اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-08

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگی قیدیوں پر عدیم المثال احسان (مکرم خلیل احمد صاحب ناصر بی .اے.)

انسان اور جنگ
جب تک دُنیا قائم ہے جنگ و جدال کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انسان انسان میں اختلاف ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ملکوں کے مفاد آپس میں ٹکڑا جاتے ہیں۔ بین الاقوامی الجھنیں پیدا ہوتی رہتی ہیں جس کا نتیجہ بسا اوقات لڑائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ ایسی جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ کوئی ملک اس سے خالی نہیں۔ کبھی تو یہ جنگیں فطرت انسانی کے صحیح تقاضا کے ماتحت ایسے معقول اسباب کی بنا پر لڑی گئیں جبکہ اس کے سواچارہ کار نہ تھا۔ لیکن کبھی ان کا مقصد محض حرصِ جہانگیری وجہانبانی ہوتا رہا۔ ان جنگوں نے اکثر دفعہ نہایت ہی خوفناک نتائج پیدا کئے ہیں۔ کسی ایک ملک میں جنگ کا شعلہ اٹھا۔ دو قومیں آپس میں الجھیں اور پھر یہ آگ اپنی شدت میں بڑھتی ہوئی جہنّم کا نمونہ بن گئی۔ دوسری قومیں اور دوسرے ملک بھی اس کی لپیٹ میں آگئے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ یہ سلسلہ ایک دو سال سے بڑھ کر بیسیوں سالوں پر پھیلتا چلا گیا اور اس وقت ہی بس ہوا جبکہ ہزاروں لاکھوں انسان اس دوزخ میں بھسم ہوگئے۔ انسانی جذبۂ بہیمیت و انتقام نے ہیبت ناک نظارے دکھائے ہیں۔ دُشمن کی ہر چیز قبضہ میں کرلینا یا تباہ کردینا معمولی بات سمجھا گیا۔ فصلیں ، مکان او ر آبادیاں جلادی گئیں۔ عورتوں کی عفت و عصمت کو برباد کیا گیا۔ مفتوح قوم کے افراد کو سخت ترین اذیتیں اور نہایت ہی بھیانک عذاب دے کر ہلاک کیا گیا۔ الغرض ہر قسم کا ظلم جائز اور ہر قسم کا ستم روا سمجھ کر اپنے انتقامی جذبات کی سیری کی گئی۔
جنگ کے متعلق مذاہب کا نظریہ
لاتعداد درود و سلام سیدالمرسلین رحمتہ للعالمین حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوں کہ حضور کی رحمت کی چادر ہر فرد و بشر پر حاوی ہے۔ کتنا پیارا، کتنا کامل، کتنا حکیمانہ مذہب اسلام ہے جو آپ کے ذریعہ سے الہ العالمین نے دُنیا پر نازل کیا۔ انسانیت کا کونسا حصّہ ہے جس کے لئے اسلام شمعٔ راہ نہیں بنتا؟ اور حیاتِ انسانی کی کونسی جہت ہے جو اسلامی تعلیم کی محتاج نہیں؟ اس کی حالت میں انسانی جذبات میں سکون ہوتا ہے۔ طبائع ضبط میں ہوتی ہیں۔ ایسے وقت میں تو اکثر مذاہب انسانوں کو ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرنے کی تلقین کرتے ہی ہیں لیکن کسی مذہب کے کمال کا اندازہ کرنے کے لئے ہمیں اس تعلیم کا مطالعہ کرنا چاہئے جو وہ مذہب اپنے متبعین کو لڑائی اور جنگ کے وقت میں دیتا ہے۔ ایسے وقت میں اس مذہب کے متبعین کا مفاد غیروں سے متغائر ہوتا ہے۔ اس لئے انصاف اور عدل کے پاکیزہ معیار کو قائم رکھنے میں ہمیں افراط و تفریط کی راہیں نظر آتی ہیں۔ یا تو بعض مذاہب جنگ کو سِرے سے ناجائز قرار دے کر مظلوم کو اتنی اجازت بھی نہیں دیتے کہ وہ اپنی ہستی کو برقرار رکھنے، اپنے مال و متاع اور اپنی ماؤں او ربیٹیوں کی عزّت کو بچانے اور اپنی آزادی کو محفوظ رکھنے کے لئے ظالم کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرے۔ یا پھر بعض مذاہب اپنے دشمن کے خلاف اتنی خطرناک اور اتنی بھیانک تعلیم دیتے ہیں کہ اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔
اسلامی تعلیم ہر لحاظ سے مکمّل ہے۔ اسلام جہاں ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے کو مختلف صورتوں کے لحاظ سے مختلف طریق سے جائز قرار دیتا ہے وہاں ایسے مواقع پر جب جنگ ضروری ہو اس کے متعلق ایسے حکیمانہ قانون پیش کرتا ہے کہ کسی انسان اور کسی قوم پر ناجائز جورو تعدی اور ناروا ظلم نہ ہوسکے۔ اس مضمون میں تمام قوانین کی تفصیل پیش کرنا مقصود نہیں بلکہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پاکیزہ تعلیم کا مختصر ذکر مقصود ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں سے سلوک کے بارے میں دی ہے ۔
قیدی اور زمانہ جاہلیت
جب دو قومیں انتقام کے جذبہ سے بھری ہوئی آپس میں ٹکرا جاتی ہیں، میدان کار زار بپا ہوتا ہے تو جہاں بہت سے انسان مقتول اور بہت سے مجروح ہوتے ہیں وہاں اکثر ایک دوسرے لشکر کے ہاتھوں اسیر بھی ہوتے ہیں اور چونکہ یہ قیدی پوری طرح ان کے بَس میں ہوتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ ہر قسم کا ظلم و جبر جائز سمجھا جاتا ہے۔ عرب کی تاریخ کو ہی دیکھ لو۔ جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا رہا۔ قیدیوں کو غلام بنا کر ان سے انتہائی تحقیر کا سلوک کیا جاتا اور ان کو ذلیل اور پست ترین معیار زندگی پر صرف خدمت کے لئے ہی زندہ رکھا جاتا۔ جنگ ادارہ کا واقعہ عرب کی تاریخوں میں مذکور ہے کہ بنی شیبان کے جتنے اسیر منذر بن امراء القیس کے ہاتھ آئے اُن سب کو اس نے کوہ ادارہ کی چوٹی پر بٹھا کر قتل کرانا شروع کیا اور کہا کہ جب تک ان کا خون پہاڑ کے نیچے تک نہ پہنچ جائے دم نہ لوں گا۔ حتیٰ کہ مقتول سینکڑوں سے متجاوز ہوگئے اور اُسے اپنی قسم پوری کرنے کے لئے خون پر پانی ڈلوانا پڑا۔ اسی طرح امراءالقیس کے باپ حجر بن حارث نے جب بنی اسد پر چڑھائی کی تو ان کے تمام قیدیوں کو ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ کا عکل اور عرینہ کا واقعہ حدیثوں میں مذکور ہے کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں کو پکڑ کر لے گئے۔ اُن کے ہاتھ پاؤں کاٹے۔ اُن کی آنکھیں پھوڑ دیں اور پھر تپتی ہوئی گرم ریت پر ڈال دیا۔ حتیّٰ کہ پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر وہ مرگئے۔ ان مثالوں سے زمانہ ٔ جاہلیت میں عربوں کا قیدیوں سے سلوک ظاہر ہے۔
قیدی اور بُدھ مذہب
جیسا کہ شروع میں لکھا گیا ہے بعض مذاہب تو اس قدر تفریط کی طرف چلے جاتے ہیں کہ وہ جنگ کے متعلق قوانین بنانا تو کجا زندگی بسر کرنا بھی انسان کے لئے ناممکن بنا دیتے ہیں۔ مثلاً موجودہ بُدھ مذہب انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا اور اُسکے معاملات سے کلیتہً بے تعلقی رکھی جائے۔ اس لئے بُدھ مذہب کی تعلیم میں جنگ اور اس کے متعلقہ قوانین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس بے تعلقی کا تلخ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جہاں کہیں اس مذہب کے خلاف تلوار اٹھی اُسے میدان خالی کر دینا پڑا اور وہاں سے بُدھ ازم کی تعلیم اور اس کی ہستی ہی مفقود ہوگئی۔ ہندوستان بُدھ ازم کا مولد ہے اور شروع شروع میں نہایت ہی سرعت کے ساتھ یہاں کے بسنے والے اس کے حلقہ بگوش ہوئے تھے۔ لیکن جب برہمنی مذہب اس سے برسرِ پیکار ہوا تو بُدھ مذہب ہندوستان سے ایسا مٹا کہ اب یہاں خال خال ہی اس کے پیرو نظر آتے ہیں۔ اس لئے ایسے مذاہب سے تو اسلامی تعلیم کے مقابلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو دشمن کے سامنے اپنی ہستی کو ہی معدوم کردیں۔
جنگی اسیر اور ہندو مذہب
ہندو مذہب کا ایک بُنیادی مسئلہ ذات پات کا امتیاز ہے۔ یہ تمیز کس طرح پیدا ہوئی اس کے متعلق تاریخی شہادتیں ہماری یہ راہنمائی کرتی ہیں کہ جب آرین اقوام نے ہندوستان پر حملہ کیا تو یہاں کے قدیم اصلی باشندوں کو زیر اثر لانے کے بعد انہیں غلام بنایا گیا اور انہیں شودر کا خطاب دیا گیا۔ پروفیسر ہاکپنس لکھتا ہے:
’’ غلام شودر اور نیچے طبقے کے لوگ اجتماعی عمارت کے اجزاء تسلیم کئے گئے ہیں۔ خود یہ نام ہی بتاتا ہے کہ شودر دراصل مفتوح قوم کے لوگ تھے۔‘‘
ڈاکٹر بریڈل کیتھ یوں رقم طراز ہے:
’’ آریوں اور شودروں میں بڑا اور اہم فرق رنگ کا ہے۔ کالے چمڑے کو مغلوب کرنا دراصل ویدک ہندو کے نزدیک اہم اموال سے ہے۔‘‘
(الجہاد فی الاسلام بحوالہ کیمبرج ہسٹری آف انڈیا)
اس امر کے ثابت ہوجانے کے بعد کہ شودر حقیقتاً مفتوح اقوام ہیں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندو مذہب نے جنگی مفتوحین سے کیسا سلوک کیا۔ تفصیلات کے لئے ہمیں منو کے دھرم شاستر کی طرف جانا چاہئے جو ہمیں بتاتا ہے کہ شودر فطرتاً ذلیل ہے۔ اس کا ازلی اور مستقل پیشہ خدمت گاری اور غلامی ہے۔ وہ نہ صرف بالذات نجس، کمینہ اور ناپاک ہے بلکہ اس کا سایہ بھی ناپاک کردیتا ہے۔ منو شاستر کی رو سے اُسے وید کے سننے کی بھی اجازت نہیں اور اس کی غلامی اتنی مضبوط ہے کہ اگر اس کا آقا اُسے آزاد کردے تب بھی وہ آزاد نہیں ہوسکتا۔ اُسے اپنی گاڑھے پسینہ کی کمائی ہوئی جائیداد اور دولت پر بھی کوئی حق حاصل نہیں۔
الغرض اس کی آزادی، اس کی عزت اور اس کے حقوق کو اس بُری طرح سلب کیا گیا ہے کہ گویا وہ انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔
یہودی مذہب اور جنگی قیدی
یہودی مذہب کے جنگی قیدیوں سے سلوک کے لئے ہمیں موجودہ بائیبل کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ کتاب خروج باب 34/12-13 میں ہے:
’’ ہوشیار رہ تا نہ ہو کہ تو اس سرزمین کے باشندوں کے ساتھ جس میں تو جاتا ہے کچھ عہد باندھ لیوے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ عہد تیرے درمیان پھندا ہو بلکہ تم ان کی قربان گاہوں کو ڈھا دو اور اُن کے بتوں کو توڑ دو اور ان کی یسیرتوں کو کاٹ ڈالو۔‘‘
اعداد باب 31/11009 میں یوں مذکور ہے:
’’ بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور ان کے بچّوں کو اسیر کیا اور ان کے مویشی اور بھیڑ بکری اور مال و اسباب سب کچھ لوٹ لیا اور ان کے سارے شہروں کو جن میں وہ رہتے تھے اور ان کے سب قلعوں کو پھونک دیا۔‘‘
مفتوحین کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اس کے لئے کتاب یشوع باب 8 کو ملاحظہ فرمائیےجس میں یہ ذکر ہے کہ بنی اسرائیل نے اُن سب کو جو عی شہر میں تھےکیا مرد، کیا عورت کیا جوان ، کیا بوڑھا ، کیا بیل، کیا بھیڑ کیا گدھا۔ سب کو یک لخت تہ تیغ کرکے حَرم کیا(یعنی قتل کیا) اور ’’ پھر انہوں نے اس شہر کو ان سب سمیت جو اس میں تھا پھونک دیا…وہ جو اس دن مارے گئے۔ مرد اور عورت بارہ ہزار تھے۔‘‘
ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ یہودی مذہب جنگی قیدیوں اور مفتوحین کو کس طرح تہس نہس کرتا اور ان کی بستیوں، مویشیوں، کھیتوں اور عمارات کو برباد کرتا ہے۔ پس یہودی مذہب بھی جنگی اسیروں کو ذلیل ترین پوزیشن دیتا ہے۔
عیسائیت اور جنگی قیدی
مسیحیت کی تعلیم رہبانیت کی تلقین کی وجہ سے بہت حد تک بُدھ ازم سے مشابہہ ہے اور اگرچہ ایک طرف حضرت مسیح ؑیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں توریت کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ قائم کرنے آیا ہوں لیکن دوسری طرف ’’ آسمانی بادشاہت‘‘ میں داخلہ کے لئے یہ بھی ضروری قرار دیتے ہیں کہ کوئی ایماندار مسیحی ’’ شریر کا مقابلہ‘‘ نہ کرے بلکہ ایک گال کے ساتھ دوسرا اور کُرتے کے ساتھ چوغہ بھی پیش کردیں۔ یہ تعلیم بظاہر خوشنما معلوم ہوتی ہے۔ جو اس دُنیا میں بُدھ مذہب کی طرح بالکل ناممکن العمل ہے کیونکہ اس پر عمل کرکے کوئی انسان اور کوئی قوم اپنی ہستی کو موجودہ زمانہ میں برقرار نہیں رکھ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی بادشاہوں اور حکومتوں نے عیسویت کے اقتدار سے لے کر اب تک مسلسل اور پیہم اس انجیلی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ سینکڑوں ہزاروں لڑائیاں لڑیں جن میں مفتوحین سے بسا اوقات نہایت ہی ذلیل سلوک کیا گیا۔ روم پر قبضہ کے بعد رومی مفتوحین کے لئے عبادت کرنا ایسا جرم قرار دیا گیا کہ جس کا مرتکب شدید سزا کا مستوجب تھا۔ ان کو درندوں سے پھڑوایا جاتا۔ سوسائٹی میں سب سے نیچا درجہ انہیں دیا گیا۔ اُن کے کوئی معیّن حقوق نہ تھے اور نہ ہی اُن کی جان کی کوئی قیمت تھی۔ الغرض عیسایت کی تعلیم جنگ کے بارہ میں نہایت ہی غیر معقول اور ناممکن العمل ہے اور عیسائی حکومتوں کا جنگی قیدیوں سے سلوک نہایت ہی بھیانک ہے۔
جنگی قیدیوں کے متعلق
بین الاقوامی قانون
موجودہ بین الاقوامی قانون میں قیدیوں کی پوزیشن پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ امر ضرور ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ یہ کوئی ایسا محکم ضابطہ نہیں کہ حکومتیں اس کی تعمیل پر مجبور ہوں۔ ایک عام اخلاقی دباؤ سے زیادہ اس کی وقعت نہیں۔ یہ قانون آئے دن ٹوٹتے رہتے ہیں اور پرواہ بھی نہیں کی جاتی۔ موجودہ جنگ میں ہی بیسیوں دفعہ جرمنی وغیرہ نے اس کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا ہے۔ لیکن دوسری حکومتیں ٹس سے مَس نہیں ہوتیں۔ اس لئے اگر ہمیں اس قانون میں جنگی قیدیوں کے لئے بظاہر خوشنما دفعات نظر آئیں تو پھر بھی اس کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ جنگی قیدیوں سے بہتر سلوک کی اصل بنیاد ہر دو مخالف حکومتوں کے مشترکہ مفاد پر وابستہ ہے۔ اس لئے اگر ایک حکومت جنگی قیدیوں سے ذلت آمیز سلوک کرے تو دوسری حکومت اپنے قیدیوں سے اچھا سلوک کرنے پر مجبور نہیں ٹھیرتی۔ پس اگرچہ ان کے اس قانون میں بعض دفعات ایسی رکھی گئی ہیں کہ قیدیوں سے اہانت آمیز سلوک نہ ہو لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ نہ حکومتیں اسکو اہمیت دیتی ہیں اور نہ اس کی تعمیل پر مجبور رہتی ہیں، اس کی وقعت بالکل گِر جاتی ہے۔
اسلام اور جنگی قیدی
اب ہمیں اسلام کی پاکیزہ تعلیم کو دیکھنا چاہئے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: حَتّٰٓي اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ۔فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا(سورہ محمدؐ ) یعنی جب تم فتح مند ہوجاؤ۔ تو پھر دشمنوں کو قید کرلو۔ اور پھر چاہے احسان مند بناکر چھوڑدو یا فدیہ لے کر، حتیّٰ کہ لڑائی بند ہوجائے۔
دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا۔ اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَّلَا شُكُوْرًا اس آیت میں خدا تعالیٰ ابرار کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو اللہ کی محبت کی خاطر کھانا کھلاتے ہیں۔ اور ان کو خطاب کرکے کہتے ہیں کہ ہم تم کو صرف خدا تعالیٰ کی خاطر کھلاتے ہیں۔ ہم نہ اس کا بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ ان آیات سے اسلامی شریعت کے قیدیوں کے متعلق مندرجہ ذیل قوانین مستبط ہوتے ہیں:
(۱) حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَاکہہ کر بتایا کہ یہ جنگی قیدی صرف اس وقت تک ہی رکھے جاسکتے ہیں جب تک جنگ جاری ہو لیکن جب جنگ ختم ہوجائے یا زیادہ سے زیادہ جنگ کی وجہ سے پڑے ہوئے بوجھ دُور ہوجائیں تو اس کے بعد قیدی رکھنے کی اجازت نہیں۔
(۲) فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً میں یہ تعلیم دی کہ قیدیوں کو صرف فدیہ لیکر یا بطور احسان آزاد کردو۔
(۳) وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ میں نیک اور متقی مسلمان کی یہ تعریف کی کہ وہ خدا کی رضاء اور خوشنودی کی خاطر قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں قیمت یا اَجر کے طالب نہیں ہوتے۔
یہاں اس امر پر زور دینے کی ضرورت نہیں کہ جو تعلیم قیدیوں سے سلوک کے متعلق قوانین بیان کرتے ہوئے بنیاد ہی خدا کی رضا اور احسان پر رکھتی ہے، وہ اپنے متبعین سے کتنے رحم و لطف کا مطالبہ کریگی۔ ترمذی ابواب السیر میں جنگی قیدیوں کے متعلق آتا ہے کہ:
من فرّق بین والدۃ وولدھا فرّق اللہ بینہ‘ و بین احبتہٖ یوم القیٰمۃکہ جس نے (قیدیوںمیں سے) ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی اُسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے اور اُس کے اقرباء کے درمیان تفریق ڈالیگا۔ پس اس حدیث کے ماتحت مسلمانوں کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ قیدیوں میں سے قریبی اور خونی تعلق کے رشتہ داروں کو علیٰحدہ علیٰحدہ رکھ سکیں بلکہ جہاں ان کی خوراک اور ان کے لباس کا خیال رکھنا ضروری ہے وہاں ان کے جذبات کا احترام بھی لازمی ہے۔
سبحان اللہ! کتنی بے مثال تعلیم ہے۔ کونسا مذہب ہے جو دشمن کے ساتھ عین اس وقت بھی اتنے کریمانہ سلوک کی تلقین کرے جبکہ وہ اپنے بَس میں آچکا ہو اور انتقام کا پورا موقعہ ہو۔
رسول کریمﷺ کا عدیم النظیرنمونہ
قرآنی احکام کی روشنی میں جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پاکیزہ زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں تحیّر خیز نظارے نظر آتے ہیں۔ آپ کے پاس وہ قیدی آتے ہیں جنہوں نے آپ پر عرصہ حیات کو تنگ کیا۔ کونسا ظلم تھا جو انہوں نے اٹھا نہ رکھا۔ کونسی تکلیف تھی جو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو نہ دی گئی۔ کونسی اذیّت تھی جو مسلمانوں کے لئے جائز نہ سمجھی گئی۔ ایسے وقت میں جب اتنی خطرناک تکلیفیں دینے والے شقی القلب کفار ایک عام انسان کے بس میں آجائیں تو وہ اس سے جو سلوک کرے وہ ظاہر ہے۔ لیکن سیدالمرسلین کا اسؤہ حسنہ ساری دنیا سے ممتاز ہے۔ باوجود اس کے کہ کفّار عام جنگی قیدی ہی نہیں بلکہ ان کی ذاتی دشمنی بھی اس امر کے خلاف ہے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے۔ پھر یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ واپس جا کر دوسری لڑائی کے لئے دشمن کی طاقت میں یقیناً اضافہ کرنے کا موجب ہونگے لیکن وہ محسنِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان تمام باتوں کے باوجود اُن کو آزاد کر دیتا ہے۔ پھر جو قیدی نقدی کی صورت میں اپنا فدیہ نہیں دے سکتے ان پر اصرار بھی نہیں کیا بلکہ اجازت دی کہ اُن میں سے جو خواندہ ہوں وہ مسلمانوں کے بچّوں کو معمولی پڑھنا لکھنا سکھادیں اور ان کو رہا کردیا جائے۔ جو قیدی یکدم فدیہ نہ دے سکتے تھے اُن کے لئے مکاتبت کی اجازت دی۔ اور پھر جتنی دیر وہ قید رہے اس عرصہ میں بھی اتنا بے نظیر سلوک کیا کہ خود ان قیدیوں میں سے بعض جو اس حُسن سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئے بیان کرتے ہیں کہ اپنے بچّوں سے بڑھ کر ہماری آسائش کا خیال رکھا گیا۔ ایسے مواقع بھی پیدا ہوئے جب کہ مسلمانوں کے پاس پیٹ بھر کر اپنے لئے کھانا اور تن ڈھانکنے کے لئے معمولی لباس بھی میسّر نہ تھا، لیکن ایسے وقت بھی انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پاک تعلیم کے ماتحت قیدیوں کی ضروریات کو مقدم رکھا۔ لطف و عنایت کا یہ عالم ہے کہ بعض دفعہ رؤساء کو بھی بغیر فدیہ لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ثمامہ بن اسال بنو حنیفہ کا سردار گرفتار ہوتا ہے۔ اس کو مسجد میں قید کیا جاتا ہے۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب کرکے کہتا ہے کہ : ’’ اے محمدؐ(صلی اللہ علیہ وسلم) اگر تم مجھے قتل کروگے تو ایک خونی کو قتل کروگے اور اگر احسان کروگے تو ایک شکرگزار پر احسان ہوگا۔ اور اگر زر فدیہ چاہتے ہو تو تم مانگو میں دونگا۔‘‘ لیکن باوجود اس کے کہ اس کو اپنے خونی مجرم ہونے کا خود اعتراف ہے اور وہ فدیہ دینے کے قابل بھی ہے، آپ جذبۂ احسان و لطف کے ماتحت اس کو آزاد کردیتے ہیں۔ جنگ بدر میں بہتّر ۷۲ قیدی آتے ہیں، آپ اُن میں سے ستّر کو آزاد کردیتے ہیں۔ غزوہ بنو المصطلق میں قریباً ایک سو قیدی آتے ہیں لیکن سب کو بلا معاوضہ آزاد کردیا جاتا ہے۔ غزوہ حنین میں قیدیوں کی تعداد چھ ہزار تک پہنچ جاتی ہے لیکن محسنِ اعظم رحمتہ اللعٰلمین ان کو نہ صرف آزاد ہی کرتا ہے بلکہ ان میں سے مستحقین کو کپڑے بھی دلاتا ہے۔
الغرض حضورؐ کی حیاتِ طیّبہ کے جس پہلو پر بھی غور کرو عقل حیران ہوتی ہے۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک ورق کائنات پر رحمت و احسان کی مجسّم داستان ہے۔ حضورؐ کی تعلیم کا معمولی سے معمولی جزو بھی دنیا بھر کے قانونوں تعلیموں اور مذاہب و ادیان پر نمایاں اور ممتاز فوقیت رکھتا ہے اور ایک سعید الفطرت انسان کے لئے تو اس کے سواچارہ ہی نہیں کہ وہ ان امور کا مشاہدہ کرکے بے اختیار پکار اُٹھے۔
اللّٰھم صل علےٰ محمد و علٰی اٰل محمد و بارک وسلم انک حمید مجید
(ماخوذ از روزنامہ الفضل قادیان دارالامان
مورخہ 05 ؍اپریل 1941ء صفحہ 20)
…٭…٭…٭…