بقیہ مضمون از شمارہ نمبر 18 جون 2026:
حضرات!یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صرف نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے غلط اثرات سے روکنا کافی نہیں، بلکہ اس کا مثبت اور صحت مند متبادل فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان سوشل میڈیا کے بے فائدہ یا نقصان دہ مواد سے بچیں تو ہمیں انہیں سوشیل میڈیا کے دینی، علمی، معرفت اور تربیتی مواد سے جوڑنے کے مواقع دینے ہوں گے۔سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچنے کا ایک مؤثر طریق یہ بھی ہے کہ ہم اپنی توجہ ان روحانی ذرائع کی طرف منتقل کریں جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں خلافت کی برکت سے ہمارے لیے مسخر کر رکھے ہیں۔ خلیفۃ المسیح کے خطبات، ارشادات، خطابات اور روحانی مجالس کو دیکھنے، سننے اور پڑھنے کے لیے آج بے شمار جدید ذرائع موجود ہیں، جن کی بدولت تربیت کے راستے پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دئے گئے ہیں۔ ایم ٹی اے کے سیٹلائٹ چینلز، یوٹیوب، موبائل ایپس، اور جماعتی اخبارات و رسائل جیسے بدر، الحکم اور الفضل، جہاں حضورِ انور کے خطبات، دورہ جات کی رپورٹس، ملاقاتوں اور رہنمائی کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں، یہ سب ایسے وسائل ہیں جو خلافت سے جوڑتے ہیں، ایمان کی پختگی پیدا کرتے ہیں اور روحانی تازگی عطا کرتے ہیں۔ پس جب سوشل میڈیا بے مقصد مصروفیت اور ذہنی آلودگی کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ہم انہی جدید ذرائع کو خلافت کی آواز سننے، دینی علم سیکھنے اور اپنی و اپنی اولاد کی تربیت کے لیے استعمال کریں۔ وسائل کی کمی نہیں ، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان سے فائدہ اٹھانا شروع کریں۔
MTAپر ہر جمعۃ المبارک کے روز This Week with Huzurکا پروگرام نشر ہوتا ہے جس میں حضور انور کی ہفتہ بھرکی مصروفیات اور میٹنگز کے دوران اہم ہدایات کا اجمالی رنگ میں تذکرہ ہوتا ہے۔ اس روحانی مائدہ سے سیراب ہوکر نونہالان جماعت اپنے اخلاقی، تربیتی اور روحانی معیار کو بلند تر کرسکتے ہیں۔ Friday Sermon For Kidsکا پروگرام ایم ٹی اے پر اور یوٹیوب میں دستیاب ہوتا ہے جس میں بچوں کو بھی حضور انور کے خطبات جمعہ سے استفادہ کی ترغیب دلائی جائے اور حضور انور کے خطبات جمعہ سے نوٹس نکالنے اور ان حقائق و معارف کی باتوں کو سلیس زبان میں سمجھانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔ ایم ٹی اے کے مختلف دلچسپ ڈاکومنٹریز، معلوماتی ڈسکشن پروگرامز، دروس اور بچوں کی دلچسپی کے پروگرامز ہوتے ہیں جن کی طرف بچوں اور نوجوانوں کی توجہ کو مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سوشل میڈیا کے بداثرات سے بچانے کے لئے نوجوانوں کو متبادل مصروفیات مہیا کرنے کے بارہ میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’آجکل سوشل میڈیا پر بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں ماں باپ کے سامنے خاموشی سے چیٹنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ پیغامات کا اور تصاویر کا تبادلہ ہورہا ہوتا ہے۔ نئے نئے پروگراموں میں اکاؤنٹ بنالئے جاتے ہیں اور سارا سارا دن فون، آئی پیڈ اور کمپیوٹر وغیرہ پر بیٹھ کر وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ اس سے اخلاق بگڑتے ہیں، مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہونے لگتا ہے اور بچے دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں۔ ان ساری باتوں پر نظر رکھنے اور انہیں محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے آپ کو ان کے لئے متبادل مصروفیات بھی سوچنا ہوں گی۔ انہیں گھریلو کاموں میں مصروف کریں۔ جماعتی خدمات میں شامل کریں اور ایسی مصروفیات بنائیں جو ان کے لئے اور معاشرہ کے لئے مثبت اور مفید ہوں۔‘‘
(پیغام برموقع سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ جرمنی 10؍جولائی 2016ء)
آج کے دور میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کی بجائے جماعتی علمی، تربیتی اور تحقیقی مواد سے استفادہ کریں، کیونکہ حقیقی طاقت ذہن اور علم کی بالیدگی میں ہے نہ کہ لامتناہی اسکرولنگ میں۔ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے کہ جماعت میں ایسی بے شمار کتب اور مواد موجود ہیںجو نہ صرف ایمان مضبوط کرتے ہیں بلکہ فکر و بصیرت کی دنیا بھی وسیع کرتے ہیں اور ہماری عقلوں کو روشن کرتے ہیں۔چند کتب جنہیں نوجوانوں کو ہمیشہ اپنے مطالعہ میں رکھنے کی ضرورت ہے وہ میں آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں یہ اکثر کتب انگریزی زبان میں بھی الاسلام ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ قرآن کریم کی گہری فہم کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ترجمۃ القرآن کلاسز کو یوٹیوب پر باقاعدگی سے سنیں، Five Volume Commentary کا مطالعہ کریں، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی’’تفسیر سورۃ الفاتحہ‘‘ کے مطالعہ سے اپنے آپ کو قرآنی علوم سے آراستہ کریں۔ مزید علمی اور تحقیقی گہرائی کے لیے Revelation, Rationality, Knowledge & Truthکا مطالعہ کریں۔ اسلامی تاریخ اور احمدیت کے بنیادی علم کے لیےدیباچہ تفسیر القرآن، خلافت راشدہ، اسلام میں اختلافات کا آغاز، سیرت خاتم النبیینؐ کی تین جلدیں، حضرت احمد علیہ السلام (تصنیف حضرت مصلح موعودؓ)، حضرت حکیم مولوی نورالدینؓ از چوہدری ظفر اللہ خان صاحب، فضل عمر از شیخ مجیب الرحمن صاحب اور "A Man of God" از این ایڈمسن نہ صرف اسلام اور احمدیت کی تاریخ ہیںبلکہ روحانی ترقی کا خزانہ ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی حقیقت اور اس کی بنیادی سمجھ کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے لئےAn Elementary Study of Islam اورSalat-The Muslim Prayer Bookنوجوانوں کے لیے بہترین رہنما ہیں۔ اسلامیات میں پختگی کے لیے اسلامی اصول کی فلاسفی، عصرِ حاضر کے مسائل اور ان کا حل، مذہب کے نام پر خون، Our Godاز حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور ہستی باری تعالیٰ کے دس دلائل جیسی کتب ایمان کی مضبوطی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اسی طرح تبلیغی صلاحیت بڑھانے کے لیے World Crisis and the Pathway to Peace، اسلام کا اقتصادی نظام، A Message for our time اور پیغامِ صلح جیسی کتب نہایت مفید ہیں۔ اور اپنی روحانی تربیت اور عملی زندگی کو سنوارنے کے لیے کشتی نوح، ضرورت الامام، اصلاح اعمال اورہماری ذمہ داریاں، شرائط بیعت اورایک احمدی کی ذمہ داریاں جیسی کتب ہر نوجوان کے لیے مستقل ذوقِ مطالعہ کا حصہ ہونا چاہئے۔ اگر ہمارے نوجوان اپنا روزانہ کچھ وقت ان ذرائع کے لیے نکالیں تو وہ نہ صرف سوشل میڈیا کی آلودگیوں سے محفوظ رہیں گے بلکہ علم، فکر، عمل اور قربِ الٰہی کے میدانوں میں بھی نمایاں ترقی پائیں گے۔
اسی طرح بھارت میں جماعت کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مثلاً ایڈیشنل نظارت اصلاح و ارشاد نورالاسلام، ایم ٹی اے انڈیا، شعبہ پریس اینڈ میڈیا بھارت کے سوشل میڈیا ہینڈلز ہیں اور لائٹ آف اسلام ویب سائٹ موجود ہے، جن پر اعلیٰ معیاری دینی، علمی اور تبلیغی مواد مسلسل شائع ہوتا ہے۔ نوجوان اگر ان ذرائع کو اپنائیں تو نہ صرف یہ وقت کا بہترین استعمال ہوگا بلکہ ایمان، علم اور فکر میں بھی مضبوطی پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ جماعت کے مرکزی رسائل اخبار بدر، ریویو آف ریلیجنز اور الحکم ہے جنہیں باقاعدگی سے پڑھنے کی عادت بھی حقیقی روحانی ترقی اور فکری پختگی کا ذریعہ ہے۔ یہ سب سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ایسے متبادل ہیں جو نوجوانوں کو مصروف بھی رکھتے ہیں اور محفوظ بھی۔
حضرات!حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں بارہا اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہےکہ اس دور میں جو نئی ایجادات ظہور میں آرہی ہیں، وہ دراصل اسلام اور احمدیت کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت کے نشان ہیں۔دور جدید کے سائنسی ایجادات میں سے خاص طور پر اس وقت سوشل میڈیا ہی رائج الوقت ایسا واحدذریعہ ہے جو اسلام کی حقانیت اورحضرت محمد ﷺ کے فیضان کو برق رفتاری سے کل عالم تک پھیلانے کے لئے اور پہنچانے کےلئے بہت ممد و معاون اور سُود مند ثابت ہورہا ہے۔
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ہر ذریعہ تبلیغ کو استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ جدید ذرائع کا استعمال نوجوان زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔مختلف ویب سائٹس ہیں ان میں مختلف قسم کے بیہودہ اعتراضات آتے ہیں ان کو سچائی کے پیغام سے بھردیں۔ اگر علم میں کمی ہے تو اپنے بڑوں اور مبلغین سے مدد لیں۔ آج دنیا میں رہنے والے ہر خادم کو ان مہمات کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔ تبھی توحید کے قیام میں حقیقی کردار ادا کرسکیں گے۔ مسیح محمدی کے خدام تو نئے ذرائع کے ذریعہ سے تمام دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرسکتے ہیں۔ پس اس بات پر خاص توجہ دیں۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ 24؍ستمبر 2010ء)
مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے سالانہ اجتماع پر 18؍ستمبر 2017ء کے خطاب میں نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ:
’’ہمارے نوجوان بھی فضولیات اور لغویات اورلہوولعب کے پیچھے چل پڑے تو دنیا کے طالبان حق کو کون سنبھالے گا؟ اگر احمدی نوجوانوں کے کانوں میں ہر وقت آج کل کی ایجادات MP3یا دوسرے ذرائع سے میوزک اور گانے سننے کے لئے Earphoneلگے رہے تو آپ کے ماحول میں نیکیوں کو کون پھیلائےگا؟ کون ہوگا جو نیکیوں میں آگے بڑھ کر پھر پیچھے رہنے والوں کو اوپر کھینچنے کی کوشش کرے گا۔ اپنی ذات میں MP3ایک الیکٹرانک کی جو دوسری ایجادات میں بری نہیں ہیں۔ ان کا غلط استعمال برا ہے۔ ان کا صحیح استعمال ان میں دین کے حق میں مضبوط دلائل بھر کر کریں۔ پھر کانوں میں لگائیں اور سنیں تاکہ دلائل آپ کو یاد ہوں۔‘‘
سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں اسلام اور احمدیت کے خلاف بےبنیاد اعتراضات، غلط فہمیاں اور الزام تراشی عام ہوتی جارہی ہے۔ خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذاتِ اقدس پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہماری غیرتِ ایمانی کا تقاضا ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ رہیں بلکہ مدلل، شائستہ اور جماعتی مطبوعہ مواد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اعتراضات کا علمی رد کریں۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ ہم مثبت انداز میں سوشل میڈیا کے میدان میں اسلام اور احمدیت کا دفاع کرتے ہوئے حق کی آواز کو بلند کریں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے Islam in Indiaکے یوٹیوب چینل میں مختلف اعتراضات کے مدلل اور ٹھوس جوابات جماعتی طور پر دئے جارہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان جوابات کو پہلے سنیں اور خود اپنے علم میں اضافہ کریں۔ اور ان جوابات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئر کریں اور جہاں پر بھی ایسے اعتراضات ہمیں نظر آئیں ان پلاٹ فارمز میں بھی ایسے اعتراضات کے جوابات کو شیئر کریں۔
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سوشل میڈیا کے ذریعہ تبلیغ کے حوالہ سے نئی نسل کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ہماری جماعت کے فائدہ کے لئے جدید مواصلاتی نظام اور میڈیا جیسے ذرائع ابلاغ کی سہولیات مہیا کردی ہیں۔ دنیا کے ہر کونہ میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے یہ ذرائع بہت اہم ثابت ہورہے ہیں۔ جیسا کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ ہماری جماعت کا پیغام زمین کے کناروں تک پہنچ رہا ہے۔ تاہم یہ صورتحال ہماری ذمہ داری کو مزید بڑھادیتی ہے کیونکہ جو لوگ ہمارا پیغام سن رہے ہیں وہ یہ جاننے کے لئے ہماری جانب دیکھیں گے کہ آیا ہم جو کہہ رہے ہیں اس پر خود عمل بھی کرتے ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ دیکھیں گے کہ ہم جو تعلیمات پیش کر رہے ہیں وہ تو سچی ہیں لیکن احمدیوں کے اپنے عملی معیار میں کمزوری پائی جاتی ہے تو اس کا اُن پر مثبت اثر ہونے کے بجائے منفی ہونے کا احتمال ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے ہمارا پیغام تو سنیں گے مگر یہ محسوس کریں کہ پرانے احمدیوں کا عملی معیار توقع کے مطابق نہیں ہے تو وہ اسلام کا حقیقی پیغام پھیلانے اور اس پر عمل کرنے کا بیڑا اٹھالیں۔ ایسی صورتحال میں ہماری جماعت یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی ترقی اورکامیابی کا سہرا ان نئے آنے والے نیک لوگوں کے سر ہوگا اور پیچھے رہ جانے والے ان برکتوں سے محروم رہ جائیں گے۔ پس پیچھے رہ جانے والوں میں آپ کا شمار نہ ہو۔ بلکہ احمدیت کی سچائی پھیلانے والوں کو صف اول میں نہ صرف اپنے قول سے بلکہ اپنے عمل اور کارناموں کے ذریعہ بھی شامل ہوجائیں۔ آپ اس روشنی کا منبع بن جائیں جس کی کرنیں اسلام کی سچائی کو روشن کردے۔‘‘
(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 25؍مارچ 2015ء)
حضرات! سوشل میڈیاسے چھٹکارا تو مل نہیں سکتا ہاں اس کی بدی سے اپنے آپ کو اور اپنی آئندہ نسل کو محفوظ رکھنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے۔ آنحضورﷺ اپنے صحابہ کو شیطانی حملوں سے بچنے کے لئے دعائیں سکھاتے تھے اورآپﷺ نے ایک جامع دعا سکھلائی ہے جو عصر حاضر کی برائیوں سے بچنے کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ کرنی چاہئے اور وہ دعا یہ ہے کہ:
’’اے اللہ ہمارے دلوں میں محبت پیدا کردے۔ ہماری اصلاح کردے اور ہمیں سلامتی کی راہوں پر چلا۔ اور ہمیں اندھیروں سے نجات دے کر نور کی طرف لے جا اور ہمیں ظاہری اور باطنی فواحش سے بچا اور ہمارے لئے ہمارے کانوں میں، ہماری آنکھوں میں، ہماری بیویوں میں اور ہماری اولاد میں برکت رکھ دے اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔ یقینًا تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کا ذکر خیر کرنے والا اور ان کو قبول کرنے والا بنا اور اے اللہ ہم پر نعمتیں مکمل فرما۔‘‘
یہ وہ دعا ہے جو دنیاوی غلط تفریح سے محفوظ کرنے کے لئے ہے۔ ہرقسم کی فضولیات سے روکنے کے لئے ہے۔ شیطان کے حملوں سے روکنے کے لئے ہے۔
انہی دعائیہ کلمات کے ساتھ میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم نئے دور کی ایجادات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیمی، تبلیغی اور تربیتی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے چلے جائیں اور ان کا صحیح استعمال کریں اور ان کے غلط استعمال سے گریز کریں۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین