اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-21

جماعت احمدیہ کا روشن مستقبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں (مکرم مظفر احمد ناصر صاحب ،ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ قادیان )

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ-
كَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ (سورۃ المجادلہ: 22)
اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا كَلِمَۃً طَيِّبَۃً كَشَجَرَۃٍ طَيِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِي السَّمَاۗءِ۝۲۴ۙ تُؤْتِيْٓ اُكُلَہَا كُلَّ حِيْنٍؚبِـاِذْنِ رَبِّہَا۝۰ۭ وَيَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝۲۶وَمَثَلُ كَلِمَۃٍ خَبِيْثَۃٍ كَشَجَرَۃٍ خَبِيْثَۃِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَہَا مِنْ قَرَارٍ۝۲۷ ( سورۃ ابراہیم:25تا 27)
یعنی کیا تو نے غور نہیں کیا کہ کس طرح اللہ نے مثال بیان کی ہےایک کلمۂ طیبہ کی ایک شجرۂ طیبہ سے۔ اسکی چڑ مضبوطی سے پیوستہ ہے اور اسکی چوٹی آسمان میں ہے ۔وہ ہر گھڑی اپنے ربّ کے حکم سے اپنا پھل دیتا ہے ۔ اور اللہ انسانوں کیلئے مثالیں بیان کرتا ہےتاکہ وہ نصیحت پکڑیں ۔اور ناپاک کلمے کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے جو زمین پر سے اکھاڑ دیا گیا ہو۔ اس کیلئے (کسی ایک مقام پر)قرار مقدر نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنّت چلی آ رہی ہے کہ جب کوئی مامور من اللہ دنیا میں مبعوث کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا دائمی وعدہ اسکے نبی اوررسول کے حق میں پورا ہوتے ہوئے دنیا مشاہد ہ کرتی ہے کہ ’’میں اور میرے رسول غالب آئیںگے۔‘‘
انیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں مذہبِ اسلام کی حالت بہت ہی کسمپرسی کی تھی ۔ مسلمان تو تھے مگر صرف نام کے۔ ان کی ایمانی اور عملی کمزوریوں کو دیکھ کر عیسائیت اور دیگر مذاہب ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور ہورہے تھے ۔ مسلمانوں میں جواب کی ہمت نہ تھی ۔ دردمند انِ اسلام کے دل مضطرب تھے اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر سجدہ ریز۔
اسلام کی اس کسمپرسی کی حالت کو دیکھتے ہوئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا دل بیقرار اور بے چین ہو اٹھتا ہے اور اپنے مولیٰ کے حضور التجا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
پھر بہارِ دیں کی دکھلا اے مِرے پیارے قدیر !
کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن
اسی طرح فرمایا :
دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفیٰ
مجھ کو کر اَے میرے سلطاں ! کامیاب و کامگار
چنانچہ رحمت الٰہی جوش میں آئی اور خدا تعالی نے اپنے وعدہ کے مطابق اسلام کی حفاظت اور احیائے نو کی بناء ڈالی۔ آپؑنے خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محیی کی تلاش میں ہیں اور ایک شخص نے آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہَذَا رَجُلٌ یُحِبُّ رَسُولَ اللہ کہ یہی وہ شخص ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔ پھر آپ کو ایک کشف میں یہ نظارہ بھی دکھایا گیا کہ ایک باغ لگایا جارہا ہے اور آپ کو اسکا مالی مقرر کیا گیا ہے۔ 1882ءکے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس الہام سے نواز ا کہ قُل اِنِّی أُمِرْتُ وَ انَا أَوَّلُ الْمُؤمِنِين۔یہ آپ کی ماموریت اور مجددیت کا پہلا الہام تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالی نے آپ پر یہ بھی واضح فرمایا کہ امت محمدیہ میں جس امام مہدی اور مسیح موعود کے آنے کا وعدہ دیا گیا تھا وہ وعدہ آپ کے وجودمیں پورا ہو چکا ہے اور آپ ہی کو رسول پاک ﷺکی نیابت میں امام مہدی اور مثیلِ مسیح کا منصب عطا فر مایا گیا ہے۔
جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اذنِ الٰہی سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی اس زمانہ میں ابتداءََآپ بالکل اکیلے تھے ۔ کوئی دنیاوی مددگار اور ہمنوا نہ تھا۔ ہاں زمین و آسمان کا خالق ، قادر وتوا نا خدا ، جس نے آپ کوبھیجا تھا، وہ آپؑکے ساتھ تھا۔
پھر اسی علّام الغیوب خدا سے خبر پا کر آپ علیہ السلام نے اعلان فرمایا:
’’خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُوسے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا … خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ، روحانی خزائن، جلد 20، صفحہ 409)
پھر آپ نے بڑے جلال اور تحدّی سے الٰہی وعدوں اور خدائی نصرتوں پر کامل یقین رکھتے ہوئے علی الاعلان فرمایا:
’’دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دُنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا ۔ یہ باتیں انسان کی باتیںنہیں یہ اُس خدا کی وحی ہے جسکے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 182 )
جماعت احمدیہ کا شاندار مستقبل
نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’مجھے اس خدائے کریم و عزیز کی قسم ہے جو جھوٹ کا دشمن اور مفتری کو نیست و نابود کرنے والا ہے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اُس کے حکم سے کھڑا ہوا ہوں اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالے گا جب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کرلے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے۔‘‘
(اربعین حصہ دوم، روحانی خزائن، جلد 17، صفحہ 348 )
طالبو! تم کو مبارک ہو کہ اب نزدیک ہیں 
اُس مِرے محبوب کے چہرہ کے دکھلانے کے دن
دیں کی نصرت کیلئے اک آسماں پر شور ہے
اب گیا وقتِ خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن
معزز سامعین ! کاروان احمدیت جس کا آغاز چالیس افراد سے ہوا ، آج اسکی تعداد کروڑ ہا کروڑ تک جا پہنچی ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بڑھ رہی ہے۔ دنیا کا کوئی معروف ملک نہیں جہاں یہ شجر احمدیت نہ لگ چکا ہو۔ شجرہ طیبہ کی طرح اسکی جڑیں اکنافِ عالم میں خوب مضبوطی سے پیوست ہیں جبکہ اس کی شاخیں شش جہات میں سایہ فگن ہیں ۔ ہر قوم اس چشمہ سے پانی پی رہی ہے اور رنگ و نسل کی تمیز سے بے نیاز، شجرِاحمدیت کی گھنی چھاؤں تلے شانہ بہ شانہ خدمتِ اسلام میں مصروف ہیں۔
تائید ونصرت الٰہی کے نشانوں کا کوئی شمار نہیں۔ حق تویہ ہے کہ ہر نیادن احمدیت کی ترقی کا پیغام لے کر طلوع ہوتا ہے اور عالم احمدیت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا ۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے کس تحدّی اور جلال کے ساتھ فرمایا ہے۔
’’اے تمام لوگوسن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کی رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہے کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اسکے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامرادر کھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی …ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نوامید اور بدظن ہوکر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا…میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں ۔سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بو یا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے ۔ ‘‘
( تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن، جلد 20، صفحہ 66)
خلافت احمدیہ کا عظیم الشان وعدہ
چونکہ انبیاء بھی بشر ہیں اور اپنی طبعی عمر پا کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اس لیے ان کے مشن کی تکمیل کیلئے اللہ تعالی خلافت کا سلسلہ جاری فرماتا ہے۔ آنحضورﷺ فرماتے ہیں کہ مَا كَانَتْ نُبُوةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُها خِلافۃٌ(کنز العمال حدیث نمبر 32246) کہ کوئی بھی نبوت ایسی نہیں گزری جس کے بعد خلافت قائم نہ ہوئی ہو۔ اس جاری سنت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کا سلسلہ شروع ہوا ۔
آپ علیہ السلام جماعت کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔ سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اسکے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔ وہ ہما را خداوعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن، جلد 20، صفحہ 305)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اللہ تعالی کے فضل سے قرآنی بشارات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق خلافت احمدیہ کے عظیم الشان دور کا آغاز ہوا جس کے مظہر خامس سیدنا و اما منا حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آج عالمگیر جماعت احمدیہ کی قیادت فرمارہے ہیں ۔
خلافت علی منہاج النبوۃ کا زمانہ
معزز سامعین!پیشگوئیوں کے مطابق اس بابرکت خلافت کا زمانہ کم از کم ایک ہزار سال پر محیط ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا ہے اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔ اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔ اس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں ۔ اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے … اور دنیا میں کوئی پیشگوئی اس قوت اور تواتر کی نہیں ہوگی جیسا کہ تمام نبیوں نے آخری مسیح کے بارہ میں کی ہے۔‘‘
(لیکچرلاہور ، روحانی خزائن، جلد 20، صفحہ 186)
نیز فرمایا:’’سورۃ العصر میں دنیا کی تاریخ موجود ہے جس پر خدا تعالی نے اپنے الہام سے مجھ کو اطلاع دی ہے۔‘‘
( الحکم ،جلد 6، صفحہ 25، مورخہ 17 جولائی 1902ء)
ترقیات کی تمام پیشگوئیاں
زمانہ خلافت سے وابستہ ہیں
خلافت احمدیہ کے اس عظیم دور میں ان تمام پیشگوئیوں کا پورا ہونا مقدر تھا جو اسلام کی ترقی اور غلبہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ جو دنیا سے شرک کے فنا ہونے اور توحید کے غلبہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ جو دنیا کی امن و سلامتی اور بنی نوع انسان کی خوشحالی سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ تمام پیشگوئیاں اسی خلافت پر آ کر ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ دنیا کا وہ آخری دور ہے جسکے بعد اور کوئی دور نہیں۔ یہ وہ آخری زمانہ ہے جس کے بعد کوئی اور زمانہ نہیں ۔ پس اس خلافت کے ذریعہ آغاز دنیا کی طرح ایک بار پھر آدم کی اولاد ایک ہاتھ میں جمع ہوکر ایک خاندان کی شکل اختیار کرے گی۔اس خلافت کے ذریعہ اسلام غالب آئیگا اور تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔یا بطور نمونہ باقی ہوں گے۔
جماعت احمدیہ کی ترقیات کے
متعلق خلفائے کرام کی بشارتیں
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ اس زمانہ میں بھی جبکہ اسلام بہت ضعیف ہے، خدا تعالیٰ نے اپنے ایک فرستادہ کے ذریعہ سے یہ خوشخبری دوبارہ سنائی ہے کہ اسکی طرف سے اسلام کے واسطے فتح و نصرت کا وقت پھر آ گیا ہے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے اور پھر اسلامیوں میں وہی روحانیت پھونکی جائیگی۔ مبارک ہیں وہ جو تکبر نہ کریں اور خدا کے کام کی عزت کریں تا کہ ان کے واسطے بھی عزت ہو۔‘‘ (حقائق الفرقان، جلد 4، صفحہ 533)
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ قطعی اور یقینی بات ہے کہ سورج ٹل سکتا ہے ستارے اپنی جگہ چھوڑ سکتے ہیں۔ زمین اپنی حرکت سے رک سکتی ہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺاور اسلام کی فتح میں اب کوئی شخص روک نہیں بن سکتا ۔ قرآن کی حکومت دوبارہ قائم کی جائے گی ۔ پھر دنیا اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں یا انسانوں کی پوجا کو چھوڑ کر خدائے واحد کی عبادت کرنے لگے گی اور باوجود اسکے کہ دنیا کی حالت اس قرآنی تعلیم کو قبول کرنے کے خلاف ہے اسلام کی حکومت پھر قائم کر دی جائے گی اس طرح کہ پھر اسکی جڑوں کو ہلانا انسان کیلئے ناممکن ہو جائے گا۔‘‘ (دیباچہ تفسیر القرآن، صفحہ 324)
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’ ایک دن آئے گا کہ لوگ حیران ہوں گے اور وہ دیکھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں کتنی بڑی طاقت تھی کہ بظاہر کمزور نظر آنے والا مال سے محروم وسائل سے محروم ، دنیا کی عزتوں سے محروم ہر طرف سے دھتکارا جانے والا ، ذلیل کیا جانے والا اور وہ سلسلہ جس کو دنیا نے اپنے پاؤں کے نیچے مسلنا چاہا خدا تعالیٰ کے فضل نے اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔‘‘ (الفضل 3 ؍دسمبر 1965ء)
پھر آپ نے دوسری صدی میں اسلام کے غلبہ کے متعلق فرمایا کہـ’’جیسا کہ میں نے کئی بار پہلے بھی بتایا ہے میرے اندازے کے مطابق جماعت احمدیہ کی جو دوسری صدی ہے وہ غلبہ اسلام کی صدی ہے اس میں ساری دنیا میں اسلام غالب آئے گا اور کیا مسلم اور کیا غیر مسلم جماعت احمدیہ کی ان خدمات کے قائل ہو چکے ہوں گے کہ واقعی یہی جماعت احمدیہ اسلام کی خدمت کیلئے قائم کی گئی تھی اور اس نے دنیا کے دل جیت کر محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لا ڈالے ہیں۔‘‘ (افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 26 دسمبر1978 ، از الفضل 22 فروری 1979ء)
ارشادحضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ
ہر جگہ ہر بستی، ہر قریہ میں
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جھنڈا گاڑا جائے گا
حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’وہ جو ہمیں مٹانے کے خواہاں ہیں، یہ ان لوگوں کی خوابیں ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ وہی خواب پوری ہوگی جو میرے آقا حضرت محمدﷺکی خواب تھی، جو آپ کے عاشق کامل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواب تھی ۔ ساری دنیا میں آنحضور ﷺ کا جھنڈا گاڑا جائے گا اور دشمن اسلام کی ساری خوابیںناکام ہو جائیں گی ، پوری نہیں ہوں گی ، اور نا مراد نکلیں گی اور ہر جگہ ہر بستی ، ہر قریہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جھنڈا گاڑا جائے گا۔ یعنی وہی جھنڈا جودر حقیقت حضرت محمد ﷺ کا جھنڈا ہے۔تمام دشمنان اسلام کی ہر خواب نامراد جائے گی ۔‘‘
( الفضل 9جون 1983ء)
وقت آ رہا ہے کہ بادشاہ حضرت مسیح موعود
علیہ السلام کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں
نیز آپ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ یہ تقدیر الٰہی ہے کہ اللہ ہی کا ارادہ ہے جس نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ دنیا میں ایک دفعہ ضرور توحید کی بادشاہی ہوگی اور ہر جھوٹا خدا مٹادیا جائے گا۔ سو اس مقصد کیلئے آپ اٹھ کھڑے ہوں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ آپ کی ان کوششوں کو ضرور بار آور فرمائے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ الہام بھی لازماًپورا ہوگا کہ ’’میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ یہ بھی 1897ء کا الہام ہے۔ پس اب وقت آ رہا ہے کہ بادشاہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں سے جو توحید کے نور سے معطر تھے ، ان کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں ۔‘‘
( خطبہ جمعہ 25 جولائی 1997، الفضل انٹر نیشنل 12 ستمبر 1997)
آئندہ کا زمانہ ہمارے سپرد کیا جانے والا ہے
نیز آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہم ایسے دور میں ہیں کہ آئندہ کا زمانہ ہمارے سپرد کیا جانے والا ہے۔ حضرت محمدﷺ کی مالکیت اب کل عالم پر جلوہ دکھانے والی ہے اور خدا نے ہم عاجزوں اور نکموں کو چن لیا ہے تو وہی طاقت بخشے گا ، وہی صلاحتیں عطا کرے گالیکن وہ صلاحیتیں اسماء باری تعالیٰ پر غور کے نتیجے میں حاصل ہوں گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ 17 مارچ 1995 ، الفضل انٹر نیشنل 28 اپریل 1995ء)
ہمارا ایمان ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ دین
اسلام کو دنیا پر غالب کرنیکی کوششیں رنگ لائیں گی
حضور رحمہ اللہ نے ملک فجی کی ایک مسجد کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے خطاب میں فرمایا:
’’گو درمیانی عرصہ میں بعض دفعہ ہم پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ ہمارے رستے میں مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دئیے گئے ۔ ہمیں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور ایذارسانی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی رہی لیکن بایں ہمہ احمدیت کا قافلہ مخالفت کی آندھیوں اور طوفانوں میں سے زندہ و سلامت گزر کر ترقی کی نئی سے نئی منزلوں سے ہمکنار ہوتا رہا۔ اس لئے یہ ہمارا یقین اور ایمان ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ دین اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کی کوششیں رنگ لائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس کے شیریں ثمرات عطا فرمائے گا۔‘‘
(خطاب بر موقع افتتاح مسجد صودا (فجی ) 18 ستمبر 1983ء، الفضل 19 اکتوبر 1983ء)
جماعت احمدیہ کو اب دنیا میں
عظیم غلبے عطا ہونے والے ہیں
ایک اور موقع پر آپ رحمہ اللہ اپنے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :
’’ جماعت احمدیہ کو چونکہ اب دنیا میں عظیم غلبے عطا ہونے والے ہیں اور جماعت احمدیہ کے حق میں گزشتہ انبیاء کے وعدے پورے ہونے کے دن قریب آرہے ہیں…اس پہلو سے لازم ہے کہ ہم اپنی اصلاح کی طرف پہلے سے بڑھ کر متوجہ ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 27 جولائی 1990ء، الفضل انٹر نیشنل 23 ؍اکتوبر 1990ء)
عنقریب فوج در فوج افراد
احمدیت کی آغوش میں آئیں گے
آپ رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ یو. کے 1993ء کے افتاحی خطاب میں فرمایا:’’آج ساری دنیا کے آسمان سے جماعت احمدیہ پر افضال نازل ہو رہے ہیں …عنقریب فوج در فوج افراد احمدیت کی آغوش میں آئیں گے۔ اس مضمون کا گہرا تعلق بخشش سے ہے ۔کلام الہی میں جب ایسی فتوحات کا ذکر کیا گیاہے تو ساتھ حکم ہے کہ اللہ کی تسبیح کرو اور اللہ سے بخشش مانگو تو جب بھی فتح کا وقت آئے اس بات کو یادرکھیں۔ دنیا بھر سے فوجیں اپنے تاج و تخت آپ کی گود میں ڈالنے آئیں گی۔ اس موقع پر فتح کے نقارے نہیں بجانے ۔ خدا کی حمد کےنعرے لگانے ہیں۔
( خلاصہ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ یو. کے 30 جولائی 1993 ء، الفضل 2؍اگست 1993ء)
دشمن کی پھونکیں
اس روشن چراغ کو کبھی بجھا نہیں سکیں گی
اسی طرح آپ رحمہ اللہ نےفرمایا:’’احمدیت کوئی مسیح موعود کا لگایا ہوا پودا نہیں، یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے جس کو اللہ نے آپ کے ہاتھ سے لگوایا ہے اور یہ پودا کبھی نا کام نہیں ہو سکتا۔ یہ لازماً بڑھے گا اور لازماً ہمیشہ ترقی کرتا چلا جائے گا اور دشمن کی پھونکیں اس روشن چراغ کو کبھی بجھا نہیں سکیں گی جسے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اور قرآن کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانے میں روشن کیا گیا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 14 مئی 1999 ،الفضل انٹرنیشنل 2 جولائی 1999ء)
ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ
کوئی نہیں جو اس دور میں احمدیت کی ترقی کو روک سکے
جلسہ یوم خلافت 27 رمئی 2008 ء کے موقع پر اپنے خطاب میں سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح  الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
’’یہ دور جس میں خلافت خامسہ کے ساتھ خلافت کی نئی صدی میں ہم داخل ہو رہے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت کی ترقی اور فتوحات کا دور ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے ایسے باب کھلے ہیں اور کھل رہے ہیں کہ ہر آنے والا دن جماعت کی فتوحات کے دن قریب دکھا رہا ہے… میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس دَور کو اپنی بے انتہا تائید ونصرت سے نوازتا ہوا ترقی کی شاہراہوں پر بڑھاتا چلا جائے گا۔ انشاء اللہ اور کوئی نہیں جو اس دور میں احمدیت کی ترقی کو روک سکے اور نہ ہی آئندہ کبھی یہ ترقی رکنے والی ہے۔ خلفاء کا سلسلہ چلتا رہے گا اور احمدیت کا قدم آگے سے آگے انشاء اللہ تعالیٰ بڑھتارہے گا۔‘‘
(خطاب بر موقع جلسہ یوم خلافت 27 مئی 2008ء الفضل انٹرنیشنل25 جولائی 2008ء)
آنحضرتﷺ کا جھنڈا پوری آب و تاب
اور پوری شان و شوکت کیساتھ دنیا میں لہرائیگا
اسی طرح آپ نےفرمایا:
’’آج احیاء دین کیلئے اسلام کی کھوئی ہوئی شان و شوکت واپس لانے کیلئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں کھڑا ہونے کیلئے، اللہ تعالیٰ نے جس جری اللہ کو کھڑا کیا ہے اسکے پیچھے چلنے سے اور اسکے دیئے ہوئے براہین اور دلائل سے جو اللہ تعالی نے اسے بتائے ہیں اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈاپوری آب و تاب اور پوری شان و شوکت کے ساتھ دنیا میں لہرائے گا۔ انشاء اللہ ۔ اور لہراتا چلا جائے گا۔‘‘
(الفضل انٹر نیشنل 17 مارچ 2006ء)
2004ء میں مغربی افریقہ سے واپسی پر لجنہ اماء اللہ کی استقبالیہ تقریب سے خطاب کے دوران آپ نے فرمایا:’’انشاء اللہ تعالیٰ الٰہی وعدے جو ہیں وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے اور ایک دن تمام دنیا پر احمدیت کا اور اسلام کا غلبہ ہوگا لیکن یہ سب کچھ تبھی ہو گا جب ہم خلافت کے نظام سے وابستہ رہیں گے اور خلافت کے ہر حکم پر لبیک کہنے کو اپنےذاتی کاموں پر ترجیح دیں گے۔‘‘(دورہ مغربی افریقہ سے واپسی پر لجنہ کی استقبالیہ تقریب سے خطاب یکم مئی 2004 ، الفضل انٹر نیشنل 30 جولائی 2004ء)
انشاء اللہ وہ دن دُور نہیں جب تمام مخالفین ہوا میں
اڑ جائیں گے اور مخالفت کرنے والے
آپ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوںگے
جلسہ سالانہ قادیان 2006ء میں لندن سے براہ راست خطاب میں آپ نے فرمایا:
’’جب اللہ کی مدد اور نصرت شامل حال ہو تو د شمن کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدوں کےخلاف نہیں کیا کرتا۔ شہیدوں کے خون رائیگاں نہیں جائیں گے بلکہ ضرور رنگ لائیں گے ۔ احمدی کا صرف خون ہی ر نگ نہیں لاتا بلکہ میں تو اس یقین پر قائم ہوں کہ احمدی کو پہنچنے والی معمولی سی تکلیف کو بھی اللہ تعالیٰ بغیر نوازے نہیں چھوڑتا۔ایک مسجد بند ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ دس مساجد عطا کر دیتا ہے، ایک جماعت پر پابندی لگائی جاتی ہے تو دس جماعتیں آزادی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے والی مل جاتی ہیں۔ پس ہر تکلیف اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے برداشت کریں۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب تمام مخالفین ہوا میں اڑ جائیں گے اور مخالفت کرنے والے آپ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہونگے۔‘‘
(اختتامی خطاب جلسہ سالانہ قادیان 28 دسمبر 2006 ء، الفضل انٹر نیشنل 26 جنوری 2007ء)
خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے
جب آتی ہے تو پھر عالَم کو اِ ک عالم دکھاتی ہے
غرض رُکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے
بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے
آخری فتح انشاء اللہ حضرت مسیح موعود
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کی ہے
آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
’’یہ ظلم جو مخالفین کی طرف سے ہورہے ہیں یہ امتحان ہیں۔ صبر یہی ہے کہ ثابت قدم رہو۔ یہ سختیاں اور تنگیاں تم پر وارد کی جارہی ہیں ان کے خلاف کسی بھی دنیاوی مدد کی بجائے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے حکموں پر اور جو تعلیم اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے اس پر عمل کرو اور برائیوںسے بچو۔ انشاء اللہ ،اللہ تعالی کی مدد آئے گی اور ضرور آئے گی اور آخری فتح انشاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ انشاء اللہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نے غلبہ پانا ہے، آنحضرتﷺ کے عاشق صادق کی جماعت نے دنیا پر غالب آنا ہے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 23 نومبر 2007 ء ،الفضل انٹر نیشنل 14 دسمبر 2007ء)
چھوٹے جزیرے ہوں یا بڑے، چھوٹے ملک ہوں
یا بڑےان کی اکثریت نے انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں آنا ہی آنا ہے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ ماریشس کے ساتھ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، روڈرگس…وہاں جا کر شدید خواہش پیدا ہوئی اور دعا بھی ہوئی کہ یہ چھوٹا سا جزیرہ ہے، اس پورے جزیرے کو جلد سے جلد احمدیت کی آغوش میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ بہر حال چھوٹے جزیرے ہوں یا بڑے ہوں ، چھوٹے ملک ہوں یا بڑے ملک ہوں ان کی اکثریت نے انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں آنا ہی آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں وہ نظارے دکھائے جب ہم احمدیت کا غلبہ دیکھیں۔ یاد رکھیں کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور کی گئی دعائیں ہی ہیں جو ربوہ کے راستے بھی کھولیں گی اور قادیان کے راستے بھی کھولیں گی اور مدینہ اور مکہ کے راستے بھی کھولیں گی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 20 جنوری 2006 ء، الفضل انٹرنیشنل 10 فروری 2006ء)
آخری فتح ہماری ہے اور یقیناًہماری ہے
اور دنیا کی کوئی طاقت اس فتح کو روک نہیں سکتی
آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرماتے ہیں:
’’آج بھی وہی خدا جماعت احمدیہ کی حفاظت کیلئے کھڑا ہے۔ آج بھی وہ اپنے بندے اور اپنے مسیح کی جماعت کی دعاؤں کو سنتا ہے۔ آج بھی تم ایسے نظارے دیکھو گے کہ جو دشمن ان دعاؤں کی لپیٹ میں آئے گا اسکے ٹکڑے ہوا میں بکھرتے چلے جائیں گے۔ اگر حکومتیں کھڑی ہوں گی تو وہ بکھر جائیں گی، اگر تنظیمیں کھڑی ہوں گی تو وہ پارہ پارہ ہو جائیں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ بعض دفعہ الٰہی جماعتوں کو امتحانوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہر احمدی کا کام ہے کہ دعائیں کرتے ہوئے نہایت صبر و استقلال کے ساتھ ان امتحانوں سے گزر جائے۔ آخری فتح ہماری ہے اور یقیناً ہماری ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس فتح کو روک نہیں سکتی۔ یہ خدا کی با تیں ہیں جن کا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے یہ پوری ہوں گی اور ضرور پوری ہوں گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔‘‘( خطبہ جمعہ 27 ؍اکتوبر 2006 ء ، الفضل انٹر نیشنل 17 نومبر 2006ء)
خدا کے پاک بندے دوسروں پر ہوتے ہیں غالب
میری خاطر خدا سے یہ علامت آنے والی ہے
خدا ظاہر کرےگا اِک نشاں پُر رعب و پُر ہیبت
دلوں میں اس نشاں سے استقامت آنے والی ہے
معزز سامعین! جیسا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اپنی جماعت کی غیر معمولی ترقیات و فتوحات کے تعلق میںعظیم الشان خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دیگا اور میری محبت دلوں میں بٹھائیگا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائیگا اور سب فرقوں پر میرے میرے فرقہ کو غالب کرےگا۔نیز آپؑ نے فرمایا ہے اور یہ سلسلہ مشرق و مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مرادیہی سلسلہ ہوگا۔ یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں یہ اس خدا کی وحی ہے جسکے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔
اور یہ ساری بشارتیں جنکا مرکزی نقطہ تائید و نصرت الٰہی ہے بڑی شان سے دن رات پوری ہورہی ہیں اور ہر سال ہم جلسہ سالانہ UK کے موقعہ پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکےخطاب میں اسکی تفصیلات سنتے ہیں۔
معزز سامعین!ان خوشخبریوں کاسال در سال پورا ہوتے چلے جانا کس طرح جماعت احمدیہ مشاہدہ کررہی ہے، اسکا ذکر بھی یہاں ضروری ہے۔
سال2022-23ء میں جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہاء فضلوں کا ایک خاکہ پیش ہے۔
جلسہ سالانہ یوکے 2023ء کے موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
ضاس عرصہ میں 1016 مقامات پرپہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔امسال پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں 320 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔
ضدوران سال 129 نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور 56 بنی بنائی مساجد عطاء ہوئی ہیں۔
ضدوران سال 124 مشن ہائوسز کا اضافہ ہوا ہے۔
ضاب تک جماعت احمدیہ کی طرف سے قرآن کریم کے تراجم کل 76 زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔
ض105 ممالک کی رپورٹ کے مطابق 448 کتب و پمفلٹ 47 زبانوں میں طبع ہوئے ۔26 زبانوں میں مختلف رسائل و اخبارات شائع ہورہے ہیں۔
ض9166 نمائشوں کے ذریعہ 15 لاکھ90ہزار لوگوں تک پیغام حق پہنچایا گیا۔
ض دنیا کے 104 ممالک میں 620 سے زائد ریجنل لائبریریزکا قیام ہوچکا ہے۔
ضحضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے رسالہ ریویو آف ریلیجنزکا اجراء فرمایا تھا۔ پہلا شمارہ 1902ء میں شائع ہوا ۔ اب اس رسالہ کو 121 سال ہوچکے ہیں۔ اب یہ انگریزی ،جرمن اور فرنچ زبان میں شائع ہورہا ہے۔ امسال دو لاکھ ایک ہزار سے اوپر تعداد میں شائع ہوا۔
ضاللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے مختلف علاقوں کیلئے ایم.ٹی.اے کے آٹھ چینلز چوبیس گھنٹے کے نشریات پیش کر رہے ہیں۔ ان چینلز میں اس وقت 23 مختلف زبانوں میں رواں ترجمے نشر کئے جارہے ہیں۔ افریقہ کے مختلف ممالک کے نیشنل چینلز پر ایم.ٹی.اے کے پروگرام پیش کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایم .ٹی. اے کے ذریعہ بیعتیں بھی ہوتی ہیں۔
ضجماعت احمدیہ کے اپنے 25 ریڈیو چینلزکام کر رہے ہیں ۔ اس کے ذریعہ بھی بیعت ہورہی ہیں اور احمدیوں میں نمایاں تبدیلیاںبھی ہورہی ہیں۔
ضامسال 67 ممالک کے2900 ؍اخبارات و رسائل نے 1494 جماعتی مضامین اور خبر یں شائع کی ہیں۔
ضافریقہ میں مجلس نصرت جہاں کے تحت 13 ممالک میں 27 ہسپتال اور 12 ممالک میں 616 پرائمری و مڈل اسکول اور 10 ممالک میں 80 سیکنڈری اسکولز کام کر رہے ہیں۔
ضامسال 2,17,168(دو لاکھ سترہ ہزار ایک سو اڑسٹھ) سعید روحوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ
سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر ایک سرسری سی نظر بھی ہم ڈالیں تو ہمیں ایک لمبی فہرست شکر یہ وصول کرنے کیلئے تیار کھڑی نظر آتی ہے، یا ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم شکر یہ ادا کریں۔ کہیں رپورٹس سن کر اور پڑھ کر ہمیں جماعت کے تحت چلنے والے سکولوں اور ہسپتالوں کی ترقی شکر گزاری پر مجبور کرتی ہے۔ کہیں ہمیں ہسپتالوں سے شفا پانے والے غریبوں کے پرسکون چہرے اور جماعت کیلئے دعائیہ الفاظ شکر گزاری کی طرف توجہ دلاتے ہیں…جب ہم کہیں جماعتی ترقی کی رپورٹ سنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو عطا ہونے والے مشن ہاؤسز اور مساجد پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ کہیں ہم ایمان میں ترقی کے حیرت انگیز واقعات سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اسکے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔کبھی ہم تکمیل اشاعت دین کیلئے اللہ کی طرف سے مہیا کردہ نظام اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوتے ہیں کہ اس زمانے میں اس نے جماعت کو کیسی کیسی سہولتیںمہیا فرمادی ہیں جن کا تصور بھی آج سے بیس تیس سال پہلے ممکن نہیں تھا۔ کبھی ہم اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر سال کوئی نہ کوئی نیا ملک عطا فرما رہا ہے جہاں احمدیت کا پودا لگ رہا ہے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس الہام کے پورا ہونے کو دیکھ رہے ہیں اور اسکے مصداق بن رہے ہیں کہ’’ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ کبھی ہم لاکھوں کی تعداد میں سعید روحوں کے احمدیت قبول کرنے پر سجدہ شکر بجالا رہے ہوتے ہیں۔
پس اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آ پ علیہ السلام کا پیغام دُنیا میں پہنچنا ہے اور دنیا آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور ایک جری پہلوان کی حیثیت سے جانے گی اور جان رہی ہے۔
یہ سب اللہ تعالی کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا نتیجہ ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت کیلئے بے شمار خوشخبریاںہیں اور انشاء اللہ ترقیات اور فتوحات کے دروازے ہمیشہ کھلتے چلے جائیں گے۔ اب ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شمار کرتا ہے، اس کا فرض ہے کہ اس ایمان کو اپنے دلوں میں بٹھا کر اس پر ہمیشہ قائم رہے۔ یہ ان ماننے والوں کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کے طریق پر چلنے والے نظام خلافت کے ساتھ جُڑ کر اس ایمان کے مظہر بنتے ہوئے اسے دنیا کے کونے کونے میں پھیلائیں اور توحید کو دنیا میں قائم کریں ۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے سنت ہے کہ وہ دو قدرتیں دکھلاتا ہے اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ دوسری قدرت نظام خلافت ہے۔ پس نظام خلافت کا دینی ترقی کے ساتھ ایک اہم تعلق ہے اور شریعت اسلامیہ کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ دینی ترقی بغیر خلافت کے ہو ہی نہیں سکتی۔ جماعت کی وحدت خلافت کے بغیر قائم رہ ہی نہیں سکتی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عبد شکور بنائے ۔ ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنے فضلوں اور انعامات کا وارث بنائے اور ہر آنے والے دن میں ہم ترقی کی نئی سے نئی منازل طے کرتے چلے جائیں ۔ آمین۔
( پیغام حضور انور ، بحوالہ اخبار بدر سالانہ نمبر 2022)
کُفر کی کالی گھٹا ، کافور ہوگی ایک دن
اَحمدیت ہی رہے گی، ربّ کعبہ کی قسم
وآخر دعونا ان الحمد للہ ربّ العالمین