اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دورۂ یوروپ 1924میں آپ کے ہمرکاب اصحاب کا مختصر تعارف ( تنویر احمد ناصر صاحب، نائب ناظرنظارت نشرواشاعت قادیان )

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1924ءمیں اپنے بعض رفقا کےساتھ یوروپ کا نہایت ہی کامیاب سفر اختیار فرمایا جو 12جولائی 1924کوشروع ہوا تھا اور 24 نومبر 1924کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو ا ۔ (تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 463)۔اس سفر میں حسب ذیل اصحاب آپؓکے ہمرکاب تھے۔
(1)حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب(2) حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب (3) حضرت مولوی عبدالرحیم درد صاحب (4) حضرت ذو الفقار علی خان صاحب صاحب (5) حضرت حافظ روشن علی صاحب (6) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی(7) حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب (8) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی (9) شیخ عبدالرحمن صاحب مصری (10)چوہدری علی محمد صاحب(11) میاں رحم دین صاحب ۔
ان کے علاوہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب جو حضور کے ترجمان خصوصی کی حیثیت سے جارہے تھے پہلے ہی انگلستان روانہ ہو چکے تھے۔ اسی طرح چوہدری محمد شریف صاحب وکیل بھی اپنے خرچ پر حضور کے ہمراہ گئے۔
(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 434)
(1)حضرت صاحبزادہ
مرزا شریف احمد صاحب
رضی اللہ عنہ
حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی مبشر اولاد اور ان پانچ تن میں سے تھے جنہیں حضورؑ نے اپنے خاندان کی بنیاد قرار دیا ہے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓکی پیدائش سے قبل حضور علیہ السلام کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ ’’آپ کو ایک فرزند عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس پیش خبری کے مطابق ۲۴؍مئی ۱۸۹۵ء کو آپؓکی ولادت ہوئی۔ اس موقع پر حضورؑ نے عالمِ کشف میں یہ دو نظارے دیکھے۔ فرمایا:
(1)جب یہ پیدا ہوا تھا تو اس وقت عالم کشف میں آسمان پر ایک ستارہ دیکھا جس پر لکھا تھا: ’’مُعَمَّرُاللّٰہ‘‘
(2) اس وقت عالم کشف میں مَیں نے دیکھاکہ آسمان پر سے ایک روپیہ اُترا اور میرے ہاتھ پر رکھا گیا۔ اِس پر لکھا تھا
’’مُعَمَّرُاللّٰہ‘‘
(تذکرہ صفحہ227 ایڈیشن پنجم)
خدا تعالیٰ نے آپؓکے متعلق کئی بشارات بھی دیں۔ مثلاً فرمایا: عمرہ اللّٰہ علٰی خلاف التوقع اس کو یعنی شریف احمد کو خدا تعالیٰ امید سے بڑھ کر عمر دے گا۔
(تذکرہ صفحہ609)
چنانچہ آپؓکی زندگی میں کئی خطرناک مراحل آئے مگر اللہ تعالیٰ نے آپؓکی حفاظت فرمائی۔ مثلاً طاعون جب زوروں پر تھی تو آپؓکو شدید بخار ہوگیا اور بے ہوشی شروع ہو گئی اور بظاہرمایوس کن علامات ظاہر ہونی شروع ہو گئیں۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ مجھے خیال آیا کہ اگرچہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکاان دنوں میں فوت ہو گیاتو دشمن اس تپ کو طاعون ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اس پاک وحی کی تکذیب کریں گے جو اس نے فرمایا ہے’’اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّار یعنی مَیں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچائوں گا۔‘‘
(روحانی خزائن جلد22صفحہ87)
چنانچہ حضورؑ دعا کے لیے کھڑے ہوگئے تو معاً وہ حالت میسر آگئی جو استجابت دعا کی کھلی کھلی نشانی ہے۔ ابھی حضورؑ نے تین رکعت ہی پڑھی تھی کہ کشفاً دکھایا گیا کہ آپؓبالکل تندرست ہیں۔ جب کشفی حالت ختم ہوئی تو دیکھا کہ آپؓچارپائی پر بیٹھے ہیں اور پانی مانگتے ہیں۔ نماز ختم کر کے حضورؑ نے بدن پر ہاتھ لگا کے دیکھا تو تپ کا نام و نشان نہیں تھا۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ:
’’چند سال ہوئے ایک دفعہ عالمِ کشف میں اسی لڑکے شریف احمد کے متعلق کہا تھا کہ اب تُو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔‘‘
(تذکرہ صفحہ۴۰۶)
اس کشف میں دراصل اشارہ تھا کہ آپؓکی زندگی حضورعلیہ السلام کے جاری فرمودہ کاموں کے سرانجام دینے میں گزرے گی۔ چنانچہ آپؓکی عمر کا اکثر حصہ نظارت تعلیم و تربیت اور نظارت اصلاح و ارشادکے ناظر کے اور قاضی سلسلہ کے طور پر کام کرتے ہوئے بسر ہوا۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ احمدیہ قادیان سے حاصل کی۔ جامعہ الازہر مصر میں چھ ماہ تک عربی میں تعلیم حاصل کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓسے دینی علوم کے علاوہ بخاری شریف پڑھی۔ حضورؓکے درسوں میں شامل ہوکر بھی فیض حاصل کیا۔ حضورؓکی خاص توجہ آپؓکوحاصل تھی۔ قادیان سے مربیان کی جو پہلی کلاس جاری ہوئی اُس میں بھی آپؓشامل تھے۔ قرآن مجید، حدیث اور علم الکلام سے آپؓکو خاص لگاؤ تھا۔ کئی دفعہ رمضان المبارک کے دوران مسجد مبارک میں بخاری شریف کا درس دیا۔ آپؓکو تاریخ سے بھی دلچسپی تھی فوج اور صنعت و حرفت کے علوم پر بھی دسترس حاصل تھی۔ انگریزی اور عربی زبانوں میں خاص قابلیت رکھتے تھے۔
گیارہ سال کی عمر میں آپؓکا رشتہ حضرت اقدسؑ نے حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓکی بیٹی حضرت بو زینب صاحبہؓسے تجویز فرمایا۔ ۱۵؍نومبر ۱۹۰۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓنے نکاح پڑھایا۔ ۹؍مئی ۱۹۰۹ء کو رخصتانہ ہوا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ آپؓکو حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ بعض لحاظ سے خاص مشابہت تھی۔ یہ مشابہت جسمانی نوعیت کے لحاظ سے بھی تھی اور حضرت مسیح موعودؑ کی طرح مزاج میں ایک لطیف قسم کا توازن پایا جاتا تھا۔ اورطبیعت میں انتہائی سادگی اور غریب نوازی تھی۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ فرماتی ہیں کہ میری اور آپؓکی عمر میں بہت کم فرق تھا۔ ہر وقت کا ساتھ، اکٹھے کھیلنا کودنا۔ بچپن میں بہت شوخ و شنگ بھی تھے مگر کبھی نہیں لڑے۔ مجھے کبھی انہوں نے نہیں ستایا، بلکہ ہمیشہ میرا ہی کہنا مان لیتے۔
علمِ تعبیر اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص ودیعت فرمایا تھا۔ علمی پہلو کے علاوہ ایک نہایت شریف، اسم با مسمّٰی،نہایت صاف دل، غریب طبیعت، دل کے بادشاہ، عالی حوصلہ، صابر اور متحمل مزاج وجود تھے۔ وہ ایک ہیرا تھا، نایاب، وہ سراپا شرافت تھا۔ ایک چاند تھا جو چھُپا رہا اکثر۔
آپؓکی گفتگو میں مزاح کا پہلو بھی پایا جاتا تھا۔ لطیف ادب سے لگائو تھا۔ شعر و سخن سے دلچسپی تھی،خود بھی شعر کہتے تھے۔ آپؓ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ ۱۹۵۳ء میں آپؓنے دو ماہ کی قید سخت کاٹی۔آپؓکچھ عرصہ فوج میں بھی رہے اور احمدیہ ٹیریٹوریل فورس کا انتظام بھی آپؓکے سپرد رہا۔ آپؓبلند آواز میں سفر میں بھی تلاوت کرتے تھے۔ صحابہؓ بتاتے تھے کہ آپؓکی آواز حضرت مسیح موعودؑ کی آواز سے ملتی تھی۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر ’’ذکرِ حبیبؑ‘‘ کے موضوع پر کئی تقاریر بھی فرمائیں ۔ حضرت مولانا ابوالعطا صاحب فرماتے تھے کہ جب کوئی نئی دکان کھلتی تو جا کر زیادہ سے زیادہ چیزیں خریدتے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ اور اگر کبھی کوئی آندھی یا طوفان آتا تو گھر سے نکلتے کہ کسی گھر کانقصان ہوگیا ہو تو اُسے پورا کروں۔ آپؓکی ہمدردی اور سلسلہ کے لیے غیرت ایک نمونہ تھی۔ اپنے ماتحتوں کی تکلیف کا بہت احساس ہوتا تھا اور تب تک چین نہیں آتا تھا جب تک اس تکلیف کا ازالہ نہ کرلیں۔ مردانہ شجاعت آپؓکی طبیعت کا نمایاں وصف تھا۔ قادیان میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت اور شعائراللہ کی حفاظت کے لیے نظارتِ خاص قائم فرمائی جس کا ناظر آپؓکو مقرر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے آپؓکی بیدار مغزی اور حُسنِ تدبیر سے احرار کی چالیں ناکام ہونے لگیں تو دُشمن نے آپؓپر ایک شخص حنیفا کے ذریعے لاٹھی سے حملہ کروایا لیکن خداتعالیٰ کے فضل سے آپؓمحفوظ رہے۔ آپؓبہت دلیر تھے۔ آپؓنے اپنی بیماری کے ایّام صبرو شکر سے گزارے اور ۲۶؍ دسمبر ۱۹۶۱ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاح سے دو گھنٹے قبل ساڑھے ۶۶سال کی عمر میں آپؓنےوفات پائی۔ اُسی دن حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔
(2)حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحب رضی اللہ عنہ
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی اور یورپ کے پہلے مبلغ احمدیت حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحبؓ 1887ء میں جوڑا کلاں ضلع قصور کے ایک بڑے زمیندار حضرت چودھری نظام الدین صاحبؓکے ہاں پیدا ہوئے۔ دونوں کو 1899ء میں قادیان جاکر قبول احمدیت کی سعادت عطا ہوئی۔
حضرت چودھری صاحبؓنے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں جوڑا ضلع قصور میں حاصل کی۔ 1900ء میں جب آپ پانچویں جماعت میں پڑھتے تھے،آپ کے والد ماجد نے آپ کو تعلیم کے لئے قادیان بھیج دیا۔ ا س کے بعد آپ نے دسویں جماعت تک وہیں تعلیم پائی۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے B.A اور علیگڑھ یونیورسٹی سےM.A کی ڈگری حاصل کی۔ 1906ء میں آپؓانجمن تشحیذ الاذہان کے اعزازی ممبر بنے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمۂ معرفت میں آپؓکا نام اُن احباب کی فہرست میں درج فرمایا ہے جنہوں نے ’’گوروہر سہائے کے قرآن کریم‘‘ کی زیارت کی تھی۔
ابھی آپؓ F.A میں زیر تعلیم تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے زندگی وقف کرنے کی تحریک پر لبیک کہنے کی توفیق پائی۔ آپؓکی شادی حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓکی ایک نواسی محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ سے ہوئی ۔
حضرت چودھری صاحبؓجب ایم۔ اے کرنے کے بعد قادیان آئے تو آپؓکو جون 1913ء میں انگلستان جاکر بیرونی دنیا میں پہلا احمدیہ مشن قائم کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔ اپریل 1918ء میں آپؓواپس ہندوستان تشریف لائے۔ 1919ء میں دوبارہ لندن تشریف لے گئے اور مئی 1921ء تک وہاں مقیم رہے اور اس دوران حضرت مصلح موعودؓکی ہدایت کے مطابق آپؓنے 1920ء میں مسجد فضل لندن کے لئے ایک قطعہ زمین بھی خریدا۔
حضرت چودھری صاحبؓنے انگلستان سے واپس آنے کے بعد شدّھی تحریک کے دوران ملکانہ کے علاقہ میں امیرالمجاہدین کی حیثیت سے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ آپؓمیںدعوت الی اللہ کا خاص جوش پایا جاتا تھا۔ 1923ء کے جلسہ سالانہ پرحضرت مصلح موعودؓ نے چوہدری صاحب کی تعریف کرکے ’’کمانڈر انچیف ‘‘کے خطاب سے نوازا جو آپ کے لئے باعثِ فخر تھا۔
حضرت چودھری صاحبؓمجلس انصاراللہ کے دو سال تک صدر اور چار سال تک قائد تبلیغ بھی رہے۔
اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعدآپ 1913ء تا 1916ء لندن مشن کے انچارج رہے۔ پھر قادیان جاکر 1917ء تا 1919ء افسر صیغہ اشاعت اسلام رہے۔ 1919ء میں دوبارہ لندن بھجوائے گئے اور جولائی 1921ء تک لندن مشن کے امیر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ قادیان واپس آنے کے بعد 1922ء میں آپ ناظر تالیف و اشاعت مقرر ہوئے۔ 1923ء تا 1924ء تک امیر وفد المجاہدین قادیان برائے کارزار شدھی مقرر ہوئے۔ دسمبر 1924ء سے 1950ء تک ناظر دعوت و تبلیغ رہے۔ اسی دوران فروری 1937ء میں چوہدری صاحب نے نظارت اعلیٰ کا چارج لیا۔ 1931-32ء میں ناظر تعلیم و تربیت کے طور پر کام کیا۔ اکتوبر 1950ء میں ریٹائر ہوئے اور پھر 1954ء سے 28؍ فروری 1960ء تک ناظر اصلاح و ارشاد کے عہدہ پر فائز رہے یہاں تک کہ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔حضرت چودھری صاحبؓ 28؍فروری 1960ء کو دفتر نظارت اصلاح و ارشاد میں ہی خدمت بجالاتے ہوئے حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئے۔ اُسی روز حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے نماز جنازہ پڑھائی اور بعدازاں بہشتی مقبرہ میں قطعہ صحابہ میں دفن ہوئے۔
(مطبوعہ رسالہ انصارالدین نومبر دسمبر 2014ء)
(3)حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب رضی اللہ عنہ
حضرت ماسٹر قادر بخش صاحبؓوالد حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحب حضرت مسیح موعودؑ کے 313؍ اصحاب میں شامل تھے اور 1891ء میں حضرت اقدسؑ کے مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ ہونے والے مباحثہ کے دوران آپؓبھی موقع پر موجود تھے جس کا ذکر حضورؑ نے اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں بھی فرمایا ہے۔
1894ء میں حضرت ماسٹر قادر بخش صاحبؓکے ہاں لدھیانہ میں پہلا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام رحیم بخش رکھا گیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے مزید تین بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی عطا فرمایا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے مذکورہ بیٹے کا نام رحیم بخش سے بدل کر عبدالرحیم کردیا اور ’’درد‘‘ تخلص عطا کیا۔
حضرت مولوی عبدالرحیم درد صاحبؓ نے ابتدائی تعلیم لدھیانہ میں حاصل کی ۔ بچپن میں آپؓکی صحت کمزور تھی مگر حضرت اقدسؑ کی دعاؤں سے آپؓتندرست ہوگئے۔ 1914ء میں آپؓنے لاہور سے B.A کا امتحان پاس کیا۔ لاہور میں آپؓکا قیام احمدیہ ہاسٹل میں بھی رہا۔ پھر آپؓمشن سکول ہوشیار پور میں ملازم ہوگئے۔ 1916ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے عربی میں M.A کیا اور 1919ء میں مقابلہ کے امتحان میں شامل ہوکر کامیاب قرار پائے۔ اسی سال آپؓنے اپنی زندگی خدمتِ دین کے لئے پیش کردی۔ پہلے آپؓاس کمیٹی کے ممبر مقرر ہوئے جس نے مدرسہ احمدیہ کی ترقی کیلئے سکیم تیار کرنی تھی۔ 1920ء میں آپؓکو افسر ڈاک مقرر کیا گیا اور بعد ازاں آپؓہی کے دور میں یہ عہدہ پرائیویٹ سیکرٹری کہلایا۔19؍ اکتوبر 1924ء کو مسجد فضل لندن کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شریک معززین سے آپؓنے مختصر خطاب کیا۔ نومبر 1924ء میں حضورؓنے ہندوستان واپس تشریف لانے سے پہلے حضرت درد صاحبؓکو حضرت مولوی عبدالرحیم نیر صاحبؓکی جگہ لندن مشن کا انچارج مقرر فرمایا۔
حضرت درد صاحبؓکے لندن مشن کا انچارج بننے کے بعد آپؓکی زیر نگرانی ہی مسجد فضل لندن کی تعمیر مکمل ہوئی۔ آپؓہی مسجد فضل لندن کے پہلے امام مقرر ہوئے۔ بعض یورپی ممالک کا بھی آپؓنے تبلیغی دورہ فرمایا اور 22؍اکتوبر 1928ء کو جب آپؓواپس قادیان تشریف لائے تو حضرت مصلح موعودؓ نے قادیان سے تین میل باہر جاکر آپؓکا استقبال فرمایا۔
1947ء میں قادیان سے مسلمانوں کے باحفاظت انخلاء میں حضرت درد صاحبؓ نے دونوں مملکتوں کے حکام سے روابط رکھنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔
حضرت درد صاحبؓکی وفات 7؍ دسمبر 1955ء کو ہوئی۔ اگلے روز حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین عمل میں آئی۔ حضورؓنے آپؓکا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا ’’درد صاحبؓجب سلسلہ کی خدمت کیلئے آئے تو ان کی عمر زیادہ نہ تھی لیکن اس عمر میں بھی ان کے وقار کا یہ حال تھا کہ ہم انہیں بڑے سے بڑے افسر سے بھی ملنے کیلئے بھیج دیتے تو وہ نہایت کامیابی کے ساتھ جماعت کی نمائندگی کرکے آ جاتے تھے‘‘۔
حضرت درد صاحبؓکی تبلیغی و انتظامی خدمات کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق و تصنیف کا سلسلہ بھی آخر دم تک جاری رہا۔ آپؓنے متعدد کتب اردو اور انگریزی میں تحریر فرمائیں۔ آپؓکو اللہ تعالیٰ نے دو بیویوں سے چھ بیٹے اور آٹھ بیٹیاں عطا کیں۔
(تلخیص از ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ جون 1997ء )
(4)حضرت ذوالفقار علی خان گوہر رامپوری رضی اللہ عنہ
حضرت ذوالفقار علی خان گوہر صاحب رضی اللہ عنہ ولد مکرم عبدالعلی خان صاحب اگست 1869ء میں رامپور ضلع مراد آباد (یو پی۔ انڈیا) میں پیدا ہوئے، آپ کا خاندان ریاست رامپور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھا، نواب کلب علی خان صاحب کے زمانہ میں ریاست کے اکثر کام اسی خاندان کے ہی سپرد تھے۔ آپ کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، آپ بر صغیر ہند و پاک کے مشہور سیاسی لیڈر مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر (المعروف بہ علی برادران) کے بڑے بھائی تھے۔
1888ء میں ’ریاض الاخبار‘ میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط بنام الیگزنڈر رسل ویب سفیر امریکہ مقیم فلپائن پڑھا جس کے مطالعہ کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ ’’اس کے تسخیر کرنے والے، دل پر چوٹ لگانے والے مضامین نے مبہوت و محو کر لیا۔‘‘
اس سے قبل آپ زمانہ ظہور امام مہدی کے متعلق سن چکے تھے چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں کہ 1884ء میں جب کہ میں سکول میں پڑھتا تھا، ایک رات کو تاروں کے ٹوٹنے کا غیر معمولی نظارہ دیکھنے میں آیا۔ اپنے پیر و مرشد قبلہ علامہ مولوی ارشاد حسین صاحب سے ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام ہوگیا ہے، یہ اسی کی علامت ہے۔
(سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم روایت نمبر1001)
بعد ازاں جب آپ نے ملازمت شروع کی تو ملازمت کے دوران سلسلہ احمدیہ کے ایک مخلص بزرگ حضرت مولوی تفضل حسین صاحب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی جن کی پاکیزہ صحبت نے آپ پر بہت اثر کیا، انھوں نے ہی آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف لطیف ازالہ اوہام دی جس کے مطالعہ سے تسکین ہوئی اور بالآخر 1900ء میں بیعت کا خط لکھ دیا اور 1904ء میں پہلی مرتبہ بمقام گورداسپور حضرت اقدس علیہ السلام کی زیارت کی۔
آپ اپنی ملازمت کے سلسلے میں تقریبًا 1902ء میں تبادلہ ہوکر میرٹھ آئے اور کچھ سال میرٹھ میں گزارے۔ 1904ء میں آپ اپنی دسمبر کی تعطیلات میں میرٹھ سے قادیان حاضر ہوئے۔
خلافت کے متعلق ایمان میں بھی وہی مضبوطی اور اخلاص تھا اسی وجہ سے خلافت ثانیہ کے قیام کے موقع پر آپ نے کسی تردّد کے بغیر فوراً بیعت کر لی اور اپنا بیعت نامہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھجواتے ہوئے لکھا :
’’اس غم جان فرسا میں اگر کچھ تسکین ہے تو یہ ہے کہ آپ کے دست مقدس و مبارک پر بیعت کرتا ہوں۔ اگر ساری جماعت آپ کو چھوڑ دیتی تو تب بھی الحمد للہ یہ عاجز بیعت کرتا۔‘‘
(الفضل 21؍مارچ 1914ء صفحہ5)
پھر تا دمِ حیات آپ خلافت کے ساتھ نہایت اخلاص و وفا اور اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ وابستہ رہے۔ جماعت احمدیہ کی ترقی میں ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ 1918ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ انفلونزا کے شدید حملہ کی وجہ سے تشویشناک حالت تک علیل ہوگئے تو اکتوبر 1918ء میں اپنی وصیت بھی لکھ دی جس میں اپنے بعد انتخاب خلافت کے لیے گیارہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد فرما دی جس میں حضرت ذوالفقار علی خان صاحبؓبھی شامل تھے۔
( تاریخ احمدیت جلد4 صفحہ211)
یہی وہ سال تھا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت کو وقف زندگی کی تحریک فرمائی تو حضرت خان صاحبؓنے بھی زندگی وقف کرکے قادیان ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا۔ آپ 1920ء کے اواخر میں مستقل طور پر ہجرت کر کے قادیان آگئے۔ قادیان میں آپ نے ایڈیشنل سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ، ناظر امور عامہ اور ناظر اعلیٰ اور سیکرٹری بیرونی تبلیغی مشن تحریک جدید وغیرہ جیسے اہم عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو کئی اہم مواقع پر اعلیٰ سطح کے جماعتی وفود میں شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی کتاب ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘ جب پرنس آف ویلز کو تحفۃً دی گئی تو اس کے جواب میں پرنس آف ویلز کے چیف سیکرٹری G FD Montmorency نے حضرت خان صاحبؓایڈیشنل سیکرٹری جماعت احمدیہ کے نام شکریہ کا خط لکھا۔
(الفضل 6؍مارچ 1922ء صفحہ2،1)
حضرت گوہر صاحبؓشعائر اسلام کا نہایت احترام رکھتے تھے اور ان کی پابندی کا بھی ہر دم خیال رکھتے تھے۔ دینی شعائر کے استہزاء کے موقع پر عدم برداشت کا اظہار بھی آپ جرأت کے ساتھ کیا کرتے تھے اور اپنی غیرت ایمانی اور جوش دینی کا ثبوت دیتے۔ آپؓنظم و نثر میں نہایت عمدہ لکھنے والے تھے۔ سلسلہ کے لٹریچر میں آپ کے لکھے گئے مضامین موجود ہیں۔ شعر بھی بہت خوبصورت کہتے تھے۔ شاعری میں داؔغ دہلوی کی شاگردی بھی پائی۔ جماعتی اخبارات کے علاوہ برصغیر کے دیگر اخبارات و رسائل میں بھی آپ کا کلام شائع ہوتا۔
حضرت خان ذوالفقار علی خان صاحب گوہر رضی اللہ عنہ نے 26فروری 1954ء بمقام لاہور وفات پائی اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعۂ صحابہ میں دفن ہوئے۔ آپ نے چار شادیاں کیں۔
(الفضل 10جون 2021)
(5)حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ نہ صرف قرآن و حدیث اور اسلامی اصولوں میں تبحر علمی رکھتے تھے بلکہ یہودیت، عیسائیت اور دیگر مذاہب پر بھی آپؓکو کمال دسترس حاصل تھی۔ آپؓمجلس انصاراللہ کے ابتدائی نو (9) اراکین میں شامل تھے اور مجلس کے پہلے منتخب جنرل سیکرٹری بھی۔
حضرت حافظ صاحبؓنے 1914ء میں درس قرآن دینا شروع کیا جو 1927ء تک جاری رہا اور سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بعض اوقات آپؓکو اپنی جگہ درس القرآن کے لئے مقرر فرمایا۔ 1919ء میں آپ کو قاضی القضاۃ کے فرائض تفویض ہوئے اور 1920ء میں مبلغین کی کلاس کا باقاعدہ اجراء ہوا تواسکی نگرانی حضرت حافظ صاحبؓکے سپرد ہوئی۔ آپؓنے مناظروں میں بھی علمی اپنی قابلیت کا سکّہ منوایا۔جون 1929ء میں آپؓکی وفات پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ’’ (وہ) اس بات کے مستحق تھے کہ ہر ایک احمدی انہیں نہایت عزت و توقیر سے دیکھے‘‘۔
حضرت حافظ صاحبؓکی وفات کے موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے قادیان میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے آپؓکی نماز جنازہ غائب پڑھائی اور تمام احمدیہ جماعتوں کو غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کی ہدایت فرمائی نیز آپؓکے بارہ میں فرمایا کہ آپ حضرت مولانا عبدالکریم ؓ ثانی تھے۔ ایک موقعہ پر حضورؓنے فرمایا کہ حافظ صاحبؓپوری لائبریری ہیں۔ یہ بات حقیقت تھی کیونکہ آپؓقرآن مجید کا ترجمہ بھی ایسی ہی روانی سے پڑھا کرتے تھے گویا حفظ ہے۔
(الفضل ڈائجسٹ 11دسمبر 2017)
(6)حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ ایک بلند پایہ عالم ، اخبار ’’الحکم‘‘ کے بانی اور اس کے پہلے ایڈیٹر تھے۔29؍نومبر 1875ء کو جالندھر میں آپؓکی ولادت ہوئی۔آپؓ 1889ء میں پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بیعت 1892ء میں لاہور میں کی۔ 1893ء میں انٹرنس کرنے کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ دیا اور کچھ عرصہ سرکاری ملازمت کرنے کے بعد اخبار نویسی کا آغاز کیا اور 1894ء سے 1897ء تک بحیثیت ایڈیٹر کئی جرائد سے وابستہ رہے۔ 1897ء میں مارٹن کلارک کے مقدمہ کے حالات آپؓنے ’’جنگ مقدس‘‘ کے نام سے لکھے۔ 1897ء میں امرتسر سے جماعت احمدیہ کا پہلا ہفت روزہ اخبار ’’الحکم‘‘ جاری کیا۔ اخبار کا ماٹو تھا ’’لکھنا ہے تو مت ڈر۔ ڈرنا ہے تو مت لکھ‘‘۔ 1898ء میں یہ اخبار قادیان منتقل ہوگیا اور چند برسوں کے وقفہ کے ساتھ 1943ء تک جاری رہا۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے ’’الحکم‘‘ اور ’’البدر‘‘ کو جماعت کے دو بازو قرار دیا تھا۔ حضرت عرفانیؓ مدرسہ تعلیم الاسلام کے پہلے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔ صدرانجمن احمدیہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری بھی رہے۔ آپؓکی تصانیف 20 کے قریب ہیں۔
قرآن کریم سے آپؓکو عشق تھا۔ 1937ء میں آپؓنے ایک وصیت تحریر فرمائی جس کا عنوان تھا ’’تمام سعادتوں اور برکتوں کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ خلافت کے دامن سے وابستہ رہو‘‘۔
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ نے 5؍دسمبر 1957ء کو 82 سال کی عمر میں سکندرآباد میں وفات پائی اورحیدرآباد دکن میں امانتاً تدفین عمل میں آئی۔
(الفضل ڈائجسٹ 17نومبر 2019)
(7)حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ
خاں صاحب پٹیالوی
ولادت: ۱۸۸۷ء(غالباً)بیعت: جون ۱۹۰۲ء وفات:۱۳؍ اپریل ۱۹۶۷ء
اس خاندان میں احمدیت کی نعمت حضرت ڈاکٹر صاحب کے داداحضرت مولا بخش صاحب اور والد ماجدحضرت رحیم بخش صاحب کے ذریعے پہنچی جنہوں نے ۱۸۹۹ء میں مولوی عبدالقادر صاحب جمالپوری کے ہاتھ پر بیعت کی۔(آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے بیعت لینے کے مجاز تھے)۔اس بیعت کے وقت حضرت ڈاکٹر صاحب بھی موجود تھے۔ اسوقت آپکی عمربارہ سال کی تھی۔
حضرت ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ دوسری بار۱۹۰۷ء میں سالانہ جلسہ پر قادیان آنے کی توفیق ملی۔گو اس زمانے میں بھی میں طالب علم تھا۔مگر جماعت کا سیکرٹری بھی تھا۔ صدرانجمن نے جماعت کے نمائندوں کو مشاورت کے لئے بلایا تھا۔ مشاورت کا وقت مغرب عشاء کے بعد تھا۔میں نے صبح آٹھ بجے کھانا کھایا تھا اور میں نے خیال کیا تھا کہ جلدی ہی اجلاس ہوجائے گاتو واپس آکر کھانا کھالوں گا۔میں بھی اس اجلاس میں جاکر بیٹھ گیا۔اس اجلاس میں خواجہ کمال الدین صاحب،برکت علی خان صاحب اور ذوالفقارعلی خان صاحب بھی شامل تھے یہ مشاورت رات کے گیارہ بجے ختم ہوئی۔ اس عرصہ میں لنگر خانہ بند ہوگیا تھا۔میں اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گیا۔ایک خشک ٹکڑا میرے ہاتھ لگ گیا اور میں نے اسے چبانا شروع کیا۔مگر بھوک بند نہ ہوئی۔ میں ابھی سویا نہیں تھا کہ دروازہ پر دستک ہوئی کہ جو یہاں بھوکا ہو کھانا کھالے۔دوسرے دن صبح کو دیکھا کہ حضرت صاحب مسجدمبارک پر کھڑے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی ہیں۔ حضور بڑے جوش سے فرما رہے تھے۔ رات کو مہمان بھوکے رہے اور مجھے الہام ہوا۔
یَآایُّھَا النَّبِیُّ اَطْعِمُواالْجَآئِعَ وَالْمُعْتَرَّ
آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آخری تقریر بھی سنی تھی۔وہ تقریر آخری تقریر تھی اور ایک قسم کی وصیت تھی۔اس میں فرمایا تھا۔’’دیکھو ہمارے لئے بڑا خوف کا مقام ہے۔کروڑوں آدمی ہمارے خلاف ہیں۔اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہ کیا تو ہم دین سے بھی گئے۔اور دنیا سے بھی گئے۔‘‘
۲۵مئی۱۹۰۸ء کی شام کو ہم نے تو حضور کو سیر کے لئے رخصت کیا۔مگر صبح دس بجے آپ کی وفات ہوگئی۔ایک مرتبہ لاہور میں حضورکا جنازہ پڑھا گیا۔پھر جنازہ گاڑی میں رکھکر بٹالہ لایا گیا۔ بٹالہ سے چارپائی پر رکھ کر قادیان لایا گیا۔میرا چونکہ قد چھوٹا تھا اس لئے میں نے چارپائی کے پچھلی طرف اپنا سر دے دیااور اس طرح کئی میل تک چلا آیا۔
حضرت ڈاکٹر صاحب کو۲۰؍ اپریل ۱۹۰۸ء کو میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔اور آپ آخری امتحان میں کامیاب ہوکر۱۲ جون ۱۹۱۲ء سے ریاست پٹیالہ کے سب سے بڑے ہسپتال راجندر ہسپتال میں ملازم ہوگئے۔آپ کی شب وروز دُعائوں کے مزید اثرات رفتہ رفتہ نمایاں سے نمایاں تر ہونے لگےاورآپ کی شہرت دوایک سال کے عرصہ میں ریاست کے طول وعرض میں پھیل گئی۔ یہانتک کہ آپ کو مہاراجہ پٹیالہ کے خاص طبّی عملہ میں لیا جانے لگا مگر یہ مرحلہ آپ کی متضرعانہ دعائوں کی برکت سے رُک گیاکیونکہ اس سے آپ کو دین کے برباد ہوجانے کا خطرہ تھا۔
حضرت ڈاکٹر صاحب سرکاری فرائض بجا لانے کے ساتھ ساتھ پٹیالہ کی جماعت کے سرگرم رُکن تھےاور جماعت کی مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔
حضرت مصلح موعود کے طبّی معالج ومشیر کے اہم منصب پر فائز ہونے کے علاوہ آپ ۲فروری ۱۹۱۹ء کو افسر نور ہسپتال بھی مقرر ہوئے۔آپ کے دور میں ہسپتال کو صُوبہ بھر میں غیر معمولی قبولیت حاصل ہوئی اور اس کے ذریعہ سے بہت سے مریضوں کو خدا کے فضل سے شفا حاصل ہوئی۔ حضرت ڈاکٹر صاحب جیسے دعاگو، خلیق، ہر دلعزیز اور ایثار پیشہ ڈاکٹر کی زیر نگرانی یہ ہسپتال فسادات۱۹۴۷ء تک برابر ترقی کرتا رہا اوراپنوںاور بیگانوںنے اس ہسپتال کی دِل کھو ل کر تعریف کی۔
سیدنا حضرت مصلح موعود نے۱۹۵۵ء میں دوسرا سفر یورپ اختیار فرمایااس مبارک اور تاریخی سفر میں بھی آپ کو ہمرکابی کاشرف حاصل ہوا۔
حضرت ڈاکٹر صاحب کوپینتیس سال تک حضرت مصلحِ موعود کے طبّی مشیر اور معالجِ خصوصی کی حیثیت سے نہایت درجہ ذوق وشوق اور جذبۂ محبت ووارفتگی کے ساتھ حضرت مصلحِ موعود کی خدمت سرانجام دینے کی سعادت ملی آپ یکم اکتوبر۱۹۵۴ء تک اس خدمت پر مامور رہے۔
حضرت ڈاکٹر صاحب سلسلہ کے منکسر المزاج، صاحب رویاء بزرگوں اور اہل اللہ میں سے تھے اور بجا طور پر ایاز محمود کہلانے کے مستحق تھے۔آپ نے آنے والی نسلوں کے لئے مثالی خدمت وایثار کا قابل تقلید نمونہ چھوڑا۔آپ کی بہت سی بصیرت افروز تقاریر اور پُراز معلومات مضامین جماعت کے اخبارات میں ریکارڈ ہیں اور آپ کی بہترین علمی یادگار ہیں۔
(8) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی
یکم جنوری 1879ء کو سیالکوٹ کی تحصیل شکرگڑھ کے قصبہ کنجروڑ میں مہتہ گوراند تامل اور محترمہ پاربتی دیوی کے ہاں ایک بچہ نے جنم لیا جس کا نام ہریش چندر رکھا گیا۔ شدید ہندوآنہ ماحول میں پرورش ہوئی۔ 1894ء میں جب یہ بچہ چونیاں میں زیرتعلیم تھا تو سورج اور چاند کا گرہن دیکھ کر سکول کے مسلمان ہیڈماسٹر نے کہا کہ اب امام آخرالزمان کی تلاش کرنی چاہئے۔ آہستہ آہستہ یہ بچہ ہندو خیالات سے متنفر ہوتے ہوئے پروان چڑھنے لگا۔ جب ذرا بڑا ہوا اور حصول معاش کے لئے سیالکوٹ پہنچا تو ایک کتاب ’’نشان آسمانی‘‘ نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور حضرت مسیح موعودؑ سے متعارف ہوئے۔ پھر حضورؑ کی ایک اور کتاب ’’انوارالاسلام‘‘ پڑھی تو ستمبر 1895ء میں قادیان پہنچے۔ پہلے حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓسے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں عرض کیا۔ جب شام کو آپ حضورؑ کی مجلس میں حاضر ہوئے تو حضورؑ نے فرمایا کہ یہ لڑکا تو ابھی بچہ معلوم ہوتا ہے اور نابالغ نظر آتا ہے، ایسا نہ ہو کہ ہندو کوئی فتنہ کھڑا کردیں۔ اس پر نوجوان نے اپنے گزرے ایام کی داستان سنائی اور انشراح کا ذکر کیا تو حضورؑ نے کلمہ پڑھاکر انہیں اسلام قبول کروایا اور عبدالرحمن نام رکھا، نیز قیام و طعام کے علاوہ تعلیم و تربیت کا بھی انتظام فرمادیا۔ اپنے ساتھیوں میں آپ ’’بھائی جی‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے اور پھر بھائی کا لفظ آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔
جب حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب کو قادیان میں کچھ عرصہ ہوگیا تو آپؓکے والد آپ کو تلاش کرتے کرتے قادیان پہنچ گئے اور بڑی لجاجت سے آپؓکے سامنے والدہ اور بھائی بہنوں کی پریشانی کا ذکر کیا اور کہا کہ اُن کے ساتھ چلے چلو تو وہ دو ہفتے بعد خود چھوڑ جائیں گے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے پہلے تو والد کے ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا لیکن پھر اجازت دیدی۔ حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحبؓ نے تجویز دی کہ بھائی عبدالرحیم صاحبؓکو ساتھ بھیج دیا جائے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے ایک جلال اور شوکت کے ساتھ فرمایا کہ ’’نہیں مولوی صاحب! ہمیں نام کے مسلمانوں کی ضرورت نہیں، ہمارا ہے تو آجائے گا، ورنہ کوڑا کرکٹ جمع کرنے سے کیا حاصل؟‘‘ چنانچہ آپؓاپنے والد کے ہمراہ چلے گئے۔
راستہ میں تو والد صاحب کا رویہ آپؓ کے ساتھ نرم ہی رہا لیکن اپنے علاقہ میں پہنچتے ہی فضا یکسر بدل گئی۔ عزیزو اقارب زبانی طعن و تشنیع تک محدود نہ رہے بلکہ چھڑیوں اور لاٹھیوں کے استعمال تک بات جا پہنچی۔ کئی بار چھریوں اور کلہاڑیوں سے زخمی بھی کئے گئے۔ کئی رشتہ دار اکٹھے چھاتی پر بیٹھ جاتے۔ یہ صورتحال کئی ماہ تک جاری رہی۔ آخر لمبا عرصہ گزرنے کے ساتھ ساتھ والد نے آپؓکو بھی اپنے ساتھ کام پر لگالیا۔ پھر والد کا تبالہ لدھر نزد بہلول پور ہوگیا لیکن آپ پر سختی میں کوئی کمی نہ آئی۔ ایک روز کسی ضرورت کے تحت آپ کو ایک خادم کے ہمراہ بھیجا گیا۔ آپؓکو سانگلہ ہل سے ٹرین میں سوار ہونا تھا۔ آپؓنے راستہ میں خادم کو واپس کردیا اور خود ٹکٹ لے کر عازم سیالکوٹ ہوئے اور وہاں سے قادیان پہنچے اور نو ماہ کی طویل جدائی کے بعد امان پائی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓکو دیکھ کر فرمایا: ’’آپ آگئے، بہت اچھا ہوا۔ آپ کے والد صاحب نے وعدہ کا پاس نہ کیا اور آپ کو روک کر تکلیف میں ڈالا۔ ہمیں بہت فکر تھی مگر شکر ہے کہ آپ کو اللہ نے ثابت قدم رکھا اور کامیاب فرمایا۔ مومن قول کا پکا اور وفادار ہوتا ہے‘‘۔
اس کے بعد آپؓکو اغوا کرنے کی چار پانچ بار کوشش کی گئی لیکن خدا تعالیٰ نے آپؓکو ثابت قدم رکھا۔ پھر آپؓنے اپنی والدہ کے نام ایک تفصیلی خط میں لکھا کہ اگر بالفرض آپؓکو پکڑ کر ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیا جائے تو بھی آپؓکے جسم کے ہر ایک ٹکڑے سے صدائے حق ہی بلند ہوگی۔ یہ خط نتیجہ خیز ثابت ہوا اور پھر آپؓکے خاندان نے بھی ان حالات سے سمجھوتہ کرلیا۔
1900 ء میں آپؓتپ دق کے مرض میں مبتلا ہوگئے۔ ہر علاج بے اثر معلوم ہونے لگا۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ نے خاص دعا شروع کی اور دوا بھی بتلائی تو مُردہ جسم میں زندگی کے آثار پیدا ہونے لگے۔ اسی دوران علالت کی خبریں سن کر والدہ قادیان آگئیں۔ وہ حضورؑ اور دیگر احباب و خواتین کے حسن سلوک سے بہت متأثر ہوئیں اور آخر حضورؑ کی اجازت سے اپنے بیٹے کو اپنے ہمراہ لے گئیں، کسی کے اعتراض کی پرواہ کئے بغیر اپنے پاس رکھا اور نمازیں پڑھنے کی کھلی اجازت دیدی۔ ڈیڑھ ماہ بعد آپؓ والدہ سے اجازت لے کر قادیان آگئے۔
آپؓکی پہلی شادی ہندوآنہ رسوم کے مطابق ہوئی تھی۔ اس بیوی سے ایک بچی ہوئی جو زندہ نہ رہی۔ قادیان آپؓکی دوسری شادی حضرت زینب بی بی صاحبہ بنت حضرت شیخ محمد علی صاحبؓآف ڈنگہ ضلع گجرات کے ساتھ 1902ء میں ہوئی۔
حضرت بھائی جی 1895ء سے قادیان میں مقیم تھے۔ کبھی ملازمت اور کبھی دوکان ذریعہ معاش کیا۔ اخبار ’’الحکم‘‘ میں بھی کام کیا۔ 1929ء میں تحریک شدھی کے سلسلہ میں ملکانہ گئے اور ساری پونجی وہاں قربان کردی۔ بعد میں خدا تعالیٰ نے ہر لحاظ سے آپؓکو بہت نوازا اور ایک مثالی لمبی زندگی عطا فرمائی۔
6؍جنوری 1961ء کو آپکی وفات ہوئی۔ نماز جنازہ ربوہ اور لاہور میں اداکرنے کے بعد نعش مبارک قادیان بھجوادیا گیا جہاں بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔ 313 خاص صحابہؓ میں آپؓکا نمبر 101 تھا اور وصیت نمبر 149 تھا۔ آپؓکو حضرت مسیح موعودؑ کی ابتدائی تحریک وقف پر لبیک کہنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ حضورؑ کے دَور میں پہرہ دینے، بٹالہ سے ڈاک لانے اور لے جانے، نیز لنگر کے لئے آٹا وغیرہ مہیا کرنے کی ذمہ داری بھی آپؓکے سپرد رہی۔ جلسہ اعظم مذاہب سے قبل آپؓہی اشتہارات لے کر قادیان سے لاہور گئے۔ حضورؑ نے وصال سے قبل آپؓکو یاد فرمایا۔ آخری زیارت کروانے کی ذمہ داری بھی آپؓنے سرانجام دی۔ مختلف بابرکت مجالس کی رپورٹس لکھیں اور بے شمار علمی نوٹس تحریر فرمائے۔ ہر مالی خدمت میں نمایاں حصہ لیا۔ حضرت اقدسؑ کے عاشق صادق تھے۔
صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ممبر بھی رہے اور کئی دفعہ امیر مقامی اور قائم مقام ناظر اعلیٰ بنے۔
(روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍نومبر 2001ء)
(9)شیخ عبدالرحمن صاحب مصری
شیخ عبدالرحمٰن صاحب (سابق لالہ شنکرداس) 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرکے داخل احمدیت ہوئے۔ 26؍جولائی 1913ء کو شیخ صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ذاتی کوشش اور آپؓکی تحریک (انصار اللہ) کے خرچ پر حصول تعلیم کے لیے مصر بھیجے گئے۔1915ء میں جب شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصرسےپڑھ کر واپس آئے تو حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو بذریعہ رؤیا خبردی گئی کہ شیخ صاحب کا خیال رکھنا یہ مرتد ہو جائیں گے۔ اس آسمانی انکشاف کی بنا پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ، شیخ صاحب کو سلسلہ سے وابستہ رکھنے کے لیے انہیں مختلف خدمات پر مامور رکھا اور1924ء کےسفرِ یورپ میں بھی اپنےہمراہ لے کرگئے۔ ایک لمبے عرصہ تک مدرسہ احمدیہ کی ہیڈ ماسٹری بھی ان کے سپرد رہی۔لیکن بالآخر وہی ہوا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی تھی۔ مصری صاحب اخراج کی سزا کے بعد قادیان سے نکل کر پیغامیوں میں شامل ہوگئے۔ خلافت سے تو پہلے ہی ہاتھ دھو بیٹھے تھے ، بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا بھی انکار کردیا۔
(10)حضرت چوہدری علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ
حضرت چوہدری علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ ولد حضرت چوہدری غلام دین صاحبؓکا اصل وطن گوکھووال ضلع فیصل آباد تھا۔ اندازاً 1895ء میں پیدا ہوئے، بچپن میں اپنے والد صاحب کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔
آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے مختار عام کی حیثیت سے خدمات بجا لاتے رہے۔ بطور امیر حلقہ ریتی چھلہ قادیان بھی خدمت کی توفیق پائی۔
ہجرت کے بعد چک ڈی بی 39ضلع سرگودھا میں آباد ہوئے۔ آپ نے 14؍اکتوبر 1969ء کو وفات پائی۔
(تاریخ احمدیت جلد 25صفحہ 223)
(11)حضرت میاں رحم دین صاحب رضی اللہ عنہ آف مالیر کوٹلہ
آپ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ رئیس مالیر کوٹلہ کے ہاں باورچی کا کام کرتے تھے اور انہی کی وجہ سے قادیان آئے اور 1902ء یا 1903ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ اس سے قبل آپ حضرت مولوی محمد اکرم صاحبؓآف کملہ ضلع گجرات ابن حضرت مولوی محمد افضل صاحبؓ(یکے از 313 صحابہ)جو حضرت نواب صاحبؓکے بچوں کے اتالیق تھے، کے زیر تبلیغ بھی رہے۔حضورؓکے سفر یورپ 1955ء میں بھی آپ کو قافلہ میں جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آپ نے 14؍جولائی 1966ء کو وفات پائی۔
(تاریخ احمدیت جلد 23صفحہ 658)
(12)حضرت چوہدری محمد شریف باجوہ صاحب رضی اللہ عنہ
آپ حضرت نواب محمد دین صاحبؒ (جنھوں نے ربوہ کی زمین کے لیے قابل قدر خدمات سر انجام دیں)کے بیٹے تھے ۔ 1895 ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کو اپنے والد محترم سے پہلے قبول احمدیت کی توفیق ملی، آپ نے 1907ء میں اپنے چچا حضرت چوہدری محمد حسین باجوہ صاحب رضی اللہ عنہ کی معیت میں قادیان آکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف پایا۔آپ ایک کامیاب وکیل تھے۔ آپ جماعت احمدیہ ساہیوال (سابقہ منٹگمری) کے امیر تھے اور چالیس سال کا لمبا عرصہ آپ نے اس خدمت پر کام کیا۔ نہایت ہی مخلص وجود تھے۔ مورخہ 7؍نومبر 1966ء کو بعمر 71 سال وفات پائی اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔
(13)حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ
حضرت سر محمد ظفر اللہ خانؓکا آبائی گاوٴں ڈسکہ تھا۔ ان کے والد نصر اللہ خانؓ ساہی جاٹ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے۔ ان کی والدہ باجوہ جاٹ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ حضرت چوہدری ظفر اللہ خانؓاپنی والدہ سے بہت متاثر تھے اور ان کے متعلق ایک کتاب ’’میری والدہ‘‘ کے نام سے لکھی۔ ان کی پیدائش 6؍فروری 1893ء کو ہوئی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے مزید تعلیم اور پھر کنگز کالج لندن سے وکالت کی ڈگری 1914ء میں حاصل کی۔ لندن میں لنکن ان بار میں شمولیت اختیار کی۔ وطن واپسی پر سیالکوٹ میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور پھر 1926ء میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن بن گئے۔
حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خانؓ 1926ء میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931ء کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئیے۔ انہوں نے 1930ء سے 1932ء تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1935ء میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939ء میں انہوں نے لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942ء میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945ء میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔
1935ء سے 1941ء تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے رکن رہے۔
ستمبر 1941ء میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خانؓکو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے۔
1947ء میںان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ آپ سات سال تک مسلسل اس عہدہ پر برقرار رہے۔
آپ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 1961ء سے 1964ء تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے اور اسی دورانیہ میں 1962ء سے 1964ء تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔
آپؓنے اقوام متحدہ میں فلسطین، لیبیا، شمالی آئرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس اردن مصر مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لیے کام کیا۔
1954ء میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خانؓعالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958ء تا 1961ء آپؓاس عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ 1964ء سے 1969ء تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے اور 1970ء سے 1973ء تک اسی عالمی عدالت انصاف کے صدر منتخب کئے گئے۔
1958ء میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کیا اور پھر 1967ء میں حج کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔
ایک لمبا عرصہ ہالینڈ یعنی نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش پذیر رہنے کے بعد واپس وطن چلے آئے۔ جہاں یکم ستمبر 1985ء کو وفات پائی۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔
(روزنامہ الفضل 9دسمبر 2022)