اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

سیدناحضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے سفر دورۂ یورپ کا پس منظر (لئیق احمد ڈار صاحب، مربی سلسلہ نظارت عُلیاء قادیان )

مامور ِزمانہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود ومہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مشن آفاقی ہے کیونکہ آپؑکے آقا ومطاع حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی آفاقی اور عالمگیر ہےبلکہ آپؑآنحضورصلی اللہ علیہ وسلم مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق اور کاربرارہیں ۔چنانچہ آپؑنےبھی اپنے دورِنبوت میں کیا مشرق اور کیا مغرب ،کیا شمال اور کیا جنوب غرض کہ مامورۂ عالم کے چپہ چپہ تک پیغام حق پہنچانے کی سعی بلیغ فرمائی اور جوفی زمانہ ذرائع تبلیغ ونشرواشاعت دین مہیا تھے ان کی وساطت سے لوگوں تک پیغام حق پہنچایا ۔ اوراس دور کے اختتام پرآپ علیہ السلام کی وفات حسرت آیات کے بعد قدرت ثانیہ کے مظاہر یہ کام سرانجام دے رہے ہیں۔
قارئین کرام !حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام چونکہ کاسر صلیب بھی تھےاور یہ منصب بھی آپ کے مناصب عالیہ مختلفہ میں سے ایک عظیم منصب ہے لہٰذا آپ کو یورپ اور امریکہ میں تبلیغ کرنے کی بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد تھی اور آپ کو اس کی فکر بھی تھی ۔ چنانچہ آپؑکو اس بات کی بڑی خواہش رہتی تھی کہ عیسائی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کی جاوے اور فرمایا کرتے تھے کہ وہ وقت قریب آگیا ہے کہ صلیبی طلسم ٹوٹ جائے گا اور دنیا پھر بڑے زور کے ساتھ توحید اور خدا پرستی کی طرف لوٹے گی۔
چنانچہ اس حوالے سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے قمر الانبیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں کہ
آپؑکو مسیح پرستی کے خلاف بہت جوش تھا اور آپ کو خدا نےالہاموں اور خوابوں کے ذریعہ یہ بشارت بھی دی تھی کہ جلد یابدیر آپ کی لائی ہوئی روشنی سے یورپ منور ہوگا۔اس غرض کےلئے آپ نے 1902ء میں ایک انگریزی رسالہ کی بنیاد رکھی تاکہ اس کے ذریعہ سے مغربی ممالک میں مسیحیت کےخلاف اور اسلام کے حق میں مہم جاری کرسکیں اور چونکہ آپ خود انگریزی زبان سے ناواقف تھے آپ نے اس رسالہ کی ایڈیٹری اپنے ایک نوجوان اور انگریزی خوان مرید مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے کے سپرد کی جو حضرت مسیح موعودؑ کی ہدایات کےماتحت آپ کےمضامین کا انگریزی میں ترجمہ کرتے یا آپ کے بتائے ہوئے نوٹوں  کے مطابق خود مضمون لکھتے تھے ۔ حضرت مسیح موعودؑ کی توجہ کی برکت سے اس رسالہ نے حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی اور بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ساری علمی دنیا میں اپنا سکہ جمالیا اور بڑے بڑے یورپین اور امریکن علماء نے اس کے مضامین کی تعریف میں پُرجوش ریویو لکھے اور اس کے دلائل کی قوت کو تسلیم کیا …اس رسالہ کےاکثر مضامین خود حضرت مسیح موعود ؑکےہاتھ کے لکھے ہوئے ہوتے تھے او ربعض کےمتعلق آپ نوٹ لکھا دیتے تھے اورآپ نے ان مضامین میں اپنے اسپ قلم کو مذاہب کے وسیع میدان کےہر حصہ میں ڈالا اور اس میدان کا ہرکونہ اور گوشہ چھان ڈالا اور اسلام کی تائید اور مسیحیت اور دوسرے مذاہب کی تردید میں ایسےایسے زبردست مضامین لکھے کہ علمی دنیا میں ایک ہل چل مچ گئی۔مسیح ناصری کےمعجزات پر، آپ کے روحانی اثر پر،آپ کی تعلیم پر،آپ کے واقعہ صلیب پر، صلیب کےبعد کے حالات پر، آپ کی سیاحت ہند اور وفات پر،آپ کے فرضی دعویٰ خدائی پر،تثلیث اور کفّارہ پر،غرض مسیحیت کےہر شعبہ پر مضامین لکھے گئے اور دوسری طرف اسلام کی حقیقت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کی روحانی طاقت اور آپ کی کامیابی اور آپ کی تعلیم کی برتری وغیرہ پر زبردست بحثیں کی گئیں اور اسی طرح دوسرے مذاہب کی تعلیمات پر بھی مضامین لکھے گئے اور رسالہ نے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں ’’ریویو آف ریلیجنز ‘‘ثابت کردیا۔
(بحوالہ سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ 114تا115)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفرِیورپ /سفرِ مغرب کے حوالے سے حضرت مسیح موعود ؑ نے لیکچر لاہور اور براہین احمدیہ حصہ پنجم پر تحریر فرمایا ہےجس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ ذوالقرنین کے قرآنی واقعہ میں میرے متعلق پیشگوئی ہے اور میرا نام ذوالقرنین رکھا گیاہے۔ اب ذوالقرنین کی نسبت قرآن مجید میں لکھا ہے کہ اس نےمغربی ممالک کی طرف سفر کیا ۔ ثابت ہوا کہ مسیح موعود یا اسکے کسی جانشین کو ان ممالک کی طرف ضرور سفر کرناپڑے گا۔
اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے حدیث نزول عیسیٰ کی تشریح میں فرمایا یسافر المسیح الموعود اوخلیفۃ من خلفاءہ الی ارض دمشق (حمامۃ البشریٰ صفحہ 37طبع اول )یعنی مسیح موعود یا اسکےخلفاء میں سےکوئی خلیفہ سرزمین دمشق کا سفر اختیار کرے گا۔اور یہ دونوں  پیشگوئیاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ذریعہ پوری ہوئیں چنانچہ آپؓنے یورپ کا سفر کیا اوردمشق وغیرہ بھی تشریف لے گئے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’مسیح موعود کے قائم مقام کے سفر یورپ کا ذکر قرآن میں ‘‘کی ذیل میں تحریر فرماتے ہیں :۔
’’یورپ کی طرف مسیح موعود یا آپ کے کسی جانشین کا اس غرض سے سفر کرنا جس غرض سے میں نےسفر کیا ہے ،قرآن کریم میں بھی مذکورہے ۔پس معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے سفر کے بغیر اسلام کی حفاظت کامل نہیں ہوسکتی۔ یہ ذکر سورۃ کہف میں ہےجس میں اللہ تعالیٰ ذوالقرنین کی نسبت فرماتا ہے ۔
فَاَتْبَعَ سَبَبًا حَتّٰی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْمًا قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّا اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّا اَنْ تَتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْنًا قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکْرًا وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَ الْحُسْنٰی ۚ وَسَنَقُوْلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا
پس ذوالقرنین ایک راستہ کی طرف چلا یہاں تک کہ وہ مغرب کے ملکوںمیں پہنچ گیا۔ اوردیکھا کہ یہ ممالک جہاں سورج ڈوبتا ہے ایک گدلے چشمے کی طرح ہیں جس میں پانی تو ہے مگر بُودار اور گندہ جو استعمال کے قابل نہیں رہا۔اور اس نے اس چشمہ کےپاس ایک قوم دیکھی جس کی نسبت ہم نے ذوالقرنین سےکہا کہ تُو ان کےمتعلق کوئی فیصلہ کریا تو یہ فیصلہ کر کہ یہ تباہ کردئیے جائیں اور یا تو ان سے ایسا سلوک کرکہ ان کی حالت اچھی ہوجائے ۔ ذوالقرنین نےجواب میں کہا کہ جو ظلم کرنے والا ہوگا اس کو تو میں عذاب دوں گا اور پھر وہ خدا کی طرف لوٹایا جائے گا یعنی مرجائے گا۔ اور اس کو ایسا سخت عذاب ملے گا جو کسی کو کم ہی ملا ہوگا ۔اور جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے گا،پس اس کو نیک جزاملے گی اور ہم اسے اپنے احکام سہولت کے ساتھ آسانی کے ساتھ سمجھائیں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں کہ ذوالقرنین آپ کا نام ہے ۔اور گدلے چشمہ سے مراد مسیحی تعلیم ہے ۔جو ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مگر اب وہ خراب ہوگئی ہے اور استعمال کے قابل نہیں ۔مغرب کےلوگ اس چشمہ کےپاس ہیں ۔یعنی اس گندی تعلیم کے پیچھے پڑےہوئے ہیں اور قرآن کریم کی طرف توجہ نہیں کرتے۔
پس جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے مطابق ذوالقرنین آپ ہیں اور مغربی ممالک سے مراد یورپ وامریکہ کے لوگ ہیں جو مسیحیت کےچشمہ پر ڈیرے ڈالےہوئے ہیں ۔تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود ؑ یا ان کے کسی جانشین کو مغربی ممالک کا سفر کرنا ہوگا۔
کیونکہ قرآن کریم میںلکھاہے کہ فَاَتْبَعَ سَبَبًا حَتّٰی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِذوالقرنین ایک ملک کی طرف گیا جو مغرب میں تھا ۔پس یہ سفر قرآن کریم کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے ۔نبیوں کے جانشین چونکہ نبیوں کے قائم مقام ہوتے ہیں ان کا کام نبیوں کا کام ہی کہلاتا ہے ۔پس خلیفۂ مسیح موعود کا جانا ایسا ہی ہے جیسے کہ خود مسیح موعود کا جانا۔
پس یہ سفر درحقیقت ایک پیشگوئی کے ماتحت ہے جو ایسی اہم ہے کہ قرآن کریم میں اس کو بیان فرمایا گیاہے ۔ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفر تبلیغ کیلئے نہیں بلکہ تبلیغ کےمتعلق اصول طے کرنے اور علم حاصل کرنے کیلئے کیا جائیگا ۔کیونکہ اگر تبلیغ کےلئے سفر ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ اب خواہ ان کو ہلاک کر ، خواہ ان کی بھلائی کی تدبیرکر ۔کیونکہ جو شخص تبلیغ کے لئے جاتا ہے یہ سمجھ کر جاتا ہے کہ یہ لوگ بچائے جانے کے قابل ہیں ۔نہ کہ وہ جاتا تو تبلیغ کے لئے ہے اورسوچنےلگ جاتا ہے کہ میں ان کو ہلاک کردوں ۔پس صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعودؑ یا آپ کا جانشین خالی الذہن ہوکر جائے گا اور وہی جاکر فیصلہ کرے گا کہ ان لوگوں سے کیا کِیا جائے ۔اور اللہ تعالیٰ اس کو اختیار دے گاکہ وہ کامل غور اور فکر کے ساتھ جو چاہے کرے۔ خواہ تو ان کو اپنےکفر میں چھوڑ دے تاکہ اس دنیا میں کفر کے عذاب میں مبتلا رہیں اور اگلے جہان میں دوزخ اور خدا تعالیٰ سے بُعد کے عذاب میں مبتلا ہوں ۔اوریا پھر ان میں تبلیغ کو جاری کرنےکا فیصلہ کرے اور انکی بہتری کی تجویز کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نتیجہ پر وہ پہنچے گا ،وہ بیْن بیْن ہوگا ۔اور اس میں مختلف حالات کو مدنظر رکھتےہوئے مختلف تدابیر کو اختیا رکیا جائے گا۔وہ فیصلہ کیا ہوگا، اسے اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا ہے ۔اور چونکہ ابھی وقت نہیں آیا ،وہ مجھ پر ظاہر نہیں ہے ،اسلئے میں اس کا اعلان نہیں کرسکتا ۔ہاں اصول اللہ تعالیٰ نے بتادئیے ہیں اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے یہ کام لے اور اس پیشگوئی کا ظلّی طورپر مجھے مصداق بننےکا موقع دے ۔
غرض اے بھائیو! مسیح موعود یا ان کے کسی جانشین کا مغربی ممالک میںجانے اور وہاں جاکر ان کےمتعلق آئندہ تبلیغ کےمتعلق رائے قائم کرنے کی خبر قرآن کریم میں دی گئی ہے ۔اورگویا تمام سفر کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جو اس وقت پیش آیاہے ۔‘‘
(بحوالہ انوارالعلوم جلد 8صفحہ 433 تا 435، دورہ یورپ)
حضرت مصلح موعودؓ کی ایک رویا ء اور اس کی تکمیل :حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:’’ اُس بادشاہ نےجس کے قبضہ میں تمام عالم کی باگ ہے ۔مجھے رویاء میں بتایا تھا کہ میں انگلستان گیا ہوں اور ایک فاتح جرنیل کی طرح اس میں داخل ہوا ہوں۔اور اس وقت میرا نام ولیم فاتح رکھا گیا ۔ میں جب شام میں بیمار ہوا اور بیماری بڑھتی گئی تو مجھے سب سے زیادہ خوف یہ تھا کہ کہیں میری شامت ِ اعمال کی وجہ سے ایسے سامان نہ پیدا ہوجاویں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کسی اور صورت میں بدل جائے ۔ اورمیں انگلستان میں پہنچ ہی نہ سکوں۔ اور اس خوف کی وجہ یہ تھی کہ میں اس خواب کی بناء پر یقین رکھتا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح صرف میرے انگلستان جانے کے ساتھ وابستہ ہے لیکن آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں انگلستان پہنچ گیا ہوں۔اور اب میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اپنےو قت پر اس کا اعلان زمین پر بھی ہوجائے گا،دشمن ہنسے گا اور کہے گا یہ بے ثبوت دعویٰ تو ہر اک کرسکتا ہے مگر اس کو ہنسنے دو کیونکہ وہ اندھا ہے اور حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا … میں بھی کہتا ہوں انگلستان فتح ہوچکا خدا کا وعدہ پورا ہوگیا ۔ اس کی فتح کی شرط آسمان پر یہ مقرر تھی کہ میں انگلستان آؤں ۔سومیں خدا کے فضل سے انگلستان پہنچ گیا ہوں اب اس کارروائی کی ابتداء انشاء اللہ شروع ہوجائے گی اور اپنے وقت پر دوسرے لوگ بھی انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ جو کچھ میں نےلکھا تھا وہ سچ ہے۔ نادان لوگ نہیں جانتے کہ بعض امور کا تعلق بعض خاص شخصوں کی ذات سے وابستہ ہوتاہے ۔اور انگلستان میں ترقی اسلام کا سوال خداتعالیٰ کی قضاء میں میرے انگلستان آنے کے ساتھ متعلق تھا ۔مسیح موعودؑ کو جو رویاء دکھائی گئی ۔اس میں بھی یہی بتایا گیا تھا کہ آپ کے ولایت جانےپر یہ فتح شروع ہوگی۔اورمجھے بھی یہی دکھایا گیااور چونکہ نبیوں کے خلیفہ ان کے ہی وجود سمجھے جاتےہیں اسلئے دونوں  خوابوں کا مطلب ایک ہی تھا۔ حضرت مسیح موعود کی رویاء سے مراد بھی ان کے جانشین کے انگلستان جانے سے تھی اور میری رویاء سے مراد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ولایت جانے سے تھی ۔پس جبکہ مسیح موعودؑ اپنے روحانی جانشین کے ذریعہ سے انگلستان پہنچ گئے تو اب انشاء اللہ اس فتح کا دروازہ بھی کھول دیا جائے گاجوکہ ہمیشہ سے مقدر ہے ۔ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب کسی پیشگوئی کےپورا کرنے کا وقت آتاہے تو وہ پھر اسکی طرف توجہ دلادیا کرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جو خواب میں دیکھا کہ میں انگلستان میں گیا ہوں ۔اس سے مراد یہی تھی کہ مسیح موعود کی ازالہ ٔ اوہام والی رویاءکے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے ۔ فالحمد للہ الذی ارانا ماوعدنا علیٰ لسان المسیح الموعود علیہ السلام ۔‘‘
(از مکتوب گرامی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بحوالہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 4؍اکتوبر 1924ء)
سفر یورپ کےمتعلق نواب سید صدرالدین صاحب حسین خان صاحب رئیس ریاست بڑودہ کی رؤیاء:حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے سفرِ یورپ کےپسِ منظر میں ایک غیر احمدی نواب کو سالہاسال قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھائی گئی رؤیاء کے بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’ ایک آسمانی شہادت آپ کو سناتا ہوں ۔یہ ایک ایسے رسالہ میں درج ہےجو آج سے کئی سال پہلے شائع ہوچکا ہے اس رسالہ کا نام ’’صوفی ‘‘ ہے ۔یہ کسی احمدی کا رسالہ نہیں بلکہ غیر احمدیوں کا ہے ۔اس میں ایک مضمون درج ہے اور اُس مضمون کا لکھنے والا بھی کوئی احمدی نہیں ۔بلکہ وہ شخص ہے جو سلسلہ احمدیہ کا مخالف ہے اورہماری جماعت اسکےنام سے واقف اورآشنا ہے ۔کیونکہ کچھ عرصہ گزرا اُس نے حضرت خلیفۃ المسیح کو بڑے زور کے ساتھ مباہلہ کا چیلنج دیا تھا جب آپ نے آمادگی ظاہر کی تو خموش ہوگیا ۔وہ خواجہ حسن نظامی ہے ۔اس رسالہ میں اس کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں اس نے مادہ پرست دنیا پر رویاء اور خواب کی حقیقت ظاہر کرتےہوئے چند خوابیں لکھی ہیں ۔
پہلا خواب وہ نواب سید صدرالدین صاحب حسین خان صاحب رئیس ریاست بڑودہ کا یہ نقل کرتا ہے کہ
’’ ایک مکان میں اسباب بندھا رکھا ہے اوراہل خانہ کسی بڑے سفر کی تیاری میں مصروف ہیں ۔اتنے میں دیکھا کہ صاحبِ خانہ بھی نہایت مصروفیت کی شان سے سامان درست کر رہے ہیں ۔آخر میں انہوں نے فرمایا جہاز تیار کرواور یہ اسباب ان پر لادو۔عرض کیا ۔حضورکہاں کا ارادہ ہے ۔فرمایا یورپ جاتا ہوں ۔علاج کرنا ہے ۔یہ دریافت کیا گیا ۔آپ کا اسم ِشریف ؟ فرمایا میرا نام عمر ابن الخطاب ہے ۔‘‘
اس رویاء کی تعبیر بھی حسن نظامی صاحب خود کرتےہیں اور وہ یہ ہے کہ ’’نواب صاحب کےاس خواب میں اگرچہ ایک بات بہت غور طلب ہے کہ عمر فاروق ؓکا یہ فرمانا کہ یورپ علاج کیلئےجاتا ہوں توآیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خودوہاں علاج کرانے جاتےہیں ۔یا یہ کہ اہلِ یورپ کا علاج کرنے جاتےہیں لیکن دونوں  صورتوں میں تعبیر سائینس ومادہ پرستی کے خلاف نکلتی ہے۔اگر پہلی صورت ہے یعنی حضرت خود یورپ میں علاج کرانے جاتے ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اہلِ روحانیت اپنےمرض لاعلمی کا علاج یورپ جاکر وہاں معلومات حاصل کرکے کریں گے۔اور اسکے بعد مادہ پرستی کےامراض کا وہاں بیٹھ کر علاج کیا جائے گا۔ اوردوسری صورت میں مادہ پرست یورپ کےعلاج کی تدبیریں  اور تیاریاں ہورہی ہیں ۔
تعبیر کی تطبیق :یہ خواب ایسی واضح اور بیّن ہے کہ مجھے کسی تعبیر کرنے کی ضرورت نہیں میرے تعبیر کرنےکےبغیر ہی آپ لوگ سمجھ گئےہوں گے۔اِدھر آپ اس خواب کو اوراسکی تعبیر کو پڑھیں اور اُدھر حضرت خلیفۃ المسیح کا وہ اعلان جو حضورنے سفریورپ کے اغراض کےمتعلق شائع فرمایا ہے اُس کا مطالعہ کریں  توآپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کیسی سچی خواب ہے ۔اور سلسلہ کی صداقت کا کیسا زبردست نشان ہے (خصوصا ًجبکہ حضورکا الہامی نام بھی ’’ عمر ‘‘ہے )حضورکام کی مشکلات اور سفر کی غرض بیان کرتےہوئے تحریر فرماتےہیں :
’’پس ہم دوآگوں میںہیں اور ہماری مثال وہی ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔اس مشکل کا علاج سوچنے کےلئے اور وہاں کے مقامی حالات معلوم کرنے کیلئے تاکہ مبلغوں کی سختی سے نگرانی ہوسکے ۔اورجہاز کو چٹانوں میں سے بہ حفاظت گزارا جاسکے ۔اس سفر کی ضرورت پیش آئی ہے۔‘‘
پھر فرماتےہیں :’’پس ہمارا فرض ہے کہ اس مصیبت کے آنے سے پہلے اس کا علاج سوچیں اور یورپ کی تبلیغ کیلئےہر قدم جو اٹھائیں پہلےغورکرلیں اور یہ ہونہیں سکتا جب تک کہ وہاں کے حالات کا عینی علم نہ ہو۔پس اس وجہ سے باوجود صحت کی کمزوری کے میں نےاس سفر کو اختیار کیاہے ۔میں زندہ رہا تو میں انشاء اللہ اس علم سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کروں گا۔‘‘
قوی حجّت:پس یہ خواب خصوصیت کے ساتھ خواجہ حسن نظامی صاحب اور ان کے متعلقین پر ایک قوی حجت ہے۔اورہماری تائید میں ایک بیّن ثبوت ہے ۔یہ رسالہ جس میں یہ خواب درج ہے یہ مہینہ دومہینہ سال یا دوسال کا نہیں بلکہ مئی 1914ء کا ہے ۔اس لئے یہ بھی گمان نہیں ہوسکتا کہ ممکن ہےکسی نے حالات حاضرہ کی بناء پر یہ خواب دیکھا اور درج کیا ہو۔کیونکہ یہ خواب اُس وقت کا شائع شد ہ ہے جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کےسفر یورپ کا وہم وگمان بھی کسی کونہ تھا ۔اور نہ معلوم شائع ہونے سے کتنا عرصہ پہلےخواب دیکھا گیا ۔‘‘
(بحوالہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 9؍اکتوبر 1924ء)
اس سفرِیورپ کےبواعث کے سلسلہ میں تاریخ احمدیت میںمرقوم ہے کہ
’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی طرف مزید توجہ فرمائی تو آپ پر یہ حقیقت بالکل منکشف ہوگئی کہ قرآن مجید میں ذوالقرنین (مسیح موعود) یا اس کے نائب کے سفر یورپ کی اور حدیث شریف میں سفر دمشق کی واضح پیشگوئیاں موجود ہیں ۔ذوالقرنین کے سفر سے متعلق واقعہ پر مزید غور کرتےہوئے حضور نے معلوم کیا کہ یہ سفر (بنیادی اغراض کے اعتبار سے )تبلیغ کیلئے نہیں بلکہ مغربی ممالک میں اسلامی انقلاب کی تبلیغی سکیم تیار کرنے کیلئے کیا جائے گا۔اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رویاء بھی آپ کے سامنے آیا کہ ’’میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلّل بیان سےا سلام کی صداقت ظاہر کررہا ہوں ۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے۔‘‘
اسکے علاوہ خود حضورؓکو ایک عرصہ قبل رؤیا میں سفر یورپ کا نظارہ دکھایا جاچکا تھا۔ چنانچہ ایک رؤیاء میں آپ نے دیکھا۔آپ لنڈن میں ہیں اور ایک جلسہ میں آپ شامل ہیں ۔مسٹر لائڈ جارج (سابق برطانوی وزیر اعظم ) اس جلسہ میں تقریر کررہے ہیں کہ یکدم ان کی حالت بدل گئی اور انہوں نے دہشت زدہ ہوکر کہا کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ ’’مرزا محمود امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھارہا ہے ۔‘‘
دوسری رویا میں (جو کانفرنس کی تحریک سے دوتین ماہ پہلے کی تھی )آپ نے دیکھا کہ ’’میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں جس طرح کہ کوئی شخص تازہ وارد ہوتاہے اور میرا لبا س جنگی ہے میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں…اس وقت میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہے اور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبّر جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہئے …اتنے میں ایک آواز آئی William the Conquerorولیم دی کنکرریعنی ولیم (اولوالعزم )فاتح ۔
ان امور پر غور وفکر اور مسلسل دعاؤں اور استخاروں کے بعد حضورنے ویمبلے کانفرنس کی دعوت ایک الٰہی تحریک سمجھی اور باوجودیکہ اتنےلمبے سفر پرجانے کے رستہ میں آپ کے لئے ذاتی طور پر بہت سے مشکلات حائل تھیں ۔ اور اس بوجھ کا اٹھانا آپ کے لئے بہت مشکل تھا۔حضورنے اپنے فرائض دینی کو مقدم رکھتے ہوئے پورے انشراح صدرسے سفر یورپ پر جانے کا فیصلہ فرمالیا ۔اور روانگی کی تاریخ  12؍ جولائی 1924ء معین کردی ۔
چنانچہ حضورؓنے 24؍جون 1924ء کو اپنے فیصلہ کی اطلاع دیتے ہوئے اعلان فرمایا کہ ’’ہماری جماعت کا کام ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنا ہے اور چونکہ ساری دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لانا ہمارا فرض ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کےمتعلق ہم ایک مکمل نظام تجویز کریں …اس نظام کے مقرر کرنے کیلئے ضروری ہے خلیفہ مغربی ممالک کی حالت کو وہاں جاکر دیکھے …پس مغربی ممالک میں تبلیغ کےکام کو اگر ہم نے جاری رکھنا ہے اور اگر اس پر جو روپیہ خرچ ہوتاہے اس کی خدا تعالیٰ کو جوابدہی سے عہدہ برآ ہونا ہے تو ضروری ہے کہ خود خلیفہ وقت ان علاقوں میں جاکر ان کی مشکلات کو دیکھے ۔اوروہاں کے ہر طبقہ کے لوگوں سےمشورہ کرکے ایک سکیم تجویز کرے…پس ان ضروریات کو مدنظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی کانفرنس کی تحریک کو ایک خدا کی تحریک سمجھ کر اس وقت باوجود مشکلات کے اس سفر کو اختیار کروں ۔مذہبی کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک کی تبلیغ کیلئے ایک مستقل سکیم تجویز کرنے اور وہاں کے تفصیلی حالات سےو اقف ہونے کےلئے کیونکہ وہ ممالک ہی اسلام کے راستہ میں ایک دیوار ہیں جس دیوار کا توڑنا ہمارا مقدم فرض ہے ۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 427 تا 428،خلافت ثانیہ کا گیارہواں سال )
قارئین کرام ! حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپہلےدورہ یورپ 1924ء کےپس منظر میں اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کارفرما تھی جیسا کہ مذکورہ تمام تحریرات سے یہ ظاہر ہے ۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی بڑی تڑپ تھی کہ ولایت جایا جائے اور وہاں کے باشندگان کو تبلیغ کی جاوے کیونکہ ’آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج ‘کی نوید آپ کوسُنا دی گئی تھی اور تمدّنِ یورپ سے آپ بخوبی واقف ہوچکے تھے ۔گوکہ حضورعلیہ السلام بنفسہٖ یورپ نہ جاسکے لیکن الٰہی سنت کے برطبق آپ کے ایک خلیفہ راشد اور اولوالعزم بیٹے کو یہ موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا کہ آپ یورپ گئے اور جو مقصد وحید تھا اس سفر کا وہ پورا ہوااورآپؓنے وہاں کے حالات کا بالاستیفاء جائزہ بھی لیا ۔
اب دیکھئے کہ سالہا سال پہلےایک غیر احمدی نواب بروڈہ کا یہ رؤیا دیکھتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہےہیں کہ میں نے یورپ جانا ہے علاج کے واسطےاور بعینہٖ یہ رؤیاء پوری ہوئی ۔چنانچہ اہل مغرب کے روحانی بیماروں کو چنگا کرنے کی ضرورت تھی اور تقاضائے الٰہی تھا لہٰذا حضرت مصلح موعود ؓ یورپ تشریف لے گئے اور مریضانِ یورپ کے علاج کے واسطے پہلے ان کی تشخیص بکمالہٖ اس دورے میں کرلی ۔
موقع کی مناسبت سے عرض کردوں کہ روحانی بیماروں کے علاج کےموضوع پر حضوررضی اللہ عنہ ایک موقع پر فرماتےہیں :’’مجھے حیرت ہوتی ہےاور تعجب آتا ہے جب کہ میں بہت سے لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ کسی غریب یا مسکین کو گزرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اُس پر انہیں رحم آتا ہے کسی زخمی کو دیکھتے ہیں تو اس پر رحم کھاتے ہیں۔ ایسا شخص اگر دکھائی دے جس کے جسم میں کیڑے پڑے ہوں ۔تو اس کی حالت پر ان کی طبیعت رحم کھائے گی ۔کوئی لولا،لنگڑا اوراپاہج دیکھ لیں ۔تو انہیں رحم آئے گا۔غرض لوگوں کی جسمانی ومالی تکالیف کو دیکھ کر آپس میں ایک دوسرے پر رحم کھاتےہیں اور انکے قلوب میں ایک جوش ہمدردی کا پیدا ہوتا ہے ۔لیکن روحانی امر میں ایک دوسرے کے متعلق رحم نہیںپیدا ہوتا…علم روحانی بھی روح کی نشوونما کا ذریعہ ہے جس طرح انسان کا جسم ضائع ہوجاتا ہے۔بعض بیماریوں کی وجہ سے آنکھ،کان،ناک ضائع ہوجاتے ہیں اسی طرح لوگوں کےیہی حصے روحانی طور پر ضائع ہوجاتے ہیں۔جس طرح جسم انسانی میں بعض بیماریوںکی وجہ سے کیڑے پڑجاتے ہیں۔اسی طرح روحانی اعضاء میں بھی کیڑے پڑجاتے ہیں ۔کیڑے پڑنے سےکیا مطلب ہے یہی کہ اس حصہ جسم میں غذا حاصل کرنے کی طاقت نہیں رہتی…اگر روح ظاہر میں نظر آتی اور ا سکی بیماریاں بھی مجسم صورت میں نظر آتیں نہ کہ عقل سے معلوم ہوتیں تو جیسے تم کوڑھیوں  کےپاس سے گزرتے ہوئے ان سے ہمدردی کرتے اور گھن محسوس کرتےہو۔اسی طرح روحانی بیماروں کی روحیں اور بیماریاں نظر آنےپر تم کو کوڑھیوں سے بھی زیادہ ان سے گھن آتی اور ہمدردی پیدا ہوتی ۔اگر تمہارے روحانی ناک ہوتے تو جس طرح ظاہری ناک کی وجہ سے بڑی بڑی گھنونی اور بدبودار چیزوں سے بدبو محسوس کرکے تمہیں کراہت ہوتی ہے اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے اسی طرح تمہاری روحانی ناک تم کو بتادیتی کہ فلاں شخص میں بدبو ہےپس تم کو اس سے ہمدردی سے جو جسمانی مریضوں سے ہوتی ہے کئی درجہ زیادہ ان لوگوں سے ہمدردی ہونی چاہئیے جو صداقت سےمحروم ہیں …بہت ہیں جو روحانی بیماروں کے مال کو دیکھ کر تعجب کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ان کافروں کےپاس کتنا مال ہے ۔مثلاً عیسائی ہیں ۔ان کےمال کودیکھ کر لوگ تعجب کرتے ہیں ۔انہیں اپنے سے بہتر اورآرام میں خیال کرتےہیں ۔حالانکہ وہ روحانی لحاظ سے قابل رحم بیماریوں میں مبتلا اور لائق ہمدردی ہیں  لیکن چونکہ ان کی بیماری نظر نہیں آتی اور اصل حقیقت لوگوں پر منکشف نہیں ہوتی ۔اس لئے اس کی پروا نہیں کی جاتی ۔اور ایسے لوگوں کی حالت پر ترس نہیں کھایا جاتا۔حالانکہ اگر ایک بادشاہ بھی جو ساری دنیا کا حاکم ہو۔زمانہ کےامام کو نہیں پہچانتا تو اس سے زیادہ بدقسمت کون ہوسکتاہے ۔‘‘
(بحوالہ خطبہ جمعہ فرمودہ 16؍مئی 1924ء)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور بعدہٗ خلفائے عظام نے بھرپور رنگ میں اس کارروائی کو انجام دیا اورہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی اس بارہ میں مساعی جمیلہ فرمارہے ہیں ۔
خلافت رابعہ میں حالات میںکچھ ایسا تصرف ہوا کہ خلیفہ وقت کو برطانیہ ہجرت کرنا پڑی اور اس طرح  یورپ کے مرکزانگلستان میں بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام اور خلیفۂ وقت تبلیغ ونشرواشاعت اسلام میں مصروف عمل ہیں ۔فالحمد للہ علیٰ ذالک !
اور اہل یورپ میں سےسعید فطرت لوگ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہورہے ہیں اورباطل عقائد کو ترک کرکے واحد ولاشریک اللہ تعالیٰ کےبندوں میں شامل ہوئے جارہے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک وقت آئے گا کہ کثرت سے یہ لوگ داخل اسلام ہوں گے اور صلیب پاش پا ش ہوکر گر جائے گی اور لوگ باطل عقائد سے بے زار ہوکر وحدت کی لڑی میںپروکر ہر سو نعرہ تکبیر بلند کیا جائے گا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام عام مغربی اقوام کے متعلق ایک جگہ فرماتےہیں کہ :
’’میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحرِذخّار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح بل پیچ کھاتا مغرب سے مشرق کو جارہا ہے اورپھر دیکھتے دیکھتے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا ہے ۔‘‘
(تذکرہ صفحہ 388مطبوعہ 2004ء)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ
’’اس نہایت لطیف رؤیا میں حضرت مسیح موعودؑ کو یہ نظارہ دکھایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں مغربی اقوام نے جو غیر معمولی اثر اپنے ظاہری علم اور دولت اور طاقت اورسیاست وغیرہ کی وجہ سے مشرقی اقوام پر قائم رکھا ہے یہ اثر قریب کے زمانہ میں احمدیت کے ذریعہ زائل ہوجائے گا اور جب مغرب کایہ طلسم ٹوٹے گا تو پھر اسی طرح مشرق سے مغرب کی طرف دریا بہنے لگے گا جس طرح کہ اب مغرب سےمشرق کی طرف بہہ رہا ہے ۔‘‘
(سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ 434)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے اولوالعزم خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے یورپ کے حوالےسے آپ کے مقاصد روحانیہ کواپنے غیبی ہاتھ کےذریعہ بتمام تر پورا فرمائے اوراہل یورپ اور احراریورپ کو جلد بگوش اسلام ہونے کی توفیق وسعادت نصیب فرمائے آمین !واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین !
٭٭٭