اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللہِ۰ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
(سورۃ التوبۃ: 112)
قابل احترام صدر مجلس و معزز سامعات! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔جیسا کہ آپ نے سماعت فرما لیا ہے کہ آج کے اس مبارک موقعہ پر خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے : ’’مومنات کی نشانیاں اور دورِ حاضر میں اُن کا حصول۔‘‘
معزز سامعات! حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’سب سے اوّل قرآن ہے … مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔ حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اُسکے ظل تھے۔ سو تم قرآن کو تدبّر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو۔ ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰن کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں یہی بات سچ ہے افسوس اُن لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلاواسطہ قرآن تمہیں ہدایت دےسکے۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن، جلد 19،صفحہ 26)
پس ایک مومن (مرد ہو یا عورت) کیلئے تمام احکامات اور تمام نشانیاں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ اس قلیل سے وقت میں اپنی تقریر میں تمام کا بیان کرنا تو ممکن نہیں۔ مومنات کی چند نشانیاں خدائی ارشاد کے مطابق بیان کرنے کی کوشش کروں گی۔ وباللہ التوفیق۔
معزز سامعات! خاکسار نے شروع میں جن آیات کی تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (خدا کی راہ میں) سفر کرنے والے،(للہ)رکوع کرنےوالے،سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے، اور بُری باتوں سے روکنے والے، اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے، (سب سچّے مومن ہیں) اور تو مومنوں کو بشارت دےدے۔
پس ایک سچی مومنہ اور مسلمہ کی صفات پیدا کرتے ہوئے ہر وقت خدا کی حمد سے ہمارا دل معمور رہنا چاہئے اور ہماری یہ حالت ہونی چاہئے جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
’’اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو اور اُسی کے ہو جاؤ اور اسی کیلئے زندگی بسر کرو اور اس کیلئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو کیونکہ وہ پاک ہے چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن ،جلد19، صفحہ12)
پس خدا تعالیٰ کا تقویٰ حاصل کرنا بھی ضروری ہے یعنی ایمان کے اس معراج پر پہنچنا جہاں انسان تقویٰ کی باریک در باریک راہوں کو اختیار کرے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللہَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ۰ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ( انفال: 30) یعنی اَے ایمان والو! اگر ایمان کے تقاضے پورے کرنے ہیں تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی زندگیوں کو پاک اور مطہر بنا لو۔ بنی نوع کے ہمدرد بن جائو تا خدا جان لے کہ میرے ان بندوں نے کوشش کی ہے۔ تقویٰ کی بابت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے منظور کلام میں فرماتے ہیں:
ہر اِک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے
اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے
اور پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْنَ (سورۃ انفال:2)یعنی اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کی ایسی اطاعت کرو جو کرنے کا حق ہے اور رسول کریم ﷺ کی پوری اطاعت کرتے ہوئے آپؐکا اسوۂ حسنہ اپنی زندگیوں میں پوری طرح رائج کرلو۔
معزز سامعات! قرآن کریم کو اوّل سے آخر تک جاننا ہر مومنہ کا فرض ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح آخر الزمان کے ذریعہ ہم کو قرآن کریم کے وہ معارف اور تفاسیر حاصل ہوئیں جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن کو پڑھیں اور اُس پر عمل کریں۔ اس سے ایسی محبت کریں کہ اپنی زندگیاں قرآن کے مطابق بنا لیں اور اپنے بچّوں کے دلوں میں قرآن کریم کی ایسی محبت پیدا کر دیں کہ جیسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن سے اپنے عشق کے اظہار میں فرمایا کہ
دِل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے
سامعات! مومنات کی نشانی اَلصّٰدِقٰت بننا بھی ہے۔ یعنی اپنے اقوال و اعمال میں صداقت پر قائم رہیں۔ جو عہد ہم نے بیعت کے وقت کیا تھا اُسکا پاس کریں۔ جو ہم کہیں وہ کر کے دکھائیں۔
معزز سامعات! ہم اُس دنیا کے باسی ہیں جو مادیت کا شکار ہے۔ مغربیت سے مرعوب ہے۔ ایسی دنیا جس میں عریانیت اور بے حیائی اچھی سمجھی جاتی ہے۔ اس دنیا میں جو اسلامی اقدار سے ناواقف ہے ایک عورت کا کیا فرض ہے کیا وہ بھی مادیت کا شکار ہو جائے اور رواجِ زمانہ اختیار کرکے دنیا کے رنگ میں رنگین ہو جائے۔ نہیں اور ہر گز نہیں۔ ایک احمدی خاتون کا مقصد دنیا طلبی ہر گز نہیں بلکہ وہ اس دنیا میں رہ کر اس حیاتِ طیبہ کی طالب رہتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَہُوَمُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّہٗ حَيٰوۃً طَيِّبَۃً۰ۚ وَلَـنَجْزِ يَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ(سورۃ النحل: 98) یعنی مرد یا عورت میں سے جو بھی نیکیاں بجالائے بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اُسے ہم یقیناً ایک حیاتِ طیبہ کی صورت میں زندہ کردیں گے اور انہیں ضرور اُن کا اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے جو وہ کرتے رہے۔
پس مومنات کا مطمع نظر انہیں انعامات کی وارث بننا اور اسی ابدی حیات کا پانا ہے۔ اس کیلئے اعمالِ صالحہ بجا لانے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر قرونِ اولیٰ کی خواتین اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کر سکتی ہیں تو آج ہم بھی ان نمونوں کو زندہ کر سکتی ہیں کیونکہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور وہ ہر زمانہ میں ایک سے اثرات رکھتا ہے۔ پس آج مسیح پاک کی جماعت سے اپنے آپ کو وابستہ کرنے کے بعد ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اطاعت رسول کے انہیں نمونوں کو زندہ کر کے دکھائیں۔ ہر قسم کی رسومات اور بدعات کا قلع قمع کریں۔ عریانیت اور بے پردگی کے اس دور میں اسلامی پردے کو قائم کریں۔ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کریں اور اپنی جانوں کے نذرانے دیتے ہوئے اسلام پر ثابت قدم رہیں۔
معزز سامعات! ایک مومنہ کا اوّلین فرض ہے کہ اپنے بچّوں کو صحیح اسلامی تعلیم کے رنگ میں رنگین کرے۔ اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کرے جس طرح صحابیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔ اُن کو عاشق خدا، عاشق رسول اور عاشق قرآن بنادیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’وہ چھوٹی بچیاں اور وہ چھوٹے بچّے جو آپ کی گودوں میں پلتے ہیں آپ کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں، آپ کے دودھ پی کر جوان ہوتے ہیں یا آپ کے ہاتھوں سے دودھ پی کر جوان ہوتے ہیں اس زمانہ میں ابتدائی دَور میں اُن کو خدا کے پیار کی لوریاں دیں۔ خدا کی محبت کی اُن سے باتیں کریں پھرآپ کی بعد کی ساری منازل آسان ہو جائیں گی۔‘‘
حضوررحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
’’ اور خدا کی محبت پیدا کرنے کیلئے آپ کو خدا کی باتیں کرنی ہونگی۔ خدا کی باتیں کرتے وقت اگر آپ کے دل پر اثر نہ ہوا۔ اگر آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ بہے۔ اگر آپ کو دِل موم نہ ہوا تو یہ خیال کرنا کہ بچّے اس سے متاثر ہو جائیں گے، یہ جھوٹی کہانی ہے، کچھ بھی اس میں حقیقت نہیں۔ ایسی مائوں کے بچّے خدا سے محبت کیا کرتے ہیںکہ جب وہ خدا کا ذکر کرتی ہیں تو اُن کے دِل پگھل کر آنسو بن کر بہنے لگتے ہیں۔ ان کے چہروں کے آثار بدل جاتے ہیں۔ بچّے یہ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ اس ماں کوہو کیا گیا ہے۔ کس بات کی اداسی ہے۔ کس جذبے نے اس پر قبضہ کر لیا ہے یہ وہ تاثر ہے جو بچّے کے اندر ایک پاک عظیم تبدیلی پیدا کر دیا کرتا ہے۔ یہ انقلاب کی روح ہے یہ انقلاب کی جان ہے۔ ایسی مائیں بنیں اورایسی مائیں بننے کیلئے… خدا سے مدد مانگتے ہوئے اسکے حسن کی تلاش کرنی ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ حسن آپ پر جلوہ افروز ہو اور آپ کے دلوں میں ایسی محبت بھر دے کہ آپ کا وجود پگھل جائے اور پگھلنے کے بعد ایک نئے وجود میں ڈھالا جائے۔
(خطاب فرمودہ 27 جولائی 1991ء برموقعہ جلسہ سالانہ مستورات، اسلام آباد ٹلفورڈ برطانیہ)
معزز سامعات! سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر 27 دسمبر 2005ء کو مستورات سے خطاب میں مومنات کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے بہترین عورت کی جو خصوصیات بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں مسلمات ہوں۔ اسلام قبول کیا ہے تو اس کو سمجھ رہی ہوں اللہ اور اسکے رسول کے حکموں پر چلنے والی ہوں۔ مومنات ہوں ایمان میں یہاں تک کامل ہوں کہ کبھی کوئی ابتلاء یا کوئی امتحان بھی آپ کے پائے ثبات میں لغزش لانے والا نہ ہو۔ آپ کو کبھی خدا تعالیٰ سے دُور کرنے والا نہ ہو بلکہ اور زیادہ خدا کے قریب کرنے والا ہو اور اسکے آگے جھکانے والا ہو.... آپ نے فرمایا جیسے بھی حالات ہو جائیں آپ کے ایمان میں ہلکا سا بھی جھول نہ آئے۔ پھریہ کہ قانتات ہوں۔ فرمانبرداری میں بڑھی ہوئی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی فرمانبردار ہوں۔ اللہ کے رسول کے حکموں کی اطاعت کرنے والی ہوں۔ نظام جماعت کی اطاعت کرنے والی ہوں۔ جب ہم ایک نظام کے تحت چل رہے ہوں گے تو تب ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔ تائبات ہوں، توبہ کرنے والی ہوں۔ اپنے گذشتہ گناہوں اور غلطیوں کی خدا تعالیٰ سے بخشش طلب کر رہی ہوں اور آئندہ اس عزم کا اظہار کر رہی ہوں کہ تمام گذشتہ کوتاہیوں اور غلطیوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں گی۔ صحیح توبہ تب ہی ہوتی ہے جب تمام بدعات جو مختلف قسم کی عورتوں میں رائج ہو جاتی ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں گی۔ ہمارے اس مشرقی معاشرے میں ہر علاقے کی، ہر قبیلے کی، ہر خاندان کی مختلف رسومات ہیں جو بعض دفعہ بوجھ بن جاتی ہیں اور یہی بوجھ ہیں جو بدعات ہیں۔ ان کی اس طرح پابندی کی جاتی ہے جس طرح یہ دین کا کوئی حصّہ بن چکی ہیں۔ حالانکہ دین تو سادگی سکھاتا ہے۔ اپنے ایمان کی مضبوطی کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے ہوئے اس سے مدد مانگنے والی ہوں۔ عابدات ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی ہوں… صالحات ہوں، روزے رکھنے والیاں اور اپنے روحانی مقام کو بڑھانے کیلئے عبادتوں کی طرف توجہ دینے والیاں ہوں۔
حضور انور فرماتے ہیں’’ پس اگر احمدی عورتیں ان خصوصیات کی حامل ہو جائیں۔ ہر لمحہ اورہر آن صرف خدا تعالیٰ کی ذات ان کے پیش نظر ہو ،ہر قسم کی برائیوں سے بچنے والی ہوں، تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیں احمدیت کی آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ملتی رہے گی۔‘‘
آپ فرماتے ہیں: ’’عورت کو جو مقام دیا گیا ہے کہ اُس کے پائوں کے نیچے جنّت ہے صرف اولاد کو حکم نہیں ہے کہ ماں کی عزت کرو اور جنّت کمائو بلکہ مائوں کو حکم ہے کہ تم بھی اُن خصوصیات کی حامل بنو جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں اور اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرو کہ وہ جنّت میں جانے والی ہو۔‘‘
معزز سامعات! اب خاکسار اپنی تقریر کے دوسرے پہلو کی طرف آتی ہے کہ دورِ حاضر میں مومنات اِن خصوصیات کو کس طرح حاصل کر سکتی ہیں؟
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ جرمنی مورخہ 29 جون 2013ء بمقام کالسروئے میں مستورات سے خطاب میں فرمایا:
’’پس یہ دنیا جہاں دنیادار کی زندگی کا مقصد ہے اور خدا تعالیٰ سے دُور کرنے والی ہے وہاں ایک مومن کیلئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک مومن مرد ہو یا عورت جب اللہ تعالیٰ کے دنیاوی فضلوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں صرف دنیاوی خواہشات کے پورا کرنے کا ذریعہ نہیں بناتے۔ دنیاداروں کی طرح یہ نہیں کہتے کہ یہ سب مجھے اس لئے ملاہے کہ میں اسکا حقدار تھا یامیں حقدار تھی۔ دنیا کی دولت اور آسائشیں، سہولت کے تمام سامان ایک مومن کو اور ایک مومنہ کو اُن اعلیٰ مقاصد سے غافل نہیں کرتے جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اور اُن میں سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ہے۔ ان نعمتوں کے بڑھنے پر اللہ تعالیٰ کے حضور ایک مومنہ اور ایک مومن مزید جھکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اُسکی نعمتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرکے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو دولت دی ہے اسکا اظہار صرف اپنی زینت کے سامان کرکے نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حاصل کرنے کیلئے اپنے محروم بہن بھائیوں جن میں صرف خونی رشتہ کے بہن بھائی شامل نہیں بلکہ انسانی رشتوں کے بہن بھائی بھی شامل ہیں۔ اُن کے بھی حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کی بھی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’تقویٰ اختیار کرو دنیا سے اور اس کی زینت سے بہت دل مت لگائو۔ قومی فخر مت کرو۔ کسی عورت سے ٹھٹھا ہنسی مت کرو۔ خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جو ان کی حیثیت سے باہر ہیں، کوشش کرو کہ تا تم معصوم اور پاک دامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو خدا کے فرائض نماز زکوٰۃ وغیرہ میں سستی مت کرو اپنے خاوندوں کی دل و جان سے مطیع رہو بہت سا حصہ ان کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے سو تم اپنی اس ذمہ داری کو ایسی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک صالحات قانتات میں گنی جائو۔ اسراف نہ کرو اور خاوندوں کے مالوں کو بیجا طور پر خرچ نہ کرو، خیانت نہ کرو، چوری نہ کرو، گلہ نہ کرو، ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ لگاوے ۔ ‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن، جلد 19، صفحہ 81)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطاب میں احمدی عورتوں کو نصائح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’پس اے احمدی عورتو اور بچیو! اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آکر اپنے آپ کوتقویٰ پر قائم رکھنے کا عہد کرنے والیو! اپنے آپ کودنیا کی لہو و لعب سے دُور رکھنے کا اعلان کرنے والیو! اپنی زینت کی قرآن حکیم کے حکم کے مطابق حفاظت کا اعلان کرنے والیو!… اپنے مالوں کو دنیا کی لذات کے بجائے دین کے پھیلانے پر خرچ کرنیکا عہد کرنے والیو!… اپنے جائزے لیں اور دیکھیں کہ کسی حد تک آپ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہی ہیں…کس حد تک اپنے آپ کو دنیاداری کے دھوکے سے بچا رہی ہیں۔ کس حد تک اپنے عہدوں کو نبھا رہی ہیں۔ کس حدتک آپ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں کی وسعتوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور ایک حقیقی مومنہ بن کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن رہی ہیں۔ کس حد تک اپنے خاوندوں کے گھروں کی نگران بن کر اپنی اولاد کو لہو و لعب کے خطرناک حملوں سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کس حد تک اپنے خاوندوں کی دینی غیرت اُبھارنے میں کوشش کر رہی ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے ہمیشہ اسکے فضل کی وارث بنتی چلی جائیں۔ اللہ کرے کہ ہر احمدی عورت اور مرد اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی مغفرت اور اس کی رضوان کے حصول کیلئے پہلے سے بڑھ کر کوشش کرنے والا ہو۔‘‘
(مستورات سے خطاب بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی 29جون 2013ء)
معزز سامعات! مورخہ 30 ؍اکتوبر 2021 کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نارتھ انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی 13 تا 15 سالہ ناصرات الاحمدیہ کے ساتھ آن لائن ملاقات فرمائی۔ جس میں ایک ناصرہ بچّی نے حضور انور سے سوال کیا کہ معاشرے میں ذہنی امراض اور ڈپریشن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ حضور انور نے فرمایا کہ بسا اوقات ذہنی امراض اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم بہت زیادہ مادہ پرستی میں پڑ رہے ہیں۔ ہماری خواہشات اور تمنائوں کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔ بجائے اللہ کی محبت اور قربت میں بڑھنے کے، ہم دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ یہ اسکی بنیادی وجہ ہے اور جب دنیاوی خواہشات پوری نہ ہوں اور جو آپ چاہتے ہیںوہ نہ ملے تو پھر آپ کو مایوسی ہوتی ہے اور یہ مایوسی پھر بے چینی میں بڑھاتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ دلی سکون حاصل کرنے کا بہترین طریق اللہ کی یاد ہے اور ذہنی سکون ملتا ہے۔ اس لئے جب بھی آپ کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اللہ کو یاد کریں۔ اسکے سامنے جھکیں۔ پنجوقتہ نماز باقاعدگی اور خلوص سے ادا کریں پھر اللہ آپ کو سکون عطا فرمائے گا اور دلی اطمینان دیگا اور نتیجۃً آپ پرسکون اور بہتر محسوس کریں گے۔
دورِ حاضر میں جدید ٹیکنالوجی اور میڈیا کا غلط استعمال بلاشبہ ایک شیطانی فعل ہے۔ ایسے شیطانی حملوں سے بچنے کیلئے دُعائوں کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ 20مئی 2016ء بمقام مسجد ناصر گوٹن برگ سویڈن میں فرماتے ہیں:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کو شیطان کے حملوں سے بچانے کی کس قدر فکر ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے صحابہ کو شیطان سے بچنے کی دُعائیں سکھاتے تھے اور کیسی جامع دُعائیں سکھاتے تھے، اسکا ایک صحابی نے یوں بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دُعا سکھلائی کہ
اَے اللہ! ہمارے دلوں میں محبت پیدا کر دے۔ ہماری اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہوں پر چلا اور ہمیں اندھیروں سے نجات دے کر نُور کی طرف لے جا اور ہمیں ظاہر و باطن فواحش سے بچا اور ہمارے لئے ہمارے کانوں میں، ہماری آنکھوں میں، ہماری بیویوں میں اور ہماری اولادوں میں برکت رکھ دے اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔ یقیناً تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کا ذکر خیر کرنے والا اور اُن کو قبول کرنے والا بنا اور اے اللہ ہم پر نعمتیں مکمل فرما۔‘‘
(سنن ابو دائود کتاب الصلوٰۃ باب التشہد حدیث نمبر 969)
پس یہ دُعا ہے جو دنیاوی لغویات سے بھی روکنے کیلئے ہے۔
معزز سامعات! حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دورِ حاضر میں خاص طور پر احمدی خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی پُر درد نصائح کرتے ہوئے فرمایا:
’’پس ایک احمدی عورت جس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت اس لئے کی ہے کہ اپنے آپ کو دنیا کی ناپاکیوں سے بچائے اور انجام بخیر ہو اور انجام بخیر کی طرف قدم بڑھائے، اس کو اس معاشرے میں بہت پھونک پھونک کے قدم رکھنا ہوگا۔ اپنے لباس کا بھی خیال رکھنا ہوگا اور اپنے پر دے کا بھی خیال رکھنا ہوگا، اپنی حرکات کا بھی خیال رکھنا ہوگا اپنی گفتگو کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں: ایک بچّی نے مجھے پاکستان سے لکھا کہ اگر میں جینز کے ساتھ لمبی قمیص پہن لوں تو کیا حرج ہے۔ اثر ہو رہا ہے نا۔ تو میں تو یہ کہتا ہوں کہ جینز کے ساتھ قمیص لمبی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کوئی برائی نہیں ہے بشرطیکہ پردے کی تمام شرائط پوری ہوتی ہوں لیکن مجھے یہ ڈر ہے اُس کو بھی میں نے یہی کہا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد یہ لمبی قمیص پھر چھوٹی قمیص میں اور پھر بلائوز کی شکل میں نہ آجائے کہیں۔ تو جو کام فیشن کے طور پر، یا دیکھا دیکھی کیا جاتا ہے اُن میں پھر مزید زمانے کے مطابق ڈھلنے کی کوشش بھی شروع ہو جاتی ہے اور پھر اور بھی قباحتیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر جب وقت آتا ہے محسوس ہوتی ہیں۔ اس لئے ان راستوں سے ہمیشہ بچناچاہئے جہاں شیطان کے حملوں کا خطرہ ہو۔ آپ نے اورآپ کی نسلوں نے ایمان میں ترقی کرنی ہے اس لئے وہی راستے اختیار کریں جو زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہوں اور ذاکرات بننے کی کوشش کریں۔ عابدات بننے کی کوشش کریں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔‘‘(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 4 ستمبر 2004ء)
بڑھتی رہے خدا کی محبت خدا کرے
حاصل ہو تم کو دید کی لذت خدا کرے
توحید کی ہو لب پہ شہادت خدا کرے
ایمان کی ہو دل میں حلاوت خدا کرے
حاکم رہے دلوں پہ شریعت خدا کرے
حاصل ہو مصطفیٰ کی رفاقت خدا کرے
قرآنِ پاک ہاتھ میں ہو دل میں نور ہو
مل جائے مومنوں کی فراست خدا کرے
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
…٭…٭…٭…