اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

ویمبلےکانفرس کی رپورٹ اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مضمون پر دانشوروں و اخبارات کا تبصرہ (مصور احمد مسرور مبلغ سلسلہ)

قارئین کرام ! سال1924 ءجماعت احمدیہ کی تاریخ میںجماعتی ترقی کے نقطہ نگاہ سے ایک حیرت انگیز انقلاب کا سال رہاہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ سال 1924 ء میں جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یورپ کا پہلا سفر فرمایا ۔اس تاریخی اور بہت ہی اہم سفر کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ ایک نئے دور میں داخل ہوئی اور یورپ میں فتح اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔
قارئین کرام! حضرت مصلح موعودؓنے جس بنیادی اور سب سے اہم وجہ کی بناء پر اس سفر کو اختیار کیا وہ لندن میں منعقد ہونے والی ویمبلے مذاہب کانفرنس تھی ۔جس میں حضرت مصلح موعودؓ کو مذہبِ اسلام کی نمائندگی میں  لیکچر دینے کی غرض سے مدعو کیا گیا تھا ۔
لہٰذا ہم اپنے اس مضمون میں اس کانفرنس کی رپورٹ اور اس میں پڑھے گئے حضرت مصلح موعودؓ کے لیکچر کے متعلق دانشوروں اور اخبارات کے تاثرات کا کچھ تذکرہ کریں گے ۔
کانفرنس کےانعقاد کا مختصر پس منظر
اس کانفرنس کاانعقاد کس طرح عمل میں آیا اور کس طرح حضورؓکی خدمتِ اقدس میں  کانفرنس مذاہب میں شرکت کے لئے دعوت نامہ پہنچا اس کا ذکر تاریخ احمدیت میں ان الفاظ میں ملتا ہے :
شروع1924ء میں انگلستان کی مشہورویمبلے نمائش کے سلسلہ میں سوشلسٹ لیڈر مسٹر ولیم لافٹس ہیر (Mr William Loftus Hare) نے یہ تجویز کی کہ اس عالمی نمائش کے ساتھ ساتھ ایک مذاہب کانفرنس بھی منعقد کی جائے جس میں برطانوی مملکت کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں۔ نمائش کےمنتظمین جن میں مستشرقین بھی شامل تھے نے اس خیال سے اتفاق کیا اور لنڈن یونیورسٹی کے مدرسہ علوم شرقیہ(The School of Oriental Studies) کے زیر انتظام کا نفرنس کے وسیع پیمانہ پرانعقاد کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ۔
کا نفرنس کا مقام امپیریل انسٹی ٹیوٹ لنڈن مقرر کیا گیا اور22ستمبر 1924ء سے 3اکتوبر1924ء تک کی تاریخیں اس کے لئے تجویز کی گئیں۔ کمیٹی نے مندرجہ ذیل مذاہب کے مقررین کا انتخاب کیا۔ ہندومت،اسلام ،بدھ ازم، پارسی مذہب ،جینی مذہب ، سکھ ازم ، تصوف، برہمو سماج، آریہ سماج ،کنفیوشس از م وغیرہ ۔
اگرچہ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر1923ء کے آغاز ہی سے لنڈن میں تھے مگر آپ کو اس عظیم الشان کانفرنس کی تجویز کا مطلق علم نہ ہو سکا۔ مگر جب کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ مقررین بھی تجویز ہو چکے اور1924ء کا بھی کچھ حصہ گزر چکا تو ایک سوسائٹی میں برسبیل تذکرہ کسی نے اس کا تذکرہ کیا جس پر آپ کمیٹی کے جائنٹ سیکرٹری ایم ایم شار پلز سے ملے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام سے متعلق احمدی جماعت کا نقطہ نگاہ ضرور پیش ہونا چاہئے ۔ کمیٹی میں ذکر آیا تو کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر سر تھامس ڈبلیو آرنلڈ (مصنف Preaching of Islam) نے کمیٹی کو توجہ دلائی کہ انتخاب مقررین میں نیر صاحب سے ضرور مشورہ لیا جائے۔ چنانچہ حضرت نیز صاحب کے ساتھ مجوزہ پروگرام پر نظر ثانی ہوئی۔ آپ نے ہندومت اور بدھ کے نمائندوں کے نام تجویز کرنے کے علاوہ تصوف کی نمائندگی کے لئے حضرت صوفی حافظ روشن علی صاحب کا نام لکھایا ۔ مگر ساتھ ہی بتایا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ کی اجازت سے ہی حافظ صاحب آسکیں گے۔کمیٹی میں جو نہی یہ نام پیش ہوئے تو ڈاکٹر آرنلڈ اور پروفیسر مارگولیتھ نے اور کمیٹی کے دوسرے تمام ممبروں نے نہایت خلوص و محبت سے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی خدمت میں کانفرنس میں شمولیت کی درخواست کی جائے اور صوفی صاحب کو بھی ساتھ لانے کی گزارش کی جائے اس طرح حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓکی خدمت میں انگلستان کے سر بر آورد ہ مستشرقین کی طرف سے دعوت نامہ پہنچا۔
(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 422-423)
Sir E Denison Ross جو کہ سال1924 ء میں لندن میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس مذاہب کے چیئرمین تھے ۔اس کانفرنس کے انعقاد کے متعلق فرماتے ہیں :
یہ کانفرنس، جو کہ’’ سلطنت کے اندر موجود کچھ زندہ مذاہب ‘‘پر منعقد ہوئی، درحقیقت میرے لیے اُس خط کی مرہونِ منت ہے جو مجھے 1923ءکے آغاز میں مسٹر لوفٹس ہیر سے موصول ہوا۔اس خط میں انہوں نے 1924ء میں ہونے والی برٹش ایمپائر ایگزیبیشن کے سلسلے میں مذاہب کے بارے میں ایک کانفرنس کے انعقاد کا مشورہ دیا تھا، جس میں اس وقت مختلف موضوعات پر کانفرنسیں منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ میں نے جواب میں اس خیال سے اتفاق کیا، بشر طیکہ اولاً، کانفرنس میں کوئی متنازعہ بحث نہ ہو، اور دوم، ہر مذہب کا نمائندہ وہ شخص ہو جو اس مذہب کا پیروکار ہو۔
مسٹر ہیر اور ان کے کچھ دوستوں نے بعد میں ایگزیبیشن کے حکام سے رابطہ کیا اور آخر کار یہ طے پایا کہ ہمیں ستمبر کے آخر اور اکتوبر1924ءکے آغاز میں دس دن کے لیے ایگزیبیشن کی طرف سے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
(RELIGIONS OF THE EMPIRE PAGE NO. 3)
ویمبلے مذاہب کانفرنس میں شرکت کےلئے حضور ؓ کا جماعت سے مشورہ اور حضورکی اپنی رائے
جب حضرت اقدس کی خدمت میں کانفرنس مذاہب میں شمولیت کے لئے تار پہنچا تو حضور ؓ نے16 ؍مئی 1924ء کو بعد نماز عصر ایک مجلس شوریٰ بلائی اور احباب قادیان سے مشورہ طلب فرمایا کہ کانفرنس میں شمولیت کے لئے کس کو بھیجا جائے ۔اس مجلس شوریٰ میںموجود16 ممبران میں سے 11 ممبران نے جن میں قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد بھی شامل تھے نے یہ مشورہ دیا کہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کا یہ ایک بہت ہی خاص موقع ہے اس لئے اگر حضور خود بنفس نفیس تشریف لے جا سکیں تو مناسب ہوگا ۔مجلس شوریٰ میں موجود دوسرے احباب نے بھی بھاری کثرت میں اس مشورے کی تائید کی ۔
قادیان کے دوستوں سے مشورہ طلب فرمانے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے قادیان سے باہر احباب جماعت سے بھی بذریعہ خط اس امر کے متعلق مشورہ طلب فرمایا اور اس خط میں کانفرنس مذاہب کا ذکر کرتے ہوئے اور اس سے تبلیغی فائدہ اُٹھائے جا سکنے کے متعلق حضرت مصلح موعود ؓ نے احباب جماعت کو اپنے اس خط میں  مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :
آپ لوگوں کو شاید معلوم ہو گا کہ ولایت میں دو سال سے ایک تجارتی نمائش کی تیاریاں ہو ر ہی تھیں جس میں انگریزی حکومت کے تمام علاقوں کی ہر قسم کی پیداوار اور صنعت کی چیزیں رکھی جائیں گی یہ نمائش اب کھل گئی ہے اور ایسے بڑے پیمانے پر ہے کہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ تجارت کی ترقی کو مد نظر رکھ کر اور ملکوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے دو کروڑ آدمی کے قریب اس کو دیکھنے آئے گا۔ غرض ان دنوں میں دنیا کے ہر گوشے کے تعلیم یافتہ آدمی انگلستان میں جمع ہوں گے اور گویا تمام دنیا چھوٹے پیمانے پر اس جگہ جمع ہو جائے گی۔ چینی، جاپانی، امریکن ،روسی ،فرانسیسی، جرمن، ترک، عرب، مصری ایرانی ،افغانی ، ہندوستانی اور دوسری چھوٹی بڑی قوموں کے تعلیم یافتہ اور سمجھدار طبقہ کے لوگ وہاں جمع ہوں گے اور چھ ماہ تک ایسا ہی جھمگٹا وہاں رہے گا۔
اس اجتماع سے فائدہ اٹھا کر انگلستان کے مذہبی مذاق کے لوگوں نے تجویز کی ہے کہ ستمبر کے آخراور اکتوبر کے شروع میں وہاں ایک مذہبی جلسہ کیا جائے۔ جس میں ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی حقیقت کو کھول کر بیان کریں اور ساری دنیا کو ان کے اصل عقیدہ اور غرض کا علم ہو جائے۔ اس انجمن نے اپنے جلسہ میں تقریر پڑھنے کی مجھے بھی دعوت دی ہے اور درخواست کی ہے کہ میںخود وہاں جا کر اپنے سلسلہ کے متعلق ان کو علم اور واقفیت بہم پہنچاؤں۔ ایسے عظیم الشان موقع سے تبلیغ کا فائدہ اٹھانا تو ہمارا فرض ہے کیونکہ ایسا موقعہ کہ اس کثرت سے ساری دنیا کے ملکوں کے اعلیٰ طبقوں کے لوگ جمع ہوں اور گویا ساری دنیا ایک ہی وقت میں اکٹھی ہو جائے روز بروز نہیں ملتا۔ اس نمائش کی نسبت خیال کیا جاتا ہے کہ سو سال تک ایسی بڑی نمائش پھر انگریزوں کے لئے کرنی مشکل ہو گی۔ اس وقت گویا انگلستان میں بیٹھ کر ہم ساری دنیا کو خدا کا پیغام پہنچا سکتے ہیں اور کروڑوں آدمیوں کو سلسلہ کی حقیقت سے واقف کر سکتے ہیں اور دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہ سکتا جو اس ذریعہ سے سلسلہ سے واقف نہ ہو جائے۔
(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 423-424)
قادیان کےدوستوں سے مشورہ طلب کرنے کے بعد حضورؓکی اپنی رائے کیا تھی وہ بھی حضور نے اس خط میں احباب جماعت کے سامنے ان الفاظ میں رکھی ۔حضورؓنے تحریر فرمایا :
’’اس مشورہ کے بعد میری رائے اس طرف مائل تھی کہ میرے جانے کے بعد ان ملکوں کے مشنوں کو اور زیادہ مضبوط کرنا پڑے گا کیونکہ تحریک کر کے خاموش ہو جانا ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے زیادہ نقصان ہو گا اور اگر مضبوط کیا جاوے تو روپیہ زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔ پھر اگر میں گیا تو چونکہ ساتھ زیادہ آدمی ہوں گے اس لئے روپیہ زیادہ خرچ ہو گا اور جماعت پر بوجھ پہلے ہی زیادہ ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب اور حافظ روشن علی صاحب کو بھیج دیا جاوے ۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 425)
دو تین روز کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے جانے کےمتعلق کچھ عذر پیش کیا اور اسی دوران کانفرنس میں شمولیت کے حوالہ سے دوبارہ لندن سے تار آئی اور اسی طرح نوے فیصدی احباب جماعت نے بھی یہ رائے پیش کی کہ حضورؓکو خود بنفس نفیس شریک ہونا چاہئے ۔پھر حضرت مصلح موعودؓنے اور چالیس کے قریب دوستوں نے استخارے بھی کئے جس سے مشیت الٰہی یہی معلوم ہوئی کہ حضور کو خود ہی اس سفر کے لئے جانا چاہئے ۔
چنانچہ حضرت مصلح موعودؓنے اپنے فرائض دینی کو مقدم رکھتے ہوئے پورے انشراح صدر سے سفر پر جانے کا فیصلہ فرمایا ۔
ویمبلے مذاہب کانفرنس میںپڑھے گئے حضرت مصلح موعود ؓ کے مضمون کے متعلق کچھ اہم باتیں :
حضرت مصلح موعود ؓ نے 24مئی1924 ء کو کانفرنس کےلئے ’’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھنا شروع فرمادیا ۔
حضور کو سخت گرمی اور تپش میں صبح سے لے کر آدھی رات تک مصروف رہنا پڑتا تھا ۔چنانچہ خود فرماتے ہیں :
’’مضمون کے لکھنے کے دنوں میں مجھے بسا اوقات رات کے بارہ بارہ بجے تک اور بعض دفعہ تو دو دو بجے تک بیٹھنا پڑتا تھا ۔اس شدید گرمی کے موسم میں جبکہ دن کو کام بھی مشکل ہوتا ہے رات کے وقت لیمپ کی روشنی میں بارہ بارہ بجے تک کام کرنا سخت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کمزور صحت کے آدمی کے لئے تو نا ممکن معلوم ہوتا ہے ۔‘‘
دن رات کی محنتوں اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت سے6 جون1924 ء کو مضمون لکھنے کاکام مکمل ہو گیا ۔
نظر ثانی اور ترجمہ اور اس کی اصلاح کا کام حضور نے مکرم و محترم چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب، حضرت مولوی شیر علی صاحب اور صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کے سپرد فرما رکھا تھا ۔
انگریزی مسودہ کے ٹائپ کرانے اور مقابلہ کی ذمہ واری حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد پر تھی ۔
2 جولائی1924ء کو مضمون کا انگریزی ترجمہ مکمل کر دیا ۔اور3 جولائی1924ء کو اس کی ایک نقل مذاہب کانفرنس کے منتظموں کو بھجوادی گئی ۔
حضور ؓ نے یہ دیکھ کر کہ ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘‘کا مضمون بہت لمبا ہو گیا ہے ۔اس کے مطالب کا خلاصہ کر کے ایک نیا مضمون لکھنے کا فیصلہ فرمایا ۔
2 جولائی1924ء کو حضور اس نئے مضمون کی تصنیف میں مشغول ہو گئے اور9 جولائی کوقریباًگیارہ بجے رات یہ نیا مضمون جو ’’سلسلہ احمدیہ ‘‘ (AHMADIYYA MOVEMENT) کے عنوان سے تھا تکمیل کو پہنچا اور پھر اسی کا خلاصہ کانفرنس میں پڑھا گیا ۔
(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 429-430)
حضر ت مصلح موعود ؓ مع اصحاب سفر21 جولائی1924ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور22اگست 1924 ء کو6 بجے کے قریب لنڈن کے مشہور وکٹوریہ اسٹیشن پہنچے ۔
کانفرنس مذاہب کے انعقاد کی کمیٹی کے ممبران اور کانفرنس میں دئیے گئے لیکچرز کی تفصیلی رپورٹ
کانفرنس کی ایگزیکٹو کمیٹی:
کمیٹی کے صدر
SIR E. DENISON ROSS, C.I.E., PH.D.
کمیٹی کے نائب صدر
SIR THOMAS W. ARNOLD, C.I.E., D.LITT
MR. VICTOR BRANFORD
MR. F.C. CHANNING
PROF. ALICE WERNER, L.L.A.
MRS. C. RHYS DAVIDS, D.LITT
REV. W. SUTTON PAGE. B.D., O.B.E.
REV. J. TYSSUL DAVIS
REV. A.S. GEDEN, D.D.
SIR FRANCIS YOUNGHUSBAND, K.C.S.I., K.C.I.E
PROF. MARGOLIOUTH, D.LITT
معزز خزانچی
MR. LEONARD C. SOPER.
معزز سیکرٹریز
MISS M.M. SHARPELS
MR. W. LOFTUS HARE
(RELIGIONS OF THE EMPIRE)
قارئین کرام ! جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ اس کانفرنس مذاہب میں مختلف مذاہب کے پیروکارشامل تھے اور اس کانفرنس کی اصل غرض اور مدعا یہی تھا کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی حقیقت کو کھول کر بیان کریں اور ساری دنیا کو ان کے اصل عقیدہ اور غرض کا علم ہو جائے۔لہٰذا اسی مناسبت سے اس کانفرنس میں جو لیکچرز پڑھے گئے ان کی تفصیل قارئین کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں درج کی جارہی ہے ۔
عمومی پہلو
1: تعارف:
از سر ایی ڈینیسن راس
2: جدید مذہبی مشاورت کا خاکہ
از ولیم لافٹس ہیر
3: افتتاحی خطاب
از سر فرانسزینگ ہزبنڈ
ہندوازم
ہندو ازم پر ہونے والے لیکچر ز کی تفصیل اس طرح سے ہے :
1: ہندو مذہب پر تاریخی نوٹ
از ڈاکٹر اے ایس گیڈن
2: روایتی ہندو ازم (آرتھو ڈوکس ہندوازم) یا سناتن دھرم
از پنڈت شیام شنکر (ایم اے) بنارس
3: ہندو فلسفے کا مذہبی پہلو
از پنڈت ڈی کے لڈو
اسلام
مذہب اسلام پر ہونے والے لیکچرز کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے :
1: اسلام پر ایک تاریخی نوٹ
از پروفیسر مارگولیتھ
2: اسلام کے بنیادی اصول
از الحاج خواجہ کمال الدین
3: اسلام کی روح
از مصطفیٰ خان (لاہور )
4: اسلام کی شیعہ شاخ
از شیخ خادم
5: اسلام میں احمدیہ تحریک ( احمدیہ موومنٹ ان اسلام )
از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح قادیان
6: تصوف پر ایک تاریخی نوٹ
از سر پیٹرک فگان C.S.I., K.C.I.E
7: تصوف
از صوفی حافظ روشن علی صاحب
بدھ ازم
بدھ ازم پر ہونے والے لیکچرز کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :
1: بدھ مت پر ایک تاریخی نوٹ
از رائیس ڈیوڈس
2: سیلون میں بدھ مت کی حیثیت اور اثر
ازڈاکٹر ڈبلیو اے ڈی سلوا( کالمبو )
3: سیلون میں بدھ مت کا تعلیم پر اثر
از جی پی ملالاسیکیرا
4: مہایان بدھ مت
از مسٹر شوسون میاموٹو( ٹوکیو)
چھوٹے ہندوستانی مذاہب
چھوٹے ہندوستانی مذاہب مثلاسکھ مذہب ، جین مت وغیرہ پر ہونے والے لیکچرز کی تفصیل ذیل میں درج ہے:
1: تاریخی نوٹس
از سر پیٹرک فگان C.S.I., K.C.I.E
2: زرتشتیت : پارسیوں کا مذہب
از شمس العلماء دستور کائکوبادآدرباد نوشیروان، PH.D. ،پونا
3: جین مت
از رائے بہادر جگمندر لال جینی
M.A.,M.R.A.S. ،اندور
4: سکھ مذہب
از سردار خان سنگھ (نابھا)
چینی مذہب
چینی مذہب پر ہونے والے لیکچرز کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :
1: تائو مت پر ایک تاریخی نوٹ
ازMR.G.R.S. MEAD, B.A.
2: تائو مت
از مسٹر HSÜ TI-SHAN
جدید تحریکیں
جدید تحریکات پر مندرجہ ذیل ہوئے :
1: تاریخی نوٹس
ازREV.W.SUTTON PAGE, O.B.E.
2: برہمو سماج
از MR.N.C.SEN, O.B.E.
3: آریا سماج
از پروفیسر ایس ۔این۔پھیروانی (شکارپور)
4: بہائیت کی تحریک ۔بہائی اسمبلی کی جانب سےیہ مضمون مسٹر مائونٹ فورڈ ملس،کینیڈا نے پڑھ کر سنایا
5: بہائیت کا زندگی پر اثر
از مسٹر روحی افنان(حیفہ)
قدیم مذہب
قدیم مذاہب پر مندرجہ ذیل لیکچرز کانفرنس میںپڑھے گئے :
1: قدیم مذہب پر ایک تعارفی نوٹ
از PROF. ALICE WERNER, L.L.A.
2: مائوری اعتقادات کا کچھ جائزہ
از THE VENERABLE ARCHDEACON WILLIAMS
3: مشرقی افریقہ کے کچھ قبائل کے اعتقادات
از مسٹر رِچرڈ سینٹ بارب بیکر (لیٹ آف کینیا کالونی )
4: بانٹو مذہبی نظریات
از مسٹر البرٹ ٹھوکا (پیٹرس برگ سائوتھ افریقہ )
5: مشرقی افریقہ کے نیگرو کے مذہب کے کچھ پہلو : از MR.L.W.G.MALCOMM,F.R.S.E
(LATECAPTAIN OF NIGERIA REGT)
مذاہب کی نفسیات اور سماجیات
1: تعارفی نوٹ
از ولیم لوفٹس ہیر
2: انسان اور فطرت
از سر فرانسس ینگ ہزبنڈ
3: قدرتی ماہر کا مذہب کے بارے میں نقطہ نظر
از پرافیسر جے۔آرتھر تھامسن،L.L.D.
4: قدیم پیشے: ان کے اصول اور لالچیں
 از مسٹر وکٹر بران فورڈ ،M.A.
5: مقدس راستے اور مقدس مقامات
از PROF. H.J. FLEURE, D.SC.
6: مقدس شہر کا تصور از
MRS. RACHEL ANNAND TYLOR
7: مذہب اور تہذیب کی زندگی
از مسٹر کرسٹافر ڈاسن
8: مثالی انسان
از مسٹر ولیم لوفٹس ہیر
9: زندگی کے نقشے پر مذہب
از پرافیسر پیٹرک گَیڈّیس
اختتامی تقریب
1: عمومی جائزہ
از مسٹر وکٹر بران فورڈ ،M.A.
2: خلاصہ از :
REV. TYSSUL DAVIS, B.A.
(RELIGIONS OF THE EMPIRE)
قارئین جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ویمبلے مذہبی کانفرنس میں اسلام کی برتری وحقانیت کو ثابت کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود ؓ نے جو معرکۃ الآرا مضمون تیار فرمایا وہ
’’AHMADIYYA OR TRUE ISLAM‘‘ (احمدیہ یعنی حقیقی اسلام ) کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔اس مضمون میں اسلام کی بنیادی تعلیمات ان کی حکمت و فلسفہ بڑے دلنشیں انداز اور مدلل طریق پر بیان کیا گیا ہے ۔ یہ مضمون جس تفصیل و بیان کا تقاضا کرتا تھا اس کی وجہ سے اس کی ضخامت اتنی ہو گئی کہ کانفرنس کے مجوزہ وقت میں اسے بیان کرنا ممکن نہ تھا ۔ چنانچہ حضور نے ایک مختصر مضمون تیار فرمایا۔جس کا عنوان ’’ احمدیہ موومنٹ‘‘تھا۔
قارئین !23 ستمبر 1924ء کا دن وہ تاریخی دن تھا جس دن حضرت مصلح موعود ؓ کا مضمون کانفرنس مذاہب میں پڑھا گیا ۔اس بے نظیر مضمون کی بدولت سلسلہ احمدیہ کی شہرت کو چار چاند لگ گئے اور یورپ میں اسلام کی روحانی فتح کی بنیاد رکھی گئی ۔
حضرت مصلح موعود ؓ کے مضمون کا وقت شام 5 بجے رکھا گیا اور اس دن وقت کے لحاظ سے یہ تیسرا مضمون تھا ۔ لوگ اس سے دو گھنٹہ قبل سے ہی اسلام کے متعلق مضامین سن رہے تھے۔لندن کے لوگوں کے بارے میں یہ خدشہ تھا کہ یہ لوگ زیادہ دیر تک ٹک کے بیٹھنے کے عادی نہیں ہیں نہ جانے حضور کے مضمون تک سامعین کی حاضری کتنی ہوگی ۔ تا ہم حاضرین آخر وقت تک جمے بیٹھے رہے ۔بلکہ خاص حضور کے مضمون کو سننے کے لئے مضمون کے شروع ہونے کے وقت اور بھی بہت سے لوگ آگئے ۔ حتی کہ ہال بالکل بھر گیا ۔
سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ کے اس مضمون کو سننے کےلئے لوگوں کے اندر کتنی دلچسپی تھی اس کا اندازہ حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی کے ان الفاظ سے ہو سکتا ہے جو اس وقت اس کانفرنس میں موجود تھے اور یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرما رہے تھے ۔حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی ؓ تحریر کرتے ہیں :
’’حضور کے لیکچر سے پہلے آدھ گھنٹہ کا وقفہ لوگوں کو چاء کے لئے دیا گیا ۔ مگر میں دیکھتا تھا کہ کثرت سے عورتیں اور مرد اگلی صفوں میں جگہ لینے کی غرض سے چاء بھی شاید پی نہ سکے ۔اور جلد ہی دوڑتے ہوئے چلے آئے ۔یہاں لوگ عموماً کھلا بیٹھنے کے عادی ہیں ۔ایک آدھ کرسی ہر شخص اپنے آس پاس ٹوپی یا ہینڈ بیگ وغیرہ کے لئے خالی رکھتا ہے ۔مگر اس لیکچر میں یہ باتیں نہ تھیں ۔اس شوق اور محبت سے لوگ آگے جگہ لینے کے لئے دوڑے آتے تھے جس طرح ہمارے ہاں مسجد مبارک میں صبح کی نماز کے جلسہ کے ایام میں لوگ جدو جہد کرتے ہیں یا حضرت صاحب کی تقریر کے دن جلسہ گاہ میں جگہ لیتے ہیں ۔‘‘
(الفضل مورخہ 23؍اکتوبر 1924ء،صفحہ کالم 3 )
اس مضمون کوویمبلے مذہبی کانفرنس میں حضور ؓکے ارشاد پر چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے پڑھا۔حضور اپنے تمام رفقاء سمیت اس کانفرنس میں موجود تھے ۔یہاں اس امرکا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جب حضرت چوہدری صاحب مضمون پڑھنے کےلئے اُٹھنے لگے تو حضور نے ان کے کان میں فرمایا ’’ گھبرانا نہیں میں دعا کروں گا ‘‘ حضرت چوہدری صاحب جیسے انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے مشاق لیکچرار کے لئے یہ الفاظ اور زیادہ خدائی امداد و یقین کا باعث ہوئے اور یہ تقریر تمام سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سنی ۔
سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ کے اس مضمون پر دانشوروں اور اخبارات کے تاثرات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :
سب سے پہلے خاکسار حضرت مصلح موعود ؓ کے الفاظ میں اس مضمون کی کامیابی کے متعلق کچھ ذکر کرنا چاہتا ہے ۔
کانفرنس مذاہب میں کامیاب لیکچر اور اس کے اثر کے متعلق حضرت مصلح موعود ؓ قادیان کے افراد جماعت کو اپنے ایک تار میں جو آپ نے 25 ستمبر 1924 ء کو تحریر فرمایا فرماتے ہیں :
’’برادران! السلام علیکم ۔ جیسا کہ آپ لوگوں کو تاروں سے معلوم ہو چکا ہوگا ۔خدا تعالیٰ کے فضل سے لیکر بہت کامیاب ہوا اور جس قدر آدمی ہمارے لیکچرمیں تھے اور کسی لیکچر میں نہ تھے ۔ جگہ باقی نہ رہی تھی اور لوگوں نے نہایت غور سے سنا اور بعد میں سر تھیوڈور ماریسن اور دوسرے لوگوں نے مبارک بادیں دیںاور آدھ گھنٹہ تک مختلف دوستوں کو گھیرے کھڑے رہےاور باتیں کر تے رہے ۔‘‘
(الفضل 16؍ اکتوبر 1924،صفحہ 1کالم 2)
مضمون کے خاتمہ پر اجلاس کے صدر مسٹر تھیوڈور ماریسن نے اپنے تبصرہ میںکہا کہ :
’’مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرا لیا ہے۔میں صرف اپنی طرف سے اور حاضرین جلسہ کی طرف سے مضمون کی خوبئی ترتیب، خوبئی خیالات اور اعلیٰ درجہ کے طریق استدلال کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح کا شکر یہ ادا کرتا ہوں ۔ حاضرین کے چہرے زبان حال سے میری رائے کے ساتھ متفق ہیں اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کی طرف سے شکریہ ادا کرنے میں حق پر ہوں اور ان کی ترجمانی کر رہا ہوں ‘‘۔
(سوانح فضل عمر جلد سوم صفحہ 79)
حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی جو کہ حضرت مصلح موعود ؓ کے ہمراہ اس سفر میں تھے اور لیکچر کے وقت اس کانفرنس میں موجود تھے ۔ آپ نے حضور کے مضمون کی کامیابی اورمضمون کے بے نظیر اثر پر لوگوں کے بعض تاثرات بیان کئے ہیں اور جو کہ الفضل مورخہ 23؍اکتوبر 1924ء میں شائع ہوئے ہیں قارئین کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں درج کئے جاتےہیں ۔
حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیان تحریر فرماتے ہیں :
ایک صاحب حضرت کے حضور حاضر ہوئے اورانہوں نے عرض کیاکہ میں نے ہندوستان میں تیس سال کام کیا ہے اور مسلمانوں کے حالات اور دلائل کا مطالعہ کیا ہے کیونکہ میں ایک مشنری کی حیثیت سے ہندوستان میں رہا ہوں ۔مگر جس خوبی صفائی اور لطافت سے آپ نے آج کے مضمون کو پیش کیا ہے میں نے اس سے پہلے کبھی کسی جگہ بھی نہیں سنا ۔مجھے اس مضمون کو سن کرکیا بلحاظ خیالات،کیا بلحاظ ترتیب اور کیا بلحاظ دلائل بہت گہرا اثر ہوا ہے ۔میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں ۔زبان بھی اچھی تھی اور پڑھنے میں بھی نہایت خوبصورتی تھی ہر شخص بخوبی سن سکتا تھا اور الفاظ اور معانی کا تتبع کر سکتا تھا۔
ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ پیاری زبان تھی یہ تو اٹھارہویں صدی کی زبان تھی۔آجکل کی بازاری زبان نہ تھی۔ مضمون بھی اچھوتا اور دلکش تھا ۔
ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ میں اس مضمون کے سننے کے لئے فرانس سے آیا ہوں ۔میں عیسائیت پر اسلام کو ترجیح دیا کرتا تھا ۔اور اسلام پر بدھ ازم کو ترجیح دیا کرتا تھا اب جبکہ میں نے آپ کامضمون بھی سن لیا ہے اور بدھ ازم کو بھی سنا ہے ۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ واقعی اسلام ہی سب سے بالا تر مذہب ہے جس خوبی سے اور جس خوش اسلوبی سے آپ نے اسلام کو پیش کیا ،اس کا کوئی دوسرا مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔میرے دل پر اب اس کا گہرا اثر ہے ۔
ایک بڈھا مگر مضبوط قدو قامت اور ڈیل ڈول کا انگریز اجنبی سے لباس میں چوہدری صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں میں بڈھا ہوں کچھ بہرہ بھی ہوں اور بیٹھا بھی سب سے اخیر پر تھا۔مگرآپ کے مضمون کا ایک ایک لفظ مجھے سنائی دیا ہے اور سمجھ میں آیا ہے ۔
چوہدری صاحب نے کہا ۔میں اہل زبان نہیں ہوں مجھے اندیشہ تھا کہ شاید میرا لہجہ نہ سمجھ آسکےگا ۔انگریز نے کہا۔نہیں ہم سب لوگ بھائی ہیں غیرت کیسی ۔آپ نے نہایت خوبی سے مضمون پڑھا ہے اور نہایت اچھی طرح سے ہر ایک کی سمجھ میں آیا ہے ۔
ایک انگریز نے کہا
WELL PUT(خوب بیان کیا گیا )
WELL ARRANGED
(خوب ترتیب دیا )
WELL DEALT WITH
(خوب بحث کی گئی )
مسٹر لافٹس ہیر جو ایک سکرٹری ہیں اسی کانفرنس کے ۔انہوں نے چوہدری صاحب سے کہا
YOUR LECTURE WAS THE BEST HEARD SO FAR
جس قدر لیکچر اس وقت تک سنے گئے ہیں ان میں سے آپ کا لیکچر بہترین تھا۔
مسز شارپلز کہ وہ بھی اس کانفرنس کی سکرٹری ہے ۔اس نے چوہدری صاحب سے کہا ۔کیا ترجمہ بھی آپ ہی کا کیا ہوا ہے جواب اثبات میں پاکر کہا میں آپ کو مبارک باد دیتی ہوں کہ لوگ آپ کے بڑے مشکور ہیں ۔کیا بلحاظ زبان کے اور کیا بلحاظ پڑھنے کے ۔پھر اسی عورت نے کہا کہ لوگ عورتیں اور مرد میرے پاس آتے ہیں اور بہت ہی تعریف کرتے ہیں ۔چنانچہ ان میں سے بعض نے کہا کہ
HE SEEMS TO BE LUTHER OF THE AGE
(یہ اس زمانہ کا لوتھر (ایک مصلح) معلوم ہوتا ہے )
بعض نے مجھے کہا :
THERE IS A FIRE IN HIM
اس میںآگ ہے ۔
حضرت کے متعلق یہ الفاظ بیان کئے گئے ۔
پھر اسی مسز شارپلز نے کہا کہ ایک انگریز میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ چاء پر تو آپ نے مجھے نہیں بلایا مگر مجھے اجازت دو کہ میں اندر جائوں میری غرض در اصل اس شخص کو دیکھنا ہے جو ہندوستان سے اسلام کو پیش کرنے کے لئے آیا ہے اور احمدیوں کا سردار ہے ۔وہ شخص حضرت صاحب سے ملا ۔باتیں کیں اور پھر مولوی مبارک علی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے بد ھ مذہب کے پرچے بھی سنے ہیں اور دوسرے پرچے بھی
IT WAS FOR THE BEST OF ALL PAPERS
یہ تمام پرچوں سے بہتر تھا
ایک جرمن شخص جو یہاں پروفیسر ہیں ۔ انہو ں نے جلسہ سے واپسی کے وقت سڑک پر چلتے ہوئے آگے بڑھ کر حضرت کے حضور مبارک باد عرض کی اور کہا کہ میرے پاس بعض بڑے بڑے انگریز بیٹھے تھے میں نے دیکھا کہ بعض  زانوں پر ہاتھ مارتے تھے ۔اور کہتے تھے
RARE IDEAS ONE CAN NOT HEAR SUCH IDEAS EVERYDAY
یہ نہایت نادر خیالات ہیں ایسے خیالات ہر روز سننے میں نہیں آتے ۔
وہی جرمن پروفیسر روایت کرتے ہیں کہ بعض جگہ لوگ بے اختیار بول اٹھتے تھے کہ
WHAT A BEAUTIFULL AND TRUE PRINCIPALS
کیا ہی خوبصورت اور سچے اصول ہیں 
اور خود اپنی رائے ان الفاظ میں ظاہر کرتا تھا کہ یہ موقع احمدیوں کے لئےا یک ٹرننگ پوانٹ(مقام ترقی ) ہے اور یہ ایسی کامیابی ہے کہ اگر آپ لوگ ہزاروں پونڈ بھی خرچ کر دیتے تو ایسی شہرت اور ایسی کامیابی کبھی نہ ہوتی جیسی کہ اس ایک لیکچر کے ذریعہ سے ہوئی ہے ۔
مسٹر لین انڈیا آفس میں ایک بڑے عہدے دار ہیں وہ لیکچر سن گئے تھے مگر ان کی بیوی اس دن نہ آئی تھی انہوں نے گھر میں جاکر ذکر کیا ان کی بیوی دوسرے دن آئی اور حضرت کے خدام کو ملی اور کہا کہ میں کل نہ آئی تھی میرے خاوند نے مجھے گھر جا کر آپ کے لیکچر کی کامیابی اور قبولیت کا ذکر سنایا ۔اور مجھے بتایا کہ خلیفۃ المسیح کا پرچہ سب سے اعلیٰ اور بہترین پرچہ تھا ۔
مس گارنر ایک دہریہ اور خدا کی منکر عورت ہے اس نے کہا
IT WAS CHARMFULL
یہ دلکش تھا
’’اچھا مضمون تھا‘‘
’’ نہایت اعلیٰ  خیالات تھے ‘‘
’’نئی صداقت‘‘ وغیرہ وغیرہ الفاظ تو اس کثرت سے لوگوں نے کہے کہ ان کا کوئی حدو حساب نہیں ۔
بہائی مذہب کی ایک عورت نے لیکچر سنا اور پھر ہمارے ساتھ ساتھ مکان کے قریب تک چلی آئی وہ کہتی تھی کہ میں بہائی خیالات رکھتی تھی مگر اب آج کا لیکچر سن کر میرے خیالات بدل گئے ہیں میں چاہتی ہوں کہ آپ کے زیادہ لیکچر سنوں مجھے اگر مہربانی سے بتائیں کہ کب اور کہاں کہاں لیکچر ہوں گے تو میں ضرور آئوں گی ۔
ایک عیسائی عورت معہ اپنی لڑکی کے بہت محبت سے حضور کے پیچھے پیچھے چلی آئی اور درخواست کی کہ میرے مکان پر آپ جمعرات کو چاء کے لئے آئیں ۔حضرت نے مصروفیت کا عذر کیا مگر اس نے بڑے اصرار اور محبت سے درخواست کو منظور کرا لیا ۔اور کہا کہ خواہ آپ کسی وقت آویں مگر ضرور آویں ـ۔
ایک صاحب نے یہ بھی کہا کہ ایسا پیارا مضمون تھا کہ حب الوطنی سے بھی زیادہ پیارا تھا ۔
(الفضل مورخہ 23؍اکتوبر 1924ء )
ایک صاحب نے کہا تین سال ہوئے مجھے رئویا میں دکھایا گیا تھا کہ حضرت مسیح تیرہ حواریوں کے ساتھ یہاں تشریف لائیں ہیں ۔اور اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ رئویا پورا ہو گیا ہے ۔
(الفضل 30؍ ستمبر 1924ء)