اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاخطاب" احمدیت یعنی حقیقی اسلام" پس منظر ودیر پا اثرات (مکرم منیر احمد خادم صاحب ، ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد جنوبی ہند قادیان )

أَشْهَدُ أنْ لَا إلَٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔بسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ۥۙ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّیْنَ۔
قابل احترام صدجلسہ اور معزز حاضرین جیسا کہ آپ نے سن لیا ہے خاکسار کو آج سے ٹھیک سو سال قبل سیدنا حضرت اقدس المصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اس جلیل القدر خطاب کے متعلق کچھ عرض کرنا ہے جو اسلام کی حقانیت وصداقت کے اظہار کے لئے آپ نے لندن کے امپیریل انسٹیٹیوٹ لندن میں ہزاروں دانشور وں کے روبرو ارشاد فرمایا تھا۔
اس خطاب کے متعلق کچھ عرض کرنے سے قبل خاکسار سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف اس موقع پر پیش کرنا چاہتا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔
"ایسا ہی طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہوگاہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رئویا میں ظاہر کیا گیا ہے وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گےاور ان کو اسلام سے حصہ ملےگااور میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک ممبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھےاور ان کے رنگ سفید تھےاورشاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہوگا ۔سو میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔"
(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 376-377 بحوالہ تذکرہ صفحہ 48)
اس رئویا کی صداقت اس طرح ظاہر ہوئی کہ شروع 1924 میں انگلستان کے شہر ویملے نمائش کے سلسلہ میں سوشلسٹ لیڈر سر ولیم لافنس ہیرے نے یہ تجویز کی کہ اس عا لمی نمائش کے ساتھ ساتھ ایک مذاہب کانفرنس بھی رکھی جائے جن میں برطانوی مملکت کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کودعوت دی جائے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوکر اپنے اپنے مذاہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں ۔کانفرنس کا مقام امپیریل انسٹی ٹیوٹ لندن مقرر کیا گیا اور 22 ستمبر 1924 سے 3 اکتوبر 1924 تک کی تاریخیں اس کے لئے تجویز کی گئیں۔ مقررین میں ہندو مت ۔اسلام ۔بدھ ازم۔ پارسی مذہب ۔چینی مذہب۔سکھ ازم۔ تصوف۔برھمو سماج۔آریہ سماج۔کنفیوشس ازم کو دعوت دی گئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو جب کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے دعوت نامہ ملا تو آپ نے اس کو تبلیغ اسلام کے لئے ایک موقع غنیمت جانتے ہوئے دعائوں اور مشوروں کے ساتھ لندن جانے کا فیصلہ فرمایا۔حضور کے اس دورہ کے نتیجہ میں اور لیکچر کے ذریعہ جہاں اسلام کی وسیع تبلیغ کا آغازہو ا وہیں حضور اقدس رضی اللہ عنہ نے یورپ میں موجود احمدیوں مشنوں اور یورپ میں دعوت اسلام کے منصوبوں کے حوالہ سے ایک وسیع منصوبہ بھی تشکیل دیا۔
حضور اقدس رضی اللہ عنہ نےاس کانفرنس کے حوالہ سے بعض خوابیں بھی دیکھیں جن کا اس موقع پر تذکرہ ضروری ہے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نےرویا میں دیکھاکہ آپ لندن میں ہیں اور ایک جلسہ میں شامل ہیں مسٹر لائڈ جارج (سابق برطانوی وزیر اعظم)اس جلسہ میں تقریر کر رہے ہیں کہ یکدم ان کی حالت بدل گئی اور انہوں نے دھشت زدہ ہوکر کہا کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ "مرزا محمود"امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آرہی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھا رہاہے۔
دوسری رئویا میں (جو کانفرنس کی تحریک سے دو تین ماہ پہلے کی تھی)آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا " میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں جس طرح کہ کوئی شخص تازہ وارد ہوتاہےاور میرالباس جنگی ہے۔میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں…اس وقت میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہےاور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبر جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہیئے اتنے میں ایک آواز آئی william the conqueror (یعنی ولیم اولوالعزم فاتح)ان خوابوں سے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی رویا سے صاف واضح ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا یہ دورہ انگلستان اور آپ کا لیکچر نہ صرف کامیابی سے ہمکنار ہوگا بلکہ دیگر مذاہب کے مقابلہ پر اس کو عظیم الشان فتح بھی حاصل ہوگی۔ بالکل اسی طرح جس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کالیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی جو 1896 میں پڑھا گیاتھااور اللہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے غالب رہنے اور بالا رہنے کے متعلق پہلے سے بتا دیا تھا ۔ چنانچہ اس کے لئے حضور اقدس رضی اللہ عنہ نے اپنا لیکچر "احمدیت یعنی حقیقی اسلام "لکھنا شروع کیا یہ مضمون حضور اقدس رضی اللہ عنہ نے24 مئی 1924 کو لکھنا شروع کیا اور صرف 13 دن میں 6 جون 1924 کو مکمل کیا۔اور پھر کانفرنس میں اس کا خلاصہ جو خود حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی ترتیب دیا تھا 23دسمبر کو پڑھا گیا جو حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزی میں پڑھ کر سنایا۔اس عظیم الشان مضمون کے متعلق بین الاقوامی دانشوروں نے کیا آراء پیش کیں انشاء اللہ اس حوالہ سے تقریر کے آخر میں عرض کروں گا۔سردست یہ عرض کرتا ہوں کہ انگلستان کا سفر نہایت دعائوں اورگریہ زاری کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے 12 جولائی 1924 کو شروع فرمایا سفر سے قبل آپ رضی اللہ عنہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر تشریف لے گئے اور پھر 12 جولائی کو صبح 8 بجے بیت الدعا میں ایک لمبی دعا کرائی اور اپنی والدہ محترمہ حضرت ام المئومنین رضی اللہ عنہاسے دیر تک معانقہ فرمایااور پھر موجود الوقت احباب سے جوکہ آپ رضی اللہ عنہ کے الوداع کے لئے دورویہ ۔۔قطار میں کھڑے تھے مصافحہ فرمایا ۔ بعد ملاقات آپ رضی اللہ عنہ اس مبارک سفر کے لئے تشریف لے گئے۔
اس سفر میں حضور رضی اللہ عنہ ریل سے بمبئی پہنچے اور بمبئی سے بذریعہ بحری جہازعدن کے لئے روانہ ہوئے عدن سے پورٹ سعید اور پھر قاھرہ سے بیت المقدس ۔بیت المقدس سے شام اور پھر لندن پہنچے۔
آپ رضی اللہ عنہ کےاس سفر کے ذریعہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور رویا بھی پوری ہوئی۔لندن میں حضور رضی اللہ عنہ نے کئی ہفتے قیام فرمایا اور اس اثناء میں وہاں تبلیغ اسلام کے حوالہ سے بہت سے منصوبے پیش فرمائے برطانوی پریس میں حضور رضی اللہ عنہ کی آمد آپ کی شخصیت کا اور آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام کو یورپ میں پھیلانے کے عزم کا ایک وسیع چرچا ہوا۔اور بعض متعصب کیتھولک اخبارات نے لکھا کہ یہ عیسائیت کے خلاف ایک سازش ہے اور بعض نے لکھا کہ برطانیہ میں آنے والے کسی لارڈ کو بھی اتنی کوریج نہیں دی جاتی جتنی امام جماعت احمدیہ کو دی گئی اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسی اثنا ء میں افغانستان میں جماعت احمدیہ کے ایک نوجوان مبلغ حضرت نعمت اللہ خان صاحب کو احمدی مبلغ ہونے کے جرم میں دھوکہ سے گرفتار کرکے سنگسار کر دیا گیا۔اس شہادت کے نتیجہ میں بھی اخبارات اور ریڈیو میں حضور اقدس کی آمد اور جماعت احمدیہ کا وسیع چرچا ہوا اور ایک وسیع تبلیغ کا آغاز ہو گیا۔اسی دوران حضور رضی اللہ عنہ نےبرطانیہ کے پہلی مسجد ـ" مسجد فضل "کا سنگ بنیاد 19 اکتوبر 1924ء کو رکھا ۔ اس کے بنیادی پتھر پر یہ عبارت درج کرائی:۔
"میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ جس کا مرکز قادیان پنجاب ہندوستان ہے خدا کی رضاکےحصول کے لئے اور اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کا ذکر انگلستان میں بلند ہو اور انگلستان کے لوگ اس برکت سے حصہ پائیں جو ہمیں ملی ہے آج 20ربیع الاول1343ھ بمطابق 19 اکتوبر 1924 کو اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھتا ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ ۔۔۔اس مسجد کو نیکی تقویٰ انصاف اور محبت کے پھیلانے کا مرکز بنا دے اور یہ جگہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین اور حضرت مسیح موعود نبی اللہ بروز ونائب محمد علیھماالسلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لئے روحانی سورج کا کام دے۔
اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اللہ کی یہ دعا اور یہ خواہش من وعن پوری ہوئی اور مسجد فضل جہاں سے ایم ٹی اے کی نشریات کا آغازہوا اور اس کے ذریعہ اسلام کی نورانی کرنیں آج پوری دنیا میں پھیل رہی ہیں ۔
جیساکہ عرض کیا جا چکا ہےویمبلے کانفرنس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا مضمون بعنوان احمدیت یعنی حقیقی اسلام انگریزی میں پڑھا گیا جو حضرت چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ نے نہایت فصیح انداز میں پڑھ کر سنایا جس کی دلجمعی سامعین میں شروع سے آخر تک رہی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حضرت چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ کے کان میں فرمایا آپ مضمون پڑھیں میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں ۔
اب خاکسار اس مضمون کا خلاصہ کسی قدر اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔آپ نے فرمایا:۔
آخری زمانہ میں ہر ایک مذہب کے پیشوا نے ایک آنے والے نبی کی بشارت دی ہے اور فرمایا کہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام جو مسلمانوں کے لئے امام مہدی اور عیسائیوں کے لئے مسیح ہیںآپ دراصل وہی موعود نبی ہیں جن کی پوری دنیا منتظر ہے اور آپ نے ہی قرآن مجید کی صحیح تعلیم کو اور اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش فرمایا ہے۔پھر فرمایا مذہب کی بڑی غرضیں چار ہیں :۔
اول یہ کہ وہ انسان کو اس کے مبداکے متعلق علم دے یعنی اس کے پیدا کرنے اور اس کے وجود میں لانے والے کے متعلق ان کو صحیح عقائد بتائےتا کہ وہ اس خزائنہ قوت وطاقت سے فائدہ حاصل کرنے سے محروم نہ رہ جائے
(1)۔خدا تعالی کی ذات اور صفات کے متعلق اصل حقیقت کو بیان کرنا۔
(2)۔یہ بتانا کہ بندے کو خدا سے کیا تعلق ہونا چاہیے۔
(3)۔یہ بتانا کہ کن اعمال سے بندہ اس تعلق کا اظہار کرے یا یہ کہ بندہ پر خدا تعالی کی طرف سے کیا ذمہ داریاں ہیں۔
(4)۔خدا تعالی سے ملنے کا راستہ بتائے اور اس غرض کو اسی دنیا میں پورا کر کے دکھائے تاکہ انسان خدا تعالی کے متعلق ظنی علم سے گزر کر یقین کے درجے تک پہنچ سکے۔
دوسرا مقصد مذہب کا یہ ہے کہ وہ انسان کو کامل اخلاقی تعلیم دے اس مقصد کے پورا کرنے کے لیے بھی مندر زیل سات امور کا بیان کرنا ضروری ہے۔
(1)۔ اخلاق حسنہ کیا ہے۔(2)۔ اخلاق سئیہ کیا ہے۔(3)۔یہ کے اخلاق حسنہ کے مختلف مدارج کیا ہیں۔
(4)۔اخلاق سئیہ کے مختلف مدارج کیا ہیں۔(5)۔ کسی امر کو بدی اور کسی کو نیکی کیوں قرار دیا گیا ہے(6)۔وہ ذرائع کیا ہیں جن کی مدد سے انسان اخلاق حسنہ کو اختیار کر سکتا ہے۔(7)۔وہ ذرائع کیا ہیں جن کی مدد سے انسان اخلاق سئیہ سے بچ سکتا ہے۔
اخلاق حسنہ کے بیان میں ان سات امور کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے بغیر اس کے یہ مقصد ہرگز پورا نہیں ہو سکتا
تیسرا مقصد مذہب کا بنی نوع انسان کی تمدنی ضروریات کا حل ہے کیونکہ جب خدا تعالی نے انسان کو مدنی پیدا کیا ہےتو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس کے لیے ایسے اصولی قواعد تجویزفرمائے جن کے ذریعے سے دنیا میں امن اور امان قائم ہو اور ہر ایک طبقہ اور فرقہ کے لوگ اپنے حقوق کے اندر رہیں اور کوئی کسی کے حق کو دانستہ یا نہ دانش نہ دبا سکے
اگر غور کیا جائے تو سوائے اللہ تعالی کے سوسائٹی کے حقوق کو دوسری کوئی ہستی بیان نہیں کر سکتی کیونکہ دوسرے تمام لوگ اپنے ذاتی فوائد کی وجہ سے اس وسعت نظر سے محروم ہوتے ہیں جو اس کام کے لیے ضروری ہے پس ان قواعد کا بیان کرنا جو تمدن انسانی کے لیے بمنزلہ اساس کے ہوں مذہب کے اہم فرائض میں سے ہے اور جو مذہب اس مقصد کو پورا نہیں کرتا وہ ہرگز مذہب کہلانے کا مستحق نہیں ہے اس مقصد کے پورا کرنے کے لیے مندر جہ ذیل امور پر روشنی ڈالنا مذہب کا فرض ہے۔
1۔امور خانہ داری یعنی رشتہ داروں سے رشتہ داروں کے تعلقات اور ان کے باہمی حقوق پرروشنی ڈالنایہ تمدن انسانی کا پہلا ٹکڑاہے۔
2۔ملکی اور سیاسی حقوق پر کہ کس احسن طریق پر ان کو ادا کیا جا سکتاہے۔
3۔آقا اور ملازم یا مالداروں اور غریبوں کے تعلقات پر۔
4۔اس سلوک پر جو ایک مذہب کے لوگوں کو دوسرے مذہب کے لوگوں سے یا ایک بادشاہت کے لوگوں کو دوسری بادشاہت کے لوگوں سے کرنا چاہیئے۔
چوتھا مقصد مذہب کا انسان کے انجام کا بیان کرنا ہے۔یعنی یہ بتانا کہ انسان مرنے کے بعد کہاں جائےگااس سے کیا سلوک ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔اس مقصد کی تکمیل کے لئے مندرجہ ذیل امور کا بیان کرنا ضروری ہے۔
1۔کیا موت کے بعد انسان کے لئے کوئی بقاء ہے؟اگر ہے تو کس رنگ میں ؟
2۔اگر کوئی بقاء ہے توکیا اس بقاء کے ساتھ تکلیف یا خوشی کا کوئی سلسلہ وابستہ ہے؟
3۔آیا مرنے کے بعد بھی انسان کے لئے بدی سے نیکی کی طرف جانے کا کوئی راستہ کھلا ہے؟اگر ہے تو کس طرح؟
مذکورہ بالا چار مقاصد کے متعلق کسی مذہب کی تعلیم معلوم کرکے ہی اس کے دعویٰ کے متعلق صحیح نتیجہ نکالا جا سکتاہےاور میں ان مقاصد کے متعلق احمدیت کی تعلیم کو اس امید اور یقین کے ساتھ پیش کرتا ہوں کہ جب آپ لوگ انصاف سے اس پر غور فرمائیں گے تو آپ پر ثابت ہو جائےگا کہ اگر ان چاروں مقاصد کو کوئی مذہب پورا کرتا ہے تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔
ان چاروں مقاصد کے ذکر کرنے کے بعد آپ نے اس عظیم الشان تاثیر کا ذکر فرمایا ہے جو اس تعلیم پر عمل کرنے والوں کے دل ودماغ اور اخلاق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا فرمادی ۔آپ نے فرمایا کہ یاد رکھنا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خیالات موجودہ کا آئینہ نہ تھے بلکہ زمانہ کی رو اور اس کے میلان کے بالکل خلاف تعلیم لیکر آئے تھے۔اگر غور سے دیکھا جائے تواس زمانہ میں خیالات کی رودوجہات کی طرف مائل ہے۔ایک تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اور بندہ کے درمیان کوئی گہرا تعلق نہیں ہونا چاہیئے بلکہ انسان کو آزادی ملنی چاہیئے۔چنانچہ تمام جدید اور قدیم مذاہب اپنے آپ کو اس رو کے مطابق بنا رہے ہیں اور عبادات کی حقیقت کو بدل کریا اس میں کمی کرکے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
دوسری رو اس زمانہ میں یہ چل رہی ہے کہ لوگ فیصلہ کربیٹھے ہیں کہ تمدنی بنیاد جو پچھلے کئی سو سال میں دنیا میں قائم ہوئی ہے اس میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے۔نہ اس لئے کہ تمدن ا علیٰ اور اکمل ہے بلکہ اس لئے کہ لوگ اس کے عادی ہو چکے ہیں اور اب وہ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ۔نئے اور پرانے سب مذاہب اپنی تعلیمات کو اس تمدن کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ وہ اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔چنانچہ سود،پردہ،کثرت ازدواج ایسے تمام امور کے متعلق تمام مذاہب اپنی پوزیشن کو صاف کرنے کی فکر میں ہیں اور اپنی تعلیم کو رائج الوقت تمدنی خیالات کے مطابق بنا رہے ہیں ۔مگر برخلاف تمام لوگوں کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تعلیم کی بنیاد خالص مذہب پر رکھی ہے اور رائج الوقت خیالات پر ان کی بیناد نہیں رکھی۔ پس آپ حقیقی معنوں میں مصلح تھے نہ کہ زمانہ کے منہ میں نے کی مانند۔کہ جو کچھ وہ بجانا چاہتا تھا آپ علیہ السلام نے اس کو بلند آوازسےکہہ دیا۔آپ علیہ السلام نے زمانہ کی دونوں موجوں کا مقابلہ کیا۔مذہبی آزادی کا بھی اور تمدنی غلامی کا بھی۔آپ علیہ السلام نے نہ تو عبادات میں کمی کی نہ ان کو اڑایا بلکہ آپ علیہ السلام نے اسلام کے قدیم حکم کی طرف دنیاکو توجہ دلائی اور عبادات کی حقیقت کو لوگوں پر ظاہر کیااور ان کے دلوں میں عبادت کا سچا جوش پیدا کرکےخداتعالیٰ سے ان کے تعلق کو مضبوط کیا۔
تمدنی غلامی سے بھی آپ علیہ السلام نے لوگوں کو چھڑایااور اس بھیڑ چال کی غلطی ان پر ظاہر کی جس میں وہ مبتلاء تھے اور اسلامی تمدنی تعلیم کی خوبی کو ظاہر کیا ،سود کی برائی کو ظاہر کیا ، پردہ کی خوبیوں کو واضح کیا ،کثرت ازدواج کی ضروت کو ثابت کیا،طلاق کی اہمیت کو بیان کیا،غرض وہ مسائل جن کے متعلق لوگ زمانہ کی رو کو دیکھ کر بول نہیں سکتے تھے ان کے متعلق علی الاعلان اسلامی تعلیم کو پیش کیا اور زمانہ کے خیالات کی پروانہیں کی۔
اس موقع پر حضور رضی اللہ عنہ نے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے شاگرد حضرت عبد الرحمٰن صاحب شہید کی الماک شہادتوں کا اور دنیا بھرکے احمدیوں کی قربانیوں کا ایمان افروز ذکر فرمایا۔ اور فرمایاحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذہبی دیوانگی پیدا نہیں کی اور نہ مذہب کو اپنی ذات کی محبت کے گرد لپیٹ کر لوگوں کی توجہ کو ایک ہی نقطہ پر جمع کر دیا ہے جیساکہ ان لوگوں کا قاعدہ ہے جو باقی نیک خصلتوں کو نظر انداز کرکے صرف قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ آپ نے ہر اک چیزکو اس کے مرتبہ کے مطابق پیش کیاہے اور انسانی عقل کو ہر ممکن طریق سے زندہ رکھنے کی بلکہ ترقی دینے کی کوشش کی ہے ۔مگر باوجود اس کے آپ کی جماعت میں یہ مادہ نظر آتاہے کہ وہ اپنی جان اور اپنا مال خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ۔ ان کی مثال صحابہ رسول کریم ﷺ کی ہے جن کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے فَمِنْہُم مَّن قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُم مَّن یَنتَظِر(ُ سورۃ الاحزاب آیت23)ان میں سے بعض نے اپنے ارادہ کو پورا کر دیا اور خدا کی راہ میں جان دے دی ہے اور بعض اس وقت کے منتظر ہیں ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ احمدیوں میں پیدا ہونے والے نیک اثرات کا ذکر کرتے ہوئے حضوررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ احمدی افراد اپنے لباس واطوار میں دوسرے لوگوں سے جدا نہیں ہیں مگرحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم نے ان پر کچھ ایسا اثر کیا ہے کہ باوجود لباس وغیرہ میں تغیر نہ ہونے کے عام طور پر لوگ ان کو پہچان لیتے ہیں اور اس کی وجہ ان کے وہ اعلیٰ اخلاق ہیں جن کے ذریعہ سے وہ دوسروں سے ممتازنظر آتے ہیں ۔ان کی زبانوں کا گالیوں اور فحش باتوں سے پاک ہونا ان کا دوسروں کی خاطر تکلیف اٹھانا اور ایثار سے کام لینا،ان کا دھوکے اور فریب سے بچنا یہ ان کو ہر مجلس میں ممتاز کرکے دکھا دیتاہے اور وہ آدمی بھی جو احمدی کیریکٹر سے واقف ہو لیکن ایک احمدی کا ذاتی واقف نہ ہو اسے ریل یا جلسہ یا دوسری اجتماع کی جگہوں میں پہچان لیتاہے۔
جاہل سے جاہل احمدی بھی کہیں نظر آئے تو اس کی عقل تیز اور اس کی بحث کی قابلیت غیر معمولی نظر آئےگی۔
احمدیوں میں عورتوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کو جائز قیود سے آزاد کرنے کا بھی خاص خیال پایا جاتاہے مگر باوجود اس کے وہ مذہب کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے۔ان میں مذہبی رواداری تمام اقوام سے زیادہ ہے۔ ایک عظیم الشان تبدیلی جو احمدی جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا کر دی وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا احساس ہے جو لوگ تربیت کے نیچے آچکے ہیں وہ ماہوار سولہواں حصہ دینی کاموںکے لئےبطور چندہ کے دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ خاص چندوں میں بھی ان کو حصہ لینا پڑتاہے اور بعض تو اپنی آمدنیوں اور جائیداد کے 10/1 سے 3/1 حصے تک کی بھی قربانی دے رہے ہیں ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس عظیم الشان روحانی معجزہ اور تاثیر کا اثر غیروں پر بلکہ دشمنان احمدیت پر بھی ہے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ
اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اگر کہیں دیکھنا ہے تو وہ قادیان کی بستی ہیں۔
سامعین کرام! یہ عظیم الشان لیکچر جس نے سامعین کو ایک گھنٹہ تک ورطئہ حیرت میں مبتلا کردیااور سب نے نہایت غور اور توجہ سے جسے سنا اس کے متعلق بیسیوں دانشوروںنے اپنی آراء پیش کیں جن میں سے صرف ایک اس وقت کے اخبار مانچسٹر گارڈین سے پیش کرتا ہوں اخبار لکھتاہے۔
"اس کانفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ جو اس وقت ظاہر ہوا وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقہ کا ذکر تھا۔نئے فرقہ کا لفظ ہم نے آسانی کے لئے اختیار کیا ہے ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے ۔اس فرقہ کی بناان کے قول کے بموجب آج سے چونتیس سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائبل اور دوسری کتابوں میں ہے اس سلسلہ کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صریح الہام کے ماتحت اس سلسلہ کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ وہ نوع انسان کو اسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچائے۔ایک ہندوستان کے باشندے نے جو سفید دستار باندھے ہوئے ہے اور جس کاچہرہ نورانی اور خوش کن ہے اور سیاہ داڑھی رکھتاہےاور جس کا لقب ہز ہولینس خلیفۃ المسیح الحاج میرزا بشیرالدین محمود احمد یا اختصاراً خلیفۃالمسیح ہے مندرجہ بالاتحدی اپنے مضمون میں پیش کی۔جس کا عنوان ہے " اسلام میں احمدیہ تحریک"۔۔۔۔آپ کے ایک اور شاگرد نے جو سرخ رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھا۔آپ کا پرچہ کمال خوبی کے ساتھ پڑھا۔۔۔آپ نے اپنے مضمون کو جس میں زیادہ تر اسلام کی حمایت اور تائید تھی ایک پر جوش اپیل کے ساتھ ختم کیا۔ جس میں انہوں نے حاضرین کو اس نئے مسیح اور اس نئی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے مدعو کیا۔ اس بات کا بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین وخوشنودی کا چیئرز کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کسی پرچہ پر ایسا نہیں کیا گیا تھا" ترجمہ115
اب آخر میں خاکسار حضرت اقدس مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے درج ذیل ارشاد پر اپنی تقریر کو ختم کرتاہے جو حضور نے اپنے اس معرکۃالآراء لیکچر کے آخر میں ارشاد فرمایا
فرماتے ہیں …میںاپنے خطاب کو کسی خاص قوم تک محدود نہیں رکھتا نہ کسی خاص ملک تک بلکہ میں سب دنیا کے لوگوں کو اس خدا کے پیغام کی طرف بلاتا ہوں جس نے اپنی تقسیم میں کسی قوم سے بخل نہیں کیا۔جس نے اپنی رحمت کے دروازے ہر ایک ملک کے لوگوں کے لئے یکساں طور پر کھلے رکھے ہیں اور کہتاہوں کہ اے امریکہ اور یورپ کے لوگو! اے آسٹریلیا اور افریقہ کے لوگو!اے ایشیاکے باشندو!خو اب غفلت کو ترک کرو اور آنکھیں کھولو۔خدا کی محبت کا سورج قادیان کی گمنام سرزمین سے چڑھاہے تاہر اک کو اس ازلی بادشاہ کے پیار کی یاد دلائے جو اسے اپنے بندوں سے ہے تا شکوک وشبہات کی تاریکیاں مٹ جائیں۔ تا غفلت اور بے پرواہی کی سردیاں دور ہو جائیں۔ تا فسق وفجور اور ظلم اور خونریزی اور فساد اور ہر قسم کی بدیوں کے راہزن جو انسان کے متاع ایمان اور دولت امن کو ہر وقت لوٹنے کی فکر میں رہتے تھے بھاگ جائیں اور تاریک غاروں میں جا چھپیں جو ان کی اصل جگہ ہے۔تا پاک دل اور پاک نفس بندے جو دنیا میں بمنزلہ فرشتوں کے ہیں اس کی روشنی کی مدد سے اس سانپ کا سر کچلیں جس نے حوا اور آدم کی ایڑی کو ڈسا تھا اور شیطان کی زہریلی کچلیوں کو توڑیں اور اسکے شر سے دنیا کو ہمیشہ کے لئے بچا لیں ۔
ہاں اے مشرق ومغرب کی سرزمین کے بسنے والو! سب خوش ہو جائو اور افسردگی کو دلوں سے نکال دو کہ آخر وہ دولھا جس کی تم کو انتظار تھی آگیاہے۔آج تمہارے لئے غم اور فکر جائز نہیں، آج تمہارے لئے حسرت واندوہ کا موقع نہیں بلکہ خرمی وشادمانی کا زمانہ ہے۔مایوسی کا وقت نہیں بلکہ امیدوں اور آرزوئوں کی گھڑیاں ہیں ۔ پس تقدیس کے سنگھار سے اپنے آپ کو زینت دو اور پاکیزگی کے زیور وں سے اپنے آپ کو سجائو کہ تمہاری دیر ینہ آرزوئیں بر آئیں اور تمہاری صدیوں کی خواہشیں پوری ہوئیں ۔ تمہارا رب خود چل کر تمہارے گھروں میں آگیا اور تمہارا مالک آپ تمہاری رضامندی کا طالب ہوا۔آئوآئو! کہ ہم سب اپنے بچوں والے تنازعات کو بھول کر اس کے فرستادہ کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں اور اس کی حمد کے ترانے گائیں اور ثناء کے قصیدے پڑھیں اور اس کے دامن کو ایسی مضبوطی سے پکڑلیں کہ پھر وہ یار یگانہ بھی ہم سے جدا نہ ہو۔آمین
وآخرو دعونا ان الحمدللہ رب العالمین۔