اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-16

خطبات و خطابات حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفادہ کی اہمیت و برکات (منیر احمد خادم صاحب ، ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد جنوبی ہند )

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ( انفال : 25)
اَے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور اسکے رسول کی آواز پر لبیک کہا کرو ۔ جب وہ تمہیں بلائے تا کہ وہ تمہیں زندہ کرے۔
لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰى۝۰ۭؔ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَہٗ لَوْ اَنَّ لَہُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ لَافْتَدَوْا بِہٖ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ۝۰ۥۙ وَمَاْوٰىہُمْ جَہَنَّمُ۝۰ۭ وَبِئْسَ الْمِہَادُ ( الرعد : 19)
ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہیں بھلائی ہے اور وہ لوگ جو اُسے لبیک نہیں کہتے اگر وہ سب کا سب ان کا جو زمین میں ہے اور اسکے برابر اور بھی ہو تو وہ اس کو دے کر ضرور اپنی جانیں  چھڑانے کی کوشش کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے بہت بُرا حساب مقدر ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔
قابل احترام صدر اجلاس اور معزز سامعین! خاکسار کی تقریر کا عنوان ’’خطبات و خطابات حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفادہ کی اہمیت و برکات ‘‘ہے۔
سامعین کرام ! ہم وہ خوش قسمت جماعت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی اطاعت میں  امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرنے اور خلافت علی منھاج نبوت کی اطاعت و فرمانبرداری کر کے عظیم الشان جسمانی و روحانی برکات کے حصول کی توفیق مل رہی ہے۔ امام مہدی علیہ السلام وہ عظیم الشان وجود ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے مثیل ہوں گے ۔ سورۃ الجمعہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ
کہ وہی ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا وہ ان پر اسکی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔
اور اگلی آیت میں فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ جیسے اولین میں ہوئی ہے اسی طرح آخرین میں بھی تمثیلی طور پر ہوگی اور اس میں بھی آپ کے یہی کام ہوں گے۔ فرمایا
وَاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ
اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی اسے مبعوث کیا ہے جو ابھی ان سے نہیںملے ہیں وہ کامل غلبہ والا اور صاحب حکمت ہے۔
گویا امام مہدی اور مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہے اور امام مہدی و مسیح موعود کے ذمہ بھی وہی کام بتائے گئے ہیں جو آنحضرت ﷺ کےآپ کی بعثت اولیٰ میں تھے۔ یعنی تلاوت آیات ربانی، اور تزکیہ نفوس، اور تعلیم کتاب اور اسکی انمول حکمتوں سے آگاہی کرنا۔ پہلے بزرگوں نے بھی اسکی تصریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آنے والے مہدی میں سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار منعکس ہوں گے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنی کتاب الخیر الکثیر میں فرماتے ہیں کہ
حق لہ ان ینعکس فیہ انوار سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم یزعم العامۃ انہ اذا نزل فی الارض کان واحداً من الاُمہِ۔ کلابل ھو شرح الاسم الجامع المحمدی و نسخۃ منتسختہ منہ
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی بطور پیشگوئی فرماتے ہیں کہ مسیح موعود اس بات کا حقدار ہے کہ اس میں سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار منعکس ہوں۔ عام لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب مسیح موعود نازل ہوگا تو محض ایک اُمتی فرد ہوگا ۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ اسم جامع محمدی کی شرح اور آپ کا سچا عکس (True Copy) ہوگا۔‘‘(بحوالہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرمودہ 5؍اپریل 1985ء)
سامعین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امام الزمان کیلئے جن قویٰ کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے ایک بسطت فی العلم بھی ہے یعنی اللہ تعالیٰ مبعوث کئے جانے والے خلیفہ کو علوم روحانیہ و جسمانیہ میں وسعت عطا فرمائے گا ۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’ تیسری قوت بسطت فی العلم ہے جو امامت کیلئے ضروری اور اسکا خاصہ لازمی ہے۔ چونکہ امامت کا مفہوم تمام حقائق اور معارف اور لوازم محبت اور صدق اور وفا میں آگے بڑھنے کو چاہتا ہے ۔ اسی لئے وہ اپنے تمام دوسرے قویٰ کو اسی خدمت میں لگا دیتا ہے اور رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا کی دعا میں ہر دم مشغول رہتا ہے اور پہلے سے اسکے مدارک اور حواس ان امور کیلئے جو ہر قابل ہوتے ہیں۔ اسی لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے علوم الٰہیہ میں اس کو بسطت عنایت کی جاتی ہے اور اس کے زمانہ میں کوئی دوسرا ایسا نہیں ہوتا جو قرآنی معارف کے جاننے اور کمالات افاضہ اور تمام حجت میں اسکے برابر ہو اسکی رائے صائب دوسروں کے علوم کی تصحیح کرتی ہے۔ اور اگر دینی حقائق کے بیان میں کسی کی رائے اسکی رائے کے مخالف ہو تو حق اس کی طرف ہوتا ہے کیونکہ علوم حقہ کے جاننے میں نورفراست اس کی مدد کرتا ہے۔ اور وہ نور ان چمکتی ہوئی شعاعوں کے ساتھ دوسروں کو نہیں دیا جاتا ۔وَذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ۔ پس جس طرح مرغی انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے لے کر ان کو بچے بناتی ہے اور پھر بچوں کو پروں کے نیچے رکھ کر اپنے جو ہران کے اندر پہنچا دیتی ہے اسی طرح یہ شخص اپنے علوم روحانیہ سے صحبت یابوں کو علمی رنگ سے رنگین کرتا رہتا ہے اور یقین اور معرفت میں بڑھاتا جاتا ہے۔
اور اس باغ کا خدا تعالیٰ کی طرف سے باغبان ٹھہرایا جاتا ہے اور اس پر فرض ہوتا ہے کہ ہر ایک اعتراض کو دور کرے اور ہر ایک معترض کا منہ بند کر دے اور صرف یہ نہیں بلکہ یہ بھی اس کا فرض ہوتا ہے کہ نہ صرف اعتراضات دور کرے بلکہ اسلام کی خوبی اور خوبصورتی بھی دنیا پر ظاہر کر دے ۔ پس ایسا شخص نہایت قابل تعظیم اور کبریت احمر کا حکم رکھتا ہے کیونکہ اسکے وجود سے اسلام کی زندگی ظاہر ہوتی ہے اور وہ اسلام کا فخر اور تمام بندوں پر خدا تعالیٰ کی حجت ہوتا ہے اور کسی کیلئے جائز نہیں ہوتا کہ اس سے جدائی اختیار کرے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ اور اذن سے اسلام کی عزت کا مربی اور تمام مسلمانوں کا ہمدرد اور کمالات دینیہ پردائرہ کی طرح محیط ہوتا ہے ۔ ہر ایک اسلام اور کفر کی کشتی گاہ میں وہی کام آتا ہے اور اسی کے انفاس طیبہ کفر کش ہوتے ہیں ۔ وہ بطور کل کے اور باقی سب اسکے جز ہوتے ہیں۔ ‘‘( روحانی خزائن، جلد 13 ، ضرورۃ الامام، صفحہ 479تا481)
اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس دور میں خلافت علی منہاج نبوت کے ذریعہ ظاہر ہونے والے ارشادات و احکامات کی کیا قدر و قیمت ہے۔
اس عظیم الشان خلافت کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ خلافت منھاج نبوت پر ہوگی۔ اس اعتبار سے یہ خلافت اپنی عظمت اور رفعت میں نبوت کی برکات کو سمیٹے ہوئے ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس خلافت کو اللہ تعالیٰ کی قدرت ثانیہ قرار دیتے ہوئے جماعت کو یہ خوشخبری عطا فرمائی ہےکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ جماعت کو عظیم برکات عطا فرمائے گا۔ عالمگیر غلبہ اسلام کا ظہور اس خلافت کے ذریعہ سے ہوگا۔ آپ نے فرمایا:
’’ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہےاور اسکا آنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگااور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جائوں۔ لیکن میں جب جائوں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پرغلبہ دوں گا۔‘‘ (رسالہ الوصیت)
پس خلافت احمدیہ وہ قدرت ثانیہ ہے جس کے طفیل اللہ تعالیٰ نے خلافت کے جاں نثاروں کیلئے قیامت تک دائمی غلبہ کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور اس غلبہ کے حصول کیلئے ہمارے لئے یہ بات شرط قرار دی ہے کہ ہم خلیفۂ وقت کے ارشاد ات کو اطاعت کے کانوں سے سنیں اور دل و جان سے ان پر عمل کریں ۔ کیونکہ یہی وہ دودھ ہے جو آسمان سے اُترا ہے اور جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا ہے کہ اس کو دل و دماغ میں محفوط کیا جائے۔
سامعین کرام! حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا :’’ آسمان سے بہت دودھ اُترا ہے محفوظ رکھو۔‘‘ ( تزکرہ، صفحہ 558)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اسکی تفسیر میں  فرماتے ہیں کہ یعنی معارف و حقائق کا دودھ …پھر فرمایا : یا احمد فَا ضَتِ الرحمۃ علیٰ شفتیک کلام اُفصحت من لدن ربّ کریم یعنی اَے احمد تیرےلبوںپر رحمت جاری ہے تیرا کلام خدا کی طرف سےفصیح کیا گیا ہے۔
یہی وہ دودھ اور رحمت ہے جو آج قدرت ثانیہ کے مظاہر ین کے ذریعہ ہم تک پہنچ رہا ہے۔
(تذکرہ، 558)
اور یہ آسمانی دودھ سوا سو سال سے لگا تار اپنوں اور بیگانوں پر برستا چلا آرہا ہے۔ جماعت احمدیہ میں قائم ہونے والی خلافت اولیٰ سے لے کر خلافت خامسہ تک کی تاریخ کا اگر ہم مطالعہ کریں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف ہر دور خلافت میں یہ بارش برسی ہے بلکہ اس آسمانی بارش نے تمام دنیا کووقت کے حالات کے مطابق فیضیاب کیا ہے۔
یہ مینہہ عالمی طور پر بھی برسا ہے اور اس نے دنیا کے بادشاہوں کی بھی راہنمائی کی ہے اور ان کو بادشاہت کے اسلوب سکھائے ہیں ۔ اسلامی تعلیم کی روشنی میں  انہیں ان کے فرائض سے آگاہ کیا ہے تو دوسری طرف دنیا کے ہر علوم کے ماہر ین نے خواہ وہ اقتصادی علوم کے ماہر ہوں یا معاشرتی علوم کے ماہر ہوں یا پھر سائنسی علوم کے ماہر ہوں یا طبی علوم کے ماہر ہوں یا طبقات الارض کے علوم کے ماہر ہوں یا تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے ہوں یا مذہبی علوم کے ماہر ہوں ان سب کی بہترین رنگ میں راہنمائی کی ہے۔
ہر ایک کی کمیوں اور غلطیوں کی نشان دہی فرمائی ہے ۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی تصدیق براہین احمدیہ آپ کا درس القرآن ،طب سے متعلق آپ کی کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے سیاسی حکمرانوں کو مشورے ،اقتصادیات کے لیکچر، سائنسی علوم میں گہری دسترس آپ کے دیباچہ تفسیر القرآن ، تفسیر کبیر اور اسلام کا اقتصادی نظام ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام ، دعوت الامیر جیسے لیکچرز اور معرکۃ الآراء کتب سے ظاہر ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمۃ اللہ کی تعمیر بیت اللہ کے مقاصد پراہل دنیا کی راہنمائی اور اقتصادی مسائل کے حل پر خطبات اورپاکستانی حکمرانوں کے جماعت احمدیہ کے خلاف غیر اسلامی فیصلوں پر انکی راہنمائی اور مستقبل میں ظاہر ہونے والی ان کی زبوں  حالی کا نقشہ جس کے معترف آج وہاں کے دانشور بھی ہیںاور دینی علوم پر مشتمل تبلیغی و تربیتی خطبات و خطابات اور ہر امر کی باریک بینی سے تفصیلات کا اظہار اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمۃ اللہ کے جدید سائنسی علوم کے مطابق قرآن کریم کی تفسیر اور اس حوالہ سے اہل دنیا کے سامنے مجالس عرفان کے ذریعہ ہمہ جہتی مضامین پرسیرحاصل بحث اور ہو میوپیتھی طرز علاج پر گہری تحقیق اور اس کے ذریعہ دنیا کو فائدہ پہنچانا اور حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اسلامی تاریخ پر گہری نظر اور اپنے ایمان افروز خطبات میں ان کا بیان ، دنیا کے حکمرانوں کو اپنے خطوط اور لیکچرز کے ذریعہ سے امن عالم کی اسلامی تعلیم سے آگاہ کرنا اور ایمان افروز تعلیمی و تربیتی و تبلیغی و انتظامی خطبات کے ذریعہ احباب جماعت کی تربیت اور انہیں مقصدبیعت سے آگاہ کرنا یہی وہ دودھ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ آسمان سے بہت دودھ اُترا ہے محفوظ رکھو۔ اور یہی وہ رحمت ہے جو پہلے قدرت اولیٰ کے مظہر کے ہونٹو ں پر نازل ہوئی اور پھر لگاتار قدرت ثانیہ کے مظاہر ین پر نازل ہوتی چلی جا رہی ہیں۔
سامعین کرام! اللہ تعالیٰ نے ان انفاخ قدسیہ کو جو قدرت اولیٰ اور پھر قدرت ثانیہ کے مظاہرین پردن رات نازل ہو رہے ہیں ہماری جسمانی و روحانی زندگی کیلئے ضروری قرار دیا ہے اور مومنوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اسکا رسول زندہ کرنے کیلئے تم کو روحانی زندگی بخشنے کیلئے بلائیں تو ان کی باتوں کو غور سے سنا کرو اور ان کی باتوں کا جواب دیا کرو ان کی باتوں کو اپنے دل و دماغ میں اُتارا کرو ۔ فرمایا:
جو لوگ ربّانی باتوں پر لبیک کہتے ہیں ان کیلئے بھلائی ہی بھلائی ہے اور وہ لوگ جو ان کی باتوں پر لبیک نہیں کہتے تو بے شک اس دنیا کے خزانوں کو بھی خرچ کریں بد انجامی سے بچ نہیں سکتےاور بد انجامی نہ صرف انکا پیچھا کرتی ہے بلکہ ان کی نسلوں کا بھی پیچھا کرے گی۔ (الرعد :19)
پس بھائیو! خلیفۂ وقت کے ارشادات کو سننا نہ صرف سننا بلکہ سننے کیلئے بے چین ہونا ہر مومن کی وہ سنت ہے جو بالآخر اس کو دائمی خوشحالی اور نجات اور ابدی پرسکون زندگی کا وارث بناتی ہے بلکہ اس کی نسل در نسل اس چشمۂ شیریں سے فیضیاب ہوتی چلی جاتی ہے۔ خلیفۂ وقت کے ارشادات کی اہمیت کے حوالہ سے ہم کو حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ
’’ خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔ ‘‘(الفرقان مئی/ جون 1967ء صفحہ 37،بحوالہ خطبات مسرور جلد اول )
پھر فرماتے ہیںکہ ’’ خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں  کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ ٔ وقت کی طرف سے حکم ملا ہےاور جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکا م ہیں۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ 24جنوری 1936ء مندرجہ الفضل 31جنوری 1936)
پس خلیفۂ وقت کے ارشاد ات مومن کی جان ہوتے ہیں اور ان کو سننا اور ان پر عمل کرنا اس کی زندگی ہوتی ہے اور اسی سے اس کو حیات جاودانی نصیب ہوتی ہے۔ اسی لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےہم اہل ہندوستان کو جوچار نکاتی پروگرام عطا فرمایا ہے اس میں ایک نکتہ یہ ہے کہ ہم حضور انور کا لائیو خطبہ جمعہ خود بھی سنیں اور اپنے بچوں کو بھی اس کے سننے کی عادت ڈالیں ۔ حضور انور کے خطبات حضرت مسیح  موعودعلیہ السلام کے الہام کے مطابق وہ دودھ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا ہے۔ الحمد للہ کہ یہ دودھ ہر جمعہ مومنین کے گھروں تک پہنچتا ہے۔ اس کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقعہ پر فرمایا :
’’ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے زمانے میں فاصلوں کی دوری کے باوجود ایم ٹی اے کے ذریعہ جماعت اور خلافت کے تعلق کو جوڑ دیا ہے۔ اس لئے میرے خطبات اور مختلف پروگراموں کو ضرور سنا کریں ۔ میں نے جائزہ لیا ہے کہ بعض عہدیداران بھی خطبات کو باقاعدگی سے نہیں سنتے ہیں یہ خطبات وقت کی ضرورت کے مطابق دینے کی کوشش کرتا ہوں اس لئے اپنے آپ کو ان سے ضرور جوڑیں تا کہ دنیا میں ہر جگہ احمدیت کی تعلیم کی جو اکائی ہے اس کا دنیا کو پتہ لگ سکے۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ 27ستمبر 2013ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 18؍اکتوبر 2013)
یہ خطبات جو مختلف مضامین پر مشتمل ہوتے ہیں کبھی ان میں تربیتی و اخلاقی پہلو ہوتے ہیں جن میں  عبادات کے طریقے سکھائے جاتے ہیں ۔ عبادات پر دوام پیدا کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ مساجد کی اہمیت ، مختلف قسم کے اخلاق جیسے تکبر سے بچنا ، حلیمی ، اور نرمی پیدا کرنا ، مہمان نوازی کے آداب ، صبر کے فوائد، توکل کامفہوم ،امن اور رواداری اور بھائی چارے کی اسلامی تعلیمات ، خلافت کے آداب و برکات، بیعت کے مقاصد ، اطاعت کی برکات ، مالی قربانی کی اہمیت اور اس کے فوائد ، محبت پیار اور یکجہتی سے زندگی گزارنے کی تعلیم، صفات الٰہیہ کے پر معارف تذکرے آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے حسین پہلو، آنحضرت ﷺ کی سیرت پر کئے جانے والے اعتراضات کے جوابات اور جماعت احمدیہ کا مؤقف، ابتلائوں میں جماعت احمدیہ کے عملی نمونے، دعوت الی اللہ کے گُر، جماعت احمدیہ عالمگیر کی جانی و مالی قربانیوں کے ایمان افروز تذکرے، دنیا بھر میں ہونے والے جلسہ ہائے سالانہ کے ایمان افروز تذکرے ، جماعتی انتظامی امور پر خطبات و خطابات ، عہدیداران جماعت کو ایمان افروز نصائح ،دُعا کی اہمیت اور فوائد۔
خطبات کے علاوہ یہ روحانی دودھ آپ کے خطابات کی شکل میں بھی اُتر تا ہے ۔ جس میں آپ اپنوں  اور غیروں سب کو یکساں اسلام و احمدیت کے فیض سے نوازتے ہیں۔
ایسے خطابات میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے وہ خطابات بھی ہیں جو آپ نے مختلف ممالک کے دانشوروں اور سربراہوں کو مد نظر رکھ کر دئیے ہیں اور جس میں آپ اُنہیں دنیا میں امن و سلامتی قائم کرنے ، یکجہتی پیدا کرنے کے اسلامی آداب اور عدل و انصاف کے قیام کی عظیم الشان حسین اسلامی تعلیمات بیان فرماتے ہیں۔ یہ خطابات جہاں غیروں کیلئے مفید ہیں وہیں ہم احمدیوں کیلئےبھی اُتنے ہی ضروری ہیں کہ ہم ان کو پڑھ کر اور انکا گہرائی سے مطالعہ کر کے دوسروں تک انہیں پہنچانے کی کوشش کریں۔
حضر ت اقدس خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ خدا تعالیٰ کا خلافت سے ایک تعلق ہے اور علوم کی روح سے اللہ تعالیٰ خلفاء کو آگاہ کرتا ہے اور جماعت کی زمانہ کے لحاظ سے ضروریات سے خلفاء کو متنبہ کرتا ہے ۔ خلفاء کی نظر ساری عالمی ضروریات پر ہوتی ہے۔ اور جن علوم کی تفسیر کی ضرورت پڑے اللہ تعالیٰ خلفاء کو عطا فرماتا ہے اور جیسی روشنی خدا تعالیٰ خود اپنے خلفاء کو عطا فرماتا ہے ویسی اس علم میں خواہ کسی مقام کا رکھنے والا عالم ہو اس کو کسی طور پر نصیب نہیں ہوسکتی ۔ یہ موہبت ہے اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اللہ کو اپنے دین کی ضرورتوں کا بہتر ین علم ہے اور جن کے سپرد وہ کام کرتا ہے ان پر وہ ضرورتیں روشن فرماتا ہے۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 26فروری 1988ء، خطبات طاہر، جلد 7 ،صفحہ 109-110)
اسی طرح آپ نے فرمایا’’ خلیفہ وقت کو جو باتیں خدا تعالیٰ دینی کاموں سے متعلق سمجھاتا ہے ان کو کہنے کے انداز بھی عطا کرتا ہے اور ان باتوں میں  جیسی گہری سچائی ہوتی ہے ویسی دوسرے کی باتوں میں ویسی سچائی نہیں آسکتی اور ایسا اثر نہیں پیدا ہو سکتا۔
پس ہر خلیفۂ وقت میں جو اس زمانے کے حالات ہیں ان کے متعلق جو خلیفۂ وقت کی نصیحت ہے وہ لازماً دوسری نصیحتوں سے زیادہ مؤثر ہوگی ۔ اس تعلق کی بناء پر بھی اور اس وجہ سے بھی کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں اسکے سپرد کی ہوئی ہیں خود اسکے نتیجہ میں اس کو روشنی عطا کرتا ہے۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 5؍نومبر 1991ء ،خطبات طاہر، جلد 10)
اس موقع پر خاکسار یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطابات و خطبات ہم احمدیوں کیلئے ہی اہمیت کے قابل نہیں ہیں بلکہ آپ کی مجالس عرفان میں کی گئی گفتگو اور آپ کی طرف سے دیئے گئے سوالات کے جوابات بھی اسی قدر اہمیت کے حامل ہیں کہ ان سے نہ صرف ہم اپنی انفرادی و جماعتی تربیتی ذمہ داریوں میں مدد لے سکتے ہیں بلکہ دعوت الی اللہ کے حوالہ سے بھی ان مجالس عرفان کو غور سے سننا ان کے نکات کو نوٹ کرنا ان پر عمل کرنا اور پھر دنیا کو ان سے آگاہ کرنا ہم احمدیوں کیلئے بہت ضروری ہے۔
ان مجالس عرفان میں جہاں ہم کو نماز روزہ کی اہمیت،اطاعت امام کی اہمیت،مالی قربانیوںکی برکات، اور دیگر جماعتی مسائل پرسیرحاصل معلومات ملتی ہیں۔ وہیں خلیفہ وقت کے ذریعہ حقوق العباد کے عالمگیر نظارے بھی نظر آتے ہیں۔ پچھڑی ہوئی اور دنیوی اعتبار سے گری ہوئی قوموں کی دلداری اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے حقوق کی بجا آوری کی پر معارف نصیحتیں دنیا کے کانوں کو کھٹکھٹاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ 6؍جون 2014ء میں فرمایا:
’’ خلافت کا مقصد حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلانا ہے ۔ ان حقوق کو منوانا اور قائم کرنا اور مشترکہ کوشش سے انکی ادائیگی کی کوشش کرنا ہے۔ ‘‘
چنانچہ ان تحریکات کے نتیجہ میں دنیا میں ظاہر ہونے والے ایمان افروز نظارے ہم سال بسال دیکھتے چلے جا رہے ہیں ۔ اس مختصر تقریر میں ان سب کا تذکرہ ممکن نہیں۔
سامعین کرام ! خاکسار اب آپ کے سامنے یہ ایمان افروز حقیقت رکھتا ہے کہ خلیفۂ وقت کے خطبات و ارشادات نہ صرف یہ کہ تمام دنیا میں یکساں اپنا فیض بر سا رہے ہیں بلکہ اس وقت صرف اور صرف حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہی ہیں جن کے انفاخ قدسیہ جو تمام دنیا کو اتفاق و اتحاد کی لڑی میں پرو رہے ہیں۔
ذرا غور کیجئے ہر جمعہ کے دن تمام دنیا کے تمام بر اعظم تمام ممالک اور ان میں بسنے والے کالے، گورے، امیر ، غریب ، مختلف زبانیں جاننے والے مختلف تہذیب و تمدن اور کلچر سے تعلق رکھنے والے عالم اور دانشور کم پڑھے لکھے اور ان پڑھ بھی ہمہ تن گوش ہو کر خدا کے خلیفہ کی آواز سننے کیلئے بیٹھ جاتے ہیں۔اور اس طرح عالمی اتفاق و اتحاد اور یکجہتی کا عجیب نظارہ دنیا کے سامنے ہوتا ہے۔کہ سورج کے مشرقی افق سے طلوع ہونے سے لے کر مغربی افق میں غروب ہو جانے تک اور رات کے چھا جانے تک تمام دنیا میں یہ خطبات سنے جا رہے ہوتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے اور سوچیئے کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کے علاوہ اور کون سا وجود ہے جس کی آواز اس طرح تمام دنیا میں اطاعت کی غرض سےسنی جاتی ہے۔ یہ جماعت احمدیہ کے ہی خلیفہ ہیں جو جمعہ کے مبارک دن کو ایک عالمگیرروحانی اجتماع میں تبدیل کرتے ہیں۔ یقیناً یہ سیدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اور خلافت احمدیہ کی صداقت کی ایک عظیم الشان دلیل ہے۔ دنیا میں  اگر کہیں اور یہ مثال کسی کو ملتی ہے تو ہمارا چیلنج ہے کہ وہ اس کو پیش کرے۔ لیکن ہمارا چیلنج ہے کہ کوئی بھی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔
اسکے علاوہ عالمی یکجہتی کی ایک اور ایمان افروز صداقت جو تاریخ عالم نے آج سے قبل نہیں دیکھی ہے یہ ہے کہ حضور انور کے ہر خطبہ جمعہ سے اگلے خطبہ میں تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کی مساجد میں گزشتہ خطبہ جمعہ کا خلاصہ بھی سنایا جاتا ہے اور تمام دنیا کی احمدیہ مساجد میں کیا مشرقی کیا مغربی اور کیا کالے اور کیا گورے اور تمام ممالک اور تمام بر اعظموں اور جزائر میں بسنے والے احمدی اپنی اپنی مساجد اور مشنوں  میں حضور انور کا گزشتہ جمعے ارشاد فرمودہ خطبہ جمعہ ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں۔ اوران ارشادات کوجب دنیا بھر کے احمدی سن کر ان پر عمل کرنے کیلئے اُٹھتے ہیں تو اس عالمگیر طاقت میں خلیفۂ وقت کی دعائیں اور الٰہی قوت ان کی ممد و معاون ہوجاتی ہے اور باوجود کمزور ہونے کےہر میدان میں دنیا برکات و فتوحات کے نظارے دیکھتی ہے۔ کیا دنیا نے آج سے پہلے کبھی عالمی یکجہتی کا ایسا نظارہ دیکھا ہے ۔ کیا عالم اسلام اور غیر عالم اسلام کو یہ عالمی خوبصورتی یہ عالمی یکجہتی حاصل ہے۔ اگر نہیں حاصل ہے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عافیت کے اس حصار کی طرف چلے آئو فرماتے ہیںکہ
’’ صدق سے میری طرف آئو اسی میں خیر ہے
ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار‘‘
یہی وہ خطبات و ارشادات ہیں جن کے ذریعہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اسلام کی پر امن تعلیم کو قبول کر چکے ہیں ۔ جن کے حضور انور کے خطبات میں بھی اور جماعتی اخبارات و رسائل میں بھی ایمان افروز تذکرے موجود ہیں۔
پس ہم احمدی نہایت خوش قسمت ہیں کہ صداقت کی اس روحانی آواز کو قبول کرنے کی ہم کو توفیق ملی ہے۔ خدا نے ہم کو خلیفۂ وقت کے ذریعہ ایک عالم گیر قوم بنایا ہے ۔ خدا نے ہم کو خلیفہ ٔوقت کے ذریعہ دینی و دنیوی علوم سے مالا مال کر دیا ہے۔ خدا نے ہم کو خلیفۂ وقت کے طفیل دنیا کو اسلام کی امن بخش تعلیم سکھائی ہے اور پھر اور وں کو اس کی طرف لانے کی توفیق بخشی ہے۔ پس اس نعمت کی قدر کرنا ان احکام کو بغور سننا اور ان پر عمل کرنا اور اپنی اگلی نسل کو اس پر عمل کرنے کیلئے تیار کرنا ہم سب کیلئے نہایت ضروری ہے۔ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ
’’ خلافت کے ساتھ تعلق میں آج کل اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کا بھی ایک ذریعہ دیا ہوا ہے ،اسی طرح Alislamویب سائیٹ ہے ۔ پس ان سے بھی جوڑنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر احمدی کو نوجوان کو مرد ہو یا عورت جوڑنے کی کوشش کریں اور نظام جماعت کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے۔ ‘‘
(الفضل انٹرنیشنل 30؍اگست 2013ء)
اسی طرح حضور اقدس فرماتے ہیں کہ
’’ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم میں پاک تبدیلیاں ہیں ؟ کس حد تک ہم اپنے بچوں کو بھی جماعت سے جوڑنے کی کوشش کرر رہے ہیں؟ کس حد تک ہم قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں؟ ایسا عمل کہ غیر بھی ہمیں دیکھ کر برملا کہیں کہ یہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں۔ کیا ہمارے نمونے ایسے ہیں کہ اسلام کے مخالف ہمیں  دیکھ کر اسلام کی طرف مائل ہوں ۔اگر ہم یہ میعار حاصل کر رہے ہیں تو انشاء اللہ یہ باتیں جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کے قرب کا باعث بنائیں گی وہاں ہمیں تعداد میں بھی بڑھائیں گی اور جماعت کے خلاف جو مخالفتیں ہیں ایک دن ہوا میں اُڑ جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اور مجھے بھی ایمان و ایقان میں ترقی دے اور ہر لمحہ آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور دشمن کے ہر منصوبے کو خاک میں ملا دے۔ ‘‘( خطبہ جمعہ 24؍ستمبر 2013ء، بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 8؍اکتوبر 2013ء)
پس آخر میں دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جملہ ارشادات کو بغور سننے اور ان پر عمل کرنے اور پھر اپنی اولاد در اولاد کو بھی ان پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے چلے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
…٭…٭…٭…