اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-08

صحابیات رسولﷺ کی عدیم المثال قربانیاں ( مکرمہ امتہ الوسیع شمائلہ صاحبہ نائب صدراوّل لجنہ اماء اللہ بھارت)

قابل احترام صدر صاحبہ اور معزز سامعات!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج کی اس بابرکت مجلس میں خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے :
’’صحابیاتِ رسول ﷺکی عدیم المثال قربانیاں‘‘
الله تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَہُوَمُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّہٗ حَيٰوۃً طَيِّبَۃً۝۰ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۹۷ (النحل: 98)
یعنی مرد یا عورت میں سے جو بھی نیکیاں بجالائے بشر طیکہ وہ مومن ہو تو اسے ہم یقینا ایک حیات طیبہ کی صورت میں زندہ کر دیں گے اور انہیں ضرور ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کےمطابق دیں گے جو وہ کرتے رہے۔
اسی طرح حدیث شریف ہے:۔
حضرت عمر بن خطابؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
میں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تو اللہ تعالی نے میری طرف وحی کی۔ اے محمد ! تیرے صحابہ کا میرے نزدیک ایسا مرتبہ ہے جیسے آسمان میں ستارے ہیں۔ بعض بعض سے روشن تر ہیں لیکن نور ہر ایک میں موجود ہے۔ پس جس نے تیرے کسی صحابی کی پیروی کی میرے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا ۔ حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ حضورؐنے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی بھی تم اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ ( مشکوٰۃ کتاب المناقب مناقب الصحابہ)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’قرآن کریم سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مذہب کی تاریخ میں عورت کا بڑا مقام ہے اور عورت کے قابل تعریف کاموں کی اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے اور بیان فرمایا ہے اور انہی قابل تعریف اور اہم کاموں کی وجہ سے عورت کو ان انعامات میں حصہ دار بنایا گیا ہے جن کاموں کی وجہ سے مرد اس کے اجر کے حقدار ٹھہرائے گئے ہیں یا نوازے گئے ہیں۔‘‘
(خطاب مستورات بر موقع جلسہ سالانہ جر منی 2018ء)
سامعات ! ان احکامات کی پابندی کرنے کے لئے ہم عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ صحابیاتؓکی سیرت اور ان کی پاکیزہ زندگی کی عظیم قربانیوں کے واقعات کو دوہراتے رہیں تا کہ ہمارے سامنے ہر وقت ان روشن نمونوں کی یاد تازہ رہے اور ہمارے ایمانوں کو جلاء ملتی رہے اور ہمارے اور ہماری اولادوں کے اندر وہ جوش و جزبہ اور دین سے محبت پیدا ہو کہ ہم اسلام کی خاطر اپنی جان، مال ، وقت اور اولاد کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں ۔
آنحضرتﷺ کی صحابیاتؓکی زندگی کا مطالعہ کرنے سے انکی دین اسلام کی خاطر ایسی ایسی قربانیوں کی مثالیں نظر آتی ہیں جن کی نظیر کسی مذہب میں نظر نہیں آتی۔ کہیں مالی قربانی کی درخشاں مثال ہے کہیں جذبات کی قربانی ہے کہیں جانیں پیش ہورہی ہیں کہیں اولاد کو نصیحت کی ہے کہ اگر پیٹھ دکھائی تو قیامت کے دن دودھ نہ بخشونگی۔
اس طرح کے بے شمار ایمان افروز نظارے ہیں آسمانِ اسلام پر یہ صحابیاتؓسروشن ستاروں کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہیں۔ صحابیاتِ رسول ﷺکی عدیم المثال قربانیاں ایک طویل سلسلہ ہے ۔ چند منٹ کی ایک تقریر میں ان تمام کا تذکرہ بہت مشکل امر ہے ۔ آج چند صحابیات کی قربانیوں کا ذکر کروں گی ۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ وفاداری، عقیدت اور محبت کی حیرت انگیز مثالیں قائم کیں ۔ دین کیلئے قربانیاں پیش کیں ، تکالیف برداشت کیں اور محاذ ِجنگ پر مختلف خدمات سرانجام دیں ۔
سامعات ! سب سے پہلے اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر کروں گی جن کو ہر قسم کی قربانی میں اوّلیت کا مقام حاصل ہے ۔
چالیس سال کی عمر میں آنحضرت ﷺسے شادی ہوئی۔ اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں پایا ہو اسارا سرمایہ جسے خود محنت کر کے بڑھایا تھا نبی کریم ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا کیونکہ آپؓکے دل نے حق الیقین کے ساتھ یہ گواہی دی تھی کہ میراساتھی قابلِ اعتماد اور مخلص ہے۔ یہ بہت بڑی قربانی تھی۔ اس سرمائے نے اسلام کی مضبوطی میں اہم کر دار ادا کیا۔ دنیانے آنحضرت ﷺ کے حسین کر دار کا یہ رخ دیکھا کہ آپؐکو دولت کی کوئی لالچ نہیں اور وہ غرباءو مساکین کے ہمدرد ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرنے سے آپؐکے انسانی حقوق کی پاسداری کا جذ بہ عیاں ہوا۔ ایک خاتون کی قربانی بہت رنگ لائی جس کی تصدیق خود رسول اللہ ﷺنے فرمائی آپؐکا ایک قول شاہد ہے فرمایا :
خدیجہ ؓنے اُس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب باقی لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ملی۔
(مسند احمد جلد 6 صفحہ 118)
اپنے شوہر کا عبادت میں شغف دیکھا تو حارج نہیں ہو ئیں بلکہ معاون ہو کر دل و جان سے خدمت میں لگ گئیں۔ غار حراکی تنہائی میں عبادت کے زمانے میں آپؓکم و بیش پچپن سال کی ہوں گی ۔ خود آپؐکے لئے کھانا تیار کر کے دیتیں اور کبھی زیادہ دن بھی ہو جاتے تو خود کھانا لے کر غار حرا میں جاتیں، غار حرا کے سنگلاخ رستے اور بلندی کو ذہن میں رکھ کر اس عظیم خاتون کی قربانی کا اندازہ لگائیے ۔ یہ اتنا بڑا کام تھا کہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بھی تحسین کا پیغام آیا۔ حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے اور فرمایا:
’’یار سول اللہ ! یہ حضرت خدیجہؓ ایک برتن لئے آرہی ہیں جس میں سالن کھانا یا پینے کی کوئی چیز ہے جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہئے اور جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دیجئے جس میں کوئی شور و شغب یا تھکان نہ ہو گی۔“
(صحیح مسلم کتاب الفضائل الصحابہ باب فضل خديجہؓ)
جب آنحضرت ﷺ کو منصب نبوت عطا ہوا اس وقت دونوں کی رفاقت کو پندرہ سال ہو گئے تھے۔ فکری ہم آہنگی دیکھئے کہ اس اولو العزم خاتون نے آپؐکی تائیدمیں ایسا جملہ کہا جو آپؓکے اسوئہ حسنہ کا آئینہ دار بنا۔آپؓنے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ کبھی آپؐکو رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپؐرشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے اور سچی بات کہتے ہیں۔ آپؐلوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیںاور مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ایسے اخلاقِ فاضلہ رکھنے والے انسان کو کیا خطرہ ہو سکتاہے۔‘‘
(بخاری کتاب بدء الوحی)
اسلام اور بانی اسلام کی مخالفت کا زور و شور آپؓنے دیکھا۔7 نبوی میں قریش نے اسلام کی تباہی کے لئے جب یہ تدبیر سوچی کہ محمد (ﷺ) اور آپؐکے خاندان کو شعب ابی طالب میں محصور کیا جائے۔ ان محصورین میںحضرت محمدؐ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ بھی شامل تھیں۔ تین سال کا یہ عرصہ مسلسل قربانیوں میں گزرا۔ کھلے آسمان تلے بھوک، پیاس، موسم کی شد تیں، عزیزوں سے جدائی اور بہت کچھ سہا۔ پر رسولِ خدا کا ساتھ نہ چھوڑا ۔ مگر فاقوں نے اپنا اثر دکھایا اور ان ایام کرب و بلا کی تاب نہ لا کر آپؐکی یہ وفا شعار بیوی انتقال فرما گئیں ۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن - آنحضرتؐاُمّ المومنین حضرت خدیجہؓ کی جدائی کا غم عمر بھر نہیں بھلا سکے ۔ آپؓکس قدر خوش قسمت خاتون تھیں جن کے بارے میں آپؐنے ارشاد فرمایا:
’’ خدیجہ ؓسے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ مجھ پر اُس وقت ایمان لائی تھی جب ساری دنیا میرا انکار کر رہی تھی اور اُس نے اس وقت میری تصدیق کی جب ساری دنیا مجھے جھٹلارہی تھی اور اُس وقت اس نے اپنے مال کے ساتھ میری ہمدردی اور خیر خواہی کی جب تمام لوگ مجھے چھوڑ چکے تھے۔ اے عائشہ! میں کیا کروں خدیجہؓکی محبت تو مجھے پلا دی گئی ہے اور میرے دل میںبٹھا دی گئی ہے۔‘‘
(مسلم کتاب الفضائل باب فضل خدیجہؓ)
محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کے الفاظ میں آپؓکو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ فرماتے ہیں:
اُمّ المومنین حضرت خدیجہؓ! آج اس دنیا میں موجود نہیں اور آپ کی قبر کے آثار بھی معدوم ہو چکے ہیں۔ مگر آپکا کام اور نام دونوں زندئہ جاوید ہیں اسی طرح آنحضرتؐکے مبارک ہونٹوں سے نکلے ہوئے تعریفی کلمات بھی فضائے بسیط سے مٹ نہیں سکتے ۔ وہ یقیناً ہر عاشقِ رسول ؐکے دل و دماغ میں محفوظ ہیں اور حشر تک گونجتے رہینگے ۔ حضرت خدیجہؓ جلال اور تقدس کے ابدی تخت پر بیٹھنے والے زندہ رسول اور نبیوں کے شہنشاہ محمد مصطفیٰﷺ کی اوّلین رفیقئہ حیات ہونیکی حیثیت سے یقیناً ملکہ دو جہاں ہیں۔
ربّ ِ محمد ؐکی قسم ! دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت نہ تو آپ کا یہ روحانی تاج چھین سکتی ہے اور نہ آپؓکی آسمانی بادشاہت پر کبھی زوال آسکتا ہے۔ اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیَّدْنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی أزْوَاجِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد ۔
دوسرا ذکر آنحضرت ﷺکی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہؓ کا ہے ۔ آنحضرت ﷺکو خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ کی تصویر ریشمی رومال میں لپٹی ہوئی دکھائی ۔ حضرت عائشہؓ نے اپنی زندگی کے کم و بیش صرف نو سال آنحضرتﷺ کے ساتھ گزارے۔ ان چند سالوں کا لمحہ لمحہ حضرت عائشہ ؓنے آپؐسے دین سیکھنے اور آپؐکی حرکات وسکنات کو بغور مشاہدہ کرنے میں گزارا اور اس قدر دین سیکھ لیا کہ آپؓکا شمار مُجْتَھِدِیْن صحابہ میں ہوتا ہے۔
جامعہ ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ ہم کو کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی جس کو ہم نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا ہو اور ان کے پاس اس کے متعلق کچھ معلومات نہ ملی ہوں ۔ حضرت عائشہؓ باوجود اس کے کہ کم عمری میں آنحضرت ﷺ کی زوجیت میں آئیں ۔ آنحضرتﷺ کا پوری طرح ساتھ دیا۔ آنحضرتؐزاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ کئی کئی دن گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ مٹی کا بنا ہوا گھر تھا۔ حضرت عائشہؓ گھر کا سارا کام کرتیں چکی پیستیں۔ آٹا گوندھتیں۔ کھانا تیار کرتیں۔ آنحضرتﷺ کا بستر ہمیشہ اپنے ہاتھ سے بچھاتیں۔ سرہانے پانی اور مسواک رکھتیں۔ آپؓفرماتی ہیں کہ ہم میں سے ہر زوجہ کے پاس ایک جوڑا کپڑے کے علاوہ اور کپڑا نہیں ہوتا تھا۔ آپ غزوات میں بھی آنحضرت ﷺکے ساتھ شریک ہوا کرتیں اور زخمیوں کو پانی پلانے کا کام کرتیں۔
جب فتوحات کا دور شروع ہو گیا اور مالِ غنیمت کافی آنے لگا تو ازواجؓنے بھی نفقہ میں اضافے کا تقاضاکردیا۔آنحضرتﷺ کونا گوار ہوا اور آپؐنے ایک ماہ کے لئے تمام بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ جب ایلاء کی مدت ختم ہوئی تو آنحضرت ﷺسب سے پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لائے اور اللہ کا حکم سورۃ الاحزاب کی آیات 28۔29سنا ئیں جن کا ترجمہ یہ ہے :
اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ اگر تم دنیا اور اسکی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیوی سامان دے کر رخصت کر دیتا ہوں۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کی زندگی کے گھر چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لئے بہت بڑا انعام تجویز کر رکھا ہے۔ آپؐنے فرمایا:
’’اس کا جواب چاہتا ہوں ۔‘‘
سامعات !بیشک وقتی طور پر مالِ غنیمت کافی مقدار میں آتا دیکھ ازواج ؓ نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ کر بیٹھی تھیں ۔مگر آنحضرتﷺ کی ناراضگی بھلا کس کو گوارا تھی ؟ حضرت عائشہؓ نے فوراً جواب دیا میرے آقا! میں خدا اور رسول اور آخرت کو پسند کرتی ہوں۔ باقی ازواج نے بھی یہی جواب دیا۔ اور دنیا کی تمام مسلمان عورتوں کےلئے مثال قائم فرمادی ۔
جب آنحضرتﷺ کی وفات ہوئی اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر صرف بیس سال تھی ۔ آپنے نہایت صبر و استقامت کا نمونہ دکھایا۔ آپؓکا حجرہ آنحضرتؐکی آخری آرام گاہ بنا۔ پھر حضرت ابو بکرؓ کی تدفین بھی اسی حجرہ میں ہوئی ۔ حضرت عائشہؓ کی ذات کے ساتھ جزبات کی ایک بہت بڑی قربانی وابستہ ہے۔ آپؓنے اپنے حجرے میں باقی جگہ اپنے لئے رکھی ہوئی تھی مگر جب حضرت عمرؓنے اپنے بیٹے کو حضرت عائشہؓکے پاس بھیجا اور اس حجرہ میں دفن ہونے کی اجازت مانگی تو حضرت عائشہ ؓنے فرمایا ۔ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی ہوئی تھی ۔ مگر آج میں اپنی ذات پر عمر کو ترجیح دیتی ہوں ۔ حضرت عائشہ ؓکی یہ عظیم قربانی ہے کہ محبوب ترین شوہر اور عظیم باپ کے ساتھ دفن ہونے کی اپنی خواہش کو خلیفہ کی خواہش پوری کرنے کے لئے قربان کر دیا۔
سامعات !حضرت امِّ سلمہ ؓکا حال ملاحظ فرمائیں آپ نے نہایت ناز و نعمت سے پرورش پائی تھی۔ مسلمان ہونے کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔انکے خاوند ابوسلمہؓ آنحضورؐکے رضائی بھائی تھے۔ یہ ہجرت کرنے والی پہلی خاتون تھیں ۔ حبشہ سے واپس آکر مدینہ ہجرت کرنا چاہتی تھیں۔ کیونکہ مکہ کی سرز مین پہلے سے زیادہ خونخوار ہو چکی تھی۔ ہجرت کے وقت ان کے قبیلہ والوں نے مزاحمت کی ۔ اور ان کونہ جانے دیا۔ آخر ابوسلمہؓ اکیلے مدینہ چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد سسرال والے آئے اور انکا معصوم بچہ سلمہ چھین کر لے گئے کہ یہ ہمارا ہے۔ ام سلمہؓ کو سخت تکلیف تھی ۔ روزانہ گھبرا گھبرا کر باہر میدانوں میں نکل جاتیں ۔ اور سارا سارا دن رویا کرتیں۔ ایک سال تک یہ حال رہا۔ آخر انکے چچازاد بھائی کو رحم آیا اور اس نے کہا کہ خدا کے بندو! تم کیوں اس عاجز مسکین عورت کو آزاد نہیں کرتے ۔ تب انہیں کچھ رحم آیا۔ اور انہیں خاوند کے پاس جانے کی اجازت دی۔ اسپر سسرال والوں کو بھی کچھ خیال آیا اور بچہ ان کو دے دیا۔ تب یہ مدینہ پہنچیں ۔ ان کے خاوند ابوسلمہؓ بڑے شہ سوار تھے۔ جنگِ اُحد میں ایسے زخم کھائے کہ جانبر نہ ہو سکے۔ کچھ عرصہ کے بعد انکا زخم پھٹا اور وفات ہو گئی۔ وفات کی خبر سن کر آنحضرت ﷺ ان کے گھر تشریف لائے ۔ کہرام مچا تھا۔ ام سلمہؓ کہتی تھیں ۔ ہائے غربت میں یہ کیسی موت ہوئی۔ آنحضرت ﷺنے صبر کی تلقین کی اور فرمایا دعا کرو اللہ ان سے بہتر جانشین عطا فرمائے۔آنحضرت ﷺ نے ابوسلمہؓکی نماز جنازہ میں 9 تکبیریں کہیں اور لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا یہ ہزار تکبیروں کے مستحق تھے ۔ اس وقت امِّ سلمہ حاملہ تھیں۔ وضع حمل کے بعد عدت گزرگئی تو آنحضرت ﷺنے پیغام بھجوایا۔ امِّ سلمہؓ نے عذر پیش کئے کہ میں بڑی غیور ہوں، بچوں والی ہوں ، اور عمر بھی زیادہ ہے ۔ آنحضرت ﷺنے تمام عذروں کے متعلق تسلی کرادی چنانچہ آنحضرتﷺ کے ساتھ انکی شادی ہوگئی ۔
پہلی شہیدمسلمان عورت حضرت سمیہؓکا اسلام قبول کرنے میں ساتواں نمبر تھا۔ ان کو شرک پر مجبور کرنے کے لئے مشرکین نے ہر کوشش کر لی۔ مکہ کی تپتی ریت پر لوہے کی ذرہ پہنا کر دھوپ میں بھوکا پیاسا سارا سارا دن کھڑا رکھتے لیکن اس پیکرِ استقلال کے سامنے انکی ہر کوشش بیکار جاتی۔ ایک رات ابو جہل نے ان کو گالیاں دینی شروع کیں ۔ اور پھر اسکا غصہ اس قدر تیز ہوا کہ اٹھ کر ایسی برچھی ماری کہ حضرت سمیہ ؓ شہید ہو گئیں۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُون۔
حضرت ام عمارہؓکا تعلق بنو نجار سے تھا۔ مدینہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ہجرت کے تیسرے سال لشکر کفار کی آمد کی خبر کے ساتھ جنگی تیاریاں شروع ہوئیں تو حضرت امِّ عمارہؓنے جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور پانی پلانے کے لئے ساتھ جانے کی درخواست کی جو منظور ہوگئی۔ آپؓاپنے شوہر اور دو بیٹوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئیں۔ زخمیوں کو پانی پلاتے ہوئے جب آپؓنے آنحضرت ﷺ کو خطرے میں پایا تو مشکیزہ پھینک کر تلوار اٹھائی اور حضورﷺ کے قریب پہنچ کر دفاع شروع کیا۔
کفار آپؐکو گزند پہنچانے کے لیے نہایت بے جگری کے ساتھ حملہ پر حملہ کر رہے تھے ۔ آپ کے گرد بہت تھوڑے لوگ رہ گئے تھے۔ جو آپ کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں پر کھیل رہے تھے ۔ ایسے نازک اور خطرناک موقع پر یہ جری خاتون آپؐکے لیے سینہ سپر تھیں۔ کفار جب آنحضرت ﷺپر حملہ کرتے تو آپؓتیر اور تلوار کے ساتھ ان کو روکتی تھیں۔ آنحضرت ﷺنے خود فرمایا کہ میں غزوہ احد میں امِّ عمارہ کو برابر اپنے دائیں اور بائیں لڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ ابن قمیہ جب آنحضرت ﷺ کےعین قریب پہنچ گیا تو اسی بہادر خاتون نے اسے روکا۔ اس کمبخت نے تلوار کا ایساوار کیا کہ اس جانباز خاتون کا کند ھازخمی ہو گیا اور اس قدر گہر از خم آیا کہ غار پڑ گیا۔ مگر کیا مجال کہ قدم پیچھے ہٹاہو بلکہ آگے بڑھ کر اس پر خود تلوار سے حملہ آور ہوئیں اور ایسے جوش کے ساتھ اس پر وار کیا کہ اگر وہ دوہری زرہ نہ پہنے ہوئے ہو تا تو قتل ہو جاتا۔
سامعات! اب اسماء بنت ابی بکرؓ کا حال سنیں ۔ آپ کا ایمان لانے والوں میں 18 واں نمبر تھا۔ انکی داستان یہ ہے کہ ان کے بیٹے عبداللہ بن زبیرؓجب شہید ہوئے تو حجاج نے ان کی لاش سولی پر لٹکا دی۔ 3 دن گزرنے پر حضرت اسماءؓکنیز کے ساتھ بیٹے کی لاش پر آئیں۔ لاش الٹی لٹکی تھی۔ دل تھام کر اس منظر کو دیکھا۔ اور نہایت استقلال سے کہا:۔
’’ کیا اس سوار کے گھوڑے پر سے اترنے کا وقت نہیں آیا“ چند دنوں کے بعد عبد الملک کا حکم پہنچا تو حجاج نے لاش اتروا کر یہود کے قبرستان میں پھنکوادی حضرت اسماءؓنے لاش اٹھوا کر گھر منگوائی اورغسل دلوا کر جنازہ کی نماز پڑھی۔ حضرت ابنِ زبیرؓ کا جوڑ جوڑ الگ تھا ۔ نہلانے کے لئے کوئی عضو اٹھایا جاتا تو ہاتھ کے ساتھ چلا آتا تھا۔ لیکن حضرت اسماءؓنے یہ کیفیت دیکھ کر صبر کیا کہ خدائی رحمت انہی پارہ پارہ ٹکڑوں پر نازل ہوئی ہے۔ حضرت اسماءؓدعا کرتی تھیں کہ جب تک عبداللہ کی لاش نہ دیکھ لوں مجھے موت نہ آئے۔ چنانچہ ایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ حضرت اسماءؓفوت ہو گئیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ۔ آپؓکی عمر اسوقت 100 سال تھی۔
حضرت امِّ ابّانؓاپنے شوہر کے ہتھیار لگا کر میدان جنگ میں پہنچ گئیں۔ اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر رومیوں پر تیروں کی بارش کر دی۔ حاکم دمشق تو کسی طرح پیچھے ہٹنے پر تیار نہ تھا۔ آپ ماہر تیرانداز تھیں آپ نے تاک کر تیر اسکی آنکھ میں مارا۔ جس پر چیخ کر وہ پیچھے کی طرف بھاگا۔ چنانچہ پھر رومی بھی بھاگ نکلے۔
حضرت خنساءؓنےاپنے زمانہ پیری میں اسلام قبول کیا۔آپؓاشعار میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔ جنگ قادسیہ میں اپنے چاروں بیٹوں کو لے کر میدان جنگ میں آئیں۔ اور ان کو مخاطب کر کے نصیحت کی کہ پیارے بیٹو! تم نے اسلام اور ہجرت اپنی مرضی سے اختیار کی ہے ورنہ تم اپنے ملک کو بھاری نہ تھے۔ اور نہ تمھارے ہاں قحط پڑا تھا۔ باوجود اس کے تم اپنی بوڑھی ماں کو یہاں لائے اور فارس کے آگے ڈال دیا ۔ خدا کی قسم ! تم ایک ماں باپ کی اولا د ہو۔ میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا ۔ تم جانتے ہو کہ دنیا فانی ہے اور کفار سے جہاد کرنے میں بڑا ثواب ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا صَبْرُوا وَصَابر ورابِطُو۔اس بناء پر صبح اٹھ کر لڑنے کی تیاری کرو۔ اور آخر وقت تک لڑو ۔ چنانچہ چاروں بیٹوں نے ایک ساتھ باگیں اُٹھائیں اور نہایت جوش میں رجز پڑھتے ہوئے کفار پر ٹوٹ پڑے ۔ حضرت خنساءؓ بیٹوں کو بھیج کر جنگل میں نکل گئیں اور دعائیں کرنے لگیں۔ خدا نے فضل فرمایا اور مسلمان فتح یاب بھی ہوئے اوراس صحابیہ کے چاروں بیٹے بھی زندہ واپس آگئے۔
سامعات!حضرت ام شریک دوسیہ ؓجب ایمان لائیں تو آپ کے اقارب نے ان کو ایذاء دینی شروع کی اور اس کے لیے یہ طریق ایجاد کیا کہ انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتے اور اس سخت گرمی کے ساتھ شہد جیسی گرم چیز کھلاتے اور پانی بالکل نہ دیتے تھے۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کے حواس باختہ ہو جاتے ۔ ایسی حالت میں ان سے کہتے کہ اسلام چھوڑ دو۔ مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا۔ سمجھانے کے لیے وہ آسمان کی طرف اشارہ کرتے تو وہ سمجھ جاتیں کہ توحید کا انکار کروانا چاہتے ہیں۔ مگر آپؓجواب دیتیں کہ یہ ہر گز نہ ہو گا۔
حضرت صفیہؓبنت عبد المطلبنبی کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں اور قریباً آپؐکی ہم عمر تھیں۔ بہت بہادر اور دلیر خاتون تھیں۔ اکثر جنگوں میں شریک ہوئیں زخمیوں کی مرہم پٹی، پانی پلانا تو دستور تھا ضرورت پڑی تو تلوار بھی اٹھالی۔ غزوئہ احد میں جنگ کا رخ بدل گیا۔ مسلمان منتشر ہونے لگے۔ آپؓنیزہ لے کر باہر کھڑی ہو گئیں اور مسلمانوں کو غیرت دلا کر واپس جانے پر مجبور کیا۔ جس کے نتیجے میں مسلمان واپس آگئے اور آپؐکو اپنی حفاظت میں لے لیا۔
حضورﷺکو ان کی بے پناہ بہادری پر سخت تعجب ہوا اور آپ ﷺنے ان کے فرزند زبیرؓسے فرمایا کہ اے زبیر! اپنی ماں اور میری پھوپھی کی بہادری تو دیکھو کہ بڑے بڑے بہادر بھاگ گئے مگر چٹان کی طرح کفار کے نرغے میں ڈٹی ہوئی اکیلی لڑرہی ہیں۔
اسی طرح جب جنگِ احد میں حضور ﷺ کے چچاسید الشہداء حضرت حمزہؓ شہید ہو گئے اور کافروں نے ان کے کان ناک کاٹ کر اور آنکھیں نکال کر شکم چاک کر دیا تو حضور ﷺنے زبیر کو منع کر دیا کہ میری پھوپھی صفیہؓکو میرے چچا کی لاش پر مت آنے دینا ور نہ وہ اپنے بھائی کی لاش کا یہ حال دیکھ کر رنج و غم میں ڈوب جائیں گی۔ مگر صفیہؓ پھر بھی لاش کے پاس پہنچ گئیں اور حضور ﷺسے اجازت لے کر لاش کو دیکھا تو اِنَّا لِلهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ راجِعُوْنَ پڑھا اور کہا کہ میں خدا کی راہ میں اس کو کوئی بڑی قربانی نہیں سمجھتی پھر مغفرت کی دعاما نگتے ہوئے وہاں سے چلی آئیں۔
(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 452 )
غزو ئہ احزاب کے وقت آپؓکی عمر قریباً 58 برس تھی مگر حوصلے جوان تھے۔ بہادری کے جوہر دکھائے جنگ کے موقع پر خواتین اور بچوں کو حفاظت کی غرض سے ایک قلعہ میں بند کر دیا گیا تھا۔ آپؓبھی قلعہ بند تھیں۔ آپؓنے دیکھا کہ ایک یہودی جاسوس قلعہ کی معلومات لے رہا ہے۔ خطرہ محسوس کر کے یہ سوچا کہ اس کو یہاں سے واپس نہ جانے دیا جائے چنانچہ آپؓنے خیمہ کی ایک لکڑی اکھاڑ کر اس زور سے اس یہودی کے سر پر ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ پھر اسی کی تلوار سے اس کا سر کاٹ کر قلعہ سے باہر پھینک دیا۔ یہودی سمجھے کہ قلعہ میں بھی فوج ہے اور وہ دُم دبا کربھاگ نکلے۔ اس طرح ایک خاتون کی بہادری سے مسلمان بہت بڑے نقصان سے بچ گئے۔
حضرت سمیہؓبنت خباط ۔ ام عمارؓ:عمارؓاور ان کے والد یا سرؓاور ان کی والدہ سمیّہؓکو بنی مخزوم اتنی تکالیف دیتے تھے کہ ان کا حال پڑھ کر بدن میں لرزہ پڑنے لگتا ہے۔ ایک دفعہ جب ان فدایانِ اسلام کی جماعت کسی جسمانی عذاب میں مبتلا تھی اتفاقاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرف آ نکلے۔ آپؐنے ان کی طرف دیکھا اور دردمند لہجے میں فرمایا۔ صبْرًا اٰلَ يَاسِر فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ ۔ یعنی اے آل یاسر ! صبر کا دامن نہ چھوڑنا کہ خدا نے تمہاری انہی تکلیفوں کے بدلہ میں تمہارے لئے جنت تیار کر رکھی ہے۔ آخر یا سر تو اسی عذاب کی حالت میں شہید ہو گئے اور بوڑھی سمیّہ کی ران میں ظالم ابو جہل نے اس بے دردی سے نیزہ مارا کہ وہ ان کے جسم کو کا ٹتا ہوا ان کی شرمگاہ تک جانکلا اور اس بے گناہ خاتون نے اسی جگہ تڑپتے ہوئے جان دے دی۔
آخر میں حضرت فاطمہ ؓبنتِ محمد مصطفیٰ ﷺکا ذکر کرتی ہوں۔ حضرت فاطمہؓکا شمار آنحضرت ﷺ نے ان چندخواتین میں فرمایا ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ قرار پائیں ہیں ۔ جیسا کہ ترمذی میں مذکور ہے ۔ تمہاری تقلید کے لئے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم ، خدیجہ، فاطمہ اور آسیہ کافی ہیں۔
حضرت فاطمہؓ آنحضرت ﷺکی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔ آپؓکے مقام کے بارے میں آنحضرتﷺ نے فرمایا:
فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور اس کی ناراضگی سے اللہ ناراض ہوتا ہے…فاطمہ اس اُمت کی عورتوں، تمام جہانوں کی عورتوں، بہشت میں جانے والی عورتوں اور ایمان لانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔
(ازواج مطہرات و صحابیات صفحہ292-293)
اسی طرح فرمایا’’ فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔‘‘
( تذکار صحابیات صفحہ 143)
آپ آنحضرت ﷺکی محبوب ترین اولاد تھیں۔ مگر آپؐنے اپنی اس پیاری بیٹی کو جہیز میں جو چیزیں دیں وہ یہ تھیں ۔ بان کی چارپائی۔ چمڑے کا گد ّا جس میں روئی کی بجائے کھجور کے پتے تھے۔ ایک چھاگل ، دومٹی کے گھڑے ، ایک مشک، اور دو چکیاں باوجود اس کے کہ اب فراخی کے دن آگئے تھے ۔ لیکن آنحضرتﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کو دنیا کی آسائشوں سے دل نہ لگانے کی ایسی تربیت دی تھی کہ آپؓگھر کے سارے کام خود کرتیں۔ چکّی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے۔پانی بھرتے بھرتے سینے میں گٹھے پڑ گئے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت فاطمہؓنے آنحضرتﷺ سے گھر کے کام کاج کے لئے ایک لونڈی عنایت فرمانے کی درخواست کی توآنحضرتؐنے اسکی بجائے ہر نماز کے بعد تسبیح وتحمید پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ آپؓاسپر عمل کرتی رہیں۔
ایک مرتبہ کسی بد بخت نے آپؐکے سر پر خاک ڈال دی۔ رسول کریمﷺ گھر تشریف لائے۔ آپؐکی لخت جگر حضرت فاطمہ ؓمٹی بھر اسر دھوتیں اور ساتھ ساتھ روتی جاتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺنے انہیںتسلی دیتے ہوئے فرمایا بیٹی !رونا نہیں۔ اللہ تعالی تمہارے باپ کا محافظ ہے۔
( اہل بیت رسولﷺ صفحہ 277-278)
حضرت فاطمہؓ نے غزوات میں بھی رسول اللہؐ کے ساتھ شریک ہو کر آپؐکی خدمت کی توفیق پائی۔ حضرت فاطمہؓ کو آنحضرت ﷺسے شدید محبت تھی۔ آنحضرت ﷺکی وفات کے بعد حضرت فاطمہ ؓنے کبھی تبسم نہیں فرمایا۔ اورآنحضرتﷺ کی وفات کے 6ماہ بعد آپؓکا بھی وصال ہو گیا۔ اس وقت آپؓکی عمر صرف 29 سال تھی۔
سامعات ! دل تو کرتا ہے ان پیاری صحابیاتؓکا ذکر خیر کرتے ہی چلے جائیں ، اور کرتے ہی چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے ، کہ ہم ان کے ذکر پر صرف وقتی طور پر اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کرنے والی نہ ہوں بلکہ ہماری زندگیاں حقیقت میں ان صحابیاتؓکے نقش قدم پر چلنے والی ہوں ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ صحابیات کے نمونے کو اپنانے کے متعلق عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
تم اپنے مقام کو سمجھو اور اپنے اندر نئی بیداری اور نئی زندگی پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ترقی کے لیے بے انتہا مواقع پیدا کئے ہیں۔ تم بھی حضرت عائشہؓ کی نقل کرنے کی کوشش کرو، تم بھی حضرت حفصہؓکی نقل کرنے کی کوشش کرو، تم بھی حضرت زینبؓکی نقل کرنے کی کوشش کرو، تم بھی ان صحابیات کی نقل کرنے کی کوشش کروجنہوں نےاپنے زمانہ میں بڑے بڑے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں۔
1997 ءکے جرمنی کے خطاب میں ازواج مطہراتؓکی پاکیزہ سیرت بیان کرنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
…اللہ تعالی آپ کو ان باتوں کو سن کر اپنے دلوں میں جگہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور یہ باتیں آپکے دلوں میں ولولہ پیدا کرنے والی ہوں۔ آپ کے لئے مختلف نمونے ابھریں اور ان نمونوں کو آپ وہ اسوہ بنالیں جس کو قرآن کریم فرماتا ہے وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَٱسْتَبِقُواْ ٱلْخَيْرَٰتِ
(البقرہ:149)
ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز صحابیات رسول ﷺکے مقام و مرتبہ اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’…یہ وہ معیار ہے جو ہمیں اپنے اور اپنے بچوں کے اندر پیدا کرنا ہے تا کہ اسلام کی نشاۃ ِثانیہ میں ہم اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یہ صرف سننے والی کہانیاں نہیں۔ خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لیے ان مثالوں کو زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ عبادات، عشق رسول ، مالی و جانی قربانیوں کے معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ بے شک احمدی عورتیں قربانیوں کے معیار دکھا رہی ہیں لیکن خاص طور پر مالی لحاظ سے کشائش رکھنے والی خواتین اپنی حالتوں کو دیکھیں جن کے خاوند روک بنتے ہیں انہیں کہہ دیں کہ دین کے معاملے میں ہم تمہیں نہیں سنیں گی۔ پھر جہاں تک جانی قربانی کا تعلق ہے تو جماعت احمدیہ کو ہی دین کی خاطر جان قربان کرنے کا امتیاز حاصل ہے۔ اور یہ ماؤں کی تربیت کا اثر ہے۔ مردوں کی قربانیوں کا ثواب ان کی ماؤں کو بھی ملتا ہے… ہمیشہ یاد رکھیں دجال نے شیطانی حربوں کے جال پھیلائے ہوئے ہیں۔ آج سب سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ عبادت، عشق رسول میں بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ تربیت اولاد کی طرف خاص توجہ دی جائے۔ ان کی گڑھتی میں ڈال دیں کہ وہ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔ اپنی دعاؤں میں اس قدر زور اور درد پیدا کریں کہ خدا کی رحمت جوش میں آئے اور ہمارے بچے دنیا کے ہوا و ہوس میں پڑنے کے بجائے خدا کے دین کو سیکھنے، تعلق پیدا کرنے اور عشقِ رسول کی تڑپ پیدا کرنے والے بن جائیں۔
اللہ ہر احمدی عورت کو یہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آج عورتوں کی اس طرف توجہ ہی مردوں کی اصلاح کرنے کا باعث بھی بن جائے گی۔ اللہ کرے سب عورتیں مرد اور بچے بوڑھے مل کر حقیقی معاشرہ قائم کرنے والے بن جائیں جس کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین۔
(مستورات سے خطاب جلسہ سالانہ یوکے 29 جولائی 2023 )
اللہ تعالیٰ ہم تمام احمدی مستورات کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ان ارشادات پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ اور ہمیں ان نفوس ِقدسیہ صحابيات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اللہ کرے کہ یہ نمونے ہم احمدی عورتوں میں بھی نظر آئیں اور ہم قرونِ اولیٰ کی عورتوں کی طرح ہر قربانی کیلئے ہر آن تیار ہوں ۔
اِنَّ الصَّحَابَۃَ کُلَّھُمْ کَذُکَاءِ
قَدْ نَوَّرُوا وَجْہَ الْوَرٰی بِضِیَاءِ
یَا رَبِّ فَارْحَمْنَا بِصَحْبِ نَبِیِّنَا
وَاغْفِرْ وَاَنْتَ اللہُ ذُوْاٰلَاءِ
اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید
آمین ۔الھم آمین ۔ ثم آمین
…٭…٭…٭…