اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ-
اللہ تعالیٰ نےقرآن مجید میں انسانی پیدائش کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (سورۃ الذاریت:57)اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔
اور ایک مقام پر فرمایا کہ اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(سورۃ الملک:3)یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔
پھر فرمایا اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا(سورۃالدھر:76)یعنی یقیناً ہم نے اُسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ خواہ (وہ) شکرگزار بنتے ہوئے (چلے) خواہ ناشکرا ہوتے ہوئے۔
پھر ایک مقام پر انسان کو باخبر کرتے ہوئے فرمایا اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (سورۃ المومن: 116)اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ کیا تم نے گمان کیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہرگز ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔
مذکورہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ اس نے انسان کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کی ہے۔ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔اب انسان کی مرضی ہے وہ شکر گزار بندہ بن کر اپنی زندگی کے مراحل طے کرے یا ناشکرا بن کر اپنی زندگی کو گزارے۔
کروڑہا بندگان خدا اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر اپنے مقصد حیات کی طرف رواں دواںہیں۔مگر انسانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جوکَفُوْرًا یعنی ناشکری کے راستہ پر چل رہا ہے،وہ تکبر اور غرور کے راستہ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ہی انکار کر رہا ہے۔ایسے ملحدین اور دہریوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ تنبیہ کی ہے کہ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ(سورۃ یٰسین:79) ہماری ہستی کے متعلق باتیں بنانے لگ جاتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے۔
سیدنا حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ
’’کیا بد بخت و ہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُسکا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرو مو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائےگا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوش خبری کو دلوں میں بٹھادوں۔ کس دَفْ سے میں بازروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کیلئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن، جلد19، صفحہ21)
سامعین کرام! اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر زمانہ کے انسان کویہ سمجھایا ہے کہ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖ اِلَّا بِمَا شَآءَ۔(البقرہ: 256)کہ اےانسان تو اللہ تعالیٰ کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتا مگر صرف اُس قدر جتنا اللہ تعالیٰ چاہے۔
اسکی مشیت کے بغیر تجھے کوئی علم کسی قسم کے ایجاد کرنے کی توفیق حاصل ہو ہی نہیں سکتی۔جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت نہ ہو۔
گزشتہ دو تین صدیوں میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ایک طبقہ کو یہ قابلیت بخشی ہے کہ انہوں نے صنعتی میدان میں بہت ترقی کی ۔کمپیوٹر سائنس ،میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی کے دوسرے میدانوں میں اس کوکسی قدر کامیابیاں بھی ملیں۔ان ایجادات و صنعتوں پرانسانوں کا ایک گروہ اتنا مغرور ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا ہی انکار کرنے لگ گیا۔
ایسے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا۱۰۴ۭ اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُہُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَہُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۱۰۵ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَاۗىِٕہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَزْنًا۱۰۶
(سورۃ الکہف: 104تا106)
ان آیات میں حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی وساطت سے ہر حقیقی مسلمان کو یہ پیغام دیاگیا ہے کہ وہ اللہ کا یہ حکم دوسرے لوگوں کو پہنچادے کہ کیا ہم تمہیں اُن کی خبر دیں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا کھانے والے ہیں۔جن کی تمام تر کوششیں دنیوی زندگی کی طلب میں گم ہوگئیں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ صنعت کاری میں کمال دکھا رہے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات اور اس کی لقاءسے انکار کر دیا۔ پس ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور قیامت کے دن ہم ان لوگوں کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے ملحد اور دہریہ سائنسدان جو مختلف ایجادات کے موجد ہیں اور اپنی ایجادات اور انکشافات پر تکبر کرتے ہوئے انہیں کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے نزدیک قیامت کے دن ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیت کے بناء پر ایجاد کئے گئے ہیں۔یہ ایجادات خداتعالیٰ کی طرف توجہ مبذول کرنے کا باعث بننے کی بجائے ان کو غرور اور گھمنڈ میںبڑھانے کا موجب بن گئیں اور اس کی سزا مغرور انسانوں کو ملے گی۔
اسکے بالمقابل اللہ تعالیٰ کے مومن بندے جب کوئی ایجاد کرتےہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔بہت سے مسلمان سائنسدان مثلاًالحمیاری، ابراھیم الفزاری، جابر بن حیان،محمد الفزاری،یعقوب بن طارق، الخوارزمی،عبدالرحمن الصوفی،ابن الہیثم، البیرونی، ابن سینا،عبدالرحمن الخزینی اور پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام صاحب مرحوم و مغفوروغیرہ سائنسدان تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ علوم سے بہت سی ایجادات کیں اوربہت سی ایجادات کی بنیادیں استوار کیں۔ ہر علم میں راہنمائی کیلئے وہ اصول اور قوانین دریافت کئے جس کی بناء پریورپین سائنسدانوں نے مزید ترقی کی منازل طے کیں۔
سامعین کرام! جیسا کہ آپ نے سماعت فرمایا کہ اس تقریر میں یہ بیان کرنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانے کے کیا فوائد و برکات ہیں۔اس سلسلہ میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہےکہ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَا(سورہ ابراہیم: 35)اور اگر تم اللہ کی طرف سے عطا ء کردہ نعمتوں اور برکات کو شمار کرنا چاہو تو کبھی شمار نہیں کر سکوگے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے متعلق فوائد و برکات انسان شمار کرنا چاہے تو ان کا شمار انسان کے بس میں نہیں ہے۔
اس مختصر وقت میں چند برکات بیان کی جاتی ہیں:
جس انسان کو اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان و یقین ہوتا ہے اور وہ اسکے ارشادات کے مطابق اپنی زندگی گزار تا ہے وہ دلی سکون اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِكْرِ اللہِ۰ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ(سورہ الرعد:29)(یعنی) وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ سنو! اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتے ہیں۔اور وہ اللہ تعالیٰ کی ہر رضا پر راضی رہتے ہیں۔ اور انکی زندگی کا ایک مطمح نظر یہ ہوتا ہے؎
ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلا ہو
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو
ان کی جستجو اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان کا رب ان سے راضی ہو جائے۔وہ مشکلات اور مصائب کو بھی بڑے صبر و تحمل سے برداشت کر لیتے ہیں۔ان کی مثال اس بادشاہ اور خادم کی سی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں ایک بادشاہ کے پاس خربوزوںکا ایک ٹوکرا لایاگیا ۔بادشاہ کو خیال آیا کہ میرا یہ نوکر میری اتنی خدمت کرتا ہے آج میں بھی اسکی کچھ خدمت کروں گا۔چنانچہ اس نے خربوزہ کاٹ کر اس کی ایک پھانک نوکر کو دی۔نوکر نے اس کو کھایا۔بادشاہ نےاُس سے پوچھا اس کا ذائقہ کیسا ہے نوکر نے جواب دیا بہت اچھا۔اسی طرح وہ بادشاہ پھانکیں کاٹ کر دیتا گیا اور نوکر کھاتا چلا گیا۔آخری پھانک بادشاہ نے خود کھائی تو وہ سخت کڑوی تھی۔بادشاہ نے نوکر سے کہا یہ خربوزہ تو سخت کڑوا تھا اور تم بڑے مزے سے کھاتے چلے گئے اور جب میں نے پوچھا تو تم نے کہا اس کا مزا بہت اچھا ہے۔تم نے ایسا کیوں کیا؟تو نوکر نے جواب دیا بادشاہ سلامت آپ کے ہاتھ نے مجھے بہت میٹھی چیزیں کھلائیں اگر آج اس ہاتھ سےایک کڑواخربوزہ کھانا پڑ رہا ہے تو اس کو بد مزا کہنے کی کیا ضرورت ہے،اصل تو مزا اس ہاتھ کا ہے جومجھے کھلا رہا ہے۔
اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مومن بندے کی زندگی میں کوئی کڑواہٹ بطور ابتلاء آتی ہے تو وہ صبر اور خاموشی کے ساتھ برداشت کرتا ہے اور جس اللہ پر وہ ایمان اور یقین رکھتا ہے اس سے اس ابتلاء کے دور ہونے کیلئے دعائیں مانگتا ہےاور امید رکھتا ہے کہ اس کا مولیٰ کریم اسے اس ابتلاء کے بعد بے شمار فضلوں سے نوازے گا کیونکہ یہ اس کا وعدہ ہے کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(سورۃ الانشراح: 6)یقیناً تنگی کے ساتھ آسائش ہے۔
اسکے بالمقابل ایک دہریہ اورملحد جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایما ن نہیں رکھتا مصائب اور مشکلات اور بیماریاں آنے پر سخت پریشان ہوتا ہے۔اس کو اطمینان اور سکون نہیں ملتا،رات کو نیند نہیں آتی۔سکون اور نیند کی تلاش کیلئے وہ نشہ آور چیزوں اورڈرگس کا استعمال کرتاہے اور بعض تو خود کشی کر لیتے ہیں اور بعض اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیںکیونکہ ان کے پاس حصول اطمینان و صبرکا کوئی ذریعہ نہیں ہوتااور بڑی محرومی کی موت مرتے ہیں۔ فَاعْتَبِرُوْایٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ۔
(دوسرا فائدہ)سامعین کرام! دنیا میںد و طرح کے بچے ہوتے ہیں ایک تو وہ جن کےسر وں پر والدین کا سایہ ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو یتیم ہوتے ہیں۔ جن کے سروں پر ان کے والد کا سایہ ہوتا ہے۔وہ کسی بھی ضرورت کے وقت اپنی والدکی طرف رجوع کرتےہیںاور شفیق والد ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر وہ جن کا کوئی والد نہیں ہوتا وہ ضرورت پڑنے پراحساس کم تری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہی حال مومن بندوں اور منکرین باری تعالیٰ کا ہے ۔اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے اپنے رب اور خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں اور ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر ہوتا ہے کہ وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ(مومن: 61)تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھےپکارو میں تمہاری دعا سنوں گا ۔
پھر فرمایا وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ (البقرۃ: 187)اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبّیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ؎
مستقل رہنا ہے لازم اَے بشر تجھ کو سَدا
رنج و غم یاس و اَلم فکر و بلا کے سامنے
بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو
مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے
حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر
کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے
(درثمین، صفحہ121)
ہستی باری تعالیٰ پر ایما ن رکھنے والا
خود کو اللہ کی حفاظت میں محسوس کرتا ہے
اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانے والے کو ایک فائدہ اور برکت یہ حاصل ہوتی ہے کہ وہ ہر خطرہ کے وقت خود کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں یقین کرتا ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر ایمان ہوتا ہے کہ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ (البقرۃ :39) ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ کوئی غم کریں گے۔
چنانچہ سیدنا حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی سیرت میں اس تعلق سے بہت سے ایمان افروز واقعات مذکور ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
سن7ہجری(بمطابق628ء)کو حضرت رسول کریم ﷺ غزوہ ذات الرقاع کیلئے تشریف لےگئے ۔جب حضور ﷺ صحابہ کے ساتھ واپس تشریف لا رہے تھےتو راستہ میں ایک سایہ دار جگہ میںآرام فرمانے لگے اور آپؐنے اپنی تلوار ایک کیکر کی درخت کے ساتھ لٹکا دی۔حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم بھی سو گئے تو اچانک حضور ﷺ کی آواز ہم تک پہنچی ۔آپ ﷺ ہمیں بلا رہے تھے۔ جب ہم حضور ؐ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک دشمن وہاں کھڑا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا جب میںسوگیا تو اس دشمن نے مجھے جگایا اور میں نے دیکھا میری تلوار اس کے ہاتھ میں ہے۔وہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ بتاؤ آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے۔حضور ﷺ نے جواب دیا کہ’’ اللہ۔اللہ۔اللہ‘‘ اس پر تلوار اس دشمن کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ کچھ نہ کر سکا۔حضور ﷺ نے وہ تلوار اٹھائی اور اس دشمن سے پوچھا اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے۔اس پر وہ دشمن کہنے لگا کہ آپ ہی ہیں جو معاف فرمادے۔‘‘ (بخاری،كِتَاب الْمَغَازِي، بَابُ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ)
سامعین کرام! آنحضرت ﷺ کو اپنے رب پر کامل ایمان تھا اور اسی اللہ نے آپ ﷺ کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھا اور اسکے بالمقابل وہ دشمن جس کا خدائے واحد پر ایمان نہ تھا اس نے اپنا کوئی محافظ نہ پایا اور وہ نجات کیلئے حضور ﷺ سے فریاد کرنے لگا۔اس واقعہ سے یہ ثابت ہواکہ حضور ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے جو مومن باللہ،اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ خطرات کے وقت اس کی حفاظت کرتا ہے۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے حیات طیبہ میں بھی پیش آیا ۔
1904و1905ء میں جبکہ آپ علیہ السلام کرم دین والے مقدمہ میں گورداسپور میں مقیم تھے ایک صحابی نے آپ علیہ السلام کو اطلاع دی کہ مجسٹریٹ کا ارادہ آپؑکو قید کرکے جیل بھجوانے کاہےاور وہ سمجھتا ہے کہ اس مقدمہ میں آپؑاسکے شکار ہیں۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے شکار کا لفظ بولا تو حضور ؑ یکلخت اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ’’ میں شکار نہیں ہوں میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیروہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل، صفحہ87 ،روایت نمبر107)
پھر فرمایا :
جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اَے روبۂ زار و نزار
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے خدائے حفیظ پر کامل ایمان و تقویٰ تھا کہ وہ ہر حال میں آپ کی حفاظت فرمائےگااور اسی کی اقتداء میں ہر احمدی جو اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہےاللہ تعالیٰ اسکی حفاظت کرتا ہےاور اسکے بالمقابل وہ انسان جو یہ سمجھتاہے کہ اس کے نزدیک ہستی باری تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں وہ ایسے مواقع پرخود کو تنہا اور بے یار و مدد سمجھتا ہے۔
جرائم کے ارتکاب سے اجتناب
جرائم کو روکنے کیلئے حکومتیں قوانین بناتی ہیں مگر وہ جرائم کے انسداد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوتیں۔مگر وہ لوگ اور معاشرہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اسکے احکامات پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور کسی حکم سے سر مو انحراف گناہ سمجھتے ہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ ان کا مالک ِ حقیقی ناراض نہ ہو جائے۔وہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی غلطی کے ارتکاب پر قانون قانونی گرفت کرے یا نہ کرے اللہ تعالیٰ کی ذات مؤاخذہ کر سکتی ہے۔اس لئے وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے جرم کے ارتکاب سے بچتے ہیں۔بطور مثال عرض ہے کہ
سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعثت کے وقت عرب لوگ شراب نوشی کے عادی تھے اور بعض قبائل میں پانچ وقت خصوصی شراب پینے کے مقرر کئے ہوئے تھے۔کثرت شراب نوشی پر فخر کرتے اور ان کا اپنے اشعار میں فخر کے ساتھ ذکر کرتے تھے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے شراب نوشی پر پابندی عائد کر دی تو اسے فوراً ترک کر دیا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن مدینہ میں ابو طلحہ کے مکان میں کچھ اصحاب شراب پی رہے تھےاور میں ان کو شراب پلا رہا تھا۔ اتنے میںگلی سے کوئی شخص یہ کہتا ہوا گزرا کہ رسول کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ آج سے شراب کلیۃً حرام کر دی گئی ہے۔شراب پینے والوں میں سے بعض نے کہا کہ کوئی جاکرتحقیق کرےکہ کیا یہ اعلاج درست ہے یا نہیں؟مگر دوسرے احباب نے کہا نہیں پہلے شراب کے مٹکےاور برتن توڑدواور مٹکوں کی شراب بہا دواس کے بعد تحقیق کرواور جب تحقیق سے شراب کی حرمت ثابت ہوگئی تو انہوں نے شراب پینا یکسر چھوڑ دیا اور کسی نے دوبارہ اسکا خیال بھی دل میں نہیں لایا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک شعر میں صحابہ کرام ؓکی اس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
تَرَکُوا الْغَبُوْقَ وَ بَدَّلُوْا مِنْ ذَوْقِہٖ
ذَوْقَ الدُّعَاءِ بِلَیْلَۃِ الْاَحْزَانٖ
یعنی انہوں نے شراب کو چھوڑ دیا اور اسکی لذت کوغم کی راتوں کو دعا کی لذت سے بدل دیا۔
حاضرین کرام!اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے افراد کو یہ بہت بڑا فائدہ اور برکت نصیب ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکم پر فوراً عمل کرتے ہیں اور برائیوں، گناہوں اور جرائم کے ارتکاب سے بچ جاتے ہیں جبکہ دوسرے اس قسم کے فوائد و برکات سے محروم رہتے ہیں۔
راست گوئی
اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا راست گو اورسچا انسان ہوتا ہے جبکہ ایک ملحد اور دہریہ کو سچ اور جھوٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔اللہ کا مومن بندہ کسی بھی خطرے یا مصیبت میں سچ کے دامن کو نہیں چھوڑتا کیونکہ اسکے پیش نظر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہوتا ہے کہ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(سورہ توبہ: 119)صادقوں یعنی سچوں کی جماعت میں شامل ہوجاؤ وہ کسی حال میں بھی صادقوں کے زمرے سے باہر نکلنا نہیں چاہتا۔
اس ضمن میں حضرت شیخ عبد القادر صاحب جیلانی ؓ کا ایک واقعہ تاریخ میں مذکور ہے کہ جب وہ حصول علم کیلئے گھر سے روانہ ہونے لگے تو ان کی والدہ نے 80؍اشرافیاں ان کے کوٹ کے جیب میں رکھ کر سی دیں اور والدہ نے انہیں نصیحت کی کہ بیٹا جھوٹ نہیں بولنا۔شیخ عبد القادر صاحبؒ گھر سے روانہ ہوئے اور ایک جنگل میں سے گزر رہے تھے تو چوروں اور ڈاکوؤںنے ان کو پکڑ کر پوچھا کہ تیرے پاس کتنا مال ہے؟ شیخ عبد القادر جیلانیؓ نے جواب دیا کہ میرے پاس 80 اشرفیاںہیں جو میری والدہ نے جیب میں رکھ کر سی دی تھیں اور یہ نصیحت کی تھی کہ بیٹا کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائےگا۔ جب جیب کو پھاڑا گیا تو واقع 80؍اشرافیاں نکلیں۔ چوروں کے سردار نے کہا کہ ہمیں بھی ہمارے والدین اور بڑوں نے اللہ کے حکم کے مطابق سچ بولنے کی نصیحت کی تھی مگر ہم نے اس نصیحت پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے جنگلوں میں بھٹک رہے ہیں۔سردار نے اسی وقت توبہ کی اور عہد کیا کہ آئندہ وہ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولےگااور ہمیشہ سچ پر کاربند رہےگا۔کہا جاتا ہے کہ وہی آپ کا سب سے پہلا مرید تھا۔
سامعین کرام! اس واقعہ سے ثابت ہواکہ جب ایک گمراہ اور مجرم کو بھی یہ یقین ہو جائے کہ اللہ کا وجود ہے اور اس کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کا موجب بنتی ہے تو وہ صدق اور سچائی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور جس کو ہستی باری تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں ہوتا وہ جھوٹ،فریب ،رشوت اور گناہوں کی دلدل سے نکل ہی نہیں سکتا۔
اسی طرح کا ایک ایمان افروز واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میں بھی ملتا ہے ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنی کتاب’’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ
’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام پر ایک مقدمہ ڈاک خانہ کی طرف سے چلایا گیا جس میں جرمانہ اور قید دونوں سزائیں مل سکتی تھیں۔چونکہ ڈاک خانہ کے قواعد کی خلاف ورزی اس زمانہ میں کثرت سے ہوتی تھی ڈاک خانہ والے چاہتے تھے کہ ایک دو شخصوں کو سخت سزا ہو جائے تو آئندہ لوگ احتیاط کریں گے۔اس لئے ڈاک خانہ کا انگریز افسر خود پیروی کیلئے آتا اور پورا زور دیتا کہ آپ کو سزا ہو جائے۔اس مقدمہ کی بناء صرف اس شخص کی شہادت پر تھی جس نے آپ کا بھیجا ہوا پیکٹ کھولا تھاجس میں ایک خط تھا اور خط کا پیکٹ میں بھیجنا قوانین ڈاک کے مطابق جرم تھا۔وکلاء نے کہا کہ بچنے کی صرف یہ صورت ہے کہ آپ کہیں کہ میں نے خط الگ بھیجا تھا۔وہ شخص جس کے نام پیکٹ تھا چونکہ پادری تھا اور آپ سے مباحثات کر چکا تھا اور ایک رنگ میں آپ سے عداوت رکھتا تھا یہ عذر آپ کا یقینی طور پر قابل قبول تھا مگر آپؑنے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میں جھوٹ کس طرح بول سکتا ہوں میں نے واقع میں خط بھیجا ہے۔گویہ سمجھ کر اسے پیکٹ میںڈال دیا تھا کہ وہ بھی مضمون پیکٹ کے متعلق تھا۔مجسٹریٹ پر اس امر کا اس قدر اثر ہوا کہ باوجود ڈاک خانہ کے افسروں کے اصرار کے اس نے آپؑکو بری کر دیا اور کہا کہ جو شخص قید ہونے کے خطرہ میں ہے اور منہ کے ایک فقرہ سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں کرتا اور جھوٹ نہیں بولتا میں اسے ہرگز سزا نہیں دے سکتا۔‘‘(احمدیت حقیقی اسلام،انوار العلوم جلد8صفحہ206)
سامعین کرام! اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعوداللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کی برکت سے غلط بیانی اور جھوٹ سے بچتے رہے جبکہ ماہر قانون غلط بیانی کا مشورہ دیتے رہے۔مگر آپؑنے ہر حال میں الٰہی اور ملکی قانون کو ماننے اور اس کے مطابق عمل کرنے پر اصرار کیا۔پس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے پر ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے ملک کے قانون کی پابندی کرتاہے اور اسکی خلاف ورزی سے محض اسلئے بچتا ہے کہ مالک الملک نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔
سامعین حضرات! یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود کو مسلمان کہلانے والے اور اللہ اور اسکے رسول پر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد جھوٹ،فریب،رشوت خوری اور مختلف قسم کے جرائم کے ارتکاب کرتے ہوئے نظر آتی ہیںاور لا مذہب دہریوں کویہ اعتراض کا موقع دیتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان گناہ اور آثام سے اجتناب کا باعث ہے تو یہ مسلمان جو اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ کرنے والےہیں ان گناہوں میں کیوں ملبوث ہیں؟
اس سوال کا جواب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے مؤثر انداز میں دیا ہے ۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو خدا کو مانتے ہیں اور دوسرے وہ جو نہیں مانتے اورد ہریہ کہلاتے ہیں جو مانتے ہیں ، اُن میں بھی دہریت کی ایک رنگ ہے کیونکہ اگر وہ خدا کو کامل یقین کے ساتھ مانتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس قدر فسق و فجور اور بے حیائی میں ترقی ہو رہی ہے۔ ایک انسان کومثلاًسنکھیا یا سٹرکنیادیا جاوے جبکہ اس کو اس بات کا علم ہے کہ یہ زہر قاتل ہے، تو وہ اُس کو کبھی نہیں کھائے گا۔ خواہ اس کے ساتھ تم اُسے کسی قدر لالچ بھی روپیہ کا دو۔ اس لئے کہ اس کو اس بات کا یقین ہے کہ میں نے اس کو کھایا اورہلاک ہوا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ گناہ سے ناراض ہوتا ہے اور پھر بھی اس زہر کے پیالے کو پی لیتے ہیں۔ جھوٹ بولتے ، زنا کرتے ہیں ، دکھ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں، بارہ بارہ آنہ یا ایک رو پئے کے زیور پر معصوم بچوں کو مار ڈالتے ہیں۔ اس قدر بے باکی اور شرارت و شوخی کا پیدا ہونا سچے علم اور پورے یقین کے بعد تو ممکن نہیں۔ اس سے معلوم ہو کہ ان کو یہ ہرگز معلوم نہیں کہ یہ بدی کا زہرہلاک کرنے میں سنکھیا یا سٹر کنیا کے زہر سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر اُن کا ایمان اس بات پر ہوتا کہ خدا ہے اور وہ بدی سے ناراض ہوتا ہے اور اسکی پاداش میں سخت سزا ملتی ہے، تو گناہ سے بیزاری ظاہر کرتے اور بدیوں سے ہٹ جاتے ، لیکن چونکہ گناہ کی زندگی عام ہوتی جاتی ہے اور بدی اور فسق و فجور سے نفرت کی بجائے محبت بڑھتی جاتی ہے۔ اس لئے میں یہی کہوں گا اور یہی سچ ہے کہ آج کل دہر یہ مت پھیلا ہوا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک گروہ زبان سے کہتا ہے کہ خدا ہے، مگر مانتا نہیں اور دوسرا گروہ صاف انکار کرتا ہے۔حقیقت میں دونوں ملے ہوتے ہیں۔ (ملفوظات ،جلداوّل، صفحہ493)
سامعین کرام! دنیا کی معلوم تاریخ سے علم ہوتا ہے کہ جب بھی انسان اللہ تعالیٰ سے دور ہوگیااور اس کے حقوق کی ادائیگی کو کلیۃً فراموش کر دیااور بے خوف ہوکر گناہوں کا ارتکاب کرنے لگا اور اس کے نزدیک حسانات اور سیئات کا فرق ختم ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اس وقت کسی مامور کو بھیج کر ایمان باللہ کو دلوں میں دوبارہ قائم کرتا ہے۔مثال کے طور پر جب مئی ،جون کے مہینہ میں شدید گرمی کے باعث زمین خشک ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ساون میں باران رحمت نازل کرتا ہے جو مردہ زمین کو ایک بار پھر زندہ کردیتاہے۔عصر حاضر میں بھی اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت محمدمصطفیٰﷺ کی متابعت میں سیدنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو اس مقدس شہر قادیان دارالامان میں مبعوث فرمایا۔ آپؑنے ببانگ دُہل اور درد بھرے الفاظ میں اعلان فرمایا کہ
میں خدا تعالیٰ پر ایساایمان پیداکرانا چاہتاہوں کہ جو خدا تعالیٰ پرایمان لاوے وہ گناہ کی زہر سے بچ جاوے اور اسکی فطرت اور سرشت میں ایک تبدیلی ہو جاوے۔ اس پر موت وارد ہوکر ایک نئی زندگی اس کو ملے۔ گناہ سے لذت پانے کی بجائے اس کے دل میں نفرت پیدا ہو جس کی یہ صورت ہو جاوے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے خدا کو پہچان لیا ہے۔خدا خوب جانتا ہے کہ اس زمانہ میں یہی حالت ہو رہی ہے کہ خدا کی معرفت نہیں رہی۔کوئی مذہب ایسا نہیں رہا۔جو اس منزل پر انسان کو پہنچا دے اورر یہ فطرت اس میں پیدا کرے۔ہم کسی خاص مذہب پر کوئی افسو س نہیں کر سکتے۔یہ بلا عام ہو رہی ہے اوریہ وبا ء خطرناک طور پر پھیلی ہے۔میں سچ کہتا ہوں ۔خدا پر ایمان لانے سے انسان فرشتہ بن جاتا ہے بلکہ ملائکہ کا مسجود ہوتا ہے۔ نورانی ہو جاتا ہے۔
(ملفوظات، جلد اوّل، صفحہ493،494)
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہر فرد جماعت کےقلب وجان میں اپنی ہستی سے متعلق ایمان اور یقین پیدا فرمادے جس کے نتیجہ میںگناہوں کے ارتکاب کا امکان باقی نہ رہےاور اللہ تعالیٰ کے بے شمار افضال اوربرکات سے ہر فرد جماعت مستفید ہوتا چلا جائے۔آمین۔
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
…٭…٭…٭…