اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی ؓ کی سفر یورپ 1924 سے واپسی (محمد شریف کوثر مبلغ سلسلہ نشروا شاعت قادیان)

قادیان میں آپ کا استقبال اور جشن کا ماحول
اللہ تعالیٰ نے افراد جماعت کے دلوں میں اپنے خلفاء کے لئے بے انتہاء محبت، اخلاص اور وفا ودیعت کی ہوئی ہے۔ افراد جماعت اپنے خلیفہ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ان کے حکم پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اور خلیفہ وقت کے لئے ہر وقت دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ خلیفہ وقت جہاں بھی تشریف لے جائے وہاں کے لوگوں میں ان کے ساتھ ایک خاص روحانی تعلق استوار ہو جاتا ہے۔ اور اگر کسی دینی ضرورت کے پیش نظر خلیفہ وقت کو چند دنوں کے لئے اپنے مستقر سے دور جانا پڑے تو خلیفہ وقت سے دوری کے وہ چند ایام مرکز کے افراد جماعت پر گراں گزرتے ہیں اور وہ بے تابی سے اپنے آقا کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی ماحول 1924 میں قادیان کا تھا جب حضرت مصلح موعود ؓ یورپ کے سفر پر تشریف لے گئے تھے۔ احباب جماعت بے تابی سے حضور ؓ کی واپسی کے منتظر تھے اور ہر وقت ہی حضور ؓ کے لئے دعاؤں میں مصروف تھے۔ اور آخر کار وہ مبارک دن آئے جب حضور ؓ قادیان کے لئے روانہ ہوئے۔
لنڈن سے روانگی اور ممبئی میں ورود
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے24 ؍اکتوبر 1924ء کو مسجد فضل لنڈن میں پہلا جمعہ پڑھایا، اور لنڈن سے روانگی سے پہلے حضور نے فرمایا: ’’ میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اپنے وقت پر اس کا اعلان زمین پر بھی ہو جائے گا۔ دشمن ہنسے گا اور کہے گا یہ بے ثبوت دعویٰ تو ہر ایک کر سکتا ہے مگر اس کو ہنسنے دو کیونکہ وہ اندھا ہے اور حقیقت کو دیکھ نہیں سکتا۔‘‘
حضور ؓ25اکتوبر کو لنڈن سے روانہ ہوئے
واٹرلو اسٹیشن پر (جہاں سے حضور مع خدام گاڑی پر سوار ہوئے) بہت سے یورپین مردوں اور عورتوں کے علاوہ ہندوستانی اور افریقن لوگ بھی الوداع کرنے کے لئے موجود تھے۔ نہایت محبت آمیز مصافحوں کے بعد ہر ایک نے خدا حافظ کہا اور فوٹو گرافروں نے فوٹو لئے۔ لنڈن سے گاڑی سائوتھ پٹن پہنچی۔ جہاں سے حضورؓ معہ رفقاء نے رات کے بارہ بجے بحری جہاز سے رودبار انگلستان عبور کی اور26 اکتوبر کو ساڑھے آٹھ بجے کی گاڑی سے سوار ہو کر پیرس پہنچے۔ پیرس میں حضور کا قیام بہت مختصر تھا جو بہت کامیاب رہا۔ روزانہ اخبارات کے نمائندے ملاقات کے لئے آئے۔ پیرس کی سرکاری نو تعمیر مسجد میں پہلی نماز حضور نے پڑھائی۔ پریس کے نمائندوں اور سینما کی کمپنیوں نے فوٹو لئے جو روزانہ اخبارات میں شائع ہوئے۔
حضور31 ؍اکتوبر کو پیرس سے روانہ ہوئے۔ ۲ نومبر کی رات کو وینس (اٹلی) سے بحری جہاز پر سوار ہو کر کم وبیش 16 دنوں کے بحری سفر کے بعد18 ؍نومبر1924ء کو ممبئی کے ساحل پر پہنچے۔ ممبئی ساحل پر جماعت احمدیہ کے قریباً دو سو نمائندوں نے جو ہندوستان کے مختلف حصوں سے تشریف لائے تھے۔ حضورؓ کا نہایت گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا اور پریس کے نمائندوں نے فوٹو لئے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے تمام جماعت احمدیہ ہندوستان کی طرف سے حضور کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا۔ یہاں سے حضورؓ لیاقت منزل میں پہنچے اور جناب سید محمد رضوی صاحب کے ہاں فروکش ہوئے۔ ممبئی کے تمام اخبارات کے نمائندوں نے حضور ؓسے سفر یورپ کے حالات دریافت کرنے کے لئے ملاقات اور گفتگو کی۔
ممبئی میں بخیر و عافیت پہنچنے پر حضورؓ نے جماعت احمدیہ کے نام برقی پیغام ارسال فرمایا کہ :
’’میں اپنی طرف سے اور اپنے رفقاء سفر کی طرف سے تمام احباب جماعت کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے مشن کی کامیابی کے لئے دعائیں کیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ حیرت انگیز کامیابی جو ہمیں اس سفر کے دوران میں حاصل ہوئی محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی وجہ سے تھی۔ اس نے ہر قدم پر ہماری نصرت فرمائی اور ہمارے لئے ایسے اوقات میں دروازے کھولے جب کہ ہمیں کوئی رستہ نظر نہیں آتا تھا۔ میں تمام احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے آقا و مولیٰ کے اس خاص فضل کو یاد رکھیں اور اپنے آپ کو ان بڑی قربانیوں کے لئے تیار کریں جو انہیں ان اثمار کے حاصل کرنے کے لئے کرنی پڑیں گی۔ جو گزشتہ چار ماہ کے کام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والے ہیں … اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنی برکات نازل فرمائے۔‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کا ورود آگرہ میں
حضور 20 ؍نومبر1924ء کو ممبئی سے بی بی اینڈ سی آئی ریلوے کے ذریعہ روانہ ہو کر اگلے دن ۲۱؍ نومبر ۱۹۲۴ء کو آگرہ پہنچے۔ آگرہ آتے ہوئے آپ نے اکرن کا مشہور مقام دیکھا جو مائی جمیا کا گائوں اور جماعت احمدیہ کے معرکہ جہاد کا اہم میدان رہا ہے۔ آگرہ اسٹیشن پر آپ کا مخلصانہ استقبال کیا گیا۔ مرزا عرفان علی بیگ صاحب نے آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے۔
صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی امیر المجاہدین آگرہ کی طرف سے اخبار الفضل ۶ ؍دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۷ پر حسب ذیل خبر شائع ہوئی۔
21 نومبر بوقت8 بجے شام حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ مع خدام آگرہ فورٹ پر گاڑی سے اترے جہاں سلسلہ احمدیہ کے قریباً ایک سو قائم مقاموںعہدیداران نے جو یو پی کے مختلف مقامات سے جمع ہوئے تھے مع چند رئوساء قریباً چالیس غیر احمدی پنجابی تاجروں کا استقبال کیا۔ حضور کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔ حضور نے سب لوگوں کو مصافحہ سے مشرف کیا۔ پھر مع خدام الاحمدیہ دارالتبلیغ میں تشریف لائے۔ آتے ہی حضور نے نمازیں ادا کیں اور علاقہ مین پوری کے چند مہمانوں کی بیعت لی۔ پھر کھانا تناول فرمایا ور مجاہدین و جماعت احمدیہ آگرہ کی طرف سے مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل نے ایڈریس پیش کیا جسکے جواب میں حضور نے اپنی کامیابی کو محض فضل الٰہی سے ثابت کرتے ہوئے جماعت کو آئندہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی تلقین فرمائی اور مزید قربانیوں کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا۔ اگلی صبح حضور کا مع خدام فوٹو لیا گیا اور موٹر پر تاج محل کو دیکھتے ہوئے موضع ساندھن تشریف لے گئے۔
22نومبر کو حضور ملکانہ تبلیغ کا بہت بڑا مرکز ساندھن دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے یہاں کل انتظام ملکانوں نے کیا تھا۔ بڑے شاندار دروازے بنائے گئے تھے جن میں سے ایک پر ’’غلام احمد کی جے‘‘ کا فقرہ لکھا ہوا تھا۔ حضور کی خدمت میں ایک ایڈریس بھی پیش کیا گیا۔ جس کا حضور نے جواب دیا۔ پھر بہت سے لوگوں نے بیعت کی۔
قارئین کرام!آپ حیران ہونگے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ یورپ کے طویل سفر کے بعد ممبئی سے سیدھے قادیان تشریف لانے کی بجائے ممبئی سے آگرہ کیوں تشریف لے گئے؟ قارئین کے ازدیاد علم کے لئے تحریر ہے کہ اُن دنوں جماعت احمدیہ اتر پردیش کے علاقہ آگرہ اور اس کے گرد ونواح میں شدھی کے خلاف تبلیغی مہم چلا رہی تھی۔ اس مہم کا آغاز حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے 1923 میں فرمایا تھا۔
اُس زمانے میںہندؤں کا ایک فرقہ ملکانہ قوم کے مسلمانوں کو اسلام چھوڑ کرہندؤں مذہب میں شامل ہونے کی تحریک چلا رہا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے مسلمانوں کو مرتد کروا کرہندو مذہب میں شامل ہونے کی اسی کوشش کےمقابلہ کے لئے احمدی مبلغ اور رضاکار ملکانہ مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کے لئے بھجوائے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے آگرہ تشریف لے جانے کا مقصد یہ تھا کہ آپ ؓ موقعہ پر پہنچ کر خود جائزہ لیں۔ اور تبلیغ وتربیت کی جاری مہم میں مزید وسعت اور تیزی پیدا کرنے کے سلسلہ میں کارروائی فرما سکیں۔
آگرہ سے دہلی کے لئے روانگی
مؤرخہ22 نومبر 1924 کی رات کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ ساندھن سے دہلی کے لئے روانہ ہوئے اور اسی رات دہلی پہنچے۔ دہلی اسٹیشن پر بہت بڑا مجمع تھا۔ یہاں تک کہ چلنا مشکل ہو گیا۔ دہلی اور شملہ کی جماعتوں نے ایڈریس پیش کیا۔ جس کا حضور نے جواب دیا۔
دہلی سے قادیان کے لئے روانگی
23نومبر کی صبح کو دہلی سے روانہ ہو کر انبالہ پہنچے اور انبالہ سے بٹالہ روانہ ہوئے۔
تمام درمیانی اسٹیشنوں پر جہاں گاڑی کھڑی ہوئی۔ مختلف مقامات کی جماعتوں نے آکر شرف ملاقات حاصل کیا۔ انبالہ کے اسٹیشن پر جماعت انبالہ کی طرف سے دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔ راجپورہ کے اسٹیشن پر ریاست پٹیالہ‘سرہند‘نابھہ اور بسی وغیرہ کی جماعتیں موجود تھیں۔ چاوا اور دوراہا کے اسٹیشنوں پر غوث گڑھ کی جماعت موجود تھی چاوا پر گاڑی اسٹیشن سے آگے نکل آئی تھی مگر اسٹیشن پر جماعت دکھائی دی۔ اس لئے گاڑی رکوائی گئی اور حضور کچھ دور پیدل چل کر اپنے خدام کو شرف مصافحہ بخشا۔
لدھیانہ اسٹیشن پر قابل دید منظر تھا۔ تمام جماعتیں جو ضلع لدھیانہ اور فیروزپور اور مالیر کوٹلہ سے آئی ہوئی تھیں۔ ایک خاص ترتیب سے صف بستہ کھڑی تھیں۔ شیخ محمد شفیع صاحب سیکرٹری جماعت لدھیانہ نے ایڈریس پڑھا۔ جس کا حضور نے جواب دیا۔ لدھیانہ کے بعد گاڑی جالندھر چھائونی پر ٹھہری۔ جہاں ضلع جالندھر‘ہوشیار پور اور کپورتھلہ کی جماعت کے نمائندے کثیر تعداد میں موجود تھے۔ حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ نے ایڈریس پڑھا پھر گاڑی جالندھر اور بیاس اسٹیشنوں پر مختصر قیام کرتی ہوئی امرتسر پہنچی جہاں پلیٹ فارم پر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ جماعت احمدیہ کا مبارکباد اور خیر مقدم کا بلند جھنڈا لہرا رہا تھا۔ قریشی محمد حسین صاحب (موجد مفرح عنبری) قائم مقام امیر جماعت احمدیہ لاہور نے ایڈریس پڑھا اور حضور ؓنے اس کا جواب دیا۔ جماعت امرتسر کی طرف سے کھانا پیش کیا گیا گاڑی ۱۱ بجے بٹالہ پہنچی۔
جماعت قادیان کی طرف سے بٹالہ میں حضور کے استقبال و قیام کے انتظام کے لئے احباب موجود تھے۔ حضور نے رات بٹالہ میں قیام فرمایا اور ۲۴ ؍نومبر ۱۹۲۴ء کو بروز ’’دو شنبہ مبارک دو شنبہ‘‘ بٹالہ سے بذریعہ موٹر قادیان کے لئے روانہ ہوئے۔
قادیان میں ورود مسعود اور آپ کا نہایت شاندار پرجوش اور پر اخلاص استقبال
حضرت مصلح موعود ؓ کی یورپ سے مراجعت کے موقعہ پر شایان شان استقبال کے لئے قادیان کی استقبالیہ کمیٹی نے قادیان اور بٹالہ کی سڑکوں کے مقام اتصال پر کنوئیں کے پاس مقرر کیا تھا۔ جو آج کل ڈلہ موڑ کہلاتا ہے۔ یہ جگہ شامیانے لگا کر قطعات اور رنگ برنگ جھنڈیوں سے سجا کر نہایت خوبصورت بنائی گئی تھی۔ بیٹھنے کے لئے بینچ رکھے گئے تھے اور سڑک پر بہت خوبصورت دروازہ بنایا گیا جس پر اھلا و سھلا و مرحبا کے علاوہ دوسرے قطعات بھی آویزاں تھے۔ حضور کی تشریف آوری سے قبل بہت بڑا مجمع ہو گیا جس میں قادیان اور بیرونی جماعت کے احمدیوں کے علاوہ قادیان کے غیر احمدی آریہ اور سکھ اصحاب بھی تھے۔ منتظمین نے نہایت عمدگی سے تمام اصحاب ایک ترتیب کے ساتھ سڑک سے لے کر شامیانے تک کھڑے کر دیئے سب سے آگے حضرت مولوی شیر علی صاحب ،حضرت میر محمد اسحق صاحب اور خاندان مسیح موعودؑ کے افراد کھڑے تھے۔
اس وقت ہر فرد ہمہ تن چشم انتظار بن کر سڑک کی طرف ٹکٹکی لگائے ہوئے تھا کہ دور سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی موٹر نظر آئی اور سب کے چہرے خوشی اور مسرت سے کھل گئے۔ ہر ایک کا جی چاہتا تھا کہ اڑ کر سب سے پہلے اپنے محبوب آقا کے پاس پہنچے اور زیارت کرے۔ لیکن انتظام کی پابندی کی وجہ سے مجبور تھے۔ حضور بھی اپنے خدام کے وفور شوق کو جانتے تھے۔ اس لئے حضور نے بھی انتظام کی پابندی کرانے کے لئے کہلا بھیجا کہ ہر ایک شخص اپنی اپنی جگہ کھڑا رہے۔ اپنی جگہ چھوڑ دینے والے سے مصافحہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ ارشاد پہنچ جانے کے بعد حضور کی موٹر آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔ موٹر پر سبز جھنڈا لہرا رہا تھا جو چودھری علی محمد صاحب پکڑے ہوئے تھے۔ جب حضور دروازہ کے پاس پہنچے تو پہلے حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓنے پھر حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ نے مصافحہ ومعانقہ کیا اس کے بعد حضور ؓنے بہت دیر تک باری باری تمام مجمع سے مصافحہ کیا جب سب لوگ مصافحہ کر چکے تو حضور نے آگے بڑھ کر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو گلے لگا لیا اور دیر تک معانقہ فرمایا۔ اس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے تھے۔ آپ کے بعد حضور نے حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت میر محمد اسمعیل صاحب سے معانقہ فرمایا اور پھر تمام مجمع کے ساتھ دعا فرمائی اور اپنے رفقاء سمیت قادیان کی طرف پیدل ہی چل دیئے۔ اس وقت ایک عظیم الشان ہجوم ساتھ تھا۔
حضور ؓ قصبہ میں داخل ہونے سے پہلے باغ بہشتی مقبرہ پہنچے۔ اس وقت پھولوں کے بہت سے ہار حضور کے گلے میں تھے۔ حضور نے اس موقعہ پر فرمایا اگر یہ جائز ہوتا۔ تو میں سارے پھول حضرت مسیح موعودؑ کے مزار مبارک پر چڑھا دیتا کیونکہ یہ فتوحات کا نشان آپ ہی کے طفیل اور آپ ہی کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ اس کے بعد حضور نے مقبرہ بہشتی کے پاس پہنچ کر مٹی کے لوٹے سے پانی پیا۔ پھر وضو کیا اور مزار مسیح موعودؑ پر اکیلے دعا کرنے کو تشریف لے گئے تھوڑی دیر کے بعد حضور نے اپنے رفقاء سفر بھی پاس بلائے۔ پھر سب نے مل کر دعا کی۔ دعا کرنے کے بعد حضور نے اپنے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کی قبر پر کھڑے ہو کر (جو آپ کے اس سفر کے دوران انتقال فرما گئے تھے) نماز جنازہ پڑھی۔
مقبرہ بہشتی سے قصبہ میں داخل ہونے لگے تو حضور نے فرمایا۔ حافظ روشن علی صاحبؓ داخلہ شہر کی دعا پڑھیں گے۔ سب دوست اسے بلند آواز سے دہراتے جائیں۔ اس پر حافظ صاحب دعا کا لفظ لفظ بلند آواز سے پڑھتے اور سارا مجمع اسے دہراتا۔ دعا یہ تھی آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَاحَامِدُوْنَ صَدَقَ اللہُ وَعْدَہٗ وَ نَصَرَعَبْدَہٗ وَ ھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔
حضور میاں محمد اسمعیل صاحب و میاں محمد عبداللہ صاحب جلد ساز ان کے مکان سے متصل راستے میں سے گزرتے ہوئے مہمان خانہ کے قریب پہنچے۔ جہاں حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ نے لنگر خانہ حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے خیر مقدم کیا۔ یہاں نواب محمد عبداللہ خان صاحبؓ کے فرزند میاں عباس احمد صاحب اونچے چبوترے پر بٹھائے گئے تھے۔ جن کی طرف سے حضرت میر محمد اسحق صاحب نے ایک نان حضور کی خدمت میں یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ ’’یہ تیرے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے‘‘۔ حضور نے نان لیا اور اپنے رفقاء میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد جلوس پھر بلند آواز سے حمد کا یہ ترانہ پڑھتا ہوا آگے بڑھا۔ مدرسہ احمدیہ کی طرف سے سکول کے دروازوں کے قریب خیر مقدم اور خوش آمدید کے رنگین اور سنہری قطعے آویزاں تھے۔
مسجد مبارک کی مشرقی جانب آہنی گیٹ والا چوک میں پہنچ کر حضورؓ نے سارے مجمع سمیت واپسی کی دعا پڑھی۔ اس وقت کا نظارہ نہایت ہی رقت آمیز اور موثر تھا خود حضور کی آواز میں رقت اور آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور حاضرین بھی فرط مسرت سے رو رہے تھے اور بعض کی چیخیں بھی نکل گئیں۔ اس رقت انگیز حالت میں حضور نے ڈبڈبائی آنکھوں اور دردناک لہجہ میں فرمایا۔
’’دیکھو رسول کریم ﷺکی یہ دعا کیسی لطیف ہے جس کا نظارہ ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ یہی جگہ یہی مقام اور یہی گھر ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو آپ اکیلے اور تنہا تھے۔ کوئی ساتھی اور مددگار نہ تھا۔ اس وقت چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ نعوذ باللہ یہ فریبی ہے یہ جھوٹا ہے۔ دغا باز ہے اور دشمن کہتے کہ ہم اسے کیڑے کی طرح مسل دیں گے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق آپ کی تائید اور نصرت کی اور آج اسی کمند میں جکڑے ہوئے ہم اس قدر لوگ یہاں جمع ہیں آپ ہی کے طفیل ہمیں خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں فتح دی۔ اسی کے ذریعہ اور اسی کے وعدوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ عزتیں دیں جو درحقیقت اس کے لئے آئیں اور خدا تعالیٰ نے ہمیں ان انعامات کا وارث بنایا جن کا وعدہ آپ سے کیا گیا اور اگر حقیقت اور سچائی کو مدنظر رکھا جائے تو سچ ہے کہ ساری بڑائیاں حضرت مسیح موعودؑ کے لئے ہیں۔ محمدﷺکے لئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے ہیں۔‘‘
یہ الفاظ فرمانے کے بعد حضور ؓاس دروازہ میں سے گزر کر جو مسجد مبارک کے نیچے نہایت خوبصورتی کے ساتھ بنایا اور بیل بوٹوں سے سجایا گیا تھا۔ مسقف گلی میں سے ہو کر سیڑھیوں سے مسجد مبارک میں تشریف لے گئے اور مسجد کے اس حصہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسجد تھی۔ حضور نے باجماعت دو رکعت نفل اپنے رفقاء سمیت ادا فرمائے۔ نماز کے بعد حضور مجمع کو السلام علیکم کہہ کر اپنے گھر دارالمسیح میں تشریف لے گئے۔
اس طرح حضورؓ کا یہ مبارک اور تاریخی سفر جو قریباً چار ماہ پہلے12 ؍جولائی 1924ء کو شروع ہوا تھا 24نومبر1924ء کو بخیر و خوبی ختم ہوا اور آپ یورپ کے لمبے اور طویل سفر سے کامیاب و کامران فتح مندی و کامرانی کا جھنڈا لہراتے ہوئے قادیان کی مقدس سرزمین میں رونق افروز ہوئے۔
…٭…٭…٭…