اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-16

فریضہ دعوت الی اللہ اور احمدیوں کی ذمہ داریاں ( جمال شریعت ،نائب ناظر ایڈیشنل نظارت اصلاح وارشاد نور الاسلام ،قادیان )

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللہِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝۳۴ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۵ وَمَا يُلَقّٰىہَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا۝۰ۚ وَمَا يُلَقّٰىہَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ۝۳۶
(حم السجدہ:34تا36)
ترجمہ:اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے ور اپنے ایمان کے مطابق عمل کرتاہے اورکہتا ہے کہ میں تو فرمانبرداروں میں سےہوں۔ اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔ اور تو برائی کا جواب نہایت نیک سلوک سے دے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ شخص کہ اسکے اور تیرے درمیان عداوت پائی جاتی ہے ، وہ تیرے حسن سلوک کو دیکھ کر ایک گرم جوش دوست بن جائے گا۔اور باوجود ظلموں کے سہنے کے اس قسم کے سلوک کی توفیق صرف انہیں کوملتی ہے جو بڑے صبر کر نیوالے ہیں اور یا پھر ان کوملتی ہے جن کو خدا کی طرف سے نیکی کا ایک بہت بڑا حصہ ملا ہو۔
ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج
جس کی فطرت نیک ہے وہ آئیگا انجام کار
محترم صدر اجلاس اور سامعین کرام!دعوت الی الله انبیاعلیہم السلام کا کام ہونے کی وجہ سے ایک عظیم الشان کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ انبیاءعلیہم السلام کو دنیا میں توحید خالص کے قیام کیلئے مبعوث کرتا ہے ۔ دنیا میں جسقدر بھی انبیاء آئے ہیں ساروں نےلوگوں کو اپنے خالق حقیقی کی طرف بلایا ہے کہ تمہارا معبود حقیقی ،خدا تعالی ہے صرف اسکی عبادت کرواور اس پراسکے تمام تر قدرتوں اور صفات کے  ساتھ ایمان لاؤچنانچہ ہمارے سید و مولی خاتم االانبیا حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نےجس احساس ، لگن اور جانفشانی سے دعوت الی اللہ کے اس عظیم الشان فریضہ کو ادا کیا وہ آپ کی مبارک زیست کا سب سےدرخشند پہلو ہے ۔
سامعین کرام ! جس احسن طریق پر اور بدرجہ اولیٰ یہ کام ہمارے آقاء ومولی سید نا حضرت رسول پاک ﷺ نے کیا ہے اسکی نظیر نہیں مل سکتی۔ آپ کا اہم منصب بطور نبی اور رسول یہی تھا۔ کہ آپ اللہ کے حکم کے مطابق بنی نوع انسان کو خدا کی طرف بلائیں۔ قرآن شریف میں آپ کا یہ مقام ۔ داعیا الی اللہ باذنہ، بیان کیا گیا ہے۔آپ ہی کائنات کے وہ بہترین وجود تھے جنہوں نے دنیا کو محض خدا کی طرف بلایا ہی نہیں بلکہ خدا کے حکموں پر خود عمل کر کے بھی دکھا دیا اور ثابت کیا کہ آپ ہی سب سے بڑھ کر خدا کے فرمانبردار ہیں۔ آپ ہی تھے جنہوں نے بلغ ( یعنی پیغام پہنچا دو) کے حکم کی تعمیل میں حق تبلیغ ادا کر کے دکھا یا۔ آپ نے مخفی طور پر بھی دعوت الی اللہ کا فریضہ سر انجام دیا اور اعلانیہ بھی۔ دن کے وقت بھی دنیا کو خدا کی طرف بلایا اور رات کو بھی۔ بنی نوع انسان کا گہرا درد آپ کے سینہ میں موجزن تھا۔ جسکی بناء پر آپ ہر ایک کو اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ آپ نے غرباء اور فقراء کو بھی پیغام پہنچایا۔ بادشاہوں اور امراء کو بھی دعوت حق دی۔ ان کی سطوت شاہانہ سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے۔ ہمیشہ قرآنی تعلیم کی تبلیغ ،حکمت اور استقلال کے ساتھ فرماتے رہے۔ آپکا اوڑھنا اور بچھونا دعوت الی اللہ ہی تھا۔نبی کریم ﷺ کے سینہ میں دعوت الی اللہ کا جو دردتھا اور دنیا کی ہدایت کی جوفکر تھی اسکی حدوبست کا اندازہ آپ کے اس ارشاد سے ہوتا ہے کہ’’لوگو! میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (روشنی کی خاطر ) آگ جلائی۔ پروانے اور کیڑے مکوڑے اس پر آ آکر گرنے لگے۔ وہ انہیں پرے ہٹاتا ہے مگر وہ باز نہیں آتے اور اس میں گرتے چلےجاتے ہیں۔ میں بھی تمہاری کمر سے پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ میں گرنے سے بچانا چاہتا ہوں اور تم ہو کہ دیوانہ وار اس آگ کی طرف بھاگے چلے جاتے ہو۔ ( بخاری )
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو اسلام کے حسین پیغام کی طرف بلانےکیلئے حکمت کی تمام راہیں اختیار کیں ۔ بشارتیں اور خوشخبریاں دے کر بھی دعوت دی اور عذاب الٰہی سے ہوشیار کر کے اور ڈرا کر بھی دنیا کو متنبہ کیا مگر یہ سب کچھ آپ نے ہمیشہ تواضع اور عاجزی، انتہائی صبر و برداشت کے ساتھ کیا۔ گالیوں کا بدلہ پیا ر اور نفرت کا بدلا محبت سے دیتے ہوئے اتمام حجت کیا۔
بعثت نبوی کے چوتھے سال حکم الٰہی نازل ہوا۔ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ (الحجر: 95) ترجمہ: پس خوب کھول کر بیان کر جو تجھے حکم دیا جاتا ہے اور شرک کرنے والوں سے اعراض کر۔وَانْذِرْ عَشِيرَتَک الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: 215) ترجمہ: اور اپنے اہل خاندان یعنی اقرباء کو ڈرا ۔اسکی تعمیل میں آپ نے کوہ صفا میں چڑھ کر تمام قبیلے والوں کو الگ الگ نام لے کر بلایا۔ جب سب جمع ہو گئے تو دریافت فرمایا۔ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر جرار ہے۔ جو تم پر حملہ کرنے والا ہے۔ تو کیا تم مانو گے۔ اس پر سب نے ایک آوازمیں یہی کہا کیوں نہیں! ضرور مان لیں گے کیونکہ ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں سنا۔ ہمیشہ آپ کی سچائی کا تجزیہ کیا ہے لیکن جب آپ نے اپنی رسالت کا اعلان کیا تو سب نے یہی کہا تجھ پر ہلاکت ہو ۔ کیا تو نے ہم کو اس لئے جمع کیا تھا۔
جب آپ طائف والوں کو پیغام حق پہنچانے گئے تو وہاں کے لوگوں نے کچھ آوارہ اوربد معاش لڑکوںکو آپ کے پیچھے لگا دیاجنہوں نے آپ پر پتھروں کی بارش کی اور آپ کے جسم مبارک کو سرتا پا لہو لہان کر دیا۔راہ خداوندی میں کوئی ایسی تکلیف نہ تھی جو آپکو پہنچائی نہ گئی ہو مگر آپ ان جملہ تکالیف کے باوجود اپنےفرائض سےغامل نہ ہوئے یہ وہ عظیم الشان ہمت اور استقلال ہے جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔
چنانچہ کفار مکہ نے یہ بھی کوشش کی کہ آپ کے چچاکو سمجھا کر آپ کو تبلیغ سے روکےاورکئی طرح کی لالچ دینے کی کوشش کی مگر آ پ نے واشگاف الفاظ سے دوٹوک جواب دیا کہ چچا اگر لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں تب بھی میں اپنے کام سے بازنہ آؤنگا ۔ اپنےکام میں لگا رہوں گا حتیٰ کہ خدا اسےپورا کر دے۔
سامعین کرام !ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایسا پرجوش پر ولولہ اور تاریخ ساز جواب ہے جو ہم داعین الی اللہ کیلئے لائحہ عمل ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت،لالچ،شہرت و ثروت، سرداری و سروری ،جاہ و حشمت ہمیں ہمارے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا ہےبلکہ ہماری دعا خدا کے حضور یہ ہونی چاہئےکہ
مجھ کو دے اِک فوق عادت اَے خدا جوش و تپش
جس سے ہو جاوں مَیں دیں کیلئے دیوانہ وار
وہ لگا دے آگ میرے دل میں ملت کیلئے
شعلےپہنچے جس کے ہر دم آسماں تک بے شمار
دعوت الی اللہ میں آپ نے نہ صرف خود تکالیف برداشت کی بلکہ اپنی قو ت قدسیہ کے نتیجہ میں ایسے داعین الی اللہ تیار کر دیئےکہ جنہوں نے اس راہ میں نہ صرف تکالیف اٹھائیں بلکہ جان کی بازیاں لگادیں اور اس پر فخر محسوس کیا۔ایسے بے شمار واقعات سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہے۔ مگر خاکساراس وقت وقت کی رعایت سے صرف ایک واقعہ داعین کے دلوں میں ایمانی حرارت پیدا کرنے کیلئے پیش کریگا ۔
’’ قبیلہ بنو عامر کے سردار عامر بن طفیل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا خود تو اسلام قبول نہیں کیا مگر کہا کہ مجھے یہ پیغام اچھا لگا ہے اگر آپ اپنےکچھ لوگ ہمارے علاقہ میں بھجوائیں تو شاید وہ لوگ اسلام قبول کر لیں گے حضور نے فرمایا کہ مجھے اہل نجد سے خطرہ ہے ابو عامر نے کہاکہ یہ مراذمہ ہے ۔ چنانچہ اس نے جا کر اہل نجد کو بتا دیا کہ محمدؐ کے ساتھوں کو میںنے پناہ دی ہے ۔ یہ ستر حفاظ قرآن تھے جو دن کو قرآن اور نماز پڑھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے۔ اُن کے امیر حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے جب بنی سلیم کو پیغام پہنچایا اور رسول کریم کا سلام خط دیتے ہوئے کہا کہ اےاہل بیر معونہ میں تمہاری طرف رسول اللہ کا نمائندہ ہو کر آیا ہوں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اس دوران ایک شخص نے پیچھے سے آکر نیزہ مارا ان کی گردن سے خون کا پھوارہ نکلا اس بہادر داعی الی ا للہ نے فزت رب الکعبہ کا نعرہ لگایا کہ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ کعبہ کے ربّ کی قسم میں کامیاب ہوگیا ۔ اور اپنے خون کو ہاتھوں میں لیا اور ا پنے چہرہ اور سر پر چھنٹامارا بعد ازاں ان کے ساتھیوں پر بھی حملہ کر دیا گیا اور اس میدان میںسترداعین الی اللہ نےجام شہادت نوش کیا۔ (بخاری)
سامعین کرام !شب و روز کی کوششوں محنت، لگن دعا صبرو استقلا ل ا یثار و قربانی کے نتیجہ میں آپ کے ذریعہ وہ عظیم الشان انقلاب پیدا ہوا کہ جسکا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ایک قوم جو نجاست پر بیٹھی ہوئی تھی ان کو نجاست سے اٹھا کر گلزار میں پہنچا دیا اور وہ جو روحانی بھوک اور پیاس سے مرنے لگےتھے ان کے آگے روحانی اعلی درجہ کی غذائیں اورشیریں شربت رکھ دیئے ان کو وحشیانہ حالت سےانسان بنایا پھر معمولی انسان سے مہذب انسان بنایا پھر مہذب انسان سے کامل انسان بنایا اور اس قدر ان کیلئے نشان ظاہرکئے کہ ان کو خدا دکھلا دیا اور ان میں ایسی تبدیلی پیدا کردی کہ انہوں نے فرشتوں سے ہاتھ جا ملائے ۔ یہ تاثیر کسی اور نبی سے اپنی امت کی نسبت ظہور میں نہ آئی کیونکہ ان کے صحبت یاب ناقص رہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد 22 صفحہ118)
نیز فرماتے ہیں :’’وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دُنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دُعائیں ہی تھیں جنہوں نے دُنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں ۔‘‘
(برکات الدعا،روحانی خزائن، جلد6، صفحہ10 ،11)
کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں
وحشیوں میں دین کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ
معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار
سا معین کرام! آج ،آقاو مطاع سید نا حضرت رسول پاک کی کامل اطاعت اور پیروی میںدعوت و تبلیغ کا مقدس فریضہ بطور خاص جماعت احمدیہ کےسپرد کیا گیا ہے۔ماہ اپریل 1883ء کوبانی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ ایک عالی شان بادشاہ کا خیمہ لگا ہوا ہےاور دنیا کی قسمت کے فیصلے کئے جا رہے ہیں آپؑفرماتے ہیں میں اس وقت اس دفتر میں محافظ یا نگران کے طور پر موجود ہوں اور جیسا کہ دفتر میں بہت سی فائیلیں پڑی ہو تی ہیں وہاں بھی موجود ہیں ۔اتنے میں ایک اردلی یا کارندہ دوڑتا ہوا آتا ہے اور کہتا ہے کہ مسلمانوں کی فائل پیش کرنے کا حکم ہے۔وہ جلدی سے نکالو آپ فرماتے ہیں کہ یہ خواب بتاتا ہے کہ اس وقت اللہ تعالی پورے طور پر مسلمانوں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہےاور اسی غرض سے اس نے اس دور میں اپنے پیغام کے ساتھ اپنے مسیح و مہدی کو دنیا میں بھیجا ہے۔
سامعین کرام!اصلاح کی آواز جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا ایک اہم کام قرار دے رہے ہیں ، ساتھ ساتھ اپنی جماعت کو بھی شامل فرما رہے ہیں ۔ یہ وہی آسمانی آواز ہے جسے آپ تمام دنیا کی اصلاح کیلئے لیکر آئے اور جسکا شروع میںتلاوت کی گئی آیت میں ذکر ہے ۔وہ آواز جو خدا تعالی کی طرف سے آتی ہے اور لوگوں کو خدائے واحد کی طرف بلاتی ہےوہ آواز جو وقت کی سب سے اہم آواز ہوا کرتی ہے۔اور بد نوا دشمنوں کی آواز کو بہت پیچھے چھوڑتے ہوئے شش جہت میں پھیل جاتی ہے۔وہ آواز جس کی تائید کیلئے اللہ تعالی کے فرشتے آسمان سےاترتے ہیں اور اسے زمین کے کنارون تک پہنچانے کے سامان کرتے ہیں وہ آواز جس کو دبانے کا زعم لیکر اٹھنے والے بگولے خاک بنا دیئے جاتے ہیں ۔خواہ وہ ابراہیمی دور کے نمرود ہوں یا موسی علیہ السلام کے زمانہ کا فرعونیا ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے عتبہ شیبہ ابو جہل یا ابو لہب ہوںیا آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کے ڈاکٹر ڈوئی ،پنڈت لیکھرام یا عبد اللہ آتھم ہوں ۔
سامعین!سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اپنے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کےنقش قدم پر چلتے ہوئے دعوت الی اللہ کے جام پئے ۔اپنی تحریر و تقریروعظ و نصیحت میں خالق حقیقی کے عرفان کے دریا بہا دیئے اور مخلوق خدا کوشرک کی دلدل سے نکال کر حقیقی دولت ایمان عطا کی۔ چنانچہ تبلیغی کاوشوں کے نتیجہ میں اللہ تعالی نے آپ کو وہ سپوت بھی عطا فرمائے کہ جنہوں نے اس اہم فریضہ کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔حتی کہ عزیز جانیں دینے سے بھی دریغ نہیں کیں۔حضرت شہزادہ عبد اللطیف شہید رضی اللہ تعالی عنہ نے بڑی استقامت اور بہادری کے ساتھ اپنا خون دےکر کابل کی سر زمین کو اپنی وفا کے رنگوں سے رنگین کیا مگر حق کو نہ چھوڑا حضرت حافظ حکیم مولوی نور الدین صاحب نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ’’اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یااگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلائوں اور اسی راہ میں جان دوں ۔‘‘ (فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 36)
یہ عشق وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر نہ پنپیں گے
اس راہ میں جان کی کیا پرواہ جاتی ہے اگر تو جانے دو
سامعین کرام! احمدی آج بھی اپنے لہو سے اس کہکشاں کو مزین کر رہے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے ترتیب دی تھی ۔
11؍جنو ری2023ء کی رات کو آسمان نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ آج معلوم ہوتا ہے کہ ڈوری کے مقیموں میںحضرت بلال ،سمیہ ،یاسر، خبییب، حرام بن ملحان اور عبد اللطیف کی روحیں جاگزیں ہو چکی ہیں ۔حضرات! بر اعظم افریقہ کےملک برکینا فاسو میں 11 جنوری کو عشاء کے وقت 9بزرگو ں کو مسجد کے صحن میں باقی نمازیوں کے سامنے اسلام احمدیت سے انکار نہ کرنے کی بنا پر ایک ایک کرکے شہید کر دیا گیا ۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ20؍ جنوری2023ءمیں ان شہادتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
یہ احمدیت کے چمکتے ستارے ہیں ،اپنے پیچھے ایک نمونہ چھوڑ کر گئے ہیں اللہ تعالی ان کی اولادوں اور نسلوں کو بھی اخلاص و وفا میں بڑھائے ۔دشمن سمجھتا ہے کہ ان کی شہادتوں سے وہ اس علاقہ میں احمدیت ختم کر دیگا لیکن انشااللہ پہلے سے بڑھکر احمدیت یہاں بڑھے گی اورپنپے گی۔
خدا خود جبر و استبداد کو برباد کردیگا
وہ ہر سو احمدی ہی احمدی آباد کردیگا
صداقت میرے آقاکی زمانے پر عیاں ہوگی
جہاں میں احمدیت کامیاب و کامراں ہو گی
حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں ۔ایک دفعہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کمرہ میں بیٹھے تھے اور آپ کسی کتاب کی تصنیف میں مصروف تھے کہ دروازہ پر کسی شخص نے خوب زوردار دستک دی آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میں جاکر معلوم کروں کہ کون ہے اور کس غرض سے آیا ہوا ہے میں نےدروازہ کھولا تو دستک دینے والے نے بتایا کہ مولوی سید احسن امروہی صاحب نے بھجوایاہے کہ حضور کی خدمت میں یہ خوشخبری عرض کی جائے آج فلاں شہر میں ان کا ایک غیر احمدی مولوی سے مناظرہ ہوا ہے اور انہونے اس کو شکست فاش دی اس کو بہت رگید ااور وہ مولوی بالکل لاجواب ہو گیا ۔حضرت مفتی صاحب بیان کرتے ہیں جب میں نےیہ سارا واقعہ حضور کے سامنے بیان فرمایا تو حضور یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا کہ ان کا اس طرح دروازہ کھٹکھٹانے سے اور فتح کا اعلان کرنے سے میں یہ سمجھا تھا کہ شاید وہ یہ خبر لائے ہیں کہ یورپ مسلمان ہو گیا ہے۔
چنانچہ امریکہ میں آپ علیہ السلام ہی کے ذریعہ پہلا شخص جان الیگزنڈر رسل ویب صاحب حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔بعد ازاں دشمن اسلام جان الیگزنڈر ڈوئی اور اسکے مشن کی عبرتناک تباہی کے جلالی نشان نے جدید دنیا میں آپ کی دھوم مچادی حضور علیہ السلام کی تحریرات کے انگریزی تراجم رسالہ ریویوآف ریلیجنز کے ذریعہ آپ کی زندگی میں ہی مشرقی و مغربی ممالک میں پہنچ گئےاور دنیا کے مفکروں اور دانشوروں نے ان پر خراج تحسین ادا کیا ۔
1893ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےخاص الہامی قوت سے التبلیغ کے نام سے فصیح وبلیغ عربی میں ایک خط لکھا جس میں آپ نے ہندوستان ،عرب ایران ترکی مصر اور دیگر ممالک کے پیرزادوںسجادہ نشینوں زاہدوں صوفیوں اور خانقاہ نشینوں تک پیغام حق پہنچایا۔التبلیغ کے متعلق ایک عرب فاضل نے کہاکہ’’ اسے پڑھ کر ایسا وجد طاری ہوا کہ دل میں آیا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیان پہنچوں‘‘ اور طرابلس کے مشہور عالم السید محمد سعید شامی نے اسے پڑھتے ہی بے ساختہ کہا کہ واللہ ایسی عبارت عرب نہیں لکھ سکتا اور اسی سے متاثر ہوکر آپنے بیعت بھی کرلی۔
اسی طرح آپ علیہ السلام نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملکہ وکٹوریہ کو بھی اس طرز پر دعوت اسلام دی جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں بادشاہ قیصر و کسری کو دی تھی آپ نے دیگر نصائح کے علاوہ یہ بھی فرمایا تھا کہ یا ملکۃ الارض اسلمی تسلمین، اَے ملکہ مسلمان ہو جا کہ تو اور تیری سلطنت محفوظ رہے گی ملکہ کو جیسے ہی یہ خط ملا ملکہ نے شکریہ کا خط لکھا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ حضور اپنی تمام تصانیف انہیں بھجوائیں اورآخر عمر میں ملکہ کو اسلام سے خاص محبت ہو گئی اور وہ حضور صلعم کا نام بڑی ہی عظمت سے لیا کرتی تھی ۔
سامعین! آپ کی زندگی کا ہر سانس داعی الی اللہ کی حیثیت میں گزرا۔حتی کہ دشمن کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوت الی اللہ کیلئے ہر ذریعہ اختیار فرمایا: ولیم کیش. ڈی. ایس. او.او. بی. ای. اپنی کتاب Expansion of Islamمیں لکھتا ہے:
’’ احمد یہ فرقہ کے بانی ایک نہایت کامیاب مبلغ ثابت ہوئے اور انہوں نے موجودہ زمانے کی ہر سہولت کو استعمال کیا۔ اخبارات ، رسالے اور میگزین جاری کئے اور بہت زیادہ لٹریچرز پیدا کیا…اسلام نہ صرف سر بلندی حاصل کر رہا ہے بلکہ ساری دُنیا کے مذاہب کو چیلنج دے رہا ہے۔‘‘
بانیٔ جماعت احمدیہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغی مساعی اور اسکےنتیجہ میں حاصل ہونے والی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنی کتاب دعوت الامیرصفحہ 256 میں فرماتے ہیں :
’’آخر وہی ہوا جو اللہ تعالی نے کہا تھا وہ شخص جو تن تنہاایک تنگ صحن میںٹہل ٹہل کر اپنے الہامات لکھ رہا تھا اور تمام دنیا میں اپنی مقبولیت کی خبریں دے رہا تھا، حالانکہ اس وقت اُسے اسکے علاقے کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے با وجو دروکوں کے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے اٹھا اور ایک بادل کی طرح گرجا…تمام آسمان پر چھا گیا ہندوستان میں وہ برسا، افغانستان میں وہ برسا عرب میں وہ برسا، مصر میں وہ برسا سیلون میں وہ برسا، بخارا میںوہ برسا، مشرقی افریقہ میں وہ برسا جزیرہ ماریشس میں وہ برسا جنوبی افریقہ میںوہ بر سامغربی افریقہ کے ممالک ، نائیجیریا ،گولڈ کوسٹ ،سیرالیون میں وہ برسا، آسٹریلیا میں وہ برسا، انگلستان اور جرمن اور روس کے علاقوں کو اس نے سیراب کیا اور امریکہ میں جاکر اس نے آب پاشی کی۔آج دنیا کا کوئی برا اعظم نہیں نہیں جس میں مسیح موعود کی جماعت نہیں اور کوئی مذہب نہیں جس میں سے اس نے اپنا حصہ وصول نہیں کیا مسیحی ہندو،بدھ ، پارسی ، سکھ، یہودی سب قوموں میں سے اسکے ماننے والے موجود ہیں اور یور پین، امریکن افریقن اور ایشیا کے باشندے اس پر ایمان لائے ہیں۔ اگر جو کچھ اس نے قبل از وقت بتا دیا تھا اللہ تعالی کا کلام نہ تھا تو وہ کس طرح پورا ہوگیا؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ جو اس سے پہلے اسلام کو کھا رہے تھے مسیح موعود کے ذریعے سے اب اسلام اُن کو کھا رہا ہے… وہی اسلام جو دوسرے فرقوں کے ہاتھ سے شکست پر شکست کھا رہا تھا اب مسیح موعود کی دعاؤں سے دشمن کو ہر میدان میں نیچا دکھا رہا ہے اور اسلام کی جماعت کو بڑھا رہا ہے۔ فالحمد للہ ربّ العالمین ، بلکہ آج تو یہ حال ہے کہ بفضلہ تعالی جماعت احمدیہ عالمگیر دنیا کے216 ممالک میں پھیل چکی ہے۔گویاکہ آج عالم احمدیت پر سورج غروب نہیں ہو رہا ہے۔ (الحمد للہ )
آسماں پر دعوت حق کیلئے اک جوش ہے
ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار
باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا
آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار
اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے
وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار
سامعین کرام! دعوت الی اللہ کے مقدس فریضہ کے بارے میںسیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اسکا ایک خدا ہے جوہراک چیز پر قادر ہے۔ہمارابہشت ھمارا خدا ہے ۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی ۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خرید نے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو ۔ اَے محرو مو!اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے ا ۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائےگا ۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں اورکس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننےکیلئےلوگوں کے کان کھلیں ۔
(کشتی نوح ،روحانی خزائن، جلد 19 ،صفحہ 21،22)
سامعین کرام ! دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی اپنی تڑپ ملاحظ فرمائیں۔ فرمایا:
’’ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر خدا تعالیٰ کے سچےدین کی اشاعت کریں اور پھر اس ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچائیں اور اس میں زندگی ختم کر دیں خواہ مارے ہی جائیں۔‘‘
( ملفوظات جلد سوم صفحہ391 )
سید نا حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے اپنے دل میں جوش دعوت الی اللہ کو لئے ہوئے احباب جماعت کو کس ولولہ انگیز رنگ میں اس میدان عمل میں کود جانے کا ارشاد فرماتے ہیں۔ فرمایا:
’’ اب خدا کی نوبت جوش میں آئی ہے اور تم کو، ہاں تم کو ، ہاں تم کو خدا تعالیٰ نے اس نوبت خانہ کی ضرب سپرد کی ہے۔اَے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقار و! ایک دفعہ پھر اس نو بت کو اس زور سے بجاؤ کہ دُنیا کے کان پھٹ جائیں۔ ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قر نا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اُٹھیں تا کہ تمہاری دردناک آواز اور تمہارے نعرہ ہائے تکبیر اور نعرہ ہائے شہادت توحید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آجائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہو جائے۔‘‘(سیر روحانی)
نیز فرمایا :’’پس دعوت الی اللہ میں کامیابی کیلئے اپنے دل میں قلب میں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ لوگ ہدایت پا جائیں۔ دیکھو نبی جو کامیاب ہوتے ہیں وہ بحثوں سے نہیں ہوتے ۔ حضرت مسیح موعود کہاں ہرجگہ بحث کرتے پھرتے تھے بلکہ انبیاء کو انکا احساس کامیاب کرتا ہے۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ رسول کریم صلعم کی نسبت فرماتا ہے’’لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ‘‘محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ جوش کہ لوگ مومن ہو جائیں اس قدر بڑھ گیا کہ قریب ہے اپنی جان کو نقصان پہنچا لیں۔ اس سے اندازہ لگا لو کہ آپ کے دل میں کس قدر درد پیدا ہو گیا تھا۔ دعوت الی اللہ میں کامیابی کا گر یہی ہے کہ انسان اس درد کو لے کر نکلے اور یہ عزم ہو کہ لوگوں کو منوا لینا ہے۔ جب کوئی اس طرح نکلتا ہے تو بڑی بڑی باتیں منوا لیتا ہے اور جولوگ اس رنگ میں نکلتے ہیں ان کے متعلق دیکھا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ عالموں کی نسبت جن کے مباحثوں میں لوگ واہ واہ کرتے ہیں زیادہ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔ پس جب داعی کے دل میں یہ احساس ہو کہ کیوں لوگ حق کی طرف نہیں آتے کیوں گمراہ ہیں اس میں کامیاب ہوگا ۔ دعوت میں کامیابی کا یہ ایک ہی گر ہے اسکے بعد کسی نصیحت کی ضرورت نہیں۔ باقی نصیحتیں تو ہوتی رہتی ہیں۔“
(الفضل 29؍ جنوری 1924ء)
اسی طرح آپنےاپنے ایک خطبہ24؍ جولائی 1953ء میں فرمایاکہ … جن کے ساتھ خدا کا تعلق ہو ، جو اپنے نیک نمونہ سے لوگوں کے دلوں کو گھائل کر چکے ہوں ، جو اپنی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد حاصل کر چکے ہوں، جو اُٹھتے اور بیٹھتے شرافت اور دیانت کا ایک مجسمہ ہوں،ان کا ہر قدم تبلیغ ہوتا ہے، انکا ہر لفظ تبلیغ ہوتا ہے۔ ان کی ہر حرکت تبلیغ ہوتی ہے۔ ان کا ہر سانس تبلیغ ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت لوگوں کو ان کے نیک اثر سے محروم نہیں کر سکتی۔ وہ لوگ جو ان کی بات سنتا تک گوارا نہیں کرتے ، وہ لوگ جو ان کی شکل دیکھ کر بھاگنا چاہتے ہیں وہ بھی ان کے نمونہ کو دیکھ کر ان کے پاؤں پکڑ کر برکت حاصل کرنے کے خواہشمند ہو جاتے ہیں پس اپنے نمونہ اور عمل سے اپنے آپ کو ایسا بناؤ کہ تم اپنی ذات میں ایک مجسمہ تبلیغ بن جاؤ جس طرح سورج کو دیکھنے کے بعد انسان کیلئے کسی دلیل کی احتیا ج باقی نہیں رہتی اسی طرح جب کوئی شخص تم کو دیکھ لے تو وہ یہ یقین ہی نہ کرے کہ مرزا صاحب جھوٹے تھے … پس تم اپنے عمل سے اپنے آپ کو ایسا بناؤ کہ دنیا تمہارے پیچھے چلنے پر مجبور ہو، دنیا تم سے محبت کرنے پر مجبور ہو، دنیا تمہارے سایہ عاطفت میں پناہ لینے پر مجبور ہو ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں :
’’تبلیغ اسلام کی جو جوت میرے مولیٰ نے میرے دل میں جگائی ہے اور آج ہزار ہا احمدی کے سینوں میں یہ لوجل رہی ہے اس کو بجھنے نہیں دینا، اس مقدس امانت کی حفاظت کرو۔ میں خدائے ذوالجلال والاکرام کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر تم اس شمع نور کے امین بنے رہو گے تو خدا اسے کبھی بجھنے نہیں دے گا ۔ یہ لوبلند تر ہو گی اور پھیلے گی اور سینہ بہ سینہ روشن ہوتی چلی جائے گی اور تمام روئے زمین کو گھیر لے گی اور تمام تاریکیوں کو اجالوں میں بدل دے گی ۔‘‘ (خطبہ جمعہ 12؍ اگست 1983 ء، خطبات طاہر ،جلد 2 ،صفحہ 422)
سامعین کرام! حضور صلعم کا کوہ صفا میں چڑھ کے سب کو جمع کرکے یہ بتانا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرناچاہتا ہے تو کیا تم یہ بات مان لوگے اسکے جواب میں سب کا یہ کہنا کہ ہاں ہم مان لیں گے کیوں کہ ہمیشہ ہم نے آپ صلعم کو سچا پایا ہے،یہ واقعہ ہم داعین کیلئےلائحہ عمل ہے کہ ہم ایسے ہو جائیں کہ ہم جنکو دعوت دیتے ہیں وہ ہمیں سچا اور دیانتدار مانیں ۔
بلاشبہ فتح مکہ کے د ن فتح حاصل ہونے کے بعد سب کو معاف کردینا ہمیں یہ بتاتاہے کہ اسلام صلح، آشتی،عفودرگزر،خیر خواہی سے دلوں کو جیتتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عکاظ ،مجنہ اور ذوالمجاذمیلوں میں جاکر تبلیغ کرنا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ آج ہمیں حکمت عملی سے اور حسب طریق مختلف شہروں اور بازاروں میں بک فیئرز جو ہر سال منعقد کئے جاتے ہیں اور جہاں جماعتی بک اسٹالز بھی لگائے جاتے ہیں وہاںہم جملہ داعین کو پوری تیاری سے بھر پور حصہ لینے کی ضرورت ہے۔
معاندین اسلام ،سرکردہ رؤسائے قریش کا آپ کو طرح طرح کی لالچ دینا اور آپ صلعم کا ان پیشکش کو ٹھکرا دینا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم اپنے مقصود پہ ہمیشہ ڈٹے رہیں گے اور جب تک پوری دنیا میں خداکی بادشاہت قائم نہ ہو جائے تب تک ہر طرح کی قربانی پیش کرتے چلے جائیں گے۔
آواز آرہی ہے یہ فونو گراف سے
ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے
فونوگراف کی ایجاد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر خوش تھے اور ایک تبلیغی نظم بھی آپنے لکھی اور اسکو تبلیغ کا بھاری ومؤثرذریعہ بنا دیا ۔
سامعین !آج سائنس اور ٹکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے۔قسما قسم کی جدید سہولیات میسرہیں۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم داعین ان موجودہ سہولیات کو بروئے کار لاتےہوئے تبلیغی مہمات کو مزید تیز کریں ۔
آج خلافت خامسہ کےبابرکت دورمیں ہمارے محبوب امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیزکی ہدایت اور ارشادا ت کے عین مطابق، پیس سمپوزیم، بک فیئر اور سیمینارزمنعقد کرنا، سوشل میڈیاکے مروجہ پلیٹ فارمز مثلا یو ٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ ،ٹیوٹراور لنک ڈین کے ذریعہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی پرامن و زندگی بخش تعلیم کو پوری دنیا میں پھیلانےکے مقدس جہادمیں عملا شامل ہونا نہ صرف اپنے فرض منصبی کواداکرنا ہے بلکہ آج ہر احمدی کی حقیقی سعادت اور خوش بختی اسی میں ہے کہ وہ کامیاب داعی الی اللہ بن جائے۔
میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا الٰہی نوید کی تکمیل میںآج بفضلہ تعالی خلافت کی برکت سےجماعت کی تبلیغی مساعی کا جال ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں ہر ممکنہ ذرائع سے دعوت الی اللہ کا پیغام نہ پہنچایا جارہا ہواور مسلمانوں کی رفعت و سر بلندی کیلئے شبانہ روز کوششیں جاری نہ ہوں۔ مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب جزائر ہوں یا بر اعظم ہر کہیں حضرت مسیح موعودؑ کے خدام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیزکی ہدایت کی تعمیل میں اللہ تعالی کے اس آخری مکمل و اکمل پیغام کو جس کو اُس نے اپنے پیارے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا تھا دلوں میں اُتارنے میں مصروف عمل ہیں۔
پھیلائیںگے صداقت اسلام کچھ بھی ہو
جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہمیں
محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار
روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں
( کلام محمود )
سامعین کرام!آج جب ہم دنیا کے کسی بھی خطہ پر نظر دوڑاتے ہیںہر طرف حضرت انسان بے چینی اور بدامنی کا شکار ہے۔ کہیں مشرق و مغرب کا جھگڑا ہے۔ کہیں شمال اور جنوب ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں ۔ جدھر دیکھو فتنہ وفساد، ماردھاڑ ظلم وتشدد کا بازار گرم ہے اور نفرتوں کی دیوار سینہ تان کر کھڑی ہے۔ عورتوں اور بچوں کا مستقبل مسلسل خطرہ کی گھنٹی بجارہا ہے۔ ہر گھر اور ہر ملک ایک ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ غرض قتل و غارت اور آدم کشی کا عمل اس قدر ہو رہا ہے جس کے سننے سے انسان کے حواس معطل ہوتے ہیں بیداری اور خواب کی تمیزیکسر مٹ جاتی ہے۔ چنگیز خان اور بخت نصر نے بھی دنیا کے حالات بگاڑے تھے۔ نیپولین اور ہٹلر نے بھی نظام امن کو تہہ و بالا کیا تھا۔ مگر اس وقت دنیا میں جس قدر تباہی و بربادی کا عالم ہے اس سے ان تمام مظالم کی داستان بھی شرماتی ہے۔ دنیاعین تباہی کی کگار پر کھڑی ہے۔ہر سو جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں دنیا کے بڑے بڑے فلاسفر مد بر دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے بے چین اور پریشان نظر آرہے ہیں۔
ایسے حالات میں احمدیت دنیا کو ہلاکتوں سے بچانے کا آخری ذریعہ ہے۔لہٰذاہم داعین و ہر احمدی کو فریضہ دعوت الی اللہ کی طرف خوب توجہ کرنی ہو گی۔ سیدنا و امامنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’دنیا تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اس کو تباہی سے بچائیں۔ کیونکہ اب اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے بغیر کوئی قوم محفوظ نہیں ۔ اس لئے اب ان کو بچانے کیلئے داعی الی اللہ کی مخصوص تعداد یا  مخصوص ٹارگیٹ حاصل کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ اپنی جماعتوں کی ایسی منصوبہ بندی کریں کہ ہر احمدی اللہ کے پیغام کو پہنچانے میں مصروف ہوجائے۔‘‘
( الفضل 8 ؍جون 2004ء)
حضرات!وہ لوگ جن تک ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام نہیں پہنچا یا صدہا نشان دیکھنے کے باوجود ابھی تک اس داعی کی آواز پر لبیک نہیںکہا ہے ۔ ایسے تمام لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
’’اَے عقلمندو میرے کاموں سے مجھے پہچانو اگر مجھ سے وہ کام اور وہ نشان ظاہر نہیںہوتے جو خدا کے تائید یافتہ سےظاہر ہونے چاہئیں تو تم مجھے مت قبول کرولیکن اگر ظاہر ہوتے ہیں تو اپنے تئیں دانستہ ہلاکت کے گڑھے میں مت ڈالو بد ظنیاں چھوڑو۔بد گمانیوں سے باز آجاؤکہ ایک پاک کی توہین کی وجہ سے آسمان سرخ ہو رہا ہے اور تم نہیں دیکھتے اور فرشتوں کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے اور تمہیں نظر نہیں آتا ۔خدا اپنے جلال میں ہے اور در ودیوار لرزہ میں۔ کہاںہےوہ عقل جو سمجھ سکتی ہے ۔ کہاں ہیں وہ آنکھیں جو وقتوں کو پہچانتی ہیں ۔آسمان پر ایک حکم لکھا گیا ۔ کیا تم اس سے ناراض ہو ؟کیا تم رب العزت سے پوچھوگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اے نادان انسان باز آجا کہ صائقہ کے سامنے کھڑا ہونا تیرے لئے اچھا نہیں ۔‘‘ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12، صفحہ،7)
آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے
لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے
آخر میں پیارےآقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کا ایک ارشاد پیش کرکے میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔
10؍ مئی 2013ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا:
’’ پس دنیا کو توحید پر قائم کرنے اور دین واحد پر جمع کرنے کیلئے جن باتوں کی ضرورت ہے وہ ایک تبلیغ ہے۔اللہ تعالی کا پیغام پہنچانا،اور دوسرے اپنے اخلاق کو اعلی سطح پر لے جانااور تیسرے دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالی سے مد دچاہنا ۔پس آج ہر احمدی اور ہر اس شخص کو جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کرتا ہے اس ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بن سکے جس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔‘‘
آخر میں دعاہےکہ اللہ تعالی ہمیں کماحقہ فریضہء دعوت الی اللہ ادا کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
…٭…٭…٭…