اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-08

غیر مذاہب کی عبادت گاہوں او رراہبوں کے متعلق رسُول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکام (حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ)

مذہبی رواداری کا زرّیں اُصول
حضرت رسول پاک محمد مصطفےٰ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وجود مبارک دُنیا جہاں کے تمام انسانوں، جانداروں بلکہ حیوانات و اشجار کے واسطے بھی موجبِ رحمت برکت اور راحت تھا۔ آپ ایک ایسا دین لائے جو انسان کو خدا کے ساتھ ملا کر انسان کی پیدائش اور ہستی کے مقصد کو پورا کر دیتا ہے۔ آپ کی یہ دلی خواہش اور کوشش تھی کہ سب لوگ اس پاک دین کو قبول کریں مگر اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے نہ کبھی آپ نے جبر کیا اور نہ کبھی جبر کی اجازت دی بلکہ قرآن شریف کا یہ زریںاُصول دُنیا کے سامنے پیش کیا کہلَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ۰ۣ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۰ مذہب کے معاملہ میں کوئی جبر اور زبردستی نہیں۔ ہدایت اور گمراہی کی باتیں سب کھول کر بیان کردی گئی ہیں۔ جو راہ کسی کو پسند آتی ہے وہ اُس کو اختیار کرے۔
دُوسرا زریں اُصول
قرآن شریف کا یہ تاکیدی حکم ہے کہ تمام قوموں کے ساتھ خواہ وہ ہمارے موافق ہوں، یا ہمارے مخالف ہوں،عدل و انصاف کا معاملہ کیا جائے چنانچہ فرمایا۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلہِ شُہَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْااِعْدِلُوْاہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۔وَاتَّقُوا اللہَ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ اے مسلمانو! تم اللہ تعالیٰ کی خاطر دُنیا میں نیکی اور عدل کے قائم کرنے کے لئے کھڑے ہوجاؤ اورچاہئے کہ کسی قوم کی مخالفت تمہیں عدل و انصاف کے راستے سے نہ ہٹائے بلکہ تم سب کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو کیونکہ یہی طریق تقویٰ کا تقاضا ہے۔ پس تم متقی بنو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔
ہر دو مذکورہ بالا آیات غیر حکومتوں اور غیر قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کے مسئلہ کے لئے بطور بنیادی پتھر کے ہیں کیونکہ ان میں وہ اصول بتلائے گئے ہیں جن پر بین الاقوام اور بین الدول تعلقات قائم ہونے چاہئیں اور غور کیا جائے تو یہ اصول ایسے زرّیں ہیں کہ اگر فریقین کی طرف سے ان پر پورا پورا عمل ہو تو نہ صرف یہ کہ بین الاقوام تعلقات کبھی بگڑ نہیں سکتے بلکہ وہ ایسی خوشگوار صورت میں قائم رہ سکتے ہیں کہ جس میں بگڑنے کا کوئی امکان ہی نہ ہوسکے۔
عبادت خانوں کی حفاظت کا حکم
ان ہر دو زریں اصول کے ماتحت مسلمان صاحبانِ اقتدار غیر مذاہب کی عبادت گاہوں اور ان میں عبادت کرنے والے کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے۔ چنانچہ یہ آیت اس امر کی اور وضاحت کرتی ہے۔وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْہَا اسْمُ اللہِ كَثِيْرًا۰ۭ وَلَيَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ۰ۭ۔ اور اگر اللہ تعالےٰ دفاعی جنگوں کی اجازت دے کر ایک قوم کو دوسری قوم کے خلاف عمل کرنے سے نہ روکے تو یقیناً راہبوں کے صومعے اور عیسائیوں کے گرجے اور یہود کے بیت اور مسلمانوں کی مسجدیں، جن میں کثرت کے ساتھ خدا کا نام لیا جاتا ہے ایک دوسرے کے ہاتھ سے تباہ و برباد کردی جاتیں اور اللہ تعالےٰ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرتا ہے۔
اس آیت شریفہ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کو تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کے خراب کرنے سے نہ صرف روک دیا ہے بلکہ حتے الوسع ان کے آباد رکھنے اور انہیں گرایاجانے سے بچانے کی ترغیب دی ہے اس میں مسلمانوں کے واسطے ایک عام قانون بتا دیا گیا ہے کہ خواہ کوئی مذہب ہو اس کے عبادت خانے کو تباہ نہیں کرنا چاہئے۔
راہبوں کی حفاظت کا حکم
مذکورہ بالا آیت میں نہ صرف عبادت گاہوں کی حفاظت کا حکم ہے بلکہ اُن عبادت گاہوں میں رہنے والوں اور خدا کی یاد میں وقت گزارنے والوں کی بھی حفاظت کی گئی ہے۔
قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے حضرت رسُول پاک محمد مصطفےٰ صلے اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو جنگ کے موقعہ پر جو ہدایات دیتے تھے ان کی وضاحت احادیث صحیحہ سے ظاہر ہے۔ چنانچہ مسلم ابوداؤد اور موطاء کی احادیث میں آیا ہے کہ جب کوئی فوجی دستہ مدینہ شریف سے روانہ ہونے لگتا تو حضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کو یُوں نصیحت فرماتے۔
اغزوا بسم اللہ وقاتلوا فی سبیل اللہ ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا ولیدًا ولا امراۃ ولا تقتلوا اصحاب الصوامع۔ ولا تقتلوا شیخًا فانیا ولا طفلًا ولا صغیرًا ولا امراۃً واصلحوا واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین۔
اے مسلمانو! نکلو اللہ کا نام لے کر اور جہاد کرو حفاظتِ دین کی نیت سے مگر خبردار مالِ غنیمت میں بددیانتی نہ کرنا اور نہ کسی قوم سے دھوکہ کرنا اور نہ دُشمن کے مقتولوں کا مثلہ کرنا اور نہ بچوں اور عورتوں اور مذہبی عبادت گاہوں کے لوگوں کو قتل کرنا او رنہ بہت بوڑھوں کو قتل کرنا او رملک میں اصلاح کرنا اور لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا کیونکہ تحقیق خدا تعالےٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
خلفاء کا عملدر آمد
اَیسا ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالےٰ عنہ خلیفہ اول کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب کبھی کسی طرف فوج روانہ کرتے تھے تو اس کو نصیحت کرتے تھے کہ الذین زعموا انَّھم حبسوا انفسھم لِلہ فذرھم وما زعموا انھم حبسوا انفسھم لہ....... ولا تقطعن شجرًا مثمرًا ولا تخربن عامرًا۔وہ لوگ جنہوں نے اپنے خیال میں اپنے آپ کو خدا کی عبادت کے لئے وقف کررکھا ہے ان کو کُچھ نہ کہنا او راسی طرح جس چیز کو وہ مقدس سمجھتے ہیں اسے بھی کچھ نہ کہنا اور پھلدار درختوں کو نہ کاٹنا اور نہ کسی آبادی کو ویران کرنا۔ اس ہدایت میں بالخصوص یہ امر قابل غور ہے کہ یہ نہیں کہا کہ وہ لوگ فی الواقعہ اپنے طریق عبادت میں حق اور راستی پر ہیں بلکہ جو کُچھ بھی ہیں جبکہ انہوں نے مذہب کے نام پر کوئی عبادت اختیار کی ہے اور کسی جگہ کو اپنا معبد بنایا ہے خواہ وہ مذہب ہمارے نزدیک جھوٹا اور ناقابلِ قبول ہو تب بھی اس کا اتنا اکرام ضروری ہے کہ نہ معبدوں کو گرایا جائے اور نہ عابدوں کو کچھ تکلیف پہنچائی جائے۔ اس طرح مذہبی لوگوں اور مذہبی چیزوں کی حفاظت کے طریق میں اسلام نے ایک نمایاں امتیاز پیدا کیا جس کی نظیر پہلی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اَیسا ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب شام کا ملک فتح ہوا تو جو معاہدہ وہاں کی عیسائی آبادی کے ساتھ مسلمانوں کا قرار پایا اس میں مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کی روح سارے امور پر غالب تھی۔ ان اُمور کی تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہو، تاریخ طبری ابن جریر و فتوح البلدان وغیرہ۔
یہ اُس ضابطہ اخلاق کا ایک نہایت مختصر سا نقشہ ہے جو غیر قوموں کےساتھ تعلقات رکھنے کے متعلق حضرت خاتم النّبیین صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دُنیا کے سامنے پیش کیا اور جس پر آپ کے خلفاء اور آپ کے اصحاب نے عملاً کاربند ہوکر دُنیا کو دکھا دیا کہ اسلامی تعلیم صرف کاغذوں کی زینت یا منبروں کی سجاوٹ نہیں بلکہ سیاستِ اسلامی کا ایک ضروری اور عملی حصہ ہے۔
عیسائیوں سے معاہدہ
نجران کے عیسائیوں کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس کی شرائط میں بالوضاحت مسلمانوں کی طرف سے یہ اقرار تھا کہ عیسائیوں کا کوئی گرجا گرایا نہ جائیگا ان کے کسی پادری یا راہب کو وہاں سے نکالا نہ جائیگا اُن کے مذہب میں کِسی قسم کی رخنہ اندازی نہ کی جائے گی۔ اس طرح عیسائیوں کو پوری مذہبی آزادی دی گئی اور ان کے راہبوں اور پادریوں کے عہدے اور آمدنیاں بدستور قائم رہیں بلکہ وہ مسلمانوں کی حفاظت میں آگئے اور ہر قسم کے خوف و خطر سے امن میں آگئے۔ تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہو ابو داؤد کتاب الخراج۔ باب اخذ الجزیتہ۔
ایسا ہی خیبر کے موقعہ پر اعلان عام کیا گیا تھا کہ کوئی مسلمان اہل کتاب کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر نہ جائے۔ کوئی مسلمان اہلِ خیبر کی عورتوں کو نہ مارے۔ کوئی مسلمان اہل خیبر کے پھلوں کو نہ کھائے۔ (ملاحظہ ہو کتاب ابوداؤد)
پس ظاہر ہے کہ اسلامی تعلیم دین کے معاملہ میں کِسی قسم کے جبر کی اجازت نہیں دیتی۔ ہر شخص پورے طور پر آزاد ہے کہ وہ دلائل اور براہین کے ساتھ جس مذہب کو پسند کرے اُسے اختیار کرے۔ اسلام آزادئ ضمیر کے حق کو تسلیم کرتا اور اس پر زور دیتا ہے اور اسی کے مطابق اہل اسلام کا ہمیشہ عملدر آمد رہا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ دین کے معاملہ میں سوائے خدا کے اور کِسی کا خوف نہ رہے او رہر شخص آزادی سے جو مذہب چاہے قبول کرے اور جس رنگ میں کوئی چاہے اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لائے۔
قِسیس اور رہبان کا ذکر خیر
قسیسوں اور رہبانوں کی جو تعریف قرآن شریف میں کی گئی ہے اور انہیں دیگر اہل کتاب کی نسبت مسلمانوں کے زیادہ قریب بتلایا گیا ہے، یہ امر بھی مسلمانوں کو ان کی حفاظت کرنے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُہْبَانًا وَّاَنَّہُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ ﴿المائدة: ٨٢
(سُورۃ مائدہ رکوع 11) البتہ ان لوگوں کو جو نصاری کہلاتے ہیں تُو مسلمانوں کے ساتھ دوستی کرنے میں زیادہ قریب پائے گا کیونکہ اُن میں قسیسین اور رہبان لوگ ہیں اور اس واسطے کہ وہ لوگ تکبّر نہیں کرتے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے راہبوں اور پادریوں کی بعض خوبیوں کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اختلافِ مذاہب کی بناء پر دوسروں سے عداوت رکھنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ وہ وسعتِ اخلاق سے کام لینے کی تلقین کرتا ہے او ریہ ہدایت دیتا ہے کہ غیر مذہب کے راہبوں میں جو خوبیاں ہوں ہمیں ان کا اعتراف کرنا ضروری ہے اور اس طرح باہمی رواداری کو ترقی دینی چاہیئے۔
جھوٹے معبودوں کو بھی گالی نہ دو
دُنیا میں بہت سے لڑائی جھگڑے اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ ایک دُوسرے کے قابلِ احترام مذہبی پیشواؤں کی مذمت کرتے ہیں۔ اسلام نے سختی کے ساتھ اس بات سے روکا ہے لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَيَسُبُّوا اللہَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ﴿الأنعام: ١٠٨
اللہ کو چھوڑ کر اور معبود جو لوگوں نے بنائے ہوئے ہیں اُن کوبھی تم گالی نہ دو تا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ چڑ کر جہالت سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔
اس حکم سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مذاہب کی عبادت گاہوں اور عابدوں کے متعلق اسلام کا کیا نظریہ ہے۔ اسلام تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ پتھر کے بتوں کو بُرا کہا جائے چہ جائیکہ بُت خانوں اور پجاریوں کے ساتھ کوئی بُرا سلوک ہو۔
نجران کے عیسائیوں سے سلوک
یہ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ نجران کے عیسائیوں کاایک وفد ایک دفعہ حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آیا ہوا تھا۔ اتوار کے دن اُس وفد کے ممبروں نے آنحضرت صلے اللہ علیہ آلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ آج ہمارا عبادت کا دن ہے۔ ہم کہاں گرجا کریں۔ تو حضور نے فرمایا کہ ہماری مسجد میں کرلو۔ چنانچہ مسجد نبوی میں انہوں نے گرجا کیا۔
امریکہ کےپادریوں کو چیلنج
میں نے ایک دفعہ ڈیٹرائٹ میں جو امریکہ کا بڑاشہر ہے حضرت رسول پاک صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مذہبی رواداری اور حسنِ اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے اپنے لیکچر میں اُس شہر کے عیسائی پادریوں کو چیلنج کیا کہ کل جمعہ ہے (یہ لیکچر جمعرات کی مغرب کے بعد رات کو ہوا تھا) اور میں نے چند نومسلموں کے ساتھ جو اس شہر میں ہیں جمعہ کی نماز پڑھنی ہے کیا کوئی عیسائی پادری اس شہر میں ایسا حوصلہ رکھتا ہے کہ کل دو گھنٹہ کے واسطے ہمیں اپنا گرجا دے دے اور ہم اُس میں جمعہ کی نماز پڑھ لیں۔ ڈیٹرائٹ ایک بڑا شہر ہے کئی لاکھ کی آبادی ہے۔ لیکچر ایک بڑے ہال میں ہوا تھا اور اس میں کئی ایک روزانہ اخباروں کے نامہ نگار بھی آئے ہوئے تھے۔ وہ نامہ نگار اُسی شب شہر کے گرجوں کے پادریوں کے پاس پہونچے اور انہیں میرا چیلنج سُنایا۔ سب کے جواب صبح جمعہ کے اخبار میں شائع ہوئے کہ سب نے نماز جمعہ کے واسطے گرجا دینے سے انکار کردیا۔ بعض نے کہا کہ ڈاکٹر صادق کو گرجا استعمال کرنے کے واسطے دینا ایسا ہے جیسا کہ کوئی دُشمن کو بُلا بھیجے کہ ہمارے قلعہ پر آکر بم پھینکو۔
غرض سب نے انکار کیا اور جس حسنِ اخلاق اور مذہبی رواداری کا نمونہ آج سے تیرہ سَو سال قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ آلہٖ وسلم نے دکھایاتھا آج کی مہذب کہلانے والی دُنیا اس کا عشر عشیر بھی نہیں دکھا سکتی۔
خلاصۂ کلام
غرض اسلامی شریعت میں غیر مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔ طبری وغیرہ کتب تاریخ میں بہت سے معاہدات اصل الفاظ میں مذکور ہیں جن میں بالصراحت تحریر ہے کہ کسی کے مذہب سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ حضرت خالد ؓ نے جب عیسائیوں پر فتح پائی تو اُن کو یہ تحریر دی کہ ان کے گرجے برباد نہیں کئے جائیں گے۔ ان کو سنکھ بجانے سے روکا نہیں جائے گا۔ ان کی عیدوں کے دن انہیں صلیب کے جلوس نکالنے کی اجازت ہوگی۔ یہ وہ پاک تعلیم ہے جو حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے مسلمانوں کو دی او رجس پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں نے ہمیشہ غیر قوموں کےمعبدوں، راہبوں، برہمنوں کا احترام کیا۔ اللّٰھم صل وسلّم وبارک علٰی محمد وعلٰی اٰل محمد و علٰی مسیح الموعود وعلٰی اٰل مسیح الموعود انّک حمید مجید ۔
…٭…٭…٭…