اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ-
اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ
( سورۃ المؤمن آیت 52)
اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا
میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا
رَبِّ انْفُخْ رُوْحَ بَـرَکَۃٍ فِی کَلَامِی ھٰذَا وَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْ اِلَیْہ
قابل احترم صدر اجلاس اور معزز سامعین کرام! جیسا کہ آپ نے سماعت فرما لیا ہےخاکسار کی تقریر کا عنوان ہے ’’افضال الٰہیہ کا نزول اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقیات‘‘
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نےاپنے رسولوں اور مومنوںکے جو نشانات بیان فرمائے ہیں ان میں ایک روشن اورچمکدار نشان تائیدات اور افضال الٰہیہ کا نشان ہے جوہر جگہ، ہر مقام، ہر قریہ نظر آتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ (مومن:52) کہ ہم اپنے رسولوں کی اوران پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں بھی ضرور مدد کریں گےاور اس دن بھی جب کہ گواہ کھڑے ہوں گے۔ نیز فرمایا: وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ ۱۷۲ۚۖ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ ۱۷۳۠ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ۱۷۴ (الصٰفٰت:172تا174) اورہمارا فیصلہ ہمارے بندوں یعنی رسولوں کیلئے پہلے گذر چکا ہے (جو یہ ہے) کہ ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر(یعنی مومنوں کا گروہ) ہی غالب رہے گا۔ پھر فرمایا: کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ (المجادلہ:22) اللہ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔ اللہ یقیناً طاقتور (اور) غالب ہے۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتےہیں :
’’مجھے اُس خدائے کریم و عزیز کی قسم ہے جو جھوٹ کا دشمن اور مفتری کا نیست و نابود کرنے والا ہے کہ میں اُسکی طرف سے ہوں اور اُسکے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اُسکے حکم سے کھڑا ہواہوں اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالے گا جب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کر لے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے۔‘‘
(اربعین حصہ دوم، روحانی خزائن، جلد 17، صفحہ348 )
ایمان ، یقین ، تحدی اور جلال سے بھرے ہوئے یہ مبارک الفاظ اُس مقدس ہستی کے ہیں جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس زمانہ میں بنی نوع انسان کی ہدایت و راہنمائی کیلئے مبعوث فرمایا۔
1882ء کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس الہام سے نوازا قُلْ اِنّی اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤمِنِیْنَ یہ آپ کی ماموریت اور مجددیت کا پہلا الہام تھا ۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ بھی واضح فرمایا کہ امت محمدیہ میں جس امام مہدی اور مسیح موعود کے آنے کا وعدہ دیا گیا تھا وہ وعدہ آپ کے وجود میں پورا ہوچکا ہے اور آپ ہی کو رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں امام مہدی اور مثیلِ مسیح کا منصب عطا فرمایا گیا ۔
23 مارچ 1889ء کا دن اسلام کی تاریخ میں وہ سنہرا اور مبارک دن ہے جس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے40مخلصین سے بیعت لی اور اس طرح اُس پاک جماعت کا قیام عمل میں آیا جسکا قیام ا س آخری زمانہ میں حسب وعدہ مقدر تھا ۔
جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اذنِ الٰہی سےمامور ہوئے اس زمانہ میں ابتداً آپ بالکل اکیلے تھے۔ کوئی دنیاوی مددگار اور ہمنوا نہ تھا ۔آپ ایک شعر میں ان حالات کی عکاسی یوںفرماتے ہیں :
میں تھا غریب و بے کس و گمنام بے ہنر
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر
یہ ایسا زمانہ تھا کہ قادیان کا نام بھی لوگوں کو معلوم نہیں تھا۔ لیکن اس زمانہ میں بھی زمین و آسمان کا خالق، قادر و توانا خدا، جس نے آپ کو بھیجا تھا، وہ آپ کے ساتھ تھا۔جو آپ کو وعدے دے رہا تھا کہ
’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘
’’ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ
بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیںگے‘‘
’’ یَاتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْق
وَ یَاتُوْنَ مِنّ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْق‘‘
یعنی تیری طرف اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ راستوں میں گھڑے پڑ جائیں گے
’’ینصر ک رجال نوحی الیھم من السماء ‘‘
تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے
ان وعدوں کے مطابق ابتدا سے ہی اللہ تعالیٰ نے بارش کی طرح اپنےافضال حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کی جماعت پر نازل کئے اور کرتا چلا جا رہا ہے ۔
آپؑکو اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کی تکمیل اور جماعت پر افضال الٰہیہ کے نزول پر ایسا پکا یقین تھا کہ آپ فرماتے ہیں :
’’ میرے پر ایسی رات کوئی کم گزرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلّی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں۔‘‘
( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن، جلد 17،صفحہ 49 )
پھر آپ نے بڑے جلال اور تحدی سے،الٰہی وعدوں اور خدائی نصرتوں پر کامل یقین رکھتے ہوئے علی الاعلان فرمایا :
’’دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اِس سِلسلہ کی دُنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سِلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مرادیہی سلسلہ ہو گا ۔ یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں یہ اُس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘
( تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن ،جلد 17،صفحہ 182 )
نیز فرماتے ہیں :
’’ اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا ۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فو ق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اسکے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا ۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی …میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اسکو روک سکے۔‘‘
( تذکرۃ الشہادتین ،روحانی خزائن، جلد 20، صفحہ 66)
سامعین کرام!اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور حضرت اقدس مسیح موعود الصلوٰۃوالسلام کی ان پیشگوئیوں کے عین مطابق جماعت احمدیہ پر افضال الٰہیہ کا نزول نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں جاری رہا بلکہ آپ کے بعد خلفاء عظام کے دوروں میں بھی جاری رہا اور اب ہم اپنی آنکھوں سے خلافت خامسہ کے بابرکت دور میں گزشتہ 20 سالوں سے ان افضال کا نزول اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک جو یہاں اس جلسہ میں شامل ہے اس بات کا گواہ ہے کہ خلافت خامسہ کے بابرکت دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح پاک سے کئے ہوئے ایک ایک وعدے کو پورا کیا ہے اور پورا کرتا چلا جا رہا ہے ۔
جماعت احمدیہ پر افضال الٰہیہ کا نزول اور جماعتی ترقی ایک ناپیدا کنار سمندر ہے جس کی گہرائیاں اور وسعتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اُن کی انتہاء کو پانا ایک عاجز انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔جس زاویے سے بھی جماعت پر افضال الٰہیہ کے نزول اور جماعتی ترقیات کا جائزہ لیا جائے ایسے عظیم الشان نظارے نظر آتے ہیں کہ انسان ورطہ حیرت میں پڑ جاتا ہے۔ یہ نظارے ایک یا دودن، ایک سال یا دو سال کے نہیں بلکہ گزشتہ 144سالوں پر محیط موجیں مارتے ہوئے ایسے بحر زخار کی طرح ہیں جسے دیکھ کر آنکھیںخیرہ ہو جاتی ہیں ۔
روحانی انقلاب
سامعین کرام !حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جس روحانی انقلاب کیلئے مبعوث ہوئے تھے اُس انقلاب کو ظہور میںلانے کیلئے اللہ تعالیٰ کی ایسی تائید و نصرت اور افضال الٰہیہ کا نزول جماعت کے شامل حال رہا کہ اس کے نتیجہ میںپیدا ہونے والے روحانی انقلاب کی مثال گزشتہ چودہ سو سال میں کہیں نظر نہیں آتی۔ قادیان کی گمنام بستی سے وہ شعاع نور پھوٹی جس نے رفتہ رفتہ کل عالم کو نور محمدی سے بھر دینا تھا۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام یُـحْیِ الدِّیْنَ وَ یُقِیْمُ الشَّرِیْعَۃ کے مطابق اسلام کو زندہ کرنے اور حقیقی دین محمدی کو قائم کرنے کیلئے مبعوث ہوئے تھے۔آپ ؑ کی بعثت کے نتیجہ میں احمدیت نے شرک کی بیخ کنی کی اور توحید خالص کو دنیا میں قائم کیا اور دنیا سے فاسد اور بد عقائد اور رسومات کو ختم کیا۔حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنے کے نتیجہ میں احباب جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل نازل ہوا کہ اُنہوں نے اُس زندہ اور حقیقی خدا کو پالیا جس کی پہچان حضرت محمد عربی ﷺ نے کرائی تھی ۔ایسے بھی تھے جو دہریت کی مسموم فضاؤں سے متاثر تھے بلکہ دہریہ ہی ہوگئے تھے لیکن اللہ کے فضل سے واپس خدا کی طرف آئے اورایسے آئے کہ خدا سے ہمکلام ہوئے اور خدا کے زندہ اور تازہ بتازہ نشانات اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کئے ۔اُنہوں نے اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِکے نظارےخود ملاحظہ کئے صاحب کشوف و الہام ہوئےاور وصال الٰہی اور لقاء الٰہی کے شربت شیریں کے جام نوش کئے ۔ وہ ناخدا شناسی سے خدا شناسی میں اتنے بڑھ گئے کہ نہ صرف باخدا وجود بنے بلکہ خدا نما وجود بنے اور دوسروں کی راہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ بن گئے ۔
وہ خد ا اب بھی بناتا ہے جسے چاہےکلیم
اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےاپنے مریدین کے بارہ میں فرمایا:
’’میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندگان میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو اُن کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور اُن کے صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں…میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں۔ اگر آج اُن کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہونے کیلئےمستعد ہیں۔‘‘
(بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 15تا21ستمبر 2006ء)
خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا
سامعین کرام!جماعت احمدیہ پر افضال الٰہیہ کے نزول کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہزارہا مخالفتوں کے باوجود وہ اس کو عظیم الشان ترقیات سے نوازتا چلا جارہا ہے ۔قرآن مجید میں سورۃ الفتح میں الٰہی جماعتوں کے آغاز کی مثال ایک حقیر بیج کی طرح سمجھائی گئی ہے جو ایک کونپل کی طرح پھوٹتا ہے ۔ مگر رفتہ رفتہ ایک تن آور درخت بن جاتا ہے جسے دیکھ کر اسکی آبیاری کرنے والی جماعت مومنین کو تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے لیکن کفار جوش اور غیض و غضب میں بڑ ھ جاتے ہیں ۔
اگر جماعت احمد یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا نہ ہوتا بلکہ کسی انسان کے ہاتھ کا کرشمہ ہوتا تو حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے ساتھ ہی یہ سلسلہ نابود ہو جانا چاہئے تھا ۔ جیسا کہ اخبار وفادار نے آپ کی وفات پر بجا طور سے لکھا تھا کہ’’ مرزا صاحب کے بعد اگر سلسلہ احمد یہ نابود ہو جائے گا تو سمجھو کہ مرزا جھوٹا ہے اور اگر ترقی کرے گا اور اسکے بعد اسکی جماعت یا اسکا کوئی جانشین اسکے عشق میں ترقی دینے میں کامیاب ہوا تو سمجھ لینا کہ مرز اسچا اور وہ الہام باری سے مستفیض ہوا اور اگر اس کی جماعت یا جانشین مٹتے چلے گئے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ایسی مذہبی رخنہ اندازی کبھی پسند نہیں ۔‘‘
(اخباروفادار لاہور14جولائی 1908)
سامعین کرام!یہ شجرہ احمدیت جب اَخْرَجَ شَطْــــَٔہٗ کے مطابق کونپل کی شکل میں تھا تو اُسے کچلنے اور مسلنے کیلئے مخالفوں اور منکروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میں بھی ، خلفاء احمدیت کے زمانہ میں بھی اور اب خلافت خامسہ کے زمانہ میں بھی یہ کوششیں ہوتی رہیں اور اب بھی جاری ہیں لیکن خدا تعالی کے وعدوں کے مطابق یہ کونپل بڑھتی پھولتی اور پھیلتی رہی۔ ایک طرف لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارُ کے مطابق منکرین کا غیظ و غضب اور زیادہ بڑھتار ہا لیکن دوسری طرف خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق احمدیت کےحق میں اپنی تائید و نصرت اور اپنے لازوال افضال و برکات ہر آن ، ہر وقت اور ہر دن دکھاتا رہا اور دکھاتا چلا جا رہا ہے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کس جلال سے فرماتے ہیں:
’’تم دیکھتے ہو کہ باوجود تمہاری سخت مخالفت اور مخالفانہ دعاؤں کے اس نے مجھے نہیں چھوڑا اور ہر میدان میں وہ میرا حامی رہا۔ ہر ایک پتھر جو میرے پر چلایا گیا اُس نے اپنے ہاتھوں پر لیا۔ ہر ایک تیر جو مجھے مارا گیا اس نے وہی تیر دشمنوں کی طرف لوٹا دیا۔ میں بیکس تھا اُس نے مجھے پناہ دی۔ میں اکیلا تھا اس نے مجھے اپنے دامن میں لے لیا۔ میں کچھ بھی چیز نہ تھا مجھے اُس نے عزت کے ساتھ شہرت دی اور لاکھوں انسانوں کو میرا اراد تمند کر دیا… میں تو براہین احمدیہ کے چھپنے کے وقت ایسا گمنام شخص تھا کہ امرتسر میں ایک پادری کے مطبع میں جسکا نام رجب علی تھا میری کتاب براہین احمدیہ چھپتی تھی اور میں اُسکے پر وف دیکھنے کیلئے اور کتاب کے چھپوانے کیلئے اکیلا امر تسر جاتا اور اکیلا واپس آتا تھا اور کوئی مجھے آتے جاتے نہ پوچھتا کہ تو کون ہے اور نہ مجھ سے کسی کو تعارف تھا اور نہ میں کوئی حیثیت قابل تعظیم رکھتا تھا… وہ پادری خود حیرانی سے پیشگوئیوں کو پڑھ کر باتیں کرتا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایسے معمولی انسان کی طرف ایک دنیا کا رجوع ہو جائے گا۔ پر چونکہ وہ باتیں خدا کی طرف سے تھیں میری نہیں تھیں اس لئے وہ اپنےوقت میں پوری ہو گئیں اور پوری ہو رہی ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 79)
خلافت احمدیہ کے ادوار میں
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت اولی میں شخصی خلافت کے سوال کو اٹھا کر جماعت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خلافت ثانیہ میں یکے بعد دیگرے مختلف فتنوں نے سر اٹھایا۔ احراریوں کا فتنہ اُٹھا ملک گیر مخالفانہ تحریکات اٹھیں۔خلافت ثالثہ کے دور میں جماعت احمدیہ کے خلاف ظالمانہ قانون سازی کرنے پر مخالفین نے شادیانے بجائےاور جماعت کے ہاتھ میںکشکول پکڑا نے کی باتیں ہوئیں۔خلافت رابعہ میں ایک اور ظالم اور جابر حکمران نے سیاہ قانون کو سختی سے نافذ کر کے جماعت پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی اور احمدیت کو(نعوذ باللہ )ایک کینسرقرار دے کر اسے جڑ سے اکھیڑ پھینکےکی بھڑ ماری۔اب خلافت خامسہ میں بھی طرح طرح کے حیلے بہانوں سے افراد جماعت کو تکلیف پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ یہاں تک کہ کم و بیش ایک سو کی تعداد میں افراد جماعت کو شہید کیا گیا ۔
لیکن سامعین کرام ! کیا آپ گواہ نہیں ہیں کہ ہر وقت دشمن کو ذلت اُٹھانی پڑی۔ ہر لمحہ اُسکو منہ کی کھانی پڑی اور اُسکے عزائم و منصوبوں کو اللہ تعالیٰ نے خاک میں ملا کر اُسکوہر بار ناکام اور نامراد کردیا ؟ دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جماعت کو اپنے وعدوں کے موافق ترقیات پر ترقیات عطا کرتا چلا جارہا ہے اور دنیا کے 213ممالک میں جماعت کا نفوذ ہوچکا ہے۔
تمہیں مٹانے کا زعم لے کر اُٹھے ہیں جو خاک کے بگولے
خدا اُڑا دے گا خاک اُن کی ، کرے گا رُسوائے عام کہنا
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں : ’’کوئی درخت اتنی جلدی پھل نہیں لاتا جس قدر جلدی ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اور عجیب۔ یہ خدا کا نشان اور اعجاز ہے۔‘‘ (ملفوظات، جلد 4، صفحہ 176، ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
اشاعت اسلام کی پانچ شاخیں
سامعین حضرات اسلام کی نشاۃ ثانیہ الٰہی پیش خبریوں کے مطابق چودہویں صدی کے مجدد مسیح و مہدی موعود کے زمانہ میں مقدر تھی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے1891ء میں اسلام کی موعودہ ترقی اور نشاۃ ثانیہ کا احاطہ کرنے کیلئے پانچ شاخوں کی بنیادر رکھنے کا اعلان فرمایا ۔یہ پانچ شاخیں (I) تالیف و تصنیف (II) اشتہارات (III) مہمانان کرام کی آمد (IV) مکتوبات (V) اور مریدین و مبائعین کا سلسلہ ہیں۔حضرت بانی جماعت احمدیہ مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں شجر اسلام کی یہ شاخیں تر و تازہ رہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت اور لازوال افضال و برکات کے نتیجہ میں پھلتی پھولتی رہیں اور عظیم الشان پھل دیتی رہیں ۔
آپؑکی وفات کے بعد جماعت میں الٰہی وعدوں کے مطابق خلافت احمدیہ قائم ہوئی جس کے ہر مبارک دَور میں اشاعت اسلام کا سلسلہ بدستور بڑھتا چلا جارہا ہے اور یہ شاخیں مسلسل پھیلتی اور پھولتی جارہی ہیں۔ خلافت خامسہ کےانقلاب انگیز دَورمیں اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْرکے وعدے کو ہم اپنی آنکھوں سے پوری شان کے ساتھ پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں ۔وقت کی رعایت سے ان شاخوں کا مختصر ذکر کرتا ہوں ۔
(1)اشاعت دین کی پہلی شاخ تالیف وتصنیف
اشاعت دین کی ان پانچ شاخوں میں سے پہلی شاخ ’’تالیف و تصنیف‘‘ ہے۔اس شاخ کے تحت اشاعت اسلام کے کاموں کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ سے ہی اللہ تعالیٰ کے بے شمار افضال کا نزول ہو رہا ہے ۔تالیف و تصنیف کے کام کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میںمخالفین کو ستّر الماریوں پر اعتراض تھا ۔ اب توجو لٹریچر دنیا بھر میں شائع ہو رہا ہےوہ ستّر کیا، سات سوکیا سات ہزارکیا بلکہ بغیر مبالغہ سات لاکھ الماریوں میں بھی شاید نہ سما سکے ۔وہ کتب جن کی اشاعت کا آغاز چند ہزار سے ہوا تھاخلافت خامسہ کے بابرکت دور میں آج خدا کے فضل سے ان کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔ کئی ممالک میں جماعت کے اپنے پریس قائم ہوچکے ہیں جہاں سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں اشاعت اسلام کیلئے کتب کی اشاعت ہوتی ہے ۔
خلافت خامسہ میں سالانہ تقریباً نولاکھ سے دس لاکھ کتب کی اشاعت ہوتی ہے۔ لیفلٹس اور اشتہارات کی لاکھوں کی تعداد اسکے علاوہ ہے ۔ انیس سےزائد نئی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم و مختصر تفسیری نوٹس کی اشاعت خلافت خامسہ میں ہو ئی ہے۔ جبکہ اب تک جماعت کے ذریعہ شائع شدہ تراجم قرآن کی کل تعداد چھہتر ہو چکی ہے۔اور جماعتی لٹریچر کے تراجم کی تعداد تو لاکھوں کروڑوں میں پہنچ چکی ہے ۔
(2)اشاعت دین کی دوسری شاخ (اشتہارات)
اشاعت اسلام کی دوسری شاخ اشتہارات جاری کرنے کا سلسلہ ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کے ابتدائی تین سالوں میں اس وقت اپنی توفیق کے مطابق جماعت نے بیس ہزار اشتہار شائع کئے تھے اور بہت خوشی محسوس کرتی تھی، آج ان کی تعداد لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔
حضور انور نے صد سالہ خلافت جوبلی کے موقع پر جماعتی تعارف پر مشتمل اشتہارات ہر ملک کی آبادی کے کم از کم دس فیصد حصہ تک پہنچانے کیلئے ارشاد فرمایا تھا۔ اس پر عمل کے نتیجہ میں دنیا کی مختلف زبانوں میں کروڑوں کی تعداد میں اشتہارات کے ذریعہ کروڑہا افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچ چکا ہے۔
دنیائے صحافت کا ایک شعبہ اخبارات اور رسائل ہیں چنانچہ جماعت میں سینکڑوں اخبارات اور رسائل شائع ہورہے ہیں۔ دیگر اخبارات میں بھی جماعتی مضامین کی ہزاروں کی تعداد میںاشاعت ہوتی رہتی ہے جن کے ذریعہ کروڑوں لوگوں تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچ رہا ہے ۔
اکیسویں صدی میں خلافت خامسہ کے عہد سعادت میں صحافت نے ماس میڈیا کی صورت اختیار کر لی ہے جسکے ذرائع مثلاً ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے ذریعہ بھی تبلیغ اسلام کا کام جاری ہے۔ایم ٹی اے کے 8چینلز اور 27 ریڈیو اسٹیشنز رات دن دنیا کی مختلف زبانوں میں اسلام احمدیت کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچا رہے ہیں ۔
(3)اشاعت دین کی تیسری شاخ
(آمد مہمانان اور ملاقاتیں)
اشاعت اسلام کی تیسری شاخ مہمانان کرام کی آمد سے متعلق ہے ۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیںکہ ’’ سات برسوں میں ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ مہمان آئے ہوں گے۔‘‘
(فتح اسلام،روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 14)
ہر خلیفہ وقت کی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی شبانہ روز مصروفیات کا ایک پہلو افراد جماعت اور دیگر اغراض سے آنے والے غیر از جماعت اور بااثر افراد سے ملاقات کا ہے جس میں ہرسال جلسہ سالانہ برطانیہ اور دیگر ممالک کے جلسہ ہائے سالانہ پر آنےوالے روحانی پرندوں کے علاوہ دوران سال آنےوالے مخلصین بھی شامل ہیں۔ قادیان میں 1891ء میںجس جلسہ سالانہ کی بنیاد حضرت مسیح موعودؑ نے رکھی وہ جلسہ اب اسّی سے زائد ممالک میں منعقد ہو رہا ہے جہاں لنگر مسیح موعودؑ بھی جاری ہوتا ہے ۔ ان جلسہ ہائے سالانہ میں شامل ہونے والے مہمانوں کی تعداد لاکھوں میںہوتی ہے ۔
حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ کو قادیان کے کسمپرسی کےزمانہ میں 1882ء میں الہام ہوا کہ وَسِّعْ مَکانِکَ یعنی اپنے مکان وسیع کر۔ اس میں آئندہ جوق در جوق مہمانوں کی آمد کی طرف اشارہ تھا۔ حضور علیہ السلام اس وقت کی مالی توفیق کے مطابق صرف تین چھپر ہی بنواسکےلیکن ا سکے بعددنیا بھر میں مہمانان مسیح موعودعلیہ السلام کیلئے توسیع مکانات کا خوبصورت نظارہ ہمیشہ جاری رہا ہے۔ خلافتِ خامسہ میں یہ توسیع خاص طور پر برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، پاکستان اور بھارت میں جاری رہی لیکن خاص طور پر مرکز اوّلین قادیان میں جو توسیع اور تزئین خلافت خامسہ میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ظاہر ہوئی اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔
(4)اشاعت دین کی چوتھی شاخ (مکتوبات)
اشاعت اسلام کی چوتھی شاخ مکتوبات ہے حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں’’ اب تک عرصہ مذکورہ بالا میں نوے ہزار سے بھی کچھ زیادہ خط آئے ہوں گے جن کا جواب لکھا گیا۔‘‘
(فتح اسلام،روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 23)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعدتمام خلفائے احمدیت کے ادوار میں بھی خطوط کے ذریعہ رابطہ، تعلیم و تربیت اوردعوت الی اللہ کاسلسلہ بدستور ترقی پذیررہا۔ خلافت خامسہ کے بابرکت عہد میں جماعت میں وسعت اور ذرائع رسل و رسائل میں تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس شعبہ میں ایک غیر معمولی تغیر آیا۔ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں مختلف خطوط پر مشتمل ڈاک کی تعداد سالانہ دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ مختلف ممالک اور اداروں کی طرف سے آنے والی رپورٹس اس کے علاوہ ہیں۔
A day in the life of
Hazrat Khalifatul Masih a.b.z
(youtube/mtaonline)
یقیناً یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک غیبی ہاتھ مسلسل خلافت کی تائید میں ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعدقیامِ امن عالم کی خاطر دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں اور سربراہوں کو بذریعہ خطوط مخاطب کرنے کا موقع پیداہو گیاجو خلافت خامسہ کے کارہائے نمایاں کا ایک درخشاں اور تاریخی پہلو ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر کے حکمرانوں کو درپیش عالمی خطرات کے تناظر میں قیام امن کی خاطر سنجیدہ تعاون اور جدو جہدکیلئے خطوط لکھنے کا اہتمام فرمایا۔
(5)اشاعت دین کی پانچویں شاخ
(مریدین اور مبائعین)
اشاعت اسلام کی پانچویں شاخ مریدوں اور بیعت کرنے والوں کا سلسلہ ہے۔
40 نفوس پر مشتمل قافلہ حضرت مسیح موعود کی حیات مبارکہ میں ہی 4لاکھ تک پہنچ گیاتھا۔ 27 دسمبر 1907 ء بروز جمعہ جلسہ سالانہ پر حضرت اقدس نےاپنی تقریر میں فرمایا:’’ یہ بھی اللہ جل شانہ کا بڑا معجزہ ہے کہ باوجود اس قدر تکذیب اور تکفیر کے اور ہمارے مخالفوں کی دن رات کی سرتوڑ کوششوں کے یہ جماعت بڑھتی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس وقت ہماری جماعت چار لاکھ سے بھی زیادہ ہوگی اور یہ بڑا معجزہ ہے کہ ہمارے مخالف دن رات کوشش کر رہے ہیں اور جانکاہی سے طرح طرح کے منصوبے سوچ رہے ہیں اور سلسلہ کو بند کرنے کیلئے پورا زور لگا رہے ہیں مگر خدا ہماری جماعت کو بڑھاتا جاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات، جلد نمبر 5، صفحہ 374، جدید ایڈیشن)
آج خلافت خامسہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کا قیام دوسوتیرہ ممالک میں ہو چکا ہے جن میں سے اڑتیس ممالک وہ ہیں جن میں عہد خلافت خامسہ میں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے وہ تعداد جو پہلے 40 تھی پھر سینکڑوں میں تبدیل ہوئی پھر ہزاروں میں ،پھر لاکھوں میں اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کروڑوں میں داخل ہوچکی ہے اور صرف عہد خلافت خامسہ کے20 سالہ بابرکت دور میں ایک کروڑ کے قریب سعید فطرت لوگ احمدیت میں داخل ہوچکے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف سال2022-23میں بیعتوں کی تعداد دو لاکھ 17ہزار168رہی۔1016 مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا۔ دنیا بھر میں330 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔نئی مساجد اور جماعت کو عطا ہونے والی مساجد کی تعداد185رہی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دورانِ سال 124مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا ہے۔( بحوالہ خطاب حضور انور بر موقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ 2023ء)
میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے 1898 ءمیںالہاماً مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘یہ اکیلا الہام ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ دنیا کا کونسا کونا اور کنارہ ہے جہاں احمدیت کا نور نہ پہنچا ہو اور اس الہام کی تکمیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی بشارت و اشرقت الارض بنور ربہا پوری نہ ہوئی ہو۔
ایک غیر از جماعت مولوی بیان کرتے ہیں : ’’ہم ملائیشیا میں گئے وہاں قادیانی ، انڈو نیشیا میں گئے وہاں قادیانی اور دنیا کا آخری کو نا جنوب میں وہاں کیپ ٹاؤن ساؤتھ افریقہ کا آخری شہر وہاں قادیانی ہمارے والد صاحب گئے ہیں اور یہ ہمارے بھائی جاوید گئے ہیں شمالی آخری کونا ناروے وہاں پر قادیانی دنیا کا مشرق میں آخری کنارہ یلیا ، جزائر فجی وہاں قادیانی۔ دنیا کا مغربی کنارہ گھانا وہاں پر قادیانی۔‘‘
(بحوالہ کتاب الفضل آن لائن ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچا نے کا سب سے بڑا کردار خود حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاس زمانہ میں ادا فرمارہے ہیں ۔چنانچہ آپ کے خطبات و خطابات ، جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تقاریر،ورچوئل ملاقاتیں، مختلف ممالک میں دورہ جات، پریس کانفرنسز، امن کانفرنسز، دنیا کے ایوانوں میں خطابات، اس سلسلہ میں کلیدی رول نبھا رہے ہیں ۔ اور دنیا میں قائم 11جامعات سے فارغ التحصیل مبلغین کرام اور واقفین نو ، واقفین زندگی اس کام میں آپ کے معاون و مدد گار ہونے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔
خدمت خلق
خدمت خلق کے میدان میں بھی جماعت کو جو پذیرائی اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہورہی ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔نصرت جہاں سکیم کے تحت 12 ممالک میں 37 ہسپتالوں اور کلینکس میں 50 سے زائد ڈاکٹر ز خدمت خلق کا مقدس فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ خلافت خامسہ میں 300 سے زائد نئے سکولز کا قیام عمل میں آیا اور اب اس سکیم کے تحت 680 سے زائد سکولز غریب ممالک میں علم کی روشنی پھیلارہے ہیں۔ہیومینٹی فرسٹ ساٹھ 60 ممالک میں رجسٹر ہو کر خدمت انسانیت کے کاموں میں عالمی سطح پر غیر معمولی خدمت کی توفیق پاری ہے ۔
ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء
(خوابوں، رؤیا کے ذریعہ قبولیت احمدیت کے نظارے)
معزز سامعین!افضال الٰہیہ کے نزول اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقیات کا ایک پہلوجہاں میدان تبلیغ میں تائیدات الٰہیہ ہے وہاںقبولیت احمدیت کیلئے خوابوں اور رؤیا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی دوسرا پہلو ہے۔ سینکڑوں واقعات جو حضور انور اپنے خطبات اور خطابات میں بیان فرماتے ہیں اُن میں سےصرف ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔حضور انور خطبہ جمعہ مورخہ27مئی 2022ء میں ایک واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ
گنی بساؤ افریقہ کا ایک دُور دراز کا ملک ہے وہاں عبداللہ صاحب پہلے ایک عیسائی دوست تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے خواب دیکھی کہ ایک شخص ہے جس کی سفید داڑھی ہے اور اس نے پگڑی پہنی ہوئی ہے اور لوگوں سے خطاب کر رہا ہے اور مکمل خاموشی کے ساتھ لوگ یہ خطاب سن رہے ہیں۔ کہتے ہیںاس شخص کا خطاب کرنے کا انداز بالکل سادہ اور ہمارے لوگوں سے مختلف تھا۔ جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کو کچھ سمجھ نہیں آئی پھر وہ بھول گئے۔ کچھ دنوں کے بعد پھر ان کو دوبارہ اسی طرح سے ملتی جلتی خواب آئی اور اس سے ان کے ذہن میں وہ چہرہ بیٹھ گیا۔ پھر تیسری مرتبہ ان کو خواب آئی اور وہ کوشش کرتے رہے کہ پتہ چلے کہ یہ کون شخص ہے لیکن پتہ نہیں کر سکا۔ ایک دن اتفاق سے گاؤں کے قریبی شہر فرین (Farin) میں واقع ہماری مسجد میں گئے۔ اس دن جمعہ تھا۔ احباب جماعت ایم ٹی اے پر میرا خطبہ جمعہ سن رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں مجھے دیکھ کر انہوں نے فوراً معلم صاحب سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جو خطبہ دے رہا ہے؟ انہوں نے کہا یہ ہمارے خلیفہ ہیں۔ بہرحال وہ اس پر خاموشی سے بیٹھے خطبہ سنتے رہے اور خطبہ جمعہ کے بعد احباب کے ساتھ نماز ادا کی۔ نماز ختم ہونے کے فوراً بعد کھڑے ہو گئے اور سب احباب کے سامنے کہنے لگے کہ مَیں آج اسلام قبول کرتا ہوں اور بتانے لگے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے تین بار خواب میں یہ شخص دکھایا ہے جس کا میری روح پر بڑا اثر تھا اور مَیں ایک عرصہ سے اس تلاش میں تھا مگر آج اتفاق سے آپ کی مسجد میں آیا ہوں تو آپ کے خلیفہ کو دیکھا ہے۔ وہی چہرہ ہے جو مَیں نے خواب میں دیکھا تھا اور اسی طرح نظارہ تھا جو مَیں نے خواب میں دیکھا تھا کہ لوگ خاموشی سے بیٹھے خطاب سن رہے ہیں اور مَیں اسلام احمدیت میں داخل ہوتا ہوں۔
آسماں پر دعوت حق کیلئے اک جوش ہے
ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کہاں کہاں پہنچی ہوئی ہے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ تائیدات کے نظارے بھی کیسے کیسے دکھا رہا ہے۔ اگر یہ کسی انسان کا کام ہوتا، انسان کی بنائی ہوئی جماعت ہوتی تو جتنی مخالفت جماعت کے قیام سے اور ابتدا سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہوئی ہے اور اب تک ہو رہی ہے اور آپ کے ماننے والوں کے ساتھ بھی ہر دن یہی سلوک دنیا میں مختلف جگہ ہو رہا ہے، اس مخالفت کی وجہ سے یہ سلسلہ اب تک ختم ہو جانا چاہئے تھا اور اسکے جھوٹ کا پول کھل جانا چاہئے تھا۔ لیکن یہ ختم ہونے کا سوال نہیں ہے، یہاں تو اللہ تعالیٰ ترقیات دکھا رہا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک مجلس میں فرمایا کہ’’مخالفوں نے ہر طرح مخالفت کی مگر خدا نے ترقی دی۔ یہ سچائی کی دلیل ہے کہ دنیا ٹوٹ کر زور لگا دے اور حق پھیل جاوے‘‘ فرمایا کہ ’’اب ہمارے مقابل کونسا دقیقہ مخالفت کا چھوڑا گیا مگر آخر ان کو ناکامی ہی ہوئی ہے۔ یہ خدا کا نشان ہے۔‘‘ (ملفوظات، جلد 4، صفحہ 186، ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس جیسا کہ مَیں نے کہا مخالفین زور لگاتے رہے اور لگا رہے ہیں مگر آج بھی مخالفین کا باوجود ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے، بڑے بڑے علماء کی ہمارے خلاف ہر طرح کی تدبیریں کرنے کے بلکہ حکومتوں کی احمدیت کی مخالفت میں پُرزور کارروائیوں کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات ہی پوری ہو رہی ہے کہ مخالفین ناکام ہوئے اور یہ خدا کا نشان ہے۔‘‘
(بحوالہ خطبہ جمعہ مورخہ 16؍ اکتوبر 2015ء)
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم
جن کا مشکل ہے کہ تاروزِ قیامت ہوشمار
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین