کوئی شخص خواہ کسی مذہب یا کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو اگر وہ بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات، آپؐکی فطرت، آپؐکے اخلاق،آپؐکے دلی جذبات ، آپؐکے ارادوں ، آپؐکی خواہشوں اور امنگوں، آپؐکے طبعی میلان، آپؐکی روحانیت، آپؐکے تعلق باللہ اور آپؐکی صفات کے متعلق صحیح رائے قائم کرنا چاہتا ہواور یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کیسے انسان تھے؟ تو اس کے لئے ایک نہایت ہی آسان اور صحیح ذریعہ یہ ہے کہ وہ آپؐکی شب و روز کی دعائوں اور آپؐکی عبادات پر ایک صاف دل کے ساتھ غور کرے۔آپؐکی دعائوں پر تدبر کرنے سے اس کو معلوم ہوجائے گا کہ آپؐکے دل کی گہرائیوں میں کس قسم کے خیالات موجزن تھے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرتوں پر آپ کو کیسے ایمان تھا؟خدا تعالیٰ کا کیسا نقشہ آپؐکی آنکھوں کے سامنے تھا یہ دعائیں آپؐکے اندرونہ کا ایک طبعی اظہار ہیںجن میں کسی قسم کی بناوٹ یا تصنع نہیں پایا جاتا۔یہ ایک صاف اور مصفا آئینہ ہے جن میں ہمیں آپؐکی صحیح تصویر نظر آتی ہے۔پس آئو ہم اس آئینہ میں آپؐکی تصویر کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کریں۔
میں نے اس غرض کے لئے صرف آپؐکی ان دعائوں کو لیا ہےجو صحیح بخاری کے ایک ہی باب یعنے کتاب الدعوات میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ آنحضرت ﷺکی اور بہت سی دعائیں ہیں جو حدیث کی دوسری مستندکتابوں میں پائی جاتی ہیںیا خود صحیح بخاری کے دوسرے حصوں میں موجود ہیں۔ مگر میں نے صحیح بخاری کے صرف ایک باب یعنےکتاب الدعوات پر اکتفاکیا ہےاور ان کی تعداد چنداںزیادہ نہیںاور ان میں سے بھی میں نے صرف چند نمونہ کے طور پر پیش کی ہیں۔
(1) پہلی دعا جو میں ناظرین کے سامنے رکھتا ہوں وہ آپؐکی پچھلی رات کی دعا ہےجو آپؐبستر سے اٹھ کر ایسے وقت میں جب کہ تمام دنیا آرام کی نیند سوئی ہوتی تھی اپنے خدا کو مخاطب کرکے کرتے تھے۔
حضرت ابن عباسؓجو لڑکپن کے زمانہ میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر اس نیت سے جاکر سوجاتے ہیں کہ وہ دیکھیں کہ آنحضرت ﷺرات کے وقت کس طرح عبادت کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ آپؐجب تہجد کیلئے رات کو کھڑے ہوتے تو یوں دعا کرتےاللہم لک الحمد انت نورالسمٰوات والارض ومن فیھن ولک الحمد ۔ انت فیما لسمٰوات والارض ومن فیھن ولک الحمد۔ انت الحق ووعدک حق وقولک حق ولقاءک حق والجنۃ حق والنار حق والساعۃ حق۔والنبیون حق و محمد حق۔اللہم لک اسلمت و علیک توکلت وبک اٰمنت والیک انبت وبک خاصمت والیک حاکمت فاغفرلی ما قدمت وما اخرت و ما اسررت وما اعلنت انت المقدم وانت المؤخر لا الٰہ الا انت۔
یا اللہ ساری تعریف تیرے ہی لئے ہے تو آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے سب کا نور ہے۔ تیرے ہی لئے ساری تعریف ہےتو ہی آسمانوں اور زمین کا اور جو انکے بیچ میں ہےاسکا تھامنے والا ہے۔تیرے ہی لئے ساری تعریف ہے ،تو سچا ،تیرا وعدہ سچا اور تیرا فرمودہ سچا ۔ تجھ سے ملنا سچ، بہشت سچ،دوزخ سچ، قیامت سچ، پیغمبر سب سچے،محمد سچے۔ یا اللہ میں نے تیرے حکم پر گردن رکھ دی تجھ ہی پر بھروسہ کیا،تجھ پر ایمان لایا،تیری ہی طرف رجوع ہوا،تیری ہی مدد پر دشمنوں سے مقابلہ کیا،تیرے ہی سامنے اپنا قضیہ پیش کرتا ہوں ۔میری اگلی پچھلی چھپی کھلی سب کمزوریاں ڈھانپ دے۔تو جس کو چاہے آگے کر دے جس کو چاہے پیچھے کردے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
یہ چند الفاظ ہیں جو آپ تنہائی کی حالت میں رات کے اندھیرے میں اپنے خدا کو مخاطب ہوکر فرماتے ہیں۔پہلے خدا تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کے متعلق اس کے وعدوں کے متعلق ، بہشت، دوزخ ، قیامت اور تمام انبیاء کے سچا ہونے کے متعلق اپنے یقین اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور جو بات سب سے زیادہ ایک انسان کے دل پر اثر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیںکہ تیرا نبی محمد(ﷺ)بھی سچا ہے(فداہ ابی وامی) جیسا آپ دوسرے انبیا ء پر اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں ایسا ہی اپنے اوپر بھی اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ پبلک کے سامنے اسکا اظہار نہیں کرتے بلکہ ایسے وقت میںاسکا اظہار کرتے ہیں جبکہ آپؐکے درمیان اور آپؐکے خدا کے درمیان اور کوئی تیسرا شخص نہیں ۔ کیا آپکے اس رنگ کے اظہار کے بعد کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی شک کر سکتا ہے کہ آپؐکو اپنے نبی ہونے کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ تھا۔یقیناً وہ اپنے آپکو سچا نبی یقین کرتے تھےاور اسی طرح آپؐنے اپنی صداقت پر اپنے ایمان کا اظہار کیاجس طرح دوسرے مومن آپکی صداقت پر ایمان کا اظہار کرتے تھے۔ آپؐکے اس فعل سے خدا تعالیٰ کے اس کلام کی تصدیق ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ یعنی یہ رسول بھی اس پر ایمان لایا ہےجو اسکے رب کی طرف سے اسکی طرف اتارا گیا ہے اور دوسرے مومن بھی اس پر ایمان لائے ہیں۔
اسی طرح ناظرین دعا کے بقیہ حصہ پر بھی غور کریں اور دیکھیں کہ آپکے ان الفاظ سے آپکے دلی خیالات پر کیا روشنی پڑتی ہے۔ یہ الفاظ کسی بناوٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ آپکے دلی خیالات کی صحیح صحیح ترجمانی کرتے ہیں۔
(2)پھر آپؐکی ایک اور دعا ہمیں حضرت ابن عباسؓکے ذریعہ ہی پہنچی ہے۔یہ دعا بھی آپ ؐرات کے پچھلے حصہ میں ہی پڑھا کرتے تھےاللھم اجعل فی قلبی نورًا وفی بصری نورًا وفی مبعی نورًا وعن یمینی نورًا وعن یساری نورًا وفوقی نورًا و امامی نورًا وخلفی نورًا وفی عصبی نورًا ولحمی نورًا ودمی نورًا وشعری نورًا وبشری نورًا و شمی نورًا و عظمی نورًا واجعل لی نورًایا اللہ میرے دل میں روشنی دے میری آنکھ میں روشنی دے ،میرے کان میں روشنی ،میرے داہنے طرف روشنی میری بائیں طرف روشنی، میرے اوپر روشنی ، میرے نیچے روشنی،میرے آگے روشنی، میرے پیچھے روشنی، میرے پٹھے ، میرے گوشت، میرے خون،میرے بال، میرے پنڈے میں اور میری چربی اور میری ہڈی میںروشنی دےاور خود میرے لئے روشنی دے۔
اس دعا سے جو آپؐتنہائی کی گھڑیوں میں اپنے خدا سے مانگتے تھےظاہر ہوتا ہے کہ آپکو کس چیز کی تڑپ تھی۔آپؐنے خدا تعالیٰ سے دولت نہیں مانگی، آپؐنے خدا تعالیٰ سے بادشاہت نہیں مانگی۔آپ نے اولاد اور جائیدادنہیں مانگی۔ آپ نے اپنے خدا سے کیا مانگا ؟آپنے نور مانگا ہاں خالص اور پاک نور آپ نے مانگااور پھر سادہ طور پر نور مانگ کر سیر نہیں ہوئے اور نور کیلئے آپ کی پیاس نہیں بجھی بلکہ آپ نے اپنے سوال کو لمبا کیا اور کہا کہ میرے اندر بھی بدن کے ہر ایک ذرہ میں نور ہو اور باہر بھی سب طرف نور ہو ۔ نور کیلئے تڑپ ہے اور تڑپ بھی ایسی جو بجھنے میں نہیں آتی ۔
پس ایسا شخص جس کے دل میں نور کیلئے اس قدر تڑپ ہو اور جو اپنے وجود کے ذرہ ذرہ کیلئے اللہ تعالیٰ سے نور مانگے اور مانگتا ہی چلا جائے کس طرح ممکن ہے کہ اس کے وجود کے کسی گوشہ میں کوئی تاریکی اور ظلمت کا شائبہ پایا جاتا ہو ۔
(3)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آنحضرت ﷺخواب گاہ پر تشریف لیجاتے تو معوذات( سورہ اخلاص ، فلق اور ناس) پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور ان کو سارے بدن پر پھراتے۔
اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کلام کو جس کو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے ، اس کو خدا کا مقدس کلام یقین کرتے تھے اور اس کو نہایت تبرک خیال کرتے تھے ۔ تب ہی تو وہ قرآن شریف کی تین آخری سورتوں کو پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر پھونکتے تھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے سارے جسم مبارک پر پھیرتے تھے۔ پس جھوٹے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ آپ قرآن شریف کی آیات کو خود افترا کر کے جھوٹے طور پر دنیا کے سامنے بطور وحی الٰہی کے پیش کرتے تھے۔
حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ آپ ہر رات بالالتزام معوذات کو اپنے ہاتھوں پرپھونک کر اپنے ہاتھ اپنے بدن پر پھیرتے تھے اور جب آخری بیماری میں بوجہ شدت بیماری کے آپ ایسا نہیں کر سکتے تھے تو میں خود ہاتھوں پر معوذات پڑھ کر آپ کے بدن مبارک پر پھیر دیا کرتی تھی۔
(4)پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائوں سے خدا تعالیٰ کی توحید سبوحیت ، قدوسیت،قدرت عظمت اور ہر حمد کے لائق ہونے پر آپ کا گہرا ایمان ثابت ہوتا ہے ۔ اور آپ نہ صرف خودہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تحمید،تکبیر اور تہلیل میں مصروف رہتے تھے بلکہ اپنے اتباع کو بھی تلقین کرتے تھےکہ وہ ایسا کریں اور آپؐکا اس بات پر ایمان تھا کہ یہ ایسے اعمال ہیںکہ ان سے بڑھ کر انسان کے روحانی مدارج کو بڑھانے والا کوئی عمل نہیں۔آپؐنے بہت سے کلمات اپنے متبعین کو ایسے سکھائے جن میں سوائے خدا تعالیٰ کی توحید کے اقرار کے اور خدا تعالیٰ کی تسبیح ،تحمید ،تکبیر اور تمجید کے اور کوئی کلمہ ہی نہیں اورجو دوسری دعائیں آپؐخود فرماتے تھے یا اپنے پیروئوں کو سکھاتے تھے ان دعائوں کے ساتھ بھی آپؐتہلیل، تسبیح،تحمیداور تکبیر کو شامل کر دیتے تھے۔
مثال کے طور پر میں آپؐکے بعض ایسے کلمات نقل کرتا ہوں جن میں آپؐنے سوائے توحید کے اقرار یا اللہ تعالیٰ کے پاک قابلِ ستائش اور ہر ایک بڑائی کے مالک ہونے کے اقرار کے اور کسی بات کو شامل نہیں کیا اور اپنے کلمات کو خلوص دل اور ایمان کے ساتھ دہرانےکو ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی عبادت قرار دیا ہےجو انسان کے روحانی مدارج کے بڑھانے کا ایک بے نظیر ذریعہ ہے ۔مثلاً آپؐکے پیارے الفاظ پڑھئے۔آپؐفرماتے ہیںکلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان حبیبتان الی الرحمٰن سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم دو کلمے ہیں جن کا دہرانا زبان کے لئے بالکل آسان اور ہلکا ہےلیکن یہ ہلکے کلمے انسان کے نیک اعمال کے پلڑے کو نہایت بھاری کر دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو جس کی صفت رحمان ہے نہایت ہی پیارے اور محبوب ہیں ۔ وہ دو کلمے یہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ دیکھو کس پیار ے طریق سے آپؐنے اپنے اتباع کو ان کلمات کے (صدق دل اور خلوص کے ساتھ) دہرانے کی تحریک فرمائیاور کیسے دلکش الفاظ میں انکی فضیلت کو واضح فرمایا۔ایک اور موقع پر آپؐنے فرمایا کہ جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔(صدق دل سے)سو مرتبہ پڑھتا ہے وہ اپنے تمام گناہوں سے پاک کیا جاتا ہے۔ خواہ اسکے گناہ سمندر کے جھاگ کی طرح ہوں۔(ب)پھر ایک مثال اور لیجئے آنحضرت ﷺکی پیاری صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓایک درخواست لیکر حضرت عائشہؓکے گھر تشریف لاتی ہیں اور آپؐکو گھر میں نہ پاکر حضرت عائشہ کےپاس اپنی درخواست اس غرض سے بیان کرتی ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺکے تشریف لانے پر ان کی درخواست حضور کی خدمت میں پیش کر دیں۔فرماتی ہیں کہ چکّی پیسنے سے میرے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی ہے حضور کی خدمت میں عرض کر دیں کہ وہ مجھے ایک غلا م دیں تا مجھے گھر کے کام میں سہولت ہو۔ جب عشاء کے وقت حضور گھر میں تشریف لاتے ہیں تو حضرت عائشہ ؓحضرت فاطمہؓ کا پیغام آپؐکو دیتی ہیں۔ آپ اسی وقت اپنی پیاری بیٹی کے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔غلام یعنی جنگی قیدی توبیت المال کا مال ہیں حضور اپنی بیٹی کو نہیں دے سکتے مگر اس کے عوض میںنہیں اسکا نعم البدل حضور اپنی پیاری بیٹی کو کیا دیتے ہیں۔حضرت فاطمہ اپنے بسترے میں داخل ہو چکی ہیں۔آپؐاسکی چارپائی پر بیٹھ کر فرماتے ہیں الا ادلکما علی ما ھو خیر لکما من خادم اذا اویتما الی فراشکما فکبر اثلاثا و ثلاثین وسبحا ثلاثا و ثلثین و احمدا ثلاثا و ثلثین فھذا خیر لکما من خادم۔ کیا میں تم دونوں (حضرت فاطمہؓو حضرت علیؓ)کو ایسی بات نہ بتائوں جو تمہارے لئے ایک خدمتگار سے بڑھ کر ہو ۔ جب تم اپنے بچھونے پر جانے لگو تو 33بار اللہ اکبر کہو ،33 بار سبحان اللہ،33بار الحمد للہ یہ ایک خدمتگار سے تمہارے لئے بہتر ہوگا۔
کیا آپ نے یہ کہہ کر صرف اپنی بیٹی کے دل کو بہلایا۔ہرگز نہیں بلکہ واقعی آپؐنےاپنی صاحبزادی اور داماد کو ایک قیمتی چیز دی جو دنیا کی چیزوں اور آراموں سے بدرجہاں بہتر تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپؐاللہ تعالیٰ کی تسبیح اورتحمید اور تکبیر کو ایک بیش بہا کام یقین کرتے تھے۔ اور آپ نے اپنی بیٹی کی فی الواقع ایک نہایت ہی قابل قدر امر کی طرف رہنمائی فرمائی ۔
(ج)پھر ایک اور واقعہ کو لیجئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپؐاللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تحمید اور تکبیر کو ایک نہایت ہی عظیم الشان عمل سمجھتے تھےجس سے انسان کےروحانی مدارج میں بہت بڑی ترقی ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓفرماتے ہیں کہ غریب مہاجرین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول ذھب اھل الاثوربا لدرجات والنعیم المقیم۔دولت والے بڑے بڑے درجےاورجنت کی نعمتیںلوٹ لے گئے اور ہم پیچھے رہ گئے۔آپ نے پوچھاکیف ذالک کس طرح؟ انہوں نے جواب دیا وہ نماز بھی ہماری طرح پڑھتے ہیں ،جہاد وہ ہماری طرح کرتے ہیں لیکن وہ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ آپؐنے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات بتلائوں جس کی وجہ سے تم ان لوگوں کے برابر ہوجائوجو تم سے پہلے ہیں اور ان لوگوں سے آگے بڑھ جائو جو بعد میں آنے والے ہیں۔ اور تمہارے جوڑ کا عمل کوئی شخص نہیں لاسکے گا ۔ البتہ وہی جو یہ عمل ہو تم نماز کے بعد دس بار سبحان اللہ اور دس بار الحمد للہ اور دس بار اللہ اکبر کہا کرو۔
دیکھو آنحضرت ﷺکی نظر میں خدا تعالیٰ کی تسبیح،تحمید اور تکبیر کس شان کا عمل تھا کہ اورکوئی عمل اس پایہ کا نہ تھااور انسان کی روحانی ترقی کیلئے ایک نہایت تیز سواری کا کام دیتا تھا۔اس حدیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آپؐکے صحابہؓ میں نیکی اور پاکیزگی اور روحانی مدارج میں ترقی کرنے کی کس قدر تڑپ تھی۔ یہ تڑپ انہیں کہاں سے پیدا ہوئی۔یہ آپؐکی صحبت کا پاک اثر تھا۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ پس وہ کیسا زبردست پاک نفس تھاجسکے ساتھ چھونے سےلوگوں کے اندر ایک پاکیزگی کی رو چل جاتی تھی۔
(د) اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ جوشخص لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدیر ( اللہ تعا لیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیںوہ اکیلاہے۔ اس کے ساتھ کوئی اور شریک نہیں وہی بادشاہ ہے اور وہی تعریف کے قابل ہے اور وہ ہر ایک بات پر قادر ہے) دن میں سو بار کہے تو وہ ایک ایسا عمل کرے گا کہ اس سے بڑھ کر کوئی شخص عمل نہیں کر سکے گا سو ائے اس شخص کے جو اس کلمہ کو سو بار سے بھی زیادہ پڑھے۔
(ر)آپ کو اگر کوئی کرب ہوتا تو آپ اپنے کرب کا کیا علاج کرتے اور کس چیز کے ساتھ اپنی گھبراہٹ اور اپنی بے چینی کو دور کرتے۔ حضرت ابن عباسؓفرماتے ہیںکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختی اورمصیبت کے وقت یوں دعا کرتے۔لا الہ الا اللہ العظيم الحلیم لا اله الا الله رب السموات والارض رب العرش العظيم الله کے سوا جو بڑی عظمت اور بڑے علم والاہے کوئی سچا معبود نہیں ۔ اللہ کے سوا جو انسان اور زمین اور بڑے تخت کا مالک ہےکوئی سچا خدا نہیں ۔
پس آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا اظہار کوئی بے اثر فعل نہ تھا بلکہ اس سے خدا کا فضل اور خدا تعالیٰ کی نصرت جوش میں آتی ہے جوہر ایک مشکل کو دور کرتی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَ لَا بِذِكْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔
یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی یاد ایسی چیز ہے جس سے ہر ایک گھبراہٹ دور ہوتی اور دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ آپ کا خدا تعالیٰ کی باتوں پر ایمان تھااور خدا کے بیان کئے ہوئے نسخوں سے آپ کا م لیتے تھے۔حضرت عائشہ نے سچ فرمایا کان خلقہ القرآن۔ یعنی اگر کسی نے معلوم کرنا ہو کہ آپؐکا عملی خانہ کیسا تھا تو قرآن پڑھ لے۔ جو کچھ قرآن شریف میں بیان ہوا ہے وہی آپکا عمل درآمد تھا۔ قرآن شریف گویا آپ کی سیرت کی کتاب ہے۔
(5)آنحضرت ﷺنے اپنے اتباع کو سمجھایا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو پاک خیال نہ کرے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نماز روزہ کے متعلق جو احکام ہیں ان کو بجا لانے میں اور شریعت میں جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے اپنے خیال کے مطابق پورے طور پر اجتناب کرتے ہیں ۔ مگر اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پاک خیال کرنے لگ جاتے ہیں اس طرح انکے اندر کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ خود بڑا گناہ ہے۔اگر فرض کرلیا جائے کہ وہ دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں مگر ان کے اندر اگر یہ خیال پیدا ہو جائے کہ وہ بڑے نیک ہیں تو یہ خود ایک بڑی بدی ہے کیونکہ ایسا خیال کرنا کبر ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایسا خیال کرنے سے روکا ۔ مثلاً حضرت ابوبکر ؓکے برابر نیک انسان کوئی دوسرا شخص صحابہؓ میں نظر نہیں آتا اور آنحضرت ﷺنے انکے بلند درجہ کی شہادت دی ہے۔لیکن حضرت ابوبکرؓخود فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں نماز میں کروں تو آپ نے فرمایاقل اللھم انی ظلمت نفسی ظلمًاکثیرًا ولا یغفر الذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم۔آپؐنے فرمایا یوں کہا کر یا اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیاہے اور گناہوں کا بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں تو اپنی خاص مغفرت سے میرے گناہ بخش دے اور مجھ پر رحم کر ۔ بے شک تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے ۔ اس حدیث سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں کبھی یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہم گناہوں سے پورے طور پر بچتے ہیں بلکہ اپنے خدا کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کرنا چاہئے اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے ۔ گناہوں کے احساس کے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہایت ہی درست ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مومن کو اپنے گناہ کااتنا ڈر ہوتا ہے جیسے کوئی پہاڑ کے تلے بیٹھا ہو اور وہ پہاڑ اس پر گرنے والا ہو اور بد کا ر شخص اپنے گناہ کو اتنا ہلکا سمجھتا ہے جیسے ناک پر سےمکھی چلی گئی اس نے ہاتھ کو اس طرح کیا یعنی ناک پر اپنا ہاتھ لگا دیا اور بس۔
(6)لیکن جہا ں آنحضرت ﷺکی یہ تعلیم ہے کہ ہمیں اپنے گناہوں کو خفیف نہیں سمجھنا چاہئے وہاں یہ بھی سکھایا کہ مومن کو خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔آپؐنے سکھایا کہ اللہ تعالیٰ انسان سے بہت پیار کرتا ہےاور اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ پر بے حد خوش ہوتا ہے ۔ انسان کی توبہ پر اللہ تعالیٰ کس طرح خوش ہوتا ہے اس کو سمجھانے کیلئے آپؐنے ایک مثال دی ۔ آپؐنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ شخص خوش ہوتا ہے جو سفر میں ایک مقام پر اترے جہاں کھانا پانی کچھ نہ ملتا ہو۔ ہلاکت کا مقام ہو اسکے ساتھ اسکی اونٹنی بھی ہو جس پر اس کا کھانا پانی لدا ہوپھر وہ تکیہ پر سر رکھ کر سو جائے اٹھے تو اونٹنی غائب۔ اس کےڈھونڈنے کے لئے چاروں طرف پھرے پیاس اور گرمی کی شدت ہو ۔ آخر تھک کر مجبور زندگی سے مایوس ہو کر اس جگہ چلا جائے جہاں پر وہ لیٹا تھا اور موت کا یقین کر کے پھر سو جائے۔ تھوڑی دیر میں آنکھ جو کھلے تو کیا دیکھتا ہے اسکی اونٹنی کھانا پانی لئے سامنے کھڑی ہے ۔
(7)پھر آپ نہ صرف خود ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے آدھی رات کے بعد اپنے بستر سے اٹھے اور وضو کر کے پوپھٹنے تک اپنے محبوب کے آگے کھڑے ہو کر اور رکوع میں اور سجدے میں دعا تسبیح اور تحمید اور تلاوت قرآن میں مصروف رہتے اور اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پائوں بھی سوج جاتے۔ بلکہ آپؐنے اپنے اتباع کو مندرجہ ذیل الفاظ میں ترغیب دی کہ وہ بھی رات کو اٹھ کر اپنے خدا کے آگے سر بسجود ہوں ۔ آپؐنے فرمایا یتنزل ربنا تبارک وتعالٰی کل لیلۃالی السماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الآخر یقول من یدعونی فاستجیب لہ من یسالنی فا عطیہ ومن یستغفرنی فاغفرلہمارا پروردگار تبارک تعالیٰ ہر رات کو جب اخیر تہائی حصہ رات کا رہ جاتا ہے پہلے آسمان پر اترتا ہے جو ہمارے قریب ہے اور فرماتا ہے کہ کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کون مجھ سے کچھ مانگتا ہےکہ میں اس کو دوں، کون مجھ سے گناہوں کی معافی چاہتا ہےکہ میں اس کے گناہ بخش دوں ۔ایسا خدا تھا جو آپؐنے دنیا کے سامنے پیش کیا اور اسی خدا کے خود بھی عابد بنے اور اپنے پیرئووں کو بھی پرستار بنایا۔
(8) آپؐکی ہمدردی مخلوق خدا سے
اوپر جن دعائوں کا ذکر ہوا ہے ان سے آنحضرت ﷺکے تعلق باللہ کا کچھ پتہ چلتا ہے۔ اب میں آپ کی بعض ایسی دعائیں لیتا ہوں جن سے آپؐکی اس ہمدردی کا کچھ پتہ چلتا ہے۔جو آپ کو مخلوق خدا کے ساتھ تھی۔اوّل آپؐکی ہمدردی اپنے اتباع سے ۔(الف)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا:لکل نبی دعوۃ یدعوبھا وارید ان اخبئ دعوتی شفاعۃ لا متی فی الآخرۃ۔ہر نبی کے لئے ایک خاص دعا ہوتی ہے جو وہ مانگتا ہےاور اللہ تعالیٰ اس کو ضرور قبول کرتا ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی اس خاص دعا کو رکھ چھوڑوں اور قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لئے کر دوں۔
یہ آپؐکی اتباع کے ساتھ آپؐکی ہمدردی کا اعلیٰ نمونہ ہے وہ ایک خاص دعا جس کے متعلق ہر نبی کو حق دیا جاتا ہے کہ وہ اس کو مانگے اور خدا تعالیٰ اس کو قبول کرے گا۔آپ نے اسکا بہترین استعمال یہ سوچا کہ میں اس کو محفوظ رکھوں اور قیامت کے دن جب حساب کتاب کا وقت آئے اس وقت میں اپنے اس حق کو استعمال کروںاور اللہ تعالیٰ سے سفارش کروں کہ آپؐکے ماننے والوں میں سے جن کے اعمال میں کمی ہےاور وہ اس کمی کی وجہ سے بہشت میں داخل نہیں ہو سکتے اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخش دے اور آپ کی سفارش پر ان کو بہشت میں داخل فرمادے۔ کیا اس سے بڑھ کر اپنے نام لیوائوں کے ساتھ کوئی ہمدردی کر سکتے تھے۔ آپؐنے اپنےمخصوص حق کو گناہوں کے بخشوانے اور انکے لئے جنت حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا۔
آپنے اپنے اس حق کو اپنی ذات کیلئے استعمال نہیں کیا اور نہ اپنی بیویوں اور اولاد کیلئے استعمال کیا۔ اور نہ اپنے دشمنوں کے شر سے بچنے کیلئے استعمال کیا بلکہ ان کروڑ ہا انسانوں کے بخشوانے کیلئے استعمال کیا جو قیامت تک آپؐپر ایمان لائیں گےخواہ وہ مشرق میں پیدا ہوں یا مغرب میں۔ خواہ ایشیا کے رہنے والے ہوں یا یورب کےخواہ وہ امریکہ کے باشندے ہوں یا جزائر کے۔
(ب)آپ کے غلاموں میں جو کسی تکلیف میں ہوتا آپ ایسے لوگوں کا نام لے لے کر دعا کرتے۔مکہ میں آپ کے بعض اتباع کافروں کی قید میں تھےاور سخت تکلیفیں ان کے ہاتھ سے اٹھا رہے تھے۔حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ عشاء کی اخیر رکعت میں جب رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ چکتے تو اس وقت آپؐیوں دعا فرماتے اللھم انج عیاش ابن ابی ربیعۃ اللھم انج الولید بن الولید اللھم انج سلمۃ بن ھشام اللھم انج المستضعفین من المؤمنین یا اللہ عیاش ابن ابی ربیعۃ کو کافروں کے پنجے سےچھڑا دے۔ یا اللہ ولید بن ولید کو چھڑا دے۔یا اللہ سملہ بن ہشام کو چھڑا دے،یا اللہ کمزور مسلمانوںعورتوں اور بچوں کو دشمن کے پنجہ سے چھڑا دے۔
(ج)آپؐاپنے بیمار خدام کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے اور ان کے لئے دعا کرتے۔ آپؐکے ساتھ جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تھے آپ کو اس بات کی بڑی تڑپ تھی کہ ان کی ہجرت پوری ہو اور اپنے وطن میں ان کی وفات نہ ہوتا جو درجہ انہوں نے ہجرت کرنے سے حاصل کیا اس میں کوئی کمی واقع نہ ہو اور یہی تڑپ آپ کے اتباع مہاجرین میں تھی کہ انکا خاتمہ مہاجر ہونے کی حالت میں ہی ہو ۔ مکہ میں ان کی وفات نہ ہو ۔
سعد ابن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے حجۃ الوداع کے زمانہ میں ایک بیماری کی وجہ سے جس میں مرنے کے قریب ہو گیا تھا میری عیادت کی۔ میں نے عرض کیا اَاُخَلَّفُ بعد اصحابی یا رسول اللہ کیا میں اپنے ساتھیوں دوسرے مہاجرین سے پیچھے ہوکر مکہ میں رہ جائوں گا۔ یعنی کیا میرے ساتھی چلے جائیں گےاور میں اسی جگہ مکہ میں فوت ہو جائوں گا۔ آپ نے جواب دیا انک لن تخلف تو ہر گز پیچھے نہیں رہے گا۔ بلکہ تو اس بیماری سے شفا پا جائے گا۔
پھر اسی لفظ کو دوسرے معنوں میں دہرایا اور فرمایا ولعلک تخلف حتی ینتفع بک اقوام و یضربک آخرون اور شاید تو پیچھے رہ جائے گا اور بعض قومیں تجھ سے فائدہ اٹھائیں گی اوربعض نقصان۔یہاں آپ نے پیچھے رہ جانے کو دوسرے معنوں میں استعمال کیا۔اور فرمایا کہ ہم گذر جائیں گے اور تو ہمارے بعد زندہ رہے گا۔اور ایسے کارہائے نمایاں تجھ سے ظاہر ہوں گے کہ بعض قوموں کو تجھ سے فائدہ پہنچے گااور بعض کو نقصان۔
آنحضرت ﷺنے یہ ایک عجیب پیشگوئی فرمائی اور ایسے وقت میں فرمائی جبکہ حضرت سعدؓخود اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہوگیا تھاکہ اشفیت منہ علی الموت۔یعنے موت کے قریب پہنچ گیا تھا اور اس حالت میں انہوں نے اپنی جائیدادکے متعلق بھی مشورہ پوچھاکہ میرے پاس بہت جائیداد ہےاور میری ایک ہی بیٹی ہے۔ کیا میں اپنی جائیداد کا 2/3 حصہ صدقہ کردوں ۔ مگر آپؐنے ایسا کرنے سے اسکو روکااور زیادہ سے زیادہ 1/3حصہ کی اجازت دی۔ غرض ایسے وقت میں جب حضرت سعد ابن ابی وقاص کی حالت قریب المرگ ہوچکی تھی آپؐنے نہ صرف اسکو یہ خوشخبری سنائی کہ تو شفا پاجائے گا بلکہ آپؐنے فرمایا کہ تیرے بعض ساتھی تجھ سے پہلےفوت ہو جائیں گےاور تو انکے بعد بھی ایک مدت تک زندہ رہے گااور تیرے ہاتھ سے ایسے کارہائے نمایاں ظاہر ہونگے کہ بعض قومیں ان سے فائدہ حاصل کریں گی اور بعض نقصان۔ چنانچہ یہ عجیب پیشگوئی پوری ہوئی۔ حضرت سعد ابن ابی وقاصؓاس بیماری سے شفایاب ہوکر مدینہ گئےاور ایک مدت تک آنحضرت ﷺکے بعد زندہ رہےاور ان کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے عراق کی عظیم الشان فتح مسلمانوں کو بخشی۔ اور آنحضرت ﷺکے یہ الفاظ پورے ہوئےینتفع بک اقوام ویضربک آخرون بعض قومیں تجھ سے فائدہ حاصل کریں گی اور بعض نقصان ۔
آپؐکی یہ پیشگوئی آپ کی صداقت کا نشان ہے اور ایک شخص جو حق کا طالب ہو صرف اسی نشان سے دیکھ سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺاللہ تعالیٰ کے صادق نبی تھے۔
پھر اس کے بعد آپؐنے دعا فرمائی اللھم امض لاصحابی ھجر تھم ولا تردھم علٰی اعقابھم لکن البائس سعد بن خولۃ ۔یا اللہ میرے اصحاب کی ہجرت پوری کر دے اور انکو ایڑیوں کے بل الٹامت پھرا۔ہاں افسوس ہے تو سعد بن خولہ کا ہے۔ سعد ابن ابی وقاصؓکہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے سعد ابن خولہ پر افسوس اس وجہ کیا کے وہ مکہ میں ہی وفات پاگئے تھے ۔
آنحضرت ﷺکی یہ دعا بھی آپؐکی اس حد درجہ کی محبت کو ظاہر کر رہی ہے جو آپ کو اپنے متبعین کے ساتھ تھی۔ اول تو آپؐکا اس دعا میں اصحاب کا لفظ استعمال کرنا یعنی یہ کہنا کہ امض اصحابی ھجرتھم۔(میرے اصحاب کی ہجرت پوری کر دے)۔آپؐکی محبت کو واضح کر رہا ہے گویا دوسرے لفظوں میں آپؐیہ دعا کرتے ہیںکہ اے خدا یہ لوگ میرے بہت پیارے ہیں اسلئے تو انکی ہجرت میں کسی قسم کا نقصان نہ آنے دے۔انہوں نے تیری رضا کیلئے اپنے وطن چھوڑے ۔ اب ایسا ہوکہ اس کا خاتمہ بھی مہاجر ہونے کی حالت میں ہو ۔ ایسا نہ ہو کہ یہ اپنے وطن میں وفات پا جائیںاور اس طرح ان کی ہجرت کی حالت قائم نہ رہے۔ اس دعا میں آپؐکی محبت اپنے صحابہ کے ساتھ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آپؐیہ نہیں چاہتے کہ آپ کے مدارج میں ذرا بھی کمی آجائے ان کا وطن میں وفات پانا آپ کا ایسا نظر آتا ہے کہ جو نیکی کا کام انہوں نے کیا تھا اس سے وہ الٹے پائوں مڑ جائیں گے اور وہ روحانی منزل جو انہوں نے طے کی تھی وہ گویا منسوخ ہو جائے گی اور وہ اپنی پہلی حالت میں آجائیں گے۔ اس لئے آپؐفرماتے ہیں ولا تردھم علٰی اعقابھم (ان کو ایڑیوں کے بل الٹا مت پھیر )اور یہی وجہ ہے کہ سعد ابن خولہ کے مکہ میں وفات پانے پر آپؐکو اس قدر رنج پہنچا ۔
دوسرا نتیجہ جو اس دعا سے نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت ایک سیاسی چال نہیں تھی۔ یعنی یہ غرض نہ تھی جیسا دشمن خیال کرتا ہےکہ باہر جا کر اور اپنا جتھا بنا کر مکہ والوں کا مقابلہ کریں گے۔ اگر ہجرت سے یہی غرض تھی تو وہ غرض تو اب پوری ہو چکی تھی ،مکہ فتح ہو چکا تھا ۔ کیونکہ یہ دعا آپؐنے حجۃالوداع کے موقع پر کی۔ اب اگرمہاجر اپنے وطنوں میں آکر آباد ہو جاتے تو کوئی حرج کی بات نہ تھی۔ لیکن آپؐکی نظر میں تو کسی صحابی کا ہجرت کے بعد مکہ میں آکر وفات پانا بھی ایک مصیبت نظر آتا ہے اور آپ درد دل کے ساتھ دعا فرماتے ہیں کہ اے خدا تو میرے اصحاب کی ہجرت پوری کردے اور انکو انکی ایڑیوں کے بل الٹا نہ پھرا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپؐکی نظر میں یہ ہجرت ایک سیاسی چال نہ تھی بلکہ ایک روحانی منزل تھی جو آپؐکے صحابہ ؓنے طے کی تھی اور آپ نہیں چاہتے کہ انکا یہ نیکی کا کام عبث چلا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سعد بن خولہ کے مکہ میں وفات پانے سے آپؐکو اس قدر صدمہ پہنچا۔ اگر ہجرت ایک سیاسی چال تھی تو پھر فتح مکہ کے بعد مہاجرین کے مکہ میں رہائش اختیار کرنے سے یا وہاں وفات پانے سے انکی ہجرت عبث نہیں جاتی تھی کیونکہ ہجرت کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔
(د)آپؐکا رحم مجسم ہونا آپؐکی ایک اور دعا سے ظاہر ہے آپؐنے فرمایا: من اذیتہ فاجعلہ لہ زکا ۃ ورحمۃ۔جسکو میری طرف سے نا دانستہ کوئی تکلیف پہنچے تو اے خدا اس کے عوض میں تو اس کو گناہوں سے پاک کر دے اور اس پر اپنی رحمت اتار ۔
آپؐکی ہمدردی مخالفین سے :
دوس قبیلہ کا سردار طفیل بن عمرو رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ان دو سا قد عصت وابت۔یا رسول اللہ دوس کے لوگوں نے سرکشی کی ہے اور انکار کیا ہے آپؐان کے لئے بددعا فرمائیں ۔ لوگ سمجھے اب آپؐان پر بددعا کریں گےلیکن آپؐنے دعا کی اور فرمایا :اللھم اھددوساوأت بھم۔یا اللہ دوس والوں کو ہدایت دے اور ان کو میرے پاس لے آ۔
سبحان اللہ اس قبیلہ کا سردارتو اپنے لوگوں کی سرکشی اور نافرمانی کو دیکھ کر بددعا کی تحریک کرتا ہے اور لوگ ان حالات کو سن کر اسی بات کے امید وار ہیں کہ آپ ان لوگوں کے لئے بددعا ہی کریں گے۔لیکن آپؐدعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیںاور بجائے ہلاکت کے ہدایت اور رحم کی دعا مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سچ فرماتا ہے : وَمَا اَرْسَلْنَاكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ (انبیاء رکوع 7)
(9)قبولیت دعا کے چند نمونے:
اور پھر وہ دعا جو آپؐنے دوس قبیلہ کیلئے کی تھی کوئی بناوٹ اور دکھلاوے کی دعا نہیں تھی بلکہ درد دل سے نکلی تھی اور اپنا اثر کر گئی۔اس دعا کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوس قبیلہ کے لوگ ہاں وہی لوگ جن کی ہلاکت کی دعا کیلئے ان کے سردار نے سفارش کی تھی آخر اسلام میں داخل ہو گئے اور آپؐکی دعا کو پورا کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔
(ب)اور یہی موقعہ نہ تھا کہ آپؐکی دعا اس طرح قبول ہوئی بلکہ بیشمار موقعوں پر آپ کی دعائوں سے ایسا ہی اثرظاہر ہوا ۔حضرت سعد ابن ابی وقاصؓکا واقعہ تو ابھی بیان ہو چکا ہے آپ نے دعا فرمائی کہ: امض لا صحابی ھجرتھم۔’’میرے اصحاب کی ہجرت پوری کر دے‘‘۔یعنے ایسا نہ ہو کہ ان کی وفات مکہ میں واقع ہو۔ اللہ تعالیٰ سعدؓکے حق میں جو مرنے کے قریب پہنچ گئے تھے آپ کی دعا کو قبول کیا اور سعد ؓ شفایاب ہو کے مدینہ پہنچ گئے۔
(ج)حضرت انس ؓفرماتے ہیں کہ میری والدہ ام سلیم ؓنےآنحضرت ﷺسے عرض کیا یا رسول اللہ یہ انس آپؐکا خادم ہے(حضرت انس رضی اللہ عنہ کو بچپن کے زمانہ میں ہی آنحضرت ﷺکی خدمت کیلئے دے دیا گیا )یہ سن کر آپؐنے حضرت انسؓکیلئے ان الفاظ میں دعا فرمائی:
اللھم اکثر مالہ وولدہ وبارک لہ فیما اعطیتہ۔یا اللہ اس کو بہت مال اور دولت اور اولاد دےاور جو تو اسکو عنایت فرمائے اس میں برکت دے۔
اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ حضرت انسؓبڑے مالدار اور صاحبِ جائیداد ہو گئے۔ تمام صحابہؓ سے زیادہ آپ کی اولاد ہوئی ایک سو بیس بیٹے بیٹیاں ان کے پیدا ہوئے۔ عمر کے متعلق مختلف روایات ہیں بعض کے نزدیک آپؓنے 99سال عمر پائی۔ بعض کے نزدیک 107،بعض کے نزدیک 130برس اور بعض کے نزدیک 140 برس۔ تمام صحابہ ؓمیں سب سے آخری انسان جو اس دنیا سے گزرا وہ حضرت انس ؓہی تھے۔
(د)حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار آنحضرت ﷺجمعہ کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک شخص کھڑا ہواکہنے لگا یا رسول اللہ دعا فرمایئے اللہ تعالیٰ ہم پر پانی برسائے۔ آپؐنے اسی وقت دعا کی نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً آسمان پر ابر آیاپانی برسنے لگا۔لوگوں کو گھر پہنچنا مشکل ہو گیا ۔اور دوسرے جمعہ تک یکساں بارش ہوتی رہی۔ پھر دوسرے جمعہ میں وہی شخص یا کوئی اور دوسرا شخص کھڑا ہوا کہنے لگا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمایئے یہ برسات موقوف کر دے ۔ ہم لوگ ڈوب گئے اس وقت آپؐنےیوں دعا کی یا اللہ ہمارے ارد گرد برسا ہم پر نہ برسا۔ اسی وقت ابر پھٹ کر مدینہ کے گرد گرد ہو گیا۔ اور مدینہ والوں پر بارش موقوف ہو گئی ۔
(10)مضمون تو لمبا ہو گیا ہے مگر میں آپ کی ایک چھوٹی سی دعا کے ذکر کے بغیر نہیں رہ سکتا۔آپؐنے مدینہ کیلئے دعا کی اللھم حبب الینا المدینۃ کما حببت الینا مکۃ او اشد ۔ ’’یا اللہ مدینہ سے ہم کو ایسی محبت دے جیسی تو نے مکہ سے دی ہے یا اس سے بھی زیادہ‘‘۔
آپؐکی اس دعا سے آپؐکی اس محبت کا اظہار ہوتا ہے جو آپؐکو اپنے وطن سے تھی۔مکہ میں آپؐکو اور آپؐکے متبعین کو 3 سال تک طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔ یہاںتک کہ آپؐکے لئے اور آپؐکے صحابہ ؓکیلئے زندگی محال ہو گئی اور آخر آپؐکے قتل کا منصوبہ کیا گیا۔اور وہاں سے لاچار ہو کر آپ کو بھاگنا پڑا۔ مگر پھر بھی اپنے وطن کی محبت آپ کے دل سے نہیں نکلی اور اسی لئے کہ آپؐکا اور آپ کے خدام مہاجرین کا دل مدینہ میں لگ جائے جہاں آپ نے آکر پناہ لی تھی۔آپؐکو دعا کرنے پڑی کہ مدینہ بھی ہمیں ایسا ہی پیارا ہوجائے جیسا کہ مکہ ہے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ مکہ سے ہجرت کے وقت بھی آپؐنے مکہ کی طرف آخری نظر ڈالی اور حسرت کے الفاظ میں فرمایا: اے مکہ کی بستی تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے ۔
اس محبت کا جو آنحضرت ﷺکو اپنے وطن سے تھی میں نے یہاں اس لئے ذکر کیا ہے کہ اس سے بھی آپ کی پاکیزہ فطرت کا پتہ لگتا ہے۔
(11)مجموعی نظر:
آپ کی دعائوں پر نظر ڈالنے سے جو مجموعی اثر ایک انسان کے دل پر پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر لحظہ اور ہر آن آپؐکی توجہ اپنے خدا کی طرف ہی تھی۔ آپؐرات کو سوتے ہوئے بھی اپنے خدا کو یاد کر کے سوتے تھےاور جب جاگتے تھے تو پہلا لفظ جو آپ کی زبان پر جاری ہوتا وہ خدا کا نام ہی ہوتا۔آپ ہر ایک کام کے وقت خدا تعالیٰ کو یاد کرتےاور اس سے دعا کرتے ۔سفر پر جاتے ہوئے خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ۔ سواری پر بیٹھتے ہوئے اپنے خدا کو یاد کرتے ۔سفر میں خدا کو یاد کرتے ۔ سفر سے واپسی پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اپنے شہر میں داخل ہوتے۔ آپ کسی بلندی پر نہ چڑھتے مگر آپ اپنے خدا تعالیٰ کی بڑائی کرتے ۔ آپؐکسی وادی میں نہ اترتےمگر خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے کہ وہ ہر نقص اور عیب سے پاک ہے اترتے ۔آپؐکھانا کھانے کے وقت خدا تعالیٰ کا نام لیکر دعا کرتے ۔ کھانے سے فارغ ہو کر دعا کرتے۔ کپڑا پہنتے ہوئے خدا کو یاد کرتے ۔ غرض کوئی موقعہ اور کوئی کام نہیں ہوتا تھا جب کہ آپؐاپنے خدا کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور موقع کے موافق اس سے دعا نہ کرتے۔خدا تعالیٰ ہی آپؐکے دل میں تھا۔ خدا تعالیٰ کا نام ہی آپؐکی زبان پر تھااور ہر طرف خدا تعالیٰ کی ہی عظمت اور شان آپ کو نظر آتی تھی۔ خدا تعالیٰ ہی آپؐکو سب چیزوں سے پیارا تھااور اسکی عظمت دنیا میں قائم کرنے کے لئے آپؐنے اپنی ہر ایک کوشش اورہر ایک طاقت خرچ کر دی ۔خدا کی یاد آپؐکی جان تھی۔ آپؐنے فرمایا جو خدا تعالیٰ کو یاد کرتا ہے وہ زندہ ہےاور جو خدا تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا وہ مردہ ہے۔ آپؐخدا تعالیٰ کی مخلوق سے رحم کا سلوک کرتے اور دوسروں کو بھی نرمی کی تلقین فرماتے ۔ چند یہودی آپؐکے پاس آتے ہیں وہ اپنی زبان کو بگاڑ کر بجائے السلام علیکم کےالسام علیکم کہتے ہیں جس میں آپؐکے لئے بددعا تھی۔ حضرت عائشہ ؓ سمجھ گئیں اور جواب دیا علیکم السام والعنت ۔ تم ہی پر سام (موت)اورلعنت پڑے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مھلا یا عائشۃ۔ان اللہ یحب الرفق فی الا مر کلہ۔اے عائشہ نرمی کرو اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی اور خوش اخلاقی کو پسند کرتا ہے۔
آپ خدا تعالیٰ کا جلال دنیا میں ظاہر کرنے کیلئے آئے۔ آپؐجب تک اس دنیا میں رہے اس کام میں مصروف رہے۔ آپؐدنیا میں رہتے تھے مگر دنیا سے کوئی رغبت نہ تھی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺحالت صحت میں فرماتے تھے کہ کوئی نبی اس دنیا سے نہیں اٹھایا جاتا جب تک کہ اختیار نہیں دیا جاتا کہ اگر چاہے تو اور دنیا میں رہے پھر جب آپ بیمار ہوئے اور موت آن پہنچی اس وقت آپؐکا مبارک سر میری گود میں تھا۔ آپؐایک گھڑی تک بیہوش رہے۔ اس کے بعد ہوشیار ہوئے تو اپنی نگاہ چھت کی طرف لگائی اور فرمایا: اللھم الرفیق الآعلٰی۔اےاللہ میں اپنے بلند رفیق کے پاس جانا چاہتا ہوں ۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا اذا لا یختارنا۔ آپ اب ہمارے پاس رہنا پسند نہیں فرمائیں گےاور اللھم الرفیق الآعلٰی آخری کلمہ تھا جو آپؐکی زبان مبارک سے نکلا۔ اللھم صل علیٰ محمدٍ وعلیٰ اٰل محمدٍ و بارک وسلم انک حمید مجید۔
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان 5 اپریل 1941)
…٭…٭…٭…