(1) اس واسطے کہ خلافت منہاج نبوت کا ایک جزو ہے ۔ وہ منہاج نبوت جسکو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر دنیا میں قائم اور زندہ کیا۔
(2)اس واسطے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعض تحریروں میں اپنے بعد سلسلۂ خلفاء کے قیام کا اظہار فرمایا ہے۔
(3)اس واسطے کہ حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کیوقت تمام جماعت کا بالاتفاق حضرت نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ سلسلہ حقہ احمدیہ میں قیام خلافت منشائے الٰہیہ سے ہے اور یہ سلسلہ خلافت اس جماعت میں انشاء اللہ علیٰ رغم انف حساد تا قیامت قائم رہیگا اور مبارک ہونگے وہ جو اس سے منسلک رہیں۔
(4)اس واسطے کہ حضرت خلیفۂ اول نور الدین اعظم ؓ اپنے چھ سالہ خلافت کے ایام میں اپنے اکثر وعظوں میں بار بارتاکیداً فرماتے تھے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ مجھے بھی خدا نے خلیفہ بنایا ۔ میرے بعد بھی خدا ہی خلیفہ بنائے گا۔
(5) اس واسطے کہ حضرت خلیفۂ اول رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے چند روز قبل اپنے بعد خلیفہ بنایا جائے کے متعلق وصیت کی اور جماعت کے اکابر نے جو اس وقت موجود تھے اس امر کے آگے سر تسلیم خم کیا۔
(6) اس واسطے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ان تمام پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے ہیں جو ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی پیدائش سے قبل کی تھیں۔ مثلاً وہ اولوالعزم ہوگا۔ اس کا نام محمود احمدؐہوگا ۔ اس کا نام بشیر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گاوغیرہ۔
(7) اس واسطے کہ جب ہم اپنے لئے مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہم نے محض حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کی دعائوں کے طفیل اس قدر دینی خدمات کی توفیق حاصل کی ہے۔ اور دینی اور دنیوی امور میں ایسی ترقیاں حاصل کی ہیں جو ہمارے ساتھ کے اور شخصوںکو نہیں ہوئیں، توحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی دعائیں جو آپ کی اولاد کے حق میں ہیں اور شائع شدہ ہیں ضرور تھا کہ وہ بھی اپنی قبولیت کے آثار نمایاں کرتیںاور ان دعائوں کی قبولیت کا ایک نمونہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے عزم استقلال ، تقویٰ،عبادت زہد، قوت نظام، تمکنت،وقار ، سنجیدگی، شجاعت، عفو، جود اور دیگر صفات حمیدہ و اخلاق فاضلہ میں اور حضور کی کامیابیوں اور فتح مندوں میں ہو رہا ہے۔
(8)اس واسطے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کہ وہ حسن و احسان میں تیری مانند ہوگا حضرت امیر المومنون خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے وجود باجود میں پوری ہو رہی ہے۔
(9)اس واسطے کہ یہ سنت اللہ ہے کہ ہر زمانہ میں وہ اپنی وحی و الہام کے ذریعہ سے ایک مقدس جماعت قائم کرتا ہے۔ جس کو برکت دیتا ہےاور اسکی نصرت کرتا ہےوہ جماعت اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کی قائم کردہ جماعت ہے،جسکا نظام اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کے جانشین خلیفۂ وقت کے ذریعہ سے مستحکم کر دیا ہے۔
(10) سلسلہ احمدیہ کے قیام کا جو اصل مقصد ہے کہ دنیا بھر میں دین اسلام قائم ہو وہ کام نہایت زور اور خوبی کے ساتھ حضرت امیر المؤ منین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کرا رہا ہے۔
(11) خدا تعالیٰ کے پاک کلام کے معارف و حقائق جو سوائے مطہر لوگوں کے اوروں پر نہیں کھلتے، اس زمانہ میں جس کثرت کے ساتھ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ پر کھل رہے ہیں،اسکی مثال دنیا بھر میں اور کسی انسان میں نہیں پائی جاتی۔ تفسیروں کو پڑھ پڑھا کر اور دوسروں سے سن سناکر ایک تفسیر بنا لینا یا ایک آدھا لطیفہ بیان کر دینے کا کام بہت لوگ کر سکتے ہیں لیکن کثرت کے ساتھ حقائق و معارف کلام الٰہی صرف اسی پر کھلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت و اطاعت کا خاص تعلق رکھتا ہواور جو خدا رسیدہ اولیاء اللہ میں سے ہو۔
(12) اس واسطے کہ گزشتہ 23 سال کا عرصہ اس امر کا شاہد ہے کہ حضرت امیر امومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بالمقابل جن لوگوں نے اس سلسلہ میں سے خلافت کو اڑانا چاہایا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کی مخالفت کی وہ ہمیشہ ناکام اور نامراد رہےاور ایسے لوگ آئندہ بھی ہمیشہ ناکام و نامراد رہیں گے۔
(13)اس واسطے کہ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعائیں افراد جماعت کے حق میں روزانہ پوری ہوتی رہتی ہیں ۔ مَیں دفتر ڈاک میں کچھ عرصہ خدمت کرتے ہوئے اس امر کو دلچسپی کے ساتھ مشاہدہ کرتا رہا ہوں کہ روزانہ کئی ایک خطوط اس شکریہ سے پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پہنچتے کہ حضور کی دعا کے طفیل ہماری فلاں مراد حاصل ہوئی یا فلاں مقصد پورا ہوا۔
(14)اس واسطے کہ میں نے خود اپنے نفس پر اور اپنے اہل و عیال پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی دعائوں کو قبول ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا اور ایسی برکتیں پائیں جو اور کسی جگہ حاصل نہیں ہو سکتیں ۔ چونکہ یہ سلسلۂ حقہ چودھویں کے بدر سے مشابہت رکھتا ہے اس واسطے چودہ کے نمبر پر میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 10 ؍اگست 1937ء)
…٭…٭…٭…