اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-21

سیرت حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام عظمت قرآن کی روشنی میں  (مکرم حافظ مخدوم شریف صاحب ، قائمقام ایڈیشنل ناظر اعلیٰ جنوبی ہند )

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ-
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا (سورۃالفرقا ن آیت31)
’’اور رسول کہے گا اے میرے رب یقیناً میری قوم نےا س قرآن کو متروک چھوڑاہے۔‘‘
مسلمانوں پہ تب ادبار آیا
کہ جب تعلیمِ قرآں کو بھلایا
(درثمین)
خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے ’’سیرت حضرت مسیح موعودؑعظمت قرآن کی روشنی میں ‘‘
معزز سامعین! سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفےٰ ﷺ نے آخری زمانہ میںجس مسیح موعود اور مہدی معہود کے آنے کی خوش خبری دی تھی اسکے ظہور کی اہم ترین غرض قرآن کریم کے فضائل و کمالات اور اسکی عظمت وصداقت کا اظہار تھا۔چنانچہ جب سورۃ الجمعہ کی آیت وَاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْنازل ہوئی توصحابہ نے عرض کیا :یارسول اللہ یہ کون لوگ ہوں گے جن کو آ پ دوبارہ آیات پڑھ کر سنائیں گے، انہیں پاک کریں گے اور کتاب اور حکمت سکھائیں گے۔ توآپ ﷺنے فرمایاکہ جب ایمان ثریا ستار ے پر چلاجائے گا توایک مرد فارس اسے واپس لائے گا۔ بعض روایات میں علم یا قرآن کے متروک ہونے کا ذکر ہے جس کی عظمت وفضیلت کو دوبار ہ مسیح موعودؑ نے دلوں میں بٹھانا تھا۔
معززسامعین!مفقود ایمان اور متروک قرآن کی عظمت کو دوبارہ قائم کرنےکیلئے اللہ تعالیٰ نے قادیان کی اس گمنام بستی میں حضرت مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ آپؑنے اعلان فرمایاکہ
’’اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:10) قرآن شریف کی عظمت کو قائم کرنے کیلئے چودھویں صدی کے سر پر مجھے بھیجا۔‘‘
(ملفوظات، جلداوّل، صفحہ 433)
اِک بڑی مُدّت سے دِیں کو کُفر تھا کھاتا رہا
اَب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن
سامعین کرام ! زمانے کی حالت زار کا نقشہ کھینچتے ہوئے آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ
یہ زمانہ درحقیقت ایک ایسا زمانہ ہے جو بالطبع تقاضا کر رہا ہے جو قرآن شریف اپنے ان تمام بطون کو ظاہر کرے جو اسکے اندر مخفی چلے آتے ہیں…سو یقینا سمجھو کہ وہ دروازہ کھولا گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مخفیہ اس دنیا کے متکبر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔ اب نیم ملاں دشمنِ اسلام اس ارادہ کو روک نہیں سکتے۔ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے تو ہلاک کئے جائیں گے اور قہری طمانچہ حضرتِ قہار کا ایسا لگے گا کہ خاک میں مل جائیں گے۔ اِن نادانوں کو حالت موجودہ پر بالکل نظر نہیں۔ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم مغلوب اور کمزور اور ضعیف اور حقیر سا نظر آوے لیکن اب وہ ایک جنگی بہادر کی طرح نکلے گا۔ ہاں وہ ایک شیر کی طرح میدان میں آئے گا اور دنیا کے تمام فلسفہ کو کھا جائے گا اور اپنا غلبہ دکھائے گا اور لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖکی پیشگوئی کو پوری کر دے گا اور پیشگوئی وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمْ کو روحانی طور سے کمال تک پہنچائے گا…اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بجز معلّم حقیقی کے کوئی نہیں جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے، بہت سا خزانہ قرآ ن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا۔ یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور لایَقْبِلُہٗ اَحَد کا مصداق بن جائیں گے اور ہر یک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پُرہوجائےگی۔
(ازالہ اوہام ،روحانی خزائن، جلد3،صفحہ 464تا467)
نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلٰی نکلا
پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا
سامعین کرام ! سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ذریعہ قرآن کریم کی عظمت دو طرح سے ظاہر ہوگی ایک لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ کےتحت بیرونی طور پر تمام ادیان پر قرآن کریم کے حقائق ودقائق، علوم ومعارف کے خزانے ظاہر کرکے تمام ادیان پر قرآن کریم کی صداقت فضیلت وعظمت قائم کی جائے گی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا جائے گا اور دوسری طرف اندرونی طورپر وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمْ کے تحت امت محمدیہ میں اللہ تعالیٰ اور اسلام کے بنیادی عقائدکے متعلق پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو قرآنی تعلیمات کی رو سےدورکرکے اور عقائد فاسدہ وبدعات کا قلع قمع کرکے قرآن کریم کی عظمت قائم کی جائے گی اور دین اسلام کو تمکنت عطا کی جائے گی ۔
سامعین کرام !قرآن کریم کی عظمت اور صداقت کو تما م ادیان پر ظاہر کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کو اپنی جناب سے قرآن کریم کا خاص علم وفہم عطا فرمایا اور آپ کی تربیت فرمائی۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس (خدا )نے میری طرف نظر رحمت کی اور مجھے قبول کیا اور مجھ پر احسان کیا اور میری تربیت کی اور اس نے اپنے حضور سے مجھے فہم عطا کیاجو سلیم تھا اور ایسی عقل مستقیم جو بغیر کجی کے ہے عطا کی اور کتنے ہی نور ہیں جو اُس نے میرے دل میں ڈالے اور مجھے قرآن کی معرفت عطا کی گئی جو میرے علاوہ کسی اور کو نہیں دی گئی اور اس میں سے میں نے وہ پایا اور حاصل کیا جو میرا مخالف کوشش کے باوجود نہ پاسکا اور میں اس قرآن کے فہم میں اس عالی مرتبہ تک پہنچا جہاں تک اکثر لوگوں کی عقلیں پہنچنے سے قاصر ہیں ۔
(حمامتہ البشریٰ،روحانی خزائن،جلد7، صفحہ284)
نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اسکے دین کی عزت ظاہر ہو۔ میں نے ایک وقت ان اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کئے ہیں تو ان کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تو اور بھی تعداد بڑھ گئی ہو گی ۔ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بناء ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض واردہو سکتا ہے ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ۔ یہ اعتراضات تو کوتاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں ۔مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہ میں دراصل بہت ہی نادر صداقتیں موجود ہیں جو عدم بصیرت کی وجہ سے معترضین کو دکھا ئی نہیں دیں اور درحقیقت یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نابینا معترض آکر اٹکا ہے، وہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک اعتراضات کا کیچڑ جو ان درخشاں جواہرات پر تھو پا گیا ہے ۔ اس سے ان کو پاک صاف کروں۔خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑی جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزّہ ومقدس کرے۔
(ملفوظات، جلد اوّل، صفحہ38)
وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے
اب میں دیتاہوں اگر کوئی ملے امیدوار
آپ علیہ السلام فرماتےہیں:
خدا تعا لیٰ میرے ہا تھ سے اور میرے ہی ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور تمام مخالف دینوں کا باطل ہونا ثابت کردیگا … میرے ہاتھ سے آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیںاور میرے قلم سے قرآنی حقائق اور معارف چمک رہے ہیں۔ (تریاق ا لقلوب، روحانی خزائن،جلد 15،صفحہ 265تا268)
سامعین کرام !اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کو سلطان القلم اور آپ کی قلم کو ذوالفقار علی کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ آپؑنے 90 کے قریب تصانیف تحریر فرمائیں جو روحانی خزائن کے نام سے سیٹ کی صورت میں دستیاب ہیں۔ آپ کے تین سو اشتہارات تین جلدوں میں شائع شدہ ہیں۔ ملفوظات کی دس جلدیں ہیں، علم و معرفت سے پُر آپ کے سات سو مکتوبات پانچ جلدوں میں شائع شدہ ہیں۔ اردو منظوم کلام، فارسی منظوم کلام، عربی منظوم کلام اور آپ کی بیان کردہ تفسیر القرآن الگ سے شائع شدہ ہے۔آپ علیہ السلام نےاپنی ان تصانیف میں ،نظم ونثر میں قرآن مجید کی ارفع و اعلیٰ شان اور اسکے انتہائی بلند مقام کو دنیا پر ظاہر فرمایا۔اسکے حسن بے مثال کو آشکار کر کے ایک دنیا کو اسکا گرویدہ بنا دیا اور قرآن کریم کےبے شمار حقائق و دقائق اور علوم و معارف پر سے پردہ اٹھا کر اسکے نور ہدایت اور احسان کو دنیا کیلئے عام کر دیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے دلائل و براہین کی رو سے ثابت فرمایا کہ روئے زمین پر قرآن ہی وہ عالمگیر شریعت ہے جو صحیح معنوں میںتا قیامت ایک زندہ شریعت کہلانے کی مستحق ہے جس کی تعلیم ہمیشہ ہمیش کیلئےہے جو ہر زمانہ اور اس کی ضرور توں پر پوری اترنے والی ہے۔
سامعین کرام ! خاکساروقت کی رعایت سے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معرکۃ الآراء کتب میں  سےصرف چند ایک کا ذکر کرتا ہے ۔
آغاز جوانی میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو بذریعہ کشف خبردی گئی کہ قطبی نام کی ایک کتاب لکھنا آپ کیلئے مقدر ہےاور قطبی لفظ میں یہ حکمت ہے کہ وہ اپنے مضبوط دلائل اور مستحکم اور غیر متزلزل براہین کی وجہ سے ستارہ کی طرح افق پرطلوع ہو گی اور دنیا بھر کو سچے دین کی طرف راہنمائی کرنے کا موجب بنے گی۔ حضور علیہ السلام کا یہ رؤیا براہین احمدیہ کی اشاعت کی شکل میں پورا ہوا۔اس کتاب نے ایک نئےعلم کلام کی بنیاد ڈالی اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی سات درجن کتب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔آپؑنےاس مایہ ناز معرکۃ الآراء تصنیف براہین احمدیہ میں جملہ مذاہب عالم کے لیڈروں،فلسفیوں کو چیلنج دیا کہ قرآن مجید کی حقیت اور آنحضرت ﷺ کی صداقت کے ثبوت میںجو تین سو دلائل قطعیہ عقلیہ قرآن مجید سے نکال کر پیش کئے گئےہیں اگر کوئی غیرمسلم اپنے مذہب کے عقائد کی صداقت میں اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کرکے دکھلاوے یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کرسکے تو ان میں سے نصف یا تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ یا پانچواں حصہ ہی اپنی الہامی کتاب سے نکال کر دکھاوے یا اگر دلائل پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے دلائل ہی کو نمبروار توڑ کر دکھا دے تو بلاتامل اپنی دس ہزار روپیہ کی جائیداد اسکے حوالے کر دی جائے گی۔آپؑفرماتے ہیں۔’’حقیقت میں یہ کتاب طالبان حق کو ایک بشارت اور منکران دین اسلام پر ایک حجت الٰہی ہے کہ جس کا جواب قیامت تک ان سے میسر نہیں آسکتا اور اسی وجہ سے اسکے ساتھ ایک اشتہار بھی انعامی دس ہزار روپیہ کا شامل کیا گیا کہ تاہریک منکر اور معاند پر جو اسلام کی حقیت سے انکاری ہے اتمام حجت ہو اور اپنے باطل خیال اور جھوٹے اعتقاد پر مغرور اور فریفتہ نہ رہے۔‘‘
(براہین احمدیہ،روحانی خزائن، جلد 1،صفحہ83)
آزمائش کیلئےکوئی نہ آیا ہر چند
ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے
سامعین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عظمت قرآن کا ایک شاندار کارنامہ آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’ اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ ہے جو آج بھی سعید فطرت اور انصاف پسندوں پر اپنا سحر طاری کیے ہوئے ہے۔ اسکی عظمت شان کے بارےمیں آپؑ تحریر فرماتے ہیں:
’’جلسہ اعظم مذاہب جو لاہور ٹاؤن ہال میں 26، 27، 28؍ دسمبر 1896ء کو ہو گا اس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات کے بارے میں پڑھا جائے گا۔ یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے بر تر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ در حقیقت یہ خدا کا کلام اور رب العالمین کی کتاب ہےاور جو شخص اس مضمون کو اول سے آخر تک پانچوں سوالوں کے جواب میں سنے گا۔ میں یقین کرتا ہوں کہ ایک نیا ایمان اس میں پیدا ہو گا اور ایک نیا نور اس میں چمک اٹھے گا اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی ایک جامع تفسیر اسکے ہاتھ آجائے گی …مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئیگا اور اس میں سچائی اور حکمت اور معرفت کا وہ نور ہے جو دوسری قومیں بشرطیکہ حاضر ہوں اور اسکو اول سے آخر تک سنیں شرمندہ ہو جائیں گی اور ہرگز قادر نہیں ہوں گی کہ اپنی کتابوں کے یہ کمال دکھلا سکیں … کیونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایاہے کہ اس روز اس پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا۔ اور اسکے چھونے سے… اس محل میں سے ایک نور ساطعہ نکلا جو ارد گرد پھیل گیا۔ اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی ہوئی۔ تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا وہ بلند آواز سے بولا۔اللہ اکبر خربت خیبر۔‘‘
اسکی یہ تعبیرہےکہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جا ئے نزول وحلول انوار ہے اور وہ نور قر آنی معا رف ہیں اور خیبر سے مراد تما م خراب مذہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی یاخدا کی صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرا دیا ہے ۔سو مجھے جتلایا گیا کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائیگا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائیگی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کرے ۔پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَکَ اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْمَ اَیْنَـمَاقُمْتَ یعنی خدا تیرے ساتھ ہے خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو ۔یہ حمایتِ الٰہی کیلئے ایک استعارہ ہے ۔(تریاق القلوب، روحانی خزائن، جلد15، صفحہ227-226،مجموعہ اشتہارات، جلد1، صفحہ614-615)
سامعین کرام ! اسلامی اصول کی فلاسفی کا یہ مضمون بلاشبہ قرآن کریم کے حقائق و معارف ،علم وعرفان کی بے نظیراور اچھوتی تفسیرہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عظمت قرآن کے اظہار کی کاوشوں میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الٰہی تائیدیافتہ اس مضمون نے نہ صرف مقامی طور پر بلکہ پورے ہندوستان اور دنیابھر کے دانش کدوں میں ایسا زلزلہ برپا کیا کہ نہ صرف عظیم مفکّرین اسکی تعریف و توصیف میں رطب اللّساں ہوگئے بلکہ اُس زمانے کے اخبارات نے بھی اس مضمون کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے برملا طورپر یہ شائع کیا کہ یہ مضمون سب پر بالارہا۔چنانچہ ایک اخبار نے لکھا:
’’مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب (جیسا کہ مناسب تھا) قرآن شریف سے دئیے اور تمام بڑے بڑے اصول اور فروعاتِ اسلام کو دلائل عقلیہ سے اور براہین فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزین کیا۔‘‘
(اخبار چودھویں صدی راولپنڈی بمطابق یکم فروری 1897ء ماخذ روحانی خزائن، جلد10، تعارف کتب)
سامعین کرام!پادری عمادالدین نے ’’زین الاقوال‘‘ نام کی کتاب لکھ کر قرآن مجید پر حملے کئے حضرت مسیح موعودؑ نے اسکے جواب میں نورالحق کتاب لکھی اس میں قرآن کریم کے معارف و حقائق کا انکشاف فرمایا۔اس قسم کی ایک دو نہیں متعدد مثالیں  آپ کی تصانیف میں ملتی ہیں۔آپؑنے ہر اہل مذہب کو دعوت دی کہ اپنے مذہب کا دعویٰ اور دلیل اپنی الہامی کتاب سے ثابت کریں ۔اسی اصل اور معیار کو آپ نے مباحثوں مناظروں اور تحریر و تقریر میں خوب استعمال فرما کر قرآن کریم کی عظمت و شان کو دوبالاکیا کیونکہ قرآن کریم اپنی پاک اور مکمل تعلیمات کی روسے سب کتب سماوی میں یکتااور منفرد ہے ۔
جمال و حسن قرآں نور جان ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا
بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے
بہار جاوداں پیدا ہےاس کی ہر عبارت میں
نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اُس سا کوئی بستاں ہے
سامعین کرام ! حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاں غیر مذاہب کے بالمقابل قرآن کریم کی عظمت ثابت فرمائی وہیں اندرونی طور پر امت محمدیہ میں قرآن کریم کی طرف منسوب ہونے والےغلط عقائد ونظریات کودور فرما کر قرآن کریم کےتقدس اور عظمت کو قائم فرمایا ۔مسلمانوں میںیہ غلط عقیدہ رہ پاگیا تھا کہ خداتعالیٰ کی صفت تکلم اب معطل ہوگئی ہے۔پہلے زمانہ میں وہ بولتاتھا پر اب بولتانہیں۔ مجیب الدعوات خداپر مسلمانوںکاایمان اٹھ گیا تھااور وحی والہام کے منکر ہوگئے تھے۔سرسید احمد خان جیسے عالم دعا کی فلاسفی کے ہی منکر ہو گئےتھے ۔
سامعین کرام ! حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت کا اصل مقصد اور آپؑکا سب بڑا معجزہ یہی ہے کہ آپؑنے حیی و قیوم ،مجیب الدعوات خداکو پیش کیا اور آپ کے وجود سے زندہ خدا کی تجلی ظاہر ہوئی ۔آپ ؑنےیہ ثابت کیاکہ قرآن کریم کی سچی پیروی کرنے سے زندہ خدا ملتاہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ کاشرف عطا ہوتاہے ۔آپؑفرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسکے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اور علوم غیب عطا فرماتا ہے اور دُعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے اور ہر ایک جو اس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اس بندہ کے ساتھ ہے جو اسکے کلام کی پیروی کرتا ہے۔‘ ‘
(چشمہ معرفت، روحانی خزائن، جلد23، صفحہ305)
نیز فرمایا’’سامعین کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ خدا جسکے ملنے میں انسان کی نجات اور دائمی خوشحالی ہے، وہ بجز قرآن شریف کی پیروی کے ہرگز نہیں مل سکتا… اور یقیناً سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں۔ میں جوان تھا۔ اب بوڑھا ہوا مگر میں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن، جلد10، صفحہ 442)
قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے
بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے
سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں
مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا
حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا
ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا
سامعین کرام ! مسلمانوں میں قرآن کے متعلق ایک غلط عقیدہ ناسخ ومنسوخ کا راہ پاگیا تھا ۔چنانچہ علامہ محمد بن حزم نے مسلمانوں کاعقیدہ اس بارہ میں  یوں بیان کیا ہے:
قرآن کریم میں منسوخ آیات کامطلب یہ ہے کہ ایک آیت قرآن میں لکھی جا چکی ہے مگر وہ قابل عمل نہیں ہے صر ف اسکی تلاوت ہی کرنی چاہئے ۔اس پر عمل کرنے کا حکم نہیںکیونکہ منسوخ ہونے کی وجہ سے اس کا حکم باطل ہوگیا۔ (ناسخ و منسوخ ،صفحہ 146)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒنے پانچ آیات ، علامہ سیوطی نے بیس اور بعض علماء نے ناسخ  منسوخ آیات کی تعداد پانچ سو تک بتائی ہے۔جس سے باقی قرآن کا اعتبار بھی نہ رہا۔حضرت اقد س مسیح  موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہایت تحدی سے اس غلط عقیدے کا بطلا ن کرکے قرآن کریم کی عظمت قائم فرمائی۔آپؑنے فرمایا:
’’ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یانقطہ اسکی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یاکسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییرکر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تووہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔‘‘(ازالہ اوہام، روحانی خزائن، جلد3 ،صفحہ169)
معزز سامعین ! اہل حدیث کی جانب سے قرآن کریم پر حدیث کی تقدیم کا فتنہ قرآن کریم کے درجے میں کمی کا موجب بنتا جارہاتھااس لحاظ سے بھی آپؑنے قرآن کریم کی عظمت ظاہر فرمائی ۔ حضرت مسیح موعودفرماتے ہیں:
’’ مسلمانوں میں قرآن کی عظمت نہیں رہی۔ شیعہ ہیں وہ ائمہ کے اقوال کو مقدم کرتے ہیں اور دوسرے فریق حدیثوں کے ظنی سلسلہ کو قرآن پر قاضی بناتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات، جلد2،صفحہ 444)
حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام اپنی ایک رئویا کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:
آج رات مجھے رویاء میںدکھایا گیا کہ ایک درخت بارداراورنہایت لطیف اور خو بصو رت اور پھلوں سے لدا ہو ا ہے اور کچھ جماعت تکلف اور زور سے ایک بو ٹی کو اس پر چڑھانا چاہتی ہے جسکی جڑھ نہیں بلکہ چڑہا رکھی ہے وہ بو ٹی افتیمو ن کی مانند ہے اور جیسے جیسے وہ بوٹی اس درخت پر چڑھتی ہے اس کے پھلو ں کو نقصان پہنچاتی ہےاور اس لطیف درخت میں ایک کجھواہٹ اور بد شکلی پیدا ہو رہی ہے اور جن پھلوں کی اس درخت سے توقع کی جاتی ہے ان کے ضائع ہو نے کا سخت اندیشہ ہے بلکہ کچھ ضائع ہو چکے ہیں۔تب میر ا دل اس بات کو دیکھ کر گھبرایا اور پگھل گیا اور میں نے ایک شخص کو جو نیک اور پاک انسان کی صورت پر کھڑا تھاپوچھا کہ یہ درخت کیاہے اور یہ بو ٹی کیا ہے جس نے ایسے لطیف درخت کو شکنجہ میں دبا رکھا ہے تب اس نے جو اب میں مجھے یہ کہا یہ درخت قرآن ، خدا کا کلام ہے اور یہ بوٹی وہ احادیث اور اقوال وغیرہ ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں یا مخالف ٹھہرائی جا تی ہیں اور ان کی کثرت نے اس درخت کو دبا لیا ہے اور ااس کو نقصان پہنچا رہی ہیں تب میر ی آنکھ کھل گئی ۔(ریو یو برمباحثہ بٹالوی و چکڑالوی،روحانی خزائن، جلد 19، صفحہ 212 حاشیہ )
باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر
میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار
سامعین کرام!حضرت اقدس مسیح موعودؑ کو الہام ہواتھا’’ یَا یَحْییٰ خُذِالْکِتَابَ بِقُوَّةٍ والْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ اور فرمایا کہ اس میں ہم کو حضرت یحییٰ کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت یحییٰ ؑکویہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا۔ جو کتاب اﷲ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہو رہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے ۔ ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہل حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات، جلد دوم، صفحہ 203)
آپ فرماتے ہیں’’ قرآن کریم ہر یک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم صحت پرکھنے کیلئے وہ محک ہے اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی اشاعت کیلئے مامور کیا ہے تا میں جو ٹھیک ٹھیک منشاء قرآن کریم کا ہے لوگوں پر ظاہر کروں۔‘‘
(الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن، جلد 4،صفحہ 30)
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنی قرآن کے ظاہر کرے۔ خدا نے مجھے اسی لئے مامور کیا ہے اورمیں اسکے الہام اور وحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں ۔
(ملفوظات، جلد سو م، صفحہ 450)
نیز فرمایا:میری حیثیت ایک معمولی مو لوی کی حیثیت نہیں ہے بلکہ میری حیثیت سُننِ انبیاء کی سی حیثیت ہے۔ مجھے ایک سماوی آدمی مانوپھریہ سارے جھگڑے اور تمام نزاعیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں،ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں۔ جو خداکی طرف سے مامور ہو کرحَکَم بن کر آیا ہے ۔ جو معنے قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی حدیث صحیح ہو گی۔
(ملفوظات، جلد اوّل، صفحہ399)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسانی کیلئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔‘‘
(کشتی نوح ،روحانی خزائن ،جلد 19،صفحہ 15)
نیز آپؑفرماتےہیں:
میں نے قرآن کے لفظ میں غور کیا تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبردست پیشگوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اسکے ساتھ شریک کی جائیں گی۔ اس وقت اسلام کی عزت بچانے کیلئے اور بطلان کا استیصال کرنے کیلئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہوگی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی اور فرمایافرقان کے بھی یہی معنے ہیں یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کر نے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی … اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔
(ملفوظات، جلداوّل، صفحہ386)
سامعین کرام ! ایک اہم مسئلہ جو قرآن کریم کی کسرشان کا موجب ہورہاتھاوہ جہاد کا غلط نظریہ تھا کہ غیر مذاہب کو جبر و اکراہ کے ذریعہ اسلام میں داخل کیا جاسکتاہے اور جہاد سے مراد صرف جہاد باالسیف ہے۔ مسلمانو ں میں خونی مہدی کا تصور بھی پایا جاتاتھا آپؑ نے قرآن کریم کی رو سے جہاد کی صحیح تفسیر اور حقیقت بیان فرمائی کہ اصل جہاد نفس کا جہاد ہے اور قرآن کریم کی تعلیمات کی اشاعت اور انکی ترویج کوجہاد کبیر سے تعبیر کیا۔
اسی طرح آپؑنے عقیدہ حیات مسیح کا قرآن کریم کی 30 آیات سے رد فرماکر اسلام کودوبارہ نئی زندگی دی اور قرآن کی عظمت کو دوبالا کیا ۔ آپ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں :
مارتا ہے اس کو فرقاں سر بسر
اس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر
وہ نہیں باہر رہا اموات سے
ہو گیا ثابت یہ تیس آیات سے
سامعین کرام!اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں  خیر امت کو تمام روحانی انعامات کی بشارت دی ہے لیکن کوتاہ فہم مسلمانوں نے آیت خاتم النّبیین کی نامناسب تشریح کرکے ہرطرح کی نبوت کے دروازے کو بند سمجھ لیا تھا۔آپؑنے آیت خاتم النّبیین کا حقیقی عرفان پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ خاتم کے معنی مہر کے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو افاضئہ کمال کیلئے مہر دی گئی ہے ۔اب نبوت کے انعام سے صرف اس کو سرفراز کیا جاسکتاہے جو مہر محمدی اپنے ساتھ رکھتاہو۔دامن مصطفیٰ سے وابستہ ہو۔آپؑفرماتے ہیں:
’’قرآن ایک ہفتہ میں انسان کو پاک کر سکتا ہے اگر صوری یا معنوی اعراض نہ ہو قرآن تم کو نبیوں کی طرح کر سکتا ہے اگر تم خود اس سے نہ بھاگو۔ بجز قرآن کس کتاب نے اپنی ابتدا میں ہی اپنے پڑھنے والوں کو یہ دعا سکھلائی اور یہ امید دی کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمِ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم (الفاتحہ:6)یعنی ہمیں اپنی اُن نعمتوں کی راہ دکھلا جو پہلوں کو دکھلائی گئی۔ جو نبی اور رسول اور صدیق اور شہید اور صالح تھے پس اپنی ہمتیں بلند کر لو اور قرآن کی دعوت کو ردّ مت کرو کہ وہ تمہیں وہ نعمتیں دینا چاہتا ہے جو پہلوں کو دی تھیں۔ ‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن ،جلد 19، صفحہ27)
سامعین کرام !اللہ تعالیٰ نےقرآن کی عظمت قائم کرنے کیلئے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو ایک اعزازی نشان ،تفسیرقرآن کابھی عطا فرمایا ۔آپ کی تمام کتب ہی تفسیر قرآن کاشاہکار ہیں تاہم آپ نے اعجازی طور پر زبان قرآن ،عربی میںبعض کتب محض تفسیر قرآن کیلئےتصنیف فرمائیں اور مخالفین کو اس کے مقابل تفسیر نویسی کاچیلنج بھی دیا ۔لیکن کسی کو آپ کے مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی۔پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو تفسیر نویسی کاچیلنج دیتےہوئےآپ نےاعجاز المسیح کے نام سےعربی میں فصیح و بلیغ سورة فاتحہ کی تفسیر شائع فرمائی۔ اس کتاب کے بارے میں آپ کو الہام ہواکہ
مَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَ تَنَمَّرَ
فَسَوْفَ یَرَیٰ اَنَّہُ تَنَدَّمَ وَتَذَمَّرَ
یعنی جو شخص غصہ سے بھر کر اس کتاب کا جواب لکھنے کیلئے طیار ہوگا وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم ہوا اور حسرت کے ساتھ اسکا خاتمہ ہوا۔الہام الٰہی کے عین مطابق پیر مہر علی شاہ کو اس تفسیرکے بالمقابل ایک لفظ بھی لکھنے کی جرات نہیں ہوئی آخر کار نادم ہو کرحسرت کے ساتھ شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس کتاب کی فصاحت و بلاغت کا برملا اعتراف عرب ممالک کے اخبارات نے بھی کیا۔ آپؑفرماتے ہیں ’’میں قرآن شریف کے معجزہ کے ظل پر عربی بلاغت فصاحت کانشان دیا گیا ہوں ۔کو ئی نہیںکہ جو اس کامقابلہ کر سکے۔
(ضرورت الامام،روحانی خزائن،جلد 13، صفحہ 496)
نیز فرمایا’’میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ میرے مخالف بھی ایک سُورۃ کی تفسیر کریںاور مَیں بھی تفسیر کرتا ہوں۔ پھر مقابلہ کر لیا جاوے، مگر کسی نے جُرأت نہیں کی۔ محمد حسین وغیرہ نے تو یہ کہہ دیا کہ ان کو عربی کا صیغہ نہیں آتا اور جب کتابیں پیش کی گئیں تو بودے اور رکیک عذر کر کے ٹال دیا کہ یہ عربی تو اروی کچالوہے۔ مگر یہ نہ ہوسکاکہ ایک صفحہ ہی بنا کر پیش کر دیتا اور دکھا دیتا کہ عربی یہ ہے۔غرض یہ نشان ہیں جو خاص طور پر میری صداقت کیلئے مجھے ملے ہیں۔ ‘‘
(ملفوظات، جلد اوّل، صفحہ 183 )
سامعین کرام !گزشتہ مفسرین نے قرآن مجید میں درج نبیوں اور قوموں کے واقعات کو محض ایک قصہ کے طورپر بیان کرتے تھےاور بعض آیات کی ایسی تفسیر بیان کرتے تھے جس سے انبیا کی ہتک ہوتی تھی ۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے قرآن کریم میں  موجوود انبیاء کے قصوں کو علمی اور فلسفہ اور پیشگوئیوں کا رنگ دے کر قرآن کریم کی عظمت و معرفت کو ظاہر فرمایااور انبیاء کی عصمت کو قائم فرمایا۔آپؑفرماتے ہیں :
’’جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی درحقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں ہاں وہ توریت میں تو ضرورصرف قصے پائے جاتےہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم ﷺکیلئے اور اسلام کیلئے ایک پیشگوئی قرار دے دیا ہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں۔ ‘‘
(چشمہ معرفت، روحانی خزائن، جلد 23،صفحہ 271)
نیزفرمایا:’’قرآن شریف اپنی ساری تعلیموں کو علوم کی صورت اور فلسفہ کے رنگ میں پیش کرتا ہے … پس یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف نے پہلی کتابوں اور نبیوں پر احسان کیا ہے جو اِن کی تعلیموں کو جو قصّہ کے رنگ میں تھیں، علمی رنگ دیدیا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی شخص ان قصّوں اور کہانیوں سے نجات نہیں پاسکتا جب تک وہ قرآن شریف کو نہ پڑھے، … اسلئے قرآن شریف کو کثرت سے پڑھو مگر نرا قصہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک فلسفہ سمجھ کر۔‘‘
(ملفوظات، جلددوم، صفحہ 113)
سامعین کرام ! سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم میں موجود ایک عظیم الشان علمی معجزہ جو عظمت قرآن کو دوبالا کرتا ہے ،جسمانی اور روحانی مراتب ستہ کا انکشاف کرتے ہوئے فرمایا :
’’جس قدر کتابیں دنیا میں کتب سماوی کہلاتی ہیں یا جن حکیموں نے نفس اور الٰہیات کے بارے میں تحریریں کی ہیں اور یا جن لوگوں نے صوفیوں کی طرز پر معارف کی باتیں لکھی ہیں کسی کا ذہن ان میں سے اس بات کی سبقت نہیں لے گیا کہ یہ مقابلہ جسمانی اور روحانی وجود کا دکھلاتا۔اگر کوئی شخص میرے اس دعوے سے منکر ہو اور اس کا گمان ہو کہ یہ مقابلہ روحانی اور جسمانی کسی اور نے بھی دکھلایاہے۔تو اس پر واجب ہے کہ اس علمی معجزہ کی نظیر کسی اور کتاب میںسے پیش کر کے دکھلائے اور میں نے تو توریت اور انجیل اور ہندئووں کے وید کو بھی دیکھا ہے۔مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قسم کا علمی معجزہ میں نے بجز قرآن شریف کے کسی کتاب میں نہ پایا۔
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، جلد ششم)
یاالٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا
کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ
وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا
معزز سامعین !آخر پر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح  الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ایک اقتباس کے ساتھ اپنی تقریرکو ختم کرتاہوں حضوانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیان فرماتے ہیں کہ
پس ہر احمدی کی آج ذمہ داری ہے کہ اس عظیم صحیفہ الٰہی کی، اس قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا کریں۔ اپنے آپ کو بھی بچائیں اور دنیا کو بھی بچائیں جن لوگوں کی اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے لیکن احمدی نہیں ہوئے ان میں سے بہتوں نے آخر حقیقی اسلام اور حق کی تلاش میں احمدیت کی گود میں آنا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کیلئے ہر احمدی کو اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔ آج جب اسلام دشمن طاقتیں ہر قسم کے ہتھکنڈے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر تُلی ہوئی ہیں،بیہودگی کا ایک طوفان برپا کیا ہوا ہے تو ہمارا کام پہلے سے بڑھ کر اس الٰہی کلام کو پڑھنا ہے، اس کو سمجھنا ہے، اس پر غور کرنا ہے، فکر کرنا، تدبر کرنا ہے اور عمل کرناہےاور پہلے سے بڑھ کر اس کلام کے اتارنے والے خدا کے آگے جھکنا ہے تاکہ ان برکات کے حامل بنیں جو اس کلام میں پوشیدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔‘‘ (خطبہ جمعہ 7مارچ 2008ء بحوالہ اخبار بدر 1مئی2008ء)
قرآں کو یاد رکھنا پاک اعتقاد رکھنا فکرمعاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا
اکسیر ہے پیارے صدق و سداد رکھنا
یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
آمین برحمتک یاارحم الرحمین
وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالیمن
…٭…٭…٭…