اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-08

عَدل و انصاف کے قیام کے متعلق رسُول کریم ﷺ کی تعلیم اور آپ کا مقدس اُسْوہ حسنہ

محکمۂ قضاء کا قیام
اسلامی نظامِ حکومت کے مختلف شعبوں میں سے ایک اہم ترین شعبہ محکمۂ قضا ہے جس کی داغ بیل رسول کریم ﷺنے اپنے مقدس ہاتھوں سے بے مثال رنگ میں ڈالی اور ایسے اُصول اور قوانین وضع فرمائے جو قیامت تک قائم رہنے والے ہیں اور جن پر عمل پَیرا ہو کر ظالم اپنے کیفر کردار کو پہنچ سکتا اور مظلوم اپنا حق حاصل کرسکتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث میں اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے ضروری امور کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے او ررسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اُسْوہ سے بتادیا ہے کہ مسلمانوں کو قیامِ عدل میں کیسا نمونہ دکھانا چاہئے۔ یہ امر ظاہر ہے کہ مقدمات میں مدعی اور اس کے گواہ اپنے مطالبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور قاضی یہ دیکھتا ہے کہ ان کا مطالبہ کہاں تک ثابت ہوتا ہے۔ اگر اس کے نزدیک ثبوت موجود ہو تو مدعا علیہ کے خلاف فیصلہ کردیا جاتا او ر داد خواہ کو اس کا حق دِلوایا جاتا ہے۔ گویا مدعی اور گواہ دونوں کا یہ کام ہے کہ وہ اپنا دعویٰ ثابت کریں اور قاضی کا یہ فرض ہے کہ وہ عدل و انصاف کی میزان میں اس کو جانچے اور جو بات قرینِ انصاف ہو اس کو عمل میں لائے۔ پس چُونکہ مدعی، گواہ اور قاضی الگ الگ فرائض انجام دیتے ہیں اس لئے اسلام نے اُصولی طور پر مدعی اور گواہ دونوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ سچائی اختیار کریں اور قاضی سے یہ کہا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے اور جانبدارانہ رنگ اختیار نہ کرے۔
قاضیوں کو ہدایت
چنانچہ قرآن کریم قاضیوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۔ یعنی جب تم لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کیا کرو او رقوم و مذہب کے امتیاز کے بغیر سب کو ایک نظر سے دیکھو۔
پھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝ ﴿المائدة: ۴۳﴾ جب تو لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرے تو انصاف کےساتھ فیصلہ کیا کر کیونکہ اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔
ایک اور مقام پر فرماتا ہے :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلہِ شُہَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ۝۰ۡوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡوَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝﴿المائدہ رکوع 2﴾ یعنی اے ایمان والو! تم خدا کی رضا کے لئے عدل اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجاؤ اور یاد رکھو کہ تمہیں کسی دُوسری قوم کی دُشمنی خلافِ عدل طریق پر آمادہ نہ کردے کیونکہ عدل ہی انسان کو تقویٰ کے مقام کی طرف لے جاتا ہے اور تقویٰ اللہ ایسی چیز ہے جس کا ہر مومن کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔
قاضیوں کےمتعلق اسلام کی اُصولی ہدایت جیسا کہ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا سے ظاہر ہے کہ قاضی نہایت لائق اور کام کے قابل ہونے چاہئیں۔ اس بارہ میں فقہاء نےاور بھی کئی شرائط بیان کئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ قاضی ایسا شخص ہونا چاہئے جس کی پرہیز گاری ، عقل و سمجھ، قرآن فہمی اور حدیث دانی وغیرہ پر لوگوں کو اعتماد ہو اور وہ شریعت کے غوامض کو سمجھنے والا ہو۔
گواہ کیسے ہوں
دُوسری طرف گواہوں کو اسلام سچائی کے ساتھ گواہی دینے کی ہدایت دیتا ہے او ریہ ضروری قرار دیتا ہے کہ گواہ ایسے ہونے چاہئیں جو معتبر ہوں۔ چنانچہ قرآن کریم میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاَشْہِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ کہ اپنے میں سے دو عادل لوگوں کو گواہ بنالو۔ اس سے ظاہر ہے کہ جن لوگوں میں عدالت اور ثقاہت کا وصف نہ پایا جاتا ہو انہیں حق شہادت حاصل نہیں۔ اس کی تصریح قرآن کریم کی ایک اور آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جو لوگ کسی مسلمان پر زنا کی تہمت لگا کر اسے ثابت نہ کرسکیں ان کی شہادت کسی مقدمہ میں قبول نہیں کرنی چاہئے۔ چنانچہ فرماتا ہے لا تقبلوا لھم شھادۃً ابدًا۔ ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔
رسول کریم ﷺبھی فرماتے ہیں لا تجوز شھادۃ خائن ولا خائنۃ ولا زانٍ ولا زانیۃٍ۔ خائن مرد او رخائنہ عورت۔ زانی مرد اور زانیہ عورت کی شہادت جائز نہیں۔اس طرح آپؐنے فرمایا کہ اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں جو دوسرے سے دُشمنی رکھتا ہو۔ نیز آپ نے نوکر کی شہادت اُس خاندان کے حق میں جس سے وہ تعلق رکھتا ہو تسلیم نہیں کی البتہ دُوسرے لوگوں کےمتعلق اسے جائز رکھّا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا ہے المسلمون عدولٌ بعضھم علٰی بعض الامحدودًا فی القذف یعنی تمام مسلمان شہادت دینے میں عادل ہیں سوائے اس کے جسے بہتان طرازی کی وجہ سے سزا دی گئی ہو اور اسی لئے فقہاء کہتے ہیں کہ قاضی کو صرف گواہوں کی ظاہری ثقاہت پر اکتفا کرنا چاہئے۔ اُن کے چال چلن کے متعلق مزید تحقیق نہیں کرنی چاہئے۔ مگر صحابہؓ کے دَور کے بعد جب اسلام میں ہر قسم کے لوگ داخل ہوگئے تو اس وقت قضاۃ اسلام گواہوں کے چال چلن کے بارہ میں بھی تحقیق کرلیا کرتے تھے جو ان کی احتیاط اور دُور اندیشی کا ثبوت تھا۔
شہادت کے بعض اُصول
شہادت کا عام اصل اسلام نے یہ مقرر کیا ہے کہ شاہد عاقل و بالغ ہو، ثقہ ہو، مسلمان ہو، قوتِ حافظہ اچھی رکھنے والا ہو اور پھر غیر مہتم ہو۔ شہادت اور ثبوت مدعی سے طلب کیا جائے۔ ورنہ مدعا علیہ سے قسم لی جائے۔بچوں اور کافروں کی شہادت کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ اکثریت اسی طرف گئی ہے کہ بچوں کی شہادت قبول کی جاسکتی ہے بشرطیکہ ان میں واقعہ کے سمجھنے کی صلاحیت پائی جاتی ہو۔ ان کی تعداد دو یا دو سے زیادہ ہو او ران کی شہادت میں اتفاق ہو۔ اسی طرح فقہاء نے اور بھی بعض شرائط ضروری قرار دی ہیں۔ کفار کی گواہی بھی بعض حالتوں میں درست سمجھی جاتی ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر کوئی مُسلمان حالتِ سفر میں ہو اور غریب الوطنی میں اسے موت آجائے اور اس جگہ کوئی مسلمان موجود نہ ہو تو وہ اپنی وصیت پر غیر مسلم لوگوں کو گواہ بنا سکتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَۃُ الْمَوْتِ یعنی جب کوئی مسلمان وفات کے قریب وصیت کرنے لگے تو عام قاعدہ یہی ہے کہ اُس وقت دو معتبر مسلمان گواہ ہونے چاہئیں۔ لیکن اگر تم سفر میں ہو اور وہیں یہ حادثہ پیش آجائے تو غیروں کو بھی گواہ بناسکتے ہو۔
قیافہ شناسوں کی شہادت
اسلام میں قیافہ شناسوں کی شہادت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے اور خود رسُول کریم ﷺنے اسے قبول فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت اسامہؓکے باپ زید گورے رنگ کے تھے۔ مگر وہ خود سیاہ تھے۔ اس لئے لوگوں کو ان کے نسب میں شُبہ تھا۔ ایک دن وہ دونوں ایک چادر سے سر ڈھانپ کر سوئے ہوئے تھے اور دونوں کے پاؤں کھلے تھے کہ اسی حالت میں ایک قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں چونکہ اس سے لوگوں کا عام اشتباہ دفع ہوجاتا تھا اس لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس شہادت پر بہت خوش ہوئے۔
اسلام میں عام طور پر اگر کسی معاملہ کے متعلق کم از کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں جیسا کہ وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَاۗءِسے ظاہر ہے تو شہادت کا نصاب پورا ہوجاتا ہے۔ گو رسول کریم ﷺنے بعض دفعہ مدعی سے حلف لے کر ایک گواہ کی شہادت پر بھی فیصلہ فرمایا ہے۔ لیکن بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں اس تعداد کو بڑھا دیا گیا ہے۔ مثلاً زنا کے اثبات کے لئے شریعت نے چار عینی گواہوں کی تعداد مقرر کی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دولت مند ہونے کے بعد دیوالیہ ہوجانے کا دعویٰ کرے تو جیسا کہ مسلم کی ایک حدیث سے ظاہر ہے اسے اثباتِ دعویٰ کےلئے کم از کم تین گواہ پیش کرنے ہوں گے۔
گواہی چھپانے کی ممانعت
گواہوں کو اسلام یہ بھی ہدایت دیتا ہے کہ لَا يَاْبَ الشُّہَدَاۗءُ اِذَا مَا دُعُوْا۔جب انہیں شہادت کے لئے طلب کیا جائے تو وہ حاضر عدالت ہونے سے انکار نہ کریں۔ اسی طرح فرماتا ہےوَلَا تَكْتُمُوا الشَّہَادَۃَ۝۰ۭ وَمَنْ يَّكْتُمْہَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ۝۰ۭ تم سچی گواہی نہ چھپاؤ۔ جو شخص سچی گواہی چھپاتا ہے اس کا دِل سیاہ ہوجاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ الا اخبرکم بخیر الشھداء الذی یاتی بشھادتہٖ قبل ان یسئا لھا یعنی بہترین گواہ وہ ہے جو شہادت طلب کرنے سے پہلے ہی اصل واقعہ کی حکام کو اطلاع دے دے۔
جرح کا حق
اسلام نے قاضی کو جَرح کا حق بھی دیا ہے او رواقعہ یہ ہے کہ جرح سے سچائی اور جھوٹ میں بہت جلد امتیاز ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کی روپوں کی تھیلی گم ہوگئی جسے کسی دوسرے نے اٹھا لیا۔ اب اسلام یہ کہتا ہے کہ وہ تھیلی اصل مالک کے حوالے کی جائے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کس کو دی جائے۔ اس کے متعلق رسول کریم ﷺنے فرمایا کہ جو شخص اس تھیلی کے صحیح اوصاف بیان کردے اسی کے حوالے کی جائے۔ یہ ایک اصول ہے جو رسول کریم ﷺ نے بیان فرما دیا اور جس کی روشنی میں قاضی کئی قِسم کے سوالات کرسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ تھیلی کا رنگ کیا تھا۔ وہ کپڑے کی تھی یا چمڑے کی اور اس میں کتنے روپئے تھے۔ غرض جرح سے بھی چونکہ حق و باطل میں امتیاز ہوتا ہے اس لئے اسلام نے اسے بھی ضروری قرار دیا ہے۔
قرائنِ قویّہ کی شہادَت
پھر کئی دفعہ قرائِنِ قویہ سے حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کو جب زلیخا نے ورغلانا چاہا اور اُن کی قمیص پھٹ گئی تو زلیخا کے خاندان میں سے ہی ایک شخص نے کہا کہ اگر یوسفؑ کا کُرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو زلیخا سچی ہے۔ اور اگر کُرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو زلیخا جھوٹی اور یوسف ؑسچے ہیں اور آخر اِسی قرینہ کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کو بَری سمجھا گیا۔
رسول کریم ﷺنے بھی مقدمات کے تصفیہ میں قرائن پر اعتماد کیا ہے۔ ایک دفعہ خیبر میں شرائطِ صلح کے مطابق یہودیوں کے مال و دولت کا بہت بڑا حصہ مسلمانوں کے قبضے میں آگیا لیکن ایک یہودی سے جب مال مانگا گیا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ لڑائی کے مصارف میں کام آگیا ہے۔ رسول کریم ﷺکو اعتبار نہ آیا کیونکہ مال کی مقدار زیادہ تھی او ر زمانہ خرچ کم تھا۔ آخر لوگوں نے شہادت دی کہ وہ ایک کھنڈر میں گھومتا ہوا دیکھا گیا ہے تحقیق کی گئی تو تمام مال اسی کھنڈر سے مل گیا۔
گواہوں کو سچ بولنے کی تلقین
یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ اسلام گواہوں کو سچ بولنے کی بڑی تاکید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي۔ اے لوگو! جب بھی تم کوئی بات کہو بالکل سچ کہو اگرچہ مقابلہ میں تمہارا کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ پھر مومنوں کی صفت بیان فرمائی کہ لَا يَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ۔وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ اسی طرح فرماتا ہے
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِکہ بتوں کی پلیدی اور جھُوٹ سے بچو۔
رسول کریم ﷺفرماتے ہیں کہ جس نے جھوٹی قسم کھا کر اپنے کسی بھائی کا مال لے لیا اُس نے اپنے اوپر دوزخ واجب کرلی۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ۔ اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ پیلو کے درخت کی ایک ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔
ایک دفعہ رسول کریم ﷺنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہ نہ بتلاؤں۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ضرور بتائیے۔ آپؐنے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کِسی کو شریک ٹھہرانا۔ اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت آپؐتکیہ لگائے بیٹھے تھے یہ کہہ کر اُٹھ بیٹھے اور فرمایا اور جھُوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ اور اس آخری فقرہ کو آپ نے بہت دفعہ دوہرایا اور بار بار ڈرایا کہ جھوٹی گواہی دینا بہت بڑا جُرم ہے۔ غرض اسلام صداقت پر بہت زور دیتا اور اسے ملحوظ رکھنا ہر وقت ضروری قرار دیتا ہے۔
رشوت کی حرمت
پھر اسلام نے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے عدل و انصاف میں روکاوٹ ڈالنے والے تمام اُمور کی قطعاً ممانعت کردی ہے۔سمثلاً انصاف میں سب سے بڑی روک رشوت ہوتی ہے۔ اسلام اس سے کھلے طور پر روکتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔کہ اپنے مال کو ناجائز طور پر نہ کھاؤ۔ اور اُسے حکّام تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ تاکہ لوگوں کے حقوق تم خورد بُرد کرجاؤ۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ راشی اور مرتشی دونوں پر رسُول کریم ﷺنے لعنت ڈالی ہے۔ فقہاء نے قاضیوں پر اور بھی کئی قسم کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ مثلاً ان کے نزدیک قاضی کِسی فریق کے ہاں مخصوص دعوت نہیں کھا سکتا۔ اسی طرح اسے اگر کوئی شخص ہدیہ بھیجے تو اسے واپس کردینا چاہئے۔ اپنے اعزاء و اقارب کا ہدیہ گو وہ قبول کرسکتا ہے لیکن جب ان کا مقدمہ اس کے پاس ہو تو ان کا ہدیہ بھی اسے قبول نہیں کرنا چاہئے۔
غصّہ کی حالت میں فیصلہ نہ کیا جائے
پھر رشوت کے علاوہ بعض لوگ جذبات سے بھی متاثر ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ انصاف تک نہیں پہونچ سکتے۔ رسول کریم ﷺنے اس سے بھی روکا ہے اور فرمایا ہے کہ
لَا یَحْکُمْ اَحَدٌبَیْنَ اثْنَیْنِ وَ ھُوَ غَضْبَانُ کہ قاضی غصّے کی حالت میں فیصلہ نہ لکھّے کیونکہ ایسی حالت میں بالکل ممکن ہے کہ اس کی نگاہ انصاف تک نہ پہنچے۔
اسی طرح کسی فریق کی آہ وزاری سے بھی قاضی کو متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے ثبوت میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے عشاء کے وقت روتے ہوئے اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس آئے تھے حالانکہ وہ خود مجرم تھے۔
عہدۂ قضا کی ذمّہ واری
درحقیقت قاضی بننا کوئی آسان کام نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہوتا ہے اور قاضی کا فرض ہوتا ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں سے یکساں سلوک کرے اور کسی بڑے آدمی کی وجاہت کے پیش نظر دورانِ مقدمہ میں اس کے لئے کوئی امتیاز قائم نہ کرے۔ اسی وجہ سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ دو قسم کے قاضی تو جہنم میں جائیں گے او رایک جنت میں۔ جنت میں جانے والا قاضی وہ ہے جس نے حق کو سمجھ کر فیصلہ کیا۔ مگر جس قاضی نے ظالمانہ فیصلہ کیا یا بغیر تحقیق کئے فیصلہ صادر کردیا وہ دونوں سزا پائیں گے۔
فیصلہ کو بخوشی تسلیم کرنا چاہئے
اسلام شعبۂ قضا کے بارہ میں ایک اور ہدایت یہ دیتا ہے کہ جب کوئی قاضی فیصلہ کردے تو گو وہ اپنے فیصلوں میں غلطی بھی کرسکتا ہے مگر بہرحال لوگوں کا فرض ہے کہ اس کے فیصلہ کو قبول کریں۔ اگر اپیل کی گنجائش ہو تو حاکم اعلیٰ کے پاس اپیل کی جاسکتی ہے اور بڑی عدالت چھوٹی عدالت کے فیصلہ کو منسوُخ کرسکتی ہے۔ جیسا کہ سنن نسائی کتاب آداب القضاء باب نقض الحاکم ما یحکم بہ غیرہ ممّن ھو مثلہ سے ظاہر ہے۔ مگر کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ قاضی کے فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کرے۔ اور اس طرح قوم میں بے چینی پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِــــيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا۔ کہ لوگ کبھی کامل مومن نہیں بن سکتے جب تک اپنے اختلافی معاملات کے بارہ میں نظام کے فیصلہ کو شرح صدر سے قبول نہ کریں اور اس کے متعلق دل میں کسی قسم کا انقباض نہ رکھیں۔
اس آیت میں گو رسول کریم ﷺکو مخاطب کیا گیا ہے۔ مگر ایسے احکام جو نظام سے تعلق رکھتے ہیں وہ رسول کریم ﷺکی ذات سے مخصوص نہیں بلکہ قیامت تک مسلمانوں کے لئے واجب العمل ہیں۔ پس اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ قضاء کے فیصلوں کو لوگ شرح صدر سے قبول کریں اور نظام کا احترام کریں۔
رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ
یہ اسلام کی اس تعلیم کا ایک نہایت ہی مجمل اور نامکمل خاکہ ہے جو اُس نے قضاء کے بارہ میں پیش کی۔ اب اس بارہ میں رسول کریم ﷺکا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔
رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لے گئے تو چونکہ مسلمانوں کے علاوہ وہاں بُت پرست اور یہود بھی تھے علاوہ ازیں منافقین کا بھی ایک عنصر موجود تھا، اس لئے رسول کریم ﷺنے ضروری سمجھا کہ آپس میں مل کر ایک معاہدہ طے کرلیا جائے۔ منافقین چونکہ اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے تھے، گو اندرونی طور پر مخالف تھے، اس لئے وہ مجبور تھے کہ ظاہری طور پر آنحضرت ﷺکی حکومت اپنے اوپر تسلیم کریں۔ بُت پرست چونکہ کم تھے اس لئے سیاسی طور پر وہ بھی اس بات کی ضرورت محسوس کرتے تھے کہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہیں۔ صرف یہود آزاد اور خود مختار تھے جن کی طرف سے نقض امن کا خطرہ ہوسکتا تھا، اس لئے آپؐنے مناسب سمجھا کہ شہر کے امن اور مختلف اقوام کے باشندوں کی حفاظت کے لئے ایک معاہدہ ہوجائے۔ چنانچہ یہ معاہدہ طے پاگیا۔ اس کی کئی شرائط تھیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ ہر قسم کے اختلافات اور تنازعات رسول اللہ ﷺکے سامنے فیصلہ کے لئے پیش ہوں گے اور ہر فیصلہ خدائی حکم یعنی ہر قوم کی اپنی شریعت کے مطابق کیا جائے گا۔ اس معاہدہ کی وجہ سے آنحضرت ﷺکو مدینہ میں ایک انتظامی حاکم یا بین الاقوام قاضی کی حیثیت حاصل ہوگئی اور اہم مقدمات آپؐکے سامنے پیش ہونے لگ گئے۔ جن میں آپؐہر قوم کے ضابطہ اور قانون کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ روایت ہے کہ ۰۴ ؁ ہجری کے آخر میں آپ کے سامنے ایک یہودی مرد و عورت کا مقدمہ پیش ہوا جس میں ان کے خلاف زنا کا الزام ثابت تھا۔ رسول کریم ﷺنے یہودی علماء سے پوچھا کہ تمہاری شریعت کا اس بارہ میں کیا فیصلہ ہے۔ انہوں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ جو شخص زنا کرے ہمارے ہاں اس کی یہ سزا ہے کہ اس کا مونہہ کالا کیا جائے اور سواری پر الٹا سوار کرکے شہر میں پھرایا جائے۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن سلام بھی موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ غلط کہتے ہیں۔ تورات میں اس جُرم کی سزا سنگساری لکھی ہے۔ چنانچہ تورات منگائی گئی۔ یہودیوں نے سنگساری والی آیت پر ہاتھ رکھ کر اسے چھپانا چاہا مگر عبداللہ بن سلام نے دکھا دیا کہ از روئے تورات اس جُرم کی سزا سنگساری ہے اور چونکہ معاہدہ یہی تھا کہ ہر قوم کے مقدمات کا اس کے اپنے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا اس لئے آپ نے فیصلہ فرمایا کہ یہودی شریعت کے مطابق ان دونوں کو سنگسار کردیا جائے۔ چنانچہ وہ دونوں سنگسار کردئیے گئے۔
بنو نضیر کے متعلق فیصلہ
رسول کریم ﷺکی سیرتِ طیبہ کا یہ ایک نہایت ہی درخشاں پہلو ہے کہ آپ قضا میں مسلم اور غیر مسلم کے حقوق کو مساوی سمجھتے تھے اور اگر کسی معاملہ میں مسلمان غلطی پر ہوتے تو ان کے خلاف فیصلہ صادر فرماتے۔ چنانچہ بنونضیر جب مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو بعض انصار نے ان لوگوں کو ان کے ساتھ جانے سے روکنا چاہا جو تھے تو انصار کی اولاد میں سے مگر ان کی سنت ماننے کے نتیجہ میں وہ یہودی ہوچکے تھے او ربنو نضیر چاہتے تھے کہ اُن کو اپنے ساتھ لے جائیں۔ چونکہ انصار کا یہ مطالبہ قرآنی ارشاد لا اکراہ فی الدین کے خلاف تھا اس لئے رسول کریم ﷺکے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے مسلمانوں کے خلاف اور یہود کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا کہ جو شخص یہودی ہے اور جانا چاہتا ہے مسلمان اسے نہیں روک سکتے۔
چوری کا واقعہ
ایک دفعہ بنی مخزوم کی ایک عورت فاطمہ بنت اسد نے چوری کی اور وہ رسول کریم ﷺکے سامنے پیش کی گئی۔ قریش کو خوف پیدا ہوا کہ آپ عام لوگوں کی طرح اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم نہ دیدیں۔ مگر ان میں یہ جُرأت نہیں تھی کہ رسول کریم ﷺسے اس بارہ میں کچھ عرض کرسکیں۔ آخر انہوں نے اس غرض کے لئے اسامہ بن زید کو تجویز کیا۔ کیونکہ رسولِ کریمﷺان سے بہت محبت رکھتے تھے اور انہوں نے سمجھا کہ اگر اسامہ نے سفارش کی تو رسول کریم ﷺقبول فرمالیں گے۔ مگر جب اسامہ نے آپؐسے ذکر کیا تو حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم ﷺنے ان کی سفارش کو رد کردیا اور فرمایا بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ جب اُن میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور اگر غریب چوری کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے۔ یہی وجہ ان کی ہلاکت کی ہوئی۔ مگر میں قضا کے معاملہ میں کسی کا لحاظ نہیں کرسکتا۔ خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں۔
اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ قضاء کے معا ملہ میں بڑے اور چھوٹے میں کوئی امتیاز نہیں فرماتے تھے۔ اس حدیث سے یہ امر بھی مستنبط ہوتا ہے کہ حکام کے پاس ایسے معاملات میں کسی کو سفارش نہیں کرنی چاہئے۔ اور اگر کوئی شخص غلطی سے سفارش کردے تو قاضی کا فرض ہے کہ سفارش کو رد کردے اور وہی فیصلہ کرے جو اس کے نزدیک درست ہو۔
ابوالعاص کی گرفتاری
جنگِ بدر میں جہاں قریش کے اور سردار گرفتار ہوئے وہاں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے داماد ابوالعاص بھی گرفتار ہو کر آئے اور تمام قیدیوں کے ساتھ انہیں بھی رکھا گیا۔ ان کے پاس فدیہ ادا کرنے کے لئے مال نہیں تھا۔ اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ گھر سے منگا کر دو۔ انہوں نے اپنی بیوی رسول کریم ﷺکی بیٹی حضرت زینب کو پیغام بھیجا۔ انہوں نے بطور فدیہ ایک ہار بھجوادیا جو دراصل حضرت خدیجہ کا تھا اور انہوں نے جہیز میں حضرت زینبؓکو دیا تھا۔ جب وہ ہار رسول کریم ﷺکے سامنے پیش کیا گیا تو آپ کو حضرت خدیجہ ؓ یاد آ گئیں اور بے اختیار آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ آپ چاہتے تو بغیر فدیہ کے بھی ابوالعاص کو رہا کرسکتے تھے۔ مگر آپ نے یہ معاملہ مسلمانوں کے سامنے رکھا اور فرمایا اگر تم پسند کرو تو زینبؓکو اس کی ماں کی یہ یادگار واپس کردی جائے۔ سب نے خوشی سے اسے پسند کیا اور اس کے بعد ابوالعاص کو رہا کیا گیا۔
ابو جندل کی حمایت کرنے سے
رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انکار
حدیبیہ کے مقام پر جب مسلمانوں اور کفّار کے درمیان معاہدہ ہوا تو اس کی ایک شرط یہ قرار پائی کہ اگر کوئی شخص مکّہ سے بھاگ کر اور مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس جائے گا تو وہ واپس کردیا جائے گا۔ مگر مسلمانوں میں سے جو شخص مرتد ہوکر مکّہ آئے گا وہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ابھی طے ہی ہو اتھا کہ عین اسی وقت ایک مسلمان ابوجندل نامی جنہیں کفّار مکّہ نے قید کررکھا تھا قید سے بھاگ کر مسلمانوں سے آملے۔ اس وقت ان کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی تھیں اور بدن پر اتنے زخم تھے کہ تمام جسم چُور چُور تھا۔ وہ مسلمانوں سے آکر کہنے لگے خدارا مجھے کفّار کی قید سے نکالو اور اپنے ساتھ لے چلو۔ اس وقت رسول کریم ﷺکے ساتھ 14 سو مسلّح سپاہی تھے اور آپ کے ایک اشارہ پر ابوجندل کو رہائی مل سکتی تھی۔ خود مسلمان اپنے بھائی کی یہ حالت دیکھ کر بے تاب ہورہے تھے۔ مگر رسول کریم ﷺنے ابوجندل کو اپنی حمایت میں لینے سے انکار کردیا اور فرمایا کفّار سے یہ شرط ہوچکی ہے کہ مکّہ والوں میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا اسے واپس کردیا جائے گا۔ ابوجندل نے فریاد کرتے ہوئے عرض کیا، کیا آپؐمجھے ان ظالموں کے حوالے کررہے ہیں۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دِل میں بھی درد تھا مگر آپؐنے فرمایا ابو جندل صبر کرو اور ضبط سے کام لو۔ ہم بدعہدی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری رہائی کی کوئی اور صُورت پیدا کردے گا۔
ایک مسلمان کو قتل کی سزا
اسی طرح رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں ایک مسلمان نے کسی ذمی کو قتل کردیا۔ جب یہ مقدمہ رسول کریم ﷺکے سامنے پیش ہوا تو آپ نے اس مسلمان کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا انا احق من اوفٰی بذمتہٖ یعنی اس کے ذمّہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حقدار میں ہوں۔
(عنایہ شرح ہدایہ جلد ۸ ص ۲۵۶ )
عہد کا احترام
ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک غزوہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ میں آپ کو دو آدمی ملے۔ اس وقت ایک ایک آدمی کی سخت ضرورت تھی۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کس طرح آئے ہو۔ انہوں نے عرض کیا ہم اسلام قبول کرنے کے لئے مکّہ سے آئے ہیں مگر وہاں ہم یہ کہہ آئے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کے لئے نہیں جارہے۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جب تم ان سے یہ کہہ آئے ہو تو ہمارے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہو کیونکہ اس طرح وعدہ خلافی ہوگی۔
حضرت عباسؓکی قید
جنگ بدر میں رسول کریم ﷺکے چچا حضرت عباس بھی قید ہوگئے۔ مسلمانوں نے انہیں دوسرے قیدیوں کے ساتھ ہی رسیوں سے جکڑ لیا۔ اس زمانہ میں چونکہ ایسے سامان نہیں تھےجن سے قیدیوں کے بھاگنے کی روک تھام کی جاسکے۔ اس لئے قیدیوں کو رسیوں سے خوب مضبوطی سے باندھ دیا جاتا تھا۔ حضرت عباس بھی جکڑ لئے گئے۔ مگر چونکہ وہ ناز و نعم میں پلے ہوئے تھے اس لئے تکلیف کی تاب نہ لاکر کراہنے لگ گئے۔ ان کی آواز سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سخت تکلیف ہوئی اور صحابہ نے دیکھا کہ آپ کبھی ایک پہلو بدلتے ہیں اور کبھی دوسرا۔ وہ سمجھ گئے کہ آپ کی اس بے چینی کا باعث حضرت عباس کا کراہنا ہے۔ اس پر انہوں نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کردیں۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کو ان کے کراہنے کی آواز نہ آئی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ عباس کی آواز کیوں بند ہوگئی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی تکلیف دیکھ کر ہم نے ان کی رسیاں ڈھیلی کردی ہیں۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا یا تو سب قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کردو۔ ورنہ ان کی بھی سخت کردو۔ گویا آپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ میرے رشتہ دار کی رسیاں تو ڈھیلی کردی جائیں اور باقی لوگوں کی رسیاں اسی طرح مضبوطی سے بندھی رہیں بلکہ آپ نے فرمایا کہ سب سے یکساں سلوک کرو۔
حضرت ابوبکرؓکی ایک یہودی سے گفتگو
ایک دفعہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک یہودی سے گفتگو ہوئی۔ دوران گفتگو میں یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر فضیلت دی۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ کو غصہ آگیا اور آپ نے اس سے سختی کی مگر جب یہ بات رسول کریم ﷺکو معلوم ہوئی تو آپ حضرت ابوبکرؓسے ناراض ہوئے اور آپ نے فرمایا آپ کا حق نہ تھا کہ اس طرح اس یہودی سے جھگڑتے۔
مرض الموت میں
رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کاارشاد
پھر رسول کریم ﷺکو عدل و انصاف کے قیام کا اس قدر خیال تھا کہ مرض الموت میں آپ نے صحابہ سے فرمایا دیکھو میں بھی ایک انسان ہوں جس طرح تم انسان ہو۔مجھے ہمیشہ تم سے معاملات پیش آتے رہے ہیں۔ ممکن ہے کبھی میرے ہاتھ سے کسی کو کوئی تکلیف پہونچی ہو۔ میں نہیں چاہتا کہ قیامت کے دن خدا کے سامنے مجھے جواب دہ ہونا پڑے۔ پس جس شخص کو میرے ہاتھ سے کوئی تکلیف پہونچی ہو وہ آج مجھ سے بدلہ لے لے۔ صحابہ پر ان فقرات کاایسا اثر ہوا کہ وہ رونے لگ گئے۔ ان کے وہم اور خیال میں بھی یہ نہیں آسکتا تھا کہ آپ کے ہاتھ سے کسی کو اذیت پہونچی ہو۔ مگر اسی دوران میں ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا یا رسول اللہ آپ ایک جنگ کے موقعہ پر صف بندی کررہے تھے کہ ایک صف سے گزر کر آپ کو آگے جانے کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت آپ جب صف کو چیر کر آگے گئے تو آپ کی کہنی میری پیٹھ کو لگی تھی۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا بہت اچھّا لو میں بیٹھا ہوں۔ تم میری پیٹھ پر کہنی مارلو۔ صحابہ کی کیفیت الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی۔ ان کی تلواریں میانوں سے نکل نکل پڑتی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ اس شخص کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے رعب کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ یہ سن کر وہ شخص پھر بولا اور کہنے لگا جس وقت مجھے آپ کی کہنی لگی تھی میرا جسم ننگا تھا۔ پس بدلہ پورا نہیں ہوسکتا جب تک آپ کے جسم پر سے بھی کرتہ نہ اتارا جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فوراً اپنی پیٹھ پر سے کرتہ اونچا کردیا اور فرمایا لو اب کہنی مارلو۔ ہر شخص اس وقت غصّہ سے بید کی طرح کانپ رہا تھا۔ مگر اس شخص کے ثبات میں کچھ فرق نہ آیا۔ وہ رسول کریم ﷺکے پاس آیا۔ آپ کی پیٹھ کی طرف جھکا اور اس نے آپ کی ننگی پیٹھ پر محبت سے بوسہ دیا۔ پھر وہ کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ کجا بدلہ اور کجا یہ خادم۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اب حضور کا آخری وقت قریب ہے تو میں نے چاہا کہ میرے ہونٹ ایک دفعہ آپ کے بابرکت جسم کو مس کرلیں۔ پس میں نے اس کہنی کے لگنے کو اپنے مقصد کے پُورا کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جس کا لگنا میرے لئے اس وقت بھی باعثِ فخر تھا اور آج بھی میرے لئے باعث فخر ہے۔
یہ ہے وہ پاک وجود جسے خدا نے دُنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا اور جس نے اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں بھی عدل وانصاف کو ملحوظ رکھا۔ اللھم صلی علٰی محمد و علٰی اٰل محمد و بارک و سلم انک حمید مجید۔
(ماخوذ از الفضل قادیان دارالامان مورخہ 27 مارچ 1942ء)
…٭…٭…٭…