اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مذہبی رواداری اورآزادیٔ ضمیر کےحوالےسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات واُسوہ حسنہ (تقریر جلسہ سالانہ قادیان دسمبر2025ء۔ از محترم محمدانعام غوری صاحب ناظراعلیٰ قادیان)

سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

مذہبی رواداری اورآزادیٔ ضمیر کےحوالےسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات واُسوہ حسنہ

(تقریر جلسہ سالانہ قادیان دسمبر2025ء۔ از محترم محمدانعام غوری صاحب ناظراعلیٰ قادیان)

اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ حْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙالرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ۟ۙ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرہ :257)

دین میں کوئی جبر نہیں ۔یقیناً ہدایت گمراہی سےکُھل کر نمایاں ہوچکی ہے ۔

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ ۟ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ (الکہف:30)

ترجمہ:اورکہہ دے حق وہی ہے جو تمہارے ربّ کی طر ف سےہو۔پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے اورجو چاہے سوانکار کردے۔

قُوْلُوْآ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰی اِبْراھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِم ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ وَ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ (البقرۃ :137)

(اے مسلمانو!) تم کہہ دو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اُس پرجو ہماری طرف اُتارا گیا اورجو ابراہیم اوراسماعیل اور اسحٰق اوریعقوب اور(اُس کی )اولاد کی طرف اُتارا گیا۔اورجو موسیٰ اورعیسیٰ(علیھم السلام) کودیا گیا اوراُس پر بھی جو سب نبیوں کواُن کے ربّ کی طرف سے عطاکیا گیا ۔ہم اُن میں سےکسی کےدرمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔

سامعین کرام ! مذہبی رواداری اورآزادیٔ ضمیر کے حوالے سے قرآن کریم نےمتعدّد مقامات پر ایسے اُصولی حقائق اور ایسے احکام بیان فرمادئیے ہیں جن کو اگر ملحوظ رکھا جائے اور اُن پر عملدرآمد کیا جائے تو یہ جو آئے دن مذہب کےنام پر لڑائی جھگڑے ،قتل وغارت گری کے واقعات رُونما ہوتے رہتے ہیں ،اِن کا قلع قمع ہوسکتا ہے بشرطیکہ ان امن بخش اور صلح پسند تعلیمات کو سیاسی مفادات سے الگ اور مبرّا رکھا جائے۔

وقت کی رعایت سے مَیں نے صرف تین آیات اور ان کا ترجمہ پیش کیا ہے ۔یہاں یہ بنیادی امر سمجھنے اور یادرکھنے کے لائق ہے کہ مذہب کسی سیاسی جماعت،کسی قوم اور کسی ملک کانام نہیں ہے بلکہ مذہب کی حقیقت یہ ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی جسمانی ،اخلاقی اور روحانی حالتوں کو دُرست کرتا اور پھر اپنے خالقِ حقیقی سے سچا اورپختہ تعلق قائم کرنے کا راستہ دکھاتا ہے ۔اِس غرض کے لئے خدائے ربُّ العالمین ہر ملک وقوم میں اپنے ہادی اوررہنما اورپیغمبر مبعوث فرماتا رہا ہے جیسا کہ فرمایا ۔وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ ۔(سورۂ یونس :48)یعنی ہر ایک امت کیلئے کوئی نہ کوئی رسول ہوتاہے ۔اسی طرح فرمایا وَّلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ ( سورہ ٔرعد :8)اورہر قوم کے لئے ایک ہادی اوررہنما ہوتا ہے ۔

اسی لئے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم جہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی ، قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہو،وہاں تکمیلِ ایمان کےلئے ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلےجن انبیاء پر خدا تعالیٰ کی وحی اور کلام نازل ہوتا رہا اوروہ اپنےاپنے وقت میں اُس الہام وکلام اورشریعتوں کی رُو سے اپنی قوم کی اصلاح اورہدایت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ،اُن سب انبیاء پر اوراُن کی لائی ہوئی شریعتوں پر بھی اُصولی طورپر ایمان رکھیں ۔اور یہ اقرار کریں کہ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ کہ ہم مسلمان خدا کے رسولوں کےدرمیان کوئی فرق نہیں رکھتے ۔یعنی منصب ِ رسالت کے لحاظ سے سب برابر ہیں اگرچہ اُن کی ذمہ داریوں اورفرائض اوردائر ہ کار کےلحاظ سے بے شک اُن کےمراتب میں تفاوت موجود ہے۔

اس مختصر تمہید کےبعد مذہبی رواداری اورآزادیٔ  ضمیر کےمتعلق قرآنی تعلیمات کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اوراُسوۂ حسنہ کی چند مثالیں وقت کی رعایت کوملحوظ رکھتے ہوئے پیش کی جاتی ہیں:۔

بات گھر سے شروع کرتےہیں تو بالعموم یہ دیکھا جاتا ہے کہ بیٹے نے مذہب تبدیل کرلیا تو ماں باپ نے اُس کا بائیکاٹ کردیا ۔برادری والوں نے سوشل تعلّقات بھی منقطع کرلئے ۔اس صورت میں ایک مسلمان کو کیا تعلیم دی گئی ہے ۔

ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا اَے اللہ کے رسولؐ!میرےکچھ رشتہ دار ہیں ،مَیں اُن سے تعلق جوڑتا ہوں وہ توڑ دیتے ہیں ۔مَیں احسان کرتا ہوں وہ بدسلوکی کرتےہیں ۔میری نرمی اور حلم کےسلوک کاجواب وہ زیادتی اور جہالت سے دیتے ہیں۔حضرت نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔اگروہ ایساہی کرتےہیں جیسا تم نے بیان کیا تو تم گویا اُن کے منہ پر خاک ڈال رہے ہو یعنی اُن پر احسان کرکےاُن کو ایسا شرمسار کرکے رکھ دیاہے کہ وہ منہ دکھانے کےنہیں رہے اور اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ایک مددگار فرشتہ اُس وقت تک مقرر رہے گا جب تک تم اپنے حسن سلوک کے اِس نمونہ پر قائم رہو گے ۔ (مسند احمد جلد 2صفحہ 300مطبوعہ مصر)

حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ بیان کرتی ہیں ۔میری مشرکہ والدہ مجھ سے ملنے مدینہ آئیں ۔مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا مَیں اُن کےمشرک ہونے کےباوجود اُن سے حسن سلوک کروں ۔آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں ۔آخر وہ تمہاری ماں ہے ضرور ان سے حسن سلوک سےپیش آؤ۔

(بخاری کتاب الادب،باب صلۃ الولدالمشرک)

حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر رحمی رشتہ داروں نے دعویٔ نبوت پر آپؐ کی مخالفت میں انتہائی ظالمانہ رویّہ رَوارکھا ۔مگر آپؐ فرماتے تھے کہ بے شک قریش کی فلاں شاخ میری دشمن ہوگئی ہے مگرآخر میرا اُن سے ایک خونی رشتہ ہے ۔مَیں اِس رحمی تعلق کے حقوق بہرحال ادا کرتا رہوں گا۔چنانچہ آپؐ کےایک صحابی ثُمامہ بن اُثال تھے جو یمامہ ؔ میں رہتے تھے اوران کی طرف سے مکہ والوں کوگندم آیا کرتی تھی ۔جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور اُن کو علم ہوا کہ مکہ والے نبیٔ کریمؐ کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتے ہیں توانہوں نے فیصلہ کرلیا کہ آج کے بعد گندم کا ایک دانہ بھی اِدھر سے مکّہ میں نہیں پہنچے گا۔اور انہوں نے مکّہ والوں کوکہہ دیا کہ جب تک میرے محبوب ؐ اجازت نہیں دیں گے یمامہؔ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا۔تب مکہ والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ تو صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہیں ہماری گندم بند ہوگئی ہے اورہم بھوکے مررہے ہیں ہم پر رحم فرمائیں ۔چنانچہ اس رحمۃ ٌ للعالمین کی شفقت سے مکہ والوں کی گندم دوبارہ شروع ہوگئی۔ (السیرۃ النبویۃ لابنِ ہشام )

اسی طرح ہجرتِ مدینہ کے بعد اہلِ مکہ کو ایک شدید قحط نے آگھیرا ۔یہاں تک کہ اُن کو ہڈیاں اور مُردار کھانے کی نوبت آگئی ۔تب مجبور ہوکر ابوسفیان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ تو صلہ رحمی کا حکم دیتےہیں اوراب آپ کی قوم ہلاک ہورہی ہے۔ ہمارے حق میں دعا کریں کہ بارش نازل ہواورقحط سالی دوٗر ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قطع نظر اس بات کےکہ یہ وہی مکہ والےہیں جنہوںنے آپ کو اورآپ کےاہل وعیال کو مسلسل تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کررکھا تھا حتّٰی کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی وہاں تک پہنچنے نہ دیتے تھے آپ ؐ نے فوراً دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور یہ دُعا اس قدر مقبول ہوئی کہ خوب بارشیں ہوئیں اور اہل مکہ کی فراخی اور راحت کے دن لَوٹ آئے ۔ (بخاری کتاب التفسیر سورۃ الروم ۔الدخان)

اپنوں سے نکل کر ہمسایوں کی بات آتی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمسایوں اور پڑوسیوں سے ،قطع نظر اس کے کہ وہ مسلم ہیں یا غیرمسلم ،اس قدر رَواداری اورحسنِ سلوک کی تاکید فرمائی کہ اگر اس پر عملدرآمد کیا جائے تو کبھی بھی محض اختلافِ مذہب کی بناء پر باہمی تنازعات نہ ہوں۔

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :خدا تعالیٰ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی قسم !وہ شخص مومن نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی قسم !وہ شخص مومن نہیں ہے(تین مرتبہ یہی الفاظ آپؐ نے دہرائے)۔ آپؐ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! کون مومن نہیں ہے ۔آپؐ نے فرمایا۔وہ ،جس کا پڑوسی اُس کی شرارتوں اور اُس کے اچانک واروں سے محفوظ نہ ہو۔ (بخاری كتاب الادب/حدیث:6016]

اچانک حملے مختلف طریقوں سے ہوتےہیں۔کبھی رات کے وقت ریڈیو،T.Vپر اُونچی آواز سے پروگرام سُنتے ہیں جس سے اس کا پڑوسی آرام کی نیند سونہیں سکتا ۔ کبھی گھر کا کچرا ہمسایہ کے دروازے کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے وغیرہ ۔

حضرت ابوذرؓ بیان کرتےہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےا ُن کو مخاطب کرکے فرمایا ۔اے ابوذر!جب بھی تم کوئی اچھا سالن بناؤتو اس کا شوربہ کچھ زیادہ کرلیا کرواور اپنے پڑوسی کا بھی خیا ل رکھو یعنی پڑوسیوں کو بھی کبھی سالن بھجوادیا کرو۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتےہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کس طرح معلوم ہو کہ مَیں اچھا کررہا ہوں یا بُرا کررہا ہوں ۔آپؐ نے فرمایا جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سُنو کہ تم بڑے اچھے ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا طرزِ عمل اچھا ہے اور جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم بڑے بُرے ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا رویّہ بُرا ہے ۔

(ابن ماجہ كتاب الزهد/حدیث: 4223)

پھریہ کہ اپنے مذہب اور مسلک کو پھیلانے کے لئے زبردستی کرنا یاجنگ کرنا ہرگز جائز نہیں۔ قرآن کریم کا واضح بیان ابتداء میں پیش کرچکا ہوں لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کہ دین میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں ۔نیز یہ بھی اعلان فرمادیا کہ حق تو تمہارے ربّ کی طرف سے آچکا اِسکے بعد کسی جبر کا سوال ہی باقی نہیں رہتا کیونکہ حق تو اُسی امر کو کہا جاتا ہے جو دلوں کو اپنی سچائی اورخوبی کے ساتھ منوائے جس کا جبر وتشدّد کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو اب لوگوں کا اختیار ہے کہ چاہے تو ایمان لائیں یا انکار کردیں۔

ایک اورآیت میں یہ اعلان فرمایا گیا کہ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ یعنی اَے کافرو اورمنکرو!تمہیں اپنے دین کی آزادی اور مجھے اپنے دین کی آزادی ہے۔(سورۃالکافرون:7)

مذکورہ آیات ،مذہبی آزادی کے چار بنیادی حقوق عطا کرتی ہیں۔اوّل یہ کہ کسی کو زبردستی اپنے مذہب میں داخل نہیں کیا جاسکتا ۔دوئم یہ کہ کسی مذہب میں اپنی مرضی سے داخل ہونے والے کو جبراً روکا نہیں جاسکتا۔سوئم یہ کہ اپنے عقیدہ کےا علان واظہار کےمطابق اس پر قائم رہنے اور رسوم وعبادات اداکرنے پر کوئی پابندی اور زبردستی جائزنہیں ۔اور چہارم یہ کہ اگر کوئی مذہب میں نہ رہنا چاہے اُسے جبراًمذہب میں رکھنا جائزنہیں اورجو رہنا چاہے اُسے جبراً نکالنا جائز نہیں ۔یہاں یادرکھنا چاہئے کہ اسلامی جنگوں پر جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ جنگیں دینِ اسلام کو پھیلانے کی غرض سے تھیں بالکل غلط الزام ہے۔اسلامی جنگیں محض دفاعی جنگیں تھیں یا فتنہ وفساد کودوٗر کرنے اورامن وامان کو قائم کرنے کےلئے تھیں ۔

حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا نمونہ تو یہ تھا کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساری دنیا کے لئے ہادی اور رسول بناکر بھیجا تھا اور مرتبہ کے لحاظ سے خاتم النبیین بناکر مبعوث فرمایا تھا لیکن آپ نے کبھی یہ پسند اور برداشت نہیں کیا کہ کوئی مسلمان بے موقع وبے محل آپؐ کو دوسرے نبیوں سے افضل بتاکر امن کےماحول کو خراب کرے ۔چنانچہ صحیح بخاری میں ایک روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی بازار میں سودا بیچ رہا تھا اُسے ایک مسلمان نے ایک چیز کی تھوڑی قیمت بتائی جو اُس یہودی کو ناگوار گزری اور اُس نے کہہ دیا کہ اُس ذات کی قسم جس نےموسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے ۔اِس بات پر اُس مسلمان کو غصّہ آگیا اور اُس نے اُس یہودی کو تھپڑ ماردیا ۔اُس یہودی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ہم آپ کی ذمہ واری اوراَمان میں ہیں اِس مسلمان نے مجھے تھپڑ مار کرزیادتی کی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس مسلمان پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا مجھے نبیوں کےمابین فضیلت نہ دیا کرو۔

مذہبی رَواداری کو فروغ دینے کےلئے ضروری ہے کہ مذہبی اختلافات کےباوجود اُس نکتہ کوتلاش کرنے کی کوشش کی جائے جس پر باہم اتفاق ہوسکتا ہو اور باہمی نفرت دوٗر ہوسکتی ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ؎

قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (آل عمران :65)

تُوکہہ دے اے اہل کتاب!اُس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اَور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سواکسی کی عبادت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی چیز کو اُس کا شریک ٹھہرائیں گے اورہم میں سےکوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سِوا ربّ نہیں بنائے گا ۔پس اگر وہ پھرجائیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ یقیناًہم مسلمان ہیں۔

اب دیکھ لیں اِس میں ایک مسلّمہ اور متّفقہ امرکے حوالے سے اتحاد کی طرف بلایا گیا ہےلیکن اگر کوئی اس اُصول کو بھی ماننے کیلئے تیار نہ ہو تواُس سے مجادلہ اور مقاتلہ کرنے کی اجازت نہیں ہے صرف یہ بتادینا کافی ہے کہ ہمارا نظریہ تو یہ ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےکفار ِمکہ کی مسلسل مخالفت اور ظالمانہ ایذاء رسانیوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کو اپنے عقائد کےمطابق عمل کرنے اور تبلیغ کرنے سے جبراً روکنے کےسبب خدا کے اِذن سے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔جہاں بعض نَومسلم خاندانوں کے علاوہ یہود کے تین قبائل بنو قینقاع ؔ،بنو نضیرؔ اور بنو قریظہؔ اور دوقبائل مشرکوں کے اوسؔ اور خزرجؔ موجود تھے ۔

ان پانچوں قبائل میں نظم ونسق نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔خاص طورپر یہود کے تین قبائل آزاد اور خود مختار رنگ میں الگ الگ قلعوں میں بُود وباش رکھتے تھے۔ ان حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاستِ مدینہ میں مذہبی رواداری اورامن وامان کےقیام کی غرض سے بالخصوص یہود کے قبائل کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ فرمایا جس کی شرائط کچھ اس طرح تھیں :۔

۱۔مسلمان اور یہودی آپس میں ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ رہیں گے اور ایکدوسرے کے خلاف زیادتی یاظلم سےکام نہیں لیں گے ۔

۲۔ہر قوم کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔

۳۔ہر قسم کے اختلاف اور تنازعات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رجوع کریں گے اور ہر ایک کا فیصلہ اُس قوم کی اپنی شریعت کےمطابق کیا جائے گا۔

۴۔تمام شہریوں کی جان ومال محفوظ ہوں گے۔

۵۔اگر یہودیوں یامسلمانوں کے خلاف کوئی قوم جنگ کرے گی تویہود اورمسلمان ایکدوسرے کی حمایت اورامداد کیلئے کھڑے ہوں گے۔

۶۔اگرمدینہ پر کوئی حملہ ہوگا تو سب مل کر اس کامقابلہ کریں گے ۔

۷۔کوئی فریق آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کےبغیر جنگ کے لئے نہیں نکلے گا۔۸۔اس معاہدہ کےمطابق کوئی ظالم یا فسادی سزا سے انتقام سے محفوظ نہیں ہوگا۔وغیرہ

ہر چند کہ یہودی قبائل مسلسل اس معاہدہ شکنی کےمرتکب ہوتے رہے لیکن نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اِیفائے عہد کے ساتھ ان سے حسن سلوک ہی روارکھا۔

پس ایسے نامساعد حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہایت پُرحکمت طریق پر ریاست ِ مدینہ کا نظم ونسق سنبھالنا ،بالخصوص ایک ایسی ریاست میں جس میں مختلف مذاہب اور مختلف مسلکوں سے تعلق اور عقیدت رکھنے والوں کی ہو۔۔،وہاں ہر ایک کو اپنے عقیدہ اورمسلک پر عمل پیرا ہونے اوراسکے اظہار اور پُرامن تبلیغ کرنےکی آزادی دینا اورپھر اس پر عملدرآمد کرکے دکھا دینا یہ مذہبی آزادی اور رواداری کی بے نظیر مثال ہے ۔

ایک مرتبہ نجران کا عیسائی وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی تبادلۂ خیال کی غرض سے مدینہ آیا ۔ آپؐ نے انہیں مسجد ِنبوی میں نہایت عزّت وتکریم کے ساتھ ٹھہرایا اوروہ جب اپنی عبادت کےلئے کہیں باہر جانے کےلئے دیکھ رہے تھے تو آپ ؐنے فرمایا !اِدھر اُدھر جانے کی ضرورت نہیں اِسی مسجد میں آپ اپنے طریق کےمطابق عبادت کرسکتےہیں۔

قرآن کریم نے تویہاں تک تعلیم دی ہے کہ جو لوگ اللہ کے سوا اَور ہستیوں اورچیزوں کی پوجا کرتے ہیں تم اُن کو بھی بُرا مت کہو ورنہ وہ بھی دشمنی کی راہ سے نادانی میں اللہ کو گالی دیں گے ۔(سورۃ الانعام :109)

مشرکینِ مکہ نے غزوہ ٔاُحد کےموقع پر مسلمان شہداء کی نعشوں کامثلہ کرکے یعنی اُن کے ناک کان وغیرہ کاٹ کربے حُرمتی کی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کبھی اس رنگ میں بدلہ نہیں لیا ۔بلکہ اس کے برعکس آپؐ کایہ اُسوہ تھا کہ ایک دفعہ ایک یہودی کا جنازہ آرہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کےا حترام کےلئے کھڑے ہوگئے کسی نے عرض کیا کہ حضورؐ! یہ یہودی کا جنازہ ہے ۔آپؐ نے فرمایا کیا اُس میں جان نہیں تھی کیا وہ انسان نہیں تھا ۔ (بخاری /كتاب الجنائز/حدیث: 1312)

حضرت یعلیٰ ؓبن مُرّہ بیان کرتےہیں کہ میں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی سفر کئے ،کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ آپؐ نےکسی انسان کی نعش پڑی دیکھی ہو اوراُسے دفن نہ کروایا ہو۔آپؐ نےکبھی یہ نہیں پوچھا کہ یہ مسلمان تھا یاکافر۔

جنگِ بدرؔ میں ہلاک ہونے والےمشر ک سرداروں کی لاشوں کومشرکینِ مکہ کُھلے میدان ہی میں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےخود اُن سب کو ایک گڑھے میں دفن کروادیا تھا جسے قلیبِ بدرؔکہتے ہیں ۔(بخاری کتاب المغازی، حدیث: 3976 )

غزوہ احزاب میں مشرکین کا ایک سردار نوفل بن عبد اللہ مخزومی مقابلہ میں ہلاک ہوا ،مشرکینِ مکہ حضرت حمزہؓ کے ساتھ کئے گئے بہیمانہ سلوک کی وجہ سے طبعاًخائف تھے کہ اُن کے سردار سے بھی ایسا ہی سلوک نہ کیا جائے۔ انہوں نے رسول اللہ ؐ کو پیغام بھیجا کہ دس ہزار درہم ہم سےلےلیں اورنوفل کی نعش واپس کردیں۔رسول کریم ؐ نے فرمایا ہم مُردوں کی قیمت نہیں لیاکرتے تم اپنی نعش واپس لے جاؤ۔

(دلائل النبوۃ للبہیقی جلد 3)

مفتوح اورمغلوب اقوام سےبالخصوص جن کےہاتھوں مدّتوں ناقابلِ بیان تکالیف اور اذیّتیں  برداشت کی ہوں،اُن سے حسن سلوک کرنا ، تاریخ عالَم میں بجُز بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَور کہیں نظر نہیں آتا ۔

مشرکینِ مکہ کے سردار ابوجہل کابیٹا عکرمہؔ اپنےباپ کی طرح رسول اللہ ؐ سےجنگیں کرتا رہا ۔حتّٰی کہ فتح مکہ کےموقع پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عفوِ عام کےاعلان کےباوجود ایک دستے پر حملہ آور ہوکر حرم میں خونریزی کا باعث بنااور اپنےجنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجبُ القتل ٹھہرا تھا ۔اپنی جان بچانے کےلئے وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔اُس کی بیوی اُمّ حکیم جو مسلمان ہوچکی تھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسکی معافی کی طلبگار ہوئی تو آپؐ نےکمال شفقت سےمعاف فرمادیا ۔وہ اپنے شوہر کو واپس لانے کیلئے بھاگی اورجبکہ وہ بحری جہاز میں سوار ہونے کو تھا اُس کوکھینچ لائی کہ واپس چلو رسول اللہ ؐ نے تمہیں معاف کردیا ہے ۔لیکن عکرمہ کواپنی معافی پر یقین نہ آتا تھا تاہم بیوی کےکہنےپر لرزاں وترساں مکہ واپس آگیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےعرض کیا کہ کیا واقعی آپ نےمجھے معاف فرمادیا ہے ۔آپؐ نے فرمایا ،ہاں مَیں نے تمہیں معاف کردیا ہے پھراُس نے پوچھا کیا اپنے دین پر رہتےہوئے آپ نےمجھے معاف کردیا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔تب اُس مشرک عکرمہ کا سینہ اسلام کےلئے کُھل گیا اوروہ یہ رَواداری اور حسنِ سلوک دیکھ کر بے اختیار کہہ اُٹھا اےمحمد! (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ تو بہت ہی صلہ رحمی کرنےو الے اور بے حد حلیم اور بہت ہی کریم ہیں ،مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

(السیرۃ الحلبیہ جلد 3صفحہ 92مطبوعہ بیروت)

اسی طرح ان مجرموں میں ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ بھی تھی جس نے جنگِ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےچچا حضرت حمزہ ؓ کی نعش کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا تھا ۔اوران کے ناک کان اور دیگر اعضاء کاٹ کر لاش کا حُلیہ بگاڑا اور اُن کا کلیجہ چباکر آتشِ انتقام سرد کی تھی ۔فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی بیعت لی تو یہ بھی نقاب اوڑھ کر بیٹھ گئی کیونکہ اس کے جرائم کی وجہ سے اسے بھی واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ

’’۔۔۔جب عورتیں بیعت کے لیے آئیں توہندہ بھی چادر اوڑھ کر ساتھ آگئی اور اس نے بیعت کرلی۔ جب وہ اس فقرہ پر پہنچی کہ ہم شرک نہیں کریں گی توچونکہ وہ بڑی تیز طبیعت تھی۔ اس نے کہا یارسول اللہ! ہم اب بھی شرک کریں گی؟ آپؐ اکیلے تھے اور ہم نے پوری طاقت اور قوت کے ساتھ آپ کامقابلہ کیا۔ اگر ہمارے خدا سچے ہوتے توآپ کیوں کامیاب ہوتے۔ وہ بالکل بیکارثابت ہوئے اور ہم ہار گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہندہ ہے؟ آپؐ اس کی آواز کوپہچانتے تھے، آخر رشتہ دار ہی تھی۔ہندہ نے کہا یارسول اللہ! اب میں مسلمان ہو چکی ہوں۔ اب آ پ کو مجھے قتل کرنے کا اختیار نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا ہاں اب تم پر کوئی گرفت نہیں ہو سکتی۔غرض وہ قوم جو سمجھتی تھی کہ آپ نے سب خداؤں کو کُوٹ کر ایک خدا بنا لیا ہے ان میں اتنا تغیر پیدا ہو گیا کہ ہندہ جیسی عورت نے کہا کہ کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ خدا ایک نہیں۔‘‘

(انوار العلوم جلد 20 صفحہ 14، 15)

اللھم صل علیٰ محمّد وبارک وسلّم انک حمید مجید

سامعین کرام !اس موضوع اور مضمون کی مناسبت سے آخرپر یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مذہبی رواداری اورآزادیٔ ضمیر کے حوالے سے قرآنی تعلیمات اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےاُسوۂ حسنہ کو دوبارہ زندہ وتابندہ کرنےکےلئے اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظلّ اوربروزِ کامل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اورمہدی ٔ معہود کےمنصب پر فائز کرکے خاص طور پر ملک ِ ہند میں مبعوث فرمایا ہے جسکی ایک بڑی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہندوستان مختلف اقوام وملل کا گہوارہ ہے، مختلف رنگ ونسل اور مختلف زبانوں اور مذاہب کےپیروکاروں کا وطن ہے سواللہ تعالیٰ نے اسلام کی حسین اور امن بخش تعلیمات کو پھیلانے کےلئے اس ملک کومرکز بنایا ہے اوراسی ملک سےیہ روشنی آج دنیا کے 220ملکوں میں پھیل چکی ہے ۔علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے اس ملکِ ہند میںہندو اورمسلمان دوبڑی قومیں آباد ہیں ۔ان میں اتحاد واتفاق اور مذہبی رواداری کی تعلیم دیتے ہوئے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نےاپنی زندگی کے آخری دنوں میں’’ پیغامِ صلح‘‘ کےنام سے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کے چند اقتباسات وقت کی رعایت سے پیش کرتاہوں:

آپ ؑ فرماتےہیں:۔

اے سامعین ! ہم سب کیا مسلمان اورکیاہندو باوجود صدہا اختلاف کے اُس خدا پر ایمان لانے میں شریک ہیں جودنیا کا خالق اور مالک ہے اورایسا ہی ہم سب انسان کےنام میں بھی شراکت رکھتے ہیں یعنی ہم سب انسان کہلاتےہیں اور ایساہی بباعث ایک ہی ملک کےباشندہ ہونےکے ایک دوسرے کےپڑوسی ہیں اسلئے ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیّتی کے ساتھ ایک دوسرے کےرفیق بن جائیں اوردین ودنیا کی مشکلات میں ایکدوسرے کی ہمدردی کریں اورایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایک دوسرے کے اعضاء بن جائیں ۔

اے ہموطنو! وہ دین ،دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کامادہ نہ ہو۔ہمارےخدا نےکسی قوم سے فرق نہیں کیا مثلاًجو انسانی طاقتیں اورقوتیں آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئی ہیںوہی تمام قوتیں عربوں اور فارسیوں اور شامیوں اور چینیوں اور جاپانیوں اوریورپ اور امریکہ کی قوموں کوبھی عطا کی گئی ہیں۔سب کےلئے خدا کی زمین فرش کاکام دیتی ہے اورسب کے لئے اُس کا سورج اورچاند اور کئی ستارے روشن چراغ کاکام دے رہےہیں اور دوسری خدمات بھی بجالاتےہیں۔اُس کی پیدا کردہ عناصر یعنی ہوا اورپانی اور آگ اور خاک اور ایسا ہی اُس کی دوسری تمام پیدا کردہ چیزوں اناج اور پھل اور دَواوغیرہ سے تمام قومیں فائد ہ اُٹھا رہی ہیں ۔پس یہ اخلاقِ ربّانی ہمیں سبق دیتےہیں کہ ہم بھی اپنے بنی نوع انسانوں سے مروّت اورسلوک کے ساتھ پیش آویں اور تنگ دل اورتنگ ظرف نہ بنیں ۔‘‘

(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23صفحہ 439تا440)

نیز باہمی اتحاد اور اتفاق کی برکتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتےہیں:۔

’’یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ اتفاق ایک ایسی چیز ہے کہ وہ بلائیں جو کسی طرح دور نہیں ہوسکتیں اوروہ مشکلات جوکسی تدبیر سے حل نہیں ہوسکتیں وہ اتفاق سے حل ہوجاتی ہیں۔پس ایک عقلمند سے بعید ہے کہ اتفاق کی برکتوں سے اپنے تئیں محروم رکھے ۔ہندو اور مسلمان اِس ملک میں دوایسی قومیں ہیں کہ یہ ایک خیالِ محال ہے کہ کسی وقت مثلاًہندوجمع ہوکر مسلمانوں کو اِس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہوکر ہندؤوں کو جَلا وطن کردیں گے ۔بلکہ اب تو ہندومسلمانوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہورہا ہے۔اگرایک پرکوئی تباہی آوے تو دوسرا بھی اس میں شریک ہوجائے گا۔۔۔جوشخص تم دونوں قوموں میں سے دوسری قوم کی تباہی کی فکر میں ہے اُس کی اُس شخص کی مثال ہے جوایک شاخ پر بیٹھ کر اُسی کو کاٹتا ہے ۔ آپ لوگ بفضلہ تعالیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوگئے ۔اب کینوں کوچھوڑ کرمحبت میں ترقی کرنا زیبا ہے اوربے مہری کو چھوڑ کر ہمدردی اختیار کرنا آپ کی عقلمندی کےمناسب حال ہے ۔۔۔‘‘

سامعین کرام!مختلف مذاہب کےمختلف عقائد ونظریات ہوسکتےہیں جس کو ہر پیروکارعلیٰ وجہ البصیرت تسلیم کرتا اور عمل پیرا ہوتاہو اور عقل وانصاف کے دلائل کے ساتھ دوسروں کو قائل کرسکتا ہو یہی مذہبی آزادی کامفہوم اور مطلب ہے لیکن اس کے برخلاف جو دوسروں کے مذہبی پیشوا یا اُن کی مسلّمہ کتب کی اہانت اور تکذیب کی کوشش کرے گا تو ایسا عمل فساد اور جنگ وجدال کا موجب ہوگا۔ورنہ چھوٹے چھوٹے اختلافات باہمی صلح اور اتحاد کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتے۔

اس نکتہ کی مزید وضاحت کرتےہوئے حضورعلیہ السلام فرماتےہیں:۔

’’اے عزیزو!قدیم تجربہ اور باربار کی آزمائش نےاس امر کو ثابت کردیاہے کہ مختلف قوموں کےنبیوں  اور رسولوں کو۔۔ توہین سے یاد کرنا اوراُن کو گالیاں دینا ایک ایسی زہر ہے کہ نہ صرف انجام کار جسم کو ہلاک کرتی ہے بلکہ روح کو بھی ہلاک کرکے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرتی ہے ۔

وہ ملک آرام سے زندگی بسر نہیں کرسکتا جس کےباشندے ایک دوسرے کے رہبرِ دین کی عیب شماری اور ازالہ حیثیت ِ عرفی میں مشغول ہیں۔اور اُن قوموں میں ہرگز سچّا اتفاق نہیں ہوسکتا جن میں سے ایک قوم یادونوں ایکدوسرے کےنبی یا رِشی اوراَوتار کو بدی یابدزبانی کے ساتھ یادکرتے رہتےہیں۔

اورہم لوگ ،دوسری قوموں کےنبیوں کی نسبت ہرگز بدزبانی نہیں کرتے بلکہ ہم یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جسقدر دنیامیں مختلف قوموں کے لئے نبی آئےہیں  اورکروڑہا لوگوں نے ان کو مان لیا ہے اور دنیا کےکسی ایک حصہ میں اُن کی محبت اورعظمت جاگزیں ہوگئی ہے اورایک زمانۂ دراز اس محبت اور اعتقاد پر گُزرگیا تو بس یہی ایک دلیل اُن کی سچائی کیلئےکافی ہے ۔کیونکہ اگر وہ خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ قبولیت کروڑہا لوگوں کے دلوں میں نہ پھیلتی۔‘‘(ایضاً)

پس بانیٔ اسلام حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزادی ٔ ضمیر ومذہبی رواداری کے حوالے سےجو تعلیمات دیں اوراپنے اُسوہ ٔ حسنہ سے اُسکے عملی ثبوت دئیے اور پھر اِس زمانہ میں آپ کے غلام صادق نے ان تعلیمات اوراُسوۂ حسنہ کو زندہ کرکے پیش کیا ہے اُس کی طرف ہم تمام دنیا کو دعوت دے رہےہیںکیونکہ آج جو انسانیت کو خطرہ لاحق ہے وہ محض ذات پات کی تفریق اور رنگ ونسل کاامتیاز اور پھر جنون کی حد تک مذہبی اختلافات کا نتیجہ ہے جس نے اس حد تک انسان کو انسانیت سے گرادیا ہے کہ قتل وغارت گری تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کےعلاوہ انتہائی مہلک ہتھیار اورڈرون حملوں کے نتیجہ میں بچے ، بوڑھے، عورتیں اور معصوم جانوں کے قتلِ عام کے واقعات آئے دن ہم سنتے اور دیکھتے آرہے ہیں۔

سیّدنا حضرت مرزا مسروراحمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزآزادیٔ ضمیر اور مذہبی رواداری کےمتعلق اسلامی تعلیم اور حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتےہیں:۔

’’قرآن کریم میں متعدّد جگہ اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کا ذکر ملتا ہے جس میں غیر مسلموں سے حسنِ سلوک،ان کے حقوق کا خیال رکھنا ،ان سے انصاف کرنا ،ان کے دین پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا،دین کےبارہ میں کوئی سختی نہ کرنا وغیرہ کےبہت سےا حکامات اپنوں کے علاوہ غیر مسلموں کیلئے ہیں۔۔۔اس سراپا رحم اور محسنِ انسانیت اورعظیم محافظِ حقوق انسانی کا تو یہ حال تھا کہ آپؐ جنگ کی حالت میں بھی کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے جو دشمن کو سہولت نہ مہیا کرتا ہو۔آپؐ کی زندگی کا ہر عمل ،ہر فعل ،آپؐ کی زندگی کا پل پل اورلمحہ لمحہ اس بات کا گواہ ہے کہ آپؐ مجسم رحم تھے اورآپؐ کےسینے میں وہ دل دھڑک رہا تھا کہ جس سے بڑھ کر کوئی دل رحم کے وہ اعلیٰ معیار اور تقاضے پورے نہیں کرسکتا جو آپؐ نےکئے ،امن میں بھی اور جنگ میں بھی ،گھر میں بھی اور باہر بھی ،روزمرّہ کے معمولات میں بھی اور دوسرے مذاہب والوں سےکئے گئے معاملات میں بھی اور دوسرے مذاہب والوں سے کئے گئے معاہدات میں بھی ۔آپؐ  نے آزادیٔ ضمیر ،مذہب اور رواداری کےمعیار قائم کرنے کی مثالیں قائم کردیں۔اور پھر جب عظیم فاتح کی حیثیت سے مکّہ میں داخل ہوئے تو جہاں مفتوح قوم سے معافی اور رحم کا سلوک کیا ،وہاں مذہب کی آزادی کا بھی پورا حق دیا اور قرآن کریم کے اس حکم کی اعلیٰ مثال قائم کردی کہ لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ(سورۃ البقرہ :آیت 257)کہ مذہب تمہارے دل کامعاملہ ہے ،میری خواہش توہے کہ تم سچے مذہب کومان لو اور اپنی دنیا وعاقبت سنوارلو،اپنی بخشش کے سامان کرلو،لیکن کوئی جبر نہیں ۔آپؐ کی زندگی رواداری اورآزادیٔ مذہب وضمیر کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سےبھری پڑی ہے۔‘‘ (بحوالہ خطبہ جمعہ 24؍فروری2006ء  )

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ دنیا کی تمام حکومتوں اور بالخصوص مسلم حکومتوں اور تنظیموں کو بھی ان اسلامی تعلیمات اور حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ نمونوں کے مطابق آزادیٔ ضمیر اور مذہبی رواداری کو فروغ دینےکی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

واٰخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین ۔