کسی بھی مذاہب کے ماننے والے مرور زمانہ کی وجہ سے اپنے منبع سے دور ہٹنے کے باعث اپنے ہی مذہب کی پیش کردہ صداقتوں سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل اکثر و بیشتر تمام مذاہب وحی و الہام کے منکر ہو چکے تھے۔ حقیقی مذہب کی صحیح روشنی سے منور ہونے اور استفادہ کرنے کی بجائے فرقہ پرستی کو فروغ ہو رہا تھا۔ نئی سے نئی بدعت وجود میں آرہی تھی۔ اپنی الہامی کتب سے فیض یاب ہونے کی بجائے پادریوں، پنڈتوں اور مولویوں کی بے نور کتب کو اہمیت دی جا رہی تھی۔ اہل مشرق، اہل مغرب کی شاندار دنیاوی ترقیات سے سحر زدہ تھے جو مذہب کو ذاتی معاملہ سمجھ کر مادی برتری اور مادیت کی دوڑ میں بہت آگے نکل گئے تھے۔ دونوں معاشروں کے اس فرق سے مذہب سے ایک عمومی دوری، نفرت اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ زندگی کے حقائق کو قوانین قدرت اور عقلی معیاروں پر پر کھا جانے لگا۔
ایسی بودی اور کمزور بنیاد پر تعمیر ہونے والے نظریات نے مذاہب پر بڑے زور آور حملے کئے۔ مذاہب میں بگاڑ کی وجہ سے اہل مذاہب کے پاس ان حملوں کا کوئی توڑ نہ تھا۔ اس لئے راہ فرار کے طور پر رہبانیت، تصوف، چلہ کشی، الٹے سیدھے وظائف، پیر پرستی، قبر پرستی جیسی تحریکات اور بدعات نے جنم لیا۔
مسلمانوں نے بھی تیزی سے اس گمراہی میں قدم بڑھا نا شروع کر دیا۔جب حالات مزید دگرگوں ہوئے تو قریباً ہر مذہب میں ایک موعود مصلح کی تلاش شروع ہوئی۔ اس کے ظہور کے وقت کا بار بار تعین کیا جاتا۔ مسجدوں، مندروں، گر جاؤں اور عبادت گاہوں میں دھواں دھار تقاریر سے اس خیالی موعود کے تصور کو سنہری رنگ دیا جاتا کہ ہماری تمام مشکلات کا حل اس کے ظہور پر ہو گا۔ اس کے آنے میں تاخیر پر مرثیے لکھے گئے، شکوے تحریر کئے گئے جو فی الواقعہ بہت درد ناک ہیں۔
ان مساعی نے اہل مذہب کو سکون بخشنے کی بجائے خدا سے دوری بلکہ خدا کی ہستی کے متعلق شبہات پیدا کئے۔ اس صورت حال کا یہ حل ڈھونڈا گیا کہ مذاہب آپس میں دست و گریبان ہو جائیں۔ جو مذہب جتنا حق سے دور اور کمزور تھا اتنا ہی زور دار حملہ آور بننے کی کوشش کرنے لگا۔اپنی خوبیاں بیان کرنے کی بجائے دوسرے مذاہب کی برائیاں بیان کی جاتیں۔ پھر ہر ایک مذہب میں فرقہ واریت کے ناسور ابھرنے لگے۔ آخر کار تمام پرانے مذاہب "اَلْكُفْرُ مِلَّة وَّاحِدَه " بن کر اسلام پر حملہ آور ہوئے۔ مسلمانوں کی بد قسمتی کہ ایسے شدید حملوں کو برداشت کرنے کی ان میں سکت نہ تھی اور عقائد و اعمال میں ان کی اپنی پیدا کردہ بد صورتی نے دفاع کی قوت کو مزید کمزور کر دیا۔
۱۸۲۰ء میں برہمو سماج ،۱۸۷۵ء میں سوامی دیانند نے’ آریہ سماج‘ جیسی قومی اور نسلی تحریک کی بنیاد رکھی ۔ ہندوستان میں برطانوی حکومت کی آمد کےساتھ عیسائی پادریوں نے اسلام پر یلغار کر دی۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں مسلمان مرتد ہو کر عیسائی ہو گئے۔ قادیان کے قریب بٹالہ میں ۲۱ نومبر ۱۸۸۷ءکو مشن چرچ کی بنیاد رکھی گئی۔
دسمبر 1896ء میں لاہور میں جلسہ مذاہب اعظم منعقد کیا گیا، جس کا انتظام سناتن دھرم کے راہنماؤں کی طرف سے کیا گیا۔1896ء میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ادیانِ عالَم پر اسلام کی برتری اور دنیابھر کی الہامی کتب پر قرآن کریم کی عظمت ثابت کرنے کے لئے ایک مضمون رقم فرمایا تھا جو 1896ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے جلسہ اعظم مذاہب میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ نے پڑھ کر سنایا تھا۔ بعدازاں یہی مضمون ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور اپنوں اور غیروں نے اس عظیم الشان مضمون کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سے قبل ایک اعلان کیا جو کہ ’’سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری‘‘ کے موضوع سے کثیر تعداد میں شائع ہوا۔ آپؑنے بیان کیا کہ جو مضمون آپؑنے اس جلسہ کے لئے لکھا ہے وہ ’’انسانی طاقتوں سے بر تر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے… مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا…اور مجھے یہ الہام ہوا اِنَّ اللّٰہَ مَعَکَ اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْمُ اَیْنَ مَا قُمْتَ یعنی خدا تیرے ساتھ ہے۔ اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو‘‘۔
(مجموعہ اشتہارات جلد02 صفحہ293, 294)
امر واقعہ یہ ہے کہ الٰہی تائیدیافتہ اس مضمون نے دنیابھر کے دانشکدوں میں ایسا زلزلہ بپا کیا کہ نہ صرف عظیم مفکّرین اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللّساں ہوگئے بلکہ اُس زمانے کے اخبارات نے بھی جلسہ اعظم مذاہب سے متعلق اپنی رپورٹس اور ریویوز میں واضح طور پر اس مضمون کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے اسے جلسہ میں پڑھے جانے والے تمام مضامین میں اعلیٰ ترین قرار دیا۔ اور دنیابھر سے تعلق رکھنے والے عظیم دانشوروں کا اس مضمون کے لئے اظہارعقیدت یقینا سلطان القلم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات گرامی کے لئے بھی شاندار خراج تحسین ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے پہلے ہی سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہاماً بتا دیا تھا کہ
’’مضمون بالا رہا‘‘
’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا مضمون بلاشبہ قرآن کریم کے حقائق و معارف کی بے نظیر تفسیر اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بے پایاں عشقِ قرآن کا مظہر ہے۔ جس طرح سو سال پہلے یہ مضمون دنیابھر کے مذاہب کے مقابل پر اسلام کی ایک شاندار فتح کا اعلان تھا اور دیگر الہامی کتب کے مقابل پر قرآن کریم کی برتری کا بے مثال اظہار تھا، اسی طرح آج بھی یہ اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے ایک نمایاں شان کے ساتھ پیش کرنے کے قابل ہے کیونکہ یہ وہ اعجازی مضمون ہے جس کے غلبہ کی بشارت دیتے ہوئے جلسہ سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اس میں سچائی اور حکمت اور معرفت کا وہ نُور ہے جو دوسری قوموں کو شرمندہ کردے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور خدائی وعدوں کے مطابق اس جلسہ میں
’’اَللہ اَکْبَر۔ خَرِبَتْ خَیْبَر‘‘
کے روحانی نظارہ کا وہ سماں پیدا ہوا جس نے مذاہبِ باطلہ کے محلّات ایک بار پھر زمیں بوس کردیئے۔جو مضمون اس جلسہ میں خدائی نصرت کے ساتھ پڑھا گیا وہ کتابی صورت میں دنیا بھر کی بڑی بڑی پچاس سے زائد زبانوں میں شائع ہوکر ہر خاص و عام سے مقبولیت کی سند حاصل کر چکا ہے۔
جلسے سے قبل ہی حضور علیہ السلام کو الہام ہوا کہ ’’یہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا‘‘ چنانچہ حضورؑ نے 21؍دسمبر 1896ء کو ایک اشتہار شائع کرکے تاکید فرمائی کہ اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔ اس اشتہار میں دیگر تمام مضامین پر اس مضمون کے غالب رہنے کی الہامی خبر بیان کی گئی تھی۔ چنانچہ لاہور میں مخالفین کی طرف سے اس اشتہار کو اُتارنے اور پھاڑ کر ضائع کردینے کی کوششوں کے باوجود احمدیوں نے اس اشتہار کی بھرپور اشاعت کی اور کئی راتیں شہر کی نمایاں جگہوں پر اسے آویزاں کرنے کے لیے غیرمعمولی مشقّت برداشت کی۔جب جلسے کے دوران حضور علیہ السلام کے رقم فرمودہ مضمون کو پڑھے جانے کا وقت ہوا تو اتنی مخلوق وہاں پہنچی کہ گنجائش نکالنے کے لیے سمٹنا اور سکڑنا پڑا۔لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی کا پس منظراور تبصرہ بیان کرتے ہوئے محترم مولانا جلال الدین شمس مرحوم فرماتے ہیں کہ :
’’ایک صاحب سوامی سادھو شوگن چندر نامی جو تین چار سال تک ہندئوں کی کائستھ قوم کی اصلاح و خدمت کا کام کرتے رہے تھے ۱۸۹۲ ء میں انہیں یہ خیال آیا کہ جب تک سب لوگ اکٹھے نہ ہوں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آخر انہیں ایک مذہبی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز سوجھی۔ چنانچہ اس نوعیت کا پہلا جلسہ اجمیر میںہوا۔ اس کے بعد وہ ۱۸۹۶ء میں دوسری کانفرنس کے لئے لاہور کی فضا کو موزوں سمجھ کر اس کی تیاری میں لگ گئے۔
سوامی صاحب نے اس مذہبی کانفرنس کے انتظامات کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس کے پریذیڈنٹ ماسٹردرگا پرشاد اور چیف سیکرٹری چیف کورٹ لاہور کے ایک ہندو پلیڈر لالہ دھنپت رائے بی. اے ، ایل ایل بی تھے۔
کانفرنس کے لئے 26؍27؍ 28؍ دسمبر1896ء کی تاریخیں قرار پائیں اور جلسہ کی کارروائی کے لئے چھ موڈریٹر صاحبان نامزد کئے گئے۔
(رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ’’ب‘‘ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور 1897 ء)
سوامی شوگن چندر صاحب نے کمیٹی کی طرف سے جلسہ کا اشتہار دیتے ہوئے مسلمانوں، عیسائیوں اور آریہ صاحبان کو قسم دی کہ اُن کے نامی علماء ضرور اس جلسہ میں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان فرمائیں۔ اور لکھا کہ جو جلسۂ اعظم مذاہب کا بمقام لاہور ٹائون ہال قرار پایا ہے اس کی اغراض یہی ہیں کہ سچے مذہب کے کمالات اور خوبیاں ایک عام مجمع مہذبین میں ظاہر ہو کر اُس کی محبت دلوں میں بیٹھ جائے اور اُس کے دلائل اور براہین کو لوگ بخوبی سمجھ لیں۔ اور اس طرح ہر ایک مذہب کے بزرگ واعظ کو موقع ملے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائیاں دوسرے کے دلوں میں بٹھا دے اور سننے والوں کو بھی یہ موقع حاصل ہو کہ وہ ان سب بزرگوں کے مجمع میں ہر ایک تقریر کا دوسرے کی تقریر کے ساتھ موازنہ کریں اور جہاں حق کی چمک پاویں اُس کو قبول کر لیں…
پھر انہیں ترغیب دیتے ہوئے لکھا:
’’کیا میں قبول کر سکتا ہوں کہ جو شخص دوسروں کو ایک مہلک بیماری میں خیال کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اُس کی سلامتی میری دوا میں ہے اور بنی نوع کی ہمدردی کا دعویٰ بھی کرتا ہے وہ ایسے موقعہ میں جو غریب بیمار اس کو علاج کے لئے بلاتے ہیں وہ دانستہ پہلو تہی کرے؟ میرا دل اِس بات کے لئے تڑپ رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہو جائے کہ کونسا مذہب درحقیقت سچائیوں اور صداقتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ میں اپنے اس سچّے جوش کو بیان کر سکوں۔‘‘
(روحانی خزائن جلد 10 پیش لفظ صفحہ 9)
اِس مذہبی کانفرنس یا جلسہ اعظم مذاہب لاہور میں شمولیت کے لئے مختلف مذاہب کے نمائندوں نے سوامی صاحب کی دعوت قبول کی اور دسمبر 1896ء کے بڑے دن کی تعطیلات میں بمقام لاہور ایک جلسۂ اعظم مذاہب منعقد ہوا جس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے کمیٹی جلسہ کی طرف سے اعلان کر دہ پانچ سوالوں پر تقریریں کیں …اِس جلسہ میں جو26؍ دسمبر سے 29؍ دسمبر تک ہوا ۔سناتن دھرم ، ہندو ازم، آریہ سماج، فری تھنکر، برہمو سماج، تھیو سوفیکل سوسائٹی، ریلیجن آف ہارمنی، عیسائیت ، اسلام اور سکھ ازم کے نمائندوں نے تقریریں کیں لیکن ان تمام تقاریر میں سے صرف ایک ہی تقریر ان سوالات کا حقیقی اور مکمل جواب تھی۔ جس وقت یہ تقریر حضرت مولوی عبدالکریم ؓ سیالکوٹی نہایت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ اُس وقت کا سماں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسی مذہب کا کوئی شخص نہیں تھا جو بے اختیار تحسین و آفرین کا نعرہ بلند نہ کر رہا ہو۔ کوئی شخص نہ تھا جس پر وجد اور محویّت کا عالم طاری نہ ہو۔ طرزِ بیان نہایت دلچسپ اور ہر دلعزیز تھا۔ اس سے بڑھ کر اس مضمون کی خوبی کی اور کیا دلیل ہو گی کہ مخالفین تک عش عش کر رہے تھے۔ مشہور و معروف انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ لاہور نے باوجود عیسائی ہونے کے صرف اِسی مضمون کی اعلیٰ درجہ کی تعریف لکھی اور اِسی کو قابلِ تذکرہ بیان کیا۔
یہ مضمون حضرت مرزا غلام احمدؐ صاحب قادیانی بانی ٔ جماعت احمدیہ کا لکھا ہوا تھا ۔اس مضمون کے مقررہ وقت میں جو دو گھنٹہ تھا ختم نہ ہونے کی وجہ سے ۲۹ ؍ دسمبر کا دن بڑھایا گیا۔ ’’پنجاب آبزرور‘‘ نے اس مضمون کی توصیف میں کالموں کے کالم بھر دیئے۔ پیسہ اخبار، چودھویں صدی، صادق الاخبار ، مخبر دکن و اخبار ’’جنرل وگوہر آصفی ‘‘ کلکتہ وغیرہ تمام اخبارات بالاتفاق اِس مضمون کی تعریف و توصیف میں رطبُ اللِّسان ہوئے۔ غیر اقوام اور غیر مذاہب والوں نے اس مضمون کو سب سے بالا تر مانا۔
(رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۷۹،۸۰ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ء)
یہ مضمون پہلے ’’رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب‘‘ لاہور میں من و عن شائع ہوا۔ اور جماعت احمدیہ کی طرف سے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے عنوان کے ماتحت کتابی صورت میں اس کے کئی ایڈیشن اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کا ترجمہ فرانسیسی ۔ ڈچ۔ سپینش۔ عربی۔ جرمن وغیرہ زبانوں میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ اور اِس پر بڑے بڑے فلاسفروں اور غیر ملکی اخبارات و رسائل کے ایڈیٹروں نے بھی نہایت عمدہ ریویو لکھےاور مغربی مفکّرین نے اس لیکچر کو بے حد سراہا۔ مثلاً
1۔ ’’برسٹل ٹائمز اینڈ مرر‘‘ نے لکھا :’’یقینا وہ شخص جو اس رنگ میں یورپ و امریکہ کو مخاطب کرتا ہے کوئی معمولی آدمی نہیں ہو سکتا۔‘‘
2۔ ’’سپریچوال جرنل‘‘ بوسٹن نے لکھا : ’’یہ کتاب بنی نوع انسان کے لئے ایک خالص بشارت ہے۔‘‘
3۔ ’’تھیا سوفیکل بُک نوٹس‘‘ نے لکھا : ’’یہ کتاب محمد (صلعم) کے مذہب کی بہترین اور سب سے زیادہ دلکش تصویر ہے۔‘‘
4۔ ’’انڈین ریویو‘‘ نے لکھا :’’اِس کتاب کے خیالات روشن، جامع اور حکمت سے پُر ہیں اور پڑھنے والے کے منہ سے بے اختیار اس کی تعریف نکلتی ہے۔‘‘
5۔ ’’مسلم ریویو‘‘ نے لکھا:’’اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا اس میں بہت سے سچّے اور عمیق اور اصلی اور رُوح افزا خیالات پائے گا۔‘‘
(دیباچہ روحانی خزائن جلد 10)
اس مضمون کی یہ خوبی ہے کہ اِس میں کسی دوسرے مذہب پر حملہ نہیں کیا گیابلکہ محض اسلام کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور سوالات کے جوابات قرآن مجید ہی سے دیئے گئے ہیں اور ایسے طور پر دیئے گئے ہیں کہ جن سے اسلام کا تمام مذاہب سے اکمل اور احسن اور اتم ہونا ثابت ہو تا ہے۔
(سلسلہ احمدیہ مؤلفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 69)
خدائی وعدوں کے مطابق اس جلسے میں نصرتِ الٰہی کے روحانی نظارے کا وہ سماں پیدا ہوا جس نے مذاہبِ باطلہ کے محلّات سینکڑوں سال بعد ایک بار پھر زمیں بوس کردیے۔
’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘کے نام سے شائع ہونے والے اس مضمون میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پانچ اہم سوالات کا قرآن کریم کی روشنی میں جواب دیا ہے اور ایسے دلنشیں پیرائے میں تشریح فرمائی ہے جو روحوں پر وجد طاری کردینے والی اور اسلام کی عظمت کو دلوں میں قائم کرنے والی ہے۔
اس کتاب نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اذہان اور مختلف زبانیں بولنے والے دانشمندوں کے خیالات میں جو مثبت انقلاب برپا کیا ہے اُس کی چند مثالیں عرض ہے کہ ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں بیان شدہ مضمون کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں بہت سے عرب علماء بھی شامل ہیں۔
حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ عنہ ایک بار دلّی میں مسز سروجنی نائیڈو سے ملنے گئے جو کانگریس کی صف اوّل کی لیڈر تھیں۔ وہ ہندوستان کی آزادی کے وقت ایک صوبے کی گورنر بھی رہیں، انگریزی کی بہت اچھی شاعرہ تھیں اور ’’بلبل ہند‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔ حضرت چوہدری صاحبؓتبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ آپؓبیان فرماتے ہیں کہ موصوفہ سے میں نے کہا کہ آپ کرشن اوّل کو تو مانتی ہیں کرشن ثانی کو کیوں نہیں مانتیں؟ مسز نائیڈو نے اپنے نوکر کو آواز دے کر کہا میرے سرہانے کے نیچے جو کتاب ہے وہ اٹھا لاؤ۔ نوکر کتاب لے کر آیا اور مسز نائیڈو کی طرف بڑھائی۔ انہوں نے کہا یہ چوہدری صاحب کو دو۔ چودھری صاحبؓنے اسے کھولا تو معلوم ہوا کہ وہ ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ آپؓکے چہرے پر حیرت اور خوشی کی لہر دیکھ کر مسز نائیڈو نے کہا: کیا آپ اب بھی کہتے ہیں کہ مَیں کرشن ثانی کو نہیں مانتی؟
قارئین محترم! اس شاندار کتاب کے تعارفی کلمات کے علاوہ چند مثالیں پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص تائید کے ساتھ سلطان القلم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ و السلام کے قلم سے جو مضمون رقم کروایا تھا اور جس نے گزشتہ سوا سو سال میں ہر قوم کے نیک طبع قلوب اور پاکیزہ اذہان میں اسلام کی حقّانیت کا بیج بویا ہے اور اہلِ ایمان میں تعلق باللہ کے پودے کی آبیاری کی ہے، یہ وہ الٰہی تائیدیافتہ کلام ہے جو سوا سو سال پہلے بھی غالب تھا، آج بھی ہے اور قیامت تک ادیانِ عالَم پر دین اسلام کی صداقت اور قرآن کریم کی برتری کی مُہر ثبت کرتا چلا جائے گا۔ اور بلاشبہ اِس زمانہ میں یہ بھی اُن تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے مسیح محمدیؑ نے اپنے غلاموں کے ہاتھوں میں دے کر یہ اعلان فرمایا تھا:
’’اَللہ اَکْبَر۔ خَرِبَتْ خَیْبَر‘‘
اب مَیںاس مضمون اسلام کے بطل جلیل حضرت مسیح موعودؑکے موعود بیٹے کی جانب کو لے جانا چاہتا ہوں جنہوں نےنہ صرف بر صغیر میں بلکہ انگلستان جاکر 1924 میں ویمبلے کانفرنس میں اسلام کی حسین تعلیم کو ایسے پیرائے میں پیش کیا کہ غیر بھی اس مضمون سےمتاثر ہوئے بغیر رہ نہ سکے اور برملا کہہ اُٹھے کہ اس کانفرنس کا سب سے زیادہ بہترین اور اعلیٰ مضمون یہی ہے جو اسلام کی جانب سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓکی طرف سے پیش کیا گیا ہے ۔
۲۳؍ ستمبر۱۹۲۴ء کادن سرزمین انگلستان کا وہ سنہری دن ہے جب امپیریل انسٹی ٹیوٹ لندن میں منعقدہ کانفرنس میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ کے رقم فرمودہ مضمون کا انگریزی ترجمہ حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓنے پڑھ کر سُنایا۔ اجلاس سر تھیو ڈور ماریسن
(Sir Theodore Morison)
کی صدارت میں ہوا۔ اگرچہ حضور ؓکے مقالہ کا وقت پانچ بجے شام مقرر کیا گیا تھا اور سامعین اس سے قبل اڑھائی گھنٹے تک اسلام کے بارہ میں چند لیکچرز سن بھی چکے تھے لیکن حضورؓ کا وقت شروع ہونے پر نہ صرف یہ کہ موجود سامعین اپنی جگہ سے نہ ہلے بلکہ بہت سے نئے لوگ ہال میں آگئے اور ہال کھچاکھچ بھر گیا۔ حضور مع خدام سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ صاحبِ صدر کی طرف سے دعوتِ خطاب پر حضور نے کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ حضور کا مضمون حضور ؓکے مرید چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب بارایٹ لاء پڑھ کر سنائیں گے اور ازراہ شفقت حضورؓ نے محترم چودھری صاحب کے کان میں فرمایا:
’’گھبرانا نہیں۔ مَیں دُعا کروں گا۔‘‘
حضرت چودھری صاحبؓنے نہایت عمدہ لہجہ میں اور بہت روانی کے ساتھ مضمون پڑھا جس سے حاضرین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی مضمون میں مختلف پہلوئوں سے اسلامی تعلیمات ، غلامی، سود، تعددازدواج وغیرہ امور پر نہایت مؤثر رنگ میں روشنی ڈالی گئی تھی، تمام مردوں اور خواتین نے نہایت محویت کے عالم میں مضمون سنا اور مضمون ختم ہونے پر ہرایک نے لمبے وقت تک دادو تحسین کا اظہار کیا حتیٰ کہ صاحب صدر کو اپنی صدارتی تقریر شروع کرنے میں دیر لگ گئی۔ مسٹر تھیو ڈور ماریسن صدر اجلاس نے شاندار الفاظ میں حضورؓ کو مضمون کی نہایت اعلیٰ کامیابی پر مبارک باد دی اور اقرار کیا کہ حضور کا مضمون بہترین مضمون تھا۔
(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 452)
اجلاس ختم ہونے پر سر تھیوڈر ماریسن دیر تک سٹیج پر کھڑے کھڑے مختلف باتیں کرتے رہے۔ اور بار بار مضمون کی تعریف کرتے رہے۔ مضمون کے پڑھنے پر لوگوں نے مکرم چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی بہت مبارکباد دی۔
چنانچہ (فری چرچ کے ہیڈ) ڈاکٹر والٹر واش نے جو خود فصیح البیان لیکچرار تھے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا۔
’’میں نہایت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ لیکچر سننے کا موقعہ ملا۔ قانون کے ایک پروفیسر نے بیان کیا کہ جب وہ مضمون سن رہا تھا تو یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ دن گویا ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہے پھر کہا اگر آپ لوگ کسی اور طریق سے ہزاروں ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی زبردست کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔‘‘
ایک پادری منش نے کہا تین سال ہوئے مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ’’ حضرت مسیح تیرہ حواریوں کے ساتھ یہاں تشریف لائے ہیں اور اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ خواب پورا ہو گیا ہے‘‘
(بحوالہ الفضل 30؍ستمبر 1924ء صفحہ6 الف)
مس شارپلز (کانفرنس کی سیکرٹری) نے کہا کہ’’ لوگ اس مضمون کی بہت تعریف کرتے ہیں اور خود ہی بتایا کہ ایک صاحب نے ہزہولی نیس (خلیفۃ المسیح الثانی) کے متعلق کہا یہ اس زمانہ کا لوتھر معلوم ہوتا ہے بعض نے کہا ان کے سینہ میں ایک آگ ہے۔ ایک نے کہا یہ تمام پرچوں سے بہتر پرچہ تھا۔‘‘
ایک جرمن پروفیسر نے جلسہ کے بعد سڑک پر چلتے ہوئے آگے بڑھ کر حضور کی خدمت میں مبارکباد عرض کی اور کہا ’’ میرے پاس بعض بڑے بڑے انگریز بیٹھے کہہ رہے تھے یہ نادر خیالات ہیں جو ہر روز سننے میں نہیں آتے۔‘‘
مسٹر لین نے جو انڈیا آفس میں ایک بڑے عہدیدار تھے تسلیم کیا کہ خلیفۃ المسیح کا پرچہ سب سے اعلیٰ اور بہترین پرچہ تھا
( الفضل 13 اکتوبر 1924ء صفحہ4،5)۔
پریس نے بھی اس عظیم الشان لیکچر کی نمایاں خبریں شائع کیں اور اس کی عظمت کا اقرار کیا۔ چنانچہ ’’مانچسٹر گارڈین‘‘ نے (24 ستمبر1924ء کی اشاعت میں) لکھا۔
’’اس کانفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ جو اس وقت ظاہر ہوا وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقہ کا ذکر تھا۔ نئے فرقہ کا لفظ ہم نے آسانی کے لئے اختیار کیا ہے ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ اس فرقہ کی بنا ان کے قول کے بموجب آج سے چونتیس سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائبل اور دوسری کتابوں میں ہے اس سلسلہ کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صریح الہام کے ماتحت اس سلسلہ کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ وہ نوع انسان کو اسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچائے۔ ایک ہندوستان کے باشندے نے جو سفید دستار باندھے ہوئے ہے اور جس کا چہرہ نورانی اور خوش کن ہے اور سیاہ داڑھی رکھتا ہے اور جس کا لقب ہزہولی نس خلیفۃ المسیح الحاج میرزا بشیر الدین محمود احمد یا اختصاراً خلیفۃ المسیح ہے مندرجہ بالا تحدی اپنے مضمون میں پیش کی۔ جس کا عنوان ہے ’’اسلام میں احمدیہ تحریک‘‘… آپ کے ایک اور شاگرد نے جو سرخ رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھا۔ آپ کا پرچہ کمال خوبی کے ساتھ پڑھا … آپ نے اپنے مضمون کو جس میں زیادہ تر اسلام کی حمایت اور تائید تھی۔ ایک پرجوش اپیل کے ساتھ ختم کیا۔ جس میں انہوں نے حاضرین کو اس نئے مسیح اور اس نئی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے مدعو کیا۔ اس بات کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین و خوشنودی کا چیئرز کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کسی پرچہ پر ایسا نہیں کیا گیا تھا‘‘۔
(الفضل 18نومبر 1924ء صفحہ2)
برطانوی پریس میں چرچا
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جس دن سفر یورپ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ برطانوی پریس میں آپ کی آمد کی خبریں شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ مگر لندن میں ورود کے بعد تو مصور اور غیر مصور اخبارات نے اتنی کثرت سے آپ کے فوٹو اور حالات وغیرہ شائع کئے کہ ایک متعصب رومن کیتھولک اخبار کو لکھنا پڑا کہ تمام برطانوی پریس سازش کا شکار ہو گیا ہے۔
( الفضل 28 دسمبر 1939ء صفحہ66)
اور کئی لوگوں نے برملا اظہار کیا کہ پریس نے اتنی اہمیت اور شہرت لنڈن میں آنے والے کسی بڑے سے بڑے لارڈ کو بھی نہیں دی۔
( الفضل 2؍اکتوبر 1924ء صفحہ2)
جتنی آپؓکی تشریف آوری پر پریس کے علاوہ فلموں میں آپ کے اور آپؓکے رفقاء کے مناظر دکھائے گئے اس طرح خدا نے انگلستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آپؓکی شہرت کا خود ہی سامان فرما دیا۔
(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 446)
واقعاتی و علمی مشابہت
مابین دونوں کانفرنس
اب میں قارئین کی توجہ ہر دو کانفرنس کے درمیان ہونے والے واقعات کی مشابہت کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ حیرت انگیز طور پر دونوں کانفرنس میں جو واقعات رونما ہوئے ان میں کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔
مشابہت اول :
حضرت اقدس ؑ کی کتاب’ اسلامی اصول کی فلاسفی ‘ اور حضرت مصلح موعود ؓ کی کتاب ’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کا مطالعہ کیا جائے تو ان دونوں میں بھی کافی مشابہت نظر آتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام نے ایک موقع پر فرمایا :
’ہم چاہتے ہیںکہ یورپ امریکہ کے لوگوں پر تبلیغ کا حق ادا کرنے کے واسطے ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی جاوے اور یہ آپ کا کام ہے۔ آجکل جو ان ملکوں میں اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کمزوری کی حالت میں رہتا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جاوے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیا ہے۔ وہ امتیازی باتیں جو کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ میں رکھی ہیں۔ وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں اور خداتعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور ان سب باتوں کو جمع کیا جاوے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اس زمانہ میں وابستہ ہے۔ ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کیا جاوے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔ اس طرح ایک جامع کتاب تیار ہو جاوے تو امید ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو۔
(بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخہ ۲۱؍ فروری ۱۹۰۷ءصفحہ ۴)
ایک اور جگہ فرمایا کہ
میں چاہتا ہوں کہ ایک کتاب تعلیم کی لکھوں اور مولوی محمد علی صاحب اس کا ترجمہ کریں۔ اس کتاب کے تین حصے ہوں گے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہمارے کیا فرائض ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے نفس کے کیا کیا حقوق ہم پر ہیں اور تیسرے یہ کہ بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں۔
(ملفوظات جلد نہم صفحہ 155)
دوسری جانب کتاب ’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کا انگریزی ملخص ترجمہ ’ احمدیہ موومنٹ‘ کے نام سے جلسہ میں پڑھی گئی۔اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش پوری ہوئی کہ یورپ اور امریکہ کے لوگوں میں تبلیغ ہو اور انہیں اسلام کی تعلیم سے آگاہی ہو۔
مشابہت دوم :
ہر دو جلسوں کے انعقاد کی بنیاد غیر مسلوں کی جانب سے ہوئی۔ مشرق میں سوامی شوگن چندر نے لاہور میں جلسہ مذاہب عالم کے انعقادکی تجویز پیش کی اور تمام مذاہب کے پیشوایان کو مدعو کیا تو مغرب میں سوشلسٹ لیڈر مسٹر ولیم لوفٹس ہیرMr.William Loftus Hare نے یہ تجویزپیش کی ا ور تمام مذاہب کے پیشوایان کو مدعو کیا۔
مشابہت سوم :
دونوں کتابوں کا پس منظر مذاہب عالم کانفرنس تھا۔ ایک کانفرنس مشرقی دُنیا کے لئے اردو زبان میں ہوئی تھی جبکہ دوسری کانفرنس مغربی دُنیا میں انگریزی زبان میں ہوئی تھی۔ چنانچہ ’ اسلامی اصول کی فلاسفی ‘ کے تعلق سے خالد احمدیت حضرت مولانا جلا ل الدین شمس صاحب فرماتے ہیں کہ :
’’سوامی شوگن چندر صاحب نے کمیٹی کی طرف سے جلسہ کا اشتہار دیتے ہوئے مسلمانوں، عیسائیوں اور آریہ صاحبان کو قسم دی کہ اُن کے نامی علماء ضرور اس جلسہ میں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان فرمائیں اور لکھا کہ جو جلسۂ اعظم مذاہب کا بمقام لاہور ٹائون ہال قرار پایا ہے اس کی اغراض یہی ہیں کہ سچے مذہب کے کمالات اور خوبیاں ایک عام مجمع مہذبین میں ظاہر ہو کر اُس کی محبت دلوں میں بیٹھ جائے اور اُس کے دلائل اور براہین کو لوگ بخوبی سمجھ لیں۔ اور اس طرح ہر ایک مذہب کے بزرگ واعظ کو موقع ملے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائیاں دوسرے کے دلوں میں بٹھا دے اور سننے والوں کو بھی یہ موقع حاصل ہو کہ وہ ان سب بزرگوں کے مجمع میں ہر ایک تقریر کا دوسرے کی تقریر کے ساتھ موازنہ کریں اور جہاں حق کی چمک پاویں اُس کو قبول کر لیں۔‘‘
(روحانی خزائن جلد 10 پیش لفظ صفحہ 9)
ٹھیک اسی طرح کتاب ’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کے پس منظر میں ہونے والے مذہبی کانفرنس کے تعلق سے مورخ احمدیت مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے فرمایا کہ
’’شروع ۱۹۲۴ء میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے سلسلہ میں سوشلسٹ لیڈر مسٹر ولیم لوفٹس ہیر Mr.William Loftus Hare نے یہ تجویز کی کہ اس عالمی نمائش کے ساتھ ساتھ ایک مذاہب کا نفرنس بھی منعقد کی جائے جس میں برطانوی مملکت کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں۔ نمائش سے منتظمین جن میں مستشرقین بھی شامل تھے نے اس خیال سے اتفاق کیا اور لندن یونیورسٹی کے مدرسہ علوم شرقیہ (The School of Oriental Studies) کے زیر انتظام کا نفرنس کے وسیع پیمانہ پرانعقاد کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 4 ص 422 مطبوعہ قادیان 2007)
چنانچہ مقصد بعثت مسیح موعودکے لئے احرار یورپ کے مزاج کو سازگار کیا جا رہا تھا۔
مشابہت چہارم :
عند اللہ مقبولیت کے اظہار کے لحاظ سے بھی دونوں کتابوں میں مشابہت ثابت ہے۔ چنانچہ کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح بشارتیں مل چکی تھیںاور اس مضمون کے دیگر مذاہب کے مضمون پر بالا رہنے کی بھی خبر دی گئی تھی ، نہ صرف یہ بلکہ حضرت اقدس ؑنے اس بارہ میں فرمایا تھا کہ
میں نے اس مضمون کے سطر سطر پر دعا کی ہے( بروایت حضرت منشی جلا ل الدین صاحب بلانوی ؓ تتمہ سیرۃ المہدی صفحہ 361 )
ٹھیک اسی طرح کتاب ’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کا بھی روحانی پس منظر حضرت مصلح موعود ؓ خود فرماتے ہیں کہ
’’اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بہت اچھا بولنے کی توفیق دی ہوئی ہے ۔ میں سمجھتا ہوںبہت سے آدمیوںکی نسبت میں اچھا اور بعض سے بہت اچھا بول سکتا ہوں ۔ مگربعض باتیں اپنے اندر ایسی روحانی لہر رکھتی ہیں جو عام باتوں سے ممتاز ہوتی ہیں۔ بعض تحریرات اور تصنیفات میںمیرے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوا ہے۔ چنانچہ احمدیت (احمدیت یعنی حقیقی اسلام ۔ناقل )اور دعوۃ الامیر کے بعض حصے ایسے ہیں جنکے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ خدائی تائید شامل ہے اور وہ انسانی الفا ظ نہیں رہے بلکہ خدا تعالیٰ کے القاء کر دہ الفاظ ہو گئے ہیں ۔‘‘
( انوار العلوم جلد 14 صفحہ 143مطبوعہ قادیان)
نیز یہ بھی فرمایا کہ
’’۱۹۲۴ء میں امنِ عامہ کے قیام کے متعلق خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے کتاب ” احمدیت‘‘ (احمدیت یعنی حقیقی اسلام ) میں ایک ایسا عظیم الشان انکشاف کیا کہ میں یقینا سےکہہ سکتا ہوں کہ ایسا عظیم الشان اظہار گزشتہ تیرہ سوسال میں پہلے مفسرین میں سے کسی نے نہیں کیا اور یقینا وہ ایسی تعلیم ہے کہ گو اس قسم کا دعوی کرنا میری عادت کے خلاف ہے مگر میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اس قسم کا انکشاف سوائے نبیوں اور ان کے خلیفوں کے آج تک کبھی کسی نے نہیں کیا اگر کیا ہو تو لاؤ مجھے اُس کی نظیر دکھاؤ۔
(نظام نو صفحہ 121)
مشابہت پنجم:
دونوں کتابوں کے پڑھنے کے بعد تمام حاضرین نے برملا اعتراف کیا کہ یہ مضمون تمام مضمون پر بالا ہے۔
مشابہت ششم :
کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی اور کتاب ’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کے پڑھے جانے کے وقت لوگوں کا جم غفیر اس قدر غیر معمولی طور پر موجود تھا جو دوسرے مذاہب کے مضمون پڑھے جانے پر نہیں تھا ۔
مشابہت ہفتم :
کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی اور کتاب ’احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کے پڑھے جانے کے وقت دونوں جلسوں میں لوگوں کی محویت کا عجیب عالم تھا ۔لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی پر تبصرہ بیان کرتے ہوئے محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم فرماتے ہیں کہ:
’’جس وقت یہ تقریر حضرت مولوی عبدالکریمؓسیالکوٹی نہایت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ اُس وقت کا سماں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسی مذہب کا کوئی شخص نہیں تھا جو بے اختیار تحسین و آفرین کا نعرہ بلند نہ کر رہا ہو۔ کوئی شخص نہ تھا جس پر وجد اور محویّت کا عالم طاری نہ ہو۔ طرزِ بیان نہایت دلچسپ اور ہر دلعزیز تھا۔ اس سے بڑھ کر اس مضمون کی خوبی اور کیا دلیل ہو گی کہ مخالفین تک عش عش کر رہے تھے۔ مشہور و معروف انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ لاہور نے باوجود عیسائی ہونے کے صرف اِسی مضمون کی اعلیٰ درجہ کی تعریف لکھی اور اِسی کو قابلِ تذکرہ بیان کیا۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی ۔ پیش لفظ صفحہ ج مطبوعہ قادیان2001)
مورخ احمدیت مولانا دوست محمد صاحب شاہد ’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کے پڑھے جانے کے وقت کی کیفیت کے بارے میںلکھتے ہیں کہ
’’ حضرت چودھری صاحبؓنے نہایت عمدہ لہجہ میں اور بہت روانی کے ساتھ مضمون پڑھا جس سے حاضرین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی ۔ مضمون میں مختلف پہلوئوں سے اسلامی تعلیمات ، غلامی، سود، تعددازدواج وغیرہ امور پر نہایت مؤثر رنگ میں روشنی ڈالی گئی تھی، تمام مردوں اور خواتین نے نہایت محویت کے عالم میں مضمون سنا ۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 452)
مشابہت ہشتم:
دونوں جلسوں میں تمام مذہب کے مقررین کو پابند کیا گیا تھا کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیوں کو حاضرین کے سامنے پیش کرنا ہے کسی دوسرے مذاہب پر حملہ نہیں کرنا ہے۔
مشابہت نہم :
دونوں جلسوں میں جو مضمون پیش کیا گیا تھا وہ اسلامی تعلیمات کا شاہکار تھا۔ لاہور میں حضرت مسیح موعود ؑ کا جو مضمون پڑھا گیا وہ لاثانی تھا اور اسلامی تعلیمات کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے تو دوسری جانب حضرت مسیح موعود ؑ کے موعود بیٹے حضرت مصلح موعود ؓکا جو مضمون پیش کیا گیا وہ حضرت مسیح موعودؑ کی جانب سے پیش کئے گئے مضمون کی گویاتفسیر تھی۔
مشابہت دہم :
ہر دو جلسوں میں ہر دو مصنفوں نے مضمون کو خود نہیں پڑھا بلکہ ان کے مرید وں نے یہ مضمون نہایت لطیف پیرائے میں پیش کیا۔
لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی پر تبصرہ کرتے ہوئے محترم مولانا جلال الدین شمس صاحب مرحوم فرماتے ہیں کہ
( حضرت اقدس علیہ السلام نے) بیماری کے باوجود ایک مضمون قلمبند کرنا شروع کیا جسے حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے جلسے میں پڑھ کر سنانا تھا۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی پیش لفظ مطبوعہ قادیان 2001)
مضمون ’احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘کو حضرت سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓنے نہایت اعلیٰ پیرایہ میں پیش کیا ۔
(تاریخ احمدیت جلد4 صفحہ 452)
مشابہت یاز دہم :
دونوں مقررین تقریر کرنے سے قبل بیمار تھےلیکن اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے عین موقع پر وہ اس قدر صحت یاب ہوئے کہ تقریر میں ایک سماں باندھ دیا۔حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؓبیماری کے باوجود لاہور تشریف لے آئے اور حضورؑ کی خواہش کے مطابق مضمون پڑھنے کے لیے تیار ہوگئے۔
تاریخ احمدیت میں مذکور ہے کہ چوہدری صاحب ایک دن پہلے حلق کی خراش کی وجہ بیمار تھے مگر اللہ تعالیٰ نے روح القدس سے ان کی تائید فرمائی
(تاریخ احمدیت جلد4 صفحہ 452)
مشابہت دوازدہم :
دونوں جلسوں کی رپورٹنگ ایک ہی شخص محترم حضرت بھائی عبد الرحمٰن قادیانیؓ نے کی تھی۔(بحوالہ تتمہ سیرت المہدی جلد دوم ص 345 ، اور بحوالہ کتاب سفر یورپ ) دونوں خطاب ، کتابی صورت میں ’ اسلامی اصول کی فلاسفی ‘ او ر ’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔
مشابہت سیز دہم:
دونوں جلسوں میں نہایت اعلیٰ طبقہ کے لوگ موجود تھے جو ان دونوں مضمون کو سننے کے لئے نہایت بے قراری سے حاضر ہوئے تھے ۔ کانفرنس کے سیکرٹری دھنپت رائے بی ۔اے، ایل ایل بی پلیڈر چیف کورٹ پنجاب کتاب ’’رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب‘‘ (دھرم مہو تسو) میں اِس تقریر سے متعلق لکھتے ہیں:
’’پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا ۔لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل ِاسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا اس لئے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ ڈیڑھ بجنےمیں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھرنے لگا اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پُر ہو گیا۔ اس وقت کوئی سات اور آٹھ ہزار کے درمیان مجمع تھا۔ مختلف مذاہب و مِلَل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتدبہ اور ذی علم آدمی موجود تھے اگرچہ کُرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیّا کیا گیا لیکن صد ہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا۔ اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤساء ، عمائد پنجاب، علماء ، فضلاء، بیرسٹر ، وکیل، پروفیسر ، اکسٹر ا اسسٹنٹ ، ڈاکٹر، غرض کہ اعلیٰ طبقہ کے مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔
(رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۷۹،۸۰ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ء)
اسی طرح ویمبلے کانفرنس میں بھی مختلف مذاہب و مِلَل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتدبہ اور ذی علم آدمی موجود تھے۔
مشابہت چہار دہم :
دونوں جلسوں میں پیش کئے مضمون کا ترجمہ حضرت سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓنے کیا تھا۔ اسلامی اصول کی فلاسفی کا شروع میں انگریزی ترجمہ خواجہ کمال الدین صاحب نے کیا تھا جو کہ تشنہ تھا۔ مکرم منیر الدین شمش صاحب ایڈیشنل وکیل التصنیف لنڈن ، کتاب ’اسلامی اصول کی فلاسفی ‘کے Foreword to the Revised Edition 2010میں لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒنے مکرم چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓکو حکم دیاکہ کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا از سر نو انگریزی ترجمہ کریں۔لہٰذا یہ ترجمہ 1979 میں پہلی بار شائع ہوا ۔ آج جوانگریزی نسخہ ہمارے ہاتھوں میں ہے ، وہ حضرت سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ کا ترجمہ کردہ ہے۔
اسی طرح کتاب’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘ کا انگریزی ترجمہ مکرم چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓنے کیا تھا جو احمدیہ موومنٹ کے نام سے موسوم تھااور جلسہ میں پڑھا گیاتھا۔
مشابہت پانژ دہم :
دونوں جلسوں کی کاروائی کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ کے اور آپؑکے موعود بیٹے حضرت مصلح موعود ؓکے مضمون کو ملکی اخبارات نے خوب خراج تحسین پیش کی ۔
لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی پر تبصرہ بیان کرتے ہوئے محترم مولانا جلال الدین شمس مرحوم فرماتے ہیں کہ:
’’پنجاب آبزرور‘‘ نے اس مضمون کی توصیف میں کالموں کے کالم بھر دیئے۔ پیسہ اخبار، چودھویں صدی، صادق الاخبار ، مخبر دکن و اخبار ’’جنرل وگوہر آصفی ‘‘ کلکتہ وغیرہ تمام اخبارات بالاتفاق اِس مضمون کی تعریف و توصیف میں رطبُ اللِّسان ہوئے
(اسلامی اصول کی فلاسفی ۔ پیش لفظ صفحہ ’ د ‘ مطبوعہ قادیان2001)
پریس نے بھی اس عظیم الشان لیکچر (احمدیت یعنی حقیقی اسلام ) کی نمایاں خبریں شائع کیں اور اس کی عظمت کا اقرار کیا۔جس میںسے صرف ایک اخبار کا تبصرہ پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ’’مانچسٹر گارڈین‘‘ نے24ستمبر 1924ء کی اشاعت میں لکھا:
’’ ایک ہندوستان کے باشندے نے جو سفید دستار باندھے ہوئے ہے اور جس کا چہرہ نورانی اور خوش کن ہے اور سیاہ داڑھی رکھتا ہے اور جس کا لقب ہزہولی نیس خلیفۃ المسیح الحاج میرزا بشیر الدین محمود احمد یا اختصاراً خلیفۃ المسیح ہے مندرجہ بالا تحدی اپنے مضمون میں پیش کی۔ جس کا عنوان ہے ’’اسلام میں احمدیہ تحریک‘‘… آپ نے اپنے مضمون کو جس میں زیادہ تر اسلام کی حمایت اور تائید تھی۔ ایک پرجوش اپیل کے ساتھ ختم کیا۔ جس میں انہوں نے حاضرین کو اس نئے مسیح اور اس نئی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے مدعو کیا۔ اس بات کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین و خوشنودی کا چیئرز کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کسی پرچہ پر ایسا نہیں کیا گیا تھا‘‘۔
(بحوالہ الفضل 18نومبر 1924ء صفحہ2)