سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت پر متمکن ہوتے ہی سب سے زیادہ اسی نیک مقصد کی طرف توجہ دی اور جماعت میں تبلیغ واشاعت کی ایک نئی روح پھونک دی ۔ اشاعت اسلام کے لئے دعائیں ، جلسے ، مناظرے ، مباحثے ،تقاریر ، چیلنج، مقابلے اور دورے واسفار غرض آپؓکے عہد خلافت میں ہرطریق سے یہ مہم کامیابی کے ساتھ رواں دواں تھی ۔ خداتعالیٰ کی تائید ونصرت کے عجیب کرشمے اور جلوے قدم قدم پر نظر آرہے تھے ۔ اسی تسلسل میں خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل وتصرّف سے مشہور ویمبلے کانفرنس کے منتظمین کے دلوں میں ڈالا کہ وہ حضور کی خدمت میں درخواست کریں کہ حضور اس کانفرنس میں بنفسِ نفیس شامل ہو کر خطاب فرمائیں ۔یہ ایک خدائی تصرف و انتظام تھا کہ آپ تبلیغ اسلام کی مہم کو بین الاقوامی سطح پر پھیلا کر مامور وقت کے ساتھ نازل ہونے والی برکات وانوار کو وسیع سے وسیع تر کر سکیں ۔چنانچہ1924 کا سال سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں تبلیغی نقطہ نگاہ سے ایک نہایت ہی بابرکت اور انقلاب انگیز سال کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ، عنہ نے یورپ کا پہلا سفر فرمایا۔جس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ ایک نئے اور بابرکت دور میں داخل ہو گئی ۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے 14 مئی ؍ 1924ء کواس دورہ کا پس منظر ،اغراض و مقاصداور برکات بیان کرتے ہوئے، احباب جماعت کے نام اپنے مکتوب میں فرمایا:
’’آپ لوگوں کو شاید معلوم ہوگا کہ ولایت میں دو سال سے ایک تجارتی نمائش کی تیاریاں ہورہی تھیں جس میں انگریزی حکومت کے تمام علاقوں کی ہر قسم کی پیداوار اور صنعت کی چیزیں رکھی جائیں گی۔یہ نمائش اب کھل گئی ہے اور ایسے بڑے پیمانے پر ہے کہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ تجارت کی ترقی کو مد نظر رکھ کر اور ملکوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے دو کروڑ آدمی کے قریب اس کو دیکھنے آئے گا ۔غرض ان دنوں میں دنیا کے ہر گوشے کے تعلیم یافتہ آدمی انگلستان میں جمع ہوں گے اور گویا تمام دنیا چھوٹے پیمانے پر اس جگہ جمع ہو جائے گی ۔ چینی ،جاپانی ، امریکن ، روسی ، فرانسیسی ،جرمن ، ترک ، عرب ، مصری ، ایرانی ، افغانی ، ہندوستانی اور دوسری چھوٹی بڑی قوموں کے تعلیم یافتہ اور سمجھدار طبقہ کے لوگ وہاں جمع ہوں گے اور چھ ماہ تک ایسا ہی جمگھٹا وہاں رہے گا ۔
اس اجتماع سے فائدہ اٹھا کر انگلستان کے مذہبی مذاق کے لوگوں نے تجویز کی ہے کہ ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے شروع میں وہاں ایک مذہبی جلسہ کیا جائے ۔ جس میں ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی حقیقت کو کھول کر بیان کریں اور ساری دنیا کو ان کے اصل عقیدہ اور غرض کا علم ہو جائے ۔ اس انجمن نے اپنے جلسہ میں تقریر پڑھنے کی مجھے بھی دعوت دی ہے اور درخواست کی ہے کہ میں خود وہاں جا کر اپنے سلسلہ کے متعلق ان کو علم اور واقفیت بہم پہنچائوں ۔ ایسے عظیم الشان موقع سے تبلیغ کا فائدہ اٹھانا تو ہمارا فرض ہے کیوں کہ ایسا موقع کہ اس کثرت سے ساری دنیا کے ملکوں کے اعلیٰ طبقوں کے لوگ جمع ہوں اور گویا ساری دنیا ایک ہی وقت میں اکٹھی ہو جائے ،روز بروز نہیں ملتا اس نمائش کی نسبت خیال کیا جاتا ہے کہ سو سال تک ایسی بڑی نمائش پھر انگریزوں کے لئے کرنی مشکل ہوگی ۔اس وقت گویا انگلستان میں بیٹھ کر ہم ساری دنیا کو خد ا کا پیغام پہنچا سکتے ہیں اور کروڑوں آدمیوں کو سلسلہ کی حقیقت سے واقف کر سکتے ہیں اور دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہ سکتا جو اس ذریعہ سے سلسلہ سے واقف نہ ہو جائے ۔
(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 423،424)
حضورؓنے دورہ یورپ کے تعلق سے احباب جماعت سے مشورہ کیا اور استخارے بھی کروائے اور مشیت الٰہی کے تحت آپؓنے یہ بابرکت سفر اختیار فرمایا۔
(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 427)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی طرف مزید توجہ فرمائی توآپ پر یہ حقیقت بالکل منکشف ہو گئی کہ قرآن مجید میں ذوالقرنین ( مسیح موعود) یا اس کے نائب کے سفریورپ کی اور حدیث شریف میں سفر دمشق کی واضح پیشگوئیاں موجود ہیں ۔ ذوالقرنین کے سفر سے متعلق واقعہ پر مزید غور کرتے ہوئے حضور نے معلوم کیا کہ یہ سفر (بنیادی اغراض کے اعتبار سے) تبلیغ کے لئے نہیں بلکہ مغربی ممالک میں اسلامی انقلاب کی تبلیغی سکیم تیار کرنے کے لئے کیاجائےگا۔اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعودؑ کا یہ رویاء بھی آپ کے سامنے آیا کہ ’’ میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں ۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد3 صفحہ 427)
اس کے علاوہ خود حضور کو ایک عرصہ قبل رئویا میں سفر یورپ کا نظارہ دکھایا جا چکا تھا ۔ چنانچہ ایک رئویا میں آپ نے دیکھا ۔آپ لنڈن میں ہیں اور ایک جلسہ میں آپ شامل ہیں ۔ مسٹر لائڈ جارج ( سابق برطانوی وزیر اعظم ) اس جلسہ میں تقریر کر رہےہیں کہ یکدم ان کی حالت بدل گئی اور انہوں نے دہشت زدہ ہو کر کہا کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ ’’ مرزا محمود امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھا رہا ہے ۔‘‘
دوسری رئویا ء میں ( جو کانفرنس کی تحریک سے دو تین ماہ پہلے کی تھی ) آپ نے دیکھا کہ ’’ میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں جس طرح کہ کوئی شخص تازہ وارد ہوتا ہے اور میرا لباس جنگی ہے میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں … اس وقت میں یہ خیال کرتا ہوںکہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہے اور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبر جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ سےزیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہئے … اتنے میں ایک آواز آئی ولیم دی کنکرر (William the coqueror) یعنی ولیم ( اولوالعزم) فاتح۔
ان امور پر غورو فکر اور مسلسل دعائوں اور استخاروں کے بعد حضور نے ویمبلے کانفرنس کی دعوت کو ایک الٰہی تحریک سمجھا اور باوجود یہ کہ اتنے لمبے سفر پر جانے کے رستہ میں آپ کے لئے ذاتی طور پر بہت سے مشکلات حائل تھیں اور اس بوجھ کا اٹھانا آپ کے لئے بہت مشکل تھا ،حضور نے اپنے فرائض دینی کو مقدم رکھتے ہوئے پورے انشراح صدر سے سفر یورپ پر جانے کا فیصلہ فرما لیا ۔ اور روانگی کی تاریخ 12جولائی 1924ء معین فرمادی۔
حضور نے 24جون؍1924 ء کو اپنے فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے اعلان فرمایا کہ
’’ ہماری جماعت کا کام ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنا ہے اور چونکہ ساری دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لانا ہمارا فرض ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق ہم ایک مکمل نظام تجویز کریں … اس نظام کے مقرر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خلیفہ مغربی ممالک کی حالت کو وہا ں جا کر دیکھے … پس مغربی ممالک میں تبلیغ کے کام کو اگر ہم نے جاری رکھنا ہے اور اگر اس پر جو روپیہ خرچ ہوتا ہے اس کی خدا تعالیٰ کو جوابدہی سے عہدہ برآ ہونا ہے تو ضروری ہے کہ خود خلیفہ وقت ان علاقوں میں جا کر ان کی مشکلات کو دیکھے اور وہاں کے ہر طبقہ کے لوگوں سے مشورہ کر کے ایک سکیم تجویز کرے …پس ان ضروریات کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی کانفرنس کی تحریک کو ایک خدا کی تحریک سمجھ کر اس وقت باوجود مشکلات کے اس سفر کو اختیار رکروں ۔ مذہبی کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک کی تبلیغ کے لئے ایک مستقل سکیم تجویز کرنے اور وہاں کے تفصیلی حالات سے واقف ہونے کیلئے کیونکہ وہ ممالک ہی اسلام کےراستہ میں ایک دیوار ہیں جس دیوار کا توڑنا ہمارا مقدم فرض ہے ‘‘
( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 427،428)
اس دورہ کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی عظیم الشان برکات و ثمرات میں سے چند ایک کا مختصر بیان درج ذیل ہے ۔
1۔ویمبلے کانفرنس کےلئےمضمون
’’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ کی تصنیف
حضورؓ نے اس کانفرنس کیلئے ’’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھنا شروع فرمایا جو حضور کی شبانہ روز محنت و جدو جہد کے بعد محض روح القدس کی تائید سے مکمل ہوا۔ مگر مضمون چونکہ کافی لمبا ہو گیا تھا اس لئے حضور نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس مضمون کے مطالب کا خلاصہ کر کے ایک نیا مضمون لکھنا چاہئے ۔ چنانچہ 9؍ جولائی 1924ء کو یہ نیا مضمون جو ’’سلسلہ احمدیہ‘‘ (Ahmadiyya Movement) کے عنوان سے تھا پایہ تکمیل کو پہنچا اور پھر اسی کا خلاصہ حضور کے ارشاد پر حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے 23ستمبر 1924 کو حضور کی طرف سے اس کانفرنس میں پڑھا۔ حضورؓ بھی اپنے تمام رفقاء کے ساتھ اسی مجلس میں موجود تھے۔یہ مضمون انتہائی دلچسپی سے سنا گیا اور سارے مضمونوں سے زیادہ پسند کیا گیا ۔جیسا کہ ذکر کیا گیا اس کانفرنس میں تمام مذاہب کے وکلاء شریک تھے یعنی عیسائی ، یہودی ، بدھ ،ہندو، سکھ اور غیر احمدی مسلمان سبھی نے شرکت کی تھی مگر حضرت خلیفۃ المسیح کا مضمون سب سے نمایاں رہا ۔ اور یہ بات تو برملا تسلیم کی گئی کہ کانفرنس کی کامیابی میں سب سے بڑا دخل حضرت خلیفۃ المسیح اور آپ کی جماعت کا ہے۔
(تمہید رپورٹ کانفرنس مذاہب مطبوعہ لندن1925ء بحوالہ سلسلہ احمدیہ جلد صفحہ 369)
’’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘‘ گو چند دنوں میں تصنیف ہوئی مگر اس میں حضور نے خدا کے فضل سے احمدیت کے نقطہ نگاہ سے اسلام کی دلکش اور جامع تصویر رکھی اور مکمل نقشہ مغربی دنیا کے سامنے کھنچ دیا اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے متعلق اسلامی نظریہ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے پہلے یہ بتایا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس کے ذریعہ سے علیم خدا کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے اور یہی وہ مذہب ہے جس کے ذریعہ سے انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر سکتا ہے ۔پھر حضور نےاسلام کے نظام اخلاق،نظام تمدن اور نظام ملکی پر قلم اٹھانے کے بعد یہ عظیم الشان انکشاف فرمایا کہ قرآن مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے جبکہ لیگ آف نیشنز کا کوئی خیال بھی نہیں پایا جاتا تھا ، بین الاقوامی سطح پر ایک اسلامی جمعیۃ الاقوام کا خاکہ پیش کر رکھا ہے اور جب تک اس کے مطابق لیگ کی تشکیل نہیں ہو گی ،دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔حضور کی یہ پیشگوئی کس طرح آج تک حر ف بحر ف پوری ہو رہی ہے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔
(تاریخ احمدیت جلد نمبر 4 صفحہ 429،430)
اصل مفصل مضمون جو آپ نے قادیان میں تیار کیا تھا وہ بھی ’’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں چھپ چکا ہے اور یہ ایک ایسی نادر تصنیف ہے کہ جس کی قدر وقیمت کا اندازہ صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس میں احمدی نقطہ نگاہ سے اسلام کی ایسی دلکش اور نادر تصویر کھینچی گئی ہے کہ کوئی غیر مسلم اسے پڑھ کر اسلام کی خوبیوں کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔یقیناً یہ کتاب سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں ایک نہایت ممتاز درجہ رکھتی ہے اور تبلیغ اسلام اور تبلیغ احمدیت کےلئے از حد مفید ہے ۔
اس مضمون کے فوری اثر ات اور برکات کا ذکرکرتے ہوئےحضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’ حضور کے مضمون کے متعلق دلچسپی کا سلسلہ ایسا وسیع ہو گیا ہے اور خدا کے فضل نے لوگوں کے دلوں پر ایسا تصرف کیا ہے کہ میں اس کی رپورٹ مفصل کی مجمل بھی عرض نہیں کر سکتا ۔ جہاں حضرت اقدس جاتے ہیں لو گ گرد جمع ہو جاتے ہیں اور تعریف و توصیف کے پل باندھ دیتے ہیں حتّی کہ اب بکثرت لوگ ہمارا لٹریچر خرید کر دن رات مطالعہ کرنے لگے ہیں اور پھر حاضر ہوتے ہیں ۔ کل جب کہ حضرت اقدس حافظ صاحب کے لیکچر کے لئے ہال میں تشریف لے گئے لیکچر سے فارغ ہو کر ویلز کا ایک پروفیسر حضور کی خدمت میں نہایت ادب سے بڑھا ۔ مصافحہ کیا مگرحال یہ تھا کہ محبت اور رعب سے اس کے ہاتھ کانپتے تھے اور زبان سے لفظ نہ نکل سکتے تھے ۔ بڑی کوشش اور محنت سے اس نے ہوش سنبھال کر باتیں کیں اور بتایا کہ میں پرسوں آپ کی کتاب ’’احمدیت ‘‘ لے گیا تھا رات کو بھی اور دن میں بھی میں نے پڑھی ۔ میں اس کو نہایت ہی عجیب و لطیف مضامین کا مجموعہ اور مدلّل بیان پر مشتمل پایا۔ میں نے اس سے قبل اپنی عمر میںایسا لٹریچر کسی مذہب کے متعلق نہیں دیکھا وغیرہ ۔ دیر تک اخلاص و محبت سے باتیں کرتا رہا اور اپنے ایک ساتھی کو بھی حضرت کے حضور پیش کیا ۔ اس کو حالات سنائے اور گویا ہمارا ایک مبلغ بن کر اس کو تبلیغ کی اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ بھی سلسلہ کی کتابیں پڑھے گا …الغرض خدا تعالیٰ کے فضل نے ایسی صورتیں پیدا کر دی ہیں کہ حضور کا اس ملک میں آنا نہایت ہی مفید اور بابرکت ہو رہا ہے ۔خوف تھا اور سچا تھا کہ ابھی اس ملک میںہمارے سلسلہ کی کوئی عظمت اور خصوصیت قائم نہیں ہوئی حضور کا یہاں تشریف لانا شاید قبل از وقت ہو مگر خدا نے وہ کچھ دکھایا کہ ’’ کم ایسا دکھا سکتا کوئی خواب ‘‘مشہور اور بہت آگے نکلے ہوئے لوگ بھی خدا تعالیٰ نے پیچھے ڈال دئیے ہیں ۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء اور یہ وہی فضل ہے جو ہمارے آقا کے لئے ازل سے مقدر اور حضور کی ذات سے وابستہ و پیوستہ تھا۔
(دورہ یورپ صفحہ 296 ،297)
2۔ سلسلہ احمدیہ کی شہرت،
بین الاقوامی اشاعت و تبلیغ
اور مختلف اقوام کا برکت پانا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رئویاو کشوف اور خاص طور پر پیشگوئی مصلح موعود میں بین الاقوامی اشاعت و تبلیغ اور قوموں کے برکت پانے کا جو ذکر تھا وہ بھی اس عظیم الشان سفر کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔ افراد جماعت اور بعض غیر از جماعت لوگوں نے بھی یہ نظارے دیکھے کہ یہ سفر کئی لحاظ سے پرانی پیش خبریوں کو پورا کرنے والا اور بابرکت ہوگا ۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو بھی اس سفر کے نتیجہ میں فتح وظفر کے حصول کی بشارت ملی جسے بیان کرتے ہوئے حضور ارشاد فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے ہی بشارت دی تھی کہ میرے ولایت جانے سے اسلام کی فتوحات شروع ہونگی …میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جماعت یہ خیال نہ کرے کہ میرے وہاں جاتے ہی احمدی ہونا شروع ہو جائیں گے ، میں تو وہاں تبلیغ کے لئے حالات دیکھنے جاتا ہوں۔پھر بعد کے حالات سے معلوم ہوا کہ میرے وہاں جانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ وہ فتوحات جو میرے وہاں جانے کے نتیجہ میں اب شروع ہوئی ہیں وہ کسی اور شخص کی طرف منسوب نہ ہوں اور اسلام پر کسی خاص شخص کا احسان نہ ہو بلکہ براہ راست حضرت مسیح موعودؑ کی طرف منسوب ہوں ۔ پھر میں کہتا ہوں کہ جب نبی بھی کوئی ایسا نہیں گزرا جس نے ایک دن میں فتح حاصل کی ہو تو ایک خلیفہ کو کس طرح ایک دن میں فتوحات مل سکتی ہیں ، لیکن اب تو اللہ کے فضل سے سلسلہ ایسی ترقی کر رہا ہے کہ ایک انگریز لکھتا ہے کہ اس سلسلہ کی ترقی کی نظیر پچھلی صدیوں کے کسی سلسلہ میں نظر نہیں آتی ۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ 27؍ دسمبر 1926، الفضل 14 جنوری 1927،
بحوالہ سوانح فضل عمر جلد3 صفحہ 58)
پھر حضورؓ فرماتے ہیں :
’’ اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں اس سفر کو برکت دی اور سلسلہ احمدیہ کی شہرت دوام کا موجب بنایا اور اس کے ذریعہ سے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اس کا نام بلند کیا اور ہزاروں قلوب میں سلسلہ کی ہیبت اور عظمت کوقائم کیا وہ محتاج بیان نہیں سب احباب اس سے واقف ہیں ۔ یہ شہرت قادیان بیٹھے ہوئے دس پندرہ سال میں لاکھوں روپیہ خرچ کر کے نہیں ہو سکتی تھی مگر یہ جو کچھ تھا ایک بیج تھا ۔ تیرہ سو سال کی پیشگوئیاں صرف اسی قدر شہرت کا سامان پیدا کر کے ختم نہیں ہو سکتیں اس سفر کا نتیجہ موجودہ نتیجہ سے بہت زیادہ اہم انشاء اللہ نکلے گا ۔‘‘
(من انصار ی الی اللہ ، انوار العلوم
جلد 9 صفحہ 32۔33)
پھر ایک اور موقع پر اس دورہ کے نتیجہ میں سلسلہ احمدیہ کی شہرت ،تبلیغ و اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے حضور ؓ نے فرمایا:
’’ ہماری آمد کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایسے غیر معمولی سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ جماعت جس کو یہاں کوئی جانتا بھی نہ تھا سوائے معدودے چند واقف کاروں کے ، اس کو اب کتنی شہرت اور عظمت حاصل ہو گئی ہے کہ غیر لوگ بھی کہنے لگے ہیں کہ آجکل جہاں جائیں احمدیت ہی احمدیت کا ذکر ہوتا ہے ۔ جہاں دیکھو اور پڑھو گفتگو کا یہی ٹاپک اور مجالس میں اسی کا چرچا ہوتا ہے حتّی کہ لوگ اس کانفرنس کو بھی احمدیہ کانفرنس کہنے لگے ہیں ۔ مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کا واقعہ بھی اس شہرت کا بڑا ذریعہ ہواہے مگر ہمارا آنا اور مولوی نعمت اللہ خان کا شہید ہونا ان دونوں واقعات کو جمع کس نے کیا؟ان باتوں میں غور کرنے والے اور فکر کرنے والے خدائی مشیت اور الٰہی ارادہ کو سمجھ سکتے ہیں اور عرفان کا مقام ان کے قریب ہو سکتا ہے ۔ اگر ہم آئے ہوتے اور یہ واقعہ نہ ہوتا اور اگر ہم نہ آئے ہوتے اوریہ واقع ہو جاتا ، پس یہ بھی تو خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے ایسے سامان جمع کر دیئے ہیں جن سے ہمارے سلسلہ کی شہرت ہو گئی ۔ یہ تو سونے پر سہاگے والا کا م ہو گیا ۔ آخر اس سے پہلے بھی تو دو شہادتیں ہیں جو بعض حالات میں اس سے بہت زیادہ اہم تھیں مگر ان سے ہماری ترقی یا شہرت پر کیا اثر ہوا تھا؟الغرض ہمارے اس سفر کے اغراض میں سے ایک حصہ جو ظاہر کے ساتھ تعلق رکھتا تھا خدا کے فضل سے پورا ہو چکا ہے باقی پورا ہونے کی بھی ہمیں پوری امید اور پختہ یقین ہے اور کہ خدا کی پوشیدہ تقدیر ضرور اب ظاہر ہو کر رہے گی ۔‘‘
(دور ہ یورپ صفحہ 305تا307
خلاصہ در خلاصہ خطبہ جمعہ ،از عبدالرحمن قادیانی)
3۔ تیسری بڑی برکت اہل یورپ کی توجہ کا احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف پھر جانا
جہلم سے مولو ی برہان الدین صاحب کے ایڈریس کے جواب میں حضور ؓنے بمقام ممبئی دورۂ یورپ کی عظیم الشان برکات،ثمرات اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا؛
’’تعریف اور شکریہ کی مستحق درحقیقت ذات پاک باری تعالیٰ ہے کیونکہ ہر قسم کے فیوض و برکات اسی کی طرف سے آئے اور آتے ہیں اور وہی مبدأ انوار اور سرچشمۂ خیر وبرکت ہے۔پس اصل شکریہ تو اسی ذات کا کرنا چاہئے۔باقی جن ممالک میںہم گئے ہیں وہاںکے لوگ حاکم قوم ہونے کی وجہ سے ایک قسم کے تکبر اور غرور میں ہیں ۔انگلستان کے علاوہ دوسری قومیں بھی ہندوستانیوں کو ذلیل و حقیر سمجھتی ہیں ۔ ان حالات میں اپنی رعیت کے ایک فرد کی آواز پر توجہ کرنا واقعی حیران کن تھا مگر یہ جو کچھ ہوا محض خدا کے فضل کا نتیجہ تھا۔ دوسرے وہ اپنے علم سائنس اور تمدن کو اس قدر ترقی یافتہ اور بڑھا ہوا خیال کرتے ہیں کہ وہ تمام دنیا کو ہیچ سمجھتے ہیں ۔مذہب کے نام سے تو انہیں جو کچھ کہو وہ سن لیں گے مگر ان کے تمدن کے خلاف کوئی بات کہو تو ان کی آنکھیں چمک اٹھیں گی اور چہرے متغیر ہو جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ سینکڑوں سال کے تجربہ اور محنت و کوشش سے ہم نے ایسی باتیں نکالی ہیں ان کے خلاف بھی بھلا کوئی کچھ کہنے کا حق رکھتا سکتا ہے ؟ ایسے آدمی کو پاگل اور جاہل خیال کرنے لگ جاتے ہیں مگر اسلام چونکہ وسیع علوم پر مشتمل اور کامل قانون ہے اور اس کو ہر حصہ انسانی زندگی میں دخل دینا پڑتا ہے اس وجہ سے ہمیں ایسی باتیں بھی کہنی پڑتی ہیں جو ان لوگوں کے تمدن کے خلاف ہیں مگرا ن باتوں پر وہ چمک اٹھتے ہیں…غرض جو بات ان کے تمدن کے خلاف ہو اس کا سننا بھی برداشت نہیںکرسکتے مگر ہم نے خدا کے فضل سے ان باتوں کو پیش کیا اور ایسے رنگ میںپیش کیا کہ ان لوگوں نے گردنیں ڈال دیں اور اقرار کیا کہ اب ہم نے علمی رنگ میں سمجھ لیا ہے کہ جو آپ کہتے ہیں وہ ٹھیک ہے مگر ابھی ہم لوگ ملک کے رسوم کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ایک عورت لیکچر سن کر آئی کہ مجھے مومن بنائو مگر ہم نے انکار کیا اور کہا کہ ابھی کتابیں پڑھو اور زیادہ غور کر لو ۔ بعض نے اخبارات میں ذکر پڑھ کر ہی اسلام پر آمادگی کا اظہار کیا مگر ہماری طرف سے ایسے لوگوں کو یہی جو اب دیا جاتا رہا کہ ابھی تحقیق کرو ۔ ہم لوگ ایسے مومن چاہتے ہیں جو عملی مومن ہوں صرف نام جس کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں ہمارے کام کانہیں ۔ اکثر لوگ ہمارے گھر آتے تھے ۔ہماری مجالس میں آتے تھے۔ ان کو کون لاتا تھا صرف خدا لاتا تھا ۔ خدا نے ایک جذب پیدا کر دیا تھا…ان کے دلوں پر اثر ہوا اور اسلام کے شیدائی ہوگئے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک بند تھا جس کو خدا نے ہمارے وہاں جانے پر توڑا اور اٹھا دیا اور ایک ہوا چلادی کہ لوگ کھچےچلے آتے تھے ۔ پس یہ جو کچھ ہوا اللہ کے فضل سے ہوا کہ ہر طبقہ کے لوگ آئے ، ملے اور غور و فکر کرنے کی طرف مائل ہوئے ۔ ہمارے نوجوانوں کی بات عزت اور محبت سے سنی اور اس وقت انگلستان میں ہزاروں ایسے آدمی ہیں کہ اگرچہ ہر بات میں ہمارے خلاف ہیں مگر وہ ہماری باتیں سنتے ہیں اور سننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ یہ قوم بڑھنے والی ہے ۔ اس بات کا پیدا ہو جانا کوئی چھوٹی بات نہیں ۔درحقیقت یہی اصل اور پہلی سیڑھی ہے ترقی کی کہ خدا نے دنیا کی توجہ کو ہماری طرف پھیر دیا اور ان کے دل میں ڈال دیا کہ وہ سوچیں اور غور کریں۔ ایک کالج کے پریذیڈنٹ اور سکریٹری آئے انہوں نے سوال کیا کہ آپ کو اس سفر میں کونسی کامیابی ہوئی؟میںنے ان سے کہا کہ دیکھو توجہ کا پیدا کر دینا انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ خدائی فعل ہے کہ لوگ کسی امر کی طرف متوجہ ہوں اور ان کے دل اس طرف پھر جائیں کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی بات کو سنیں گے تو قبول کرنے کی بھی توفیق مل جائے گی ۔ ہماری تصاویر اور فوٹو دیکھ کر اخبارات میں مضامین پڑھنے کی وجہ سے اب لنڈن کا بچہ بچہ ہمیں جان گیا ہے اور سلسلہ کا ایسا انٹروڈیوس ہو گیا ہے کہ اب کوئی بارہ سالہ بچہ بھی ہمارا انگلستان میں تبلیغ کو چلا جائے تو لوگ اس کی سن لیں گے اور یہ نہ کہیں گے کہ یہ کوئی پاگل آدمی ہے کیونکہ وہ جان چکے ہیں یہ سلسلہ حق و حکمت اور شوکت و عظمت والا ہے اور اس لائق ہے کہ اس کی طرف دھیان دے کر سوچا اور فکر کیا جائے اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں جو خدا نے ہمارے واسطے پیدا کر دی ہے ۔ میری ان باتوں سے وہ دونوں بولے کہ ــ’’ واقعی یہ بینظیر کامیابی ہے ‘‘
غرض یہ خدائی فعل ہے اور اس کی پیشگوئیوں کے ماتحت ہوا ۔ دس آدمی ، بیس آدمی پچاس آدمی بلکہ سو آدمی بھی مان لیں تو وہ محدود ہی ہیں مگر ایک لاکھ یا کروڑ کی توجہ پیدا ہوجائے تو بات بہت بڑی کامیابی کی ہے اور ترقی کی علامت ہے ۔صرف نام کے مومن پچاس کیا پچاس کروڑبھی پیدا ہوں تو کس کام کے ہیں ؟ اب اللہ تعالیٰ نے ہمارے واسطے میدان پیدا کر دیا ہے ۔ ہمار ا یہ سفر بھی جہلم کے سفر کی طرح خدا کی رحمت اور فضل کے ذریعہ سے ہوا اور کامیابی بھی فضلوں سے ہوئی ہے ۔ جس طرح حضرت مسیح موعود ؑ کے سفر جہلم میں خدا نے خاص مصلحت سے سفر کے سامان کئے اور کامیابیاں عطا فرمائیں بعینہ اسی طرح اس سفر کے سامان ہوئے اور نتیجہ میں خدا نے ایک رَ و پیدا کر دی ہے ۔
( دورہ یورپ صفحہ 489تا491)
4۔ الٰہی پیش خبریوں کا پورا ہونا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات و کشوف مثلاً ’’مَیں تجھے زمین کے کناروں تک عزّت کے ساتھ شہرت دوں گا‘‘یَدْعُوْنَ لَکَ اَبْدَالُ الشَّامِ وَ عِبَادُ اللّٰہ مِنَ العَرَبِاور لندن شہر میں سفید رنگ کے پرندے پکڑنا، وغیرہ خود منزل کا راستہ متعین کیے ہوئے تھے بس ان پر سفر شروع کرنے کی دیر تھی چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آغاز خلافت میں ان منزلوں کی طرف سفر شروع کر دیا۔
5۔ پانچویں برکت
مقبول دعائوں کی توفیق ملنا
حضورؓاس سفریورپ سے قبل اس دورہ کی کامیابی ،برکات اور نیک ثمرات کے لئے دعائیں فرماتے اور احباب جماعت کو بھی بار بار اس کی تحریک فرماتےنیز آپ نے اس سفر کے لئے خود بھی اوربعض احباب جماعت سے استخارے بھی کروائے ۔اسی طرح دوران سفر بھی لمحہ بہ لمحہ اور قدم بقدم آپ نے اپنے رفقاء سفر اور احباب جماعت کے ساتھ حدیث نبوی ﷺکہ تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں؛ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بچے کے لئے کی جانے والی دعا“کے مطابق مقبول دعائوں کی توفیق پائی ۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف اس دورہ میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی اور توقعات سے بڑھ کر کامیابیاں عطا فرمائیں بلکہ آئندہ کے لئے بھی وہ مقبول دعائیں سلسلہ کی عظیم الشان ترقیات کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں ۔
چنانچہ حضوررضی اللہ عنہ احباب جماعت کو دعائوں کی تحریک کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا:
’’میں نے جو انتظام کیا ہے،نہایت دیانتداری سے کیا ہے اور آپ لوگوں سے امید ہے کہ آپ اس کو کامیاب بنانے میں ہر طرح مدد دیں گے اور دعائوں سے ہماری مدد کریں گے کہ خدا تعالیٰ ہر قسم کے شرور سے محفوظ رکھ کے اس سفر کو کامیاب بنائے ،جس کام کے لئے ہم جا رہے ہیں وہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ عظیم الشان کام ہے اور جب خدا تعالیٰ کی نصرت نہ ہو ، کامیابی نہیں ہو سکتی …تو جو کام تجویز کیا گیا ہے وہ ایسا ہے کہ اس کے نتائج فوری نہیں نکل سکتے مگر وہ ہے اتنا ضروری کہ اس کے بغیر نتائج نکل بھی نہیں سکتے ۔ پس جب تک دعائیں نہ کی جائیں ، ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے میں دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس عرصہ میں خصوصیت سے دعائوں میں لگے رہیں کہ خداتعالیٰ ہمیں یورپ کو اسلام میںلانے کی توفیق دے اور اسلام بھی وہ جو محمد ﷺ لائے ، اس وقت دنیا یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ اسلام اب پھیل سکتا ہے…پس دعائوں کی سخت ضرورت ہے ۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 1924 ء بمقام لنڈن،الفضل 6 نومبر 1924ء)
قادیان سے روانگی کے دن مزار مبارک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مڑے در دو الحاج کے ساتھ دعا کی ۔ بوقت روانگی احباب جماعت کے ساتھ لمبی اور رقت انگیز اجتماعئی دعا ہوئی۔ جہاز جب مکہ اور جدہ شریف کے سامنے سے گذرنے والا تھا حضور نے دو رکعت نماز باجماعت پڑھائی جس میں بہت رقت انگیز دعائیں کیں۔ پھر دمشق میں آپ نے دعا کی کہ اللہ دمشق کی پیشگوئی کیسے پوری ہوگی تو اللہ نے دمشق کی پیشگوئی پوری کر دی اور بہت کامیابی عطا کی پھر وکٹوریہ اسٹیشن پر قافلہ سمیت دعا کی۔
لنڈن سے واپسی پر بھی دوران سفر حضور کی اور احباب جماعت کی دعائیں جاری رہیں حتی کہ بمبئی پہنچ کر حضور نے جماعت احمدیہ کے نام اپنے برقی پیغام میں ان دعائوں کی قبولیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا؛
’’ میں اپنی طرف سے اور اپنے رفقاء سفر کی طرف سے تمام احباب جماعت کا دلی شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے ہمارے مشن کی کامیابی کے لئے دعائیں کیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ حیرت انگیز کامیابی جو ہمیں اس سفر کے دوران میں حاصل ہوئی محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی وجہ سے تھی ۔اس نے ہر قدم پر ہماری نصر ت فرمائی اور ہمارے لئے ایسے اوقات میں دروازے کھولے جب کہ ہمیں کوئی رستہ نظر نہیں آتا تھا ۔ میں تمام احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے آقا ومولی کے اس خاص فضل کو یاد رکھیں اور اپنے آپ کو ان بڑی قربانیوں کے لئے تیار کریں جو ان اثمار کے حاصل کرنے کے لئے کرنی پڑیں گیں جو گزشتہ چار ماہ کے کام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والے ہیں…اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنی برکات نازل فرمائے ۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 462)
قادیان میں ورود پر حضورمزار مسیح موعودؑ پر اکیلے دعا کے لئے تشریف لے گئے تھوڑی دیر کے بعد حضور نے اپنے رفقاء سفر بھی پاس بلائے پھر سب نے مل کر دعا کی…مقبرہ بہشتی سے قصبہ میں داخل ہونے لگے تو حضور نے فرمایا۔ حافظ روشن علی صاحب داخلہ شہر کی دعا پڑھیں گے ۔ سب دوست اسے بلند آواز سے دھراتے جائیں گے ۔اس پر حافظ صاحب دعا کا لفظ لفظ بلند آواز سے پڑھتے اور سارا مجمع اسے دھراتا ۔ دعایہ تھی ۔آئَبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللہُ وَعْدَہٗ وَ نَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ ۔
احمدیہ چوک میں پہنچ کر حضور نے سارے مجمع سمیت واپسی کی دعا پڑھی اس وقت کا نظارہ نہایت ہی رقت امیز اور مؤثر تھا خود حضور کی آواز میں رقت اور آنکھوں میں آنسوبھرے ہوئے تھے اور حاضرین بھی فرط مسرت سے رو رہے تھے اور بعض کی چیخیں بھی نکل گئیں ۔ اس رقت انگیز حالت میں حضور نے ڈبڈبائی آنکھوں اور درد ناک لہجہ میں فرمایا:
’’دیکھو رسول کریم ﷺ کی یہ دعا کیسی لطیف ہے جس کا نظارہ ہم آج دیکھ رہے ہیں ۔ یہی جگہ ،یہی مقام اور یہی گھر ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام نے جب دعویٰ کیا تو آپ اکیلے اور تنہا تھے ۔ کوئی ساتھی اور مددگار نہ تھا ۔اس وقت چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ نعوذ باللہ یہ فریبی ہے یہ جھوٹا ہے ،دغا باز ہے اور دشمن کہتے کہ ہم اسے کیڑے کی طرح مسل دیں گے ۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق آپ کی تائید اور نصرت کی اور آج اسی کمند میں جکڑے ہوئے ہم اس قدر لوگ یہاں جمع ہیں ۔آپ ہی کے طفیل ہمیں خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں فتح دی ۔ اسی کے ذریعہ اسی کےوعدوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ عزتیں دیں جو درحقیقت اس کے لئے آئیں اور خدا تعالیٰ نے ہمیں ان انعامات کا وارث بنایا جن کا وعدہ آپ سے کیا گیا اور اگر حقیقت اور سچائی کو مدنظر رکھا جائے تو سچ ہے کہ ساری بڑائیاں حضرت مسیح موعود ؑ کے لئے ہیں ۔ محمد ﷺ کے لئے ہیں او رخدا تعالیٰ کے لئے ہیں ۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد4 صفحہ 465،466)
6۔تثلیث کے گڑھ میں خدائے واحد ویگانہ کی عبادت کے لئے خانہ خدا ’’ مسجد فضل‘‘ کی بنیاد
مسجد کے افتتاح اور جماعت کو اس مہتم بالشان واقعہ سے کماحقہ فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں :
’’ اس تقریب اور اس شاندار افتتاح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک تہلکہ اور زلزلہ بھرپا کر دیا ہے اور ایک شور پیدا کر دیا ہے اور اس کی طرف تمام دنیا کی نگاہیں اٹھا دیں ہیں ۔اسے پہلے ایسی شاندار تقریب کبھی انگلستان کی تاریخ میں نظر نہیں آتی ۔ چنانچہ یورپ کے بڑے بڑے اخباروں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انگلستان میں اس قسم کا عظیم الشان نظارہ عیسائی مذہب کی تقریب پر بھی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ یہ ان لوگوں کی آواز ہے جو انگلستان کے عیسائی ہیں ایک تو وہ لوگ انگلستان کے رہنے والے پھر عیسائی اور عیسائی بھی پختہ اور اس کے ساتھ متعصّب اور قومی تعصّب میں بھی تمام دنیا کے عیسائیوں سے بڑھے ہوئے ہیں اور اس تعصّب کے باعث کبھی کوئی عجیب بات کسی اور قوم کی طرف منسوب ہونا پسند نہیں کرتے ۔ باوجود ان تمام باتوں کے پھر ولایت کے بڑے بڑے اخبار والوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کبھی کوئی ایسا شاندار اجتماع اور اس قدر دلچسپی رکھنے والی تقریب اس سے پہلے انگلستان میں نظر نہیں آئی…پھر صرف انگلستان میں ہی اس افتتاح کا چرچا نہیں بلکہ تمام ملکوں اور تمام زبانوں میں اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے…بعض اخباروں میں تین تین دن تک افتتاح کی خبروں کا تانتالگا رہا ۔یورپ کے اخباروں کی طاقت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ ایک ایک خبر کے شائع کرنے میں سبقت کرنے کے لئے ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور پھر ایک دفعہ شائع ہونے کے بعد دوسری دفعہ وہ کبھی شائع نہیں کرتے…لیکن افتتاح مسجد کے متعلق ولایت کے ایک ایک اخبار مثلاً ٹائمز جیسے اخبار نے بھی تین دن متواتر خبریں درج کیں اور یہ نہیں خیال کیا کہ اب یہ خبر پرانی ہو گئی ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انگلستان کے ہر گھر میں مسجد کے متعلق ایک شور پڑا ہوا ہے اور چرچا ہو رہا ہے ۔‘‘
(سوانح فضل عمر جلد 3صفحہ 90،91)
حضرت مولانا شیر علی صاحب اس مسجد کی افادیت اور برکات پر لکھتے ہیں :
’’خدا تعالیٰ کے فضل سے مسجد فضل لندن کا وجود بھی تبلیغ کا ایک زبردست ذریعہ ثابت ہورہا ہے ۔ جو لوگ بیرونی ممالک مثلاً ممالک یورپ ،افریقہ ، ایشیاء ،امریکہ اور جزائر سے سیر کے لئے لندن آتے ہیں کئی ان میں سے مسجد کے دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں اور بعض ان میں سے نہایت تعلیم یافتہ اور سمجھدار آدمی ہوتے ہیں اور بیرونی ممالک کے علاوہ خود انگلستان کے مختلف شہروں کے آدمی جب لندن آتے ہیں تو بعض ان میں سے مسجد کو دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں۔ گویا ہماری مسجد اب لندن کے قابل دید مقامات میں سے ہو چکی ہے اور لندن کی جو گائیڈ بکس سیاحوں کی راہنمائی کے لئے بنی ہوئی ہیں ان میں ہماری مسجد کا بھی ذکر ہے ۔مسجد کی شہرت کا ایک باعث وہ جلسے ہیں جو وقتاً فوقتاًمسجد میں نہایت کامیابی کے ساتھ کئے جاتے ہیں جن میں لندن کے ہر طبقہ کے نامی آدمی شریک ہوتے ہیں اور جن کا ذکر لندن کے مختلف اخبارات میں شائع ہوتا ہے… مسجد لند ن نہ صرف لوگوں کے لئے ایک زبردست کشش کا ذریعہ ہے بلکہ اس کا وجود خود ایک تبلیغ مجسم ہے جس اسلامی تعلیم کو ہمارے مبلغ الفاظ کے ذریعہ لوگوں کے آگے پیش کرتے ہیں ، مسجد تصویری زبان میں اس کا ایک نمونہ ہے ۔پس تبلیغ کے مقصد میں مسجد لندن بڑی ممد و معاون ہے ۔ وہ خود ایک مستقل مبلغ ہے اور اس کا وجود نہایت مبارک ہے ۔‘‘ (الفضل 28؍ اگست 1937ء بحوالہ سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 92تا95)
اس مرکز توحید کے ذریعہ تبلیغ و اشاعت ِ اسلام اور مسلمانوں کی تربیت کے وہ ناقابل فراموش عظیم کام سرانجام پائے جو ہمیشہ تاریخ اسلام احمدیت میں یادرکھے جائیں گے ۔ اکابرین امت نے اس مرکز کی غیر معمولی اسلامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے وہاں قیام اور خدمت اسلام اور ترقی احمدیت کے جو نئے افق سامنے آئے اور پھر خلافت خامسہ کے بابرکت دور میں اس مرکز توحید کے ذریعہ شش جہات عالم میں جو توحید کی صدائیں بلند ہوئیں اور ہو رہی ہیں وہ ایک مستقل اور الگ تفصیل کی متقاضی ہیں ۔یہ سب کچھ اسی سعی کا نتیجہ ہے کہ جو سن1924ء میں اس مسجد کی بنیاد رکھتے ہوئے خدا کے ایک مقرب بندے حضرت المصلح الموعود ؓ نے خاص قبولیت کی گھڑی میں فرمایا تھاکہ :
’’خد اسے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمام جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور اس مسجد کی آبادی کے سامان پیدا کرے اور ہمیشہ کے لئے اس مسجد کو نیکی،تقویٰ ، انصاف اور محبت کے خیالات پھیلانے کا مرکز بنائے اور یہ جگہ حضرت محمدخاتم النبیّن ﷺ اور حضرت مسیح موعود نبی اللہ و نائب محمد علیہماالصلوۃ والسلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک میں اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لئے روحانی سورج کا کام دے ۔‘‘
(دورہ ٔ یورپ صفحہ 391،392)
7۔اہم شخصیات سے ملاقات اور ان کو دعوت اسلام
بلاد شام کے گورنر سے ملاقات
حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانیؓ اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں :’’مسجد امویہ سے حضور ؓ واپس مکان پر تشریف لائے اور موٹر کے ذریعہ پھر… شام کے گورنر کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے…ان کا نام صبحیٰ بیگ ہے عرب نسل کے مسلمان ہیں اور بڑے سمجھدار اور زکی آدمی ہیں سلسلہ کا بھی ذکر ان سے حضرت اقدس نے کیا ،ان سے یہ بھی ذکر کیا کہ ہم لوگ یہاں مبشرین بھیجنا چاہتےہیں آپ کو ان کے متعلق کوئی اعتراض تو نہیں یا قانوناً کوئی روک تو نہیں ؟ اور اگر کوئی روک نہیں تو کیا آپ ہماری کچھ مدد کر سکیں گے صرف اخلاقی مدد…گورنر نے حضرت سے عرض کیا کہ آپ بے شک مبلغین اور مبشرین اسلام یہاں بھیجیں ہم ان کی حتیّ المقدور مدد کریں گے اور اگر لوگ ان پر بھی حملہ کریں گے تو ہم ان کی حفاظت اور مدد کریں گے البتہ اگر لوگوں کا زور اور غلبہ و فتنہ اتنا بڑھ جائے کہ ہماری طاقت سے اس کا دبنا اور رکنا ممکن نہ ہوتو پھر ہم آپ سے کہہ دیں گے کہ آپ اپنا انتظام آپ کر لیں ورنہ ہم ہر طرح سے مدد کے لئے حاضر ہیں وغیرہ وغیرہ …الغرض گورنر بہادر سے ملاقات اللہ کے فضل ے بہت کامیاب ملاقات ہو گئی ،تبلیغ بھی ہو گئی اور آئندہ کے لئے راستہ بھی کھل گیا…چھوٹے گورنر صاحب نے حضرت صاحب سے خود ہی لٹریچر مانگا تھا مگر چونکہ لٹریچر ساتھ نہ تھا اور مصر کا بھی ابھی طبع نہ ہواتھا صرف اسلامی اصول کی فلاسفی عربی ساتھ ہے وہ ایک کتاب اس کو بھیج دی گئی مگر اس نے تحفہ شاہزادہ ویلز کا حال سن کر بہت اشتیاق ظاہر کیا کیونکہ اس نے حضرت اقدس سے حالات تصنیف تحفہ شاہزادہ ویلز سنے تھے جس کی وجہ سے اس کو اسکے مطالعہ کا بہت شوق پیدا ہوا تھا مگر جب سیدنا حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ تو انگریزی میں ہے تو بہت افسوس کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ نہیں وہ ضرور بھیج دیں میں اپنی لڑکی کو دوں گا وہ انگریزی جانتی ہے۔چنانچہ تحفہ شاہزادہ ویلز بھی دے دیا گیا ۔’’ بیک کرشمہ دو کار‘‘ والی بات ہے ۔ لڑکی کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک موقع دیا ہے…چھوٹے گورنر کا نام حقی بے یا حقی بیگ ہے ۔ اس نے مبشرین بھیجنے اور تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری کرنے کی خوشی سے اجازت دی اور مدد کا وعدہ بھی کیا تھا…اس کے سوا حضور یہاں کے اعلیٰ فرنچ آفیسر سے بھی ملے تھے اور وہ ملاقات بھی اللہ کے فضل سے بہت ہی کامیاب ملاقات تھی …الغرض سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح و المہدی کی تشریف آوری ان علاقہ جات میں نہایت ہی کامیاب ہوئی اور سلسلہ تبلیغ کے واسطے ایک بہت ہی آسان راہ کھل گئی ہے ۔ سلسلہ کا تعارف ہو گیا اور اہمیت اور عظمت قائم ہو گئی ہے اگر ایک ہزار مبلغ بھی آتا تو یہ بات پیدا ہونی مشکل تھی جو حضور کی تشریف آوری سے پیدا ہو گئی ہے ۔گو اصل غرضِ سفر اس سے بہت بلند و بالا ہے مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ یہ بھی بڑے اصل ہی کی فرع و شاخ ہے ۔(دورہ یورپ صفحہ 74تا 76)
دمشق میں ہی ایک اور مشہور شخصیت سےحضور کی ملاقات اور اس کے نتیجہ میں برکات الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے بھائی عبدالرحمن قادیانی فرماتے ہیں
’’ایک صاحب نے جو دمشق کے ادیب شہیر تھے حضور سے کہا ایک جماعت کے معزز امام ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کا اکرام کرتے ہیں ۔ مگر آپ یہ امیدنہ رکھیں کہ ان علاقوں میں کوئی شخص آپ کے خیالات سے متاثر ہو گا کیونکہ ہم لوگ عرب نسل کے ہیں اور عربی ہماری مادری زبان ہے اور کوئی ہندی خواہ وہ کیسا ہی عالم ہو ہم سے زیادہ قرآن وحدیث کے معنی سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔ آپ نے یہ گفتگو سن کر اس کے خیال کی تردید فرمائی اور ساتھ ہی تبسم کرتے ہوئے فرمایاکہ مبلغ تو ہم نے ساری دنیا میں بھیجنے ہیں مگر اب ہندوستان واپس جانے پر میرا پہلا کام یہ ہو گا کہ آپ کے ملک میں مبلغ روانہ کروں اور دیکھوں کہ خدائی جھنڈے کے علمبرداروں کے سامنے آپ کا کیا دم خم ہے۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا کہ ولایت سے واپسی پر دمشق میں دارالتبلغ قائم کرنے کے لئے سید ولی اللہ شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس کو بھجوادیا ۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد4 صفحہ 443،444)
حضور نے اٹلی کے وزیر اعظم مسولینی سے بھی ملاقات کی اور اسے سلسلہ احمدیہ کے اغراض و مقاصد بتائے ۔ مسولینی نہایت اکرام سے پیش آیا ۔
پوپ سے ملاقات کے متعلق حضورؓ فرماتے ہیں:
’’ 1924 ء میں جب میں یورپ گیا توروم میں بھی ٹھہرا وہاں میں نے پوپ کو لکھا کہ تم عیسائیت کے پہلوان ہو اور میں اسلام کا پہلوان ہوں ۔مجھے ملاقات کا موقع دو تا کہ بالمشافہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق میں بات کر سکوں اس کے جواب میں پوپ کے سیکریٹری کی طرف سے مجھے چٹھی آئی کہ پوپ صاحب کی طبیعت خراب ہے ۔ اس لئے وہ مل نہیں سکتے انہی دنوں اٹلی کے ایک اخبار کا ایڈیٹر جو سوشلسٹ تھا مجھے ملنے آیا وہ ایسا اخبار تھا جس کے دن میں بارہ ایڈیشن نکلتے تھے …اس نے مجھے کہا کہ آپ یہاں پہلی دفعہ آئے ہیں ۔یہ بڑا اچھا موقع ہے ،آپ پوپ سے ملاقات کی کوشش کریں ہمیں مسلمانوں کے لیڈر کے خیالات سننے کا موقع مل جائے گا اور بالمقابل عیسائیوں کے لیڈر کے خیالات سننے کا بھی موقع مل جائے گا۔ میں نے کہا میں نے تو خود اس سے ملاقات کی کوشش کی تھی مگرا سکے سیکریٹری کی طرف سے جواب آگیاہے کہ پوپ صاحب کی طبیعت اچھی نہیں ۔ کہنے لگا آپ ایک دفعہ پھر انہیں میری خاطر لکھیں ، میں نے کہا اس کے معنے تو یہ ہیں کہ تم مجھے بے عزت کروانا چاہتے ہو کیونکہ اس نے ملاقات کا موقعہ نہیں دینا ۔ کہنے لگا ہماری نظروں میں تو اس سے آپ کی عزت بڑھے گی کم نہیں ہو گی … میں نے اس کے کہنے پر پھر خط لکھ دیا اس کے جواب میں اس کے چیف سیکریٹری کی مجھے چٹھی آئی کہ پوپ کا محل آجکل زیر مرمت ہے اس لئے افسوس ہے کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے ۔دو چار دن کے بعد پھر وہی ایڈیٹر ملنے کے لئے آیاتو اس نے پوچھا کہ کیا پوپ کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے میں نے کہا ہاں۔اس نے یہ جواب دیا ہے تم پڑھ لو ۔اس چٹھی کو پڑھ کر اس کو بڑا غصہ آیا اور کہنے لگا کہ اب میں اپنے اخبار میں اس کی خبر لوں گا …چنانچہ دوسرے دن اخبار چھپاتو اس میں اس نے ایک بڑا مضمون لکھا کہ یہاں آجکل مسلمانوں کا ایک بہت بڑا لیڈر آیا ہوا ہے اس نے پوپ کو خط لکھا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں مجھے ملاقات کا موقع دیا جائے تا کہ اسلام اورعیسائیت کے متعلق باہم گفتگو ہو جائے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ موقع بڑا اچھا تھا اور اگر ملاقات ہو جاتی تو پتہ لگ جاتا کہ ہمارے لیڈر اپنے مذہب سے کتنے واقف ہیں اور مسلمانوں کے لیڈر اپنے مذہب سے کتنی واقفیت رکھتے ہیں ۔ مگر پوپ کے چیف سیکریٹری نے اس کا یہ جواب دیا کہ پوپ کا محل آجکل زیرمرمت ہے اس لئے وہ ملاقات نہیں کر سکتے ۔ اس کے بعد اس نے طنزاً لکھا کہ ہم یقین کرتےہیں کہ اب پوپ کا محل قیامت تک زیر مرمت ہی رہے گا ۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ 23 ؍ اگست 1957ء مطبوعہ الفضل 7 ؍ ستمبر 1957ء ،بحوالہ سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 71،72)
8۔ اسلام احمدیت کی
وسیع پیمانے پر تشہیر
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام کہ
’’ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا‘‘دورۂ یورپ کے دوران اس بابرکت وحی الٰہی کے پورا ہونے کے نظارے اللہ تعالیٰ نے اخبارات اور میڈیا کے ذریعہ بھی دکھائے۔چنانچہ دمشق میں اخبارات کے ذریعہ تبلیغ واشاعت اسلام احمدیت کا تاریخ احمدیت میں کچھ یو ں ذکر ہے :
’’ دمشق میں توقع سے بہت بڑھ چڑھ کر کامیابی ہوئی…اخبارات نے لمبے لمبے تعریفی مضامین شائع کئے ۔ دمشق کے تعلیم یافتہ طبقے نے نہایت دلچسپی لی ۔ تمام وہ اخبارات جن میں ہمارے مشن کے متعلق خبریں اور مضامین نکلتے تھے کثرت سے فوراً فروخت ہو جاتے تھے ۔‘‘
( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 443)
برطانوی پریس میں چرچا :
’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جس دن سفر یورپ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ برطانوی پریس میں آپ کی آمد کی خبریں شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں ۔ مگر لندن میں ورود کے بعد تو مصور اور غیر مصور اخبارات نے اتنی کثرت سے آپ کے فوٹو اور حالات وغیر ہ شائع کئے کہ ایک متعصب رومن کیتھولک اخبار کو لکھنا پڑا کہ تمام برطانوی پریس سازش کا شکار ہو گیا ہے ۔ اور کئی لوگوں نے برملا اظہار کیا کہ پریس نے اتنی ا ہمیت اور شہرت لنڈن میں آنے والے کسی بڑے سے بڑے لارڈ کو بھی نہیں دی جتنی آپ کی تشریف آوری پر۔ پریس کے علاوہ فلموں میں آپ کے اور آپ کے رفقاء کے مناظر دکھائے گئے اس طرح خدا نے انگلستان کے ایک سرے سے دوسرے سرےتک آپ کی شہرت کا خود ہی سامان کرفرما دیا۔‘‘
( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 446)
حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی لکھتے ہیں :
’’واپسی پر فرانس میں جب کشتی سے اترے تو حضور کے پیچھے پیچھے ایک اور کشتی گھاٹ پر پہنچی جس میں سے دو عورتیں اور چار مرد اترے انہوں نے باتوں ہی باتوں میں بتایا کہ ’’ہم نے آپ لوگوں کو سوئٹزرلینڈ میں دیکھا ہے ۔‘‘ہم نے حیرت سے پوچھا کہ کہاں؟ ہم لوگ تو سیدھے ریل سے آرہے ہیں اُترے نہیں۔تب انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک سینما تھا جس میں برائٹن کا کوئی نظارہ دکھایا جاتا تھا اس میں آپ لوگوں کو دیکھا تھا ۔ سبحان اللہ نہ معلوم یہ فلمیں دنیا کے کن کن حصوں میں جائیں گی اور اس طرح سیدنا حضرت احمد علیہ السلام کا نام آپ کے فرزند اور آپ کے غلاموں کے ذریعہ مشہور کر کے ثابت کریں گی کہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا۔‘‘ حقیقتاًخدائے برتر کا قول تھا صدق اللہ وھواصدق الصادقین۔‘‘
(دورہ یورپ صفحہ 423،424)
اسی طرح ایک اور دن کی ڈائری میں آپ ذکر کرتے ہیں کہ :
’’الحمد للہ کہ آج دس مختلف قسم کے اخبارات انگریزی ،میں نے پیکٹ بنا دئیے ہیں جن میں کسی نہ کسی رنگ میں سلسلہ اور حضرت اقدس کا ذکر ہے ۔ ان کو پڑھنے اور ان کو شائع کرنے کے لئے بہت سے وقت اور بہت بڑی کتاب کی ضرورت ہو گی ۔ یہ خدائی تائیدات حضرت اقدس کی ذات سے وابستہ اور آپ کی تشریف آوری پر منحصر تھیں ورنہ یہ اعلان اور ایسے اشتہار و اعلان لاکھوں کے خرچ سے بھی ممکن نہ تھے۔‘‘(دورہ یورپ صفحہ 204)
اسی طرح ایک اور موقع پر آپ نے لکھا؛
’’اخبارات بھی لکھ رہے ہیں اور بہت تعریفی کلمات استعمال کرتے ہیں۔ان متعصب عیسائی اخبارات کے قلم سے اسلام کی تعریف میں کوئی ایک کلمہ بھی نکل جانا بہت بڑی بات ہے جس کے معنے ہیں کہ انہوں نے اپنے خیال اور اپنے مذہب کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی تعریف یقیناً صداقت باہرہ سے مجبور ہو کر اور اس کے آگے گردن ڈال کر ہی لکھی ہے ورنہ کون اپنے مذہب کے مقابل میں کسی دوسرے کی تعریف و بڑائی بیان کر سکتا ہے ۔ وَالْفَضْلُ مَا شَھِدَتْ بِہِ الْاَعْدَآءُ ۔‘‘
اس طرح حضور کا یہ مبارک اور تاریخی سفر جو 12؍ جولائی 1924ء کو شروع ہواتھا 24؍نومبر 1924 ء کو بخیروخوبی ختم ہوا اور آپؓ یورپ کے لمبے اور طویل سفر سے کامیاب و کامران فتح مندی وکامرانی کا جھنڈا لہراتے ہوئے قادیان کی مقدس سر زمین میں رونق افروز ہوئے ۔
آج جبکہ اس مبارک دورہ پر پورے سو سال مکمل ہو گئے ہیں ،یورپ میں لاکھوں کی تعداد میںاحمدیت کے پروانوں کا موجود ہونا ،سینکڑوں فعال اورمضبوط جماعتوں کا قیام ، مساجد اور مشن ہاوسزاور جامعات کا قیام،ہزاروں مبلغین و مربیان کے ذریعہ دن رات تبلیغ اسلام و احمدیت ، کروڑوں کی تعداد میں اشاعت لٹریچر، ایم ٹی اے کا قیام اور پھر اس کے ذریعہ چوبیسیوں گھنٹے صدائے توحید کا بلند ہونااور پھر سب سے بڑھ کر مرکز تثلیث میں احمدیت کےمرکز کا قیام اور پھر اسی مرکز سےحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جماعت احمدیہ عالمگیر کی انقلاب انگیز قیادت فرمانا،یورپ کے عظیم الشان ایوانوں میں خلافت احمدیہ کے ذریعہ صدائے امن و محبت کا بلند ہونا، یورپ کے حکمرانوں کے سامنے اسلام کی حسین تعلیم کو پیش کیا جانا ،اوران کو امن و آشتی کی طرف بلانا بھی کہیں نہ کہیں اسی دورۂ یورپ کی ہی برکات وثمرات کا نتیجہ ہیں اور یہ صداقت اسلام احمدیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
…٭…٭…٭…