اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-08

سیرت صحابہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ ( مکرم مولانا زین الدین حامد صاحب،ناظم دارالقضاء قادیان )

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۔ (الفتح 30)
اس آیت کریمہ کا ترجمہ یہ ہے:۔ محمد رسول اللہ اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کفار کے مقابل پر بہت سخت ہیں (اور) آپس میں بے انتہا رحم کرنے والے تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا وہ اللہ ہی سے فضل اور رضا چاہتے ہیں۔
خاکسار اس مبارک موقع پر صحابی رسولﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ‘کے بارے میں عرض کرے گا ۔ان شاء اللہ
سامعین کرام ۔ آنحضرت ﷺ کی قوت قد سی اور حسن تربیت کے نتیجہ میں صحابہ کرام کے اندر جو عظیم الشان روحانی اور اخلاقی، معاشرتی اور تمدنی انقلاب رونما ہوا اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
احیت اموات القرون بجلوة
ماذا يماثلك بهذا الشان
یعنی تونے صدیوں کے مردوں کو ایک ہی جلوہ سے زندہ کیا ۔کون ہے جو اس شان میں تیرا مثیل ہوسکے۔
حضرت اقدس رسول الله ﷺ نے اپنے صحابہ کی اس رنگ میں تربیت فرمائی کہ حضور ﷺ ان کو آسمان روحانیت کے چمکتے دمکتے ستاروں سے تشبیہ دی فرمایا
أصحابي كالنجوم
بأيهم اقتديتم اهتديتم
یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی بھی تم اتباع کرو گے ہدایت پاؤگے۔
صحابہ کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :: -
أن الصحابۃ کلھم كذكاء
قد نوروا وجہ الورىٰ بضياء
یعنی صحابہ سب کے سب سورج کی مانند ہیں۔ انہوں نے مخلوقات کاچہرہ اپنی روشی سے منور کردیا۔
حضرات ان درخشندہ ستاروں میں سے ایک عظیم الشان ستارہ سيدنا حضرت عثمانؓکا وجود ہے جو خلافت راشد ہ کا تیسرا مظہر بن کر اسلام کی سربلندی کے لئے عظیم شان کارہائے نمایاں سرانجام دیتے ہوئےاسلام اور مسلمانوں کی خاطر جام شہادت نوش فرماگیا۔ رضى الله عنہٗ ورضوعنہٗ
حضرت عثمانؓقریش کے قبیلہ بنوامیہ میں اصحاب الفیل کے واقعہ سے پانچ سال بعدسن 575 عیسوی میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کپڑے کے تاجر تھے اور کافی امیر آدمی تھے ۔ بچپن سے ہی آپ کی طبیعت نیکی کی طرف مائل تھی ۔ آپ کی عمر اس وقت 34، 35 سال تھی جب نبی کریم ﷺنے خدا کے حکم سے دعوی نبوت فرمایا۔ آپ حضرت محمد ﷺکو ان کے بلند اخلاق کی وجہ سے بہت اچھا سمجھتے تھے۔ اور حضرت ابو بکرؓکے ساتھ حضرت عثمانؓکے بھی دوستانہ تعلقات تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق آنحضرت ﷺپر ایمان لانے میں سب پر سبقت لے گئے ۔ ان دنوں حضرت عثمانؓتجارت کے سلسلہ میں شام گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو حضرت ابو بکرؓنے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ حضرت عثمان بن عفان کو بھی بااسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔چنانچہ باری باری سب نے بیعت کی۔ ان میں حضرت عثمانؓسب سے پہلے بیعت کرنے والے بنے۔
نبوت کے چوتھے سال کےآغاز میں آنحضرت ﷺکو اللہ تعالیٰ نے کھلم کھلا تبلیغ کرنے کا حکم دیا اور جلد ہی مکہ کے گلی کو چوں میں اسلام کا چرچا ہونے لگا جس کے نتیجہ میں قریش مکہ نے مخالفت شروع کی اور جولوگ مسلمان ہو چکے تھے ان کو منحرف کرنے کے لئے ظلم شروع کر دیا۔ آپ کے چچا حکم بن ابی العاص نے آپ کو خوب مارا پیٹا اور آنحضرت ﷺکے پاس جانے سے روکنے کے لیے آپ کے پاؤں میں بیٹریاں ڈال دیں۔ آپ نے صبر وتحمّل سے کام لیا اور ان مصائب کی کچھ پرواہ نہ کی۔ چند دن بعد آپ کے چچانے غصہ میں آکر آپ کو گھر سے نکال دیا۔
حضرت عثمانؓبہت نیک، با عزت، خوبصورت اور شریف نوجوان تھے اور اپنے خاندان سے الگ کر دیئے گئے تھے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے اپنی صاحبزادی رقیہ کا نکاح حضرت عثمانؓسے کر دیا۔
مکہ میں دن بدن قریش کے سرداروں کے منصوبوں کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے تکالیف کا سلسلہ بڑھ رہا تھا اور حضرت عثمانؓکو بھی سخت خطرہ تھا۔ ان حالات میں بعض مسلمان مردوں اور عورتوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت مل گئی ان میں حضرت عثمانؓاور ان کی بیوی حضرت رقیہ بھی شامل تھیں۔ جب آپؓحبشہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو آپ ہی امیر قافلہ تھے۔ حبشہ میں اپنے مختصر قیام کے دوران آپ کو تبلیغ کی بھی توفیق ملتی رہی۔ اس طرح آپ بھی ان چند خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں اسلام کے آغاز میں ہی بیرونِ ملک تبلیغ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
جب آنحضرت ﷺ نے ایک ایک دو دو کرکے مکہ کے مسلمانوں کو یثرب(مدینہ)ہجرت کرنے کی اجازت دیدی تب حضرت عثمانؓبھی اپنی اہلیہ حضرت رقیہ کو ساتھ لے کر مکہ سے مدینہ ہجرت کر گئے۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد حضرت عثمانؓکی بیوی حضرت رقیہ انتقال کرگئیں۔ حضرت رقیہ کی وفات کے بعدآنحضرت ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت اُمّ کلثوم کا نکاح آپ سے کردیا۔ اس طرح آنحضرتﷺ کی دو صاحبزادیوں کے ساتھ نکاح کے نتیجہ میں آپ ذوالنورین کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔
حضرات!عرب میں قدیم سے غلامی کا رواج تھا۔ اسلام نے اس کی ممانعت فرمائی اور غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بڑی نیکی قرار دیا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت عثمانؓنے ہزاروں غلاموں کو آزاد کیا اور مدینہ کی کوئی گلی ایسی نہ تھی جہاں آپ کا خرید کردہ آزاد غلام نظر نہ آئے۔ بعد میں اس نیک کام کو جاری رکھنے کے لیے آپ نے یہ معمول بنا لیا کہ ہر جمعہ کے روز ایک غلام آزاد کیا کرتے تھے۔
حضرت عثمانؓکو بعض غیر معمولی مالی خدمات کی سعادت ملی ۔ ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں پر نہایت تنگی کا زمانہ تھا چنانچہ بنیادی ضرورتوں میں سے ایک پینے کا پانی تھا آنحضرت ﷺ نے ایک دن مسلمانوں میں تحریک فرمائی کہ میٹھے پانی کا کنواں جو ایک یہودی کی ملکیت تھا اسے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے چنانچہ آپ نے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔
حضرت محمدﷺحضرت عثمانؓاور باقی صحابہ کو مدینہ آئے ہوئے چھ سال گذر چکے تھے۔ مشرکین مکہ کی طرف سےحج ان کا بند کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں آپﷺ نے ایک مبارک خواب دیکھا کہ آپؐچودہ پندرہ سو صحابہ کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کررہے ہیں اس خواب کے مطابق چودہ پندرہ سوصحابہ کو ساتھ لے کر آپؐطواف کے لیے کعبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر آنحضرتﷺ نےقریش کے ساتھ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کے نام سے تاریخ اسلام میں جانا جاتا ہے اور اس موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے حضرت عثمانؓکو اسلام کا سفیر بنا کر قریش مکہ کے پاس بھیجا۔اسلام کے سفیر کے طور پر حضرت عثمانؓکا حدیبیہ میں خدمت سر انجام دینا آپ کی زندگی کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے اور اپنے دُور رس نتائج کے پیش نظر ایک بہت بڑی خدمت ہے۔
صلح حدیبیہ کے دو سال بعد اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ رنگ دکھایا کہ 8 ہجری میں آنحضرت ﷺ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔ حضرت عثمانؓبھی ان میں شامل تھے۔
جوں جوں اسلام پھیل رہا تھا مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اور مسجد نبوی نا کافی ہوگئی تھی ۔ چنانچہ حضور ﷺنے اس کی توسیع کا منصو بہ بنایا اور صحابہ کو تحریک فرمائی کہ مسجد کے اردگرد کے مکانات خرید کر مسجد میں شامل کر لیے جائیں ۔ حضرت عثمانؓکو مالی وسعت حاصل تھی اور آپ کے اندر مالی قربانی کا جذ بہ بہت بڑھا ہوا تھا۔ آپ نے فوراً25-30 ہزار درہم کا انتظام کیا اور مسجد نبوی کے اردگرد کے مکانات اور زمین وغیرہ خرید کر مسجد نبوی میں شامل کر دئیے۔ آپ کی اس قربانی اور دینی خدمت کو قیامت تک آنے والی نسلیں یا درکھیں گی۔
آنحضرتﷺ نے غزوہ تبوک کے لئے مالی قربانی کی تحریک فرمائی حضرت عثمانؓنے اس موقع پر ایک ہزار اونٹ جن میں سے سواناج سے لدے ہوئے تھے، سو یا پچاس گھوڑے اور دس ہزار دینار نقد آنحضرت ﷺکی خدمت میں پیش کئے اور فوج کے ایک تہائی کے لیے ہر قسم کی ضروریات پیش فرمائیں۔ آنحضرت ﷺحضرت عثمانؓکی اس غیر معمولی قربانی سے بہت خوش ہوئے ۔ حضرت عثمانؓ خود بھی اس غزوہ میں شامل ہوئے۔
حضرت عثمانؓکو جو خدمات اسلام کے لیے سرانجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں سے ایک نمایاں خدمت قرآن کریم کی کتابت ہے۔ آپ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کاتب وحی کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت عثمانؓکو کتابت وحی اور آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے مطابق آیات اور سورتوں کی ترتیب کا کام کرنے کی خدمت بھی نصیب ہوئی اور یہ سلسلہ سارے قرآن کریم کے نزول اور آخری ترتیب تک جاری رہا۔
حضرت عثمانؓکوحضرت ابو بکرؓکے دور خلافت میں آپ کا دست و بازو بن کر خدمات کی توفیق ملتی رہی۔ حضرت ابوبکرؓکے امور خلافت میں آپ نہایت قیمتی مشورے دیا کرتے تھے۔ حضرت ابو بکرؓکی وفات کے بعد حضرت عمرؓخلیفہ ثانی بنے اورآپؓنے جب استحکام سلطنت کے لیے مختلف محکمے بنائے تو حضرت عثمانؓکو صدقات کے حساب کتاب پر مامور فرمایا۔ آپؓامین خلافت کہلاتے تھے۔
حضرت عمر فاروقؓ پر 23 ذی الحجہ 23 ہجری کو قاتلانہ حملہ ہوا۔ حضرت عمرؓنے خلافت کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی مقرر کر دی تھی۔ اس میں سرفہرست حضرت عثمان بن عفانؓکا نام بھی تھا۔
حملہ کے چار دن بعدحضرت عمرؓکی وفات 27 ذی الحجہ 23 ہجری کو ہوئی اور اس کے تین دن بعد حضرت عثمانؓکو کثرت رائے سے خلیفہ ثالث منتخب کیا گیا۔
حضرت عمرؓجو نظام حکومت چھوڑ گئے تھے اسی کو آپؓنے جاری رکھا اور کوئی خاص تبدیلی نہ فرمائی۔
البتہ بعد میں ضرورت کے مطابق آپؓنے بعض گورنر تبدیل فرمائے ۔آپؓنے سارے عالم اسلام میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی طرف خاص توجہ دلائی اور نماز جمعہ سے پہلے دوسری اذان کی ابتداء آپؓہی نے فرمائی۔
حضرت عثمانؓکے دور خلافت میں کئی نئی تعمیرات ہوئیں۔ وسیع تعمیرات کے منصوبے بنے اور رفاہ عامہ کے کام ہوئے ، کئی پبلک عمارات، سڑکیں، پل، مسافر خانے اور سرائیں تعمیر ہوئیں۔ آپؓکے عہد میں جو علاقے فتح ہوئے تھے ان میں فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں۔ اسی طرح قومی چراگاہوں میں بھی اضافہ کیا گیا اور لوگوں کو پہلے کی نسبت زیادہ سہولتیں میسر آنے لگیں۔
حضرت عثمانؓکے دور خلافت میں جہاں ملک پر ملک فتح ہوتے گئے اور فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوتے رہے وہیں مملکت اسلامیہ میں خلافت اور مرکزیت دونوں ختم کرنے کےمذموم منصوبہ کے تحت یمن کے رہنے والے ایک نہایت بد باطن یہودی عبداللہ بن سبا کی سرکردگی میں خطرناک فتنوں نے سر اٹھانا شروع کردیا اور انہی فتنوں کا نتیجہ تھا جو آپؓکی شہادت کے رنگ میں ظاہر ہوا۔
شہادت کے وقت حضرت عثمانؓکی عمر 82 سال تھی۔ آپؓنہایت متقی، پرہیز گار اور متوکل انسان تھے۔ آپؓکی ساری عمر خدمت اسلام اور عبادات بجالانے میں گزری۔ آپؓان خاص صحابہ میں سے تھے جن کو آنحضرت ﷺکے ساتھ بطور خاص محبت تھی۔ آنحضرت ﷺ نے کئی مرتبہ اپنی زندگی میں آپ سے راضی ہونے کا اظہار فرمایا۔ آنحضرت ﷺ کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں جس کی وجہ سے آپ کو ذوالنورین کا خطاب ملا۔
جس طرح آپ نے اسلام کی سربلندی، اشاعت قرآن اور خلافت کے قیام کے لیے اپنا مال، جان ، وقت اور عزت سب کچھ قربان کر دیا۔ بڑی وفا کے ساتھ اللہ کے کاموں میں لگے رہے اور فتنوں کے وقت باوجود طاقت اور قدرت کے امن کا شہزادہ بن کر صبر کا ایسا نمونہ دکھایا کہ آنے والی نسلیں قیامت تک آپ کے پاک نمونہ سے سبق حاصل کرتی رہیں گی ۔ انشاء اللہ تعالی۔
حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓکا تذکرہ
تقریر کے دوسرے حصہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح مود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کی مقدس سیرت کے حوالے سے کچھ بیان کرتا ہوں۔ جب ہم حضرت اقدس مسیح موعودؑکے دست مبارک پر بیعت کرنے والوں کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو بلا شبہ یہ بات سامنے آتی ہے کہ صحابہ رسول اللہ ﷺ کے تمام عادات اور اوصاف حمیدہ سب کے سب علی قدر مراتب حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے صحابہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑکے بزرگ صحابی حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓکی مقدس سیرت کے چنیدہ چنیدہ واقعات پیش کرتا ہوں۔
حضرات! حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق ایک معزز خاندان غوری سے ہے، آپ ریاست مالیر کوٹلہ کے رئیس تھے۔ آپ کے مورث اعلی شیخ صدر جہاں صاحب ایک باخدا بزرگ اور جلال آباد سروانی قوم کے پٹھان تھے۔ آپ کے والد ماجد کا نام نواب غلام محمد خان صاحب تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکم جنوری 1870 عیسوی کو نواب بیگم صاحبہ کے بطن سےپیدا ہوئے۔ آپ اپنی والدہ کے پہلے اور بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ بچپن سے ہی آپ میں مذہبی ذوق و شوق پیدا ہوچکا تھا۔براہ راست حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق کا آغاز ہونے سے قبل حضرت نواب صاحب کے خاندان کے ایک معزز فرد کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے اچھے تعلقات پیدا ہو چکے تھے جو بالآخر حضور علیہ السلام کے مالیر کوٹلہ تشریف لے جانے کا موجب ہوئے اور 1884 میں حضور علیہ السلام نے یہ سفر اس لیے فرمایا تھا کہ نواب ابراہیم علی خان صاحب نے براہین احمدیہ کی اشاعت میں حصہ لیا تھا اور ان کی بیماری کی خبر پا کر دعا کے لیے بھی تشریف لے گئے تاکہ عیادت اور شکریہ کی عملی روح نمایاں ہو۔
حضرت نواب صاحب کی پرورش ابتدا ءسے ہی مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔ ابتدائی عمر میں آپ نے اپنے استادسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر سنا۔ آپ پر مذہب کا بہت اثر تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ان دنوں کوئی دعوی نہ تھا رفتہ رفتہ حضرت اقدس علیہ السلام کا ذکر آپ تک پہنچتا رہا ۔ حضرت نواب صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام سے خط و کتابت 1899 میں شروع کی۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے 1890 عیسوی میں 20 سال کی عمر میں قادیان کا تاریخی سفر کیا ۔آپ کی فطرت میں اللہ تعالی کی طرف سے سعادت ودیعت ہوئی تھی یہ سفر آپ نے تحقیق حق کی خاطر کیا کیونکہ ابھی تک آپ حلقہ بگوش احمدیت نہ ہوئے تھے بعد ازاں بعض سوالات کا اطمینان بخش جواب پانے کےبعد آپ نے بلا تامل بیعت کا خط لکھا۔ رجسٹر بیعت میں آپ کا بیعت نمبر 210 اور تاریخ بیعت 19 نومبر 1890 درج ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں حضرت نواب صاحب اور آپ کے خاندان کا ذکر فرمایا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت نواب صاحب کو اپنے ایک مکتوب میں بار بار تحریک فرمائی کہ کچھ عرصہ حضور علیہ السلام کی صحبت میں ا ٓکر رہیں۔حضور ؑنے ایک مکتوب کے آخر پر فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ جس طرح ہو سکے 27 دسمبر 1892 کے جلسہ میں ضرور تشریف لاویں۔‘‘
چنانچہ حضرت نواب صاحب اس جلسہ میں شریک ہوئے۔ حضرت مسیح مود علیہ السلام کی توجہ اور شفقت اور دعاؤں کی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنے فضل سے نواب صاحب کے لیے تمام مشکلات آسان کر دیں اور انشراح قلب کے ساتھ قادیان ہجرت کی توفیق عطا فرمائی۔ ہجرت کے بعد آپ اپنے دو کچے کمروں میں آکر ٹھہرے جو ’’ الدار ‘‘ سے ملحق تھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت بے پایاں کا گونا گوں رنگ میں اظہار ہوتا رہا۔ حضور علیہ السلام نے حضرت نواب صاحب کو قادیان میں مکان بنانے کی بھی کئی مرتبہ تحریک فرمائی۔ اللہ تعالی نے آپ کے مکانات کو بہت برکت عطا فرمائی۔ حضرت نواب صاحب کی اہلیہ اول کے بطن سے دو لڑکیاں ایک امۃ السلام جو چند ماہ بعد وفات پا گئی اور دوسری بیٹی حضرت بو زینب بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب جن کی ولادت 19 مئی 1893 میں ہوئی تھی ان کے بعد اللہ تعالی نے چار بیٹوں سے نوازا۔
اللہ تعالی کی تقدیر کے ماتحت17 فروری 1908 عیسوی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت نواب محمد علی خان صاحب سے ہو گیا یہ نکاح حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھا ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد 14 مارچ 1909 کو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رخصت ہو کر حضرت نواب صاحب کے گھر آئیں۔حضرت نواب صاحب کی اہلیہ اول سے اکلوتی بیٹی حضرت نواب بو زینب بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لخت جگر حضرت مرزا شریف احمد صاحب سے9مئی 1909 کو ہوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مبارک زندگی میں یہ رشتہ طے فرمایا تھا۔حضرت بو زینب صاحبہ حضرت خلیفۃ المسیح خامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہٖ العزیز کی دادی محترمہ ہیں۔ اگرچہ نواب صاحب اور حضرت نوا ب مبارکہ بیگم صاحبہ کی عمر میں 27 سال کا فرق تھا اس کے باوجود حضرت نواب صاحب حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی عقل، سمجھ ، محبت، وفا اور سیرت کے قدردان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مقدس باپ کی مبارک بیٹی ہیں۔ حضرت نواب صاحب چھوٹی چھوٹی بات میں بھی حضرت بیگم صاحبہ سے برکت لینے کی کوشش کرتے تھے۔
ایک مرتبہ نئے سال کا کیلنڈر آپ نے حضرت بیگم صاحبہ کو دیا کہ اس پر کچھ شعر لکھ دیجئے۔
حضرت بیگم صاحبہ نے کیلنڈر کے سرورق پر لکھا:
فضل خدا کا سایہ ہم پر رہے ہمیشہ
ہر دن چڑھے مبارک ہر شب بخیر گزرے
آپ فرماتی ہیں کہ یہ شعر حضرت نواب صاحب ہمیشہ نئے سال کے کیلنڈر کے سرور ق پر لکھتے تھے۔ اسی طرح حضرت نواب صاحب اکثر آپ سے اشعار کی فرمائش کرتے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت نواب صاحب کو بارہا قادیان آنے اور قادیان میں مکان بنانے کی تحریک فرما چکے تھے چنانچہ حضرت نواب صاحب نے ہجرت سے پہلے ایک دو کچے کمرے دارالمسیح سے ملحق جانب مشرق تعمیر کروائے اور چند سال بعد انہیں گرا کر ایک پختہ چوبارہ تعمیر کروایا یہ چوبارہ ’’ الدار ‘‘ کا ہی حصہ ہے۔ خلافت اولیٰ میں آپ نے قادیان کی اس وقت کی آبادی سے باہر ایک کھلی جگہ پر دارالسلام کوٹھی تعمیر کروائی جس میں باغ بھی لگوایا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت نواب صاحب کو خط بھجوایا کہ قادیان آتے ہوئے اپنا فونوگراف ساتھ لیتے آئیں تاکہ غیر ممالک میں دعوت الی اللہ کی غرض سے کچھ پیغام بھرے جائیں۔ چنانچہ حضرت نواب صاحب فونوگراف قادیان لائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم آواز آرہی ہے یہ فون و گراف سے اور کچھ دیگر نظمیں اور تقریریں بھری گئیں۔ حضرت نواب صاحب کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ ان کے فونوگراف میں غیر ممالک میں دعوت الی اللہ کے لیے پیغام ریکارڈ کیا گیا۔
حضرت نواب صاحب ایک مردم شناس قدردان معاملہ فہم اور وفادار بزرگ تھے خدا تعالی نے آپ کو قلب سلیم اور دماغ فہیم عطا فرمایا تھا اس لیے آپ ہر مسئلہ کی تحقیق خود کرتے تھے ۔تعصب اور غصہ ہرگز نہ تھا سچ کے قبول کرنے پر ہر وقت آمادہ رہتے تھے ابتدائی مذہبی تعلیم کے بعد لاہور کےAitchison College میں داخل ہوئے جو حکومت نے رئوسائے پنجاب کے بچوں کے لیے قائم کیا تھا۔ خواتین کی اصلاح کے لیے آپ نے ایک انجمن مصلح الاخوان قائم کی اور ایک ا سکول قائم کیا جس کے کل اخراجات آپ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ آپ کو تعلیم کی عام ترویج کا بہت شوق تھا۔ مدرسہ احمدیہ کے لیے کئی مرتبہ مالی تعاون کیا اور آپ ہی کی عالی ہمتی سے قادیان میں کالج کا قیام ہوا ۔
آپ کی فطرت میں سخاوت کا طبعی جوش تھا اور جماعت کے غرباء آپ کی فیاضیوں سے آسودگی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ کبھی غم زدہ اور فکر مند نہ ہوتے تھے۔ ہمیشہ چہرے پر خوشی اور مسرت رہتی تھی اور اللہ تعالی پر کامل توکل اور بھروسہ تھا ۔انکساری کا یہ عالم تھا کہ مسجد مبارک میں سب سے آخری صف میں جوتیوں کے قریب بیٹھ جاتے تھے۔ سلسلہ کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔
حضرت نواب صاحب حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ سے حد درجہ اخلاص اور اطاعت کا تعلق رکھتے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ آخری دو ہفتے نواب صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ کی عیادت و خدمت کا بہترین موقع میسر آیا۔ ڈاکٹروں نے قصبہ سے باہر کسی کھلی جگہ رہنے کا مشورہ دیا جس پرحضرت نواب صاحب نے اپنی کوٹھی دارالسلام کا ایک حصہ حضورؓکے لیے خالی کر دیا ۔حضرت خلیفۃ المسیح اولؓنے 27 فروری 1914 کو یہاں نقل مکانی فرمائی اور اس جگہ کو بہت پسند فرمایا ۔دو ہفتے بعد 13 مارچ 1914 کو حضرت خلیفہ اولؓنے دارالسلام میں ہی وفات پائی۔
یکم جنوری 1903 کو صبح کی سیر میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ :’’آج رات ایک کشف میں آپ کی تصویر ہمارے سامنے آئی اور اتنا لفظ الہام ہوا ’’حجۃ اللہ‘‘ اس کے متعلق یوں تفہیم ہوئی کہ کیونکہ آپ اپنی برادری اور قوم میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعالی نے آپ کا نام حجت اللہ رکھا یعنی آپ ان پر حجت ہوں گے۔ آپ نے متعدد مواقع پر مالی قربانی کی مختلف تحریکات میں حصہ لیا ، اعانت فرمائی اور عمارتوں کی مرمت اور توسیع کے لئے گاہ بگاہے رقم مہیا کی۔جن میں مدرسہ احمدیہ ،منارۃ المسیح اور مرکزی لائبریری وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے قادیان میں بہت سے رفاہ عامہ کے کام سرانجام دئے۔ سڑکوں کو ہموار بنوایا اور پختہ نالیاں بنوائیں نیز مریضوں کی امداد کے لیے ایک معقول رقم پیش کی۔ ان کے علاوہ سلسلہ کے پہلے اخبار الحکم کی اعانت دارالضعفاء کے لیے زمین اور الفضل کے اجراء میں اعانت بھی آپ کی مالی قربانیوں کی اعلی مثالیں ہیں۔
الفضل کے اجرا کے لیے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے کچھ روپیہ نقد اور کچھ زمین اس کام کے لیے دی۔ نیز اپنے مکان کی نچلی منزل بھی دی۔ مقبرہ کے انتظام کے لیے حضرت مولوی نور الدین صاحبؓکی صدارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔ جنوری 1906 میںجب صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا، اس کے ممبران میں حضرت نواب صاحبؓبھی تھے۔ آپ کو 1900 سے 1918 تک مختلف عہدوں پر سلسلہ کی خدمت کا موقع ملا۔ قیام صدر انجمن احمدیہ سے قبل 6 جنوری سے پانچ دسمبر 1902 تک پہلے آپ میگزین ریویو کے اسسٹنٹ فنانشل سیکرٹری اور پھر فنانشل سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے۔ 1909 میں آپ صدر انجمن احمدیہ کے امین مقرر ہوئے۔ 1911 میں آپ صدر انجمن کی طرف سے ناظر مقرر ہوئے۔ 1915 اور 1916 دو سال تک حضرت نواب صاحب صدر انجمن احمدیہ کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے۔
حضرت نواب صاحبؓادب اور حفظ مراتب کے بے حد پابند تھے اور اکثر اپنی اولاد اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔
آپ اپنے بڑے بھائیوں ،بزرگان صحابہ کرام اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے حد درجہ احترام کا جذبہ رکھتے تھے۔ حضرت نواب صاحب صبرو استقامت کے اعلی مقام پر فائز تھے ۔ جن حالات میں آپ نے احمدیت قبول کی اور شجاعت سے اس کا اظہار کیا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔آپ حد درجہ کے عفت پسند اور زمانہ کے مفاسد کے باعث پردہ کے حد درجہ پابندی کے حامی تھے ۔نمازوں وروزہ کی ادائیگی،تلاوت قرآن کریم،دیگر مشاغل دینیہ میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔ آپ معمولا ًشب بیدار اور تہجد گزار تھے ۔ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓاس بارے میں بیان فرماتی ہیں کہ:
’’رات کو تہجد میں دعائیں کرتے تو یوں معلوم ہوتا کہ خدا تعالی کا نور کمرہ میں نازل ہو رہا ہے ۔‘‘
حضرت نواب صاحب صبح کی نماز سے قبل قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن مجید ایک سمندر ہے جو کوئی بھی اس بحر میں غوطہ زنی کرے گا خالی ہاتھ نہ لوٹے گا۔ حضرت نواب صاحب معمولا ًڈائری لکھنے کا التزام نہ فرماتے لیکن جتنے عرصہ ڈائری آپ نے لکھی ہے اس سے آپ کی سیرت و شمائل کا ایک قیمتی حصہ خود آپ کے قلم سے ہمارے سامنے آتا ہے۔ 10 فروری 1945 کو بعمر 75 سال حضرت نواب صاحبؓکا انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپؓکے جنازہ کو حضرت خلیفۃ المسیح ثانیؓ نے کندھا دیا ۔بہشتی مقبرہ قادیان سے متصل باغ میں حضرت خلیفۃ المسیح ثانیؓ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کی تدفین احاطہ خاص میں ہوئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مزار مبارک ہے۔ خدا تعالی آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو اپنے قرب میں خاص مقام عطا فرمائے۔آمین
سامعین کرام!سیدنا حضرت عثمان غنیؓصحابی حضرت اقدس رسول اللہ ﷺ اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس سیرت کےچیدہ چیدہ واقعات آپ نے سنے۔ ان واقعات سے ’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ‘‘کی اصل تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ دونوں کی سیرتوں کے واقعات میں کس قدر مماثلتیں پائی جاتی ہیں ۔حضرت اقدس کےیہ اشعار کس قدر صداقت پر مبنی ہیں کہ :
مبارک وہ جو اَب ایمان لایا
صحابہؓ سے ملا جب مجھ کو پایا
وہی مَے اُن کو ساقی نے پِلا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
…٭…٭…٭…