اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

سال 1924 جماعت احمدیہ کی تاریخ کے آئینہ میں

الفضل 4 جنوری 1924
یکم جنوری 1924 کو احمدی مجاہدین کا ایک اَور وفد علاقہ ارتداد کے لئے روانہ ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بعد نماز ظہر مسجد مبارک میں ضروری ہدایات دے کر رخصت فرمایا۔
ضلع آگرہ کے’’ ٹھاکر نواب سنگھ‘‘ جو آریوں کے پُرجوش پرچارک تھے، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر دوبارہ داخل اسلام ہوئے ان کا نام نواب خان رکھا گیا۔
الفضل8 جنوری 1924
حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کی لڑکی امۃ الحق کا نکاح مولوی مبارک احمد صاحب مولوی فاضل بن مولوی عبدالرحمٰن صاحب سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پڑھا۔
حسب ذیل اصحاب علاقہ ارتداد میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے۔(1) میاں عبدالغفور صاحب انسپکٹر۔(2) میاں نیاز محمد صاحب سب انسپکٹر پولیس۔ (3) ڈاکٹر شمس الدین صاحب سب اسسٹنٹ سرجن کولپور بلوچستان۔(4) میاں محمد رشید صاحب اسٹیشن ماسٹر وزیرستان۔ (5) مولوی عبدالعزیز صاحب بینی شرقپور۔ (6) چوہدری محمد ابراہیم صاحب گجرات۔ (7) میاں مہرالدین صاحب سکنہ نالا پٹھانکوٹ۔
الفضل11 جنوری 1924
حضرت مفتی محمد صادق صاحب صدر انجمن کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔
٭ خان صاحب منشی فرزند علی خان انسداد ارتداد میں کام کرنے کے لئے آگرہ تشریف لے گئے۔
٭ آریہ سماج بٹالہ کے جلسہ پر مباحثہ کے لئے جناب حافظ روشن علی صاحب، جناب میر قاسم علی صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب تشریف لے گئےتھے واپس آگئے ہیں۔ مباحثہ دھرم بھکشو سے ہوا۔
الفضل18 جنوری 1924
٭ حضرت مفتی محمد صادق صاحب مینیجر ہائی سکول نے طلباء میں علمی اور عملی ترقی کے لئے امریکہ کے حالات اور ترقیوں وغیرہ پر ایک لیکچر دیا۔
٭ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ کے متعلق صفحہ 8 پر خان ذوالفقار علی خان صاحب کی دو رباعیاں شائع ہوئی ہیں ایک یہ ہے۔
حامیٔ دیں ہے، اسلام کا یہ ناصر ہے
فن تبلیغ و اشاعت میں یہ ماہر ہے
عہد بیعت جو کیا تھا وہ نباہا اس نے
صادق القول ہے صادق الامر ظاہر ہے
الفضل22 جنوری 1924
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ میں اہل علم اور اہل قلم اصحاب کو زبانی اور تحریری طور پر تبلیغ میں حصہ لینے کی تحریک فرمائی۔
٭ مولوی عبید اللہ صاحب مبلغ ماریشس کے حالات جنکی ماہ دسمبر 23 میں وفات ہوگئی تھی ، صوفی حافظ غلام محمد صاحب بی اے کے قلم سے۔
الفضل یکم فروری 1924
٭ 30 جنوری کو ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع گورداسپور تشریف لائے ۔مدرسہ احمدیہ، ہاسپٹل اور ہائی اسکول کا معائنہ فرمایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔
٭ صفحہ اوّل پر شدھی سے متعلق ساندھن ضلع آگرہ میں آریوں کی ناکامی کی رپورٹ شائع ہوئی۔
الفضل 5 فروری 1924
٭ ’’نامۂ امریکہ‘‘ عنوان کے تحت رپورٹ شائع ہوئی کہ 133 زن و مرد مشرف باسلام ہوکر داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے۔
٭ صفحہ 6 کالم اوّل پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے یہ اعلان شائع ہوا ’’جو شخص اللہ پر توکّل رکھتا ہے، وہ شادی کرے تو اس پر غربت کی ایسی حالت کبھی نہیں آتی کہ وہ ذلیل ہوجائے۔ پھر اگر بیوی نیک اور حسب منشاء مل جائے تو ایسا اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے کہ خواہ فاقے رہنا پڑے پھر بھی آرام ہی ہوتا ہے۔‘‘
(حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)
٭ صفحہ 6 پر مکرم یوسف صاحب شملوی کے حالات مکرم عمرالدین احمدی شملوی کی طرف سے شائع ہوئے۔
٭ صفحہ 8 پر ’’ڈاک ولایت‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ ’’امریکہ سے واپس آتے ہوئے راستہ میں مجھے چند ہفتے فرانس ٹھیرنا پڑا تھا۔ ان ایام میں ایک مختصر سا اشتہار دین اسلام اور سلسلہ حقہ احمدیت کے متعلق فرانسیسی میں چھپواکر مَیں نے ملک کے مختلف شہروں میں تقسیم کرادیا۔ تب سے برابر ہر ڈاک میں فرانس سے قبول اسلام کی درخواست بیعت کے خطوط بحضور حضرت خلیفۃ المسیح ثانی آرہے ہیں۔ فرانس میں نومسلم احمدیوں کی تعداد تب سے بیس کے قریب ہوگئی ہے۔
الفضل 12 فروری 1924
٭ صفحہ 5 پر سیّد صادق حسین مختار عدالت و سیکرٹری انجمن احمدیہ اٹاوہ کی طرف سے
’’ رپورٹ مباحثہ اٹاوہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا۔
الفضل 15 فروری 1924
٭ چوہدری عبد اللہ صاحب بی اے بی ٹی قائم مقام امیر وفدالمجاہدین دارالامان میں چند دن ٹھہر کر واپس آگرہ تشریف لے گئے۔
٭ آج کل یوگ کا بڑا چرچا ہے۔صفحہ7 پر ’’یوگ کی حقیقت ‘‘ کے عنوان سے حضور رضی اللہ عنہ کا ایک دلچسپ تبصرہ شائع ہوا ہے۔ یوگ کے دلدادہ اسے ضرور پڑھیں۔
الفضل 19 فروری 1924
٭ مکرم محمد دین صاحب کی طرف سے ’’نامہ امریکہ‘‘ کے عنوان سے رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ 21 زن و مرد مشرف بہ اسلام ہوکر داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے اور تین غیر احمدی سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔
الفضل 22 فروری 1924
٭ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے دو ہرن اپنے شکار سے دارالامان ارسال فرمائے جن کا گوشت احباب میں تقسیم ہوا۔
٭ 6 فروری کو مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ کا ایک لیکچر انگریزی میں اسلامیہ کالج لاہور میں ہوا۔
٭ ’’امریکہ میں عیسائیت کی حالت‘‘ کےعنوان سے مولوی محمد دین صاحب مبلغ امریکہ کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے ابتدائی چند سطور اس طرح ہیں۔ ’’دو آدمی مشرف بہ اسلام ہوکر داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے۔ عیسائیت کا اب اس ملک میں خاتمہ نظر آرہا ہے کیونکہ جس اصول پر عیسائیت کی بناء ہے ، اعنی مسیح کا مر کر جی اُٹھنا اور اس سے اُتر کر مسیح کے بے پدر ولادت اور بائبل کا کلام الٰہی ہونا ان سب سے انکار ایک بڑے پیمانہ پر ہونا شروع ہوگیا ہے۔‘‘
٭ ’’ضلع مظفر نگر میں مباحثہ‘‘ کےعنوان سے رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے ابتدائی چند سطور اس طرح ہیں۔ ’’مناظرہ تین روز تک رہا یعنی 8،9،10 فروری 1924 تک رہا۔ اوّل روز مولوی عمرالدین صاحب کے مقابلہ پر یکے بعد دیگرے مولوی محمد ادریس دیوبندی، مولوی سیّد عالم دیوبندی، مولوی عبدالقدوس دیوبندی کھڑے ہوئے جس میں دیوبندی معترض تھے لیکن خدا کے فضل و رحم کے ساتھ مولوی عمرالدین صاحب نے ہر ایک اعتراض  کو ایسا توڑ پھینکا جیسے ردّی کو پھینک دیتے ہیں، جس کا اعتراف اہل قریہ نے بھی کیا۔ دوسرے روز مولوی جلال الدین صاحب شمس کے مقابلہ پر مولوی عبداللطیف مولوی فاضل منشی فاضل مصطفیٰ آبادی کھڑا ہوا اور مولوی جلال الدین صاحب نے صداقت مسیح موعود پر قرآنی دلائل قائم کئے مگر خدا نے مقابل کے مولوی فاضل کا علم ایسا صلب کرلیا کہ وہ ہرگز ہرگز بھی ان کا جواب نہ دے سکا۔
الفضل 26 فروری 1924
٭ مولانا عبدالرحیم صاحب نیّر کی رپورٹ کہ ’’محبی اخویم مسٹر محمد انڈرسن جو ابھی ابھی حضرت مفتی صاحب کے ذریعہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں اور پیرس میں کاروبار رکھتے ہیں، لنڈن تشریف لائے اور دو دفعہ دارالتبلیغ میں بغرض ملاقات و حصول تعلیم دین آئے۔ آپ سے سلسلہ عالیہ کی خصوصیات اور اشاعت اسلام کے بہترین ذرائع پر سلسلہ کلام رہا۔‘‘
٭ ’’پیرس میں مفتی صاحب‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ’’چکاگو ٹربیون اپنے پیرس ایڈیشن نومبر اوّل میں ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب کا فوٹو دیتا ہے اور ایک کالم بھر کا مضمون آپ کے تبلیغی کام پر لکھتا ہے۔‘‘
الفضل 29 فروری 1924
٭ مسجد اقصیٰ کے صحن کی توسیع ہورہی ہے جس کے لئے احباب قادیان نے چندہ بھی کیا ہے۔ وہ حصہ زمین جو ابھی تک ایک ہندو کے قبضہ میں تھا، اب خرید لیا گیا ہے۔ مسجد کا صحن نہایت موزون اور پہلے سے فراخ ہوجائیگا۔
٭ صفحہ 2 کالم 3 پر مولا بخش احمدی سیکرٹری انجمن احمدیہ ددجووال کی رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ’’آج موضع گلاں والی ضلع امرتسر تحصیل اجنالہ میں مسئلہ نبوت پر جناب مولوی ظہور حسین صاحب مولوی فاضل کا مباحثہ مولوی محمد اسماعیل صاحب سے تین گھنٹہ تک رہاجس میں ہندو سکھ کثرت کے ساتھ شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی نمایاں کامیابی ہوئی کہ ہندو اور سکھوں نے اور نیز غیر احمدی صاحبان نے کھلے طور پر اعتراف کیا کہ غیر احمدی مولوی سے کچھ نہ ہوسکا۔
الفضل 4 مارچ 1924
٭ صفحہ 7 کالم 3پر ’’شدھی پر موت‘‘ کے عنوان سے فتح محمد خان سیال قائم مقام نائب ناظر انسداد ارتداد قادیان کی طرف سے رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے ابتدائی چند سطور اس طرح ہیں ’’موضع صالح نگر ضلع آگرہ نو مسلم راجپوتوں کا ایک گاؤں ہے۔ آریہ لوگ بہت دیر سے وہاں کے بعض لوگوں کو لالچ دے رہے تھے، چنانچہ اس سے پہلے بھی ایک شخص کو لالچ اور دھوکہ دے کر اس کے زیر اثر آدمیوں کو اَشدھ کرنے کے لئے ایک تاریخ بندھوادی تھی لیکن جب ان لوگوں کو سمجھایا گیا تو وہ خدا کے فضل سے سمجھ گئےاور اشدھ ہونے سے رک گئے۔‘‘ جو بڑا مخالف تھا وہ بیمار ہوکر داعی اجل کو لبیک کہا اور اس طرح شدھی پر موت وارد ہوگئی۔
الفضل 11 مارچ 1924
٭ صفحہ 1 کالم 1 پر’’ جناب مولوی زین العابدین صاحب آف ماریشس جو تعلیم دین کے حصول کے لئے کئی سال سے قادیان میں سکونت پذیر تھے اپنے ملک کو روانہ ہوگئے ہیں۔انہوں نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے علاوہ مبلغین کلاس کا کورس بھی پورا کیا۔
الفضل 11 مارچ 1924
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئر ہاؤس لاہور کو ان کی علالت کے آخری ایام میں جو عیادت کا خط لکھا ، پہلے صفحہ پر اس کی اشاعت۔
الفضل 18 مارچ 1924
٭ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے 3 مارچ 24ء بوقت پانچ بجے شام تعلیم الاسلام مڈل سکول کاٹھ گڑھ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھا اور دعا فرمائی۔ آپ کی آمد کی خبر سنکر بہت سی جماعتیں مثلاً کریم پور، چک لوہٹ، حسن پور، سجووال، عقرپور، لنگڑویہ، کریام، رائے پور ، متون، شیرپور کی جماعتیں جمع ہوگئی تھیں۔
الفضل 21 مارچ 1924
٭ ’’مدینۃ المسیح‘‘کے تحت رپورٹ کہ حافظ روش علی صاحب درس قرآن بعد نماز عصر اور جناب میر محمد اسحق صاحب کا درس حدیث بعد نماز مغرب روزانہ ہوتا ہے۔
الفضل 25،28 مارچ 1924
٭ صفحہ 17 پرتبلیغ کے واسطے میدان ارتداد میں تشریف لے جانے والے مبلغین کے اسماء۔
الفضل یکم اپریل 1924
٭ مورخہ 9 مارچ کو ڈیرہ دون میں کامیاب جلسہ ہوا۔ مولوی عمرالدین صاحب شملوی نے ’’اسلام اور دیگر مذاہب‘‘ پر تین گھنٹے تقریر کی۔ ہندو مسلمان ملاکر تین ہزار کا مجمع تھا۔10 اور 11 مارچ کو آریہ سماج سے مناظرہ ہوا۔
٭ حکیم ابوطاہر محمود احمد صاحب امیر جماعت کلکتہ جو عرصہ تین ماہ سے آئے ہوئے ہیں ان کی اہلیہ صاحبہ جو خاص باشندہ کلکتہ ہونے کے لحاظ سے پہلی خاتون ہیں، بشرح صدر سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئیں۔(صفحہ 2)
الفضل 8؍ اپریل 1924
٭ 4؍اپریل جمعہ کے روز بہت سے احباب بھامڑی گئے جہاں کے لوگوں  نے کہہ رکھا تھا کہ یہاں ہم مناظرہ کرائینگے۔وہاں پہنچنے پر مولوی ثناء اللہ وغیرہ کی پارٹی نے مباحثہ سے انکار کیا اور ہمیں بلانے والوں نے اقرارکیا کہ آپ حسبِ وعدہ بے شک پہنچ گئے اور اس کا بہت سے طالبان حق پر اچھا اثر رہا۔
٭ صفحہ 2پر’’ قادیان میں غیر احمدیوں کا جلسہ‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے ابتدائی چند سطور اس طرح ہیں: ’’یکم ، دوم ، سوم، اپریل غیر احمدیوں کا جلسہ تھا جس بدتہذیبی، ناشائستگی،بدخلقی، بیہودگی کا نمونہ ان آنے والے مولویوں نے دکھایا ، وہ ثابت کررہا تھا کہ اس وقت واقعی ایک مصلح ایک مامور کی ضرورت ہے۔
٭ صفحہ 4،5پر22 مارچ 1924 کو مجلس شوریٰ میں شامل ہونے والے نمائندگان کے اسماء شائع ہوئے۔
الفضل 11؍ اپریل 1924
٭ نماز تراویح اوّل وقت مسجد اقصیٰ میں صاحبزادہ مرزا ناصر احمد اور دوسرے وقت مسجد مبارک میں حافظ محمد ابراہیم صاحب پڑھاتے ہیں۔ (صفحہ 1)
٭ میر عابد علی شاہ صاحب ساکن بدوملہی کے انتقال کا اعلان ۔انہیں وہم تھا کہ انہیںالہام ہوتے ہیں اسی دھوکا میں پڑ کر وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے محروم رہے۔
الفضل 15؍ اپریل 1924
٭ صفحہ 4 پر ان دو عناوین کے تحت خبریں شائع ہوئیں۔ ’’گیارہ ملکانہ بچوں نے قرآن ختم کیا-موضع ننگلہ گھنو ضلع ایٹہ میں جلسہ آمین‘‘ دوسرا عنوان ’’ آریوں کو صالح نگر ضلع آگرہ میں عبرتناک ناکامی‘‘
الفضل 25،29؍ اپریل 1924
٭ جناب فتح محمد خان صاحب ایم اے نے نظارت دعوت و تبلیغ کا چارج لیا ہے اور جناب سیّد زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نظارت تعلیم وتربیت کے انچارج ہوئے ہیں۔(صفحہ اوّل)
٭ صفحہ اوّل پر مندرجہ ذیل عنوان کے تحت رپورٹ شائع ہوئی:
’’الفضل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ خارج، ہندو مجسٹریٹ صاحب کا منصفانہ فیصلہ، جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کا شکریہ‘‘
22؍اپریل کو جناب رائے بہادر لالہ برکت رام صاحب آنریری مجسٹریٹ درجہ اوّل گوجرانوالہ کی عدالت میں اس مقدمہ کا فیصلہ ہوگیا۔
الفضل 13مئی 1924
٭ 6 مئی عید الفطر ہوئی۔ حضور نے غرباء یتامیٰ و ایامیٰ کی فہرست طلب فرماکر صبح سویرے ان سب کو جن کی تعداد 300 سے متجاوز تھی، ناشتہ ان کے مکانوں پر پہنچادیا جس کے ساتھ کچھ نقدی بھی تھی اور پھر نماز کے بعد مکلف کھانا سب کو پہنچایا گیا۔نماز عید 9 بجے باغ میں حضور نے پڑھائی۔
الفضل 20مئی 1924
٭ 16مئی بعد نماز عصر مسجد مبارک میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک اہم تبلیغی امر کے متعلق عام مجلس شوریٰ  منعقد فرمائی جس میں ہر احمدی کے اظہار رائے کا موقع تھا۔حضور نے بیرونی جماعتوں کی آراء آنے تک اپنی رائے محفوظ رکھنے کا ارشاد فرمایا۔
٭ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ کی دختر نیک اختر صاحبزادی امۃ السلام صاحبہ کا عقد مبارک مرزا رشید احمد صاحب خلف الرشید جناب خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب سے 15 مئی 1924 کو بعد نماز عصر مسجد مبارک میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پانچ ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔
٭ جناب چوہدری نصر اللہ خان صاحب ناظر اعلیٰ مع اہلیہ صاحبہ بہ ارادۂ حج خانہ کعبہ تشریف لےگئے۔اپنے ساتھ اپنے ملازم قدیم جمعہ خان کو بھی لے گئے۔
الفضل 27مئی 1924
٭ ان دنوں حضور ایک تبلیغی مہم کے لئے خود بھی استخارہ فرمارہے ہیں اور دوسرے بہت سے اصحاب بھی حضور کے ارشاد کے ماتحت استخارہ کررہے ہیں۔
٭ جناب چوہدری فتح محمد خان صاحب ایم اے، جناب سیّد ولی اللہ شاہ صاحب، جناب مفتی محمد صادق صاحب، جناب خان ذوالفقار علی خان صاحب مسلم لیگ کے اجلاس میں شریک ہونے کے لئے تشریف لے گئے،جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل ہونگے۔
٭ ’’لنڈن میں لیکچر‘‘ کے عنوان سے مولوی عبدالرحیم صاحب نیّر کی رپورٹ کہ :14 مارچ کو لنڈن کی ایک سوسائٹی میں جس کی مجلس منتظمہ کا خاکسار ممبر ہے میرا لیکچر تھا، موضوع تقریر ’’میرا سفر مغربی افریقہ‘‘ تھا۔ تقریر کی تشریح بذریعہ ’’میجک لینٹرن‘‘ کی گئی۔ 43 تصاویر پردہ پر دکھائی گئیں اور حاضرین میں سے احمدی و غیر احمدی ہر شخص نے تقریر کو پسند کیا ۔
الفضل 3جون 1924
٭ مشہور پادری زویمر جو عربی زبان کے ماہر سمجھے جاتے تھے، کی 28 مئی کو قادیان آمد اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے ملاقات و گفتگو۔
٭ ’’ غیرمبائعین سے مباحثہ‘‘ کے زیر عنوان مکرم نعمت اللہ گوہر صاحب ٹیچر ہائی اسکول گوجرہ کی رپورٹ کہ : ’’عید کے دن عیدگاہ گوجرہ میں ایک عظیم الشان مباحثہ ہوا جو مبائعین اور غیر مبائعین کے درمیان تھا۔ مبائعین نے خاکسار کو اس کام کیلئے منتخب کیا اور لاہوری پارٹی نے جو تعداد میں تین چار اشخاص ہیں ڈاکٹر جلال الدین کو منتخب کیا۔ جلسے کے پریذیڈنٹ جناب پیرولایت شاہ بی اے بی ٹی فریقین کی طرف سے قرار پائے۔ پونے دو گھنٹہ مباحثہ رہا۔ مضمون حضرت اقدس کی نبوت پر تھا۔
الفضل 6جون 1924
٭ جناب شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کا بچہ جو قریباً آٹھ سال کا تھا فوت ہوگیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا۔
٭ پہلے صفحہ پر زیر عنوان’’ موضع نوگاؤں ضلع متھرا میں سینتالیس مرتدین کا قبول اسلام جماعت احمدیہ قادیان کی مساعی جمیلہ‘‘ رپورٹ شائع ہوئی۔
٭ ’’ علاقہ ارتداد میں تعمیر مساجد‘‘ کے عنوان سے علی محمد خان صاحب کی طرف سے خبر شائع ہوئی کہ 25 مئی کو موضع اکبر پور ضلع فرخ آباد میں ایک مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔ مولوی محمد شفیع صاحب اسلم احمدی امیر المجاہدین علاقہ فرخ آباد نے بنیادی اینٹ اپنے ہاتھ سے رکھے اور دعا کرکے کام شروع کیا گیا۔
الفضل 10جون 1924
٭ 6 جون بعد نماز صبح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مسجد مبارک میں وہ مضمون احباب قادیان کو سنایا جو حضور نے لنڈن کی مذہبی کانفرنس کے لئے رقم فرمایا ہے۔
٭ مونگھیر میں آریوں سے مباحثہ قرار پایا ہے اس کے لئے جناب حافظ روشن علی صاحب جناب میر قاسم علی صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب تشریف لے گئے۔ یہ مباحثہ 8 تا پندرہ جون 8یوم ہوگا۔
٭ ’’ ہندوؤں کے مقدس شہر متھرا میں احمدیوں اور آریوں کے مابین مباحثہ‘‘ کے زیر عنوان مبلغ چوہدری محمد ابراہیم صاحب کی طرف سے رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ : 27؍اپریل 1924 کو آریہ سماج متھرا نے اپنے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر تبادلہ خیالات کے لئے ایک گھنٹہ وقت دیا۔ مسلمانوں کی طرف سے مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی فاضل نے صبح 9 بجے سے 10 بجے تک آریہ مذہب پر اعتراضات کئے۔ آریہ سماجی سوالات سن کر سخت گھبرائےاور بجائے ایک مجیب کے دو مجیب باری باری مولوی صاحب موصوف کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن پھر بھی کافی طور پر جواب نہ دے سکے تو انہوں نے ناکامی کی خفت مٹانے کے لئے کہا کہ تبادلہ خیالات کے لئے کوئی اور وقت مقرر کیا جائے۔
الفضل 17جون 1924
٭ مونگھیروالے مباحثہ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تار موصول ہوئی کہ : ’’ مباحثہ تین دن تک کامیابی کے ساتھ جاری رہا آخر آریوں نے فتنہ پیدا کردیا۔ خدا کے فضل سے ہم سب بخیریت ہیں۔ مباحثہ مجسٹریٹ کے حکم سے بند ہوگیا ہے۔‘‘
الفضل 20جون 1924
٭ مونگھیروالے مباحثہ کی مفصل روئداد شائع ہوئی۔
الفضل 24جون 1924
٭ صاحبزادی امۃ السلام صاحبہ بنت حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے رخصتانہ کی تاریخ 3 جولائی مقرر ہوئی ہے۔
٭ ’’امام جماعت احمدیہ کا عزم یورپ، مغربی ممالک کی تبلیغ کیلئے ایک مستقل سکیم تجویز کرنے، وہاں کے تفصیلی حالات سے واقف ہونے کے لئے‘‘ کے زیر عنوان حضور رضی اللہ عنہ کےسفر یورپ کے متعلق جماعت کو آگاہی اور ضروری امور سےاطلاع۔
٭ صفحہ اوّل پر ’’علاقہ ارتداد میں مباحثہ سے آریوں کا فرار‘‘ کے عنوان سے رپورٹ شائع ہوئی کہ آریوں کی استدعا پر 17 مئی 24ء بمقام احمد پور متصل نگلہ امرسنگہ مباحثہ قرار پایا۔ 17 مئی کو ہمارے مناظر مولوی جلال الدین صاحب شمس اور ماسٹر شفیع صاحب اسلم اور دیگر مبلغین ضلع ایٹہ جب احمد پور پہنچے تو تمام آریہ روپوش ہوگئے۔
الفضل 11جولائی 1924
٭ صفحہ 2 پر’’ میدان ارتداد میں تعمیر مساجد ‘‘ کے عنوان سے خبر شائع ہوئی کہ موضع اکبر پور ضلع فرخ آباد کی مسجد تیار ہوچکی ہے، اب خدا کے فضل سے موضع واحدپور ضلع فرخ آباد میں مسجد تیار ہورہی ہے۔ اس کی بنیاد جناب ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم امیر المجاہدین فرخ آباد نے رکھی۔
الفضل 15جولائی 1924
٭ صفحہ اوّل پر’’بہ سفر رفتنت مبارکباد، بسلامت روی و باز آئی، حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا سفر یورپ‘‘کے عنوان سے مورخہ 11 جولائی کی کچھ مصروفیات(مزار مبارک پر دُعا، خطبہ جمعہ، ارکان وفد کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں فوٹو) اور 12 جولائی کو قادیان سے روانگی اور دعا کے دلدوز نظارہ کا ایمان افروز تذکرہ۔
٭ حضور رضی اللہ عنہ نے تمام جماعت ہندوستان کے امیر مولانا شیر علی صاحب کو مقرر فرمایا۔
الفضل 18جولائی 1924
٭ میاں عبدالسلام صاحب خلف حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے ہاں 13 جولائی 1924 کو فرزند تولد ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح کو بذریعہ تار اس کی خبر دی گئی۔ حضور نے تار کے ذریعہ ہی مولود کا نام عبدالباسط تجویز فرمایا۔
الفضل 25جولائی 1924
٭ بمبئی سے حضور رضی اللہ عنہ کی تازہ نظم ’’ہے رضائے ذاتِ باری اب رضائے قادیاں‘‘ موصول ہوئی اور اس کی اشاعت صفحہ اوّل پر ہوئی۔
الفضل 29جولائی 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا تار صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے نام کہ : ’’ بخیریت عدن پہنچ گئے، خدا تعالیٰ بچہ کی ولادت مبارک کرے۔ مجید احمد نام رکھا جائے۔‘‘
٭ عدن سے حضور رضی اللہ عنہ کا اہم امور کے سلسلہ میں مفصل تار مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کے نام، جو 24 جولائی کو قادیان پہنچا۔
٭ صفحہ 11 پر الفضل کے آئندہ ہفتہ میں تین بار شائع ہونے کی خبر۔
الفضل 2؍اگست 1924
٭ 29جولائی کو پورٹ سعید سے تار موصول ہوا کہ : ’’حضرت خلیفۃ المسیح اور حضور کے خدام بخیریت پورٹ سعید پہنچ گئے ہیں۔ الحمد للہ۔‘‘
٭ 13جولائی کو جناب منشی قاسم علی صاحب قادیانی رامپوری کی الوداعیہ و خیر اندیشی کی نظم جو دہلی اسٹیشن پر حضور رضی اللہ عنہ کے حضور پیش کی گئی ، صفحہ 2 پر شائع ہوئی۔
الفضل 5؍اگست 1924
٭ 2؍ اگست 24ء کو اللہ تعالیٰ نے حضرت میر محمد اسحٰق صاحب رضی اللہ عنہ کے گھر فرزند عطا فرمایا۔
٭ 31؍جولائی کو حضور رضی اللہ عنہ کا تار قاہرہ سے موصول ہوا ’’ ہم آج رات قاہرہ سے بیت المقدس اور دمشق کی طرف روانہ ہورہے ہیں۔ بہت سے ذی اثر اصحاب اور علماء سے ملاقات ہوئی۔ قاہرہ ہمارے سلسلے کی اشاعت کے لئے اچھا میدان معلوم ہوتا ہے۔‘‘
٭ ’’میدانِ ارتداد میں قربانی‘‘کے عنوان سے قربانی کروانے والوں کی فہرست شائع ہوئی ہے۔ ایک قربانی کیلئے چھ روپے کی قیمت کا اعلان ہوا ۔
الفضل 7؍اگست 1924
٭ مفتی محمد صادق صاحب کے ایک تبلیغی خط کے جواب میں وزیر اعظم ایران کی طرف سےجواب موصول ہوا جو مذکورہ شمارہ کے صفحہ 6 پر شائع ہوا۔
الفضل 12؍اگست 1924
٭ ماہِ جون 1923 اور ماہِ اگست 1923 میں بیعت کرنے والوں کے اسماء کی اشاعت۔
الفضل 14؍اگست 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا 28 جولائی کا لکھا ہوا خط کہ ’’اس سفر کے متعلق ایک منذر رؤیا دیکھی ہے، اس کے دوسرے دن شیخ یعقوب علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام نکالا -بلائے دمشق- اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔‘‘
الفضل 16؍اگست 1924
٭ بابا فضل کریم صاحب سیالکوٹی 12؍اگست کو فوت ہوگئے۔ مرحوم بہت مخلص اور سلسلہ کے عاشق تھے۔ بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۔
٭ پورٹ سعید سےجماعت احمدیہ کے نام لکھے گئے حضور رضی اللہ عنہ کے دوسرے مکتوب گرامی کی اشاعت۔
الفضل 19؍اگست 1924
٭ جہاز ایس ایس پلسناں سےحضور رضی اللہ عنہ کاتار کہ: ’’آج یورپ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔‘‘ اس تارپرجو ادارتی نوٹ شائع ہوا اس کے ابتدائی چند سطور قارئین کے لئے پیش ہیں۔
’’ الحمد للہ ثم الحمد للہ چونکہ کئی دن سے تار پہنچنے کا انتظار تھا، اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا تھا بے تابی اور بے چینی بڑھتی جاتی تھی، اس لئے جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ کوئی تار آیا ہے تو اس کے سننے کے لئے احمدیہ چوک میں جمع ہونے شروع ہوگئے اور ہر ایک شخص کی یہی خواہش تھی کہ تار کو لفظ بلفظ سنے۔ ان کے لئے تار کا ترجمہ لکھ کر بورڈ پر لگانے تک کا انتظار مشکل ہوگیا، حالانکہ چند الفاظ لکھنے میں کوئی زیادہ دیر نہ لگی تھی۔ وہ گھڑی جماعت قادیان کے لئے نہایت خوشی کی گھڑی تھی۔
الفضل 21؍اگست 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا تار 18؍اگست کو بمبئی سے بذریعہ ڈاک قادیان پہنچا۔کچھ حصہ پیش ہے: میر صاحبان کومیر محمد اسحٰق صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہونے کی مبارک ہو۔ بچے کا نام محمد داؤد رکھا جائے۔خان محمد امین صاحب کے لڑکے کا نام محمد لطیف اور چوہدری علی محمد کے لڑکے کا نام برہان محمد رکھا جائے۔
الفضل 23؍اگست 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا تار 20؍اگست کو موصول ہوا۔ پیغام یہ تھا :’’برنڈزی (بندرگاہ اٹلی) بخیریت پہنچ گئے۔‘‘
الفضل 26؍اگست 1924
٭ ہندوستان کے مختلف صوبہ جات و علاقوں سے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونیوالے خوش نصیب 180 لوگوں کے اسماء کی اشاعت۔
الفضل 28؍اگست 1924
٭ لنڈن سے21؍اگست کا حضور رضی اللہ عنہ کا تارجس میں دمشق کے متعلق خاص خبر تھی کہ دمشق میں توقع سے بڑھکر کامیابی ملی اور احمدیت کی خوب تبلیغ ہوئی۔
الفضل 30؍اگست 1924
٭ لندن سےموصول تار کہ : ’’22؍اگست کو بخیریت لنڈن پہنچ گئے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت اچھی ہے۔
٭ ’’امریکہ کے ایک نومسلم کے خط کا اقتباس‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ: مسٹر کلاڈ اڈیسن امریکہ کے ایک نو مسلم ہیں جن کا اسلامی نام احمد دین ہے۔ انکا ایک خط حضرت خلیفۃ المسیح نام موصول ہوا وہ لکھتے ہیں : مجھے حضور کا عنایت نامہ ملا۔ حضور کی نصائح کا نہایت شکرگزار ہوں۔ حضور اقدس کے احکام کے ماتحت نہ صرف خود ہی سچی اسلامی زندگی بسر کرونگا بلکہ جہاں تک ممکن ہوسکے اَوروں کو بھی نبی کریم ﷺ کے راستے پر لانے کی کوشش کرتا رہونگا۔ اپنے سفر وسطی اور جنوبی امریکہ کے متعلق لکھا کہ: اس سفر میں میرا خاص مقصد یہ ہے کہ ان ہزارہا انسانوں کو جو اس ملک میں عیسائی پادیوں کے زیر اثر گمراہ ہوکر تاریکی میں  پڑے ہوئے ہیں روشنی کی طرف لاؤں۔
الفضل 4ستمبر 1924
٭ ’’کابل میں ظالمانہ قتل ، ایک اَور احمدی شہید کردیا گیا‘‘ کے عنوان سے یہ افسوسناک خبر شائع ہوئی:’’ہمارے مکرم معظم احمدی بھائی مولوی نعمت اللہ خان صاحب کومحض اس جرم میں کہ وہ احمدی ہے ، کابل میں 31؍اگست 1924 کو سنگ سار کردیا گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
الفضل 9ستمبر 1924
٭ حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ نے 5 ستمبر 1924 کاخطبہ جمعہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کی شہادت پر دیا۔ دوران خطبہ اکثر سامعین کی آنکھیں آنسو بہارہی تھیں۔ نماز جمعہ کے بعد شہید موصوف کا جنازہ غائب پڑھا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی۔
٭ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے والے 181 خوش نصیب افراد کے اسماء کی اشاعت۔
الفضل 11ستمبر 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا لنڈن سے تار برقی پیغام مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کے متعلق کہ : شہید کی شہادت کا سچا جواب اس کام کو جاری رکھنا ہے جس کیلئے وہ شہید ہوا۔ امیر نے ہمارے بھائی کو قتل کیا ہے لیکن وہ اس کی رُوح کو قتل نہیں کرسکتا۔ وہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔
الفضل 23ستمبر 1924
٭ لنڈن سے حضور رضی اللہ عنہ کا تارکہ : ’’کام اس قدر سخت ہے کہ ہمیں نصف رات تک بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ دیر تک کام کرنا پڑتا ہے۔ مَیں یہاں کسی طرح آرام نہیں حاصل کرسکتا۔(مجلس شوریٰ نے حضور کو ناسازیٔ طبع کی خاطر آرام کا مشورہ دیا تھا-ناقل)کیونکہ مَیں یہاں کام کیلئے آیا ہوں اور بفضل خدا کام کرنے کا مَیں مصمم ارادہ رکھتا ہوں۔ پورٹ سمتھ میں احمدیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت پائی جو دینی تعلیم کے لئے حقیقی تڑپ رکھتی ہے۔ لنڈن میں ایک اپنے رسالہ کی سخت ضرورت ہے۔
الفضل 25ستمبر 1924
٭ لنڈن میں انگریزوں اور ہندوستانیوں کا سلطنت کابل کے خلاف جلسہ، نعمت اللہ خان کے قتل کے خلاف صدائے احتجاج۔صدر اجلاس ڈاکٹر والٹر واش نے کہا کہ ہر شخص جس میں ایک ذرہ بھر انسانیت ہو وہ اس واقعہ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریگا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قتل کے واقعات بیان کرکے فرمایا کہ شہید کا جسم پتھروں کے بڑے ڈھیر کے نیچے دبا ہوا ہے۔ اس کے والد کو یہ اجازت افغان گورنمنٹ نے نہیں دی کہ وہاں سے اس کے جسم کو نکال کر باقاعدہ دفن کرے۔ فیصلہ کیا گیا کہ اس جلسہ کی کارروائی کی اطلاع افغان گورنمنٹ اور لیگ آف نیشن کے پریذیڈنٹ کو دی جائے۔
الفضل 27ستمبر 1924
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور حضور کے رفقاء کے فوٹو لنڈن کے اخبارات ٹائمز آف لنڈن، ڈیلی میل لنڈن، ڈیلی نیوز، ایوننگ سٹینڈرڈ، ڈیلی سکیچ اور ڈیلی مِرر میں۔
الفضل 14؍اکتوبر 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کے حرم اوّل میں 9 اور 10 اکتوبر کی درمیانی رات کو فرزند تولد ہوا۔ دارالامان کے دفاتر اور سکولوں میں دو دن کی تعطیل منائی گئی۔
٭ ’’پادری کنگسن صاحب سیالکوٹ کے مباحثہ سے فرار‘‘کے زیر عنوان خبرکہ جناب مفتی صاحب موصوف مقررہ تاریخ پر سیالکوٹ پہنچے تو پادری صاحب موصوف کو وہاں نہ پایا۔اس پر جماعت سیالکوٹ نے ایک اشتہار کے ذریعہ پادری کنگسن اور دوسرے دیسی پادریوں کی راہ فرار کی خوب تشہیر کی۔
٭ حضور رضی اللہ عنہ نے 12 ستمبر 1924 بمقام پٹنی ایسٹ لنڈن خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
الفضل 18؍اکتوبر 1924
مولوی اللہ دتا صاحب مولوی فاضل (مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری) کھاریاں بھیجے گئے ہیںوہاں غیر احمدیوں کا جلسہ ہے۔
٭ میانی ضلع شاہ پور میں غیر احمدیوں سے 18-19؍اکتوبر کو تحریری مباحثہ ہے۔ مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی فاضل مناظر ہونگے۔ مولوی صاحب کے ساتھ جناب مولوی اسماعیل صاحب فاضل اور مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری ہونگے۔
٭ ’’پیغام آسمانی‘‘ کے نام سے لیکچر جو حضور رضی اللہ عنہ 14 ستمبر 1924 کو بمقام پورٹ سمتھ پونے سات بجے شام دیا۔
الفضل 21؍اکتوبر 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا تارکہ : ’’خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے لنڈن میں پہلی مسجد کا سنگ بنیاد 19؍اکتوبر بروز اتوار 4 بجے شام رکھا جائیگا۔ تمام احمدیوں سے دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔‘‘
الفضل 23؍اکتوبر 1924
٭ مسجد لنڈن کی بنیاد رکھنے کی تقریب پر 19؍اکتوبر کی رات کو ساڑھے نو بجے قادیان دارالامان کی تمام مساجد میں نہایت خشوع خضوع سے دعا کی گئی۔
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا تار کہ ’’دو اَور یورپین ممالک میں جماعت ہائے احمدیہ پیدا ہوگئی ہیں، ایک ہالینڈ اور دوسرا بلجیم‘‘ ’’مجھے مغربی ممالک میں اشاعت کے متعلق متعدد سکیمیں تیارکرنیکی وجہ سے جو بہت توجہ چاہتی ہیں فرصت نہیں۔‘‘
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا دوسرا تار کہ ’’24؍اکتوبر کو لنڈن سے روانگی ہوگی۔چوہدری فتح محمد خان صاحب سیال ایم اے اور مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے یہاں رہیں گے ۔ مولوی عبدالرحیم صاحب نیّر ہمارے ساتھ واپس آئیں گے۔
الفضل 28؍اکتوبر 1924
٭ 19؍ستمبر 1924 حضور رضی اللہ عنہ نے بمقام پٹنی خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
الفضل 30؍اکتوبر 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ کا تارکہ ’’فرانس کو رانہ ہوگئے ہیں۔‘‘
٭ ’’افسوسناک انتقال‘‘ کے عنوان سے خبر شائع ہوئی کہ امیر جماعت احمدیہ حیدرآباد دکن حضرت مولانا مولوی میر محمد سعید صاحب قادری حنفی احمدی 20؍ اکتوبر بروز دوشنبہ انتقال فرماگئے۔ حضرت مولوی صاحب مرحوم نہایت مخلص اور مسیح موعود کے قدیمی صحابہ میں سے تھے۔ تبلیغ احمدیت کا نہایت شوق اور اعلیٰ ملکہ تھا۔ حیدرآباد کی مخلص اور پُرجوش جماعت کا بڑا حصہ انہی کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے۔
٭ مکرم محمد یعقوب صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ لیگوس جو اخلاص اور ایثار میں ایک نمونہ تھے، 17 ستمبر کو وفات پاگئے۔ حضرت اقدس خلیفۃ المسیح نے بذریعہ تار تعزیت فرمائی۔
الفضل 4 نومبر 1924
٭ امیر جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے امیر کابل کے نام تار کہ ہم آپ کے سامنے علماء کابل کے ساتھ اختلافی مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں۔
الفضل 6 نومبر 1924
٭ حضور رضی اللہ عنہ نے 16ستمبر 1924 کو بمقام اچیشم پیلیس بلگریویا لنڈن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
الفضل 8 نومبر 1924
٭ ’’مباحثہ ہریہ میں احمدیت کی عظیم الشان فتح‘‘ کے عنوان سے خبر کہ’’ جماعت سنیہ کی طرف سے جناب مفتی غلام مرتضیٰ صاحب میانی مناظر تھے، اور جماعت احمدیہ کی طرف سے مولانا مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی فاضل مباحث تھے۔ احمدیت کی فتح ایسی بیّن تھی کہ غیر مذاہب والے تو کجا کئی غیر احمدیوں نے بھی اعتراف کیا۔
الفضل 13نومبر 1924
٭ حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا جماعت کی طرف سے خیر مقدم کرنے کے لئے بمبئی روانہ ہوگئے ۔
٭ حضور رضی اللہ عنہ نے 3؍اکتوبر 1924 کو بمقام چیشم پیلیس لنڈن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
الفضل 18نومبر 1924
٭ سیلون کے ایک نہایت پُرجوش ،مخلص اور خدمات دینیہ میں مصروف رہنے والے احمدی بی ڈبلیو لائی کی وفات کا اعلان جن کے ذریعہ 1915 میں سیلون میں جماعت احمدیہ قائم ہوئی۔
٭ ’’ماریشس میں اشاعت احمدیت‘‘ کے تحت اعلان شائع ہوا کہ مفصلہ ذیل اشخاص مولوی صوفی غلام محمد صاحب ماریشس کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوئے۔ 1- علی حسن امید تریانوں۔ 2- علی حسین تریانوں۔ 3-محمد میرن امید تریانوں۔ 4- غلام حسین امید تریانوں۔ 5- عثمان تریانوں۔ 6- میڈم عثمان تریانوں۔ 7- سجو قصیر محمد بیلی روز۔ 8- موسیٰ رجب علی مارلبر۔ 9- میڈم رجب علی مارلبر۔ 10- یونس رجب علی مارلبر۔11- دل محمد ترپولے۔ 12- میڈیم دل محمد ترپولے۔ 13۔ محمد قصاب سیل تریانوں۔ 14- ولی محمد نورو علی گبران بے۔ 15- سلیمان علی یار گبراننے۔ 16- عثمان علی یارگبراننے۔
الفضل 22نومبر 1924
٭ 10؍اکتوبر 1924 کو حضور رضی اللہ عنہ نے بمقام پٹنی احمدیہ مسجد لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
الفضل 25نومبر 1924
٭ ’’ دوشنبہ ہے-دوشنبہ مبارک‘‘ عنوان کے تحت حضور رضی اللہ عنہ کی قادیان پہنچنے کی خبر بایں الفاظ شائع ہوئی’’آج 24 نومبر 1924 کا دوشنبہ سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں اس لئے نہایت ہی مقدس یادگار سمجھا جائے گا کہ اس دن خدا تعالیٰ کی منشاء اور مصلحت کے ماتحت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے سفر یورپ سے واپسی پر قادیان دارالامان میں رونق افروز ہوکر خدا تعالیٰ کے الہام کو پورا فرمایا جو حضور ہی کی ذات خاص سے تعلق رکھتا ہے۔
الفضل 6دسمبر 1924
٭ مرزا ارشد بیگ صاحب جو مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیارپوری کے داماد ہیں اور قادیان میں سکونت رکھتے ہیں، حضرت خلیفۃ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئے ۔
الفضل 11دسمبر 1924
٭ جلسہ سالانہ قادیان 1924کی تاریخوں اور پروگرام کا اعلان: 26، 27،28 دسمبر بروز جمعہ ہفتہ اتوارجلسہ کے انعقاد کا اعلان۔
الفضل 13دسمبر 1924
٭ 10 دسمبر 1924 محترمہ امۃ الحئی صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا انتقال۔
الفضل 16دسمبر 1924
٭ 30 نومبر کوکھاریاں میں غیر احمدیوں کیساتھ احمدیوں کا کامیاب مناظرہ۔احمدیونکی طرف سے مولانا جلال الدین شمس صاحب مناظر تھے، غیر احمدیونکی طرف سے مولوی کرم دین بھیں بھی مناظروں میں شامل تھا۔
(مرتبہ منصور احمد مسرور)