اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُـبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ۰ۡفَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ۰ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (المائدہ :20)
اَے اہلِ کتاب! رسولوں کے ایک لمبے انقطاع کے بعد تمہارے پاس یقیناً ہمارا وہ رسول آچکا ہے جو تمہارے سامنے (اہم امور) کھول کر بیان کر رہا ہے مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشیر آیا اور نہ کوئی نذیر۔ پس یقیناً تمہارے پاس بشیر اور نذیر آچکا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’دیکھو! آج میں نے بتلا دیا ۔ زمین بھی سنتی ہے اور آسمان بھی کہ ہر ایک جو راستی کو چھوڑ کر شرارتوں پرآمادہ ہوگا اور ہر ایک جو زمین کو اپنی بدیوں سے ناپاک کرے گاوہ پکڑاجائے گا۔خدا فرماتا ہے کہ قریب ہے جو میرا قہر زمین پر اترے کیونکہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی ہے ۔
پس اٹھو اور ہوشیار ہوجاؤ کہ وہ آخری وقت قریب ہے جس کی پہلے نبیوں نے بھی خبر دی تھی ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے بھیجا کہ یہ سب باتیں اُس کی طرف سے ہیں، میری طرف سے نہیں۔ کاش یہ باتیں نیک ظنی سے دیکھی جاویں۔ کاش میں ان کی نظر میں کاذب نہ ٹھہرتا تا دنیا ہلاکت سے بچ جاتی ۔یہ میری تحریر معمولی تحریر نہیں ۔ دلی ہمدرد ی سے بھرے ہوئے نعرے ہیں۔ اگر اپنے اندر تبدیلی کرو گے اور ہر ایک بدی سے اپنے تئیں بچا لو گے تو بچ جاؤگے ۔ کیونکہ خد ا حلیم ہے جیساکہ وہ قہّار بھی ہے۔ اور تم سے اگرایک حصہ بھی اصلاح پذیر ہوگا تب بھی رحم کیا جائے گا ۔ ورنہ وہ دن آتاہے کہ انسانوں کو دیوانہ کر دے گا۔
نادان بدقسمت کہے گا کہ یہ باتیں جھوٹ ہیں ۔ ہائے وہ کیوں اس قدر سوتا ہے ۔ آفتاب تو نکلنے کو ہے۔ انسان کا کیاحرج ہے کہ اگر وہ فسق و فجور کو چھوڑ دے۔ کون سا اُس کا اِس میں نقصان ہے اگر وہ مخلوق پرستی نہ کرے۔ آگ لگ چکی ہے اٹھو اور اس آگ کو اپنے آنسوؤں سے بجھاؤ۔اس قدر توبہ استغفار کرو کہ گویا مر ہی جاؤ۔ تا وہ حلیم خدا تم پر رحم کرے ۔ آمین ۔‘‘
(اشتہارا لانذار، مطبوعہ قادیان)(مجموعہ اشتہارات ، جلد سوم ، مطبوعہ لندن ،صفحہ522،524)
کرو توبہ کہ تا ہو جائے رحمت
دکھاؤ جلد تر صدق و انابت
کھڑی ہے سر پہ ایسی ایک ساعت
کہ یاد آ جائے گی جس سے قیامت
مجھے یہ بات مولیٰ نے بتا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِی اَخْزَی الْاَعَادِی
عصر حاضر کے بشیر و نذیر مسیح و مہدی دوراں کے اس رونگٹے کھڑے کردینے والا انتباہ آپ نے سماعت کرلیا ہے۔ آج دنیا میں ایک بے یقینی اور خوف کی فضا ہے اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ عالم انسانیت کو اس وقت دیگر دنیاوی ضروریات کے ساتھ ساتھ امن و آشتی اور سکون کی جس قدر ضرورت ہے وہ شاید اس سے قبل کبھی نہیں رہی۔ دو عالمی جنگیں اور کروڑوں لوگوں کا خون بھی عالمی طاقتوں کو امن کی اہمیت باور نہیں کرا سکا اور تیسری عالمی جنگ کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال میں امن عامہ کی کوششوں کی بجائے، دنیا میں اسلحہ و جنگ کی ترویج پر کام ہورہا ہے۔صرف گزشتہ دہائی کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو ہزاروں لاکھوں بے گناہ، بے قصور تہ تیغ ہوئے، بے شمار زخمی ہوکر ہمیشہ کیلئے معذور ہوگئے۔لاکھوں بے گھر ہوئے جن کے دکھوں کا درماں آج تک نہیں ہوسکا۔المیہ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں میں اس کا کوئی احساس نہیں۔ اس تناظر میں دنیا میں انسانیت کا ہمدرد اور اسکی بے لوث خدمت اور دعائیں کرنیوالا ایک مقدس وجود خلیفہ وقت کا وجود باجود ہے۔
اٹھو کے ساعت آئی اور وقت جارہا ہے
پسر مسیح دیکھو کب سے جگارہاہے
حاضرین عالمی بحران کی ان اذیت ناک ساعتوں میں اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم ہم پر خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ کے روپ میں سایہ فگن ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ اپنی پوری آب وتاب سے پورا ہوتاہواہم احمدی ہر آن ہر جہت مشاہدہ کر رہے ہیںکہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًااور اُن کیلئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کیلئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور اُنہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔
اسی سے ہراِک مشکل آسان ہے
گریزاںہے اِس سے جو نادان ہے
حضرات!آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو،کیوں کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اگر ایک عام مومن کی یہ کیفیت ہے تو حضرت امیر المومنین کی کیا شان ہوگی۔ آج سے 15سال قبل جب دنیا خواب غفلت میں سوئی ہوئی تھی اس وقت سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دنیا کو ان خطرات سے متنبہ فرمارہے ہیں کہ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِکہ تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہو اور نہایت دردمندانہ دل کے ساتھ اس کوشش میں ہیں کہ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا کہ تمہیں اس آگ میں گرنے سے بچالے۔
آج دنیا میں امن عامہ کی جس قدر کوششیں خلافت احمدیہ نے کی ہیں اسکی کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔ ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہی ہے جو نہ صرف دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے مدت سے مسلسل خبردار کررہا ہے اور تنبیہ کررہا ہے بلکہ دنیا کو اس ہولناک تباہی سے بچانے کیلئے درمندانہ نصائح بھی کر رہا ہے۔ امن، صلح جوئی اور آشتی کی کوششیں کرنے والا ایک ہی عالمی رہنما ہے اور ہماری خوش قسمتی کہ ہم اسکے ماننے والے ہیں۔ مگر وہ جو اُسے نہیں مانتے، وہ اُن کیلئے بھی ایسے ہی درد رکھتا اور دعائیں کرتا ہے۔
اب بعض جگہ تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جنگوں کی صورت میں جو تباہی ہونی ہے وہ ایسی خوفناک ہو گی کہ ایک اندازے کے مطابق دورانِ جنگ اور اسکے بعد کے دو سالوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے دنیا کی چھیاسٹھ فیصد آبادی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ ایسی تباہی و بربادی ہو گی جسکا تصور بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ ایک عام انسان تو اسکا سوچ بھی نہیں سکتا۔پس بہت خوفناک حالات ہیں۔
آج جب دنیا امن کو ترس رہی اور تیسری عالمی جنگ کے بادل فضاؤں میں منڈلا رہے ہیں، امن کا یہ شہزادہ دنیا کو بار بار امن کی طرف بلا رہا ہے اور بزبان حال یہ کہہ رہا ہے کہ
صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے
ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار
حضور انور نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ ہی مختلف مواقع پر اپنے خطبات کے ذریعہ دنیا کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے افراد ِجماعت کو بالخصوص اور تمام عالم کو بالعموم مخاطب کرتے ہوئے تمام دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے کوششوں کی تلقین فرمائی اور احباب جماعت کو اسلام کی امن و آشتی کی جو حسین اور خوبصورت تعلیم ہے وہ دنیا کے سامنے رکھنے کی تلقین فرمائی اور مسائل کے حل کیلئے متعدد بار دعاؤں کی تحریک فرمائی۔ نیز مسلم امہ اور بڑی طاقتوں کو انتباہ فرمایا اور ان معاملات میں رہنمائی فرمائی۔اِن میں حضورانور نے کسی ایک خطہ کو ہی مخاطب نہ کیا، بلکہ ایشیائی ممالک کے مسائل ہوں، یا یورپ کے ممالک کے خطرات، افریقی ممالک میں پائی جانے والی بے چینی ہو یا عرب دنیا میں پھیلی حکمران طبقے سے ناراضگی۔ حضور انور نے ہر جگہ کے مسائل کا وقتا فوقتا ذکر کر کے اُن کی بار بار راہنمائی فرمائی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں ’’جنگ کے حالات جس تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں اور اسرائیلی حکومت اور بڑی طاقتیں جس پالیسی پر عمل پیرا ہیں اس سے عالمی جنگ اب سامنے نظر آرہی ہے۔ بعض اسلامی ممالک کے سربراہان، روس، چین اور بعض مغربی تجزیہ نگاروں نے بھی اب تو یہ کھل کر کہنا اور لکھنا شروع کردیا ہے کہ اس جنگ کا دائرہ اب وسیع ہوتا نظر آرہا ہے اور اگر فوری طور پر جنگ بندی کی پالیسی نہ اپنائی گئی تو دنیا کی تباہی ہے۔ سب کچھ خبروں میں آرہا ہے، آپ سب کے سامنے ساری صورتِ حال ہے اس لیے احمدیوں کو دعاؤں پر زور دینا چاہئے۔ ہر نماز میں ایک سجدہ یا کم از کم کسی ایک نماز میں ایک سجدہ تو ضرور اس کیلئے ادا کرنا چاہئے، اس میں دعا کرنی چاہئے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ 10؍نومبر2023ء)
دنیا میں امن کے قیام کیلئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کی گئی کوششوں میں ایک بہت بڑا حصہ آپ کے مختلف ممالک کے دورہ جات ہیں۔ ان دوروں میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے سربراہان مملکت سے ملاقاتوں، حکومتی وزراء،ممبر ان پارلیمنٹ، کونسلرز، میئرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز، وکلاء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معز زین کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعہ اسلامی تعلیم کے مطابق امن کا پیغام پہنچایا۔ دنیا کی موجودہ صورت حال، عالمی معیشت، ماحولیاتی آلودگی، دہشت گردی کے سدّ باب اور عالمی امن کے قیام جیسے موضوع زیر بحث رہے۔
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ان نصیحت آمیز اور فکر انگیز خطابات میں سے وقت کی رعایت کے مطابق صرف دو اقتباسات پیش کر تا ہوں جن میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دردمندانہ نصائح فرمائی ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب انسانی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تب وہ قادر مطلق خدا انسانی قسمتوں کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہےتا کہ وہ اپنا فیصلہ ظاہر کرے اور لوگوں کو اس کی طرف جانے اور انسانی حقوق کے ادا کرنے کیلئے مجبور کرے۔ یہ بات بہت بہتر ہے کہ اہل دنیا خود ان اہم معاملوں کی طرف دھیان دیں کیونکہ جب اللہ کو ایسی کاروائی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو اس کا غصہ انسان کو نہایت خوفناک ڈھنگ سے پکڑتا ہے۔اس طرح یہ خوفناک پکڑ ایک اور عالمی جنگ کی شکل میں ظاہر ہو سکتی ہے۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آنے والی عالمی جنگ کے نتائج اور اس کی وسیع تباہ کاریاںصرف اس جنگ تک یا موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ اس کے خوفناک نتائج آنے والی کئی نسلوں پر اثر انداز ہوں گے۔ پھر ایسی جنگ کے خوفناک نتائج اور اس کےا ثرات نوزائیدہ بچوں پر اور مستقبل میں پید ا ہونے والے بچوں پر بھی پڑیں گے۔موجودہ جدید ہتھیار اس قدر تباہی مچانے والے ہیں کہ مستقبل میں پیدا ہونے والی کئی نسلوں کے جسموں پر ان کے خوفناک نتائج پڑیں گے۔
اگر کسی انسان کو گولی ماری جائے تو اس کا بچ جانا تو ممکن ہے لیکن اگر ایٹمی جنگ شروع ہو جاتی ہے تو جو بھی اسکی لپیٹ میں آئیں گے ان کی ایسی قسمت نہیں ہوگی۔اسکے برعکس ہم دیکھیں گے کہ لوگ اچانک مرنے لگیں گے اور ایک جگہ جم جائیں گے۔ان کی کھالیں پگھلنے لگیں گی۔پینے کا پانی، کھانا اور سبزیاں سب زہر آلود ہو جائیں گی۔ وہ جگہیں جہاں پر سیدھے طور پر جنگ نہ ہوگی وہاں پر بھی اور جہاں جنگ کے اثرات کچھ کم پڑیں گے وہاں پر بھی ایٹمی بیماریوں کے بھیانک نتائج پیدا ہوں گے اور مستقبل کی نسلوں کو کئی طرح کے خطرات سے گزرنا ہوگا۔
اسکے باجوود آج کچھ مفاد پرست اور بے وقوف لوگ اپنی ایجادات پر بڑا فخر محسو س کر رہے ہیں اور انہوں نے دنیا کی تباہ کاریوں کیلئے جو کچھ ایجاد کیا ہے اس کو دنیا کیلئے ایک تحفہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ایک اندازہ کے مطابق دوسری عالمی جنگ میں 62 ملین لوگ مارے گئے تھے۔بتایا جاتا ہے کہ مارے گئے لوگوں میں 40 ملین عام شہری لوگ تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فوج کی نسبت عام آدمی زیادہ مارے جاتے ہیں۔یہ وہ تباہ کاری ہے جو جاپان کے علاوہ باقی جگہوں پر صرف عام ہتھیاروں کے ساتھ ہوئی تھی۔اس جنگ میں صرف بھارت میں 16 لاکھ لوگ موت کا شکار ہوئے تھے۔
پس اگر بڑی طاقتیں انصاف سے کام نہیں لیتیں اور چھوٹے ممالک کی نا امیدیوں کو ختم نہیں کرتیں اور اس سمت میں ٹھیک کاروائیاں نہیں کرتیں تو حالات ہمارے قبضہ سے باہر ہو جائیں گےاور اسکے بعد جو تباہی بربادی پھیلے گی ہم اس کا تصور بھی کر نہیں سکتے۔
پس دنیا کے ممالک کو ان موجود ہ حالات پر بہت فکر مند ہونا چاہئے۔اسی طرح بعض مسلم ملکوں کے ناانصاف بادشاہ جن کا واحد مقصد کسی بھی قیمت پر اپنے تسلط کو قائم رکھنا ہے، انہیں بھی ہوش میں آنا چاہئے، ورنہ ان کی بد اعمالیاں اور بے وقوفیاں ان کی بد انجامی کی وجہ بن جائیں گی۔
ہم جو جماعت احمدیہ کے ممبر ہیں دنیا اور انسانیت کو تباہی سے بچانے کیلئے اپنی انتہائی کوشش کرتے رہیں گے۔ یہ اس لئے کہ ہم نے موجود زمانے کے امام کو مانا ہے جسے خد انے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہےاور جو خدا کے رسول حضرت محمد ﷺ کا غلام تھا جو دنیا کی بھلائی کیلئے آیا تھا۔‘‘ (خلاصہ خطاب حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ برموقع 9ویں سالانہ امن کانفرنس بیت الفتوح مارڈن، 24 مارچ 2012ء بحوالہ World Crisis and Pathway to Peace صفحہ 40-45)
حضرات!جہاں دنیا کی تباہی اور بربادی کے متعلق انذاری پیشگوئیاں ہیں وہاں دل کو سکون اور تسلی دینے والی بعض تبشیری پیشگوئیاں بھی موجود ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ان نشانوں کے بعد دنیا میں ایک تبدیلی پیدا ہوگی اور اکثر دل خدا کی طرف کھینچے جائیں گے اور اکثر سعید دلوں پر دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی اور غفلت کے پردے درمیان سے اٹھا دئے جائیں گے۔ اور حقیقی اسلام کا شربت انہیں پلایاجائے گا ۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ، صفحہ6،7مطبوعہ1906ء، روحانی خزائن، جلد20، صفحہ399)
حضرات!حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے وقف نو کلاس یو.کے 22؍جنوری 2017ء کے موقعہ پر یہ سوال کیا گیا کہ حضور آپ کا سب سے بڑا ڈر کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ’’میرا ڈر یہی ہے کہ تیسری عالمی جنگ کے بعد جب لوگ خدا کو ڈھونڈیں گے، مذہب کی طرف رجوع کریں گے۔ کیا ہم احمدیوں کی اتنی ٹریننگ ہوگئی ہے؟ کیا ہمارا تعلق اللہ سے قائم ہوگیا ہے؟ کیا ہم لوگ نماز صحیح وقت میں پانچ وقت پڑھ رہے ہیں؟ کیا جب لوگ تیسری عالمی جنگ کے بعد ہمارے طرف رجوع کریں گے۔ ایک Break Through ہوگا تو کیا ہم تیار ہیں انہیں اللہ سے جوڑنے کیلئے؟ کیا ہمارے عمل ایسے ہیں جو اُن کیلئے نمونہ بن سکے؟ کیا ہمارا دینی علم اتنا ہے کہ ہم آنے والوں کو دین کا صحیح راستہ دکھا سکیں؟ یہ میرا ڈر ہے۔‘‘
موجودہ زمانہ میں دنیا کو امن کی طرف بلانے کی بھاری ذمہ داری افراد جماعت کے کندھوں پر عائد کی گئی ہے کیونکہ اس زمانہ میں سوائے افراد جماعت کے کسی اور کو یہ توفیق ہی نہیں مل رہی ہے کہ وہ دنیا کی توجہ کو ایک زندہ خدا کی طرف مبذول کر سکیں۔ اس اعتبار سے افراد جماعت کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کو توجہ دلائیں کہ وہ اپنے خالق حقیقی کی طرف رجوع کرے۔ سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں کا یہ ایک بہت بڑا کام ہےجنہوں نے اپنے گھروں اور اپنے ماحول میں بھی امن اور سلامتی پیدا کرنی ہے اور دنیا میں بھی امن و سلامتی پیدا کرنی ہے اور یہ کام اسی وقت ہو گا جب ہمارے دل بھی خالص توحید سے پُر ہوں گے اور دنیا کو بھی حقیقی توحید کی طرف لانے والے ہوں گے۔ یہ بات یقینی ہے کہ توحید کامل کے قیام کے بغیر امن قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ پہلے بھی بیان ہو گیاکہ بالا ہستی کو بہرحال تسلیم کرنا ہو گا اور وہ بالا ہستی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا خیال توحید کو دل میں قائم کیے بغیر نہیں آسکتا اور توحید قائم نہیں ہو گی تو لڑائیاں بھی جاری رہیں گی۔ لڑائیاں تو تبھی بند ہو سکتی ہیں جب حقیقی مواخات پیدا ہو، آپس میں محبت اور پیار پیدا ہو، بھائی چارے کی صورتحال پیدا ہو۔‘‘
(خطاب فرمودہ 21؍اگست 2022ءبرموقعہ جلسہ سالانہ جرمنی )
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں’’ اس زمانے کے اللہ تعالیٰ کے فرستادے نے بڑے زور سے تنبیہ کی ہوئی ہے کہ ’’اے یورپ! تُو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا! تُو بھی محفوظ نہیں اوراے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن، جلد22،صفحہ 269)
یہی وہ ارشاد ہے اور تنبیہ ہے اور warning ہے جس کی وجہ سے خلفائے احمدیت وقتاً فوقتاً توجہ دلاتے رہے۔ میں بھی ایک عرصہ سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں، یہ بتا رہا ہوں کہ اپنے پیدا کرنے والے واحد و یگانہ خدا کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو تباہی یقینی ہے۔‘‘ (خطاب فرمودہ 21؍اگست 2022ء برموقعہ جلسہ سالانہ جرمنی )
یہ آگ ہے، پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے
جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذو العجائب سے پیار
حضرات!ایک ایسے وقت میں جب کہ دنیا آگ کے کنارے پر کھڑی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیں تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دلارہے ہیں اور پُر حکمت طریق پر حضور ہمیں موجود زمانہ میں تبلیغ کی اہمیت کی طرف توجہ دلارہے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ریویو آف رلیجینزکے ایڈیٹر صاحب نے سوال کیا کہ حضور ہم نے کووِڈ کے ذریعے مشاہدہ کیا کہ کچھ لوگوں نے یا تو خدا کے قریب ہونے کیلئے اپنی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کی۔ تو کیا عالمی جنگ بھی اس لحاظ سے ایک اہم سنگ میل یا انتباہ کا ذریعہ بن سکتی ہے؟
اسکے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’جب ایسی صورت حال پیدا ہو جائے اور لوگ پوچھنے لگیں کہ’اب ہم کیا کریں؟‘ تو ہم ان کی خدا تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرنے کیلئے موجود ہوں اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہم لوگوں کے ساتھ پہلے سے رابطہ میں ہوں۔ اگر ہم وقت آنے سے پہلے مناسب طور پر ان سے رابطہ استوار نہیں کریں گے تو معاملہ ان کیلئے مزید مشکل ہو جائے گا کیونکہ انہیں ہمارا علم ہی نہ ہو گا۔ اس لیے ہمیں اسلام احمدیت کے پیغام کو دورونزدیک ہرطرف پھیلانا چاہئے۔ ہمیں لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا مقصد انسانیت کو اپنے خالق، اپنے خدا کی طرف لانا ہے۔ ہمیں انہیں سمجھانا ہوگا کہ دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے انسانیت کی بنیادی اقدار کی پاسداری کی ضرورت ہے۔‘‘
حاضرین جلسہ!دنیا میں امن کے قیام کیلئے ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم آنحضورﷺ کی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی ان امن بخش تعلیمات کو اپنے کی تلقین کریں۔
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں ’’پس آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ماننے والوں کا یہ کام ہے کہ اس تعلیم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ قرآن کریم کے احکامات پر عمل کریں تو تبھی اپنے ماحول میں سلامتی پیدا کر سکتے ہیں اور دنیا کو بھی سلامتی کا پیغام پہنچا سکتے ہیں ورنہ دنیا کہے گی کہ اپنے قول و فعل ایک کرو پھر ہمیں نصیحت کرنا۔(خطاب فرمودہ 21؍اگست 2022ء برموقعہ جلسہ سالانہ جرمنی )
نیز حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں ’’ایسے میں اگر کوئی امید کی کرن ہے، امن کی ضمانت ہے تو ایک ہی وجود ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امن و سلامتی کی تعلیم کے ساتھ دنیا میں بھیجا تھا، جو شہنشاہِ امن ہے، جو اللہ تعالیٰ کو سب انسانوں سے زیادہ پیارا ہے،جس پر اللہ تعالیٰ کی آخری کامل اور مکمل شریعت اتری، جس کی تعلیم پیارو محبت کی تعلیم ہے، جس نے اپنے خدا تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے اور اپنے اوپر اتری ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کی فکر اور اس کیلئے شدید درد محسوس کر نے کی وجہ سے اپنی زندگی ہلکان کر لی تھی۔ اس حد تک اپنی حالت کر لی تھی اور کرب سے تڑپ کر اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فرمایا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء:4) کیا تُو اپنی جان کو اس لیے ہلاک کر دے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔
پس یہ ہے وہ ذات جو دل میں انسانیت کیلئے درد رکھتی تھی کہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کریں اور تباہی سے بچ جائیں۔ اپنی دنیا بھی بچا لیں اور اپنی آخرت بھی بچا لیں۔ایسی جامع تعلیم آپؐنے عطا فرمائی کہ کوئی اَور تعلیم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ایسی امن کی ضمانت دی جو دراصل اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ضمانت ہے لیکن افسوس کہ مسلمان بھی اس تعلیم کو بھول گئے اور ایمان کے صرف زبانی نعرے لگا کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ہوئے ہیں اور اس کیلئے غیروں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں۔‘‘ (خطاب فرمودہ 21؍اگست 2022ء برموقعہ جلسہ سالانہ جرمنی )
حضور مزید فرماتے ہیں’’ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئےاس سنہری اصول کو سامنے رکھنا ہو گا کہ دوسرے کیلئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔
پس اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ یہ سوچ رکھنی ہو گی کہ اگر میں صرف اپنے لیے یا اپنی قوم کیلئے یا صرف اپنے ملک کیلئے امن کا متمنی ہوں تو اس صورت میں مجھے اللہ تعالیٰ کی مدد، اس کی نصرت اور اس کی خوشنودی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ جب اس عقیدے پر انسان قائم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر سب کچھ کرنا ہے تبھی حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔‘‘
بھیج درود اس محسن پر تو دن میں سو سو بار
پاک محمد مصطفیٰﷺ نبیوں کا سردار
معزز حاضرین!قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کی حسین تعلیمات پر عمل کرنا اور کروانا اور اس کتاب متین کی تبلیغ کو دنیا میں پھیلانا بھی قیام امن کیلئے ہماری ترجیحی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ اس ضمن میں سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ
’’پس اگر اپنی دنیا و عاقبت سنوارنی ہے، امن و سلامتی سے رہنا ہے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس کلام کوجو آنحضرت ﷺ پر اترا ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ، اس روشن کتاب کی ہدایت کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔ اس روشن کتاب کی ہدایت کو پڑھنا اور سامنے رکھنا چاہئے تبھی سبل السلام پر چلنے والے ہوں گے۔ سلامتی کے راستے پر چلنے والے ہوں گے۔ اس کتاب کا کوئی حکم بھی ایسا نہیں جو انسانی امن برباد کرنے والا ہے۔ پس یہ پیغام ہے جو اپنوں اور غیروں کو دینا ہمارا کام ہے آج اوریہی دنیا کے امن کی ضمانت ہے۔‘‘(خطاب فرمودہ 21؍اگست 2022ء برموقعہ جلسہ سالانہ جرمنی )
حاضرین جلسہ!چاہے امن کا زمانہ ہو یا خطرات کا زمانہ ایک دوسرے سے ہمدردی کرنا افراد جماعت کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے اور مصیبت اور تکلیف کے موقعہ پر ایک دوسرے کی مدد کرنا بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر جب انسان خود تکلیف میں مبتلاء ہو اس وقت دوسرے سے ہمدردی کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگر ہمارے پاس کھانے کی ایک ہی روٹی ہو تو اس سے بھی کسی بھوکے کو حصہ دینا یہ حقیقی ہمدردی ہے جس کی توقع حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہم سے رکھتے ہیں جب آپؑنے فرمایا ’’میں بنی نوع انسان سے ایسی ہمدردی کرتا ہوں جیسے مادر مہربان اپنے بچوں سے کرتی ہے۔‘‘ ایسی غیر مشروط ہمدردی کی خوبی ہمارے اندر ہونی چاہئے۔ سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس ضمن میں ہمیں نصیحت فرماتے ہیں کہ
’’امن اس وقت تک قائم ہو ہی نہیں سکتا جب تک لوگوں کے اندر حقیقی مواخات پیدا نہ ہو اور حقیقی مواخات ایک خدا کو مانے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی،واحد و یگانہ خدا سے تعلق کے بغیر پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔ صرف ماننا ہی نہیں بلکہ ایک تعلق بھی قائم کرنا ہو گا اور اسکی تعلیم بھی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی ملی ہے۔‘‘ (خطاب فرمودہ 21؍اگست 2022ءبرموقعہ جلسہ سالانہ جرمنی )
حضرات!دنیا کے موجودہ حالات میں حضور پُر نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیشہ ہمیں دعاؤں کی تحریک فرماتے ہیں اور ان کھٹن حالات میں ہمارے حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک احمدی کو یہ دعا کرنی چاہئے کہ دنیا اس آفت کے آنے سے پہلے ہی اس سے بچ جائے اور بالفرض اگر یہ آفت آتی ہے تو اسکے بد اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے بھی دعا کرنی چاہئے۔ ہم اَور کیا کر سکتے ہیں؟ جب ہم اپنے سامنے اندھیرا دیکھتے ہیں تو دوسروں کو بھی اس کے بد اثرات کے بارے میں متنبہ کر سکتے ہیں۔ اب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی دنیا کو بچا سکتی ہے اور ان لوگوں میں کچھ احساس پیدا کر سکتی ہے یا ہماری انہیںسمجھانےکی کوششوں کو بارآور کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے تقریباً ایک یا دو سال پہلے عالمی راہنماؤں کو خطوط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے فعال ہوںاور اپنے خالق کو نظرانداز نہ کریں لیکن نہ تو وہ اس طرف توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں۔ وہ مادیت میں ڈوبے ہوئے ہیں، صرف اللہ کی رحمت ہی انہیں بچا سکتی ہے لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ کوئی بھی سو فیصد یقین کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ آئندہ کیا ہو گا۔ ہم صرف یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اگر اللہ کی رضا ہو تو وہ ہمیں تباہی سے بچا لے اور اگر اللہ کی منشاء کچھ اور ہے تو اللہ کرے کہ ایسی وسیع تباہی سے بچا جا سکے جس کے نتیجے میں دنیا میں انسانوں کی اکثریت کے ہلاک ہو جانے کا امکان ہو۔‘‘ (انٹرویو برائے ریویو آف رلیجنز)
حضرات!دنیا میں امن عامہ کے قیام کیلئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جس طرح نہ صرف دردمندانہ نصیحت فرماتے ہیں بلکہ مخلوق خدا سے حقیقی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس کیلئے جس حد تک ممکن ہے کوششیں بھی فرماتے ہیں جسے دیکھ کر ہر خاص و عام رطب اللسان ہے۔
میگل گارسیا (Miguel Garcia) صاحب جو پیدرو آباد،سپین کے سابقہ میئر رہے ہیں۔انہوں نے اس کانفرنس کے متعلق کہا’’ میری خواہش ہے کہ یہ جماعت اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے… مَیں حضرت مرزامسرور احمدصاحب کے الفاظ سے بہت محظوظ ہوا ہوں۔ انہوں نے جنگ و جدل سے آزاد ایک پُرامن معاشرے کے قیام کے حوالہ سے بات کی ہے اور اُن حکومتوں کی مذمت کی ہے جو دفاع کے نام پر اسلحہ کو انسانیت پر ترجیح دیتی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ مرزامسرور احمدنے ایک ایسے معاشرہ کے قیام کیلئے جس کی بنیاد انصاف اور باہمی عزت و احترام پر ہو، مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی دعوت دی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو تضادات سے بھری پڑی ہے۔ بعض ممالک ترقی کی انتہا کو چھو گئے ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھوک اور افلاس کی وجہ سے مررہی ہے۔ ایک طرف ہم لاکھوں ٹن خوراک سمندر میں پھینک دیتے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کو کھانے کیلئے انتہائی مشکل کے ساتھ کچھ ملتاہے۔ ایک طرف کروڑپتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف معاشرے کے بعض طبقے انتہائی غریب ہوگئے ہیں۔ ایک ایسی دنیا کے قیام کی ضرورت ہوگی جو جنگ کو ترک کردے اور امن کی خواہاں ہو، جو سب کو ساتھ لے کر مشترکہ طور پر ترقی کرے، جو ناانصافی کے خلاف کھڑی ہوجائے اور معاشرتی انصاف کو فروغ دے۔‘‘(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس مؤرخہ 7 مارچ 2014ء)
آخر پر میں اپنی یہ معروضات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ایک روح پرور ارشاد سے ختم کرنا چاہوں گا۔ حضور فرماتے ہیں:
’’پس بہت سوچنے کا مقام ہے، بہت غور کی ضرورت ہے، بہت فکر کا مقام ہے۔ آج ہر احمدی کا کام ہے کہ حقیقی امن اور سلامتی دنیا میں پیدا کرنے کیلئے خدائے واحد پر اپنے ایمان کو پختہ کرے۔ خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنے دلوں میں راسخ کرے کہ کوئی اور محبت اس کی جگہ نہ لے سکے۔ اسکے حکموں پر عمل کرنے کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتری ہوئی تعلیم یعنی قرآن کریم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائے۔ جب ہمارے معیار اس حد تک جائیں گے کہ قرآن کریم کا ہر حکم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد ہمارے قول و فعل کا حصہ بن جائے گا تب ہی ہم دنیا کو اسلام کا حقیقی پیغام پہنچا سکیں گے۔ انہیں حقیقی امن کے گُر کی نہ صرف تعلیم پیش کر کے بتائیں گے بلکہ اپنے عمل سے بھی سکھائیں گے اور یہی دنیا میں حقیقی امن قائم کرنے کا ذریعہ ہے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امنِ عالم کا عظیم وجود ثابت کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی اسلام پر اعتراض کرنے والوں کے منہ بند کرنے کا ذریعہ ہے۔ بہرحال آج یہ کام مسیح موعود کی جماعت کے سپرد کیا گیا ہے۔ اگر ہم نے بھی گھریلو سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اس کے مطابق اپنا کردار ادا نہ کیا تو ہمارے امن و سلامتی میں رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے،نہ ہی ہماری نسلوں کی امن و سلامتی میں رہنے کی کوئی ضمانت ہے اور نہ ہی دنیا کے امن و سلامتی کی کوئی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ احسن رنگ میں ہمیں فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
اللہ کرے کہ دنیا خدا کے بھیجے ہوئے فرستادے کو پہچاننے میں اب مزید تاخیر نہ کرے تا عافیت کا یہ حصار اُن کو شَشْ جِہَتْ سے ڈھانپ لے اور ان کی دائمی نجات کا موجب ہوسکے، آمین۔
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
…٭…٭…٭…