف انسانیت قرار دیا۔ اپنی کمائی کا مالک اور جائیداد میں حصّہ دار بنادیا۔ ماں، بیوی، بیٹی اور بہن ہر اعتبار سے اس کے مقام میں اضافہ کردیا۔ مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت اور تسکین کا باعث قرار دیا۔ عورت کی عصمت اور عفّت کا احترام کرنا سکھایا۔ دین و دنیوی علوم حاصل کرنے میں عورت کو مرد کے برابر کا حصّہ قرار دیا۔ آپ ﷺ نے نیکی اور بھلائی کے معاملوں میں مرد اور عورت کی تفریق کو مٹادیا۔ فرمایا اللہ ربّ العزّت تقویٰ اور پرہیز گاری کو دیکھتا ہے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون مرد ہے اور کون عورت ہے۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایاعورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو۔ تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔ اس طرح باندی اور غلاموں کو آزاد کرنے اور اُن سے حُسنِ سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔ صدیوں سے چلی آرہی قدیم رسم کا خاتمہ کردیا۔ آپ نے اپنے دور ہی میں پردہ کے رواج کو فروغ دیا۔ نامحرم مردوں اور عورتوں کے مخلوط اجتماعات کو پسندیدہ خیال نہیں کیا جاتا تھا تاہم عورتیں معاشرتی سرگرمیوں میں پردہ کی رعایت سے حصّہ لیتی تھیں۔ وہ نہ صرف مساجد میں خُطبات سُنتی تھیں بلکہ حسب ضرورت جنگوں میں بھی شرکت کرتی تھیں۔
بعثت سے قبل عرب معاشرے کی دینی حالت بھی انتہائی خراب تھی۔ 360 بُتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ سب سے بڑا اور عظیم اصلاحی کام آپ ﷺ نے یہ کیا عقیدۂ توحید کو دلوں میں نافذ کیا۔ آخرت میں جواب دہی کا عقیدہ عام کیا۔ قلوب اور ارواح کا تزکیہ کیا۔ لوگوں کو اللہ کی اطاعت کے قانون پر آمادہ کیا۔ دلوں کو نیکی اور بھلائی کی طرف مائل کیا۔ خدائے واحد کی عبادت اور بندوں کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔ ناپسندیدہ کاموں سے نفرت کرنا سکھایا۔ شرم و حیا، عفّت و پاکدامنی کو ایمان کا لازمی حصّہ قرار دیا۔ اس طرح ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل میں ایک نمایاں کامیابی حاصل کی۔ فرد کے حقوق و فرائض کے علاوہ خاندانی زندگی کو بہتر بنانے کے اصولوں کی نشاندہی فرمائی۔ ایک خاندان کی تعمیر میں مرد اور عورت کے فرائض اور ماں باپ، بیٹا، بیٹی، بھائی اور بہن کے درمیان رشتوں کا تعین فرمایا۔ شادی کو ایک پسندیدہ عمل قرار دیا۔ ان اقدامات سے معاشرہ کی عمومی فضا پر خوش گوار اثرات مرتب ہوئے۔ اس بے مثال اور شہرۂ آفاق کامیابی کے باوجود آپ ﷺ نے ایک خود مختار شہنشاہ کا روپ اختیار نہیں کیا۔ یہ آپ کی لازوال عظمت کا ناقابل تردید ثبوت ہے ۔ ایک نبی کی حیثیت سے حکومت کا جو نمونہ پیش کیا وہ رفاہی اور فلاحی مملکت کا بہترین دستور تھا۔ اسلامی معاشرہ کو ایک منظّم ریاست کی صورت دینے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لئے جو اقدامات کئے وہ قیامت تک آنے والے حکمرانوں کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ نے عربوں کے قبائلی عصبتوں کو مٹا کر انہیں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا۔ ان کے سامنے زندگی کا اعلیٰ نصب العین ہی نہیں بلکہ اس کے حصول کے لئے انہیں سرگرمِ عمل بھی کیا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک عظیم الشان کامیاب زندگی ہے۔ آپ کیا بلحاظ اپنے اخلاق فاضلہ کے اور کیا بلحاظ اپنی قوت قدسی اور عقد ہمت کے اور کیا بلحاظ اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعاؤں کی قبولیت کے۔ غرض ہر طرح اور ہر پہلو میں چمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک غبی سے غبی انسان بھی بشرطیکہ اس کے دل میں بیجا غصہ اور عداوت نہ ہو صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہ کا کامل نمونہ اور کامل انسان ہیں ۔‘‘
(الحکم 10اپریل 1902ءصفحہ 5)
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحمَّدٍ و علیٰ اٰل مُحمَّدٍ و بَارِکْ وَسَلِّم