اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ-
مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ كَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ۰ۭ وَاللہُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ۰ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۲۶۲ (سورۃالبقرۃ : 262)
قابل احترام صدرجلسہ اور معزز سامعین! خاکسار کی تقریر کاموضوع ہے’’باشرح چندہ اورنظام وصیت کی اہمیت وبرکات‘‘
ابھی جس آیت کریمہ کی خاکسار نے تلاوت کی ہےاسکاترجمہ اس طرح ہے ’’اُن لوگوں کی مثال جواپنےمال اللہ کی راہ میں خر چ کرتےہیںایسے بیچ کی طرح ہےجوسات بالیں اُگاتاہو۔ہربالی میں سو دانے ہوں اوراللہ جسےچاہتاہے(اس سےبھی)بہت بڑھا کردیتاہے۔اوراللہ وسعت عطاکرنے والا (اور) دائمی علم رکھنےوالاہے۔‘‘
اس آیت میں بہترین مثال کےذریعہ مالی قربانی کی برکات بیان کی گئی ہے۔فرمایااگرتم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنےاموال خر چ کروگےتوجس طرح ایک دانہ سےاللہ تعالیٰ سات سودانے پیداکر دیتا ہے اسی طرح وہ تمہارےاموال کوبھی بڑھائےگا۔بلکہ اس سےبھی زیادہ ترقی عطافرمائےگا۔یعنی زیادہ کی کوئی حدبندی نہیں اورنہ اسکےانواع کی کوئی انتہا ہے۔ اسی طرح مختلف رنگ میںقرآن مجید میں مومنوں کومالی قربانی کی تلقین وتاکیدکی گئی ہے۔ دراصل مالی قربانی عبادت کاایک حصہ ہے۔اس کاتعلق حقوق اللہ اور حقوق العبا ددونوں سے ہے۔ مال سےاشاعت دین ، مومنوں کی تعلیم وتربیت،قومی،ملّی اورملکی خدمات۔ غرباء ومساکین کی ضروریات کاخیال رکھاجاتاہے جودین اورمذہب کااہم حصہ ہے۔
معززسامعین!یہ دوراسلام کی نشاۃ ثانیہ کا دور ہےجسکی بنیاداللہ تعالیٰ نےحضرت مسیح موعودعلیہ السلام کےذریعہ رکھی ہےاورآپ علیہ السلام سےاس سلسلہ کی ترقی کےبڑےبڑےوعدےکئےہیں۔یہ اُس کافضل ہےکہ اُس نےہمیں آخرین کی جماعت میں شامل فرمایاہے۔ ہمارافرض ہےکہ ہم بھی اپنی ذمہ داریوں کوسمجھیں ۔جیساکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتےہیں :
’’دیکھوجنہوں نےانبیاء کاوقت پایاانہوں نے دین کی اشاعت کیلئےکیسی کیسی جانفشانیاں کیں۔ جیسے ایک مالدار نے دین کی راہ میں اپناپیارامال حاضرکیا۔ ایساہی ایک فقیردَریوزہ گرنےاپنی مرغوب ٹکڑوں سے بھری ہوئی زنبیل پیش کردی اورایسا ہی کئےگئے۔ جب تک کہ خداتعالیٰ کی طرف سےفتح کاوقت آگیا۔ مسلمان بنناآسان نہیں مؤمن کالقب پاناسہل نہیں سواےلوگو ! اگر تم میں وہ راستی کی روح ہےجومؤمنوں کودی جاتی ہےتومیری اس دعوت کوسرسری نگاہ سے مت دیکھو۔نیکی حاصل کرنےکی فکرکروکہ خداتعالیٰ تمہیں آسمان پردیکھ رہاہےکہ تم اس پیغام کوسن کرکیا جواب دیتےہو۔‘‘ (فتح اسلام، صفحہ 52)
نیزفرماتے ہیں:ـ’’ مجھےحکم دیا گیا ہےکہ میں تمہیں متنبّہ کروں۔پس جا ن لو خدا تمہاےکاموںکو دیکھ رہاہےاور خدا تمہیںبلاتاہےتا اپنےمالوں او ر جانوں کی کوشش کے ساتھ تم اس کی مددکرو۔ پس کیا تم فر مانبرداری اختیارکروگےاورجو تم میں سے خدا کی مدد کرے گا خدا اس کی مدد کرے گا ۔اور جو کچھ اس نے خدا کو دیا خداکچھ زیا دہ کے ساتھ اس کو واپس کرے گا اور وہ سب محسنوں سےبہتر محسن ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات، جلد سوم، صفحہ153)
سامعین ! تاریخ گواہ ہےامام الزماں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی اس آواز پر آپؑکےصحابہ نے سَمعْنَا وَاَطَعْنَاکہتےہوئےمالی قربانی کاوہ اعلیٰ نمونہ پیش کیاجس سےاسلام کےدورِاوّل کی یادتازہ ہوگئی ہے۔جس طرح آنحضرت ﷺ کےصحابہ نے مالی قر بانیاںکی تھیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نےاسلام کی سربلندی کیلئےتن من دھن کی بازی لگادی اورمالی قربانی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیںجو بعد میںآنےوالوںکیلئےمشعل راہ ہیں۔
پس ہم میں سےہرشخص اپناجائزہ لےکہ کیاوہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کےمطابق اخلاص کے ساتھ اسکی راہ میں مالی قربانی کررہاہے۔اگر کر رہا ہے تواُسکومبارک ہو۔اوراگر اس میںکوئی کمی یاسستی ہے تواس کیلئےفکرکی بات ہےوہ اپنےنفس پرظلم کررہا ہے اورخودکونیکی سےمحروم رکھ رہاہے۔خداکےکام بہرحال نہیں رکیں گے۔اس کادین غالب ہوکررہےگا۔
غرض رکتےنہیں ہرگزخداکےکام بندوں سے
بھلاخالق کےآگےخَلق کی کچھ پیش جاتی ہے
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف طور پرفرمایاہے :
’’تم یقیناً سمجھوکہ یہ کام آسمان سےہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کیلئےہے۔پس ایسانہ ہوکہ تم دل میں تکبّرکرواوریایہ خیال کروکہ ہم خدمت مالی یاکسی قسم کی خدمت کرتےہیں۔میں بار بار تمہیں کہتاہوں کہ خداتمہاری خدمتوں کاذرّہ محتاج نہیں ۔ہاں تم پریہ اسکافضل ہےکہ تم کوخدمت کاموقع دیتاہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات، جلد3،صفحہ 498)
معزز سامعین! جیساکہ ہم سب جانتےہیں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کےوصال کےبعداللہ تعالیٰ نے آپ کے مشن کو جاری و ساری رکھنے اور کمال تک پہنچانے کیلئے اپنے وعدہ کے مطابق جماعت احمدیہ میں خلافت کابابرکت نظام قائم فرمایا۔حضرت اقدس مسیح مود عود علیہ السلام کے ارشاد ات کی روشنی میں آپ کے خلفاءما لی قربانی کے بارے ہمیں بار بار توجہ دلاتے چلے آرہے ہیں ایسے میں ہمارا فر ض ہے کہ ہم خلیفۃ المسیح کی آوازپر لبیک کہیں تا اسلام کی عالمگیر روحانی فتح کا دن قریب سے قریب تر ہوتا چلا آئے اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضوراُس کی جماعت لکھے جائیں۔ حضورعلیہ السلام کےجانشین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودرضی اللہ عنہ فرماتےہیں:
’’ہم ہمیشہ اپنی جماعت کےافرادسےیہ مطالبہ کیاکرتےہیں اورہمیشہ حضرت مسیح موعودؑ بھی یہ مطالبہ فرمایاکرتےتھےکہ خداکیلئے اپنی جانوںاور مالوں کو وقف کردولیکن ہرزمانہ میںیہ معیا ر بد لتا چلا گیاہے … دھیلےسےیہ آواز شروع ہوئی تھی پھرپیسے پرپہنچی پھردوپیسےپرپہنچی۔پھرکہاگیااب دوپیسےکاسوال نہیں تین پیسے دیا کرو۔ تین پیسے دیتےرہے تو کہا گیا اب چارپیسےدیا کرو۔ پھروقت آیاتوکہاگیااپنی جائیدادوں اوراپنی آمدنیوں کی وصیت کردواس وصیت میں بھی کم سےکم دسویں حصےکامطالبہ کیاگیا۔ پھرکہاگیاکہ دسواں حصہ بہت کم ہےتمہیں نواں حصہ دینےکی کوشش کرنی چاہئےاورجن کوخداتعالیٰ توفیق عطافرمائےوہ اس سےبھی بڑھ کرقربانی کریں۔‘‘(خطاب مجلس مشاورت 1946،الفضل 10؍اپریل 1962)
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نےاشاعت اسلام اورجماعت کی انتظامی ،تعلیمی ،تربیتی کاموں کو باحسن خوبی سرانجام دہی کیلئےحضورعلیہ السلام کے ارشادات اور منشاء کے مطابق افراد جماعت پر مالی اعانت فرض قرار دیاہے۔ جس میں بعض لازمی چندے ہیں اوربعض طوعی۔لازمی چندےمیںخصوصاً زکوٰۃ، چندہ وصیت ،چندہ عام،چندہ جلسہ سالانہ ہے۔چندہ عام یہ ہےکہ ہراحمدی جوکسی قسم کی آمدرکھتا ہےیارکھتی ہےاگروہ موصی نہیں ہےتواپنی ماہانہ آمدکا 1/16 بطور چندہ اشاعت اسلام کیلئےپیش کرےگا۔اسی طرح چندہ جلسہ سالانہ اپنی سالانہ آمدکا ایک سوبیسواں حصہ ادا کرےگاخواہ وہ موصی ہویاغیرموصی اورطوعی مالی قربانی وہ ہےجوخلیفہ وقت کی طرف سےمختلف وقتوں میں مستقل یاوقتی تحریک ہوتی ہےاُن میں حصہ لیناہرایک کےاخلاص اوراستطاعت پرچھوڑدیاہے۔
پس ہراحمدی خواہ مردہویاعورت جس کی کچھ نہ کچھ آمدہےمذکورہ شرح کےمطابق اگرچندہ عام اور چندہ جلسہ سالانہ اداکرتاہےتووہ باشرح چندہ دینے والا کہلاتاہے۔لہٰذاہمیں اپناجائزہ لینےکی ضرور ت ہےکہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں کس قدرمالی قربانی پیش کر رہےہیں ہماری قربانی کس معیار کی ہےکیا ہماراچندہ شرح کے مطابق ہےاورکیاپابندی سےادائیگی بھی کر رہےہیں۔اگرنہیں تو ہم اپنے اوپرظلم کر رہے ہیںاپنی دنیااورآخرت خراب کررہےہیں۔ہم مالی قربانی کاحق ادانہیں کررہےہیں توبہت بڑی نیکی اورخداکےفضلوں سےمحروم رہ رہےہیںاوراسکےجوخطرناک نتائج ہیں اُسکےتصورسےدل کانپ جاتاہے۔پھریہ بھی انتہائی فکر کی بات ہےکہ ہم میں سےبعض بجٹ تو لکھوا دیتے ہیں لیکن ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کرتےایسوں کیلئے بھی خوف کامقام ہے۔
جیساکہ حضرت مصلح موعودؓنےفرمایاہے:
’’جوخداکےدین کی خدمت کیلئےکچھ دیتا ہے وہ خداتعالیٰ سےسوداکرتاہےاوراس سوداکوپورانہ کر نے کی وجہ سےخدا کے نزدیک جوا ب دہ ہے اور جس قدر کمی رہتی ہےوہ اسکےنام بقایاہےاگروہ اس دنیا میں ادانہیں کرتاتوجب خداکےسامنے پیش ہوگاخدا تعالیٰ فرمائےگاجاؤجہنم میں بقایااداکرکےآؤ۔‘‘
(خطاب مجلس مشاورت 1933ء)
پس ہمیں لازمی چندوں کےمعاملےمیں دو باتوںکا خاص خیال رکھنا ہے ایک یہ کہ اپنےچندوں کا بجٹ آمد کے مطابق با شرح لکھوانا ہےاور دوسرے اسکی ادائیگی بھی باقاعدگی کےساتھ کرتےرہناہےاور یہی ہر احمدی پر فرض ہے۔
باشرح چندہ کےتعلق سےہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں :
’’وہ لوگ جومالی کشائش کےبعددل میں کنجوسی محسوس کرتےہیں ان کویادرکھناچاہئےکہ سب چندے اللہ تعالیٰ کےفضلوں کوسمیٹنےکاذریعہ ہے۔پس اگراللہ تعالیٰ کی خاطراپنےمال کاسولہواں حصہ دےرہے ہیں تویہ ان دینےوالوں کےفائدےکیلئے ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتاہےکہ میں تمہارےمالوں کوسات سوگنایااس سےبھی زیادہ بڑھاکرواپس دیتاہوں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کوجواپنےمال کااچھاٹکڑاکاٹ کر دےرہےہویہ تمہارےاپنےہی فائدے کیلئےہے۔ اس میں ایک مؤمن کویہ بھی ہدایت ہے،یہ بھی فرمادیا کہ مال ہمیشہ جائزذریعے سےکماؤکیونکہ اللہ تعالیٰ کو اچھامال تبھی پیش کرسکتےہوجب جائز ذریعہ سے کمایا ہو…پس جب چندہ دینےوالاان سب باتوں کو مدنظر رکھےتوپھراس کاروپیہ، اسکی آمد، اسکی کمائی خود بخود پاک ہوجائےگی۔یہ مالی قربانی اس کیلئےتزکیہ نفس کا موجب بن جائےگی اوراس طرح وہ خداتعالیٰ کا قرب حاصل کرنےوالابن جائےگااورآنحضرتﷺ نے جودعائیں کی ہیںاُن کابھی وہ وارث بن رہا ہوگا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 31؍مارچ2006ء)
الغرض مالی قربانی کرنےوالوں کےساتھ خدا تعالیٰ کےجووعدےہیں ہم اسی صورت میںاس سے فیضیاب ہونگےجب ہم اپنےامام کی اطاعت میں آپ کےحکم کےتابع پاک اورطیب کمائی سےباشرح چندوں کےپابندہوجائیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’جوخداکی راہ میں قربانی کرتےہیں اللہ ان کی قربانی رکھانہیں کرتا۔کون ساقربانی کرنےوالا آپ نےدیکھاہے جسکی اولادفاقےکررہی ہو۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کاخاندان دیکھیں خدانےفضل کئے ہیں … یہ ان چندروٹیوں کےطفیل مل رہاہے جو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نےخداکی راہ میں قربان کی تھیں۔ابھی نبوت بھی عطا نہیں ہوئی تھی کہ جوکچھ تھاخداکوپیش کربیٹھے۔یہ اسی کاصدقہ ہے جو کھایا جارہاہے۔صرف وہی نہیں سینکڑوں احمدی خاندان ہیں جواسی قسم کی قربانیوں کاپھل کھارہے ہیں۔ ان کے والدین یاان کےماں باپ نےبڑے بڑے مشکل حالات میں گزارےکئے۔جوکچھ میسرتھاجو کچھ وہ بچاسکےخداکےحضور پیش کردیااورآج اولادیں ہیں کہ پہچانی نہیں جاتیں۔کہاں سےآئی تھیںکہاں چلی گئیں۔ ان کےپیچھےرہنےوالوں کودیکھیں جومحروم تھےان سب قربانیوں سے۔ان کی شکلیں اورہیں، ان کےماحول اورہیں،ان کی عقلیں اورہیں،ان کے علم اورہیں اوراللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والوں کی اولادوں کوخدانےاتنی برکت دی مگرپہچاننےکی ضرورت ہے،احساس کی ضرورت ہےجب تک یہ احساس زندہ رہےگایہ قافلہ آگےبڑھتا رہےگا۔ اگر یہ احساس مٹ گیااورہم غلط فہمی میں مبتلاء ہوگئےکہ یہ گویاہماری ہی ہوشیاریوں اورکوششوں کانتیجہ ہے تو برکتیں چھینی جائیں گی۔پھرڈرتےکس بات سے ہیں؟ خداکی راہ میں دینےوالےکبھی خالی نہیں رہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 10؍ستمبر1982ء)
پس ہمیں اپنی مالی قربانیوں کاخصوصاََ لازمی چندہ جات کاجائزہ لینےکی ضرورت ہےخداخوفی سے تقویٰ کےساتھ توفیق اور آمد کےمطابق خدا کے دئے ہوئےمال میں سےاُسکےحضورپیش کرنےکی ضرورت ہے۔اگرکسی حقیقی مجبوری کی وجہ سےکوئی اپنےآپ کو باشرح چندہ اداکرنے کا متحمل نہیں پاتا تو پوری دیانتداری سےاپنی صحیح آمداورمجبوری لکھ کر خلیفۃ المسیح سےکم شرح کی منظوری حاصل کرسکتاہےلیکن اخفااور غلط بیانی کرکےگناہ گارنہیںبننا چاہئے۔
جیساکہ حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایاہے:
’’بعض آدمی مجبوریوں کی وجہ سےشرح کے مطابق چندہ نہیں دےسکتےتورعایت لےلیںتوسچائی کا تقاضایہ ہےکہ رعایتی شرح کی منظوری حاصل کرلی جائے،بجائےاسکےکہ غلط بیانی سےکام لیا جائے اور میں اس بارےمیں کئی دفعہ کہہ بھی چکاہوں کہ ایسے لوگوں کوبغیرکسی سوال جواب کے رعایت شرح مل جائیگی۔ تویہ توجولوگ اپنی آمدغلط بتاتےہیں وہ غلط بیانی کی وجہ سےگناہ گارہورہےہوتےہیں۔ دوسرے اس غلط بیانی کی وجہ سےاپنےپیسےمیں بھی بےبرکتی پیداکررہےہوتےہیں۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ جس خدانےاپنےفضل سےحالات بہترکئےہیں وہ ہر وقت یہ طاقت رکھتاہےکہ ایسےلوگوں کوکسی مشکل میں گرفتارکردے۔ پس خداتعالیٰ سےہمیشہ معاملہ صاف رکھناچاہئے۔
اصل بات جومیں یہاں کہناچاہتاہوں یہ ہے کہ مالی قربانی ذریعہ ہے تربیت کا اورنفس کوپاک کرنےکا۔اگرکچھ حصہ مالی قربانی بھی کررہےہیں اور غلط بیانی کرکےاپنی آ مدکوبھی چھپارہےہیں تواللہ تعالیٰ کامالی قربانی کرنےوالوں کیلئےاُن کےنفوس کوپاک کرنےکاجووعدہ ہےاُس سےتوپھرحصہ نہیں لے رہے ہوتےکیونکہ اللہ تعالیٰ توہرانسان کےدل کاحال جانتا ہے اسکےتمام حالات جانتاہےکوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہےتوایسی مالی قربانی کابھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‘‘ (خطبہ جمعہ 31؍مارچ6 200)
پس باشرح چندہ کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم صحیح رنگ میںسچائی اور تقویٰ کے ساتھ چندوںکی ادائیگی کریں گےتو پھرمالی قربانی کےفیوض اور برکات سے یقیناً یقیناًمستفیض ہوںگے۔ ہمارے مالوں میں بھی برکتیں پڑیں گی اور خدا کی رضا بھی حاصل ہو گی۔ پس ہمیں چاہئےکہ ہم اپنےلازمی چندہ جات کا جائزہ لیں اور پوری دیانت داری سےشرح کے مطابق اپنے چندوں کی ادائیگی کریں اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے آمین۔
اب خاکسار اپنی تقریرکے دوسرے حصےکی طرف آتاہے ۔
نظام وصیت کی اہمیت وبرکات
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نےاپنی وفات کےقریب اپنی جماعت کودوباتوں کی وصیت فرمائی ہے ایک قدرت ثانیہ یعنی خلافت کاظہور۔ دوسرےوصیت کےالٰہی نظام میں شمولیت۔ حضور علیہ السلام نےاپنی تصنیف الوصیت میں تفصیل سےا س کاذکر فرمایاہے۔ آپ نےواضح طورپرفرمادیاہےکہ اللہ تعالیٰ نےغلبہ اسلام کی جوبنیادڈالی ہےاس کیلئے آپ کےبعدوہ خلافت کانظام قائم فرمائےگااس سے وابستہ رہنا۔دوسرےاشاعت اسلام کیلئے اپنے مال وجائیدادکی وصیت کرنی ہے۔اس وقت نظام وصیت کے بارےمیںخاکسارکچھ گزارشات کرےگا۔ وَبِاللہِ التَوْفِیْقِ۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتےہیں:
’’ایک جگہ مجھےایک قبردکھلائی گئی کہ وہ چاندی سےزیادہ چمکتی تھی اوراس کی تمام مٹی چاندی کی تھی تب مجھےکہاگیاکہ یہ تیری قبرہے۔اورایک جگہ مجھےدکھائی گئی اوراس کانام بہشتی مقبرہ رکھاگیا اورظاہرکیاگیاکہ وہ ان برگزیدہ جماعت کےلوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں ۔‘‘
نیزفرماتے ہیں’’ جب کہ میر ی وفات کی نسبت بھی متواتروحی الٰہی ہوئی ۔میں نےمناسب سمجھاکہ قبرستان کاجلدانتظام کیاجائے۔اس لئےمیں نے اپنی ملکیت کی زمین جوکہ ہمارے باغ کےقریب ہے …ا س کام کیلئےتجویزکی اورمیں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دےاوراسی کوبہشتی مقبرہ بنادے اور یہ اس جماعت کےپاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو۔ جنہوں نےدرحقیقت دین کودنیا پر مقدم کرلیااور دنیاکی محبت چھوڑدی اورخدا کیلئے ہوگئے اورپاک تبدیلی اپنےاندرپیداکرلی اوررسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ کی طرح وفاداری اورصدق کانمونہ دکھلایا۔ آمین یارب العالمین۔‘‘ (الوصیت صفحہ 20،21)
پھر حضور علیہ السلام فرماتےہیں :’’چونکہ اس قبرستان کیلئےبڑی بھاری بشارتیں مجھےملی ہیں اورنہ صرف خدانےیہ فرمایاکہ یہ مقبرہ بہشتی ہےبلکہ یہ بھی فرمایاکہ ’’اُنْزِلَ فِیْھَا کُلُّ رَحْمۃٍ‘‘یعنی ہرایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہےاورکسی قسم کی رحمت نہیں جواس قبرستان والوںکواس سےحصہ نہیں۔ اس لئے خدانےمیرادل اپنی وحی خفی سےاس طرف مائل کیاکہ ایسےقبرستان کیلئےایسےشرائط لگادئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہوسکیں جواپنےصدق اور کامل راستبازی کی وجہ سےاُن شرائط کےپابندہوں سووہ تین شرطیں ہیں۔‘‘
حضورعلیہ السلام نےبہشتی مقبرہ کی تزئین وتعمیر پرہونےوالےاخراجات کوشرط اوّل قراردیاہے ۔ فرماتے ہیں:
(1) ’’ــپہلی شرط یہ ہےکہ ہرایک شخص جواس قبرستان میں مدفون ہوناچاہتاہےوہ اپنی حیثیت کے لحاظ سےان مصارف کیلئےچندہ داخل کرے اوریہ چندہ محض اُن ہی لوگوں سےطلب کیاگیاہےنہ دوسروں سے۔
(2)دوسری شرط یہ کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگاجویہ وصیت کرے جو اسکی موت کےبعددسواں حصہ اسکےتمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کےاشاعت اسلام اورتبلیغ احکام ِ قرآن میں خرچ ہوگا۔اورہرایک صادق کامل الایمان کواختیارہوگاکہ اپنی وصیت میں اس سےبھی زیادہ لکھ دےلیکن اس سےکم نہیں ہوگا۔
(3)تیسری شرط یہ ہےکہ اس قبرستان میں دفن ہونےوالامتقی ہو،محرمات سےپرہیزکرتااورکوئی شرک اوربدعت کاکام نہ کرتاہوسچااورصاف مسلمان ہو۔‘‘
(الوصیت، صفحہ22تا24)
یہاں اس بات کی وضاحت کر دینی بھی ضروری ہے وہ یہ کہ کوئی شخص وصیت کرکے شرائط وصیت کے مطا بق زندگی گزارے لیکن اسکی تدفین بہشتی مقبرہ میں نہ ہو سکےتوایسا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی قبرستان میں مدفون سمجھاجائےگا ۔
اس بات کی وضاحت خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے۔آپؑفر ماتےہیں:
’’ا گر کوئی صاحب دسویں حصہ جائیداد کی وصیت کریںاور اتفاقاً ان کی موت ایسی ہو کہ مثلاً کسی دریا میں غرق ہوکر ان کا انتقال ہو یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میت کو لانا متعذّر ہو تو انکی وصیت قائم رہےگی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا کہ گویا وہ اسی قبرستان میں دفن ہوئے ہیں۔‘‘
(الوصیت، صفحہ نمبر30)
معززسامعین !نظام وصیت کےقیام کے جو عظیم الشان مقاصد ہیںانہیں سمجھنے کی ضرورت ہےان کی گہرائی میں جا نے کی ضرورت ہے۔ اس میں ہمارے ایمان ،اخلاص اور تقویٰ کا امتحان ہے ۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
’’یادرہےکہ یہ خداتعالیٰ کےکام ہیں وہ جو چاہتاہےکرتاہے۔بلاشبہ اس نےارادہ کیاہےکہ اس انتظام سےمنافق اورمؤمن میں تمیزکرےاورہم خود محسوس کرتےہیں کہ جولوگ اس الٰہی انتظام پر اطلاع پاکربلاتوقف اس فکرمیں پڑتےہیں کہ دسواں حصہ کُل جائیدادکاخداکی راہ میں دیں بلکہ اس سےبھی زیادہ اپنا جوش دکھلاتےہیں وہ اپنی ایمانداری پرمہرلگا دیتے ہیں۔‘‘ (الوصیت، صفحہ 33)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودرضی اللہ عنہ نظام وصیت کی اہمیت اورعظمت کاذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’وصیت کامعاملہ نہایت اہم معاملہ ہے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نےاسےایسی خصوصیت بخشی ہےاوراللہ تعالیٰ کےخاص الہامات کےماتحت اسے قائم کیاہےکہ کوئی مؤمن اسکی اہمیت اورعظمت کا انکار نہیں کرسکتا۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کاقائم کردہ سارانظام ہی آسمانی اورخدائی اورالہامی نظام ہے مگر وصیت کانظام ایسانظام ہےجوخداتعالیٰ کےخاص الہام کےماتحت قائم کیاگیا…اوروصیت کامسئلہ دین کو دنیا پرمقدم کرنےکاایک عملی ثبوت ہے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنےکاعہدایک اقرارتھا…توبہت سے لوگ حیران تھےکہ انہوں نےدین کودنیاپرمقدم کرنےکا جواقرارکیاہےوہ پوراہواہےیانہیں تب خداتعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اوراس نےحضرت مسیح موعودعلیہ السلام کےذریعہ بتایاکہ جولوگ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ انکااقرارپوراہوایانہیں ان کیلئےیہ وصیت کا طریق ہے اس پرعمل کرنےسےوہ اپنے اقرار کو پورا کر سکتے ہیں کیونکہ وصیت میں شرط ہےکہ ’’خداتعالیٰ کا ارادہ ہےکہ ایسےکامل الایمان ایک ہی جگہ دفن ہوں تا آئندہ نسلیں ایک ہی جگہ ان کودیکھ کراپناایمان تازہ کریں۔‘‘ پس یہ کس طرح ہوسکتاہےکہ کوئی شخص حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کےبیان فرمودہ طریق پر وصیت کرےاوراس پرقائم رہےمگرکامل الایمان نہ ہوتووہ لوگ جن کےدل میں عدم اطمینان تھااوروہ اس وجہ سےبےچین تھےکہ خبرنہیں ان کا اقرار پورا ہوا ہے یا نہیں ان کیلئےحضرت مسیح موعودعلیہ السلام نےخدا کےالہام کےماتحت یہ رکھ دیاکہ وہ وصیت کریں ۔‘‘
پھرحضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتےہیں:
’’وصیت کرنااوراس پرقائم رہ کرمقبرہ بہشتی میں دفن ہونادین کودنیاپرمقدم کرنےکے اقرار کو پورا کرناہے۔اس وصیت کےمتعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےحدبندی کردی ہے۔اوروہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ 1/3حصہ کی وصیت کی جائےاورکم سےکم 1/10حصہ کی۔یہ تومرنےکےبعدکےمتعلق ہےاور زندگی میں یہ ہےکہ خداکی راہ میں انسان اس حدتک خر چ کرسکتاہےکہ وہ رشتہ دارجواسکےذریعہ پل رہے ہوں انہیں دوسروں کےآگےہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اس شرط کےماتحت خواہ وہ اپنانصف مال دےدے یاتین چوتھائی دےدےمگراتنادےکہ جن لوگوں کی پرورش اس کے ذمہ ہے وہ دوسروں کے محتاج نہ ہو جائیں ۔‘‘ (خطبہ جمعہ 4؍مئی 1928ء)
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نےنظام وصیت کو عالم انسانیت کےمسائل کاحل اوردنیاسےغربت اور دکھ وتکالیف کودورکرنےکا واحد ذریعہ قراردیا ہے جو اس کی عظیم الشان برکات میں سے ایک ہے۔آپ فرماتےہیںکہ
’’جب وصیت کانظام مکمل ہوگاتوصرف تبلیغ ہی اس سےنہ ہوگی بلکہ اسلام کےمنشاء کےماتحت ہرفردِ بشرکی ضرورت کواس سےپوراکیاجائےگااوردکھ اورتنگی کودنیاسےمٹادیاجائےگاانشاءاللہ۔یتیم بھیک نہ مانگے گابیوہ لوگوں کےآگےہاتھ نہ پھیلائےگی بےسامان پریشان نہ پھرےگاکیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی جوانوں کی باپ ہوگی عورتوں کاسہاگ ہوگی اور جبر کےبغیرمحبت اوردلی خوشی کےساتھ بھائی بھائی کی اس ذریعہ سےمددکرےگا۔اوراُس کادینابےبدلہ نہ ہوگا بلکہ ہردینےوالاخداتعالیٰ سےبہتربدلہ پائےگا۔نہ امیر گھاٹےمیں رہےگانہ غریب۔نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اُس کااحسان سب دنیاپروسیع ہوگا۔‘‘
(نظام نو،صفحہ 130)
ہمارےپیارےامام حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنظام وصیت کی اہمیت وبرکات اوراس میں شمولیت کےتعلق سے احباب جماعت کوباربار توجہ دلاتےچلےآرہےہیں خاکسار آپ کےخطابات میں سےچنداقتباسات پیش کررہا ہے۔ حضور انورفرماتےہیں :
’’ یہ وہ نظام ہے جواس زمانہ میں خداتعالیٰ کاقرب پانےکی یقین دہانی کرانےوالانظام ہے۔ یہ وہ نظام ہےجودین کی خاطر قربانیاں دینےوالی جماعت کانظام ہےاوریہ وہ جماعت ہےجودنیامیں دکھی انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔پس ہراحمدی ان باتوں کےسننےکےبعدغورکرےاوردیکھےکہ کس فکر سےاورکوشش سےاس نظام میں شامل ہونا چاہئے۔ بعض لوگ کہتےہیں کہ ہماری نیکی کےمعیاروہاں تک نہیں پہنچے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےاس معیار کی شرائط کوپوراکرسکےوہ سن لیں کہ یہ نظام ایک ایسا انقلابی نظام ہےکہ اگرنیک نیتی سےاس میں شامل ہوا جائےاورشامل ہونےکےبعدجیساکہ آپ نےفرمایا اپنے اندربہتری کی کوشش بھی کی جائےتواس نظام کی برکت سےروحانی تبدیلی جوکئی سالوں کی مسافت ہے وہ دنوں میں اوردنوں کی گھنٹوں میں طےہو جائے گی۔ پس اپنی اصلاح کی خاطربھی اس نظام میں احمدیوں کوشامل ہوناچاہئےاورحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی اس نظام میں شامل ہونےوالوں کیلئےجودعائیں ہیں اُن سےحصہ لیناچاہئے۔‘‘
(خطاب جلسہ سالانہ یو.کے2004ء)
پھرپیارےحضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 21؍جولائی 2005ءکودنیاکےاحمدیوں کےنام خصوصی پیغام میںوصیت کےمقدس نظام میں شمولیت کی تلقین کرتےہوئےفرمایاہے:
’’میرا تمام دنیا کے احمدیوں کیلئے یہ پیغام ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان ارشادات کی روشنی میںآپ کی خواہشات کےتابع آگےبڑھیں اور مالی قربانی کےاس نظام میں شامل ہوجائیں۔اپنی اصلاح کی خاطراوراپنےانجام بالخیرکی خاطراللہ تعالیٰ کی رضاکیلئےقدم آگےبڑھائیں اوراسکی جنتوں کے وارث بنیں۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو اُن برگزیدہ لوگوں کی قبریں بھی دکھائی گئیںجواس نظام میں شامل ہوکربہشتی ہوچکےہیں۔خدانےآپ کوفرمایا کہ یہ بہشتی مقبرہ ہے…پس جیساکہ میں نے کہاہے اس نظام میں پوری مستعدی کےساتھ شامل ہوں۔ جو خودشامل ہیں وہ اپنےبیوی بچوں کواور دوسرے عزیزوں کوبھی اس میں شامل کرنےکی کوشش کریں اور خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کریں ۔‘‘
( الفضل انٹرنیشنل 29جولائی 2005ء)
معززسامعین !وہ احمدی احباب جو اپنےآپ کو وصیت کےاس مقدس نظام میں شامل ہونے سے محروم رکھےہوئےہیں اُن کیلئےغوروفکرکامقام ہے۔حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
’’بعض لوگ کہہ دیتےہیں ہمارےعمل ایسے ہیں کہ ہمیں وصیت کرتے ہوئےڈر لگتاہے۔ اگر ایسے عمل ہیں تب بھی وصیت کرنی چاہئے۔ہوسکتاہےکہ اسکی بدولت اللہ تعالیٰ ان میں نیکی کی روح پھونک دےبلکہ وصیت کرنےکےبعدبہت سے لوگ ایسے ہیں مجھےلکھتےہیں کہ خودبخودتوجہ پیداہوتی چلی جارہی ہےجواللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرنےکی وجہ بھی بن رہی ہے،دعاؤں کی طرف توجہ ہورہی ہے۔نمازوں کا حق اداکرنےکی طرف توجہ پیداہورہی ہے۔ قربانیوں کےمعیاربلندہورہےہیں۔‘‘ (خطاب سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ یوکے4؍اکتوبر2009)
پھرایک موقع پرحضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا:
’’جولوگ یہ کہتےہیں کہ ہم وصیت کی شرائط پوری نہیں کرسکتے۔اس لئےہم وصیت نہیں کرتے تو ایسےلوگ بہانہ کرتےہیں ۔ ایسےلوگوں سے پوچھنا چاہئےکہ کیاوہ شرائط بیعت کی تمام شرطیں پوری کرتے ہیں اوراگرنہیں توکیاپھروہ احمدیت چھوڑدیں گے؟ اصل چیزیہ ہےکہ کوشش ہوتی ہےاورایک عزم اور ارادہ ہوتاہےکہ شرائط کی بجاآوری ہواورحتی المقدور اُن پرعمل کرنےکی سعی ہو۔اللہ تعالیٰ سےاس کی توفیق مانگتے رہناچاہئے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل 10؍جنوری2014ء)
نظام وصیت میں شامل ہونےکی برکات کے بے شمار واقعات ہیں وقت کی رعایت سے خاکسار صرف ایک ایمان افروز واقعہ بیان کرنا چاہتا ہے۔ جماعت کوسوکےایک دوست کاواقعہ ہے۔موصوف کے بارے حضرت اقدس امیر المومنین خلیفۃ المسیح خامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں:
’’ایک ہسپتال میں کام کرتےتھےاورکسی اچھی نوکری کی تلاش میں تھے ۔کافی عرصہ تلاش کرنے کے باوجودکسی اچھی جگہ نوکری نہ مل رہی تھی۔انہوں نے وصیت کرنےکاارادہ کیااوروصیت فارم پُربھی نہ کیا بلکہ صرف چندہ وصیت ہی دیناشروع کیاتھاکہ فوراًان کو شہرمیں اُن کی خواہش کےمطابق سروس مل گئی۔ انہوں نےکئی باراس کا ذکرکیاکہ یہ صرف وصیت کی برکت اورخلیفہ وقت کی دعاؤں کانتیجہ ہے۔ایک خاص بات جس کاانہوں نےذکرکیاوہ یہ ہےکہ وصیت کرنے سےقبل تنخواہ لینےجب بینک جاتاتھاتواکثر اکاؤنٹ خالی ہوتاتھالیکن اب جب سےوصیت کی ہے کبھی بھی ان کااکاؤنٹ خالی نہیں ہوتا۔ پس یہ قربانیاں ہیں جوجماعت دے رہی ہےاوراس حقیقت کوسمجھ رہی ہےکہ اپنےاندرپاک تبدیلیاں پیداکرنے سےہی اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوتاہے اور دینی اور دنیاوی ترقیات بھی ملتی ہیں۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل 15؍اگست2014ء)
آخرمیں خاکسارایک گزارش کرکےاپنی تقریر کو ختم کرناچاہتاہے۔حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےجلسہ سالانہ یوکے 2004ء میں فرمایاتھا:
’’میری خواہش ہےکہ 2008ءمیں جو خلافت کوقائم ہوئےانشاءاللہ تعالیٰ سوسال ہوجائیں گے تو دنیاکےہرملک میں ہرجماعت میں جوکمانے والے افراد ہیں ،جوچندہ دہندہ ہیں ان میں کم ازکم پچاس فیصدتوایسےہوںجوحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس عظیم الشان نظام میں شامل ہوچکےہوں۔‘‘
سیدناحضورانورایدہ اللہ تعالیٰ کی اس خواہش پر عالمگیرجماعت احمدیہ نےلبیک کہا۔اوربہت سے ممالک اور جماعتوں نےیہ ٹارگیٹ حاصل کرلیا اور بعض اس سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔اب خلافتِ احمدیہ کی دوسری صدی کاسو لہواں سال گزر رہا ہے۔ ہمیں انفرادی اور جماعتی طورپر اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نےکم ازکم پچاس فیصدکا ٹارگیٹ پورا کرلیاہے ؟ اگر نہیں تو پھرجیسا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
’’ جو سستیاں، کوتاہیاں ہو چکی ہیں ان پر استغفار کر تے ہوئےاورحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آوازپر لبیک کہتے ہوئےجلداز جلد اس نظام وصیت میں شامل ہوجائیںاوراپنے آپ کوبھی بچائیں اوراپنی نسلوں کوبھی بچائیں اور اللہ تعا لیٰ کے فضلوں سےبھی حصہ پائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘آمین۔
(اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو کے2004ء)
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
…٭…٭…٭…