اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

سیدناحضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے دورہ یورپ 1924ء کی رپورٹ (حافظ سیدرسول نیاز،مربی سلسلہ نظارت نشرواشاعت قادیان )

11جولائی 1924ء
بروز جمعہ بہشتی مقبرہ میں تین مرتبہ دعا
11 جولائی کو صبح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزارمبارک پر دعا کرنے کے لیے بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے ۔حضور نے مزار کے مشرقی دروازہ میں کھڑے ہو کر دیر تک دعا کی پھر جنوب کی طرف موضع ننگل میں سے ہوتے ہوئے موضع کالہواں کے پاس کی سڑک تک تشریف لے گئے اور دوسرے راستہ سے لوٹ کر پھر بہشتی مقبرہ تشریف لائے اور مزارمبارک پر دوبارہ دعا کی۔اس روز نماز مغرب کے بعد تیسری مرتبہ بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے اور مزار مقدس پر دعا کی۔
مسجداقصیٰ میںالوداعی تقریب
نماز جمعہ کے بعد مسجد میں کثیر تعداد میں احباب ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے جنہوں نے حضورؓسے مصافحہ کرنے کی سعادت پائی عصر کی نماز حضور نے مسجد مبارک میں پڑھائی اور پھر مسجد اقصیٰ تشریف لے گئے جہاں ایک بہت بڑے مجمع میں حضورؓکا ان اصحاب کے ہمراہ فوٹو لیا گیا جنہوں نے اس دورہ میں حضورؓکے ساتھ روانہ ہونا تھا۔ اس موقع پر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓکی ایک نظم ملک عبدالعزیز صاحب طالب علم مدرسہ احمدیہ نے رقت انگیز لہجے میں سنائی جس کے دوران حضورؓآبدیدہ ہو گئے اور آخر تک اپنا چہرہ مبارک رومال سے ڈھانپے رہے۔ نظم کے دردناک اشعار دُکھے ہوئے قلوب اور ابھرے ہوئے جذبات کا آئینہ تھے جنہوں نے بہتوں کی آنکھوں کو پرنم کرتے ہوئے ان کے قلبی کیفیات کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔
قادیان سے روانگی
12 جولائی کوروانگی کا دن تھا۔علی الصبح حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مزار مبارک پر حضورؓنےآخری بار دعاکی۔اس روز لوگ صبح کی نماز کے بعد سے ہی مسجد مبارک کے قریب بازار میں جمع ہونے شروع ہو گئے آٹھ بجے کے قریب اعلان ہوا کہ حضورؓدعا کروارہے ہیں سب لوگ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔ حضورؓنے بیت الدعا میں بیٹھ کر لمبی دعا کروائی اور پھر گھر سے باہر تشریف لائے۔ احباب مصافحہ کے لیے بے تابی کے ساتھ آگے بڑھے لیکن حکم ہوا کہ مصافحہ سڑک کے موڑ پر ہوگا۔ راستے میں اگرچہ منتظمین نے انتظام کیا تھا کہ حضورؓکو حلقہ کے اندر لے کر ہجوم کو پیچھے پیچھے رکھا جائے لیکن ہجوم کا ریلا سنبھالتے نہ سنبھلتا تھا کئی لوگ ایک دوسرے پر گرتے مگر بغیر کسی قسم کے ملال کے اٹھ کر فورا ًآگے بڑھنے کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتے۔ ہجوم کی تیز رفتاری سےراستہ کی گرد و غبار بادل کی طرح اٹھ کر چھا جاتا تھا۔ منتظمین نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ حضورؓکو تکلیف ہوگی،سب لوگوں کو قریب آنے سے روکا تو حضورؓنے ناپسند فرمایا اور حکم دیا کسی کو نہ روکا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا میں بھی آہستہ چلتا ہوں آپ لوگ بھی آہستہ چلیں تا زیادہ گرد نہ اڑے۔ حضور نے سڑک کے موڑ کے قریب پہنچ کر جہاں بہت لوگ اور خاص کر مستورات کی بہت بڑی تعداد پہلے سے پہنچی ہوئی تھی سارے ہجوم کے ساتھ پھر طویل دعا کروائی۔
دعا کے بعد مجمع کا فوٹو لیا گیا اور حضورؓاپنی والدہ صاحبہ حضرت ام المومنینؓ کے ارشاد پر انہیں ملنے کے لیے مردوں کے ہجوم سے باہر تشریف لے گئے۔ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہانے دیر تک حضور کو گلے سے لگا کر مادرانہ شفقت و محبت کے دریا بہائے اور ہزار ہزار دعائیں دیں۔ اس کے بعد حضورؓموٹرکے پاس کھڑے ہو گئے اور احباب باری باری مصافحہ کرنے کے بعد سڑک پر دو رویہ قطار میں کھڑے ہوتے گئے سب اصحاب کے مصافحہ کر لینے کے بعد حضورؓموٹر پر سوار ہوئے اور دونوں موٹریں جن پر حضورؓکے ہمراہ جانے والے اصحاب سوار تھے اللہ اکبر کے نعروں کے درمیان روانہ ہوگئیں۔
( الفضل 15جولائی 1924صفحہ 1تا2)
قافلہ کو بٹالہ پہنچنے میں دیر ہوگئی۔ گاڑی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرکھڑی تھی جہاں حضورؓکے انتظار میں خلقت کا بے پناہ اژ دہام تھااورجماعت بٹالہ اورتمام دوست سخت کشمکش میں تھے۔اتنے میں حضورؓمع خدام بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچے۔اللہ اکبرکے نعرے بلند ہوتےرہے۔
بٹالہ سے روانگی
گاڑی بٹالہ سے جینتی پور پہنچی وہاں بھی زائرین کا ایک اژدہام حضورؓکی گاڑی کے سامنے تھا۔ امرتسر کے اسٹیشن میں کثرت سے جماعت کے دوست موجود تھے جو لاہور اور امرتسر اور مضافات سے حضورؓکی آمد کی خبر سن کر جمع ہوگئے تھے۔ لاہور اور امرتسر کی جماعتوں نے فوٹو لئے۔
بیاس
گاڑی جب بیاس ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو حسبِ اطلاع حضورؓفوٹو کے لئے تشریف لے گئے جہاں حضورؓ کے تین مختلف فوٹو لئے گئے۔
جالندھر پھگواڑہ پھلور
جالندھر شہر، جالندھر چھاؤنی، پھگواڑہ اور فلور کے اسٹیشنوںپر بہت ہی مخلص جماعتیں حاضر تھیں۔ ضلع جالندھر او رہوشیار پور کے مخلصین نے اپنی اپنی محبت اور اخلاص کا اظہار کیا۔
لدھیانہ
لدھیانہ میں علاوہ شہر کی جماعت کے دیہات اور گردو پیش کے مخلصین بھی جمع تھے۔ لدھیانہ کی جماعت نے اس خوشی میں تمام ٹرین پر برف اور دودھ کا شربت تقسیم کیا۔ جالندھر کے اسٹیشن پر جماعتوں نے سوڈا برف اور ہوشیار پور کے آموں سے دوستوں کی خدمت کی۔
کھنّہ
کھنّہ کے اسٹیشن پر مکرمی حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوریؓکی تیار کردہ جماعت غوث گڑھ ۱۸ میل کا سفر پیدل طے کر کے حاضر تھی … ایک عورت نے بڑی بہادری دکھائی ۔ گاڑی کی روانگی کا وِسل ہو گیا تھا دوستوں نے روکا کہ گاڑی چلنے والی ہے نیچے ہی سے سلام کر لو مگر اس نے ایک نہ سنی اور برقعہ اوڑھے گاڑی پر چڑھ کر حضورؓکی خدمت میں پہنچی اور گاڑی روانہ ہو گئی ۔ عورت نے اُترنے کی کوشش کی اور چلتی گاڑی سے کود پڑی۔ قریب تھا کہ سر پھٹ جاتا اور تمام بدن لہولہان ہو جاتا مگر ایک احمد ی دوست نے لپک کر ایسا ہا تھوں پر لے لیا جس طرح ماں بچے کو گود میں اٹھا لیتی ہے۔
راجپورہ اسٹیشن
راجپورہ کے اسٹیشن پر جماعت پٹیالہ نے کھانے کا انتظام کررکھا تھا۔ کھانا تمام دوستوں میں اچھّی طرح تقسیم کیا گیا اور انبالہ چھاؤنی تک ساتھ کھلاتے پلاتے دوست چلے گئے۔
مظفر نگر اور میرٹھ
مظفر نگر، میرٹھ چھاؤنی اورشہر کے دوست حضور کی دست بوسی اور زیارت کو آئے اور فیضیاب ہو کر واپس چلے گئے۔ غازی آباد آیا اور دہلی پہنچے۔
دہلی کا سٹیشن ، 13 جولائی
جماعت نے ایک شاندار ویلکم کا جھنڈا تیار کر رکھا تھا اور پلیٹ فارم میں استقبال کیلئے حاضر تھی۔فوٹو کے واسطے خاص انتظام تھا۔ دوپہر کے کھانے کا بھی دہلی کی جماعت نے انتظام کر رکھا تھا ۔ دودھ چائے اور برف بھی آئی ۔ بریلی، شاہجہانپور کی جماعتوں اور قائم گنج کے عبد الغفار خان صاحب بھی دہلی ہی کے اسٹیشن پر آئے ہوئے تھے ۔ علی گڑھ سے ڈاکٹر اقبال علی صاحب عفی عنہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔
دہلی سے نکل کر کئی اسٹیشنوں کے بعد ایک جگہ گاڑی ٹھہری وہاں بھی دو تین دوست حضور کی زیارت کی غرض سےموجود تھے جو میرے خیال میں بلب گڑھ کے تھے۔چلتی گاڑی میں دوستوں کو دہلی سے آیا ہوا کھانا کھلایا گیا۔
متھرا
متھرا اسٹیشن پر آگرہ کی جماعت حاضر تھی۔ہمارے امیر المجاہدین میدان انسداد فتنہ ارتداد بھی آئے ہوئے تھے۔ فرخ آباد اور علاقہ مین پوری سے ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم اور مولوی غلام محمد صاحب بھی آئے ہوئے تھے۔ فوٹو کا انتظام تھا ۔فوٹو لیا گیا اور تمام دوست متھرا سے آگرہ جنگشن تک حضرت کے ہمرکاب سوار ہوکر آئے۔
بھوپال
آگرہ سے چل کر گوالیار ، جھانسی اور بینا ہوتے ہوئے رات کے وسطی حصہ میں بھوپال پہنچے جہاں مکرمی بابو علی بخش صاحب احمدی سب اوور سیئر مع ایک ٹین گھی کے خاضر تھے جنکے ساتھ حضرت مولوی عبید اللہ صاحب بسمل اور دو ایک اور بھی دوست تھے۔بھوپال کے بعد بمبئی کے آخری اسٹیشن وکٹوریا ٹرمنل تک پھر کوئی جماعت نہ مل سکی۔
عید الاضحےٰ کی نماز ، 14 جولائی
14 جولائی 1924ء کو چونکہ عید تھی جو ہمیں ریل میں آئی حضور نے منماڑ کے ریلوے اسٹیشن پر نماز عید پلیٹ فارم پر پڑھائی اور مختصر سا خطبہ پڑھا۔ دعا پلیٹ فارم سے اٹھ کر گاڑی کے اندر آکر کی گئی۔
انگریزی میں بول چال
13 کی شام کو حضور نے حکم فرمایا کہ سب دوست مل کر باہم انگریزی میں باتیں کریں اگر کوئی اردو میں بات کرے تو ایک آنہ جرمانہ ادا کرے۔ انگریزی کے بعد عربی میں بھی اجازت کلام تھی مگر جب کوئی اور غیر لوگ شامل ہوں تو پھر اردو کلام کی بھی اجازت تھی۔
بمبئی میں نزول
بمبئی اسٹیشن پر گاڑی پانچ بجے دوپہر پہنچی۔ جماعت حاضر تھی۔ موٹریں موجود تھیں۔ فوٹو کا سامان تیار تھا۔ مصافحہ کے بعد فوٹو لیا گیا۔ مکان میمنی بلڈنگ پر ساڑھے سات بجے شام کے بعد پہنچے۔
بمبئی پہنچتے ہی تھامس کک کمپنی کی طرف سے اطلاع ملی کہ ہمارا جہاز ایس۔ایس افریقہ نامی صبح ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہوگا۔علی الصباح ہم کو 6 بجے روانہ ہو جانا چاہئے۔
بمبئی
میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ ریل سے اترتے ہی پہلی خبر ہمیں یہ ملی کہ جہاز علی الصباح روانہ ہو جائے گا۔ اس خبر کا اثر ہم سب پر تھا کیونکہ اکثر سامان کی خرید و فروخت بمبئی کیلئے ملتوی کی گئی تھی جو اب نا ممکن تھی۔ بڑی ہی کوشش کی گئی ۔ محنت سے کام کیا گیا ۔ ساری رات جاگتے جاگتے گزار دی مگر کچھ نہ بنا اور اکثر حصہ ضروریات کا باقی رہ گیا۔
ممبئی سے روانگی اور عدن میں ورود
دوسرے دن 15 جولائی 1924 ءکو قریبا ًسات بجے حضور اپنے رفقاء سمیت ممبئی کی بندرگاہ پر تشریف لے گئے ۔ بندرگاہ پر جماعت کے دوست بڑی کثرت سے الوداع کہنے کے لیے حاضر تھے حضورؓنے اس موقع پر ایک لمبی اور رقت انگیز اجتماعی دعا کرائی۔ یہاں تک کہ جہاز کی روانگی کا وقت گزرنے لگا مگر جہاز کے افسروں پر بھی ایسی محویت طاری تھی کہ وہ نہ دعا ختم کرنے کے لیے کہہ سکتے تھے اور نہ جہاز روانہ کر سکتے تھے۔ آخر حضورؓنے دعا ختم کی۔ حضور نے دعاؤں کے ساتھ جماعت کو رخصت کیا اور السلام علیکم اور خدا حافظ کے نعروں سے فضا گونجی ۔ جہاز ایک چھوٹی دخانی کشتی کے ذریعہ حرکت دیا جا رہا تھا۔ جماعتی دوست دوسرے کنارے پر کھڑے تھے اور حضور دل ہی دل میں دعا کر رہے تھے ۔پھر یکا یک آپ کو جوش آیا اور پرنم آنکھوں کے ساتھ آپ نے پھر جماعت کے لیے نہایت کرب و اضطراب کے ساتھ لمبی دعا کی۔
اب جہاز حرکت میں آ چکا تھا اور دوست بڑی تیزی سے نظر سے اوجھل ہو رہے تھے۔ مگر حضور کی شفقت و محبت کا یہ عجیب عالم دیکھنے میں آیا یعنی جہاز کا جو حصہ بھی دوستوں کے قریب ہوتا حضور بھی دوڑ کر اسی طرف تشریف لے جاتے۔ کبھی اس سرے کبھی دوسرے اور کبھی وسط میں اور دوستوں کے لیے قریب جا کر پھر دعا شروع کرا دیتے۔ اس وقت بارش ہو رہی تھی اور آپ کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے مگر اپنے خدام سے دلی الفت و محبت کی چنگاری آپ کو بے قرار کیے ہوئے تھی۔ غرضکہ حضور اسی طرح جہاز کے چاروں طرف نہایت بے تابی سے گھومتے رہے حتی کہ سب دوست آنکھوں سے بالکل غائب ہو گئے۔
بے تار کا برقی پیغام
ممبئی میں عزیزبابوعبدالغنی صاحب کومولوی رحیم بخش صاحب بعض مقامات پر روانگی جہازکی اطلاع دیتے ہوئےتاردینےکو کہہ آئےتھے ۔ مثلاًلنڈن،مصر، قادیان وغیرہ۔ اس عزیز نے ان امور کی تعمیل کر کے ایک تار دیا جو ہمیں تیسرے دن جہاز میں وائر لیس ٹیلیگرافی سے ملا ۔ مضمون تار تھا کہ تمام احکام کی تعمیل کر دی گئی ہے۔ یہ تار بھی عجائبات قدرت کا ایک کرشمہ تھا - اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ(التکویر:11)کا وعدہ خاص کر حضرت مسیح موعودؑکے لئےتھا۔ اس کی تکمیل ہوتی دیکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور سجدات کو دل چاہتا ہے۔ اسی دن سیدنا حضرت خلیفۃ المسیحؓ کے حکم سے ایک تار قادیان کو حضرت امیر جماعت کی خدمت میں بھجوایا گیا جس کا مضمون یہ تھا ۔’’سمندر بہت ہی نا ہموار ہے۔ تمام دوست سوائے بھائی جی اورسیال صاحب کے بیمار ہیں حضرت کی طبیعت رو بصحت ہے۔‘‘یہ تا ر 35 حروف کا تھا۔26 روپے خرچ ہوئے جو اس مقام سے اس تار جا سکنے کے مقابلہ میں ۲۶ کوڑی سے بھی کم قیمت تھے۔ تار بھیج کر یہاں کے دوستوں میں ایک سکون اور اطمینان تھا کہ تا رقادیان میں ہماری حالت کا پہنچا وہاں کے دوست ضرور دعائیں کریں گے اور رحمت الٰہی کانزول ہو کر ہماری مدد آسمان سے ہو گی ۔
(سفریورپ:صفحہ17)
ایک متفکر امر
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو اس سفر میں سب سے بڑی فکر اور تشویش جس نے آپ کو دن رات متفکر کر رکھا تھا صرف یہ تھی کہ یورپ کے تمدن اور اس کی دماغی ترقی کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ اپنے رفقا سے فرمایا۔
’’ یورپ کے متعلق مجھے اس بات کا خطرہ اور فکر نہیں کہ اس کا مذہب کیونکر فتح کیا جائے گا مذہب کے متعلق تو مجھے یقین ہے کہ عیسائیت اسلام کے سامنے جلد سرنگوں ہوگی مجھے اگر فکر ہے تو صرف یہ ہے کہ یورپ کا تمدن اور یورپ کی ترقی اور دماغی ترقی کا کیونکر مقابلہ کیا جائے یہی دو باتیں ایسی ہیں جن پر غور و فکر کرتے ہوئے میں راتیں گزار دیتا ہوں اور گھنٹوں اسی سوچ میں پڑا رہتا ہوں۔‘‘ پھر فرمایا۔
’’ انگریزی لباس سے مجھے سخت چڑہے اگر ہمارے بچوں میں سے کوئی پتلون اور ہیٹ کا استعمال کرے تو اس کو سزا دینی چاہیے جس قوم کے پاس لباس بھی اپنا نہیں اور دوسرے کے لباس کو اپنے لباس سے اچھا سمجھ کر اسے اختیار کر لینا چاہتی ہے اس قوم نے اس کا مقابلہ کیا کرنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کی آنکھ کھلتے ہی اصل کو معلوم کر لیا تھا اس لیے آپؐنے ارشاد فرمایا ۔خَالَفُوْالْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی۔ نیز فرمایامَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْ اور حقیقت یہی ہے جو کسی قوم کے لباس کوا ور تمدن کو قبول کر لیتا ہے وہ دل سے ان ہی میں سے ہوتا ہے کیونکہ دل اس کا ان کی عظمت اور بڑائی کا قائل ہو چکا ہوتا ہے۔‘‘
(الفضل 23؍اگست 1924ءصفحہ 8،9)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے طوفانی کیفیت میں بھی عموماً نماز باجماعت کا التزام رکھا اور اپنے رفقاء سفر و جماعت کے لیے بہت دعائیں کیں۔ آخر پانچویں روز یعنی 19 جولائی سے طوفان کی حالت بدلنے لگی اور چھٹے روز 20 جولائی کو بہت حد تک طوفان تھم گیا۔
ایک لطیف تقریر
ساتویں روز 21 جولائی 1924 ءکو حضور اپنے خدام میں قریباً ڈیڑھ بجے رات تک رونق افروز رہے ۔ناگپور کا ایک ہندو نوجوان مسٹر جوشی پی ایس سی جو میکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے جرمنی جا رہا تھا۔ حضور کی خدمت میں حاضر تھا ۔حضور نے حقیقی مذہب کی شناخت اور زندہ خدا پر ایمان کے صحیح طریق پر بہت لطیف تقریر فرمائی۔ جس سے مسٹر جوشی بہت متاثر ہوا اور کہا کہ حقیقت میں آج مجھے نیا علم ملا ہے۔
ایک لطیفہ
ایک روز چو ہدری محمد شریف صاحبؓنے لائم جوس (Lime Juice) منگا یا ۔ جہاز کا خادم لے کر آ گیا ۔ صاحبزادہ حضرت میاں شریف احمد صاحبؓتشریف فرما تھے ان کےسامنے پیش کیا ۔ آپؓنے فرمایا میں نے تو منگا یا نہیں۔ چوہدری محمد شریف صاحبؓنے منگایا ہوگا۔ یہ سن کر جہاز کا خادم بولا کیا کروں آپ لوگوں میں سے ہر ایک کی ڈاڑھی ہے پہچان تو ہوتی نہیں گڑ بڑ ہو ہی جاتی ہے۔ حضرت میاں صاحبؓنے فرمایا کہ تم لوگوں کی شناخت میں ہمیں ڈاڑھی نہ ہونے کے باعث گڑ بڑ ہو جاتی ہے۔
(سفریورپ:صفحہ25)
آٹھویں دن 22 جولائی کو جہاز عدن کے اور قریب آیا تو حضورؓنے آدھی رات کے وقت اپنے قلم سے جماعت کے نام ایک مفصل خط میں لکھا۔ مفصل خط صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔
جہاز 23جولائی 1924 ءکوصبح نو بجے کے قریب بخیرت عدن پہنچا اور حضور نے بذریعہ تار اپنی خیریت کی اطلاع ارسال فرمائی۔
عدن سےپورٹ سعید تک
اب جہاز عدن سے پورٹ سعید کی طرف چلا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ کا وقت پہلے سے زیادہ دعا اور اس اہم سفر کے متعلق عملی پروگرام پر غور میں صرف ہونے لگا۔ چنانچہ 24 جولائی 1924 ءکو آپ نے شام و مصر میں تبلیغ سلسلہ پر کئی گھنٹے دوستوں سے مشورہ لیا اور ایک سکیم تجویز فرمائی اور دوستوں کو تاکید فرمائی کہ سفر کی اہمیت، مقصد کی عظمت اور مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام وقت اس کی تیاری میں صرف ہونا چاہیے اور اس کے لیے خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے تا ہمیں ہر قسم کے برکات حاصل ہوں۔ غرض یہ کہ اٹھتے بیٹھتے آپؓکے پیش نظر یہی ایک امر تھا کہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو ۔اسی تاریخ 24 جولائی کو حضور دیر تک اسلامی عالم میں اتحاد عمومی پیدا کرنے کی ایک موثر تحریک کےقیام پر گفتگو فرماتے رہے۔ 25 جولائی کو 11 اور 12 بجے کے درمیان جہاز جدہ اور مکہ شریف کے سامنے سے گزرنے والا تھا حضورؓنے ارادہ فرمایا کہ خاص طور پر دعا کی جائے چنانچہ حضورؓ نے دو رکعت نماز باجماعت پڑھائی۔ جس میں بہت رقت انگیز دعائیں کیں۔ 26 جولائی کو حضور دن بھر مضمون لکھنے میں مصروف رہے۔
پورٹ سعید سے قاہرہ،
بیت المقدس اورروما
حضور مع خدام پورٹ سعید سے اسی دن ایکسپریس گاڑی سے قاہرہ تشریف لے گئے اور شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کے مکان پر فروکش ہوئے۔ قاہرہ میں حضور کا قیام صرف دو دن رہا۔ مگر آپ کی برکت و توجہ سے دو دنوں میں ہی قاہرہ کے اندر سلسلہ کی تائید میں ایک نئی رو پیدا ہو گئی۔
حضورؓفرماتے ہیں۔ ’’دو دن کے قیام کے بعد ہم دمشق کی طرف روانہ ہوئے، مگر چونکہ راستہ میں بیت المقدس پڑتا تھا۔ مقامات انبیاء کے دیکھے بغیر آگے جانا مناسب نہ سمجھا اور دو دن کے لئے وہاں ٹھہر گئے… یہودی قوم کی قابل رحم حالت جو یہاں نظر آتی ہے کہیں اور نظر نہیں آتی۔ بیت المقدس کا سب سے بڑا معبد جسے پہلے مسیحیوں نے یہودیوں سے چھین لیا اور بعد میں مسیحیوں سے چھین کر مسلمانوں نے اسے مسجد بنا دیا اس کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر ہفتہ میں دو دن برابر دو ہزار سال سے یہودی روتے چلے آتے ہیں جس دن ہم اس جگہ کو دیکھنے کے لئے گئے وہ دن اتفاق سے ان کے رونے کا تھا۔ عورتوں اور مردوں ، بوڑھوں اور بچوں کا دیوار کے پیچھے کھڑے ہو کر بائبل کی دعائیں پڑھ پڑھ کر اظہار عجز کرنا ایک نہایت ہی افسردہ کن نظارہ تھا … بیت المقدس کی جگہوں میں سے مندرجہ ذیل مقامات قابل ذکر ہیں۔ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسحاق ؑ، حضرت یعقوبؑ ، اور حضرت یوسفؑ کی قبور اور وہ مقام جس پر حضرت عمرؓ نے نماز پڑھی اور بعد میں اس کو مسجد بنا دیا گیا اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے مقامات۔ حضور فرماتے ہیں کہ : اکثر وہاں کے بڑے بڑے مسلمانوں سے میں ملا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر میرے نزدیک ان کی یہ رائے غلط ہے۔ یہودی قوم اپنے آبائی ملک پر قبضہ کرنے پر تلی ہوئی ہے … قرآن شریف کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعودؑ کے بعض الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ضرور اس ملک میں آباد ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پس میرے نزدیک مسلمان رئوساء کا یہ اطمینان بالآخر ان کی تباہی کا موجب ہو گا … فلسطین کے گورنر ہائی کمشنر کہلاتے ہیں۔ اصل ہائی کمشنر آج کل ولایت گئے ہوئے ہیں ان کی جگہ سرگلبرٹ کلیٹن کام کر رہے ہیں۔ میں ان سے ملا تھا ایک گھنٹہ تک ان سے ملکی معاملات کے متعلق گفتگو ہوتی رہی … مسلمانوں کو عام طور پر شکایت تھی کہ تعلیمی معاملات میں ہمیں آزادی نہیں۔ میں نے اس امر کے متعلق ان سے گفتگو کی اور انہوں نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ مسلمانوں کی یہ شکایت ایک حد تک بجا ہے مجھے بتایا کہ ایک دن پہلے ہی انہوں نے ایک تجویز وزارت برطانیہ کے غور کے لئے بھیجی ہے … سر کلیٹن صاحب کو پہلی ملاقات میں ہمارے سلسلہ سے بھی بہت سی دلچسپی ہوگئی اور گو ہم نے دوسرے دن روانہ ہونا تھا۔ مگر انہوں نے اصرار کیا کہ ڈیڑھ بجے ہم ان کے ساتھ کھانا کھائیں۔ چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ تک دوسرے دن بھی ان کے ساتھ گفتگو رہی اور فلسطین کی حالت کے متعلق بہت سی معلومات مجھے ان سے حاصل ہوئیں۔
(الفضل 13ستمبر1924ءصفحہ 3تا6)
حضورؓبیت المقدس سے دمشق تشریف لےگئے۔شروع میں لوگوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی مگر دعاؤں کےبعد لوگوں کاہجوم ملاقات کیلئے امڈ آیا۔یہاں کے قیام کے بارے میں حضورؓخودفرماتے ہیں۔
’’دمشق میں توقع سے بہت بڑھ چڑھ کر کامیابی ہوئی …اخبارات نے لمبے لمبے تعریفی مضامین شائع کئے۔ دمشق کے تعلیم یافتہ طبقے نے نہایت گہری دلچسپی لی۔ تمام وہ اخبارات جن میں ہمارے مشن کے متعلق خبریں اور مضامین نکلتے تھے کثرت سے فوراً فروخت ہو جاتے تھے۔‘‘
(الفضل 28؍اگست 1924ءصفحہ 2)
حضور 10؍ اگست 1924ء کو دمشق سے روانہ ہو کر بیروت سے ہوتے ہوئے حیفا پہنچے۔ وہاں سے عکہ میں بہائیوں کا مرکزدیکھنےکیلئے تشریف لےگئے۔عکہ میں کوئی بہائی نہ تھا بلکہ تین چار میل کے فاصلہ پرمنشیہ نام کے گاؤں میں بہائی رہتے ہیں۔ دوگھنٹوں کے بعد واپس حیفاتشریف لائے۔13؍اگست کو حضورپورٹ سعیدسے برنڈزی کیلئے پلنانامی جہازسے روانہ ہوئے۔16اگست 1924ء کو ساڑھے نوبجے صبح آپ کا جہاز اٹلی کی بندرگاہ برنڈزی پرپہنچا۔ حضورؓ مع خدام برنڈزی سےساڑھے چھ بجے شام کی گاڑی سے سوار ہو کر17؍ اگست 1924ء کوساڑھے نو بجے روما میں داخل ہوئے جو عیسائیت کے پوپ کا مرکز ہے۔روما میں حضور کا قیام چار روز رہا۔ اس عرصہ میں حضورؓبرابر اشاعت سلسلہ کے کام میں مصروف رہے۔ اخبارات کے نمائندوں اور فوٹو گرافروں نے آپ سے انٹرویو کئے۔ حضورؓ نے اٹلی کے وزیر اعظم مسولینی سے بھی ملاقات کی اور اسے سلسلہ احمدیہ کے اغراض و مقاصد بتائے۔ مسولینی نہایت اکرام سے پیش آیا۔
اٹلی میں پوپ کو اسلام کاپیغام
حضور ؓکا ارادہ پوپ سے ملنے اور ان کو تبلیغ اسلام کرنے کا بھی تھا۔ مگر پوپ نے آپ کی آمد پر ملاقاتوں کا سلسلہ بند کر دیا۔ تاہم حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ان تک جو پیغام حق پہنچانا چاہتے تھے وہ خدا تعالیٰ نے دوسرے طریق پر پہنچا دیا۔ یعنی روما کے سب سے مشہور اور کثیر الاشاعت اخبار ’’لاٹربیونا‘‘ نے حضورؓ کا ایک مفصل انٹرویو شائع کیا۔ حضورؓ سے سوال کیا گیا کہ آپ پوپ کو ملتے تو کیا کہتے؟ حضورؓ نے جواب دیا۔
’’میں جب پوپ سے ملتا تو سب سے بہترین تحفہ جو میرے پاس ہے میں اسے پیش کرتا اور وہ یہ ہے کہ میں اسے دعوت اسلام دیتا اور اس نور کی طرف بلاتا جو انسانوں کو خدا تک پہنچا دیتا ہے اور یہ لفظاً نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے نشانات اس میں پائے جاتے ہیں … بڑے بڑے آدمی عیسائیوں میں پائے جاتے ہیں جن کو بڑا نیک اور متقی کہا جاتا ہے۔ مگر وہ کوئی نشان اپنی صداقت میں نہیں دکھا سکتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا قرب حاصل کرنے کا یہ راہ نہیں۔ اور یہ سچ ہے خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کو اسی لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ وہ دنیا پر ثابت کر دے کہ یہ قوت اور طاقت اب اسلام میں ہے … پس میں پوپ کو اس اسلام کی بشارت دیتا اور اس کو سناتا کہ ہم کو وہ نشان دیئے گئے ہیں جو خدا کے برگزیدہ کو ملتے ہیں۔‘‘
(الفضل 23ستمبر1924ءصفحہ 3تا4)
روما میں حضورؓ نے اصحاب کہف کی غاریں بھی دیکھیں جس کی تفصیل حضور ؓنےسورۃ کہف کی تفسیرمیں بیان فرمائی ہے۔حضورؓ فرماتے ہیں۔’’یہ تہہ خانے تین منزل میں بنے ہوئے ہیں۔ اور1924ءمیں انگلستان جاتےہوئے روم میں مَیں نے خوداپنی آنکھ سے دیکھاہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد6صفحہ 485،ایڈیشن 2023ء)
لندن میں ورودِ مسعود
روما سے 20؍ اگست 1924ء کو شام کو روانہ ہوکر دوسرے دن صبح (21اگست کو) 9 بجے کے قریب پیرس فرانس پہنچے۔ بذریعہ جہاز رود بار انگلستان عبور کرکے ڈوور آئے اور ڈوور سے گاڑی لے کر22؍ اگست 1924 کو6 بجے کے قریب لنڈن کے مشہور وکٹوریہ سٹیشن پہنچے۔ جہاں مبلغ اسلام اور دوسرے اصحاب استقبال کے لئے حاضر تھے۔
حضور نے پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہی اپنے قافلہ سمیت دعا کی۔ اس نظارہ کا فوٹو لنڈن کے اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ اسٹیشن سے حضور لڈ گیٹ پہنچے اور سینٹ پال کے گرجا کے دروازہ کے پاس صحن میں آپ نے اسلام کی کامیابی اور کسر صلیب کے لئے دعا کی۔ یہ نظارہ لنڈن نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس لئے چاروں طرف خلقت کا ازدہام ہو گیا۔ حضورؓ ایک لمبی دعا کرنے کے بعد اپنے خدام سمیت سوار ہو کر اپنی قیام گاہ چیشم پیلس نمبر ۶ میں پہنچے اور مکان میں داخلہ سے پہلے دُعا کی۔
اخبارات کے ذریعہ انگلستان میں آپ کی آمد کی تشہیرہوئی ۔حضور ؓنے یہاں پہنچ کر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے رفقاء کو مختلف فرائض سپرد کرکے ایک انتظامیہ کمیٹی قائم کر دی جس کے پریذیڈنٹ چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور سیکرٹری مولوی محمد الدین صاحب کو تجویز فرمایا۔اس کے علاوہ حضور نے قیام لندن کے پہلے ہفتہ میں ’’ایوننگ سٹینڈرڈ‘‘ اور اخبار ’’سٹار‘‘ کے نمائندوں کو انٹرویو دیا۔ حضرت حافظ روشن علی صاحب کے ’’تصوف‘‘ کے مضمون پر نظر ثانی فرمائی اور ضروری ہدایات کے ساتھ مولوی محمد دین صاحب کو ترجمہ کے لئے دیا۔ یہ مضمون 25؍ستمبر1924ء کو مولوی محمد دین صاحب ہی نے پانچ بجے شام سر پیٹرک نگن کی صدارت میں سنایا اور بہت مقبول ہوا۔اس ہفتہ حضور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ہمراہ ویمبلے اور انڈیا آفس میں تشریف لے گئے۔ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ انگلستان نے اخبارات کے نمائندوں کو دعوت دی۔ جس میں مذاہب کانفرنس کی انتظامیہ کے بعض ممبر بھی شریک ہوئے۔ اس دعوت میں حضورؓ نے اہل انگلستان کے نام ایک مفصل پیغام دیا۔ جس کا فصیح و بلیغ انگریزی زبان میں فی البدیہہ انگریزی ترجمہ مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے سنایا۔اس پیغام کا ایک حصہ یوں ہے۔
ــ’’ میں اس محبت اور اس اخلاص کی وجہ سے جو بنی نوع انسان سے رکھتا ہوں اور جو میں سمجھتا ہوں کہ بانی سلسلہ احمدیہ کی صحبت اور اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ہے انگلستان آیا ہوں۔ میں ان پیشگوئیوں کی وجہ سے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے کیں اس امر پر یقین رکھتا ہوں کہ مغرب جلد ان صداقتوں کو قبول کرے گا جو بانی سلسلہ احمدیہ جن کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی اور کل مذاہب کے موعود ہونے کا تھا لائے تھے …مسیح موعود کا دعویٰ تھا کہ وہ صلح کے شہزادے ہیں اور یہ کہ ان کے ہاتھ پر دنیا اکٹھی کی جائے گی اور امن قائم ہو گا پس ہر اک امن پسند کا فرض ہے کہ وہ ان کے دعویٰ پر غور کرے تا اس کی سستی اس مقصد کو پیچھے نہ ڈال دے جس کے حصول کے لئے وہ کوشاں ہے۔ کوئی سچی اخوت قائم نہیں ہو سکتی جس کی بنیاد خدا کے ساتھ تعلق پر نہ ہو کیونکہ بھائیوں کا رشتہ باپ کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو باپ کو پہچانتا ہے وہ باپ کے حق کو پہچان سکتا ہے اور اس زمانہ میں صرف مسیح موعود ہی ایک ایسا شخص ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ باپ سے اسی دنیا میں انسان کو ملا دیتا ہے اور نہ صرف دعویٰ کرتا ہے بلکہ ہزاروں جنہوں نے اس کی تعلیم پر عمل کیا انہوں نے خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی طرح سنا جس طرح کہ پہلے نبیوں کے حواری سنتے تھے چنانچہ راقم مضمون بھی ان میں سے ایک ہے …چونکہ ہمارا مقصد خدا اور بندوں کے درمیان اور بندوں اور بندوں کے درمیان نیک تعلق قائم کرنا ہے …سو آئو ہم سب مل کر بہتری کے لئے کوشش کریں اور بجائے اجاڑنے والوں کے آباد کرنے والے بنیں۔‘‘
(تاریخِ احمدیت جلد 4صفحہ 447)
قیام لنڈن کے دوسرے ہفتہ ۲۹؍ اگست سے ۴؍ ستمبر ۱۹۲۴ءمیںحضورؓ برائٹن کے قصبہ میں تشریف لے گئے اور جنگ عظیم میں جان دینے والے سپاہیوں کی یادگار میں چھتری میں دعا کی کہ جس طرح یہ ایک نشان ہے ان لوگوں کا جو ایک دنیاوی غرض کے لئے متحد ہوئے، اسی طرح اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعودؑ کی عظیم الشان چھتری کے نیچے مشرق و مغرب کو جمع کر دے۔ حضورؓنے دعا سے پہلے ایک تقریر بھی فرمائی۔ یہ نظارے فلموں میں بھر کر سینما میں بھیج دئیے گئے۔ جو عراق، عرب ،مصر ، شام ، امریکہ وافریقہ میں غرض تمام دنیا میں چکر لگا رہی ہیں۔
7؍ ستمبر1924ء کو بہت سے انگریز مردوں‘عورتوں ہندوستانی طالب علموں اور سفارت ترکیہ اور دوسرے معزز مسلمانوں کو دعوت پر بلایا گیا، جس میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ایک اور پیغام محبت حسب سابق مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے نہایت قابلیت سے پڑھ کر سنایا۔ 9؍ ستمبر1924ء کی شام کو حضور نے ’’ایسٹ اینڈ ویسٹ یونین‘‘ کے اجلاس (منعقدہ گلڈ ہائوس) میں پہلا انگریزی لیکچر دیا جو بہت پسند کیا گیا۔ پھر 11؍ ستمبر 1924ء کو قیام امن کے مسئلہ پر لیگ آف نیشنز کے شعبہ مذہب و اخلاق کے سیکرٹری مسٹر ایل سن اور مسٹر رین سے تفصیلی گفتگو فرمائی اور حکیمانہ انداز میں بتایا کہ جب تک اسلامی اصولوں پر لیگ آف نیشنز کی بنیاد قائم نہیں ہو گی یہ اپنے مقاصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی۔
(الفضل14؍اکتوبر1924ءصفحہ 3تا4)
12ستمبر1924ءکو حضور نےجمعہ کی نماز پڑھائی اور جماعت کو توجہ دلائی کہ اسے شہید افغانستان مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی طرح ہر وقت شہادت کے لئے تیار رہنا چاہئے۔13؍ ستمبر1924ء کو حضورؓنے پورٹ سمتھ میں دو لیکچر دیئے ایک ’’مسیح کی آمد ثانی‘‘ پر اور دوسرا ’’پیغام آسمانی‘‘ پر۔ 15؍ ستمبر کو حضورؓنے ہندوستانی طلبہ سے خطاب فرمایا۔16؍ ستمبر 1924ء کو آپؓنے کانفرنس کے لئے مجوزہ مضمون کا خلاصہ لکھا۔ 17؍ ستمبر 1924ء کو آپؓنے مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کابل کی شہادت سے متعلق ایک احتجاجی جلسہ میں تقریر فرمائی۔
19؍ ستمبر کو حضورؓنےجمعہ کے بعد ویمبلے کانفرنس کے پریذیڈنٹ سر ای۔ ڈی راس سے ملاقات کی۔ آپ کا شمار انگلستان کے نامور مستشرقین میں ہوتا ہے۔ مزاج پرسی کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کی تشریف آوری پر انگلستان کا پریس بہت دلچسپی لے رہا ہے۔ اسی شام آپ نے سینٹ لوکس ہال میں ’’حیات بعد الموت‘‘ پر شاندار لیکچر دیا۔20؍ ستمبر کو لیگوس (نائجیریا) کے دو حاجی صاحبان (جن میں سے ایک احمدی تھے) حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
کرنل ڈگلس سے ملاقات
21؍ ستمبر ۱۹۲۴ء کی شام کو حضور کی کرنل ڈگلس سے ملاقات ہوئی۔ یہ وہی ڈگلس تھے جنہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداس پور (پنجاب، بھارت) کےطورپر ڈیوٹی کے دوران حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے خلاف ہنری مارٹن کلارک کا مقدمہ بے بنیاد پا کر خارج کر دیا تھا اور عدل و انصاف کا بہترین نمونہ دکھایا تھا۔
یورپ میں اسلام کی روحانی فتح کی بنیاد
22؍ ستمبر 1924ء کو ویمبلے کانفرنس کا افتتاح ہوا اور حضور معہ رفقاء اس میں شمولیت کے لئے تشریف لے گئے۔23؍ ستمبر 1924ء کا دن دورہ یورپ کا تاریخ سازعظیم الشان دن ہے کیونکہ اس دن ویمبلے کانفرنس میں حضور ؓ کا بے نظیر مضمون پڑھا گیا جس نے سلسلہ احمدیہ کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔ یورپ میں اسلام کی روحانی فتح کی بنیادیں رکھ دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لندن میں تقریر کرنے کی رؤیا پوری ہوئی۔
26؍ ستمبر کو حضورؓنے کنز رویٹو کی درخواست پر ڈچ ہال لنڈن میں ہندوستان کے حالات حاضرہ اور اتحاد پیدا کرنے کے ذرائع پر ایک معلومات افزا لیکچر دیا۔ 28؍ ستمبر کو آپ کا ایک اہم مضمون ’’رسول کریمﷺ کی زندگی اور تعلیم سے نوجوان بچے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘‘ کے موضوع پر لنڈن فیلڈ میں پڑھا گیا۔ اسی ہفتہ آپؓنے فیصلہ فرمایا کہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کا انگریزی ایڈیشن آئندہ لنڈن سے شائع ہوا کرے۔
فاتح جرنیل
2؍ اکتوبر کو حضور ؓ’’ولیم دی کنکرر‘‘ والی خواب کو پورا کرنے کے لئے خلیج میونسی پر پہنچے اور ایک کشتی لے کر اس مقام کی طرف تشریف لے گئے جہاں ’’ولیم دی کنکرر‘‘ اترا تھا۔ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانیؓ کا بیان ہے کہ اس وقت آپ کے چہرہ پر جلال اور شوکت تھی اور اس کے ساتھ ایک ربودگی بھی تھی۔ اس کے بعد خاموشی کے ساتھ آپ نے دعا کروائی۔ حضورؓنے نماز قصر کرکے پڑھی اور اس میں بھی لمبی دعا کی اور زمین پر اکڑوں بیٹھ کر پتھر کے سنگریزوں کی مٹھیاں بھریں اور فرمایا کسریٰ کے دربار میں ایک صحابی کو مٹی دی گئی تو صحابی نے مبارک فال لیا کہ کسریٰ کا ملک مل گیا اور لے کر رخصت ہوا۔ شہنشاہ ایران نے آدمی بھیجے کہ وہ مٹی لے آئیں مگر صحابی نے واپس نہ کی اور خدا نے بھی اس مبارک فال پر وہ سر زمین صحابہ کو دے دی۔ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور درد صاحب نے ان سنگریزوں کی دو دو مٹھیاں بھر کر اپنی جیبوں میں ڈال لیں۔ یہاں سے فارغ ہوتے ہی بھائی جی کے دل میں ایک پُر زور تحریک ہوئی اور آپ نے باواز بلند مبارک باد دی اور بہت جوش سے حضرت مسیح موعودؑ کا یہ مصرعہ پڑھا۔
تو سچے وعدوں والا منکر کہاں کدھر ہیں
(الفضل 20 نومبر1924ءصفحہ5)
3؍ اکتوبر 1924ء کو حضور نے کانفرنس مذاہب عالم کے آخری اجلاس سے اردو میں خطاب فرمایا۔ جس پر نہایت ہی مسرت کا اظہار کیا گیا۔ لیکچر ہال بالکل پُر تھا۔
(الفضل 6،15نومبر1924ء)
4؍ اکتوبر 1924ء کو حضورؓ مع رفقاء انگلستان کے نئے مبلغ مولوی عبدالرحیم صاحب درد ؓکو لے کر پٹنی کے اس مکان کے دروازہ پر تشریف لے گئے جو مجوزہ مسجد میں کھلنے والا تھا۔ اس مقام پر کھڑے ہو کر حضورؓ نے تعمیر مسجد کی سکیم کا مختصر ذکر فرمایا۔ پھر مکان کے اس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں ان دنوں نمازیں ہوتی تھیں اور بہت لمبی دعا کروائی اور اس کے بعد اپنے دست مبارک سے مولوی عبدلرحیم صاحب درد ؓکو اس مکان کی چابی عطا فرمائی اور پھر مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور ان کے نائب ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے کو مفصل ہدایات دیں۔ 7؍ اکتوبر کو حضور ؓنے دارالامراء (House of Lords)کا اجلاس دیکھا اور 8 اور9؍ اکتوبر کو دارالعوام (House of commons ) کا اجلاس دیکھنے تشریف لے گئے۔
12؍ اکتوبر کو نو مسلموں کو پانچ گھنٹہ تک تبلیغ و ہدایت فرمانے میں مصروف رہے نیز انگریز مردوں اور عورتوں سے مختلف مسائل سے متعلق دلچسپ مذہبی گفتگو فرمائی۔15؍ اکتوبر کو حضورؓنے ’’اورینٹل سکول آف سٹڈیز‘‘ دیکھا۔
(الفضل11نومبر1924ء)
19؍اکتوبر1924ء:ایک یادگاردن
19؍ اکتوبر 1924ءکادن ایک یادگاردن ثابت ہوا۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے4بجے شام ایک بہت بڑے مجمع میں ’’مسجد فضل‘‘ کا اپنے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھا۔
(الفضل25؍اکتوبر1924ء)
لندن میں سب سے پہلی مسجد کی بنیاد رکھی جا چکی تو مولوی عبدالرحیم صاحب دردؓنے بلند آواز سے حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ایک تار پڑھ کر سنایا جو انہوں نے جماعت احمدیہ ہندوستان کی طرف سے اس تقریب پر مبارک باد کا بھیجا تھا۔ اس کے بعد حضورؓنے لمبی دعا کی۔ پھر عصر کی نماز اسی مقام پر پڑھی اور حضورؓنے اعلان فرمایا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ اس مسجد کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھا گیا۔ نماز کے بعد مبارکباد کی آواز ہر طرف بلند ہوئی اور مسجد کے محراب پر ایک جھنڈا لہرایا گیا جو حیدر آباد کے ہوم سیکرٹری نواب اکبر نواز جنگ صاحب نے دیا تھا۔
(الفضل20؍نومبر1924ء)
لنڈن سے روانگی اور بمبئی میں درود
حرفِ آخر:
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بہت دعاؤںاوراحباب جماعت سے مشورہ کے بعد خودیورپ کے حالات کا جائزہ لینےکیلئے اس سفر پر روانہ ہونےکافیصلہ فرمایاتھا۔ لندن میں ہی ایک ریورنڈ کی سیکرٹری نے حضرت اقدس سے سوال کیا کہ آپ کو اس سفر سے کیا بڑا فائد ہ پہنچا ؟حضور نے فرمایا کہ’’ انسان کے سامنے دن رات ہزاروں قسم کے حالات اور خیالات آتے رہتے ہیں مگر سب کے متعلق اس کے دل میں تحقیقات کا خیال پیدا نہیں ہوتا ۔ تحقیقات کا خیال انسان کے دل میں جب ہی پیدا ہوتا ہے جب وہ کسی چیز کو خصوصیت اور اہمیت کے درجہ تک پہنچا ہوا پاتا ہے۔
آج سے پہلے ہمارے سلسلہ کو یہ اہمیت نہ تھی کہ لوگ اس کی طرف توجہ کریں بلکہ سوائے شاذ کے کوئی نام سے بھی واقف نہ تھا مگر اب ہمارے آنے سے خدا نے اس قدر اشاعت کر دی ہے اور شہرت اور اہمیت کے ایسے سامان پیدا کر دئیے ہیں کہ اب وہ روک ہمارے راستہ سے اُٹھ گئی ہے اور لوگ عام طور پر ہمیں جاننے لگے ہیں اور توجہ دنیا کی ہماری طرف پھرنے لگی ہے وغیرہ ۔‘‘
اس جواب کو سنکر پرنسپل اور اسکی سیکرٹری نے کہا
’’Very great achievement‘‘
خدا کے فضل سے اس جلسہ کے بہت بڑے فوائد نکلیں گے۔
(سفریورپ:صفحہ 393)
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج سوسال کےبعد جب ہم یورپ میں اسلام احمدیت کی تبلیغی سرگرمیوں کوطائرانہ نظرسے بھی دیکھتے ہیں تو ہم یقین محکم سے گواہی دیتے ہیں کہ اس دورہ کے اغراض ومقاصد سوفیصد پورے ہو رہے ہیں اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی یہ پیشگوئی نہایت شان شوکت سے پوری ہورہی ہے۔
آخرمیں دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیںاسلام احمدیت کی تعلیمات پر حقیقی رنگ میں عمل کرنےکی توفیق عطافرمائے۔آمین۔
٭٭٭