اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

محمود سفر میں اور حاسد سقر میں امیر غیر مبا ئعین کی درافشانی (حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ)

مولوی محمد علی صاحب اور جماعت احمدیہ کی خیر خواہی:
’’میاں صاحب کا سفر یورپ‘‘ اس عنوان کے نیچے 3 اگست 1924ء کے پیغام صلح میں ’’حضرت امیر ‘‘نے جماعت احمدیہ کی کمال خیر خواہی سے مجبور ہو کر کچھ در افشانی فرمائی ۔ اس مضمون کے ایک ایک لفظ سے ہمدردی اور شفقت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح کے سفر کا فکر انکو اندر ہی اندر کھاتا چلا جاتا ہےاور ہمارے اموال اور روپیہ کی خیر خواہی قریب ہے کہ انکو بالکل ہلاک کر دے۔
’’حضرت امیر‘‘ کو ان جانکاہ تفکرات اور ترددات سے بچانے کیلئے مجھ پر بھی فرض ہے کہ انکو تسلی دوں اور انکا کچھ اطمینان کروں کیونکہ کسی زمانہ میں میں بھی ان کے زمرۂ احباب میں شامل تھا۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی روحانی سوزش اور کوفت اس درجہ تک پہنچ جائے کہ جسمانی طور پر بھی اس کا اثر ظاہر ہوجائے ۔ اس لئے سب سے پہلے جناب موصوف کی خدمت میں یہ عرض کر دینا کہ مولانا ! آپ خوش اور اطمینان ہو جائیں کہ خدا کے فضل سے حضرت خلیفۃ المسیح اس سفر کے بعد یقیناًزیادہ وسیع علم اور زیادہ وسیع معرفت لیکر ہندوستان میں واپس تشریف لائیں گے کیونکہ ایسے لوگ ہمیشہ ہر آن ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتے ہیں اور مطابق فرمان حضرت خیر الرسلؐ مَنِ اسْتَوٰی یَوْمَا ہُ فَھُوَ مَغْبُوْنٌ ۔ان کا دوسرا دن پہلے دن سے زیادہ انکو علم اور معرفت اور وسعت قلب اور برداشت میں ترقی کرتا ہوا پاتا ہے۔ دوسرے یہ عرض ہے کہ اَے مولانا! آپ اس امر میں بھی تسلی رکھیں کہ حضور موصوف قوم کا مال خود قوم کی درخواست اور اصرار پر لے گئے ہیں۔بلکہ ایک حصہ انہوں نے کمال خود داری اور وقار کی وجہ سے منظور نہیں فرمایا۔ورنہ قوم تو چاہتی تھی کہ کسی طرح ہمارا روپیہ خود حضور کے ذاتی مصارف میں کام آئے تو ہم خدا کے روبرو سرخرو ہوں اور ہمارے دل اور آنکھیں ٹھنڈی ہوںاور قوم چاہتی تھی کہ بعض خدام اور بھی اس قافلہ میں بعض ضروریات کیلئے زیادہ کئے جائیں۔مگرحضور نے کمال کفایت شعاری کی وجہ سے اسے بھی منظور نہ فرمایا اور ہم سے زیادہ ہمارے اموال کی نگہداشت کی اور جس کام پر ایک لاکھ بلکہ زیادہ روپیہ خرچ ہونے کا یقین تھا اسے پچاس ساٹھ ہزار تک محصور کر لیا۔اور جو لوگ جماعت میں علم اور عزت کے لحاظ سے سیکنڈ کلاس میں سفر کے لائق تھے انہوں نے ڈک پر سفر کیاتاکہ ممکن سے ممکن کمی اخراجات میں ہو سکے۔ پس مولانا آپ کو مبارک ہو کہ ہمارے اموال ضائع نہیں ہوئے، نہ چوری گئے، نہ ان میں خیانت ہوئی، نہ ان میں اسراف کیا گیا بلکہ جو حق و حکمت اور دیانتداری کا تقاضا تھا وہ کیا گیا بلکہ صرف یہی ایک مبارک باد میں آپ کو نہیں دیتا بلکہ دوہری مبارک باد دیتا ہوں کہ نہ صرف اس امر میں بلکہ گذشتہ دس سال سے ہمارے اموال چوری اور خیانت اور اسراف سے خدا کے فضل سے محفوظ ہیں۔
مولانا! اس سفر کے تمام امور ادنیٰ سے لیکر اعلیٰ تک مجلس شوریٰ میں فیصلہ ہوئے ہیں بلکہ سفر کے متعلق حضرت صاحب نے اسی وقت تہیہ فرمایا جب بیرونی جماعتوں کی over whelming majorityنے آپکا اس وقت جانا ضروری سمجھا ۔ مولانا! پہلے جناب فرمایا کرتے تھےکہ خلیفہ مطلق العنان ہے۔شوریٰ ہونا چاہئے ۔ شوریٰ ہوا تو فرمانے لگے کہ لوگ تو مرید ہو کر ایسے خاموش ہوگئے کہ میاں صاحب کی مخالفت ہی نہیں کرتے ۔ اب ہمیں بڑی مشکل آپڑی ہے۔ یا تو آپ کا سامعاندانہ اور مخالفانہ رنگ اختیار کریں تب آپ خوش ہوں یا پھر تمام امور مشورہ طلب سیدھے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور(لاہوریوں کی انجمن۔ ناقل) کے جلسوں میں فیصلے کیلئے بھیج دیئےجایا کریں تب آپ کی تسلی ہو ۔ مگر آپ ہی فرمائیے کہ آیا یہ بات ٹھیک ہے؟ مگر مولانا! اب ایک مشکل یہ آپڑی کہ اسی مضمون میں آپ فرماتے ہیں کہ ’’ ہمیں نکتہ چینی کا کوئی حق نہیں‘‘ پس اگر کوئی مشورہ طلب امر آپ کی انجمن اشاعت اسلام میں بھیجا جائے اور آپ ان کاغذات پر یہی الفاظ لکھ کر بھیج دیں کہ ہمیں نکتہ چینی کا کوئی حق نہیں تو پھر ہم غریب کیا کریں۔
مولانا! ہماری جماعت کا مشورہ آپ کو منظور نہیں اور اپنے لئے خودآپ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں نکتہ چینی کا کوئی حق نہیں۔خلیفہ کا فیصلہ مطلق العنانی ہے۔ آخر ہم کدھر جاویں اور کس سے صلاح لیں۔ اگر مجبور ہو کر کسی طرح کچھ کام کر بھی لیں تو پھر آپ اور آپ کے دوستوں کے اعتراضات دم نہیں لینے دیتے۔ مولانا! کچھ تو وسعت قلبی آپ نے ہی دکھائی ہوتی۔ آپ نے تو اس زمین کو باوجود فراخی کے ہم پر تنگ کرنے کی کوشش کی۔ للہ کچھ رحم فرمادیں۔
اسراف کا اعتراض :
مولانا! اسراف کی تفصیل جو آپ نے بیان فرمائی ہے وہ انشاء اللہ آگے چل کر آئے گی۔فی الحال میں ڈرتے ڈرتے ایک عرض کرتا ہوں وہ یہ کہ اسراف کا اعتراض ہمارے سلسلہ میں ایک بہت پرانا اعتراض ہو گیا ہےاور علاوہ پرانا ہونے کے ہر زمانے میں اس کثرت سے اٹھتا رہا ہے کہ اب وہ مؤثر نہیں رہا۔ اب کوئی نیا حربہ تلاش کرنا چاہئے فرسودہ اعتراض ہمیشہ گھسے ہوئے اور کند اور زنگ آلود ہتھیار کی طرح ہوتا ہےجو بعض اوقات بجائے فائدہ کے نقصان دیتا ہے۔ مولانا! کیا یہ وہی ہتھیار تو نہیں جو خودحضور والا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بر خلاف استعمال فرمایا تھا کہ اتنا روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے؟ حساب لیا جاوے اور کیا یہ وہی حربہ تو نہیں جو حضرت خلیفۃ المسیح اولؓکے برخلاف ایک باغی جماعت(جسے شاید آپ بھی جانتے ہوں)استعمال کرتی رہی ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لے لینا اور نماز جنازہ پڑھا دینا ہے نہ کہ نذریں قبول کرنا اور قومی اموال پر متصرف ہو جانا۔ مولانا مجھے شبہ پڑتا ہے کہ یہ وہی اعتراض ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی کسی ’’وسیع القلب‘‘ ’’صاحب حوصلہ‘‘اور’’ جرأت والے‘‘شخص نے جو پیری مریدی کے خطرناک رنگ سے مبرا اور meutal slaveryسے بالکل آزاد تھا اور جناب کے بالکل ہم خیال تھا ایک دفعہ اموال کے معاملہ میں کیا تھا جس کی تفصیل آپ کو احادیث سےمل سکتی ہےاور شاید کچھ اسی قسم کا اعتراض تھا جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر(جن کے خاندان سے آپ کی قوم کو بہت دیرینہ رقابت کا فخر بھی حاصل ہے اور یہ فخر مرور ایام کے ساتھ ساتھ ترقی بھی کرتا جاتا ہے)بعض لوگوں نے اموال غنیمت کے متعلق کیا تھا اور جس کے دفع کیلئے سرور عالم ؐ کو مَنْ کُنْتُ مَوْلَا ہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُجیسے الفاظ کا اظہار کرنا پڑا تھا ۔ مگر مولانا لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ پر جناب کی توجہ کچھ کم ہی رہی ہے۔ ورنہ اتنا ہی خیال فرما لیا ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر یہ اعتراض کر کے معترضین نے کیا انعام لے لیا۔ یہی نہ کہ قادیان سے جو خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے نکال دیئے گئے اور قرب سے مہجور ہو گئے۔اور یہی اعتراض کر کے حضرت خلیفۃ المسیح اول کے معترضین پر کیا رحمت نازل ہوئی یہی کہ بیعت سے خارج سمجھے گئے اور دوبارہ بیعت ضروری خیال کی گئی ۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے اموال پر متصرف ہو جانے اور ان کو ضائع کرنے کا اعتراض کیا برکات اپنے ساتھ لایا؟یہی نا کہ جماعت سے کاٹ کر پھینک دیئے گئے اور خیانت اور چوری کا اقدام کیا اور نہ صرف آیۃ استخلاف کے ماتحت ہی فاسق ٹھہرےبلکہ عرفاً جن کاموں سے لوگ فاسق مشہور ہو جاتے ہیں ان میں بھی شریک ہوئے وَمَنْ یُّضْلِلِ اللہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہُ مُرْشِدًا۔ مولانا برا ماننے کی بات نہیں کیونکہ بقول جناب کے یہ محض اظہارواقعات ہیں جنہیں بعض وقت آپ کے احباب آپ کی ہتک سمجھ کر ہم پر یہ الزام دیتے ہیں کہ تم حضرت امیرکو برا کہتے ہو ۔ اظہار واقعات گو اعتراض کے رنگ میں بھی ہو قوم کے لئے ایک برکت اور رحمت ہے ۔مولانا !اگر آپ بھول گئے ہوں توشاید میرے یاد دلانے سے آپ کو خیال آجائے کہ جب ابتدائے زمانہ میں یہی اسراف کا اعتراض غیر احمدیوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت پیش ہوتا تھا تو آپ کا ایک دوست نہایت تیش میں آکر پہلے تو چھٹتے ہی نصف درجن فحش گالیاں ان کو دیتا اور پھر کہا کرتا کہ ان بدذات معترضوں سے پوچھو کہ مال ہمارا اور پیر ہمارا ان کو اس بات سے واسطہ ہی کیا، تعلق ہی کیا جس طرح چاہے خرچ کرے۔ چشم ماروشن دل ما شاد یہ آپ کا دوست بلکہ خضر طریقت آج کل کشمیر میں ہے۔ ولایت جا نے سے پہلےآپ اس بات کی اس سے تحقیق کر سکتے ہیںکہ آیا وہ ایسی باتیں ہماری مجلسوں میں ہی کہا کرتا تھا یا نہیں۔
پیری مریدی:
مولانا!اب میں پیری مریدی کے خطرناک رنگ کی بات بھی مؤدبانہ کچھ عرض کر دیتا ہوں۔ جہاں تک میں جناب اور جناب کے ہم خیال اصحاب کی تحریروں تقریروں سے استنباط کر سکا ہوں اس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پیر پرستی آپ کے خیال میں حسب ذیل امور ہیں۔ جس سے بیعت کی ہو اس کی توہین نہ کرنا بلکہ اس کا ادب کرنا۔ تہذیب اور انسانیت کے ساتھ اس کے سامنے اپنی رائے پیش کرنا ۔ اخلاص ومحبت کی وجہ سےاس کے پیر دبانا یا اُسے نذرانہ دینا یا اس سے ملنے آنا یا اس کی صحبت سے بار بار آکر مستفیض ہونا یا اس کے لئے جناب یا حضرت صاحب یا حضور یا اس قسم کا کوئی عزت کا لفظ استعمال کرنا یا اس سے دعا کر انایا اس کے مقاصد میں اپنی کوشش سے امداد کرنا یا اگر کبھی وہ قریب کے اسٹیشن سے گذرے تو استقبال یا مشایعت یا ملاقات کیلئے جمع ہو جانایا اس کے فوٹو کا کسی مرید کے گھر میں پایا جانا یا اس کے درس میں سختی سےاعتراض نہ کرنا اور تُو تُو مَیںمَیں اس کے ساتھ نہ کرنا یا اس کی مجلس میں باترتیب ادب سے بیٹھناجس طرح تمام دنیا کی مہذب مجلس میں دستور ہےیا امر بالمعروف میں اسکی اطاعت کرنا۔
مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک ایمانی جرأت :
مولانا! یہ تو ہوئی پیر پرستی لیکن حقیقی اسلامی حالت جس میں اپنے ’’امیر جماعت‘‘ کیساتھ مندرجہ ذیل سلوک ہوں اور جو آپ کےاور آپ کے دوستوں کے نزدیک آزادی رائے اور ایمانی جرأت اور تعلیم اسلامی کی بنیاد ہےاور جو meutal slaveryسے مرید کو نجات دلاتی ہے وہ یہ ہے۔
یعنی یہ کہ جس شخص سے بیعت کی ہو اسکے نام کے ساتھ کوئی عزت کا لفظ نہ لگایا جاوے۔ اسکی مجلس میں بجائے باقاعدہ بیٹھنے کے اسکی طرف پشت کر کے بیٹھا جاوے ۔ جب وہ بات کرے فوراً اُ سے ٹوکا جائےاور اسکا سختی سے مقابلہ کیا جائے۔اگر باز نہ آئے تو اُسے ذلیل کیا جائےاور کبھی کبھی موقع ملے تو اسکے ظل پر جوتیاں بھی مار لی جائیںتاکہ پیر پرستی کی مخفی رگ کٹتی رہے اور اُ سے گمنام یا پرائیویٹ تحریروں میں گالیاں بھی دی جاتی رہیںاور خفیہ ٹریکٹ شائع کر کے اُسے مشرک خائن بے ایمان ثابت کیا جائے اور اس کے اہل و عیال سے دل میں کینہ اور بغض رکھا جائےاور اس کے درجہ کو زیادہ معزز اور مشہور ہو جانے سے بچانے کیلئے یہ بھی کہہ دیا جائے کہ فلاں کو مجدد مجدد لئے پھرتے ہو ، مَیں بھی ویسا ہی مجدد ہوں یا اس کے مزار کو ذلیل کرنے کیلئے اس کے مقابل پر ایک دوسرا مقبرہ قائم کرنے کی کوشش کی جائے یا اسکے تخت گاہ کی توہین کرنے کیلئے کسی دوسرے شہر کا نام مدینۃ المسیح رکھ دیا جاوےیا یہ شائع کیا جاوے کہ بانیٔ سلسلہ کی نسبت فلاں مرید ان کا تقویٰ و طہارت میں زیادہ بڑھاہوا ہےیا یہ کہ ہمارا مرشد خائن ہےیا مسرف ہے یا خفیہ خفیہ اسکی عصمت کوblack mail کیا جاوے صرف اس لئے کہ کہیں پیر پرستی ہم پر غالب ہونہ جائے۔غرض ہمیشہ اس کے لئے مخزیات کا ایک سلسلہ تیار رکھا جائے اور آئندہ اسمیں ترقی کی جائے تاکہ کامل توحید اور انقطاع مرید پر مستولی ہو جائےاور اللہ کے حضور اسکے مدارج میں ترقی ہو۔
مولوی محمد علی صاحب اور پیر پرستی:
مولانا! جیسا کہ میں سمجھا ہوں اگر آپ کے نزدیک یہی پیر پرستی اور خدا پرستی ہے تو ایسی پیر پرستی ہم کو مبارک اور ویسی خدا پرستی آپ کو مبارک رہے ۔ مجھے اس کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ البتہ مولانا! میں اتنا یاد دلانے کی جرأت کر سکتا ہوں کہ آج سے بہت سال پہلے میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے خود آپ کو ایسی پیر پرستی کرتے دیکھا تھا بلکہ میں نے آپ کو ان باتوں سے زیادہ سخت قسم کی پیر پرستی بھی کرتے دیکھا ہے۔ مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے کہ آپ کا پیر یکہ میں بٹالہ جا رہا تھا اور اس کا ایک مرید مولوی محمد علی نام قادیان سے بٹالہ تک اس بھاگتے ہوئے یکے کے پیچھے اس طرح بھاگ رہا تھا جس طرح ایک وفادار خادم اپنے آقا کی سواری کے پیچھے بھاگا جاتا ہو ۔مولانا! اگر وہ پیر پرستی تھی تو میری ساری عمر کی نیک اعمالیوں کے بدلے آپ وہ اپنا اس طرح سے بھاگنا مجھ سے بدل لیں ۔ یقیناً آپ کا گناہ پیر پرستی کا معاف ہو جائے گا اور میرے لئے شاید جنت میں داخل ہونے کا صرف یہی ایک عمل ذریعہ بن جائے ۔ اس وقت گنجائش نہیں ورنہ اے مولانا! میں آپ کی خدمت میں ایسے نمونے خود جناب والا کی پیر پرستی کے پیش کر سکتا ہوں جو آپ کو بھی شاید یادنہ ہوں گے۔ آپ مامور غیر مامور کا عذر نہیں کر سکتے کیونکہ پیر پرستی خواہ وہ کسی کے ساتھ ہو شرک اور گناہ کبیرہ ہے مامور پرستی اور غیر مامور پرستی دونوں خدا پرستی کے مخالف واقع ہوئی ہیں ۔ مولانا! آیئے اب ایک عجیب اقرار بھی پیر پرسی کا آپ کو دکھا دوں ۔
یہاں ایک اور سلسلہ بیعت کا صوفیاء میں مروج ہے جسے بیعت توبہ کہتے ہیں۔ اس بیعت میں داخل ہوکر بھی انسان اپنے مرشد کے احکام کا اسی طرح مطیع ہو جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود ؑکی بیعت کا مفہوم ہے…اور اس کے ما تحت حضرت خلیفۃ المسیح اولؓکی بیعت ہم لوگوں نے … کی اور اسکے لئے یہ ضروری تھا کہ مرید اپنے آپ کو مرشد کے سامنے ایک بے جان کی طرح ڈال دےاور اپنی جملہ خواہشات کو اس کے سپرد کر دے ۔ مولانا! یہ معاملہ تو کچھ پیر پرستی سے بڑھ گیا۔
مولانا! اس قسم کی پیر پرستی جسے ہماری اصطلاحی میں محبت و اخلاص اور ادب کہتےہیں خود بانیٔ سلسلہ نے ہم کو سکھائی اور آپ کے دوسرے پیر نے ہم سے اس پر عمل کرایا۔ مولانا! حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح اول کی ساری عمر کی کوشش اور تعلیم سے اب خدا خدا کر کے ہم اس مقام پر پہنچے ہیںکہ ہم کو پیر کی قدر و منزلت معلوم ہو۔ دو زمانوں کے دبکے کھا کھا کر یہ ر نگ پیری مریدی کا ہم پر چڑھا ہے۔ یہ وہ صبغۃ اللہ ہے جو ہماری جماعت کو دوسرے لوگوں سے ممتاز کر رہا ہے۔ ہم نے 40برس تجربہ کر کے دیکھ لیا کہ گذشتہ دو زمانوں میں جس جس نے آپ کی آزادیٔ رائے اور ایمانی جرأت اور meutal liberty کا دم بھرا اور پیر پرستی کے دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش کی وہی ہلاک ہو گیا اور جماعت سے نکل گیا یا نکالا گیا۔ مولانا! آپ کو حکایت لقمان میں سے وہ حکایات یاد ہوگی جس میں لومڑی سے شیر نے پوچھا تجھے یہ عقل کس نے سکھائی تو لومڑی نے کہا بھیڑئیے نے ۔ پس یہ پیر پرستی 40سالہ زمانہ کے گرم و سرد چکھنے اور لوگوں کا انجام دیکھنے سے پیدا ہوئی ہے۔ میرے آقا نے دسویں شرط بیعت ہی ایسی لگا دی ہے کہ یا تو اُ سے مان کر بیعت میں داخل ہو ورنہ اپنا ٹھکانا کہیں اور ڈھونڈ لو ۔
آزاد خیالی اور مولوی محمد علی صاحب:
مولانا! آپ کی اس تحریر کو پڑھ کر مجھے سخت تعجب ہواکہ: ’’آج قادیان کا رنگ بدلا ہوا ہے ۔ کہا ںوہ زمانہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے بڑی جرأ ت سے ہر قسم کا اعتراض پیش کر دیا جاتا تھا اورحضرت مولوی نور الدین صاحب کے ساتھ ان کے درس کے سننے والے بڑی بڑی سختی سے بھی بحث کر لیا کرتے تھے اور کہاں یہ زمانہ کہ میاں صاحب مجلس میں بیٹھیں تو سب لوگ پیری مریدی کے حلقہ کی طرح حلقہ قائم کر کے خاموش رہیں…آزادی ٔرائے اور ایمانی جرأت وہ جوہر ہے جو تعلیم اسلام کی گویا بنیاد ہے‘‘
مولانا! اس سے بڑھ کر لیجئے آج کل آزاد خیال لوگ یہی کہتےہیں سبحان اللہ رسول اللہ صلعم کے سامنے لوگ بیباکی سے خود آپکی ذات مبارک پر اعتراض کر دیتے تھے اورایک اعرابی نے مال غنیمت میں سے ایک قمیص کے ٹکرے کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر بھی اعتراض کر دیا تھا۔سبحان اللہ کیا اسلامی آزادی کا زمانہ تھااور کیسی اپنی جرأت ایمانی ایسے بزرگ اعتراض کر کے ظاہر کرتےتھے ۔
مولانا! شاید آپ کو یاد ہو یا نہ ہو کہ وہ آزادئ رائے اور جرأت ایمانی جو رسول کریم ؐکے سامنے اس شخص نے ظاہر کی تھی اس کا انعام اسے کیا ملا ۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس شخص میں سے وہ قوم نکلے گی جو خوارج ہو گی اور ایمان ان میں سے اس طرح نکل گیا جیسے کمان میں سے تیر۔ پھر حضرت عمرؓپر جو معترض تھا وہ کونسا صحابی تھا۔ وہ ایک بے ادب جنگی تھا جو آداب اسلام اور انسانیت سے عاری تھا۔ کیا اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایک اعرابی نے آنحضرت صلعم کے گلے میں کپڑا ڈال کر اتنا کھینچا کہ آپ کے بدن مبارک پر رگڑ سے سرخی نمودار ہو گئی یا گردن چھل گئی۔ تو آپ فوراً کہہ دیں گے کہ سبحان اللہ کیا اسلامی آزادی تھی اور کیا جرأت تھی۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو جو اپنے بیٹے کی قبر پر ماتم کر رہی تھی ، صبر کی تلقین کی تو اس نے کہا کہ تیرا بیٹا مرتا تو معلوم ہوتا ۔ مولانا! آپ تو کہتے ہوں گے مرحبا کیا آزادی تھی اور کیا جرأت تھی۔ مولانا آپ نالائقوں کی نالائقیوں کو اسلامی جرأت اور آزادی رائے کہتے ہیں اور مقدسوں کے صبر کو اجازت اور تحسین سمجھتے ہیں ۔ بریں عقل و دانش بباید گریست ۔ کیا دوسرا پہلو آپ کو یاد نہیں حضرت عمرؓنے صلح حدیبیہ پر بظاہر کیسے معمولی الفاظ کہے تھے مگر فرماتے ہیں کہ ساری عمر اسکے لئے اعمال نیک کرتا رہا اور افسوس کرتا رہا کہ میں نے رسول کریم سے ایسی بات ہی کیوں کہی تھی۔
مولانا کیا آپ کسی بزرگ سلسلہ کا نام لے سکتے ہیں مثلاً خلیفہ اول کا کہ انہوں نے کبھی بھی ایسی حرکت کی ہو کہ بڑی جرأت سے ہر قسم کا اعتراض مسیح موعود ؑ پر کر دیا ہو، البتہ عبد الحکیم خان مرتد کو ہم نے ایسا کرتے دیکھا ہے۔ حضرت صاحب کی مجلس میں جس نے ایسا کیا یا تو وہ مخالف تھا یا جاہل۔پھر مولانا کیا آپ نے خود بھی کبھی حضرت مسیح موعودؑ کے سامنے اس گیارہ سال میں کوئی ایسی ایمانی جرأت اور آزادی دکھلائی۔اگر یہ مستحسن فعل تھا تو ضروری تھا کہ آپ نے بھی اس پر عمل کیا ہو اور میں منتظر ہوں کہ آپ اپنے کسی ایسے فعل کی یاددہانی کراکے مجھ کو ممنون فرمائیں گے۔ مولانا میں یقیناً کہتا ہوں کہ اگر کوئی اور شخص ایسی بات کرتا تو میں اسے کہہ دیتا کہ تو نے اس بیان میں ایسا سیاہ جھوٹ بولا ہےجو سخت ہی نفرت کے قابل ہے مگر آپ کو ایسا نہیں کہہ سکتا ۔ ہاں اگر آپ ثابت کر دیں کہ فلاں شخص نے جو مخالف بھی نہ تھا اور جاہل بھی نہ تھا اور اب اپنے اس فعل سے تائب اور شرمندہ بھی نہیں ہے کوئی اعتراض اپنا حضرت صاحب پر کیا ہو ، تو میں اپنی غلطی تسلیم کروں گا ۔ مثلاً کسی آپ کے مخلص مرید نے ایسا کہاہو کہ حضرت گو میں آپ کا مرید ہوں مگر مجھے خیال ہے کہ آپ براہین کا روپیہ کھا گئے ہیں یا یہ کہ آپ بڑے مسرف ہیںاور قوم کا روپیہ تباہ کر رہے ہیں یا یہ کہ آپ سیکنڈکلاس میں سفر کرتے ہیں، حالانکہ آپ تھرڈ میںکفایت کے ساتھ بھی سفر کر سکتے تھےاور باقی روپیہ اشاعت اسلام کے کام آسکتا تھا۔ یا مثلاً یہ کہ آپ پکے مکان اپنے لئے بناتے ہیںاور مہمانوں کیلئے کچے مکان اور خود اچھا کھانا کھاتے ہیں اور مہمانوں کو لنگر سے دال کھلاتے ہیںوغیرہ وغیرہ۔پس بار ثبوت آپ کے ذمہ ہے ۔ اسی طرح حضرت خلیفہ اول کے درس کے متعلق آپ کی خلافت کے بعد آپ سے سند چاہتا ہوں ۔ بیشک بعض نالائق منافق بذریعہ خطوط خفیہ ان سے ایسا معاملہ کرتے رہے۔مگر درس میں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں زمانہ خلافت کا کوئی واقعہ پیش فرمادیں تو میں اس پر بھی غور کرنے کیلئے تیار ہوں ۔ جن منافقین نے حضرت خلیفہ اول سے ایسا سلوک کیا ان کو کبھی جرأت ایمانی کی سند اور سرٹیفکیٹ آنحضرت کی طرف سے عنایت نہیں ہوابلکہ ہمیشہ حضور نے ان کو بڑا منافق شریر اور فاسق اور چالباز ہی ٹھہرایا۔
پیری مریدی کا حلقہ:
مولانا آپ نے ایک نہایت ہی نا مناسب غلط بیانی اور بھی کی ہے وہ یہ میاں صاحب کے مرید پیری مریدی کا حلقہ قائم کر کے خاموش بیٹھے رہتے ہیں ۔ مولانا! آپ کو خدا کی قسم یہ بتائیں کہ آپ نے یہ سین کس دن خواب میں دیکھا تھا یا کوئی کشف تھا کیونکہ آپ خود تو کبھی ایسی مجلس میں نہیں آئے۔آپ کو ایسی بات بیان کرنے کی جرأت کس طرح ہوئی ۔ کیا قادیان میں دوسرے پیری مریدی حلقہ کی طرح توجہ ہوتی ہے اور لوگ خاموش بیٹھے رہتے ہیں بات نہیں کرتے ۔ مولوی صاحب اگر آپ کا رپورٹ کنندہ میرے سامنے آئے تو میں اس کو تو ضرور کہہ دوں کہ لَعْنَتُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْن ۔ مولانا! کیا اس جھوٹی روایت پر آپ نے درایتہ بھی غور فرمایا ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت میاں صاحب قادیان میں مسجد مبارک میں اپنی مجلس میں بیٹھے ہوں اور ارد گرد پچاس ساٹھ سو یا زیادہ آدمی معمولاً موجود ہوں تو وہ پیروں والا حلقہ باندھ ہی کس طرح سکتے ہیں ۔ حلقہ کیلئے ضروری ہے کہ تھوڑے سے آدمی ہوں ۔ حضرت خلیفہ ثانی جب مجلس میں بیٹھتےہیں تو آگے بھی آدمیوں کا ہجوم ہوتا ہے ، دائیں بھی، بائیں بھی اور پشت کی طرف بھی اور اگر آپ اس وقت موجود ہوں تو دیکھیں کہ کوئی مخالف اعتراض کر رہا ہے اور کوئی مزید استفسار ، کوئی مبلغ رپورٹ سنا رہا ہے اور کوئی نوآمد مہمان اپنی قیل و قال۔ غرض مجلس کا رنگ ایسا ہی ہوتا ہےجیسا آپ نے حضر ت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دیکھا ہوگا۔ مگر اب بھول گئےہیں مجلس شوریٰ میں اور بارہاعام مجلس میں حضرت خلیفۃ المسیح لوگوں سے رائے لیتے ہیںاور لوگ جہاں تک ان کو علم ہوتا ہے ادب کو ملحوظ رکھ کر اپنی رائے حضور کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ مولانا یہ کس مفتری نے آپ کے کان میں ڈال دیا کہ وہاں آدمی اپنی رائے بھی ظاہرنہیں کر سکتا اور کس طرح آپ نے اس پر یقین کر لیا۔
کیا مولوی محمد علی صاحب کی پرانی جبلت بدل گئی:
مولانا پھر آپ نے لکھا ہے کہ’’ میں خود نہ کسی دوسرے سے جو مجھ سے تعلق رکھتا ہے اس بات کو برا مناتا ہوں کہ میری کسی غلطی کو دیکھ کر اسکی اطلاع مجھے دے۔‘‘
یہ عبارت پڑھ کر مجھےبہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنی پرانی جبلت بالکل بدل ڈالی (اگر چہ اکثر چشمدید راوی اسبات پر متفق ہیں کہ آپ نے اس میں قطعاً کوئی تبدیلی نہیں کی)ورنہ پہلے تو ذرا سی خلاف رائے بات پر اور ادنیٰ ادنیٰ مخالفت پر بھی آپ کی ہیئت کذائی بدل جاتی تھی۔دست مبارک رعشہ میں مبتلا ہو جاتے تھے اور جسم مبارک سر سے پیر تک کانپنا شروع کر دیتااور لب ہائے مبارک تھر تھراتے تھے اور زبان مبارک کوشش کرتی تھی کہ کوئی آواز قابل سمجھنے کے اُس میں سے پیدا ہو ۔ مگر افسوس کہ کبھی کوئی با معنی اور پورا فقرہ نکلتے ہوئے ایسی حالت میں سنا نہ گیا ۔ کچھ تف مبارک بھی ایسی حالت میں گردو پیش اڑتا ہوا بعض مبصرین نے دیکھا ہے ۔ اور بعض ناقدین کا قول ہے کہ آنکھیں بھی اول اول تو باہر کو نکل آتی تھیںاور پھر ان میں آنسو بھی جھلکنے لگتے تھے۔ غرض اس ہیئت کذائی اور طیش کی صورت دیکھ کر بعض قیافہ شناسوں کی یہ رائے تھی کہ اس قسم کا بزرگ اعتماد کرنے ولی، دوست بنانے ، بیعت کرنے اور کسی سلسلہ کا پیشرو بننے کے لائق ہر گز نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ مولانا یہ بالکل درست ہے کہ جو ادنیٰ ادنیٰ مخالفت میں گھبرا جائے اور اس کے حواس باختہ ہو جائیں وہ کہاں ساری دنیا کے مقابل حق لیکر کھڑا ہو سکتا ہے۔ وہ توجدھرکثرت دیکھے گا فوراً مخالفت کے ڈر کے مارے کافر کو مسلمان اور دشمن کو دوست کہہ دیگا اور ان کیساتھ تعلق کرنا شروع کر دیگا۔ سچے سلسلہ کا لیڈر تو ایک فولادی چٹان کی طرح کوہ وقار ہونا چاہئے ورنہ چالاک دنیا دار اس کو چٹکیوں میں اڑا دیں۔
ایک نیا انکشاف:
مولانا اس سفر کے متعلق میں آپ کی یہ رائے بھی پڑھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا کہ میں سفر کومیاں صاحب کیلئے مفید سمجھتا ہوں اس سے وسعت قلبی حاصل ہوتی ہے ۔ گھر میں بیٹھ کر تنگ دلی بڑھتی ہےاور اس کا تجربہ بھی ہو چکا ہے کیونکہ حج کے سفر کے بعد میاں صا حب نے کچھ دنوں کیلئے کفر و اسلام کے مسئلہ میں ہمارے پہلو کو ہی اختیا ر کر لیا تھا۔پس اب بھی میاں صاحب سفر کریںتو وسعت قلب اور برداشت کا بڑھ جانا ان کیلئے مفید ہوگا(مطلب)
مولانا !یہ میرے لئے بالکل ایک نیا انکشاف ہے کہ حضرت خلیفہ ثانی نے حج سے آکر اپنے کسی عقیدہ سے رجوع کیا اور کفر و اسلام کے مسئلہ میں آپ کے ہم خیال ہو گئے ۔ خواہ عارضی طور پر ہی سہی ۔ افسوس ہے کہ آپ نے پہلے زمانہ میں اس بات کو اس طرح صراحتہً ظاہر نہ کیا ۔ اب اسبات پر اتنا عرصہ گذر چکا ہے کہ یہ استنباط مؤثر نہیں رہا ۔ میرے خیال میں بجائے 12 سال گذشتہ کی باتیں کریدنے کے یہ بہتر ہوگا کہ تین چار ماہ اور انتظار کر کے اسکی صداقت کو آزمالیں یہ سفر چونکہ حج کے سفر سے بہت لمبا اور وسیع ہے اور مہذب ممالک کا ہے اس لئے اس میں لازماً اس سے بہت زیادہ وسعت قلب حاصل ہوگی۔ اور یہ یقینی ہے کہ اتنے بڑے سفر کا اثر اتنے ہی بڑے عقیدے پر بھی پڑے ۔ کفر و اسلام دراصل نبوت کے مسئلہ کی ایک شاخ ہے پس اس دفعہ آپکو پختہ امید ہونی چاہئے کہ واپسی پر حضرت خلیفۃ المسیح بالضرور عقیدہ نبوت سے عقیدہ مجددیت اور محدثیت پر اتر آئیںگے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں ۔ اور جونہی آپ کی امید بارآور ہوگی یعنی حضرت خلیفۃ المسیح کا تبدیلیٔ عقیدہ والا لیکچر ہو اسی وقت آپ بر وقت اعلان کر دیںتاکہ ایسا نہ ہو کہ پھر وقت گذر جائے اور پرانا عقیدہ عود کر آئے اور سب لوگ ہدایت پانے سے محروم رہ جائیں ۔ مولانا مناسب ہوگا کہ حضرت صاحب کی واپسی پر آپ ان کے ابتدائی لیکچروں میں ضرور شریک ہوں اور اس عظیم الشان کام سےغفلت نہ کریں۔ حضرت صاحب کے منہ سے رجوع کے الفاظ نکلتے ہی آپ اس مجلس میں شور ڈال دیں۔اور پھر ناممکن ہے کہ کم از کم حاضرین کا فوری رجوع آپ کی طرف نہ ہو۔
مولانا! البتہ ایک خوف ہے اور وہ یہ کہ ان کے ساتھ خدا کی طرف سے اولوالعزمی (یعنی سخت ضد اور ہٹ کی)ایک ایسی صفت لگی ہوئی ہےجو شاید آپ کی امیدوں پر پانی پھیر دے۔اگر بقول آپ کے یہ بات نہ ہوتی تو ظاہراًآپ کا بیان خود ہمارے مشاہدہ کے موافق معلوم ہوتا ہے۔دور کیوں جائیں خود آپ پر اور آپ کے شیخ طریقت پر اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ مولانا! جب آپ قادیان کی تنگ گلیوں میں اورمسجد کے حجروں میں بند رہتے تھے اور دائرہ آپ کا نہایت محدود تھا تو اس وقت آپ حضرت مسیح موعود کو نبی آخر الزمان اور رسول اور پیغمبر لکھا کرتے تھے ۔ پھر جب قادیان سے لاہور ہجرت کر لی اور پہاڑوں کی چوٹیوںکی ہوا لگی اور اس کی بدولت وسعت قلب نصیب ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم نبی رسول کہنے والے پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ بلکہ صرف مجدد مانتے ہیں مولانا آپ ذرا دنیا کا لمبا سفر کرتے تو شاید اور ترقی کرتے ۔ جیسے آپ کے دوست جناب خواجہ صاحب یورپ پہنچے۔اور آپ سے زیادہ وسعت قلب نصیب ہوئی تو فرمانے لگے وہ کیا مجدد تو میں بھی ہوں اور بہت کچھ اباحتی رنگ اختیار فرما لیا تھا اور بعض باتوں میں حلال اور حرام کی تمیز تک اٹھادی بعض اور لوگ ان سے بھی برداشت اور وسعت قلب میں بڑھ گئےاور کرسمس کے موقعہ پر انہوں نے سانگ کے طور پر گدھے کا روپ دھارا اور دُم لگائی اور نازنینان فرنگ سےکمر پرڈنڈے کھائے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
الٹا چور :
مولانا ! آپ نے اپنے مضمون میں بعض باتیںبے نظیر لکھی ہیںمنجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ قوم کا روپیہ ایک امانت ہے جس کے ایک پیسہ کے اسراف کے لئے بھی وہ لوگ عند اللہ جوابدہ ہیں جو نظام قومی کے سر ہیں۔ مولانا ان الفاظ کو پڑھ کر ایک ضرب المثل ہر پھر کر میرے دل سے زبان تک آتی ہے اور باوجود روکنے کے باہر نکلنے سے نہیں رکتی ۔ واللہ اعلم اسے آپ کی نصیحت بھری تحریر سے کیا مناسبت ہے، اور وہ مثل یہ ہے : الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔
مولانا ! اب میں اسراف کی تفصیلات کو لیتا ہوں۔یعنی
(1) دس بارہ آدمیوں کا ہمراہ لیجانا ضروری نہ تھا۔ ایک آدمی کافی تھا۔
(۲) فوٹو اور سفر نامہ کی ضرورت نہیں
(۳) جماعتوں کو اطلاع دیگر اور بلا کر سٹیشنوں پر ملنا نا جائزامرتھا۔
(۴) تاروں کی ضرورت نہیں۔ اور ان کا خرچ اسراف ہے۔
در اصل آپ کے مایہ ناز اعتراضوں کا خلاصہ یہی چارباتیں ہیں۔
(1)
حضرت خلیفۃ المسیح کے ساتھ جانے والے اصحاب:
مولانا ! آپ فرماتے ہیں کہ صرف ایک خادم ہمراہ لیجانا کافی تھا۔ دس بارہ آدمیوںکا ہمراہ لے جانا محض اسراف ہےاور قوم کا روپیہ برباد کرنا ہے ۔ اور ا س کی غرض صرف جاہ وجلال دکھانا ہے۔ مولانا! معلوم ہوتا ہے کہ کسی غلط فہمی کی بناء پر آپ نے ان دس بارہ آدمیوں کو غالباً ذاتی خادم اور نوکر سمجھ لیا ہے جو شاید آپ کے نزدیک اس لئے جا رہے ہیںکہ ایک پیردبایا کرے تو دوسرا بستر اور کپڑوں کی درستی پر ہو اور تیسر امکھیاں جھلنے پر مامور ہو اور چوتھا کھانا کھلانے کی خدمت بجا لاوےاور پانچواں رات کو سوتے وقت قصے کہانیاں سنایا کرے وغیرہ وغیرہ ۔ بیشک وہ خادم بھی ہیں اور نو کر بھی مگر اُجرت کے خادم نہیں بلکہ محبت اور اخلاص کے تاہم اس رنگ کے خادم نہیں جس رنگ کی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔
مولانا ! ہمارا سلسلہ اس وقت جنگ کے میدان میں ہے اگر جنگی محاذپر جرنیل حقیقت حالات معلوم کرنے کیلئے ہے خود آگے جائے تو کیا اس کے لئے مناسب ہو گا کہ وہ اعلان کرتا پھرے کہ میں اپنے ساتھ فلاں آفیسر کو فلاںفلاںغرض کے لئے لے چلا ہوں۔ کیا جنگ کے متعلق کی تمام سکیمیں پیش از وقت تفصیلاً مشتہر کر دی جاتی ہیں ؟پس جب سلسلہ کی مجلس شوری کے فیصلہ کے ساتھ ایک ایک آدمی کا جانا بعد بحث اورتمحیص کےضروری قرار پایا ہے تو اس پر پھر کسی اعتراض کی گنجایش نہیں رہتی کہ آپ کو یہ بتایا جاوے کہ فلاں شخص کس مطلب کے لئے ہمراہ جاتاہے۔البتہ یہ مناسب ہے کہ نمونۃً میں ایک سب سے ادنیٰ ہمراہی کی ضرورت حقہ کا ذکر کردوں اور اس سے آپ کوپتہ لگ جائے کہ باقیوں کی اس سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔
باورچی کی ضرورت:
میری مراد اس سے باورچی کی ہے۔ مولانا ! حضرت خلیفۃالمسیح کا ایک باورچی کو ہمراہ لے جانا ان کے کمال تقوی اور کفایت شعاری کی دلیل ہے۔ کفایت شعاری اس طرح کہ ولایت جا کرہوٹلوں میں ایک جماعت کیلئے کھانے کا بندوبست کرنا اخر اجات کثیر کو چاہتا ہےاور یوں بھی وہاں کی طرز کا کھانا پانچ چھ ڈش پر مشتمل ہوتا ہے ۔ پس ہوٹل میں کھانے کا بندو بست نہ کرنا اور انگلستان جیسے ملک میں گھر پر ہی دیسی قسم کےایک سالن اور روٹی پر بسر کرنا ایسی کفا یت کا نمونہ ہے کہ صرف یہی ایک بات معترضین اسراف کا منہ سیاہ کرنے کو کافی ہے۔ دوسرےتقویٰ اس طرح کہ کثرت مصروفیت کے سبب سے ہوٹلوں میں اور دیگر اسی قسم کے انتظاموں میں یورپ میں حلال اور حرام کی تمیز بڑی مشکل ہو جاتی ہے ۔ گوشت صرف سور کا ہی نہیںبلکہ دوسرا بھی ہر قسم کا وہاں حرام ہی ملتا ہےکیونکہ ذبیحہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اکثر کھانوں میں چکنائی گھی کی نہیں بلکہ اس حرام چربی کی ہوتی ہے جو ان غیر ذبیحہ جانوروں سے حاصل ہوتی ہے۔ غرض وہاں کے کھانے ایسے ہیں کہ کم ہی کوئی کھانا اشتباہ سے پاک ہوتا ہے مثلاً اگر انڈے تلے ہوئے ہیں تو حرام چربی میں مرغی پکی ہوئی ہے تو گردن مروڑی ہوئی بسکٹ اگر ہیں ۔ تووہی نا جائز چربی کے، گوشت بکرے کا ہے تو حرام، گائے کا ہے تو مشین میں اسکا سر اڑا کر ،سؤر کا ہے تو اس کا تو ذکر ہی کیا کرنا۔ تو تمام حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچنے کے لئے حضرت خلیفۃالمسیح نے یہاں سےخادم پکانے والا ہمراہ لیا بلکہ گھی بھی۔
مولوی محمد علی صاحب کے ہمراہیوں کی حرام خوریاں:
مولانا ! آپ سے تو آپ کے احباب نے ضرور ان حرام خوریوں کا ذکر کیا ہو گا جو ولایت میں دانستہ اور نادانستہ وقوع میں آتی رہتی ہیں۔ میرے ایک بہت معزز غیر احمدی دوست نے بیان کیا کہ میںولایت میں ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا جو وہیں ایک بھاری بھر کم لاہور کے رہنے والے لیکچرار اور پریچر بھی تشریف لائےاورکھانے میں مصروف ہو گئے ۔ کھانے کے دوران میں انہوں نے ہوٹل والے سے فرمایا کہ کل والی چیز لاؤ وہ بہت مزیدار تھی ۔ اسپر اس نے ایک قسم کا گوشت لاکر ان کے سامنے رکھ دیا ۔ جسے انہوں نے خوب لطف لے لے کر کھایا جب وہ تناول فرماکر تشریف لے گئے تو میں نے بصدشوق ہوٹل والے سے پوچھا کہ وہ کیسا گوشت تھاجومسٹر پال نے تم سے منگا کر کھایا تھا ۔ ہوٹل والے بیچارے نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ فائی نسٹ بیکن( یعنی نہایت نفیس سؤر کا گوشت)
کفایت شعاری
اور
تقویٰ شعاری :
پس ہمارے خلیفۃ المسیح علیہ السلام نے ہر امر میں کفایت اور تقویٰ دونوں کا خیال رکھا ہےبلکہ تیسرا امرصحت کا بھی ہے کیونکہ جو آدمی اتنا روپیہ خرچ کر کے اور اتنی تکلیف اُٹھاکر پھر صحت کا خیال نہ رکھے تو ایک سخت غلطی ہے۔غیر ملک کے کھانے اکثرکمزور صحت انسانوں کو موافق نہیں آتے کیونکہ معدہ ان کا عادی نہیں ہوتا۔پس جب دین کے لئے سفر اختیار کیا ہے تو صحت سب چیزوں سے مقدم ہےاسی ضمن میں ڈاکٹر کا وجود بھی سمجھ لیجئے۔
مولانا ! میں آپ سےسچ عرض کرتا ہوں کہ خدا نےہم کو وہ خلیفہ دیا ہے جسے پیش کر کے ہم کسی ملک کسی قوم کسی مجلس میں بھی شرمندہ نہیں ہیں۔
زیادہ آدمیوں کے جانے پر
مولوی محمد علی صاحب کو
خوش ہونا چاہئے تھا:
پھر مولانا! آپ کو توزیادہ آدمی لیجانے پر بجائے اعتراض کے خوش ہو نا چاہئے تھا کیونکہ جب دنیا میں لمبا سفروسعت قلب پیدا کر دیتا ہےاور غلط عقائد تک صاف کر دیتا ہے تو پھر تو نہ صرف حضرت صاحب بلکہ ایک معزز جماعت بھی ان کے ساتھ آپ کےعقائد کے قریب آجائیگی۔ اور یہ امر آپ کے لئے نہایت مسرت کا موجب ہونا چاہئے ۔ اگر تھوڑے سے ظاہری اسراف سے ایک جماعت کی اصلاح ہو جائے تو وہ خرچ پھر اسراف ہر گز نہیں کہلا سکتا کیونکہ اصل چیز ہدایت ہے اور کوئی قیمت بھی اس کے مقابلہ میں زیادہ نہیں سمجھی جاسکتی پھر آپ کا اعتراض جماعت کے ساتھ لیجانے پر کس لئے ؟ بلکہ آپ کو تو چاہئے تھا کہ ایک معقول نذر اپنے ہاں سے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں بھیجتے اور عرض کرتے کہ آپ تو تھوڑے آدمی ہمراہ لے چلے ہیں ہماری درخواست ہے کہ زیادہ لیجائیےاور کچھ خرچ ہماری طرف سے قبول فرمائیے۔
ساتھیوں کی ضرورت کا کسی قدر تذکرہ:
مولانا!تفصیل اگر چہ موجودہ حالات میںبتانی بالکل نامناسب ہے مگر عمومی طور پر آپ کو بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ اگر کسی ایسے بڑے عظیم الشان اہم مقصد کے لئے انسان یورپ کا دورہ کرے جو حال اور استقبال دونوں زمانوں پر حاوی ہو تو اکیلاصرف ایک خادم لے کر ایسا کرنا اس کی کمال حماقت پر دلیل ہو گا ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تین ماہ کے اندر وہ ایک عظیم الشان سکیم تیار کرنے جاوے اور کم سے کم وقت میں بڑے سے بڑا کام کر سکے بغیر امداد ایک مخلص جماعت کے ۔ کیا اس کو انگریزی دان سکرٹری، ترجمان اور خطوط نویس در کار نہ ہو گا۔ کیا اس کو ایسے مختلف لوگ در کار نہ ہونگے جن کی وساطت سے وہ کم سے کم وقت میں ہر طبقہ کے لوگوں سے مل سکے ۔ اور ان سے تبادلہ خیال کر سکے۔ علماء، امراء، اخبار نویس، پروفیسر، مذہبی لیڈر، حکام عوام اور اپنے ملک کے لوگ جو وہاںموجود ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کیا علماء کا وجود اس وفد میں لغوہے جو نہ صرف مصر اور شام میں بھی ٹھہرے گابلکہ خود ولایت میں بھی بات بات پر قرآن شریف، حدیث شریف، کتب حضرت صاحب اورتاریخ اورلغت سند اور حوالہ نکالنے کی ضرورت ہوگی۔ اس بات کی ان لوگوں کو ضرور ت نہیں ہوتی جو خواجہ صاحب والا اسلام پیش کرتے ہیں اور جن کے لئے صرف ایک آیت یعنی إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالنَّصَارَىٰ وَالصَّابِئِيْنَ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ بہائیوں کی طرح ہر مذہب کی تصدیق اورہاں میں ہاں ملانے کے لئے کافی ہے۔ اور تفسیر بالرائے اس بات کی کوئی ضرورت باقی نہیں چھوڑتی کہ قرآن یا تاریخ یالغت یا کسی اور علم یا کتاب کی ضرورت ہومگر مولاناہمارے لئے یہ کام نا ممکن ہے۔
پھر مولانا ! یہ دس بارہ آدمی جو حضرت صاحب کے ہمراہ ہونگے آپ کے اس زمانہ میں اور آئندہ نسلوں کے لیے شاہد ہونگے ۔ ان کی گواہی ہوگی کہ ہم دن رات آپ کے گردو پیش رہے اور ہم نے مشاہدہ کر لیاکہ آپ سیر و تفریح کے لئے یورپ نہیں گئے تھے ۔ ہم گواہ ہیں کہ حضور نے دن رات دین کی خدمت میں صرف کئے ہیں ۔حضور نے کبھی ناجائز تماشے نہیں دیکھے ۔ نہ بڑے بڑے خود ساختہ مجددین کی طرح پیرس کی گلیوں میں برہنہ میموں کے ناچ دیکھے، نہ عورتوں سےمصافحے کئے ، نہ غض بصر کے حکم کو پامال کیا ، نہ حرام کھایا نہ کھلایانہ گدھوں کے سوانگ بھرے نہ کسی اور قسم کا نامناسب فعل کیابلکہ جیسے بے لوث گئے تھے اسی طرح بے لوث واپس آگئے۔ مولانا دنیا میں نمونہ اور اسوۂ حسنہ ایک عجیب با اثر چیز ہے ۔جو شخص اکیلا جاتا ہے اور اکیلا واپس آتا ہے اسکی نسبت کیونکر ہم یقیناً کہ سکتے ہیں کہ اس کا چلن ہر دھبہ سے پاک ہے۔ ہمیں کیا خبر کہ وہ کہاں کہاں بد کاری کرتا رہا اور کہاں کہاں حرام کھاتا ہوا گیا۔ یہ ضرور ہے کہ ایسے سفر میں جہاں بڑے بڑے خود ساختہ متقیوں کے پائے ثبات پر تزلزل آگیا ہو ہم ایک ایسا نمونہ پیش کریں جو ایک درجن گواہ ہر وقت ساتھ رکھتا ہو اور جس کا درخشاں اور بے عیب کیریکٹر موجودہ اور آئندہ نسلوں کیلئے موجب اتباع ہو۔
پھر مولانا! اتنے بڑے سفر کا کوئی منتظم اور روپیہ کا حساب باقاعدہ رکھنے والا بھی ہونا چاہئے تاکہ کوئی خرچ نگرانی سے باہر نے حساب نہ ہو جائے اور پائی پائی کا حساب نظر میں رہے اور چیک ہو سکے۔ ساٹھ ہزار کا حساب رکھنے کو جس میں ایک پیسہ کی رقم سے لیکر بڑی بڑی رقمیں تک شامل ہونگی اور ہر وقت بے وقت خرچ ہوگا پورے ایک آدمی کی توجہ تو یہی ایک معاملہ چاہتا ہے ۔اسی طرح سفر کے حالات اور سفر نامہ کی ترتیب جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ اسی طرح ڈاک کا بار گراں جس کا پڑھنا اور جواب دینا خود ایک مستقل دفتر کا کام ہے۔
غرض آدمیوں کی نسبت کام بدرجہا زیادہ ہے ۔ مولانا کیا آپ خیال فرما سکتے ہیںکہ وہ شخص جس کے پاس سلسلہ کا اتنا کام ہے کہ دس سکرٹری مع اپنے دفاتر کے عملہ کے اس کام کو بمشکل چلا سکتے ہیں کیا وہ سفر میں صرف ایک آدمی سے سلسلہ کے کام چلا سکتا ہے۔ مولانا کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ حضرت صاحب اپنی خلافت کو یہاں چھوڑ کر وہاں تشریف لے گئے ہیں اور سلسلہ سے انکو کوئی تعلق نہیں رہا اور بار گراں جماعت سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں اور ہر گز نہیں تو پھرمولانا آپ کی صلاح صرف اکیلے سفر کرنے کی کس طرح عقل میں آسکتی ہے۔
(2)
فوٹو کیوں لئے گئے:
مولانا مضمون بہت لمبا ہو گیا ۔ اب اختصار کرتا ہوں مگر تھوڑے سے فوٹو کے فوائد بھی گوش گذار کئے دیتا ہوں ۔ غنیمت ہے کہ فوٹو کے جواز کے تو آپ قائل ہیں ۔ صرف اتنا آپ کو اسراف معلوم ہوتا ہے کہ فوٹو حضرت میاں صاحب کے مختلف جماعتوں کے ساتھ دوران سفر میں کیوں لئے گئے ۔مولانا! اس کا جواب دینے سے پہلے آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ یہ اعتراض حضرت مسیح موعود ؑ پر بھی پڑتا ہے (بلا سے پڑنے دو،محمد علی)کیونکہ جب آپ نے اپنا فوٹو کھچوانا اوراس کے مصالح بتائے کہ قیافہ سے ہی اہل یورپ و امریکہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو اس وقت علاوہ ان فوٹوؤں کے جو صرف آپ کیلئے کئے گئے تھے قادیان میں مدت تک بعد میں حضور کے کئی فوٹو جماعتوں کے ساتھ بھی کھینچے گئے ۔ہر شخص یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح میرا فوٹو بھی حضور کے ساتھ کھینچا جاوے۔ اور لوگوں کے اس شوق کے پورا کرنے کو جن لوگوں میں خود جناب مولانا بھی داخل تھے حضور علیہ السلام نے کئی دفعہ مختلف جماعتوں اور احباب کے ساتھ ملکر فوٹو کھچوایا۔ مولانا! اب بھی وہ فوٹو موجود ہیں۔ جن میں آپ بمعہ اور بہت سے احباب کے حضور علیہ السلام کے جلو میں موجود ہیں۔مولانا! کیا اس اسراف کا جواز بھی آپ نے سوچ رکھا ہے یا نہیں۔ اگر آپ ان باتوں کو بھول گئے ہیں تو ڈاکٹر حکیم نور محمد صاحب لاہوری سے پوچھ لیں یا محمد کا ظم صاحب فوٹو گرافر سے۔
مولانا شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بطور جرنلسٹ حضرت خلیفۃ المسیح کی ہمرکابی میں ہے۔اس کا بحیثیت اپنے عہدہ کے فرض تھا کہ جیسے وہ حضور کے حالات کا نامہ نگار ہے ویسے ہی وہ قوم کا نمائندہ اور ترجمان بھی اپنے آپ کو سمجھے۔ اس نے یہ اعلان فوٹو کا اپنی طرف سے ہر دو حیثیت سے کیا تھا ۔ ایک طرف تو اس لئے کہ یہ فوٹو سفر نامہ میں لگائے جاویں دوسری طرف قوم کے نمائندہ کی حیثیت سے کہ تمام دوست احباب شوق و ذوق سے حضرت صاحب کے ساتھ اپنا فوٹو اس نیت سے ملکر کھچوائیں جس نیت سے مولاناآپ نے حضرت مسیح موعود ؑکے ساتھ کھچوایا تھا۔ اس نے صرف قوم کے ایک حقیقی جذبہ کی ترجمانی کی اور بس۔
فوٹو کا فائدہ:
اب رہا یہ امر کے یہ فوٹو کیا کام دینگے اور ان کا فائدہ کیا ہے؟سو مولانا! ایک ظاہر فائدہ تو انکا حفاظت تاریخ سلسلہ ہے۔ ایک فوٹو اور ایک با موقعہ تصویر بعض اوقات ہزار صفحہ کی کتاب کے قائم مقام ہو جاتی ہےاور اس نقشہ اور سین کو بالکل آنکھوں کے سامنے لے آتی ہے جس کو کوئی تقریر یا تحریر کسی صورت سے ممکن نہیں کہ بیان کر سکے ۔ مولانا! تصویر سے حفاظت تاریخ ایک سچا علم ہے جس کا انکار آپ ہرگز وہم میں بھی نہیں لا سکتے۔مگر ایک نکتہ یہاں یاد رکھنے کے قابل ہے۔ہم کو اس سلسلہ کے آگے چلنے کا ایمان ہے اور یقین رکھتے ہیں کہ ایک وہ زمانہ آئے گا کہ اہل علم اور اہل دل ان تصویروں کو ڈھونڈتے پھریں گے اور ایک ایک تصویراِس زمانہ کی اُس وقت منبع علوم ہوگی۔مگر آپ میں یہ احساس اس وجہ سے نہیں ہے کہ آپ خود علی وجہ البصیرۃ اس امر پر ایمان رکھتے ہیں کہ یقیناً یقیناً آپ کا پیغامی گروہ قلیل عرصہ میں ہی معدوم ہو جائے گا کچھ رخصت ہو جائیں گےاور باقی غیر احمدیوں میں جذب ہو جائیں گے۔ خدا چاہے تو پچاس سال یعنی ایک نسل بھی نہیں گذرے گی کہ دنیا آپ لوگوں کے وجود کو صرف ایک تاریخی وجود قرار دے گی اور آپ کا نام لیوا اور پانی دیوا عالم میں کوئی باقی نہ رہے گا۔مولانا آپ کی کار گزاریوں کی تاریخ اور آپ کی تصویر بھی ہمارا سلسلہ ہی انشاء اللہ محفوظ رکھے گا ۔ مولانا گریبان میں منہ ڈال کر دیکھئے کہ آپ کے گروہ کی اولاد اور آئندہ نسل کیا نمونہ دکھا رہی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو آپ لوگاں کا نام و نشان صفحۂ احمدیت سے مٹا دیگی ۔ مثلاً مولانا آپ کے مکرم دوست خواجہ صاحب کا نور چشم جو امام مسجد وو کنگ ہے۔ وہ اعلانیہ کہتا ہے کہ ’’میرا باپ احمدی ہوگا میں احمدی نہیں ہوں۔‘‘ اور حضرت مسیح موعود ؑ پر گندے سے گندے الزام اور افک لگاتا ہے ۔ مولانا سچ کہنا کیا انہی سپاہیوں سے آپ احمدیت کا نقارہ دنیا میں بجانے کے امید وار ہیں ۔ کیا یہی وہ قوم کے نونہال ہیں جو آئندہ ’’اشاعت اسلام‘‘ کریں گے۔ ناممکن ہے ۔ پس آپ اور میں ہی نہیں بلکہ غیر قومیں بھی آپ کے رفقاء کو خائب و خاسر اور فنا ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہیں ۔ اس صورت میں کیا کبھی حفاظت تاریخ سلسلہ کا خیال یا اس کی حفاظت کے ذرائع پر غور کرنے کا سوال آپ کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے ؟نہیں اور ہر گز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوٹو کو آپ اسراف کہتے ہیں۔
آئندہ آنے والی نسلیں
اور
اصحاب مسیح موعودؑکے فوٹو:
مولانا ! ہمارےفوٹو تو آپ کو برے لگتے ہیں۔مگر کیا کبھی آپ کے دل میں یہ خواہش نہیں پیدا ہوئی کہ کاش قرون اولیٰ کے بزرگوں کے چہروں سے ہم کسی طرح واقف ہو سکتے ہیں۔ کس طرز کے وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کا تختہ اس سرعت سے چند ہی دنوں میں بالکل پلٹ دیا۔مولانا اسی طرح آنے والی نسلیں حضرت مسیح موعود ؑ کے اصحاب اور قرون اولیٰ کے نقش و نگار اور بناوٹ اور لباس اور طرز کے دیکھنے کی خواہش مند ہونگی جس طرح ہم صحابہ کے چہرے دیکھنے کو ترستے ہیں اسی طرح وہ ہمارے چہرے دیکھنے کو ترسیں گی۔ اور ان کا حق ہے کہ فوٹو کے علم کے دنیا میں موجود ہوتے ہوئے وہ اپنے آباء کے منہ دیکھیں اور ان پر درود بھیجیں اور ان کی تصویروں پر انگلیاں رکھ رکھ کر بیان کریں کہ دیکھو یہ وہ ہمارے کمزور غریب الوطن اور مفلس مورث اعلیٰ تھےجنہوں نے تمام دنیا کا باوجود اپنی کم مائیگی کے مقابلہ کیا اور اس نور کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لائے تھےدنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیا۔ ہر مصیبت کو برداشت کیا ہر رنج کو اٹھایا مگر اپنے مقدس فرض کو پورا کر کے ہی چھوڑا۔ کوئی روک ان کے راستے میں حائل نہ رہ سکی اور کسی نا امیدی نے ان کے دلوں کو نہیں توڑا ۔ وہ صحابہ کے ہم رنگ ایک جماعت تھی اور خدا کی آخری جماعت تھی جو سخت سے سخت امتحانوں میںسے گزری مگر ہمیشہ اس کے فضل سے سرخرو رہی ۔ انہوں نے خدا کی ہر آواز اور سلسلہ کی ہر ضرورت پر لبیک کہا اور جو قدم آگے بڑھایا پھر خواہ کچھ ہی ان پر گذر گئی اس قدم کو پیچھے نہ ہٹایا۔ اَلَلّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ۔
پھر مولانا صرف یہی نہیں کہ وہ ان فوٹوؤں کو دیکھ کر خوش ہی ہو لیں بلکہ یہ تصاویر خود ان کے لئے بڑی زبردست محرک ہونگی۔ ان کی ہمتوں کو بلند اور مضبوط رکھیں گی۔ ان کے کیریکڑپر اثر ڈالیں گی ۔ انکا مطمح نظر ان کی آنکھوں کے سامنے رکھیں گی۔ بعینہ اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر جس طرح پرانے تاریخی قصے اور یادگاریں نئی نسلوں کو جوش سے بھر دیتی ہیں ۔
مولانا! ایک اور فائدہ بھی ایسے فوٹو کا ہے جس گھر میں یہ فوٹو ہونگے ان گھروں کے بچوں کو ایک تعلق سلسلہ اوراس کے پیشرو سے ہو جائے گا ۔ چھوٹے بچے انتظام جماعت اور مذہب اور سلسلہ کو نہیں سمجھ سکتے مگر اپنے گھر میں جب وہ ایسا فوٹو دیکھیں گے تو اپنی پیاری پیاری زبان میں کہیں گے کہ یہ ہمارے حضرت صاحب ہیں، یہ ہمارے ابا ہیں، یہ ہمارے چچا ہیں ، یہ ماموں ہیں۔ یہ تصویر ریل پر اتروائی تھی جب حضرت صاحب یورپ خدمت دین کیلئے گئے تھے۔ غرض یہ باتیں جو بظاہر ایک سننے والے کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، ہمارے بچوں کا ایک مخفی تعلق اور محبت سلسلہ سے پیدا کرتی ہیں۔ اور ان کے اندر ایک بیج کی طرح اسلام اور سلسلے اور خلیفہ اور جماعت کا خیال ڈال دیتی ہیں جو کسی نہ کسی وقت بار آور ہوکر رہتا ہے۔
مولانا! پھر خود سفر نامہ کیلئے بھی ضروری ہے کہ راستہ کے واقعات تصویری زبان میں اس میں موجود ہوں ۔
مبالغہ ہے یا جھوٹ:
مولانا! آپ نے فوٹو کو حد درجہ کا اسراف فرمایا ہے ۔ مگر مہربان من اب فوٹو ایسا عام ہے کہ لوگ آپ کی یہ عبارت پڑھ کر حیران ہی ہوتے ہونگے کہ پندرہ بیس سٹیشنوں پر میاں صاحب کا فوٹو لیا جانا ایسا امر ہے کہ کسی مسرف سے مسرف نواب نے بھی کوئی ایسا اسراف کیا ہو تو ایسی مثال شاید اس کی زندگی میں بھی نہ ملے (مطلب)مولانا ایک فوٹو کی تصویر کی قیمت ایک دو روپیہ سے زیادہ نہیں ہوتی اور تمام خرچ ملا کر حد سے حد کسی جماعت پر پھیلایا جاوے تو شاید فی متنفس چند آنے ہی آویں کیا اتنے خرچ کو ایک مسرف سے مسرف نواب کے بڑے سے بڑے اسراف سے بھی زیادہ بتانا مبالغہ کہلاتا ہے یا جھوٹ؟مولانا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت امیر جماعت جب ڈلہوزی تشریف لے گئے تو انہوں نے صرف پٹھانکوٹ کےسٹیشن پر ہی اتنا روپیہ خرچ کیا جتنا بادشاہ جارج پنجم اور ان کی پارٹی نے1911ء میں ہندوستانی تاجپوشی کے موقعہ پر لندن سے دہلی اور دہلی سے لندن تک خرچ کیا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ تو آپ ہی فرمائیےکہ دنیا ایسا بیان کرنے والے شخص کو کیا کہے گی۔ شاید یہی کہے کہ پیدائش عالم سے آج تک کوئی ایسا کذاب اور بیباک شائد کوئی دوسرا پیدا نہیں ہوا۔
مقتضائے طبیعت:
مولانا ! بعض موقعے یادگار ہوتے ہیں جماعت کے لوگ محض اپنی محبت سے اس موقعہ پر یادگار کے طور پر فوٹو لیتے ہیںاور اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور اس پر تھوڑی سی رقم بھی خرچ کر دیتے ہیں ۔ کیا ان امور کا اعتراضاً ذکر کرنا آپ جیسے آدمی کے لئے قابل شرم نہیں ہے۔ کیا یہ مقتضائے طبیعت سے زیادہ کوئی اور حیثیت بھی رکھتا ہے۔ مولانا ! فوٹو کا خرچ اس سے بہت کم ہے۔ جتنا کسی معمولی امیر کے بال بچے شاہدرہ اور شالا مار کی سیروں میں چنددنوں میں ضائع کر دیتے ہیں ۔
مولانا ! دنیا میں ایک چیز محبت کے نام سے مشہور ہےچونکہ اس کا تعلق بھی فوٹو کے ساتھ ہے اور آپ اس عالم سے بے خبر اور اس کو چہ سے نا آشنا ہیں۔ اور اس لئے اس کا ذکر کرنا بھی میں مناسب نہیں سمجھتا ۔ ہاںممکن ہے کہ آپ لوگوں کا مقولہ اپنے پیرو مرشد کی نسبت یہ ہو-
ہم کو اپنے یار کی کوئی ادا بھائی نہیں
اسلئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں
صادقوں کی معیت :
مولانا! پھر ایک فائدہ ایسے فوٹوؤں کا یہ ہے کہ وہ احباب سلسلہ کے لئے کُوْنُوْ مَعَ الصَّادِقِیْنَ کے حکم کی لفظی اور ظاہری تعمیل اورآئندہ نسلوں کے لئے اس پر شاہد ہوتے ہیں۔ مولانا یہ بچوں کا شوق نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود کے کہن سال تجربہ کار دیندار لوگوں کا فعل ہے۔ مولانا اس وقت مجھے ایک واقعہ یاد آیا، میں جب امرتسر میں تھا تو حضرت صاحب کے ایک نہایت مخلص اور اہل دل مرید بھی وہاں میرے پاس بطور مہمان تشریف لائے ہوئے تھے ۔ ہسپتال کا سول سرجن پنشن پر جا رہا تھا ۔ اس تقریب پر اس کے اور تمام عملہ کے فوٹو کا انتظام کیا گیا ۔ میں اس مہمان کو بھی اپنے ہمراہ فوٹو میں شرکت کے لئے لے گیا ۔ جب فوٹوکھچنےنے لگا تو میں نے دیکھا کہ وہ بزرگ وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔ بہتیرا ِدھرادھرڈھونڈا کچھ پتہ نہ لگا ۔ موقعہ گذر جانے پر میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ عین وقت پر کہاں غائب ہو گئے تھے فرمانے لگے میں نے دیکھا کہ تم تو اپنی سرکاری حیثیت سے ان ہندوؤں اور سکھوں میں شامل ہو کر تصویرکھنچوارہے ہو ۔ میںکس طرح کُوْنُوْ مَعَ الصَّادِقِیْنَ کے برخلاف ہمیشہ کے لئے ان کی تصویری معیت میں شریک ہو جاؤں ۔ اس لئے میرے ایمان نے اس شمولیت کوگوارا نہ کیا ۔ سو مولانا یہ معرفت کےنکتے ہیں ۔ ہاں آپ کے نزدیک بے معنی ہوں تو ہوں ۔
مولانا ! ان فوائد کے سوا کچھ اور فوائد بھی ہیں جو خود آپ کو معلوم ہیں اور جن کی بنا پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہمراہ اپنی تصویرکھنچوائی تھی۔ امید ہے کہ ان کے اظہار سے آپ ہم پر احسان فرماوینگے۔
رسالہ الوصیت کی ایک عبارت:
مولانا! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رسالہ الوصیت میں سےمقبرہ بہشتی کے متعلق ایک عبارت پیش کر کے جناب کو اسکی طرف خاص توجہ کرنے کی درخواست کرتا ہوں :
’’واضح ہو کہ خدا تعالی کا ارادہ ہے کہ ایسے کامل الایمان ایک ہی جگہ دفن ہوں، تاآئندہ کی نسلیں ایک ہی جگہ ایک ہی جگہ ان کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کریں ، اورتا ان کے کارنامے یعنی جو خدا کے لئے انہوں نے کام کئے ہمیشہ کے لئے قوم پر ظاہر ہوں۔‘‘
مولانا! غور فرمائیے جو مطلب قبروں کے ایک جگہ بنانے اور ان کے کتبوں سے نکلتا ہے،وہی بعینہ مجاہدین کے قافلے اور مختلف جماعتوں کے مخلص احباب کے فوٹوجمع ہو کر کھچوانے سے بھی نکلتا ہے۔ پس یہ عجیب مشابہت ہے ،جن مقاصد کو مقبرہ پورا کرتا ہے انہی مقاصد کو یہ فوٹو بھی پورے کرتے ہیں۔ پس اگر آپ کو ان پر اعتراض ہے تو پہلے مقبرہ پر اور اس کے بانی پر دہان اعتراض کھو لئے پھر اس طرف آئیے۔
(3)
احمدیوں کا ملاقات کیلئے جمع ہونا:
مولانا! یہی حال لوگوں کے جمع ہونے اور ملاقات کا ہے۔ ایک جماعت کا نہایت ہی پیارا امام ایک غیر معمولی لمبی مدت کیلئے ان سے جدا ہوتا ہےاور دور دراز ملکوں میں جاتا ہے، سمندر کا سفر ہے اور سخت خطرناک دنوں میں، پھر زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ دیکھئے واپسی پر کون زندہ ملے ، کون نہ ملے۔ ادھر مرید مخلص ادھر امام مشفق ۔ مولانا دونوںجانب بے حد محبت کے جذبات کام کر رہے تھے۔ اس موقعہ پر دونوں جانب سے اظہار محبت کا ہونا فطرتی اور اضطراری ہے۔ حضرت میاں صاحب نے اس لئےجماعتوں کو اطلاع کی کہ ان کو بغیرملے عزیزوں سے رخصت ہونا منظور نہ تھا اور جماعتیں اس لئے بیقرار انہ خود سٹیشنوں پر دوڑی چلی آئی تھیںکہ جاتے ہوئے اپنے محبوب امام کو الوداع کرلیں اور یہ قدرتی بات ہے ۔ مولانا جب آپس کے تعلقات محبت اور اخلاص کے حد درجہ کو پہنچے ہوئے ہوں تو پھر ایسی باتوں کا نہ ہوناحیرت انگیز اور جائے اعتراض ہوگانہ کے اس کے خلاف۔مولانا میںپھر بھول گیا آپ تو اس تعلق کو سمجھ ہی نہیں سکتے چونکہ آپ امیر فرضی خود ساختہ اور مصنوعی ہیں اس لئے آپ میں یہ احساس ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر خدا نے آپ کو امیر بنایا ہوتا تو آپ بھی لِنْتَ لَھُمْ کے مصداق ہوتے۔ بھلا مولانا نقال میں وہ بات کہاں!
ظاہری فوائد:
پھر مولانا! اس الوداعی ملاقات کے ضمن میں تین قسم کے اظہار خود بخود ہوگئے۔ یعنی ہر دو جانب کی اظہار محبت کے ساتھ ہی اظہار کثرت جماعت اور اظہار مقبولیت من جانب اللہ اور اظہار رعب دنیا پر واضح ہو گئے ۔ مولانا اس موقعہ نے ثابت کر دیا کہ یہی ایک جماعت ہو سکتی ہے جو خدا کی جماعت کہلا سکتی اور یہی ایک امام ہو سکتا ہے جو منجاب اللہ مقبولیت کے ظاہر نشان رکھتا ہے۔جس شخص کو ایسی مخلص جماعت ملے وہ جس قدر بھی اس پر فخر کرے بجا ہے۔ اگر چہ حاسد کباب ہوا کریں اور جس جماعت کو ایسا محبت کرنے والا شفیق امام ملے وہ جس قدر شکر کرے بجا ہے ۔ اگر چہ دشمن جلا کریں۔
ملاقات کیلئے اعلان کی ضرورت:
مولانا! ملاقات کیلئے اعلان اس لئے بھی ضروری تھا کہ بعض مخلص جو اس موقعہ پر ملاقات کیلئے تڑپتے تھے ،بسبب معذور ہونے کے قادیان نہ آسکتے تھے۔ بعض بوڑھے اور کمزور تھے ،بعض بیمار، بعض غریب اور مفلس ۔ پس ان کے لئے کس قدر سہولت ہو گئی کہ وہ اپنے گھر کے نزدیک کے سٹیشنوں پر جمع ہوگئےاور بلا تکلیف ان کی مراد بھی حاصل ہو گئی۔
مولانا جماعتوں کے جمع ہونے کو تو آپ نے کہدیا کہ بلائے ہوئے آئے تھے مگر آپ اسے کیا کہیں گے کہ بہت سے لوگ اپنے خرچ پر محض اپنی محبت اور اخلاص بلکہ عشق کی وجہ سے قادیان سے بٹالہ، امرتسر، جالندھر، سہارنپور دہلی اوربمبئی تک ہمراہ گئے۔ بلکہ کچھ آدمی آگے ولایت تک صرف خدمت اور رفاقت کی غرض سے۔ مولانا یہ مقبولیت ہے اور حضرت مسیح موعود کے جہلم والے سفر کا نمونہ ہے۔ مولانا اگر ہم لوگ صاحب توفیق ہوتے تو پھر آپ وہ نظارے دیکھتے جن کی آپ تاب نہ لا سکتے گو اب بھی یہ حالات حاسد کے لئے ماتم سے کم نہیں ۔ مولانا ان ملاقاتوں کے نظاروں اور پھر ان کے مستقل ریکارڈ یعنی فوٹوؤں نے یہ ثابت کر دیا کہ کثرت جماعت کی کس طرف ہے اور خود آپ کی آئندہ نسلیں اس معاملہ میں آپ کی غلط بیانیوںکو پڑھ پڑھ کر اور پھر ان کی عملیتردید دیکھ دیکھ کراپنے بزرگوں کی کور چشمی پر تعجب کیا کریں گی۔
تاروں کی ضرورت:
مولانا ضمناً جواب تاروں کا بھی آچکا۔ ہم لوگوں کا تعلق حضور امام سے ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ پندرہ بیس دن ڈاک کا انتظار کیا کریں اور سفر کی حالت میں تو جب تک ہر روز خیریت کی خبرنہ ملتی رہے، اطمینان ہی نہیں ہوتا ۔ دیکھئے دس گیارہ روز جب کوئی تار نہ آیا تو اس قدر تشویش اور اضطراب رہا کہ حد بیان سے باہر ہے۔پھر یہ کہ بمبئی والا تار اپنی اہمیت کے لحاظ سے ایسا تھا کہ اسے تار میں ہی بھیجا جاتا اور ایک اور بات ہے کہ صرف خیریت ہی نہیں بلکہ ضروریات جماعت مجبور کرتی ہیں کہ حضور سے جماعت کے اہم معاملات میں ہر موقعہ پر استصواب کیا جاوے اور آپ تو ایک تار کو روتے ہیں یہاں جوابی تار ایک نہیں بار بار چلتے ہیں ورنہ جماعت کا نظام سخت صدمہ اٹھائے۔ مولانا چونکہ آپکی جماعت کوئی نہیں ہےاور جو کچھ قدرےہم خیال لوگ ہیں وہ مخلص نہیں ۔اس لئے آپ ان باتوںکی ضرورت تسلیم نہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔
تیس سالہ تجربہ کا نتیجہ :
مولانا ! میں قریباً تیس سال کے تجربہ سے ایک نتیجہ پر پہنچا ہوںجو یہ ہے کہ آپ میں اور جناب خواجہ صاحب میں ایک ایسی مخفی کشش اور روحانیت ہے کہ جتنا کوئی شخص زیادہ آپ کے قریب ہوتا ہے اور آپ سے تعلق پیدا کرتا ہے اور زیادہ آپ کا واقف حال ہوتا جاتا ہے ، اتنا ہی آہستہ آہستہ وہ آپ صاحبان سے متنفر ہوتا جاتا ہے ۔ بر خلاف اسکے محمود میں یہ خاصیت ہے کہ جتنا کسی کا اس کے ساتھ تعلق زیادہ اور پرانا ہوتا جاتا ہے اتنی ہی زیادہ اس سے محبت اور کشش بڑھتی جاتی ہے یہ ایک عجیب بات ہے۔ وَذَالِکَ فَضْلُ اللهِ يُؤْ تِیْہِ مَنْ يَّشَاءُ۔
بیت المقدس کا قبضہ لینے کا طعنہ:
مولانا ! آپ کا بیت المقدس کا قبضہ لینے جانے کا طعنہ دینا فضول ہے کیونکہ اگر یہ تمام خرچ صرف اس ایک بات ہی کے لئے ہو جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگو ئی لفظاً سچی ٹھہرےاور حضرت مسیح موعود ؑ کا اس کے متعلق ایک بیان کہ (ثُمَّ یُسَافِرُ الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ اَوْ خَلِیْفَۃٌ مِّنْ خُلَفَائہٖ اِلٰی اَرْضِ دَمِشْقَ)پورا ہو۔تو بھی ہم اور ہماری جماعت سے بڑھ کر کون خوش نصیب ہو سکتا ہے۔فتح بیت المقدس خود کوئی عجوبہ نہ تھا۔صرف اس لیے وہ ایک عظیم الشان بات تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اس سے پوری ہوئی تھی۔اسی طرح ایک دوسری پیشگوئی نزول مسیح کی منارہ شرقی دمشقی کے پاس پوری کرنے میں کامیاب ہونا ہمارے نزدیک ایسی ہی خوشی کا باعث ہے جس کو آپ بطورطعنہ کے بیان کرتے ہیں ۔مولانا! خدا کے فرمودے خدا کے فضل اور خدا کی امداد سے ہی پورے ہوتے ہیں۔ ورنہ ایک صاحب اسی غرض کے لیےگئے تو تھےمگر ان کے جانے اور لاف زنی کا کیا فائدہ جب وہ پہلے ہی خودخلافت منصوص کا ہی انکار کر کے گئے تھے۔پس ان کا جانا نہ جانا برابراور ان کی ساری محنت اورخرچ فضول اور اسراف میں داخل۔
سفر نامہ:
باقی رہا سفرنامہ اس کی حقیقت اور ضرورت خود واضح ہو جائے گی جب وہ آپ کے ہاتھ میںآ جائے گا اور وہی وقت اس پر تنقید کرنے کاآپ کے لیے بھی موزون ہوگا۔ مولانا! اگر کبھی عداوت اور حسد کو دل سے نکال کر تنہائی میں تمام باتوں پر یکجائی نظر ڈال کر غور کریں گے توآپ کو اپنی حالت اس شعر کا مصداق دکھائی دے گی۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
…٭…٭…٭…