دنیا اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن موڑ سے گزر رہی ہے۔ بظاہر انسان نے سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور ذرائع ابلاغ کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کر لی ہے۔ فاصلے سمٹ چکے ہیں، معلومات چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہیں، علاج و معالجہ کے نئے ذرائع میسر ہیں اور زندگی کے بے شمار معاملات آسان ہو چکے ہیں۔ مگر اس تمام مادی ترقی کے باوجود انسانیت آج بھی اضطراب، خوف، بے یقینی اور بے سکونی کا شکار ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے، معاشی بحران شدت اختیار کر رہے ہیں، اخلاقی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں، خاندانی نظام بکھر رہا ہے، مذہبی و نسلی تعصبات فروغ پا رہے ہیں، اور طاقتور اقوام اپنے مفادات کے حصول کے لیے کمزور قوموں کو دبانے میں مصروف ہیں۔ یہ تمام حالات چیخ چیخ کر اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ انسان نے مادی ترقی تو حاصل کر لی، مگر حقیقی امن کا راستہ کھو دیا ہے۔
آج مشرقِ وسطیٰ، یورپ، ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک سیاسی عدم استحکام، جنگی کشمکش اور اقتصادی ابتری کا شکار ہیں۔ عالمی ادارے، جنہیں انصاف اور امن کے قیام کے لیے بنایا گیا تھا، اکثر بے بسی کی تصویر دکھائی دیتے ہیں۔ طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے اور انصاف کی جگہ مفاد نے لے لی ہے۔ نتیجتاً دنیا میں نفرت، بداعتمادی، انتہا پسندی اور تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔
ایسے پُرفتن حالات میں دنیا ایک ایسے رہنما کی متلاشی ہے جو اسے حقیقی امن کی راہ دکھا سکے۔ یہ کامل اور دائمی راہنما آنحضرت ﷺ ہیں جنکی راہنمائی اسلام کی پاکیزہ تعلیم میں موجود ہے، اور جماعت احمدیہ مسلمہ اسی حقیقی اسلامی تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔
اسلام امن، محبت، عدل، رواداری اور انسانی احترام کا مذہب ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ (النحل: 91)
ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ عدل، احسان اور اقرباء سے حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، ناپسندیدہ باتوں اور سرکشی سے منع فرماتا ہے۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ معاشرتی امن صرف اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب عدل و انصاف کو ہر سطح پر قائم کیا جائے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلٰى اَلَّا تَعْدِلُوْا ۚ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى (المائدہ: 9)
ترجمہ: کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روکے۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔
یہ وہ سنہری اصول ہے جو بین الاقوامی تعلقات، قومی معاملات اور ذاتی زندگی ہر سطح پر امن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی عملی زندگی سے دنیا کو امن و سلامتی کا وہ عظیم نمونہ دکھایا جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپؐ نے دشمنوں کے لیے بھی رحم، درگزر اور عدل کا مظاہرہ فرمایا۔ فتح مکہ کے موقع پر جب آپؐ کے سامنےآپکے بدترین دشمن کھڑے تھے، آپؐ نے فرمایا:
’’لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ‘‘
(آج تم پر کوئی گرفت نہیں)
یہ اعلان دراصل امن، معافی اور اعلیٰ اخلاق کی وہ مثال تھا جس نے دلوں کو فتح کر لیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دنیا میں اﷲ تعالیٰ نے امن اور عدل کے قائم رکھنے کے لیے کچھ قواعد مقرر فرمائے ہیں۔ وہ قوانین اس قسم کے ہیں کہ اُن کو نظرانداز کرنے اور اُن سے لاپرواہی کرنے سے نہ تو کوئی خود امن سے رہ سکتا ہے نہ دوسرے رہ سکتے ہیں۔
تم یہ بات ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ بِلاامن کے بھی کوئی آرام میسر ہو سکتا ہے۔
دنیا میں جتنی بےچینیاں ہیں وہ سب بےامنی کا نتیجہ ہیں بلکہ بےاطمینانی نام ہی بےامنی کا ہے۔ غور کرو جس شخص کی آنکھ، ناک، کان، زبان، انتڑی، معدہ، پھیپھڑا، جگر، دل، تلی وغیرہ سب امن میں ہوں کیا وہ بےآرام ہوا کرتا ہے، انسان کب بےآرام ہوتا ہے؟ تبھی جب اُس کے جسم میں امن نہیں رہتا۔ اُس کے جسم کے کسی حصہ میں جنگ شروع ہوتی ہے وہ تمام بےچینیاں جو جسم سے متعلق ہیں تب ہی ہوتی ہیں جب جسم کے کسی حصہ میں بےامنی ہو۔ یہی حالت جذبات اور خیالات میں بےچینی کی ہے۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ۳۰؍ جون ۱۹۲۲ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
موجودہ زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مذہب کا اصل مقصد انسان کو خدا تعالیٰ سے جوڑنا اور بنی نوع انسان کی خدمت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ اسلام کی اشاعت تلوار یا جبر سے نہیں بلکہ دعا، دلیل، اخلاق اور محبت سے ہونی چاہیے۔
اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں اپنی صحیح قدروں کی پہچان کرنی ہو گی۔ اب آج کل کی صورتِ حال کس قدر فکر انگیز ہے۔ کہاں تومومن کو یہ حکم ہے کہ مومن ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم بھی یہ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ (الحجرات: 11) کہ مومن تو بھائی بھائی ہیں۔ لیکن بعض ملکوں میں مثلاً مصر سے بھی اور دوسرے ملکوں سے بھی یہ خبریں آئی ہیں کہ حکومت نے قانونی اختیار کے تحت عوام کے خلاف جو کارروائی کی ہے وہ تو کی ہے لیکن اسی پر بس نہیں بلکہ عوام کو بھی آپس میں لڑایا گیا ہے۔ جو حکومت کے حق میں تھے اُنہیں اسلحہ دیا گیا۔ گویا رعایا، رعایا سے لڑی اور اُس میں حکومت نے کردار ادا کیا۔ مسلمان ملک اگر جمہوری طرزِ حکومت اپنانے کا اعلان کرتے ہیں تو پھر جب تک عوام کسی قسم کے پُرتشدد احتجاج کا اظہار نہیں کرتے، اُس وقت تک حکومت کو بھی برداشت کرنا چاہئے۔ لیکن خبروں کے مطابق تو ایسا ردّعمل احتجاج پر بھی حکومتوں کی طرف سے ظاہر ہوا ہے جس نے سینکڑوں جانیں لے لی ہیں۔ تو ایک طرف تو مغرب کی نقل میں جمہوریت کا نعرہ ہے اور دوسری طرف برداشت بالکل نہیں ہے اور پھر مُستزاد یہ کہ مسلمان مسلمان پر ظلم کر رہا ہے۔ اگر جمہوریت کی نقل کرنی ہے توپھر برداشت بھی پیدا کرنی چاہئے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کو جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا وہ بھی انہوں نے نہیں کیا۔ کوئی اصلاح کی کوشش نہیں ہوئی۔ یہ سب کچھ گزشتہ چند ہفتوں میں مصر، تیونس یا لیبیا وغیرہ دوسرے ملکوں میں ہوا یا ہو رہا ہے۔ یا جو کچھ ایک لمبے عرصے سے شدت پسندوں کے ہاتھوں افغانستان اور پاکستان میں ہو رہا ہے، یہ سب عالمِ اسلام کی بدنامی کا باعث ہے۔ یہ سب اُس بھائی چارے کی نفی ہو رہی ہے جس کا مسلمانوں کو حکم ہے کہ بھائی چارہ پیدا کرو۔(خطبہ جمعہ 25؍ فروری 2011ء)
ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
اسلامی نقطہ نگاہ سے ہر شخص کا انفرادی امن بھی اور معاشرے کا امن بھی اور دنیا کا امن بھی اُس ذات کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہے جو امن دینے والی ذات ہے جس کا ایک صفاتی نام اَلْمُؤْمِنْ ہے۔ اس نام سے فیض بھی وہی پائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حکم صِبْغَۃَ اللّٰہ کہ اللہ کے رنگ میں رنگین ہو، پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اِس سے دُور ہو کر ہر امن کی کوشش رائیگاں جائے گی۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ 6جولائی 2007ء)
موجودہ حالات میں نوجوان نسل ایک شدید فکری اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ سوشل میڈیا، مادہ پرستی اور بے راہ روی نے ان کی توجہ کو روحانی اور اخلاقی اقدار سے ہٹا دیا ہے۔ معلومات کی فراوانی کے باوجود کردار سازی کا فقدان نمایاں ہے۔ نوجوان بظاہر جدیدیت کے سمندر میں ہیں، مگر باطن میں بے چینی اور مقصدیت کے فقدان کا شکار ہیں۔
جماعت احمدیہ نوجوانوں کو نماز، تلاوتِ قرآن، خلافت سے وابستگی، خدمتِ خلق اور اعلیٰ اخلاق کی طرف بلاتی ہے۔ مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس انصاراللہ کے ذریعے تربیتِ اخلاق اور روحانی نشوونما کا ایک مؤثر نظام قائم ہے جو نوجوانوں کو معاشرے کا مفید فرد بناتا ہے۔
اسی طرح خاندانی نظام کی کمزوری بھی عصر حاضر کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مغربی معاشروں میں آزادی کے نام پر ایسے نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے جو خاندان کی بنیادوں کو متزلزل کر رہے ہیں۔ حالانکہ خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔
اسلام احمدیت مرد و عورت کے حقوق میں توازن، باہمی احترام، وفاداری، عفت اور پاکیزہ معاشرت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر گھر امن کا گہوارہ بن جائے تو پورا معاشرہ امن کا نمونہ بن سکتا ہے۔
آج دنیا میں امن کے قیام کے حوالے سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی آواز نہایت مؤثر اور بروقت ہے۔ حضورِ انور مسلسل عالمی راہنماؤں، پارلیمنٹس اور بین الاقوامی اداروں کو انصاف اور امن کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔
یہ الفاظ صرف نصیحت نہیں بلکہ موجودہ عالمی بحران کا حقیقی حل ہیں۔ حضورِ انور بارہا متنبہ فرما چکے ہیں کہ اگر دنیا نے انصاف کو ترک کیا تو ایک تباہ کن عالمی جنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ محض مادی ترقی انسان کو حقیقی سکون نہیں دے سکتی۔ جب تک روحانی اقدار زندہ نہ ہوں، جب تک عدل و انصاف قائم نہ ہو، جب تک انسان خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط نہ کرے، اس وقت تک دنیا میں امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
جماعت احمدیہ دنیا کے سامنے ایک جامع اور عملی پیغام پیش کرتی ہے:
’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘‘
یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اگر دنیا اس سنہری اصول کو اپنا لے تو نفرتوں کی جگہ محبت، جنگوں کی جگہ امن، اور انتشار کی جگہ بھائی چارہ قائم ہو سکتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق کی طرف رجوع کرے، عدل و انصاف کو اپنائے، انسانیت کے حقوق ادا کرے اور روحانی اقدار کو زندہ کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو حقیقی امن، سلامتی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ دنیا اس پیغام کو سمجھے، اسے اختیار کرے اور بنی نوع انسان حقیقی امن و سکون حاصل کر سکے۔آمین۔ ز ز ز