يٰٓاَ يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَّاحِدَةٍوَّخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاءً۔ (النساء:2)ترجمہ:۔ اَے لوگو!تم سب اپنے اُس ربّ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اُس ایک جان سے اُس نے اُس کا جوڑا بنایا اور پھر اُس جوڑے سے کثیر التعداد مرد اور عورت پھیلادئیے۔
يٰٓاَ يُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ طاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔(الحجرات :14)ترجمہ:۔ اَے لوگو!یقیناً ہم نے تمہیں نَر اور مادہ سے پیدا کیا ہے اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزّز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحیٰٓ اِلَيَّ اَ نَّمَا اِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَّاحِدٌ۔(کہف:111)ترجمہ: ۔اے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تُو یہ اعلان کردے کہ مَیں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں سوائے اس کے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک (یعنی اللہ) ہی معبود ہے۔
اسلامی مساوات کے فلسفہ کا خلاصہ ان چند قرآنی آیات میں آجاتا ہےجس کی مَیں نے ابھی تلاوت کی ہے اور اس کا ترجمہ سُنایا ہے۔
سورۂ نساء کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اُس ابدی اور دائمی حقیقت کی طرف توجّہ دلاکر کہ وہ سب ایک ہی باپ کی اولاد اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں،دُنیا میں صحیح مساوات کی بنیاد قائم کردی ہے اور اِ س اُصول کی نشاندہی کردی ہے کہ خواہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مختلف انسانوں اور مختلف قوموں اور مختلف طبقات میں کتنا ہی فرق پیدا ہوجائے اُنہیں آپس کے معاملات میں اس امر کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ بہر حال اپنی اصل کے لحاظ سے وہ ایک ہی جوڑے کی نسل ہیں۔
اورسورۂ حجرات کی آیت میں مزید وضاحت فرمادی کہ یہ جوا نسانی معاشرہ میں مختلف قوموں اور مختلف قبائل کی تقسیم نظر آتی ہے یہ محض تعارف اور شناخت کا ایک ذریعہ ہے ۔اس تقسیم کو ایک دوسرے کے مقابل پر تفاخر اور بڑائی کا ذریعہ نہ بنالو۔اوریادرکھو کہ خُدا کے نزدیک بلکہ ایک صالح معاشرہ میں بھی بڑا اور معزّز انسان وہی ہے جو ذاتی طور پر زیادہ اوصافِ حمیدہ کا مالک اور زیادہ متقی اور زیادہ پرہیزگار ہے۔
اورمحسنِ انسانیت حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ فرماکر کہ یاد رکھو! مَیں بھی تمہارے جیسا ایک بشرہوں،انسانیت کے شرف کو اُس کی معراج تک پہنچا دیا ہے ۔
سامعین کرام !آج دُنیا بدامنی اور بے چینی کا شکارہے ۔اس کا بڑا سبب ایک تو مذہبی منافرت ہے دوسرے ذات پات کی تفریق اور رنگ ونسل کا امتیاز ہے۔ کہیں سفید فام اورسیاہ فام کا جھگڑا ہے تو کہیں سرمایہ دار اور مزدور کا جھگڑا ہے ۔ کہیں قومی برتری کا زعم ہے تو کہیں اعلیٰ ذات کا بھرم ہے،جو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو کم تَر اور حقیر کرکے دکھاتا ہے اور یُوں انسان ،انسان کے درمیان نفرت کی آہنی دیوار کھڑی ہے۔
اس پس منظر میں آج ہر طرف مساوات اور برابری کا چرچا ہے۔عملی طور پر اِس سبز باغ کا قیام کس حد تک ممکن ہے اور کس حد تک ہوچکا ہے اور زمینی حقائق کیا تصویر پیش کررہے ہیں اس کی تفصیل اس مختصر وقت میں بیان کرنا ممکن نہیں لیکن اعلانات اور پراپیگنڈہ کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی اور ترقی پذیر ممالک میں بھی، مساوات اوربرابری قائم کرنے کے خوش آئیند اعلانا ت موجود ہیں خواہ وہ جمہوری نظام ہو یا سوشلزم یا اشتراکی نظام ہو،سب کا دعویٰ مساوات قائم کرنے کا ہے ۔مثلاً یہ کہ امیر وغریب کا فرق مٹادیا جائے۔ مَردوں اور عورتوں میں مساوات اور برابری قائم کی جائے۔حاکم ومحکوم ،مالک ومزدور کو ایک صف میں کھڑا کردیا جائے وغیرہ وغیرہ۔
جبکہ عملی طور پر مساوات قائم کرنے کے لئے سب سے پہلے اس امر کا فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ کن امور میں بنی نوع انسان کے درمیان مساوات اور برابری قائم کی جاسکتی ہے ۔اگر کی جاسکتی ہے تو کس حد تک کی جاسکتی ہے ۔
اس کے لئے ہمیں اللہ جو خالقِ حقیقی ہے اُس کی بنیادی صفات ربوبیت ۔رحمانیت ۔رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔صرف پہلی صفت ہی کو لےلیں تو قرآن کریم نے اللہ کو ربّ العالمین قراردیاہے ۔یعنی وہ تمام جہانوں،تمام مخلوقات کا ربّ ہے ،پروردگار ہے۔ وہ صرف ربّ المسلمین یا ربّ المسیحیین یا ربّ الیہود یا ربّ الہنود نہیں ہے ۔ اُس کا آسمانی نظام اور زمینی نظام اُسکی صفتِ ربوبیت ورحمانیت کے تحت ہر انسان کو برابر فیض پہنچارہا ہے خواہ کوئی انسان اُس خدا کو مانتا ہے یا نہیں اُس کی عبادت کرتاہے یا نہیں کرتا ، اُس کا سورج چاند سب کو روشنی پہنچا رہا ہے اُس کی زمین اُس کے دریا اُس کی ہوا ہر چیز بلا استثناء سب کو فیض پہنچا رہی ہے ۔
یہ تو جسمانی پرورش اور نشوونما کے اسباب ہیں ۔ اسی طرح روحانی نشوونما اور ترقیات کیلئے بھی خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا ۔ہر قوم میں اپنے رسول اور ہادی بھیجے چنانچہ آیات قرآنی وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ (سورہ یونس :48)اور وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۔(سورہ رعد :8)وغیرہ اس پر شاہد ہیں کہ اللہ نے جو ربّ العالمین ہے ہر قوم اورہراُمت میں اپنے ہادی اوررسول بھیجے ہیں۔
اور ان پیغمبروں کے درمیان بھی مساوات رکھ دی چنانچہ فرمایا لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۔( سورہ بقرہ: 286)کہ ہم مسلمان خدا کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھتے یعنی منصبِ رسالت کےلحاظ سے سب برابر ہیں ۔ہاں اُن کی ذمہ داریوں اور فرائض اور دائرۂ کار کے لحاظ سے بے شک ان کے مراتب میں تفاوت موجود ہے۔
سامعین کرام !اب خاکسار بنی نوع انسان کی خِلقت یعنی پیدائش اوراُن کی ذہنی وجسمانی صلاحیتوں کے مدنظر ان کے حقوق وفرائض کے لحاظ سے مساوات کے ضمن میں زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجّۃ الوداع کی روشنی میں چند امور کا اختصار کے ساتھ ذکر پیش کرتاہے۔
یادرکھنا چاہئیے کہ سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 9ہجری میں بیت اللہ شریف کا حج فرمایا روایات کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد صحابہ شامل تھے۔آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ایک پہلا اورآخری حج تھا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔اس میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات اور منیٰ کے میدانوں میں طویل خطبہ ارشاد فرمایا جو مختلف روایات کے ذریعے بُخاری شریف اور مسند احمد بن حنبل وغیرہ احادیث کی کتب میں درج ہے ۔یہ خطبہ بنیادی نوعیت کے انسانی فلاح وبہبود اور قیامت تک آنے والی نسلوںکی تعلیم وتربیت کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے خاکسار اپنے موضوع کے لحاظ سے صرف مساواتِ انسانی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بصیرت افروز خطبے کے چند اقتباسات کا ترجمہ پیش کرکے کچھ عرض کروں گا۔
گیارہویں ذوالحجہ کو منیٰ کے میدان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا :۔
’’اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سُنو کیونکہ مَیں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد کبھی بھی مَیں تم لوگوں کے درمیان اس میدان میں کھڑے ہوکر کوئی تقریر کروں گا۔
اے لوگو! تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک تھا ۔پس ہوشیار ہوکر سُن لو کہ عربوں کو عجمیوں پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ عجمیوں کو عربوں پرکوئی فضیلت ہے اسی طرح سرخ وسفید رنگ والے لوگوں کو کالے رنگ کے لوگوںپر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کالے لوگوں کوگوروں پر کوئی فضیلت ہے ۔ہاں جو بھی ان میں سے اپنی ذاتی نیکی سے آگے نکل جائے وہی افضل ہے ۔‘‘
نیز فرمایا :۔
اے مسلمانو! خدا تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے تم میں سے زمانہ جاہلیت کے بیجا کبر وغرور اور آباء واجداد کی وجہ سے بے جا تفاخر کرنے کی مرض کو دور کردیاہے .... یادرکھو سب لوگ آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوا تھا ۔
نیز فرمایا :۔
’’دنیا میں لوگ معدنیات کی طرح ہیں جوایک ہی قسم کے عناصر ہوتے ہوئے اور ایک ہی قسم کی مٹی کے نیچے دبے ہوئے آہستہ آہستہ مختلف رنگ اور مختلف اوصاف اختیار کرلیتے ہیں مگر سُن لوکہ ترقی اور بڑائی کی جو معروف علامتیں اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں سمجھی جاتی تھیں (یعنی عقل ودانش ،سخاوت وشجاعت ، طاقت واثر وغیرہ )وہی اب بھی قائم ہیں ۔اور جو لوگ ان اوصاف کی وجہ سے زمانہ ٔجاہلیت میں بڑے سمجھے جاتے تھے وہ اب اسلام میں بھی بڑے سمجھے جائیں گے مگر شرط یہ ہے کہ وہ علمِ دین اور ذاتی نیکی اختیار کرلیں۔‘‘
نیز فرمایا :۔
اے لوگو! تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں ۔ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ عفّت اور پاکیزگی کی زندگی بسر کریں ۔۔۔اورتمہارا یہ کام ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خوراک اور لباس وغیرہ کا انتظام کرو۔اوریادرکھو ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرناکیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے ۔تم نے جب انکے ساتھ شادی کی تو خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کاضامن بنایا تھا اور خداتعالیٰ کے قانون کے ماتحت تم ان کو اپنے گھروں میں لائے تھے ۔(پس خداتعالیٰ کی ضمانت کی تحقیر نہ کرنا اور عورتوں کے حقوق کےا داکرنے کا ہمیشہ خیال رکھنا)
نیز فرمایا :۔
’’اے لوگو!تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی باقی ہیں ۔مَیں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو وہی کچھ کھلانا جو تم خود کھاتے ہواور ان کووہی پہنانا جو تم خود پہنتے ہو۔اگر ان سے کوئی ایسا قصور ہوجائے جو تم معاف نہیں کرسکتے تو ان کو کسی اَور کےپاس فروخت کردو کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ۔‘‘
نیز فرمایا :۔
’’اے لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تم سب ایک ہی درجہ کے ہو ۔تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کےہو،انسان ہونےکےلحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔یہ کہتے ہوئے آپ نے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملادیں اورفرمایا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔تمہیں ایکدوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں۔تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔‘‘
نیز فرمایا :۔
کیا تمہیں معلوم ہے یہ کونسا مہینہ ہے ؟کیا تمہیں معلوم ہے یہ علاقہ کونسا ہے؟کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کونسا ہے؟لوگوںنےکہا ہاں !یہ مقدس مہینہ ہے یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے ۔ہرجواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے ،جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے ،جس طرح یہ دن مقدس ہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اُس کے مال کو مقدس اور حرام قرار دیا ہے ۔یہ حکم آج کے لئے نہیں ۔کل کے لئے نہیں بلکہ اُس دن تک کےلئے ہے کہ تم خدا سے جاملو۔
پھر فرمایا:۔
یہ باتیں جو مَیں تم سے آج کہتا ہوں ان کو دنیا کےکناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سُن رہے ہیں اُن کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے نہیں سُن رہے ۔‘‘(بخاری کتاب المغازی باب حجۃ الوداع)
مختلف روایتوں کے ساتھ مختلف عبارتوں میں یہ خطبات ہم تک پہنچے ہیں ۔ایک روایت میں اس طرح بھی آیا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ کونسا مہینہ ہے تو صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اسکے رسول بہتر جانتے ہیں اور یہ کہ ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس مہینہ کا کوئی اَور نام رکھیں ۔پھر آپؐنے خود ہی جواب دیا کہ کیا یہ حُرمت والا مہینہ نہیں ہے۔
بہرحال قطع نظر روایتوں کے اختلاف کے اس تاریخی اور تاریخ ساز خطبہ میں محسنِ انسانیت حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اہم اور بُنیادی امور کے متعلق ہدایات کوآگے سے آگے پہنچاتے رہنے کا حکم صادر فرمایا ۔ یہ ہدایات صرف وقتی اور کسی ایک علاقہ سے مختص نہیں تھیں بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کےلئے رہنما اُصول ہیں ۔ان کا خلاصہ یہ بنتا ہےکہ
(۱)۔سب سے پہلے تمام بنی نوع انسان اس اُصول کو مدنظر رکھیں کہ سب انسان ایک ہی جنس کی مخلوق اور ایک ہی باپ کی نسل اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں لہٰذا سب انسان ،انسانیت کےلحاظ سے برابر ہیں۔
(۲)۔اس نسلی وحدت کے باوجود یہ ممکن ہے کہ جس طرح زمین سے مختلف معدنیات نکلتی ہیں کوئلہ بھی نکلتا ہے ، لوہا بھی نکلتا ہے ،تانبا بھی نکلتا ہے ،سونا بھی نکلتا ہے اسی طرح انسانوں میں بھی مختلف ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں اور استعدادوں اور محنت اور کوشش کے نتیجہ میں مختلف اوصاف اور امتیاز پیدا ہوسکتےہیں مگر اس امتیاز اور فرق کی وجہ سے کسی قوم یا کسی قبیلہ یا کسی فرد کو دوسرے قوم یا قبیلہ یا افراد پر بے جا فخر اور تکبّر نہیں کرنا چاہئیے ۔
(۳)۔مسلمان اس لحاظ سے کہ وہ ایک نبی کی امّت ہیں اورایک ہی دامنِ رسالت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی روحانی باپ کے بچے ہیں پس انہیں بھائی بھائی بن کر رہناچاہئیے ۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہےاِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ(الحجرات :11)تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
(۴)۔معاشرہ میں بعض کمزور اور نادار لوگ بھی ہوتےہیں جو صاحبِ حیثیت اور امراء کے خدمت گاروں کے طورپر خدمت کرتےہیں۔یا جنگوں میں مفتوح اقوام کےکئی افراد فاتح اقوام کے قبضہ میں آجاتے ہیں اُن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےا یسے احکامات صادرفرمائے ہیں جو آج کی مہذّب دُنیا میں عمل کرنا تو درکنار تعجب سے دیکھے اور سُنے جاتےہیں کہ غلاموں اور قیدیوں کو بھی مالکوں کے برابر قراردیا گیا ہے حالانکہ غلام اور قیدی بھی آخر انسان ہی ہیںلہٰذا ان کے کھانے اور لباس کا خیال رکھنے اور ان کی طاقت سے بڑھ کر خدمت نہ لینے کی تاکید فرمائی گئی ہے ۔
(۵)۔مَردوں اور عورتوںمیں مساوات کا آجکل بڑا چرچا ہے اور آئے دن اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو مَردوں سے کمتر خیال کرکے ان کی آزادی کو سلب کررکھا ہے اور حجاب میں اور گھروں میں قید کررکھا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےا س خطبہ میں عورتوں کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے متعلق خاص طورپر تاکید فرمائی ہے اور قرآن کریم میں مردوں اور عورتوں کی خِلقت کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے جس قدر عورت کو اعزاز بخشا گیا ہے اوراُس کے حقوق اورجذبات واحساسات کی حفاظت فرمائی ہے دُنیا کا کوئی سماج اور کوئی مذہب اسکی مثال پیش نہیں کرسکتا یہ ایک الگ مستقل مضمون ہے جسکی تفصیل کا یہاں نہ وقت ہے اور نہ موقع ہے۔
سامعین کرام !اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسانی مساوات قائم کرنے کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے لیکن یہ دیکھا ہی نہیں جاتا کہ کن امور میں مساوات قائم کی جانی ہے۔جہاں تک انسانیت اور بشریت کا تعلق ہے اس لحاظ سے سب انسان برابر ہیں،ہرانسان کی دوآنکھیں، دوکان، دوہاتھ، دوٹانگیں، زبان، ناک، دل،دماغ وغیرہ سب انسانوں کو خالقِ حقیقی نے عطا فرمائے ہیں الّا ماشاء اللہ سوائے اس کے کہ بعض معذور انسان بھی ہوتے ہیں۔
لیکن ان انسانوں کے حقوق کی ادائیگی میں مساوات قائم کرنا یہ بنیادی ذمہ داری ہے ۔اس بارہ میں یادرکھنا چاہئیے کہ انسانی حقوق دوقسم کے ہوتے ہیں :۔
(i)۔ایک وہ حقوق ہیں جو حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں اسکے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ؎
اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرٰی۔وَاَنَّکَ لَاتَظْمَؤُافِیْھَاوَلَاتَضْحٰی۔(سورہ ٔ طٰہٰ:119-120)
یعنی پُرامن معاشرہ کی یہ علامت ہے کہ اے انسان تُو اس میں بھوکا نہ رہے اور نہ ضروری لباس سے محروم ہو اور نہ ہی سردی سے ٹھٹھرے اور نہ ہی پیا س کی تکلیف اُٹھائے اور نہ ہی دھوپ کی شدّت میں بغیر چھت کے پڑا جلتا رہے۔
پس ہر حکومت کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ اس بات کا انتظام کرے کہ ملک وقوم کا کوئی فرد ان کم از کم ضرورتوں کی وجہ سے تکلیف نہ اُٹھائے ۔
اسی طرح عدل وانصاف قائم کرنا اور قومی عہدوں پر باصلاحیت افرادکو مقرر کرنا اور واجبی ٹیکسوں وغیرہ کے ذریعے دولت کی صحیح تقسیم کا انتظام کرنا وغیرہ یہ سب حکومت کے فرائض میں داخل ہے۔
(ii)۔دوسرے حقوق وہ ہیں جو یاتو فطری اور قدرتی رنگ میں حاصل ہوتے ہیں جیسے جسمانی طاقتیں اور دماغی قویٰ وغیرہ یا وہ انفرادی کوشش اورانفرادی محنت اور جدوجہد کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں۔
اسلام نے ایسے انفرادی حقوق میں بھی مناسب رنگ میں دخل دے کر مختلف افراد اور مختلف طبقات کے فرق کو متوازن کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اشتراکی نظام کمیونزم کی طرح جبری رنگ میں سارے فَرقوں کو یکسر مٹانے کا طریق اختیا رنہیں کیا کہ جس کے نتیجہ میں انفرادی استعدادوںاور صلاحیتوں کو ناکارہ بناکر رکھ دیا جائے ۔اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے فَرقوں کو مٹانا ممکن بھی نہیں ہے ۔مثلاً ۔جسمانی طاقتوں کے فرق کو کون مٹاسکتا ہے ؟دماغی قوتوں کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے ۔ہاں البتہ ہر انسان کی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے اپنے ہم جنس بھائیوں کے لئے ایثار اورقربانی کے جذبہ کو اُبھارا جاسکتا ہے اسکےلئے اسلام نے مختلف پُرحکمت ذرائع بیان فرمائےہیں ۔جن پر عمل کرکے انفرادی صلاحیتوں کو ضائع کئے بغیر معاشرہ میں مجموعی خوشحالی کی مساوات قائم کی جاسکتی ہے ۔
اب خاکسار پیش کردہ اسلامی مساوات کے نکات کے لحاظ سے وقت کی رعایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے چند مثالیں بھی پیش کرتاہوں۔
انسانی معاشرہ میں مساوات اور برابری کادم بھرنے والے بھی جانتے ہیںکہ آج کے مہذّب معاشرہ میں بھی عام غرباء ومساکین ایسے کمزور اور بے حیثیت سمجھے جاتے ہیں کہ کوئی اُنہیں پاس بٹھانا یا اُن کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کرتا ۔ان کے ساتھ چلنا بھی گویا اپنی ہتک سمجھتا ہے ۔مگرہمارے محسنِ انسانیت کی تو شان ہی نرالی تھی ۔آپؐاکثر یہ دعا کرتے تھے کہ
’’اے اللہ مجھے مسکین بناکر زندہ رکھیو اور اسی حالت میں مسکینوں کی جماعت میں اُٹھانا ۔‘‘(ترمذی)
حضرت انسؓبیان کرتے ہیں ایک دیہاتی جس کا نام زاہر تھا شکل وصورت میں بہت سادا اور بھدّا تھا ایک دفعہ وہ بازار میں اپنا سودا بیچ رہا تھا اور پسینے میں شرابور تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے جاکر اُسکی آنکھوں پر اپنےہاتھ رکھ دئیے اُس نے ہاتھوں کے لَمس سے اندازہ لگالیاکہ یہ میرے آقا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پھر تو وہ خوشی اور محبت سے اپنی پشت حضورؐکے جسم مبارک سے رگڑنے لگا۔آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے میرایہ غلام کون خریدے گا۔وہ بولا،اے اللہ کے رسول پھر توآپ مجھے بہت ہی بے کار سودا پائیں گے مجھے بھلاکون خریدے گا۔آپؐنے فرمایا نہیں نہیں اللہ کے نزدیک تو تم گھاٹے کا سودا نہیں ہوخُدا کے نزدیک تمہاری بڑی قدر وقیمت ہے ۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3صفحہ 11)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غرباء ومساکین کو کھانے وغیرہ کی دعوتوں میں بُلانے کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ وہ دعوت بہت بُری ہے جس میں صرف امراء کو بُلایا جائے اور غرباء کو شامل نہ کیا جائے ۔ (بخاری کتاب النکاح)
ث حضرت خدیجہ ؓسے جب آپ کی شادی ہوئی تو اُس مالدار خاتون نے اپنا سب مال اور غلام آپ کی خدمت میں پیش کردئیے ۔آپ نے وہ تمام غلام آزاد کردئیے اور انہی میں سے ایک ہونہار غلام کوآزاد کرکے اپنا متبنّٰی بنالیا اور یہ زید بن محمد کہلانے لگے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ رسم ختم کرنے اور لےپالک بچوں کو اُن کے باپوں کی طرف ہی منسوب کرنے کا ارشادفرمایا (سورۂ احزاب آیت5-6)تو وہ پھر زید بن حارثہ کہلانےلگے مگر انہوں نے اپنے والدین کے گھر واپس جانے کی بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس آزاد کردہ غلام سے زندگی بھر بے حد محبت وشفقت کا سلوک فرمایا ۔
صرف یہی نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی استعدادوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کئی فوجی دستوں کا امیر مقرر فرماتے رہے اور پھر حضرت زیدؓکی وفات کے بعد ان کے نوجوان بیٹے اُسامہ کو بھی اس قدر عزت بخشی کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میںجو لشکر تیار فرمایا اُس کی کمان انہی کے سپرد فرمائی جس میں بڑے بڑے صحابہ بھی شامل تھے ۔
پس انسانیت کا احترام اور اہلیت کی بناء پر خدمات سپرد کرنے کا عملی اظہار تو اسی صورت میں ہوسکتاہے کہ ہم قوم کے اور سماج کے کمزور اور پچھڑے طبقے کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں ۔اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوہ ترقی کرنے والی قوموں کے لئے مشعل راہ ہے۔
سامعین کرام! انسانیت، مانوتا، Humanity محض گوشت پوست سے بنے مجسّمہ کا نام نہیں کہ جس کو کسی بلند جگہ پر رکھ کر اُس کی عزت افزائی یا پرستش کی جائے بلکہ انسانیت نام ہے اُس کے دل ودماغ کی سوچوں اوراُس کے جذبات واحساسات کا۔اُس کی روح اور اُسکی اخلاقی اورروحانی حالتوں کا۔اگر ان اقدار کی پاسداری کی جائے تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ ہاں اُس نے انسانیت کا احترام قائم کیا ہے ۔اس لحاظ سے جب ہم اپنے آقا ومطاع حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالتے ہیں توایسے عجیب حیرت انگیز نمونے نظر آتے ہیں جن کی مثال کہیں اَور ملنا محال ہے ۔
ایک انسان اپنے دوستوں ،عزیزوں اور ہم عقیدہ وہم مذہب لوگوں کے ساتھ تو رواداری سے پیش آتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اُس کا غیروں بلکہ مخالفوں اور دُشمنوں کے ساتھ سلوک کیساہے ۔
ایک دفعہ مدینہ میں ایک یہودی کا جنازہ آرہا تھا نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس جنازہ کے احترام کے لئےکھڑے ہوگئے ۔کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے ۔آپؐنے فرمایا ’’کیا اس میں جان نہیں تھی ۔کیاوہ انسان نہیں تھا؟‘‘(بخاری کتاب الجنائز)
حضرت یعلیٰ ؓبن مُرّہ بیان کرتے ہیں مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی سفر کئے ۔کبھی ایک باربھی ایسا نہیں ہوا کہ آپؐنے کسی انسان کی نعش پڑی دیکھی ہو اوراُسے دفن نہ کروایا ہو۔آپ نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ یہ مسلمان تھا یا کافر۔
چنانچہ جنگِ بدر میں ہلاک ہونے والے (24)مشرک دُشمن سرداروں کو میدانِ بدر کے ایک گڑھے میں دفن کروادیا تھا جسے قلیب بدر کہتےہیں ۔ (بخاری کتاب المغازی)
مشرکین مکہ جنگِ اُحد میں رسول اللہ ؐکے چچا حضرت حمزہ کے ناک کان کاٹ کراُن کی نعش کا مُثلہ کرچکے تھے اور یہی اُن کا طریق تھا ۔جب غزوۂ احزاب میں ان کا ایک سردار نوفل بن عبد اللہ مخزومی ہلاک ہوا تو وہ سمجھے تھے کہ مسلمان اب ہمارے سردار کا بھی مثلہ کریں گے چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ؐ کو پیغام بھیجا کہ دس ہزاردرہم ہم سےلے لیں اور نوفل کی نعش واپس کردیں ۔رسول کریم ؐنے فرمایا ہم مُردوں کی قیمت نہیں لیا کرتے ۔تم اپنی نعش واپس لے جاؤ۔(دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 3)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دُشمن قوم کے مقتولوں کا مُثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔
ث جہاں تک مَردوں اور عورتوں میں مساوات کا تعلق ہے ،بدقسمتی سے آج کے ترقی یافتہ دَور میں مساوات اورآزادی کے نام پر عورتوںکا جو استحصال کیاجارہا ہے وہ معاشرہ کے توازن کو بگاڑنے کاموجب ہورہا ہے ۔ورنہ اسلام نے نہ صرف یہ کہ عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دئیے ہیں بلکہ بعض احتیاطیں وضع کرکے ان کے حقوق کے تحفظ کی پوری ضمانت بھی دی ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ مرد اور عورت میں قدرتی لحاظ سے پیدائش اور جسمانی ساخت کےلحاظ سے جو فرق ہیں اسلام نے ان کو نظر انداز نہیں کیا ہے اورنہ نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔اُن کوملحوظ رکھتے ہوئے اسلام نے مرد اور عورت کی ذمہ داریاں طے کی ہیں ۔گھر کا انتظام اور بچوں کی پرورش اور تربیت کرنا عورتوں کا کام ہے جبکہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ بیوی اوربچوں کی تمام جائزضروریات کے لئے محنت ومشقت کرکے اخراجات مہیا کرے۔
عورتوں کی آزادی اور مساوات کے نام نہاد علمبردار وں کا عملی کردار دیکھ لیں وہ عورتوں سے ملازمتیں بھی کرواتے ہیں اور کچن کی ذمہ داریاں اوربچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اُنہی پر ڈالتےہیں یہ تو آزادی اور مساوات کے نام پرعورتوں پر ظلم ہے ۔اسلام اسکی اجازت نہیں دیتا ۔
اسلام نے عورتوں کےجو حقوق قائم کئے ہیں اور جس حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے اوراُن کو معاشرہ میں جو اعزاز بخشا ہے اُس کا شاندار نمونہ حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی میں نظر آتاہے ۔
چنانچہ مدنی دَور میں جبکہ آپؐکی عمر پچاس سال سے تجاوز کرچکی تھی محض تربیتی اور قومی ضروریات کے مدنظر آپ کو متعدد شادیاں کرنی پڑیں اور بیک وقت نَوبیویاں بھی آپ کی تربیت اور کفالت میں رہیں مگر نہایت احسن انتظام اور کمال اعتدال اور انصاف کے ساتھ سب کے حقوق اداکئے اور سب کا خیال رکھا ۔ ہرچند کہ اُن کےلئے سامان تعیّش تو درکنار دوقت کی روٹی بھی پورے طورپر فراہم کرنا مشکل تھا اسکے باوجود ہر بیوی کو آپ کی رفاقت پر ناز تھا اور جب فتوحات اوراموال غنیمت کی کثرت کے دَور میں اللہ کے حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو یہ پیشکش فرمائی کہ اگر تم دُنیوی زندگی اور اسکی زینت کی خواہاں ہو۔ توآؤ میں تمہیں دنیوی مال ومتاع دیکر اپنے سے جُدا کردوں تو بلا استثناء ہر ایک بیوی نے ہر حال میں رسولِ خدا ؐکے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اہل وعیال کے ساتھ کمال شفقت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہؓفرماتی ہیں آپ عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے ۔کپڑے کو خود پیوند لگالیتے ۔بکری خود دوہ لیتے ۔ جوتوں اور گھر کے ڈول کی مرمّت کرلیتے تھے ۔ رات کو دیر سے گھر لوٹتے تو کسی کو زحمت دئیے یا جگائے بغیر کھانا یا دودھ خود نکال کر استعمال فرمالیتے۔
پس ان نیک اوروفا شعار بیویوں کا اخلاص اور وفا دُنیاوی آرام وآسائش کے مدنظر نہ تھا وہ توآپ کے مُنہ کی بھوکی تھیں آپ کے اخلاقِ کریمانہ کی گرویدہ تھیں۔آپ کے حُسنِ سلوک اور رافت ورحمت کی مرہون تھیں ۔
سامعین کرام ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج مطہرات سے حسن سلوک اور دلداریوں اور نازبرداریوں کو اُس زمانے کےپس منظر میں دیکھیں جب عربوں میں عورت کی کوئی قدروقیمت نہ تھی بلکہ مرد انہیں جوتیوں کی طرح استعمال کرتے تھے کہ ایک ناپسند ہوئی تو دوسری بدل لی۔ حتّٰی کہ بچی کی پیدائش کو بھی منحوس سمجھا جاتا تھا اور بعض شقی القلب بیٹیوں کو زندہ دَرگور کردیتے تھے ۔ عورتوں کوادنیٰ اور بے وقوف سمجھ کر ان کی بات کو توجہ سے سُننا یا ان سے مشورہ کرنا مردوں کے نزدیک ہتک کا موجب خیال کیا جاتا تھا ۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صنفِ نازک ،اس طبقۂ نسواں کو عزت وشرف کےجس مقام پر بٹھایا آج اس ترقی یافتہ دَور میں بھی جبکہ ہر طرف عورتوں کی آزادی اورمساوات کےنعرے لگائے جارہے ہیں اسکی مثال ملنی مشکل ہے۔
پس محسنِ انسانیت حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری حج حجۃ الوداع میں جو خطبہ ارشادفرمایا وہ انسانیت کا سراونچا کرنےوالا اور وہ بلند وبالا جھنڈا ہے جو قیامت تک نمایاں طور پر لہراتا رہے گااور بنی نوع انسان کو درسِ انسانیت دیتا رہے گا۔
عاشقِ رسولؐبانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ومہدی ٔ معہود علیہ السلام فرماتےہیں:۔
’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کےدل کے پاس تلاش کرو۔اسی لئے پیغمبروں نےمسکینی کاجامہ ہی پہن لیا تھا ۔اسی طرح چاہئیے کہ بڑی قوم کےلوگ چھوٹی قوم کی ہنسی نہ کریں ۔اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑاہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرےپاس جو آؤگے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے ۔ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے ۔اسی طرح پیغمبر ِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ! خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔اگر تم کوئی بُرا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔‘‘(ملفوظات جلد سوم صفحہ 370)
نیزفرمایا :۔
’’مَیں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایکدوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایکدوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں ۔۔۔خدا جانتا ہے کہ بڑاکون ہے یا چھوٹا کون ہے۔۔۔بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہےجو مسکین کی بات کو مسکینی سے سُنے ۔اُس کی دلجوئی کرے۔اس کی بات کی عزت کرے ۔کوئی چِڑ کی بات مُنہ پر نہ لاوے کہ جس سے دُکھ پہنچے ۔۔۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے کُل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے ۔مکر م ومعظّم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے ۔ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ طاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 22تا23)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍دسمبر 2004ء میںسیرت کے موضوع پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے آخر پر فرمایا :۔
’’یہ نمونے کبھی پُرانے ہونے والے نہیں ۔بلکہ آج بھی اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کے دعوے کو سچا ثابت کرکے دکھانا ہے تو ان نمونوں پر چلنا ہوگا۔
آج ہر احمدی کا دوسرے مسلمانوں کی نسبت زیادہ فرض بنتا ہے کہ ا پنے اردگرد کے ماحول میں اُن کمزوروں اور بے سہاروں کو تلاش کریں اور ان سے حُسنِ سلوک کریں اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق کے دعوے کوسچا کرکے دکھائیں۔اللہ تعالیٰ اسکی توفیق دے ۔آمین ۔
واٰخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔
…٭…٭…٭…