اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-16

خلافت کا نظام مذہب کے دائمی نظام کا حصہ ہےاور خدا تعالیٰ کی ازلی تقدیر کا ایک زبردست کرشمہ (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم .اے.رضی اللہ عنہ )

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ بطور اصول کے ارشاد فرماتا ہے کہ دنیا میں دو طرح کی چیزیں پائی جاتی ہیں ۔ ایک وہ جن کا وجود محض عارضی اور وقتی حالات کا نتیجہ ہوتا ہے اور ان میں بنی نوع انسان کے کسی حصہ کیلئے کوئی حقیقی فائدہ مقصود نہیں ہوتا اور دوسری وہ جو نظام عالم کا حصہ ہوتی ہیں اور لوگوں کیلئے ان میں کوئی نہ کوئی فائدہ کا پہلو مقصود ہوتا ہے مقدم الذکر چیزیں دنیا میں جھاگ کی طرح اٹھتی اور جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ مگر موخر الذکر چیزیں جم کر زندگی گزارتی ہیں اور انہیں دنیا میں قرار حاصل ہوتاہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَمَّاالزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَاَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ(سورۃ الرعد: 18)یعنی جھاگ کی قسم کی چیز تو آناً! فاناً گزر کر ختم ہو جاتی ہے مگر نفع دینے والی چیز جم کر زندگی گزارتی ہے اور دنیا میں قرار حاصل کرتی ہے۔ اس اصل کے ماتحت ہم صحیفہ قدرت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ لطیف منظر نظر آتا ہے کہ جو چیز بھی دنیا کیلئے کسی نہ کسی جہت سے مفید ہےاللہ تعالیٰ نےاسکے قائم رہنے کیلئے کوئی نہ کوئی انتظام کر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ ادنیٰ سے ادنیٰ جانوروں اور حقیر سے حقیر جڑی بوٹیوں کی لقائے نسل کا انتظام بھی موجود ہےاور قدرت کا مخفی مگر زبردست ہاتھ انہیں مٹنے اور ناپید ہو جانے سے بچائے ہوئے ہے اور صحیفہ عالم کے زیادہ گہرے مطالعہ سے یہ بات بھی مخفی نہیں رہ سکتی کہ جتنی کوئی چیز بنی نوع انسان کیلئے زیادہ مفید ہوتی ہے، اتنا ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی حفاظت کا انتظام زیادہ پختہ اور زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ قرآن شریف کی حفاظت کا وعدہ بھی اسی اصل کے ماتحت ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (سورۃ الحجر : 10) یعنی چونکہ قرآنی الہام ایک ہمیشہ کی یادگار قرار دیا گیا ہےاور خدا کا یہ منشاء ہے کہ اب وہ قیامت تک لوگوں کے بیدار کرنے کا ذریعہ رہے۔اس لئے خدا خوداسکا محافظ ہوگااور ہمیشہ ایسے سامان پیدا کرتا رہے گا جو اسے ظاہری اور معنوی ہر دو لحاظ سے محفوظ رکھیں گے۔ گویا قرآنی حفاظت کی وجہ’’ ذکر ‘‘کے چھوٹے سے لفظ میں مزکوز کر دی گئی ہے۔
یہی حال نبوت کا ہے جب اللہ تعالیٰ دنیا کو کسی عظیم الشان فتنہ و فساد میں مبتلاء دیکھ کر اسکی اصلاح کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ کسی شخص کو اپنی طرف سے رسول یا نبی بنا کر مبعوث کرتا ہے مگر نبی بہر حال ایک انسان ہوتا ہے اور لوازمات بشری کے ماتحت اسکی زندگی چند گنتی کے سالوں سے زیادہ وفا نہیں کر سکتی۔اس صورت میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کے مشن کو کامیاب بنانے اور انتہا تک پہنچانے کیلئے اس کی وفات کے بعد بھی کوئی ایسا انتظام کرے جس کے ذریعہ نبی کا بویا ہوا بیج اپنے کمال کو پہنچ سکے۔ اور وہ اصلاح جو اللہ تعالیٰ نبی کی بعثت سے پیدا کرنا چاہتا ہے، دنیا میں قائم اور راسخ ہو جائے ۔ یہ خدائی نظام جسے گویا نبوت کا تتمہ کہنا چاہئے خلافت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ اور اللہ تعا لیٰ کی یہ سنت ہے کہ ہر عظیم الشان نبی کے بعد اسکے کام کو تکمیل تک پہنچانے کیلئے خلفاء کا سلسلہ قائم فرماتا ہے۔ یہ خلفاء بالعموم خود نبی یا مامور نہیں ہوتے مگرنبی کے تربیت یافتہ اور اسکے خدا د ادمشن کو سمجھنے والے اور چلانے کی اہلیت رکھنے والے ہوتے ہیں اور گو وہ خدا کی وحی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ اپنی تقدیر خاص کے ماتحت ایسا تصرف فرماتا ہے کہ نبی کے گزر جانے کے بعد وہی لوگ مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہیں جنہیں خدا اس کام کیلئے پسند فرماتا ہے۔گویا خدا تعالیٰ کی مخفی تاریں مومنوں کے قلوب پر متصرف ہوکر انہیں خود بخود خلافت کے اہل شخص کی طرف پھیر دیتی ہے اسی لئے باوجود اسکے کہ ایک غیر مامور خلیفہ لوگوں کا منتخب شدہ ہوتا ہے، اسلام یہ تعلیم دیتا ہےاور قرآن اس حقیقت کو صراحت کے ساتھ بیان فرماتا ہےکہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ بظاہر یہ ایک متضاد سی بات نظر آتی ہے کہ ایسا شخص جو لوگوں کی کثرت رائے یا اتفاق رائے سے خلیفہ منتخب ہو اسکے تقرر یا انتخاب کو خدا کی طرف منسوب کیا جائے مگر حق یہی ہے کہ باوجود ظاہری انتخاب کے ہر سچے خلیفہ کے انتخاب میں دراصل خدا کا مخفی ہاتھ کام کرتا ہے اور صرف وہی شخص خلیفہ بنتا ہے اور بن سکتا ہے جسے خدا کی ازلی تقدیر اس کام کیلئے پسند کرتی ہے اور اسکے سوا کسی کی مجال نہیں کہ مسند خلافت پر قدم رکھنے کی جرأت کر سکے ۔یہی گہری صداقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں مخفی ہے۔ جو آپ نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے حضرت ابوبکرؓکے متعلق فرمایا۔آپ فرماتے ہیں:
اردت ان ارسل الٰی ابی بکر حتٰی اکتب کتابًا ذا عہد ان یتمنی المتمنون و یقول قائل انا اولی ثم قلت یابی اللہ و یدفع المومنون او یدفع اللہ و یابی المؤمنون۔ (بخاری کتاب الاحکام)
’’یعنی میں ابوبکر کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنا چاہتا تھا مگر پھر میں نے خیال کیا کہ یہ خدا کا کام ہے۔ خدا ابوبکرکے سوا کسی اور شخص کو خلیفہ نہیں بننے دیگا۔ اور نہ ہی خدا کی مشیت کے ماتحت مومنوں کی جماعت ابوبکر کے سوا اور کی خلافت پر راضی ہوسکے گی۔‘‘
اللہ اللہ اس چھوٹے سے فقرے میں نظام خلافت کا کتنا وسیع مضمون ودیعت کر دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بے شک میرے بعد بظاہر مسلمانوں کی کثرت ابوبکر کوخلیفہ منتخب کرے مگر دراصل اس رائے کے پیچھے خدائے قدیر کی ازلی تقدیر کام کر رہی ہوگی اور وہی ہوگا جو خدا کا منشا ہوگااور اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور باوجود اسکے کہ اندرونی طور پر انصار نے اپنے میں سے کسی اور شخص کو کھڑا کرنا چاہا اور بیرونی طور پر عرب کے بدوی قبائل نے باغی ہوکر خلافت کے نظام کو ہی ملیامیٹ کر دینے کی تدبیر کی ۔ مگر چونکہ ابوبکر خدا کا مقرر کردہ خلیفہ تھا اس لئے اسکے اتباع کی قلت اسکے مخالفین کی کثرت کو اس طرح کھا گئی جس طرح سمندر کا پانی اپنے اوپر کی جھاگ کو کھا جاتا ہے۔
پھر جو الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمائے کہ’’خدا تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور لوگ اسے اتارنا چاہیں گے مگر تم اسے نہ اتارنا۔‘‘ (ترمذی)
وہ بھی اسی قدیم سنت الٰہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دراصل خلیفہ خدا بناتا ہے اور انتخاب کرنے والے لوگ صرف ایک پردہ کا کام دیتے ہیں اور ایک آلہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے جسے خدا اپنی تقدیر کو جاری کرنے کیلئے اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ ان الفاظ پر غور کرو کہ وہ کیسے پیارے اور کیسے دانائی سے معمور ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ بنانے کے فعل کو خدا کی طرف منسوب فرماتے ہیں اور خلافت سے معزول کرنے کی کوشش کو لوگوں کی طرف نسبت دیتے ہیں۔ گویا جو صورت بظاہر نظر آتی ہے اسکے بالکل برعکس ارشاد فرماتے ہیں خلافت کے انتخاب میں بظاہرنظر آنے والی صورت یہ ہے کہ لوگ خلیفہ کو منتخب کرتے ہیں اور خدا بظاہرلا تعلق ہوتا ہے۔لیکن باوجود اسکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد یہ فرماتے ہیں کہ خلیفہ بناتا خدا ہے ہاں مفسد لوگ بعض اوقات خدا کے بنائے ہوئے خلفاء کو معزول کرنے کی کوشش ضرور کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ عظیم الشان نکتہ ہے جسے سمجھنے کے بعد کوئی شخص خدا کے فضل سے مسئلہ خلافت کے تعلق میں ٹھوکر نہیں کھاسکتا ہے۔ لیکن چونکہ دنیا کا ہر نظام وقتی ہے اور عموماً دوروں میں تقسیم شدہ ہوتا ہے اسلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہوشیار اور چوکس رکھنے کیلئے یہ انکشاف بھی فرما دیا کہ میرے بعد متصل اور مسلسل طور پر خلافت حقہ کا دور صرف تیس سال تک چلے گا جسکے بعد غاصب لوگ ملوکیت کا رنگ اختیار کر لیں گے اور اسکے بعد حسب حالات اور ضرورت زمانہ روحانی خلافت کے دور آتے رہیں گے حتیٰ کہ بالآخر مسیح و مہدی کے نزول کے بعد پھر منہاج نبوت پر ظاہری خلافت کی صورت قائم ہو جائے گی۔
(مسند احمد، جلد عن ابی عبد الرحمٰن سفینہ و مشکوٰۃ ،باب الانذار)
چونکہ خلافت کا نظام نبوت کے نظام کا حصہ اور تتمہ ہےاور نبوت کی خدمت اور تکمیل کیلئے قائم کیا جاتا ہےاسلئے اللہ تعالیٰ نے اسکے متعلق قرآن شریف کی آیت استخلاف میں ایسی علامات مقرر فرمادی ہیں ۔ جو سچی خلافت کو جھوٹی خلافت سے روز روشن کی طرح ممتاز کر دیتی ہیں فرماتا ہے وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(سورۃالنور 56) یعنی خدا تعالیٰ کا یہ پختہ وعدہ ہے کہ وہ عمل صالح بجالانے والے مومنوں میں سے ملک میں خلفاء مقرر کرے گا(یہ مطلب نہیں کہ جو مومن بھی عمل صالح کرنے والا ہوگا وہ ضرور خلیفہ بنے گا بلکہ اس میں اشارہ یہ ہے کہ جو خلیفہ ہوگا وہ ضرور مومن اور عمل صالح بجالانے والا ہوگا)یہ خلفاء اسی سنت کے مطابق مقرر کئے جائیں گے جس طرح پہلی امتوں میں مقرر کئے گئے اور خدا تعالیٰ اس دین کو جو اس نے ان کیلئے پسند فرمایا ہے ان کے ذریعہ سے دنیا میں مضبوطی سے قائم فرما دے گا اور(چونکہ ہر تغیر کے وقت ایک خوف کی حالت پیدا ہوا کرتی ہے) اللہ تعالیٰ ان کی خوف کی حالت کو اپنے فضل سے امن میں بدل دے گا یہ لوگ میرے سچے پرستار ہونگے اور میرے سوا کسی معبود کے سامنے (خواہ وہ مخفی ہو یا ظاہر)گردن نہیں جھگائیں گےاور جو شخص ایسی نصرت اور تائید کو دیکھتے ہوئے بھی اس نظام خلافت سے سرکشی اختیار کرے گا وہ یقیناً خدا کا مجرم اور فاسق سمجھا جائے گا۔
یہ آیت کریمہ جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صراحت کے ساتھ خلافت کے نظام سے متعلق قرار دیا ہےاپنے مختصر الفاظ میں ایک نہایت وسیع مضمون کو لئے ہوئے ہےاور اس نقشہ کی بہترین تصویر ہے جو کم و بیش ہر نئی خلافت کے قیام کے وقت دنیا کے سامنے آتا ہے ۔ ہر نبی یا خلیفہ کی وفات ایک عظیم زلزلہ کا رنگ رکھتی ہے اور ہر بعد میں آنے والا خلیفہ ایسے حالات میں مسند خلافت پر قدم رکھتا ہے کہ جب لوگوں کے دل سہمے ہوئے اور خوف زدہ ہوتے ہیں کہ اب کیا ہوگا ۔ مگر پھر لوگوں کے دیکھتے دیکھتے خدا اس آیت کریمہ کے وعدہ کے مطابق اپنی تقدیر کی مخفی تاروں کو کھینچنا شروع کرتا ہے اور خوف کے دنوں کو امن میں بدل کر آہستہ آہستہ جماعت کو کمزوری سے مضبوطی کی طرف یا مضبوط حالت سے مظبوط تر حالت کی طرف اٹھانا شروع کر دیتا ہے اور یہ خلفاء اپنی دینی حالت اور دینی خدمت سے اس بات پر مہر لگا دیتے ہیں کہ خدا کی محبت اور خدا کی نصرت کا ہاتھ ان کے ساتھ ہے اور یہ سلسلہ اپنی ظاہری صورت میں اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ خدا کے علم میں نبی کے لائے ہوئے دین کے استحکام اور اس کے مشن کی تکمیل اور مضبوطی کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔
جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے یہ خلافت کا نظام جو دراصل نبوت کا حصہ اور تتمہ ہے ہر عظیم الشان نبی کے زمانہ میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے کام کی تکمیل کیلئے حضرت یوشع خلیفہ ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد پطرس خلیفہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشن سارے نبیوں سے زیادہ شاندار اور زیادہ وسیع تھا اسلئے آپ کے بعد خلافت کا نظام بھی سب سے زیادہ نمایاں اور شاندار صورت میں ظہور پذیر ہوا جس کی تیز کرنیں آج تک دنیا کو خیرہ کر رہی ہیں۔ حق یہ ہے کہ اگر نبوت کے ساتھ خلافت کا نظام شامل نہ ہو تو نعوذ باللہ خدا پر ایک خطرناک الزام عائد ہوتا ہے کہ اس نے دنیا میں ایک اصلاح پیدا کرنی چاہی مگر پھر اس اصلاح کیلئے ایک فرد واحد کو چند سال زندگی دے کر وفات دے دی اور اس اصلاحی نظام کو اپنے ہاتھ سے ملیامیٹ کر دیا ۔ گویا یہ ایک بلبلا تھا جو سمندر کی سطح پر ظاہر ہوا اور پھر ہمیشہ کیلئے مٹ کر پانی کی مہیب لہروں میں غائب ہوگیا سُبْحَانَ اللہ ِمَا قَدَرُوْاللہَ حَقَّ قَدْرِہ ہمارا حکیم و علیم خدا تو وہ خدا ہے کہ جو ایک ادنیٰ سے ادنیٰ نفع دینے والی چیز کو بھی دنیا میں قائم رکھتا اور اسکے قیام کا سامان مہیا کرتا ہے چہ جائیکہ نبوت جیسے جوہر اور ایک مامور کی لائی ہوئی اصلاح کو ایک ہوا کے اڑتے ہوئے جھونکے کی طرح باغ عالم میں لائے اور پھر لوگوں کے دیکھتے دیکھتے اسے ان کی نظروں سے غائب کر دے اور اس کے روح پر ور اثر اور حیات افزا تاثیر کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے اپنی طرف سے کوئی انتظام نہ فرمائے ۔ یقیناً یہ منظر ایک کھیل سے زیادہ نہیں اور کھیل کھیلنا شیطان کا کام ہے خدا کا نہیں۔ خدا جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اسکی اہمیت اور وسعت کے مطابقِ حال اس کیلئے سامان بھی مہیا فرماتا ہے اور اس کام کے دائیں اور بائیں اور اوپر اور نیچے کو ایسی آہنی سلاخوں سے مضبوط کر دیتا ہے کہ پھر جب تک اس کا منشا ء ہو کوئی چیز اسے اسکی جگہ سے ہلا نہیں سکتی ۔ اس لئے خدا کی یہ سنت ہے کہ خاص خاص انبیاء کے صرف بعد ہی ان کے مشن کی مضبوطی اور استحکام کیلئے خلافت کا نظام قائم نہیں فرماتا بلکہ ان کی بعثت سے پہلے بھی ان کیلئے رستہ صاف کرنے کی غرض سے بعض لوگوں کو بطور ارہاص یعنی آنے والی منزل کی علامت کے طور پر مبعوث کرتا ہےجو لوگوں کی توجہ کو آنے والے مصلح کے مشن کی طرف پھیرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے حضرت یحییٰ بطور ارہاص مبعوث ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے متعدد لوگ جو حنفاء کہلاتے تھے توحید کے ابتدائی جھونکے بن کر ظاہر ہوئے اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے سید احمد صاحب بریلوی سوئے ہوئے لوگوں کی بیداری کا ذریعہ بن کر آئے ۔ کیا ایسے حکیم و دانا خدا سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نبی کی چند سالہ زندگی کے بعد اس کے لائے ہوئے مشن کو بغیر کسی انتظام کے چھوڑ سکتا ہے اور اس بڑھیا کی مثال بن جاتا ہے جو اپنے محنت سے کاتے ہوئے دھاگے اپنے ہاتھ سے تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ میں پھر کہوں گا سُبْحَانَ اللہِ مَا قَدَرُوْاللہَ حَقَّ قَدْرِہ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی چونکہ دنیا میں ایک عظیم الشان مشن لے کر مبعوث ہوئے تھے اور اپنے مقام کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل و بروز کامل تھے۔ حتیٰ کے آپؑنے ان کے مقام اور کام کے پیش نظر فرمایایُدْفَنُ فِیْ مَعِیَ قَبْرِیْ یعنی مسیح موعود میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی آخرت میں اسے میری معیت حاصل ہوگی اور اسے میرے ساتھ رکھا جائے گا ۔ اسلئے ضروری تھا کہ آپ کے خدا داد مشن کی تکمیل کیلئے بھی آپ کے بعد خلافت کا نظام قائم ہو ۔ چنانچہ آپ نے اپنی کتب اور ملفوظات میں متعدد جگہ اس نظام کی طرف اشارہ کیا ہے بلکہ آپ کے بہت سے الہامات میں بھی اس نظام کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں ۔ مگر میں اس جگہ اختصار کے خیال سے صرف ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں اور یہ وہ عبارت ہے جو آپ نے اپنے زمانہ وفات کے قریب محسوس کر کے اپنے متبعین کیلئے بطور وصیت تحریر کی ۔ آپ فرماتے ہیں:
خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ…وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا کچھ میرے ہاتھ سے کچھ میرے بعد ۔ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو ظاہر کرتا رہا ہےکہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور انکو غلبہ دیتا ہے…اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اسکی تخمریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اسکی پوری تکمیل انکے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے…ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہےاور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ جنکے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناکام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں ۔ غرض وہ دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے :
(1)اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔
(2)دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا ہو جاتا ہے … خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے ۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓکیوقت میں ہوا ۔ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے باد یہ نشین مرتد ہوگئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے تب خدا تعالیٰ نےحضرت ابوبکر صدیق ؓکو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوئے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادینگے…ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت ہوا…ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا…
سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاے۔ سو اب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے ۔ اسلئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارےپاس بیان کی (یعنی میری وفات کے قریب ہونے کی خبر)غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے…میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ (رسالہ الوصیت)
یہ عبارت جس صراحت اور تعیین کے ساتھ نظام خلافت کی طرف اشارہ کر رہی ہے وہ محتاج بیان نہیں اور یہ عبارت بطور وصیت کے لکھی گئی جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے قرب وفات کی خبر پاکر اپنے بعد کے نظام کے بارے میں اپنی جماعت کو آخری نصیحت فرمائی اور ہر عقلمند غیر متعصب شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اس عبارت سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں:
(اوّل) خدا تعالیٰ انبیاء کے کام کی تکمیل کیلئے دو قسم کی قدرت ظاہرفرماتا ہے ایک خود نبیوں کے زمانہ میں اور دوسری انکی وفات کے بعد تاکہ انکے مشن اور انکی جماعت کو ایک لمبے عرصہ تک اپنی خاص نگرانی میں رکھ کر ترقی دے اور تکمیل تک پہنچائے۔
(دوم) دوسری قدرت خلافت کی صور ت میں ظاہر ہوتی ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کے وجود میں ظاہر ہوئی۔
(سوم)یہ خلافت کا نظام جو نبوت کے نظام کا حصہ اور اسی کا تتمہ ہے خدائی سنت کا رنگ رکھتا ہے اور ہر نبی کے زمانہ میں قائم ہوتا رہا ہے۔
(چہارم) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی اسی رنگ میں قدرت ثانیہ کا ظہور مقدر تھا کیونکہ جیسا کہ آپ خود خدا کی ایک مجسم قدرت تھے آپ کے بعد بعض اور وجودوں نے دوسری قدرت کا مظہر ہونا تھا اور ان وجودوں نے حضرت ابوبکرؓ کے رنگ میںظاہر ہونا تھا۔
(پنجم )نبی کے بعد آنے والے خلفاء خواہ بظاہر صورت لوگوں کے انتخاب سے مقرر ہوں مگر دراصل انکے تقرر میں خدا کا ہاتھ کام کرتا ہے اور در حقیقت خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔
(ششم)سورۂ نور کی آیت استخلافِ نظام خلافت سے تعلق رکھتی ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اسی آیت کے ماتحت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد کی خلافت بھی اسی آیت کے ماتحت ہونی تھی۔
یہ وہ چھ باتیں ہیں جو اوپر کے حوالہ سے یقینی اور قطعہ طور پر ثابت ہوتی ہیں اور یہ استدلال ایسا واضح اور بین ہے کہ کوئی عقلمند متعصب شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا اور یہ حوالہ بھی جیساکہ اسکےحالات اور سیاق و سباق اور الفاظ اور اسلوب بیان سے ظاہر ہے محکمات کا رنگ رکھتا ہے جسکے مقابلہ پر ان متشابہات کو پیش کرنا جو بعض مخصوص کا موں کے تعلق میں مخصوص حالات اور مخصوص ماحول میں انجمن کے بارے میں لکھی گئی ہیں۔ایک شرارت یا دیوانگی کے فعل سے زیادہ نہیںاور اگر یہ دیوانگی نہیں تو نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ خدا کا مقرر کردہ مسیح دیوانہ ہے،کہ ایک طرف تو اپنے مشن کی تکمیل اور اپنی وفات کے بعد کے نظام کے متعلق خدائی سنت کے ماتحت دو قدرتوں کے ظہور کا ذکر کیا اور مثال دے کر بتایا کہ دوسری قدرت ابوبکر صدیقؓ کے رنگ میں ظاہر ہوا کرتی ہے اور پھر یہاں تک صراحت کی کہ میںخدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے لیکن عین اسکے ساتھ ساتھ اور پہلو بہ پہلو ان سارے ارشادات کو بھول کر اور بالائے طاق رکھ رکر انجمن کو اپنا خلیفہ مقرر کر کے چل دیئے۔حالانکہ انجمن آپ کی زندگی میں ہی قائم ہوگئی تھی اور اسکی جانشینی جن معنوں میں بھی وہ تھی خود آپ کی موجودگی میں شروع ہوچکی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی طرف اس مجنونانہ تضاد کو منسوب کرنا اہل پیغام کو مبارک ہو۔ ہم خوش ہیں کہ ہمارا دامن اس دیوانگی کے داغ سے پاک ہے۔کاش یہ لوگ صرف اس بات پر ہی غور کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاںبھی اپنے خدا داد مشن کی تکمیل اور سلسلہ اور جماعت کے کام کو سنبھالنے اور چلانے کا ذکر کیا ہے وہاں کسی جگہ انجمن کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف خلافت کا ذکر کیا ہے اور دو قدرتوں کے اصول کو بیان کرکے اور مثال دے کر واضح کیاہے کہ اس کام کیلئے خدا نے ایسا ہی نظام مقرر فرمایا ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ کے وقت میں ظاہر ہوا اور یہ کہ یہ خدا کی ایک سنت ہے جو تمام نبیوں کے وقت میں ظاہر ہوتی رہی اور کبھی بدل نہیں سکتی۔ اور اسکے مقابل پر انجمن کا ذکر صرف بعض ماتحت کاموں کے تعلق میں آیا ہے اور اسکے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ واضع شرط اور حد بندی لگا دی ہے کہ اس انجمن کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ’’ حسب ہدایت سلسلہ احمدیہ‘‘ اپنا کام سر انجام دے (رسالہ الوصیت)یعنی خدا کے مقرر کردہ خلیفوں اور قدرت ثانیہ کے مظہروں کی نگرانی میں کام کرے ۔ کیا ان تصریحات میں ہمارے بچھڑے ہوئے بھائیوں کیلئے کوئی سامان ہدایت نہیں ؟افسوس صد افسوس فَاِنَّہَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ اور پھر ہمارے قادر و متصرف خدانے خلافت کے سوال کو صرف لفظی اور قولی تصریح تک ہی نہیں چھوڑا بلکہ اپنے زبردست فعل کے ساتھ اس پر مہر تصدیق بھی ثبت کر دی ہےبلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جماعت میں جو سب سے پہلا اجماع ہوا وہ خلافت ہی کے متعلق تھا اور یہ اجماع بھی خدا نے ان لوگوں کے ہاتھ سے کروایا جو اب خلافت کے منکر ہوکر انجمن کا راگ الاپ رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے جو اس وقت صدر انجمن احمدیہ کی سکٹرری تھے انجمن کی طرف سے حسب ذیل اعلان شائع کیا :
’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمدیہ موجودہ قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود و باجازت حضرت ام المومنین کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین الشریفین جناب حکیم نور الدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔‘‘
(اعلان مندرجہ الحکم بابت 28 ؍مئی 1908ءو بدر مورخہ 2 جون 1908ء)
یہ وہ پہلا اجماع ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جماعت میں ہوا۔جس میں صدر انجمن احمدیہ کے ممبر (ہاں وہی انجمن جو اب خلیفہ کی قائم مقام بتائی جاتی ہے)اور تمام حاضر الوقت جماعت کے افراد شریک اور متفق تھے ۔ پس نہ صرف خدا کے قول میں بلکہ اس کے زبردست فعل نے بھی خلافت کے حق میں مہر تصدیق ثبت کی ہےاور اب کون ہے جو اس مہر کو توڑ سکتا ہے؟
یہ خیال کہ یہ زمانہ جمہوریت کا ہے اور اب شخصی خلافت کے بجائے انجمن کا نظام ہونا چاہئے ایک بیوقوفی کا خیال ہےکیونکہ اول تو اس نظام کی ذمہ واری خدا پر ہے نہ کہ ہم پر یا کسی اور پر اور خدا نے جس طرح پسند کیا اور بہتر سمجھااسےقائم فرمادیا۔ لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْئَلُوْنَ ۔علاوہ ازیں کیا خدا نے اس زمانہ میں نبوت کے نظام کو بدل دیا ہےکہ خلافت کے نظام کو بدلنے کی ضرورت پیش آئے ؟ اگر اس جمہوری زمانہ میں بھی خدا نے ایک واحد شخص کو ماموریت کا جامہ پہنا کر مبعوث فرمایا ہے اور اسکی جگہ کسی انجمن کو مامور بنا کر نہیں بھیجا تو خلافت جو اسی نظام کی فرع ہے کس طرح بدل سکتی ہے ؟ہاں غور کرو تو اسلامی خلافت میں بھی ایک جھلک جمہوریت کی موجود ہے۔یعنی اول تو خلیفہ بظاہر جماعت کےانتخاب سےمقررہوتا ہے دوسرے اس کیلئے حکم ہے کہ جماعت کے اہم معاملات میں جماعت کا مشورہ لیتا رہےاورحتی الوسع اس مشورہ کا احترام کرے ۔ گو اسکا توکل صرف خدا پر ہونا چاہئے اور اسے کسی مشورہ کا پابند قرار دینا توکل کے مقام کے منافی ہے۔افسوس ہے کہ معترضین نے یہ بھی نہیں سوچا کہ خلافت محض ایک انتظامی منصب نہیں ہےبلکہ خلیفہ نے جماعت کیلئے عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَآئِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیَّیْنَ کے ارشاد کے ماتحت نمونہ بھی بننا ہوتا ہے اور اسکے ساتھ جماعت کا اخلاص اور محبت کے جذبات کا تعلق بھی ضروری ہے ۔ پس خواہ زمانہ کوئی ہوخلافت بہر حال شخصی رہے گی !کاش ہمارے دوست اس نکتہ کو سمجھیں ۔
مخصوص طور پر خلافت ثانیہ کے متعلق اس قدر کہنا کافی ہے کہ اس سے آیت استخلاف کے ماتحت خدا کی فعلی شہادت سےپرکھو اور پھر دیکھو کہ اسکے اندر وہ علامات پائی جاتی ہیں یا نہیں جو خدا نے سچے خلیفوں کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔ کیا خدا نے اپنی زبردست قدرت کے ساتھ اسکے خوف کو امن سے نہیں بدلا؟ کیا خدا نے اسکے ذریعہ جماعت کو تمکنت اور استحکام عطا نہیں فرمایا؟ کیا اسکے ساتھ ہر قدم پر خدا کی نصرت کا ہاتھ نظر نہیں آتا؟ اور کیا ہمارا خلیفہ ایک بلند اور مستحکم مینار کی طرح خدا کی توحید کا علمبردار نہیں ہے؟ اگر یہ سب کچھ ہے اور یقیناً ہے تو اپنے پاک مسیح علیہ السلام کے اس پاک قول کو یاد کرو کہ ہمارے خدا کے کاموں کی علامت یہ ہے کہ
قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اس بےنشاںکی چہرہ نمائی یہی تو ہے
جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
تم ہزار دلیلیں دو اور ہزار سر پٹکو خدائی تقدیر اپنا کام کر چکی ہے اور اب کسی باپ کے بیٹے میں اسکے بدلنے کی طاقت نہیں۔ درخت ہمیشہ اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور خلافت اور انجمن کا پھل تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب اسکے سوا ہم تمہیں کیا کہیں کہ
قَدْ وَجَدْ نَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا
فَھَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَرَبُّکُمْ حَقًّا
وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
(مطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 4،7،8؍ اپریل1943ء)
…٭…٭…٭…