اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-16

شہدائے احمدیت کی عدیم المثال قربانیاں ( حمید اللہ حسن ،امیرضلع و مبلغ انچارج حیدرآباد)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ
وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قابل احترام صدر مجلس معزز سامعین !خاکسا ر آج اس بابرکت موقع پر شہداء احمدیت کی عدیم المثال قربانیوں کا ذکر کرے گا۔ انشاء اللہ
اسلام میں شہداء کا بہت بلندمرتبہ بیان ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ۝۰ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (البقرۃ: 155)اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو مردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔
مولیٰ کے حضور خیر پانے کے بعد سوائے شہید کے اور کوئی دنیا میں واپس آنے کی خواہش نہیں کرتا۔ شہادت کی فضیلت کی وجہ سے شہید ایسا چاہتا ہے۔ حدیث میں ذکر ہے کہ شہید کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر پڑنے سے قبل ہی شہید کو بخش دیا جاتا ہے ۔ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ جب جب دنیا کی ہدایت کیلئے انبیاء دنیا میں آتے رہے تب تب زمانےکےفرعونوںاورنمرودوںنےان پاک وجودوں اور ان کے متبعین سے نہ صرف استہزا کیابلکہ ان کی پاک جماعتوں کو مٹانے کیلئے ہر قسم کے ظلم کو روا رکھا اور ظلم اور بربریت کی ایسی داستانیں رقم کیں جس کے ذکر سے آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔آگ میں ڈالکر جلانے کی کوشش کی گئی۔سر پر آرا رکھ کر جسم کے دو ٹکڑے کئے گئے۔ دونوں ٹانگیں اونٹوں سے باندھ مختلف سمت میں دوڑا کر جسم کو چیر دیا گیا ۔ کبھی حضرت سمیہ ؓجیسی غریب خاتون کی شرم گاہ پر نیزہ مار کر شہید کیا گیا۔ تو کبھی حضرت حمزہؓکا کلیجہ کچا چبایا گیا۔
کبھی بئرمعونہ تو کبھی کربلا کا میدان ۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :شہید وں کی خون ہی میںقوموں کے حیات کا راز مضمر ہے۔آب حیات کے قصے آپ نے سنے ہیں ہر دوسرا قصہ جھوٹ ہے مگرشہیدوں کا خون یقیناآب حیات کا حکم رکھتا ہے۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
اسلام کازندہ ہوناہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے ہمارا اسی راہ میں مرنا یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ ( فتح اسلام،صفحہ 11)
معزز سامعین ! فرزندان احمدیت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کو لفظاً لفظاً پورا کیا اور اسلام کی زندگی کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔آج روئے زمین پر یہ سعادت مندی صرف جماعت احمدیہ کو ہی حاصل ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت کی عملی تصویر بنتے ہوئے نہ صرف ہمیشہ کی زندگی حاصل کر رہے ہیں بلکہ بہت سے ایسے بھی ہیں جو قرآن مجیدکے ارشادکےمطابق اس سعادت مندی کے منتظر ہیں فَمِنْہُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرْ (الاحزاب: 24)
پیارے بھائیو!
کن شہدا کا ذکر کروں۔ افغانستان کے شہداء کا ذکر کروںیا امریکہ کے ہندوستان کے شہداء کا ذکر کروں یاپاکستان کے بنگلہ دیش کے شہداء کا ذکر کروں یاانڈونیشا، سری لنکااوربرکینا فاسوکے ۔ الغرض شہداء احمدیت نے دنیاء کے ہرخطے میں اپنے خون سے احمدیت کی چمن کی آبیاری کی۔ اس مختصر وقت میں تمام شہداء کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ ممکن نہیں۔ خاکسار اپنی عاجزی کا اقرار کرتے ہوئے چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کریگا۔ وباللہ توفیق۔
(حضرت مولوی عبد الرحمٰن صاحب
شہید کابل رضی اللہ عنہ )
معزز سامعین !
آیئے آج اس مجلس کو قوموں کی حیات کیلئے جان کے نذرانے پیش کرنے والے معصوم شہیدوں کے نام کریں۔ شہداء احمدیت کی قربانیوں کا یہ سلسلہ مولوی عبد الرحمٰن صاحبؓسے شروع ہوتا ہے۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو1884ءمیں الہام ہوا’’ شاتان تذ بحان و کل من علیھا فان‘‘اسکی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائگایعنی ہر ایک کیلئے قضاء و قدر پیش ہے اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں۔ (تذکرہ ،صفحہ 69 )
مولوی عبد الرحمٰن صاحب شہید رضی اللہ عنہ افغانستان کے رہنے والے تھے ۔حضرت صاجزادہ عبد الطیف صاحب رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے ۔ صاجزادہ عبد اللطیف صاحبؓنے مولوی عبد ارحمٰن صاحبؓکو 1900ء میں اپنا بیعت کا خط دیکر قادیان روانہ فرمایا ۔جب آخری بار قادیان سے آپ واپس کابل تشریف لے گئے تو کسی نے امیر کابل سے ان کی شکایت کی کہ یہ بغیر اجازت کے قادیان گئے اور مسیح موعود پرایمان لائے۔اس پر بادشاہ نے انہیں قید کیا اور مولویوں کے سپرد کیا اور مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا اور قتل کی سزا سنائی۔ اس پر آپ کو قید کرلیا گیا اور قید کے دوران ہی آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گلا گھونٹ کر شہید کیا گیا۔آپؓکی شہادت 1901ء میں ہوئی۔
( خطبہ جمعہ23 ؍اپریل1999ء)
(حضرت شہزادہ عبد اللطیف
صاحب شہید رضی اللہ عنہ )
اگلا ذکر سیّد الشہداء کا ہے۔ شہزادہ حضرت عبد اللطیف صاحب رضی اللہ عنہ افغانستان کے بہت بڑے عالم دین اور مانے ہوئے بزرگ تھے ۔
آپ کوشاہان کابل کے دربار میں بہت عزت کا مقام حاصل تھا۔ آپؓ 1902ء میں قادیان تشریف لے آئے تھے اور چند ماہ قیام فرمایا۔ آپ سے پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
ــ’’جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی میں اور اپنے دعوی کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کیلئے ممکن نہیں ۔
( تذکرۃ الشہادتین، صفحہ 10)
جب آپ قادیان سے اپنے وطن پہنچے تو امیر نے دھوکہ سے صاجزادہ صاحب کو کابل بلا لیا۔جب امیر صاحب کے روبرو پیش کئے گئے امیر نے کراہت کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ مجھے ان سے بو آتی ہے ان کو فاصلہ پر کھڑا کرو۔پھر تھوڑی دیر کے بعد امیر کے حکم پر صاحبزادہ صاحب کو تقریباً 70 کلو وزنی زنجیر، ہتھکڑی اور بیڑیاں پہنا دی گئیں اوراس دردناک حالت میں مولوی صاحب کو چار مہینے تک قید میں رکھا گیا۔اس عرصے میں کئی دفعہ آپؓکو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ اگر تم اس خیال سے توبہ کروکہ قادیانی درحقیقت مسیح موعود ہے تو تمہیں رہائی دی جائے گی۔
اس پر شہید مرحوم نے فرمایا: ’’ یہ انکار تو مجھ سے نہیں ہوگا میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق پا لیا ۔ اس لئے چند روزہ زندگی کیلئے مجھ سے بے ایمانی نہیں ہوگی کہ میں اس ثابت شدہ حق کو چھوڑدوں ۔ میں جان چھوڑنے کیلئے تیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں مگر حق میرے ساتھ جائے گا۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین،صفحہ52)
جس پر امیر نے اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کاغذلکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا اور پھر امیر نے حکم دیا کہ ناک میں چھید کرکے اس میں رسی ڈال دی جائے ۔ چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اس میں رسی ڈال دی گئی ۔ تب اس رسی کے ذریعہ شہید مرحوم کو نہایت ٹھٹھے ہنسی اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل تک لے جایا گیا۔
راستے میں شہید مرحوم بہت جلد جلد اورخوش خوش جا رہے تھے ۔ ایک مولوی نے پوچھا آپ اتنے خوش کیوں ہیں اور کیوں ایسی جلدی کر رہے ہیں ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ہیں اور ابھی آپ سنگسار ہونے کو ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
’’یہ ہتھ کڑیاں نہیں ہیں بلکہ محمد مصطفے ﷺ کے دین کا زیور ہیں اگر چہ سنگسار ہونے کی جگہ دیکھ رہا ہوں لیکن ساتھ ہی مجھے یہ خوشی ہے کہ میں جلد اپنے پیارے مولیٰ سے مل جاؤں گا ۔‘‘ ( شہید مرحوم صاجزادہ عبد الطیف چشم دید واقعات سید احمد نور کابلی صاحبؓ)
جب مقتل پر پہنچے تو شہزادہ مرحوم کو کمرتک زمین میں گاڈ دیا اور پھر اس حالت میں جبکہ آپ کمر تک زمین میں گاڑ دئیے گئے تھے امیر ان کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچالیتا ہوں ۔اب تیرا ا ٓخری وقت ہے اور یہ آخری موقع ہے جو تجھے دیا جاتاہے اور اپنی جان اور اہل و عیال پر رحم کر ۔
’’شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ با للہ سچائی سے کیوں کر انکار ہو سکتا ہے اورجان کی کیا حقیقت ہے اور عیال اور اطفال کیا چیزہیں جن کیلئے ایمان کو چھوڑ دوں ۔ مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کیلئے مروں گا۔‘‘تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے کافر ہے اس کو جلد سنگسار کرو۔
(تذکرۃ الشہادتین،صفحہ 59)
تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا ۔ جس سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی اور بعد اسکے بد قسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا ۔ پھر کیا تھا اس بد بخت امیر کی پیروی میں ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پرایک کو ٹھہ پتھروں کا جمع ہو گیا ۔ (خطبہ جمعہ23؍اپریل1999ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
صاجزادہ عبد اللطیف شہید کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے ۔ تذکرۃ الشہادتین کو بار بار پڑھو اور دیکھو کہ اس نے اپنےایمان کا کیسا نمونہ دکھایا اس نے دنیا اوراسکے تعلقات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی بیوی یا بچوں کا غم اس کے ایمان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا۔ دنیوی عزت اور منصب اور تنعم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔اس نے جان دینی گوارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا ۔ عبد اللطیف کہنے کو ماراگیا یا مر گیا مگر یقینا سمجھوکہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ ( ملفوظات ، جلد 6 صفحہ 255 ایڈیشن 1984)
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام مزید فرمایا:
’’ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں جو صدقدل سے ایمان اور حق کیلئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اَے عبد اللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تونے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔‘‘
(روحانی خزائن ، جلد 20،صفحہ 60 )
حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جماعت کی طرف سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی روح کو میں کامل یقین سے یہ پیغام دے سکتا ہوں کہ اَے ہمارے آقاتیرے بعد تیری جماعت انہی راستوں پر چلی ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ چلتی رہے گی جو راستے صاجزادہ عبد اللطیف شہید نے ہمارے لئے بنائے تھے۔گو ان سے نسبت کوئی نہیں مگر غلامانہ ہم انہیں راہوں پر چل رہے ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ23؍اپریل1999ء)
سینچا ہے شہیدوں نے لہو دے کے چمن کو
ہر قصر وفا ایسے ہی تعمیر ہوا ہے
( مکرم افضل کھوکھر صاحب شہید )
(مکرم اشرف کھوکھر صا حب شہید)
معزز سامعین! شہداء احمدیت کی لازوال اور عجوبہ روز گار قربانیوں سے جماعت کی صد سالہ تاریخ معطر ہے۔
1974ءمیں ظالم حکومت کی آرڈننس پر پورے پاکستان میں احمدیت کے خلاف مخالفت کا طوفان برپا ہوا۔احمدیوں کے گھر جلائے گئے لوٹے گئے اور احمدیوں کو شہید کیا گیا جن میں مکرم افضل کھوکھر صاحب اور اشرف کھوکھر صاحب باپ اور بیٹے بھی تھے جن کو یکم جون کو گوجرانوالہ میںشہید کیا گیا۔
گھر کی عورتوں کو محفوظ جگہوں پر پہنچانے کے بعد دونوں گھر پر ہی تھے کہ جلوس نے حملہ کیا۔اور انہیں درد ناک طریقے سے مارا گیا۔ چھرے مارے گئے۔ انتڑیاں باہر نکل آئیں پھر اینٹوں سے سر کوٹے گئے اور آخری وقت سسکتے ہوئے جب بیٹا پانی مانگ رہا تھاتو گھر پر جو عمارت کیلئے ریت پڑی تھی وہ شہید کے منہ میں ڈال دی گئی اوراس طرح پہلے بیٹے کو باپ کے سامنے کچل کچل کر مار دیا گیا ۔ پھر باپ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اب بھی ایمان لاؤاور مرزا غلام احمد قادیانی کو گندی گالیاں دو۔ (نعوذ باللہ)
افضل کھوکر صاحب کو بخوبی علم تھا۔
یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر نہ پنپیں گے
اس راہ میں جان کی کیا پروا جاتی ہے اگر تو جانے دو
شہید مرحوم نے جواب دیا کہ’’کیا تم مجھے اپنے بیٹے سے ایمان میں کمتر سمجھتے ہو جس نے میرے سامنے اس بہادری سے جان دی ہے۔ جو چاہو کر لو،اس سے بد تر سلوک مجھ سے کرومگر اپنے ایمان سے متزلزل نہیں ہوں گا۔‘‘
اس پر ان کو اسی طرح نہایت دردناک عذاب دیکر شہید کیا گیااور دونوں کی نعشیں تیسری منزل سے گھر کے نیچے پھینک دی گئیں اور سارا دن کسی کو اجازت نہ تھی کہ وہ ان کی نعش کو اٹھا سکے۔
(ماخوذ از خطبہ جمعہ 18جون1999ء )
(مکرم مرزا غلام قادر صاحب شہید)
اگلا ذکر خاکسار خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے شہید کا کرنا چاہتا ہے جن کے متعلق حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو 1904ء کو الہام ہوا ’’غلام قادر آگئے گھر نور اور برکت سے بھرگیا‘‘
مرزا غلام قادر صاحب کو14؍اپریل 1999ء کو شہید کیا گیا تھا۔شہید مرحوم کا تعلق حضرت مسیح مو عود علیہ السلام کی براہ راست ذریت کی تیسری نسل سے ہے ۔ غلام قادر شہید حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے اورصاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب اور قدسیہ بیگم صاحبہ کے چھوٹے صاحبزادےتھے۔ نہایت محنتی ،خاموش طبع اور د ل نو از شخصیت کے مالک تھے۔
معزز سامعین!در اصل ظالموں کی یہ کوشش تھی کہ غلام قادر صاحب کو ایک کار میں ڈال کر اس میں جدید اسلحہ بھر کر کا ر سمیت جلا دیا جائے تاکہ کار سے یہ اسلحہ ملتا تو جماعت پر الزام لگتا کہ سارے پاکستان میں جو خطرنا ک اسلحہ تقسیم ہو رہا ہے اور بدمعاشیاں کی جارہی ہیں یہ جماعت احمدیہ کر وارہی ہے ۔ شہید مرحو م کو سمجھ آئی تھی کہ یہ ایک بہت خطرناک سازش ہے جس کے بد اثرات جماعت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ آخر دم تک ان سے لڑتے رہے اغوا کا منصوبہ نا کام کردیا اور سڑک پر باہر نکل کر ان کی گولیوں کا نشانہ بننا قبول کرلیا تا کہ جماعت احمدیہ اس سازش کے بد اثرات سے محفوظ رہے ۔اگرظالم کامیاب ہوتے توبے شمار احمدی معصوموں کی جانیں ان کے رحم وکرم پر ہوتیں ، جو رحم و کرم کا نام تک نہیں جانتے۔( ماخوذ ازخطبہ جمعہ 16؍اپریل 1999ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’قیامت تک شہید کے خون کا ہر قطرہ آسمان احمدیت پر ستاروں کی طرح جگمگاتا رہیگا مجھے اس بچے سے بہت محبت تھی میں اسکی خوبیوں پر گہری نظر رکھتاتھا۔ گویا میری آنکھوں کا تارا تھا،مجھے صرف ایک حسرت ہے کہ کاش کبھی لفظوں میں اسے بتا دیا ہوتا کہ اے قادرتم مجھے کتنے پیارے ہو ۔کبھی آج تک ناز اور غم کے جذبات نے مل کر میرے دل پر ایسی یلغار نہیں کی جیسے قادر شہید کی شہادت نے کی۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍اپریل 1999ء)
اَے شہید تو ہمیشہ زندہ رہے گا اور ہم سب ایک دن آکر تجھ سے ملنے والے ہیں ۔ زندہ باد غلام قادر شہید پائندہ باد۔ (خطبہ جمعہ 16؍اپریل 1999ء)
(شہدائے لاہور)
اب میں شہداء لاہور کے متعلق چند اقتباسات پیش کروںگا۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو لاہور کے تعلق سے13؍دسمبر1900 ءکوالہام ہو ا۔
’’لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں ‘‘
’’ لاہور میں ہمارے پاک محب ہیں‘‘
28؍مئی 2010ء جمعۃ المبارک کا دن تاریخ احمدیت میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اس دن دشمنوں نے لاہور کی دو مساجد پر حملہ کرکے80سے زائد احمدیوں کو شہید کیا ۔ان کی شہادت کے مرتبہ نے ثابت کردیا کے وہ یقیناً پاک ممبر اور پاک محب تھے اس دردناک واقعہ کے ذکر سے خاکسار عاجز ہے۔ صرف اتنا کہنا چاہتا ہےکہ
بھولے گا نہ وہ لمحہء شور قیامت
پھٹتاہے جگر لکھوں جو تفصیل شہادت
کس کس کا لہو تھاجو سر فرش عبادت
بہتا تھا اٹھائے ہوئے بار امانت
ہر قطرۂ خون سے چھلکتی تھی اطاعت
اَے ملت اسلام کے معصوم شہیدو
بہتے ہوئے اشکوں سے میں دیتا ہوں سلامی
بہتے ہوئے اشکوں سے میں دیتا ہوں سلامی
ہمارے پیارے آقاحضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ صبر و رضا کے پیکر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے بے چین دین کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے گھنٹوں اپنے زخموں اور ان میں سے بہتے ہو ئے خون کو دیکھتے رہے۔لیکن زبان پر حرف شکایت لانے کی بجائے دعاؤں اور درودسے اپنی اس حالت کواللہ تعالیٰ کے حصول کا ذریعہ بنا تے رہے۔‘‘
حضورمزید فرماتے ہیں :’’پھرمَیں نے جب ہر گھر میں فون کرکے تعزیت کرنے کی کوشش کی تو بچوں، بیویوں ،بھائیوں ، ماؤں اور باپوں ،کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی پایا۔خطوط میں جذبات چھپ بھی سکتے ہیں لیکن فون پر ان کی پر عزم آوازوں میں یہ پیغام صاف سنائی دے رہا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے مومنین کے اس رد عمل کا اظہار بغیر کسی تکلف کے کر رہے ہیں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون ہم پورے ہوش و حواس اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ادراک کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر خوش ہیں۔ یہ ایک ایک دو دو قربانیاں کیا چیزہیں۔ ہم تو اپنا سب کچھ اور اپنے خون کا ہر قطرہ مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کیلئے قربان کرنے کیلئے تیار ہیں کہ آج ہمارے لہو، آج ہماری قربانیاں ہی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل الرسل اور خاتم الانبیاہونے کا اظہار اور اعلان دنیا پر کریں گی ۔‘‘
یہ عجیب قسم کے لوگ ہیں جو سب کچھ لٹانے کو تیار بیٹھے ہیں گویا کہتے ہیں۔
دے چکے دل اب تن خاکی رہا
ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا
( سید طالع احمد صاحب شہید)
اگلا شہید جن کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ3 ؍ستمبر 2021 ءکو فرمایا ۔
’’ گزشتہ دنوں ہمارے ایک بہت ہی پیارے بچے اور واقف زندگی عزیزم سید طالع احمدابن سید ہاشم اکبر کی گھانا میں شہادت ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ رجعون۔ ‘‘
شہید مرحوم نے2013ءمیں زندگی وقف کی پھر مختلف دفتروں میں کام کرنے کے بعد آخر پریس اور میڈیا میں ان کی تقرری ہوئی۔
سامعین! حضور انور کی مصروفیات کا ہفتہ وار پروگرام This week with Huzoor کو انہوں نے ہی شروع کیا تھا ۔
23،24؍اگست کی درمیانی شب mtaکی ٹیم گھانا کےnorthernریجن میں ریکارڈنگ کرکے Kumasiآرہی تھی کہ راستے میں سوا سات بجے کے قریب Mpahaپہنچے تھے کہ ڈاکوؤں نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔ سید طالع گاڑی کے پچھلے حصے میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کو فائرنگ میں کمر پہ دائیں طرف گولی لگی اور اندر تک دھنس گئی جس کی وجہ سے بہت سا خون بہہ گیا میڈیکل رپوٹ کے مطابق یہی جان لیو ابھی ثابت ہوا ۔
عمر فاروق صاحب (جو کہ اس سفر میں شہید مرحوم کے ہمراہ تھے)نے فرمایا کہ’’ طالع شہید کا سر میری ران پر تھا اور بار بار مجھ سے یہی پوچھتے تھے کہ کیا حضور کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی ؟دعا کے لئے کہہ دیا ؟
خون بہت بہہ رہا تھا ان حالات میں بھی جماعتی اموال کی فکر تھی اور بتایا کہ فائرنگ کے دوران لیپ ٹاپ اور موبائل ودیگر چیزیں سیٹ کے نیچے دھکیل دی ہیں وہاں سے محفوظ کرلیں۔ ‘‘
اس حالت میں شہید مرحوم نے پیغام دیا:
''tell huzur that i love him, and tell my family that i love them''
پھربے ہوش ہوگئے اور جب ہو ش آیا تو پھر یہی الفاظ دہرانے لگے ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز شہید مرحوم کی اطاعت اور وفا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ایک ہیرا تھا جو ہم سے جدا ہوا۔اللہ تعالیٰ ایسے وفا شعار ۔ خلافت سے اخلاص اور وفا کا تعلق رکھنے والے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے جماعت کو عطا فرماتا رہے۔لیکن اس کا نقصان ایسا ہے کہ ہلا کے رکھ دیا وہ پیارا وجود، وقف کی روح کو سمجھنے والا اور ا س عہد کو حقیقی رنگ میں نبھانے والا تھا۔‘‘
طالع مرحوم نے ایک نظم لکھی اور شروع اس طرح کیا تھا کہ میں خلیفہ وقت سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں اور ختم اس طرح کیا تھا کہ خلیفہ وقت سے جو مجھے پیار ہے اور محبت ہے وہ انہیں کبھی پتہ نہیں چلے گا ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :’’اَے پیارے طالع !مَیں تمہیں بتا تا ہوں کہ تمہارے ان آخری الفاظ سے پہلے بھی مجھے پتہ تھا کہ تمہیں خلافت سے پیاراور محبت کا تعلق تھا ۔ تمہارے ہر عمل سے، ہر حرکت و سکون سے ، جب تمہارے ہاتھ میں کیمرہ ہوتا تھا اور میں سامنے ہوتا تب بھی ،اور جب کیمرہ کے علاوہ ملے تب بھی چاہے ذاتی ملاقات ہو ،یا دفتر کے کام سے ، تمہاری آنکھوں کی چمک سے اس محبت کا اظہار ہوتا تھا۔ تمہارے چہرے کی ایک عجیب قسم کی رونق سے اس محبت کا اظہار ہوتا تھا۔‘‘
اَے پیارے طالع میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً تم نے اپنے وقف اور عہد کے اعلیٰ ترین معیاروں کو حاصل کرلیا ہے۔
(ماخوذ ازخطبہ جمعہ 3؍ستمبر2021ء)
(شہداء برکینافاسو )
اگلا ذکر برکینا فاسو کے شہداء کا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 20؍ جنوی 2023 کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:
’’گذشتہ دنوں بر اعظم افریقہ کے ملک برکینا فاسو میں عشق و وفااور اخلاص اور ایمان اور یقین سے پر افراد جماعت نے جو نمونہ مجموعی طور پر دکھایا ہے وہ حیرت انگیز ہے اور اپنی مثال آپ ہے۔‘‘
11؍جنوری کو عشاءکے وقت چار موٹر سائیکل پر آٹھ مسلح افراد مسجد میں آئے اور جماعت کے عقائد کے بارے میں سوال کئے امام ابراھیم بدیگا صاحب نے بڑی بہادری سے جواب دئیے ۔اور بتایا کہ ہم مسلمان ہیں اور آنحضرت ﷺ کو ماننے والے ہیں۔ مسلح افراد نے کہاکہ احمدی مسلمان نہیں بلکہ پکے کافر ہیں۔
پھر دہشت گردوں نے مسجد میں موجود نمازیوں میں سے9؍ انصار کو لیکرمسجد کے صحن میں آگئے اور امام ابراھیم بدیگا صاحب سے کہا کہ اگر وہ احمدیت سے انکا ر کردیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔
امام صاحب نے جواب دیا’’میرا سر قلم کرنا ہے تو کردیں لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ جس صداقت کو میں نے پا لیا ہے اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ۔ ایمان کے مقابلہ میں جان کی حیثیت کیا ہے۔‘‘
دہشت گردوں نے امام صاحب کی گردن پر بڑا چاقو رکھا اور ذبح کرنا چاہا لیکن امام صاحب نے مزاحمت کی’’ اور کہا کہ میں لیٹ کر مرنے کی نسبت کھڑے رہتے ہوئے جان دینا پسند کروں گا۔‘‘
اس پر انہوںنے امام صاحب کو گولیاں مار کر شہید کردیا ۔ امام صاحب کو بے دردی سے شہید کرنے کے بعد دہشت گردوں نے خیال کیا کہ باقی لوگ خوف زدہ ہو کر اپنے ایمان سے پھر جائیں گے مگر ایک ایک شہید گرتا گیاکسی نے ذرا سی کمزوری نہ دکھائی۔ جب آٹھ افراد کو شہید کیا جا چکا تو آخر پر عبد الرحمٰن صاحب جن کی عمر 44سال تھی وہ رہ گئے ۔ عمر کے لحاظ سے سب شہداء سے چھوٹے تھے دہشت گردوں نے ان سے پوچھا کہ تم جوان ہو ۔ احمدیت سے انکار کر کے اپنی جان بچا سکتے ہوتو انہو ںنے بڑی شجاعت سے جواب دیا کہ’’ جس راہ پر چل کر میرے بزرگوں نے قربانی دی ہے جو حق کی راہ ہے میں بھی اپنے امام اور بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر ایمان کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار ہوں ۔ ‘‘
اس پر انہیں بھی بڑی بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ان تمام سے فردا ًفرداً یہی مطالبہ کیا گیا کہ امام مہدی کا انکار کردیں اور احمدیت چھوڑ دیں تو انہیں کچھ نہیں کیا جائے گا اور زندہ چھوڑ دیا جائے گا۔
( ماخوذ از خطبہ جمعہ 20؍ جنوی 2023ء)
لیکن سب احمدی بزرگوں نے پہاڑوں جیسی استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جرأت اور بہادری سے شہادت کو گلے لگانا قبول کرلیا۔کسی ایک نے بھی ذرا سی کمزوری نہ دکھائی اور نہ ہی احمدیت سے انکا ر کیا۔ ایک کے بعد ایک شہید گرتا رہا لیکن کسی کا ایمان متزلزل نہیں ہوا ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں’’یہ احمدیت کے چمکتے ستارے ہیں اپنے پیچھے ایک نمونہ چھوڑکر گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں اور نسلوں کو بھی اخلاص و وفا میں بڑھائے ۔ دشمن سمجھتا ہے کہ ان شہادتوں سے اس علاقے میں احمدیت ختم کردیگا لیکن انشاء اللہ پہلے سے بڑھ کر احمدیت یہاں بڑھے گی اور پنپے گی۔‘‘
خون شہیدان امت کا اَے کم نظر
رائیگاں کب گیا تھا کہ اب جائیگا
ہر شہادت ترے دیکھتے دیکھتے
پھول پھل لائے گی پھول پھل جائے گی
معزز سامعین ! یہ عجیب داستانیں ہیں جسکی تاریخ میں سوائے قرون اولیٰ کے کوئی نظیرنہیں ملتی۔ ایک بچہ بچپن سے تیاری کرتا ہے کہ بڑے ہو کر دادا کی طرح شہید بننا ہے۔ایک والد اپنے بیٹے کو لکھتا ہے کہ:
’’اگر تم شہید ہو گئے ہو تو اپنی مراد کو پہنچ گئے اور اگر زندہ ہو تو مجھے یقین ہے کہ تم نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہوگا۔تم نے احمدی باپ سے پرورش پائی ہے اور احمدی ماں کا دودھ پیا ہے۔ میری تمہیں نصیحت ہے کہ تمہارے جیتے جی شعائر اللہ تک دشمن نہ آئے۔‘‘
ایک ماںاپنے بچے کو نصیحت کرتی ہے ’’ کہ اسی جگہ نماز ادا کرنا جہاں تمہارے والد شہید ہوئے تھے۔‘‘
ایک ماںبچوںکے متعلق پوچھے جانے پر جواب دیتی ہےکہ ’’ ہمارا معا ملہ تو خدا کے ساتھ تھا۔ مجھے بچوں کی کیا فکر ہے؟ ادھر تو سارے ہی ہمارے اپنے ہیں ۔ اگر میرے بچے شہید ہوگئے تو خدا کے حضور مقرب ہوں گے اور اگر بچ گئے تو غازی ہوں گے۔‘‘
ہمارے پیارے آقا حضرت امیر المو منین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’پس یہ وہ لوگ ہیں یہ وہ مائیں ہیں جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی جماعت میں پیدا کی ہیں۔ قربانیوں کی عظیم مثال ہیں۔پس اَے احمدی ماؤ! اس جذبے کو ،اور ان نیک اور پاک جذبات کواور ان خیالات کو کبھی مرنے نہ دینا ۔ جب تک یہ جذبات رہیں گے، جب تک یہ پر عزم سوچیں رہیں گی کوئی دشمن کبھی جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ ( شہداء لاہور، صفحہ26)
معزز سامعین !کیا اب بھی احمدیت کا دشمن سمجھتا ہے کہ احمدیت کو مٹا دیگا۔
’’گزشتہ ایک سو بیس سالہ احمدیت کی زندگی کے ہرہر سیکنڈ کے عمل نے بھی ان کی آنکھیں نہیں کھولیں ۔ یہ ایک امام کی آواز پر اٹھنے اور بیٹھنے والے لوگ ہیں ۔ یہ اس مسیح موعود کے ماننے والے لوگ ہیں جو اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنے آیا تھا۔ ‘‘
(شہداء لاہو،صفحہ25 )
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اے نادانو اور اندھو مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہو ا جو میں ضائع ہو جاؤں گا ۔کس سچے وفادار کو خدا نے ذلت کے ساتھ ہلاک کردیا جو مجھے ہلاک کرے گا؟ یقینا یاد رکھو اورکان کھول کر سنو! کہ میری روح ہلاک ہونے والی نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔‘‘
(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 23)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جماعت احمدیہ کا ایک مولیٰ ہے۔زمین و آسمان کا خدا ہمارا مولیٰ ہے۔لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہارا کوئی مولیٰ نہیںخدا کی قسم جب ہمارا مولیٰ ہماری مدد کو آئیگا تو کوئی تمہاری مدد نہیں کرے گا۔خدا کی تقدیر تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کرے گی تمہارے نام و نشان مٹادئیے جائیں گے۔ہمیشہ دنیا تمہیں ذلت اور رسوائی کے ساتھ یاد کرے گی۔‘‘
تمہیں مٹانے کا زعم لیکر اٹھے ہیں جو خاک کے بگولے
خدا اڑا دے گا خاک ان کی کرے گا رسوائے عام کہنا
اَے مخالفین احمدیت! یہ درندگی اور سفاکی تمہیں مبارک ہو جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق بلکہ خدا کے پیاروں کے خون کی ہولی کھیلنے والے ہو۔اَے ظالمو یہ تمام کاروائی تم ہمارے پیارے آقا ،محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام پر کرنے والے ہو کاش کہ تم نے احمدی کے دل کو چیر کر دیکھا ہوتا تو وہاں سے تمہیں یہ صدا سنائی دیتی کہ
بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
ہمارےپیارےآقاسیّدناحضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’اےظالمو!خداکیلئے میرےپیارے رسول ﷺکے نام کوبدنام نہ کرو۔اگر تم اپنی ظالمانہ حرکات سے اپنی بد فطرتی کی وجہ سے باز نہیں آسکتے تو نہ آؤ۔اگر تم اپنے ظلم اور بربریت کی مثالیں قائم کرنے سے نہیں رک سکتے تو نہ رکو۔اگر تم احمدیوں پرظلم و تعدی کا بازار گرم کرنا چاہتے ہوتو بے شک کرو اور کرتے چلے جاؤ۔ اس بارے میں اگر تم کسی حکومت کی آشیرواد لینا چاہتے ہواور اس وجہ سے یہ کام کر رہے ہوتو بے شک کرو لیکن میرے پیارے رسول ﷺ کے نام پریہ مذموم حرکات نہ کرو۔‘‘
’’تم میرے آقاہاں وہ آقا جو محسن انسانیت تھا اور قیامت تک اس جیسا محسن انسانیت پید انہیں ہو سکتااس محسن انسانیت کو بد نام کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے ہو۔ ناموس رسالت کے نام پر میرے پاک رسول اللہ ﷺ کو بدنام کرنے والے ہو ۔یقینا قیامت کے دن لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ تم میں سے ایک ایک کو پکڑ کر تمہیں تمہارے بد انجام تک پہنچائے گا۔‘ ‘(شہداء لاہور،صفحہ26)
جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار
آخر پر خاکسار اپنی ان گزارشات کو حضرت مسیح موعو علیہ السلام کے اقتباس پر ختم کرناچاہتا ہے۔ حضورعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا ۔ خد افرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گااور ہر ایک طرف سے اسکی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے ۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاوں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے۔‘‘
(رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309)
آخر پر دعا ہے کہ اللہ تعالی ان شہداء کے مقام کو بلند سے بلند تر فرماتا چلاجائے۔ ان کی قربانیوں کو وہ پھل پھول لگائے جس کے نتیجے میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حقیقی تعلیم کو جلد جلد دنیا میں ہم پھیلتے دیکھنے والے ہوں ۔ جہالت دنیا سے ختم ہو اور خدائے واحد کی حقیقی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جائے۔ آمین۔
نہ بجھاسکیں انہیں آندھیاںجو چراغ ہم نے جلائے تھے
کبھی لو ذراسی جو کم ہوئی تو لہو سے ہم نے ابھار دی
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔
…٭…٭…٭…