اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-14

خلافت احمدیہ اور اسلام کا عالمگیر روحانی غلبہ (شیخ مجاہد احمد شاستری، اُستاد جامعہ احمدیہ قادیان)

اسلام کا عالمگیر روحانی غلبہ
خلافت احمدیہ کے ساتھ وابستہ ہے
ہمارے ہادیٔ کامل خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمام جہانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے مبعوث ہوئے اور آپؐکی بعثت کی چار اہم اغراض کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ الجمعہ میں یوں موجود ہے:
ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ٭ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔(الجمعة:3)
ترجمہ : وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔
الٰہی حکم کےمطابق رسول اللہﷺ نے تمام دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے کامل شریعت کے ساتھ کامل اسوۂ حسنہ بھی عطا فرمایا۔ لیکن خدا تعالیٰ کا اصول ہے کہ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (العنكبوت:58) یعنی ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔ تو انبیاء کو بھی بصورت بشر اس مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہےاور ایک معینہ مدت تک پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچاکر اپنے مالک حقیقی سے جاملنا ہوتا ہے۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے کاموں کو پورا کرنے اور ان کی برکات کے زمانہ کو ممتد کرنے کے لیے نظام خلافت کو جاری فرمایا۔رسول اللہﷺ کی وفات کے بعدخلفائے راشدین حضرت ابوبکرؓ،حضرت عمر فاروقؓ،حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ نے رسول اللہﷺ کی کامل اقتدا و پیروی میں امت مسلمہ کی ہدایت و راہنمائی کا بیڑا اٹھایا اوربانیٔ اسلامؐ کی تعلیمات کو آگے بڑھاکراسلام کے غلبہ کے سامان پیدا فرمائے اور برکات رسالت سے امت مسلمہ کو فیضیاب کرتے رہے۔
خلافت احمدیہ بھی آنحضرت ﷺ کی بابرکت خلافت راشدہ کی ہی ایک کڑی اور اور ایک حصہ ہے۔ اس کی بنیاد سورۃ الجمعہ میں اللہ تعالیٰ نے خود ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ
وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۝
(سورۃ الجمعہ آیت نمبر4)
اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اسے بھیجے گا) جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔
اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی دوسری بعثت کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے۔اور یہ پیشگوئی بانئی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی بعثت کے ذریعہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ الٰہی وعدوں کے مطابق آپ کی وفات کے بعد27 مئی1908ء سے جماعت احمدیہ میں قدرت ثانیہ کا ظہور خلافت احمدیہ کے ذریعہ ہوا۔
پس خلافت احمدیہ سے مراد، وہ عظیم الشان آسمانی نظام ہے جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق بانئی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی وفات (26 مئی 1908ء)کے بعد 27 مئی1908ء کو قائم ہوا۔
دَورِ آخرین میں اسلام کا عالمگیر روحانی غلبہ خلافت احمدیہ کے ذریعہ مقدر ہے جو صحیح اسلامی عقائد کی علمبردار اور حقیقی اسلام کی ترجمان ہے۔ جماعت احمدیہ عالمگیر کے بانی حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کی بابرکت تحریرات میں سے دو مختصر حوالوں کے ساتھ اس بات کو بیان کرتا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
’’دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا۔ یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں۔ یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ ‘‘
(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد17 صفحہ 182)
روحانی خلافت کے دس عظیم مقاصد
اور اسلام کا عالمگیر روحانی غلبہ
انبیاء کے بعد قائم ہونے والی روحانی خلافت کے دس عظیم مقاصد ہوتے ہیں۔اور یہ حقیقت ہے کہ یہ مقاصدصرف خلافت کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ مقاصد عشرہ حسب ذیل ہیں:
اوّل :
عمومی رنگ میں شریعت کی تنفیذ خلافت کا اولین مقصد ہے کیونکہ نبی کی وفات کے بعد یہ اہم ذمہ داری خلیفہ کے ذمہ ہوتی ہے اور یہ بڑا وسیع کام ہے۔
دوم:
انسانوں میں حقوق وغیرہ کے متعلق تنازعات ہوتے ہیں۔ مومنوں میں بھی ایسے تنازعات وغیرہ ہوسکتے ہیں۔ان تمام تنازعات اور اختلافات کا شریعت کے مطابق فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ ورنہ شقاق اور اختلاف بڑھتا جاتاہے ۔اسلام نے اس کے لئے قضا کا نظام مقرر کیا ہے قاضی دراصل خلافت کے نمائندے ہوتے ہیں اور ان پر لازم ہوتاہے کہ خلیفہ وقت کی طرح بالکل غیر جانبدار رہیںاسلام نے اس سلسلہ میں آخری قاضی نبی کی وفات کے بعد خلیفہ کو تسلیم کیا ہے جس کا فیصلہ (دینی)نظام میں آخری ہوتاہے۔ پس خلافت کا وجود باہمی تنازعات کے فیصلہ کے لئے بھی ضروری ہے۔
سوم:
خلافت کے ذریعہ جماعت کا شیرازہ قائم رکھا جاتاہے اور ان میں اتحاد و اتفاق کی بنیاد کو مضبوط کیا جاتاہے۔ جب تک کسی قوم کا ایک واجب الاطاعت امام نہ ہو ان کی شیرازہ بندی نہیں ہوسکتی۔
چہارم:
خلیفہ روحانیت میں بھی نبی کا جانشین ہوتاہے۔ خلافت کی ایک اہم غرض روحانیت کا انتشار اور نبی کے فیوض کے زمانہ کو لمبا کرناہے۔ خلافت گویا نبوت کا ظل یا اس کا تتمہ ہوتی ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر نبوت کے بعد لازما خلافت ہوتی ہے۔(کنزالعمال)
پنجم:
خلافت کا ایک بڑااہم مقصد اشاعت دین کے لئے متحد جدوجہد کرنا اور اس کے لئے اسباب مہیا کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک مجاہدین کی روحانی فوج کا کمانڈر نہ ہو وہ باقاعدہ اور کامیاب جنگ نہیں کرسکتی خلیفہ اشاعت اسلام کرنے والے مجاہدین کا کمانڈر ہوتاہے اور مناسب طریق پر ان سے مختلف محاذوں پر کام لیتاہے۔
ششم:
جماعت کی روحانی تربیت اور ان کی تعلیم کا انتظام بھی خلافت کے نظام سے وابستہ ہے جس طرح نبی اپنی جماعت کا تزکیہ نفوس کرتاہے انھیں کتاب الہٰی سے آگاہ کرتاہے اور تعلیم دین کے لئے سب ذرائع اختیار کرتاہے اسی طرح خلیفہ کا فرض ہے کہ ان سب طریقوں سے تعلیم و تربیت کا انتظام پایہ تکمیل تک پہنچائے بالخصوص علم دین کی ترویج خلیفہ کا اولین کام ہے۔
ہفتم:
دشمنان دین کے مکائد اور ان کی سازشوں کا پورا پورا علم حاصل کرکے ان کے مقابلہ کی سکیموں کو عملی جامہ پہنانا خلافت کے فرائض میں شامل ہے کیونکہ اس نظام کے بغیرمومنوں کے خوف کو امن سے نہیں بدلا جاسکتا اور نہ ہی دشمن کے شرّ کا صحیح مقابلہ کیا جاسکتاہے۔ یہ کام بھی منظم طور پر خلافت کے ذریعہ ہی ہوسکتاہے۔
ہشتم:
مالی قربانیوں کے ذریعہ جہاد کو مسلسل رکھا جاسکتاہے یہ قربانی نفس کی اصلاح کے لئے بھی لازمی ہے مالی قربانیوں کے سلسلہ کو باقاعدہ رکھنے کے لئے جس روح کی ضرورت ہے اسے پیداکرنا،بیدار رکھنا اور ترقی دیتے جانا خلافت کی ذمہ داری ہے۔خلافت کے بغیر دائمی طور پر یہ روحِ قربانی قائم نہیں رکھی جاسکتی۔
نہم:
نبیوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے نشانات دکھاتاہے۔ اپنی قدرت نمائی فرماتاہے یہ نشان نمائی مذہب کی روح ہے اس کے بغیر مذہب محض چھلکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نبیوں کے بعد خاص طور پر ان خلفاء کے ذریعہ یہ نشان دکھاتاہے تاکہ مخالفین پر حجت قائم ہوتی رہے اور جماعت حقہ کے لئے اطمینان اور ازدیاد ایمان کے سامان پیداہوتے رہیں۔ بلاشبہ نبی کے ماننے والے سارے سچے مومنوں کو حسب مراتب یہ روحانی قوت دی جاتی ہے مگر خلیفہ نبی کا پورا جانشین ہوتاہے اس لئے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت نمائی واضح طور پر پوری ہوتی ہے اور یہ خلافت کی ایک عظیم روحانی ضرورت ہے۔
دہم:
جماعت مومنین کی روحانی ترقی اور تربیت ، اور اسلام کےعالمگیر غلبہ کے لئے سب ظاہری سامانوں کے ساتھ ساتھ سوزوگداز سے نکلی ہوئی دعائیں بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ دعائیں جس طرح روحانی باپ اپنے بیٹوں کے لئے کرتاہے اور کوئی نہیں کرسکتا ۔ اس لئے نبی کے بعد ایسے روحانی وجودوں کی اہمیت اور ضرورت عیاں ہے جو دن رات پورے درد دل سے اپنی روحانی اولاد کے لئے آستانہ الہٰی پر فرسا ہوتاہے۔ پس روحانی غلبہ کے لئے خلیفہ وقت کی عظیم الشان دعائیں بھی ایک ضروری امر ہے۔
اسلام کا عالمگیر روحانی غلبہ بذریعہ خلافت احمدیہ
جیسا کہ قبل ازیںبیان کیا جا چکا ہے کہ خلافت نبوت کے بعد قائم ہوتی ہے اور یہ نبوت کی قائم مقام ہوتی ہے اور اس کو نبوت کا ظل (سایہ ) بھی کہتے ہیں۔ نبی اپنی زندگی میں اﷲ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے لیکن انسان ہونے کی وجہ سے وہ بھی ایک دن اس فانی دنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے نبی کے کاموں کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لئے خلافت کا نظام قائم کیا ہوا ہے۔ اس لئے خلافت کو نبوت کا تکملہ اور تتمّہ بھی کہتے ہیں۔ خلافت نبی کے جاری کردہ منصوبوں اور سکیموں کو پورا کرنے کے ساتھ زمانے کے حالات کے مطابق ان میں وسعت پیدا کرتی ہے۔
1. خلافت کی ذمہ داریاں
خلافت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا جو عظیم نظام جماعت احمدیہ میں قائم ہے اس کا ذکر کرنے سے پہلے خلافت کی ذمہ داریوں کو مختصراً چند فقروں میں بیان کرنا مناسب خیال کرتا ہوں۔
خلافت کے فرائض /ذمہ داریاں اس قدر وسیع اور عالمگیر ہیں کہ تمام دینی اور دنیوی مقاصد کی تکمیل اس کے تحت آجاتی ہے لیکن اس کی اجمالی تشریح صرف ایک فقرہ میں کی جاسکتی ہے یعنی پیغمبر کے کاموں کو قائم اور باقی رکھنا ہر خارجی آمیزش سے پاک و صاف رکھنا اور ان کو ترقی دینا، یہ فقرہ ایک لفظ میں بھی سما سکتا ہے یعنی اقامتِ دین ۔لیکن یہ لفظ خود اس قدر وسیع ہے کہ تمام دینی و دنیوی مقاصد کو شامل کر لیتا ہے اور اقامت ارکان اسلام مثلاً نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، امر بالمعروف نہی عن المنکر ، جہاد ، نصب قضاء ، اقامتِ حدود اور وعظ و پندو تعلیم و تربیت اور اشاعتِ اسلام سب اس کی جز ئیات میں داخل ہو جاتے ہیں۔
اب اس عظیم نظام کے متعلق کچھ گذارشات پیش کی جارہی ہیں جو اسلام کےعالمگیر غلبہ اور خلافت کی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے  خلیفہ وقت پر ڈالی ہیں۔
خلافت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا عظیم نظام:
خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے جو عظیم نظام جماعت احمدیہ نے قائم کیا ہوا ہے اس کی جھلکیاں مندرجہ ذیل سطور میں پیش کی جاتی ہیں:
صدر انجمن احمدیہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت میں ۱۹۰۵ء میں وصیت کا ایک نظام قائم فرمایا اور پھر اس نظام کے تحت جو آمدنی اور خرچ ہونا تھا اس کے حساب کتاب کو درست رکھنے کے لئے ایک انجمن بنائی جس کا نام ’’انجمن کارپرداز ان مصالح بہشتی مقبرہ ‘‘ رکھا۔
اس کے بعد کچھ وسعت دے کر ۱۹۰۶ء میں اس کا نام ’’ صدر انجمن احمدیہ‘‘ رکھا گیا۔ جس کادائرہ کار جماعتی وسعت اور ترقی کے ساتھ ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا۔
چنانچہ اندرون ملک کی جماعتی ، انتظامی، تربیتی اور تعلیمی و اصلاحی اغراض کو پورا کرنے کا فریضہ خلیفہء وقت کی ہدایات کے ماتحت موجودہ صدر انجمن احمدیہ کے سپرد ہو گیا۔ جیسے جیسے تبلیغی کام میں وسعت پیدا ہوتی گئی تو تبلیغی سرگرمیوں کو باقاعدہ اور مؤثر بنانے کے لئے کئی اور ادارے اس تبلیغی کام کو سرانجام دینے میں شامل ہو گئے۔
صدر انجمن احمدیہ کے کئی شعبہ جات میں اور ان شعبہ جات کی پہچان نظارتوں کے نام سے ہے اور ہر نظارت چند مخصوص فرائض انجام دیتی ہے۔ ہر نظارت کا افسر اعلیٰ ناظر کہلاتا ہے اور تمام نظارتین خلیفہء وقت کی ہدایات کے تحت جملہ امور انجام دیتی ہیں۔
تحریک جدید:
جماعت کے تبلیغی او ر اشاعتی دائرہ کو وسعت دینے اور ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانے کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے 23؍نومبر 1934ء میں اس تحریک کی بنیاد رکھی۔ یہ تحریک جواب ایک باقاعدہ ادارے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اسلام کی اشاعت اور تبلیغی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور مؤثر بنانے میں بہت ہی اہم کر دار ادا کر رہی ہے۔ اس تحریک کی بدولت اسلام اکناف عالم میں پھیل چکا ہے اور لوگ فوج در فوج دینِ حق کی آغوش میں آ رہے ہیں۔
تحریکِ وقفِ جدید
یہ تحریک خلیفۃ المسیح الثانی کی آخری تحریک ہے۔ اس کا قیام ۱۹۵۸ء میں ہوا۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد دیہاتی احمدیوں کی دینی اور دنیوی تعلیم میں اضافہ کرنا اور ان کی تربیت کرنا تھا۔ دوسری سطح پر اسلام کی تبلیغ اور اشاعت تھی۔ اس تحریک کی وجہ سے دیہاتوں میں احمدی افراد میں ایک نیاولولہ اور جوش بیدار ہوا اور انہوں نے ہر میدان میں ترقی کی ہے۔
تحریک جدید کے ذریعہ اکناف عالم میں اشاعت اسلام
سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ نے اسلام کی اشاعت کے کام میں وسعت اور تیزی لانے کے لئے تحریک جدید کا بابرکت نظام قائم فرمایا۔ اس نظام کے ذریعہ ساری دنیا میں انتہائی سرعت کےساتھ اسلام احمدیت کی اشاعت کا کام ہوا۔
خلافت اولیٰ کے آغاز میں لندن میں حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحبؓکےذریعہ اسلام کی اشاعت کا کام شروع ہو چکا تھا۔ خلافت ثانیہ میں یہ انتہائی منظم رنگ میں بڑھنےلگا۔1924ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ بنفس نفیس لندن تشریف لے گئے۔ مسجد فضل کا افتتاح عمل میں آیا۔ سارے یورپ میں اس کے ذریعہ منظم رنگ میں اشاعت اسلام کا کام تیزی سےہونے لگا۔
1921ء میں حضرت مفتی محمدصاحب صادقؓ کےذریعہ امریکہ میں احمدیت کا پیغام منظم طور پر پہنچا۔ بکثرت امریکن خصوصاً افریقن نسل کے امریکن اسلام میں شامل ہوئے۔
1924ء کے زمانہ میں عرب میں ممالک میں اسلام کی تبلیغ کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے مبلغین بھجوانےشروع کر دئے تھے۔ اور یوں تحریک جدید کےذریعہ ساری دنیان میں اشاعت اسلام و احمدیت تیزی سے ہونےلگی۔
ذیلی تنظیمیں
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت میں ذیلی تنظیمیں قائم کیں جو مندرجہ ذیل ناموں سے مشہور و معروف ہیں:
1- لجنہ اماء اﷲ
2- ناصرات الاحمدیہ
3- خدام الاحمدیہ
4- انصار اﷲ
5- اطفال الاحمدیہ
جامعہ احمدیہ
جیسا کہ پہلے یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ خلافت کی سب سے اہم ذمہ داری تبلیغ اور اشاعت دینِ حق ہے۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے خلافت کو جہاں دیگر ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اس ذمہ داری کو احسن طریق پر انجام دینے کے لئے مبلغین کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور مبلغین تیار کرنے اور پھر ان سے حسب ضرورت کام لینے کے لئے کئی ادارے کام کرتے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم ادارہ جامعہ احمدیہ ہے۔
یہ ایک عظیم دینی درسگاہ ہے۔ جس سے تربیت پانے والے واقفین زندگی تعلیمی تربیتی اور تبلیغی غرض یہ کہ ہر محاذ پر گرانقدر خدمات سر انجام دے دیتے ہیں۔ یہ ادارہ اب تک ہزاروں افراد کو عملی میدان میں سرگرم ہونے کے لئے تیار کر چکا ہے۔
تحریکِ وقفِ نو:
اس تحریک کا اعلان حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ۳؍اپریل ۱۹۸۷ء کو بیت الفضل لندن میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔ حضور نے فرمایا کہ آیندہ آنے والے وقتوں میں ہمیں ہر میدان میں واقفین کی اشد ضرورت ہے اس لئے ہماری جماعت کو بچوں کو اس تحریک کے تحت وقف کرنا چاہئے تاکہ آیندہ کے لئے ہماری ضروریات پوری ہو سکیں۔ یہ واقفین نو آیندہ تبلیغ حق کے لئے سرگرم ہوں کے اور دیکر خدمات بھی سرانجام دیں گے۔ خدا کے فضل سے ہزاروں بچے اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں اور اس کے لئے باقاعدہ ایک نظارت وقف نو کے نام سے قائم ہو چکی ہے۔
ایم ۔ٹی ۔اے کا قیام:
ایم ۔ ٹی۔ اے ایک عظیم الشان نعمت ہے جو جماعت احمدیہ کو نصیب ہوئی۔ ایم۔ٹی ۔اے درحقیقت متعدد پیشگوئیوں کا مجموعہ اور بے شمار خدا تعالیٰ کے فضلوں، احسانوں اور انعاموں پر مشتمل ایک عظیم الشان نشان ہے۔ ایم۔ٹی۔اے اشاعتِ اسلام اور تعلیم و تربیت کا ایک بہت ہی اہم اور مؤثر ذریعہ ہے اور ایم ۔ٹی ۔اے نظارت اشاعت کے تحت ان فرائض کو بہت ہی احسن طریق پر سرانجام دے رہا ہے۔ ایم۔ٹی۔اے اب تک کروڑ ہا انسانوں تک احمدیہ کا پیغام پہنچا چکا ہے۔ یہ احمدی بچوں ، بچیوں نیز بڑوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کا بہت مؤثر اور مفید ذریعہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات اور خطابات اور دیگر پروگراموں نے کئی دلوں کی کایا پلٹ دی ہے۔
انٹر نیٹ پر ویب سائیٹ:
جماعت احمدیہ کی طرف سے انٹرنیٹ پر ویب سائیٹ www.alislam.org جماعت احمدیہ امریکہ کی زیر نگرانی کام کر رہی ہے۔ انگریزی ویب سائیٹ کے علاوہ عربی، چینی اور فرانسیسی زبانوں میں بھی ویب سائیٹس موجود ہیں۔ ۱۷۰ کتابیں آن لائن آگئی ہیں۔ تفسیر کبیر، تفسیر صغیر، حقائق الفرقان اور فہم القرآن وغیرہ ان میں شامل ہیں۔ مختلف جماعتی اخبارات و رسائل اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ترجمہ القرآن کلاس بھی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ یہ احمدیت کی تبلیغ کا ایک اہم ذریعہ ہے جو اس ذمہ داری کو احسن طریق سے نبھا رہا ہے۔
تنازعات کا فیصلہ
خلافت کی ایک دوسری اہم ذمہ داری یہ ہے کہ افراد جماعت میں اگر تنازعات جنم لیں تو ان تنازعات کا فیصلہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ اگر باہم تنازعات جنم لیں تو ان تنازعات کا فیصلہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ اگر باہم تنازعات کا فیصلہ عدل و انصاف کے مسلمہ اصولوں کے تحت کر دیا جائے تو جماعت میں اتحاد اور اتفاق قائم رہتا ہے اور جماعت کا شیرازہ منتشر نہیں ہو گا۔
خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ میں تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کا بہترین نظام قائم ہے۔ اس نظام کی کچھ تفصیل مندرجہ ذیل سطور میں بیا ن کی جاتی ہے:
صدر حلقہ ، امیر جماعت ضلع:
ابتدائی طور پر فریقین میں مصالحت کروانے کا کام صدر حلقہ یا امیر جماعت ضلع کرتے ہیں۔ اگر مقامی سطح پر مصالحت نہ ہو سکے تو پھر یہ معاملہ صدر عمومی اور امور عاملہ میں آتا ہے اور ان اداروں میں مصالحت اور تصفیہ کروانے کی کوشش و سعی کی جاتی ہے۔ اگر وہاں پر مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہوں تو پھر قضاء کا ادارہ ان تنازعات کا فیصلہ کرتا ہے۔
نظارت امور عامہ:
یہ نظارت جماعت میں نظم و ضبط قائم رکھنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اس فریضہ کے علاوہ اس کا یہ کام بھی ہے کہ افرادِ جماعت میں جو تنازعات پیدا ہو جاتے ہیں ان کا تصفیہ کروائے۔ یہ نظارت فریقین کو تنازعات حل کرنے میں مدد دیتی ہے اور فریقین اپنی مرضی سے اپنے باہمی تنازعہ کو اس نظارت کی مشاورت سے ختم کرتے ہیں۔ اگر تصفیہ نہ ہو سکے تو فریقین اپنے معاملہ کو قضاء میں لے جاسکتے ہیں۔
(ج)صدر عمومی:
جماعت کی سطح پر اگر معاملہ صدر محلہ سے سلجھایا نہ جا سکے تو پھر معاملہ صدر عمومی کے پاس آتا ہے اور صدر عمومی کے مقرر کردہ افراد فریقین میں تصفیہ کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر فریقین تسلیم کر لیں تو ٹھیک ورنہ ان کو امور عامہ اور قضاء کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق ہے۔
(د)دارالقضاء کا قیام:
اوپر بیان کردہ ادارے صرف مصالحتی اور مشاورتی ادارے ہیں اور وہ یہ کام جزوی طور پر کرتے ہیں۔ تنازعات کا فیصلہ کرنے کا اصل ادارہ دارالقضاء ہے۔ جماعت احمدیہ میں اس ادارے کا قیام1919ء میں خلیفۃ المسیح الثانی کے دور خلافت میں ہوا۔ اس ادارے میں عالم باعمل اور معاملہ فہم لوگ بطور قاضی مقرر کئے جاتے ہیں۔ کسی کو اگر قاضی کا فیصلہ قبول نہ ہو تو پھر اس فیصلہ کی اپیل سننے کے لئے دارالقضاء میں بورڈ قائم ہیں اور اس کے بعد آخری اپیل حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس ہوتی ہے اور ان کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔
تعلیم کا بندوبست
کوئی قوم بھی تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ ہر قسم کی ترقی خواہ وہ دینی ہو اور خواہ وہ ترقی دنیوی ہو تعلیم کی مرہون منت ہے۔ تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر نظامِ جماعت ہر وہ طریقہ اور ذریعہ بروئے کار لاتا ہے جس سے احبابِ جماعت کی تعلیمی استعدادوں میں اضافہ ہو اور وہ تعلیم کے میدان میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرتے جائیں۔ درج ذیل سطور میں خلافت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے کی جانےوالی تعلیمی کوششوں کاذکر کیا جاتا ہے جو وہ اس بارے کرتی ہے اور کررہی ہے۔
نظارت تعلیم
صدر انجمن احمدیہ میں احباب جماعت کی تعلیمی استعدادوں کو بڑھانے اور ان کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے سلسلہ میں طلباء و طالبات کی راہنمائی ، نگرانی او دیگر انتظامات اس نظارت کے ذمہ ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے میدان میں زیادہ دلچسپی پیدا کرنے کی غرض سے اعزاز پانے والے احمدی بچوں اور بچیوں کو وظائف اور انعامات دینا بھی اس نظارت کے تحت ہے۔
(الف)سکولوں اور کالجوں کا قیام:
صدر انجمن احمدیہ نے جماعت کے افراد کو تعلیمی سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے سکولوں اور کالجوں کا اجراء کیا۔نظارتِ تعلیم اور ذیلی تنظیموں طلباء اور طالبات کی راہنمائی اور مدد کرتی ہیں۔
(ب)جماعت کے لئے تعلیمی منصوبے:
جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ جماعت احمدیہ افرادِ جماعت کی دنیاوی تعلیم کو کافی اہمیت دیتی رہتی ہے اور اس کے لئے تعلیمی ادارے بھی قائم کئے۔ اس میں وسعت پیدا کرنے اور اس کو زیادہ ترقی دینے کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مجلس مشاورت ۱۹۸۰ء کے موقع پر جماعت کے لئے ایک عظیم علمی منصوبے کا اعلان فرمایا جس کے اہم نکات یہ ہیں۔
(1) ہر بچہ کم از کم میٹرک اور ہر بچی کم از کم مڈل تک تعلیم حاصل کرے۔
(2) کوئی بچہ پیچھے نہ رہے گا بلکہ آگے سے آگے پڑھے گا وہ ذہین بچے جو حالات کی وجہ سے آگے نہیں آسکتے ۔ انہیں جماعت سنبھالے گی۔ دعائیہ لحاظ سے بھی اور مالی لحاظ سے بھی ۔ اس لئے عہد کرو کہ کسی سے پیچھے نہیں رہنا۔ آج خدا تمہیں دینے کے لئے تیار ہے تو تمہیں لینے کو تیار ہونا چاہئے۔
(3) مستحق ذہین طلباء کو بغیر ذہنی نشوونما کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ بچوں کو جو وظیفہ دیا جائے گا اس کا نام انعامی وظیفہ نہیں بلکہ ادائیگی حقوق طلباء ہونا چاہئے …… آیندہ دس برس کے ادر ہر احمدی قرآن کریم کی تعلیم اپنی عمر کے مطابق سیکھے ۔ یہ کام خدام الاحمدیہ ، انصار اﷲ اور لجنہ اماء اﷲ کے ذمہ ہے …… ہر گھر میں تفسیر صغیرکا ہونا ضروری ہے ۔ دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان کردہ تفسیر قرآن بھی پڑھنی ضروری ہے۔
آپ کے اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ طلباء اور طالبات میں مسابقت کا جذبہ پیدا ہو اور وہ تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
دوسرے کوئی بچہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے اور لائق اور قابل بچوں کی تعلیمی ضروریات جماعت پوری کرے۔
انعامات:
صد سالہ احمدیہ تعلیمی منصوبے کے تحت طلبہ اور طالبات کو طلائی اور نقرئی تمغے دینے کا اعلان کیا گیا۔
میٹرک سے ایم ۔اے ، ایم۔ایس ۔سی تک بورڈ اور یونیورسٹی میں اوّل آنے والے کو طلائی تمغہ مشتمل بر ایک تولہ خالص سونا اور تفسیر صغیر یا انگریزی ترجمہ قرآن و ستخطی حضور دیا جاتا ہے۔
ہر دوم آنے والے طالب علم اور طالبہ کو طلائی تمغہ مشتمل 3\4 تولہ اور تفسیرِ صغیر یا انگریزی ترجمہ قرآن دستخطی حضور دیا جاتا ہے۔
ہر سوئم آنے والے طالب علم اور طالبہ کو چاندی کا تمغہ اور تفسیر صغیر یا انگریزی ترجمہ قرآن دیا جاتا ہے۔
خلفاء احمدیت کی مالی قربانیوں کی تحریکات نے احباب جماعت میں مالی قربانیوں کے جذبات کو ہمیشہ زندہ رکھا ہے اور احباب جماعت نے ان مالی قربانیوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ خلفاء وقت کے مطالبات سے ہمیشہ زیادہ قربانیاں پیش کی ہیں۔ خلیفہ ثانی ؓ کی تحریک جدید اور وقف جدید کے تحت کی جانے والی مالی قربانیاں تاریخِ احمدیت کا ایک سنہری باب ہیں۔ اب یہ تحریکات ایک نظام کے تحت باقاعدہ شکل اختیار کر چکی ہیں اور یہ ادارے افراد جماعت میں ان مالی قربانیوں کے جذبات کو مختلف طریقوں سے ابھارتے رہتے ہیں اور جماعت میں مالی قربانیوں کا معیار بہت بلند ہو چکا ہے اور اب ان قربانیوں کی بدولت احمدیت کا جھنڈا 216ممالک میں لہرا رہا ہے اور پاک اور مطہر روحیں ان قربانیوں کی بدولت جاری کئے گئے شریں چشموں سے اپنی پیاس بجھائی رہی ہیں۔
مالی قربانیاں جہاں جماعت کی ترقی اور ضرورت مندوں کی حاجات پوری کرنے کا باعث ہیں وہاں پہ مالی قربانیاں تزکیہء نفس کا بھی ذریعہ ہیں۔ مالی قربانی کے بغیر تزکیہء نفس نہیں ہو سکتا۔
مالی اور دیگر قربانیوں کا جذبہ ابھارنے کا باقاعدہ نظام
جماعت احمدیہ میں مالی اور دیگر قربانیاں پیش کرنے کا ایک باقاعدہ نظام ہے۔جماعت میں چندوں کی وصولی کا ایک منظم اور مربوط نظام ہے۔
جماعت میں مستقل چندوں کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:
(i) چندہ عام:
یہ چندہ ہر کمانے والے پر واجب ہے اور اس کی شرح ایک آنہ روپیہ یعنی 1/16 مقرر ہے۔
(ii) چندہ وصیت:
یہ چندہ صرف ایسے احباب پر واجب ہے جو نظام وصیت کے مطابق وصیت کریں۔ اس چندہ کی شرح آمد کے 1/10 حصہ سے لے کر 1/3 تک ہے۔ اس چندہ کے علاوہ وصیت کرنے والے کو 1/10کس شرح سے اپنی جائیداد کی وصیت بھی صدر انجمن احمدیہ کے حق میں کرنی ہوتی ہے۔
(iii) چندہ جلسہ سالانہ: چندہ جلسہ سالانہ جو سال میں ایک مہینہ کی آمدنی کا 1/10 ہے۔ سال میں ایک دفعہ ادا کرنا ہوتا ہے۔
(iv) چندہ تحریک جدید:
اس چندہ سے تحریک جدید کے کاموں کو چلایا جاتا ہے اس مد میں اس کا معیاری وعدہ ایک مہینہ کی آمد کا پانچواں حصہ ہے اور کم از کم سالانہ وعدہ 24 روپیہ ہے۔
(v) چندہ وقف جدید:
1985ء سے قبل وقف جدید کے چندہ کی شرح کم از کم بارہ روپے سالانہ تھی جبکہ 1980ء میں حضرت خلیفۃ المسیح رابع ؒ نے چندہ وقف جدید کی کم از کم شرح ختم کر دی اور فرمایا کہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق چندہ وقف جدید ادا کیا جائے۔
(vi) دیگر چندہ جات:
مذکورہ بالا لازمی چندوں کے علاوہ پر ہر تنظیم کا علیحدہ علیحدہ چندہ بھی ہے اور پھر خاص خاص تقریبات منانے اور وقتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اور ہنگامی اور ناگہانی موقعوں پر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ان چندہ جات کی وصولی اور خرچ کا باقاعدہ حساب کتاب رکھنے کے لئے بہت سے ادارے کام کرتے ہیں۔ ان میں نظارت بیت المال آمد اور نظارت بیت المال خرچ قابلِ ذکر ہیں۔ چندہ جات کی وصولی کا کام احباب جماعت رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں۔
بہرکیف جماعتی جملہ امور اور خلافت کی ذمہ داریاں احسن طریق پر ادا کرنے کے لئے جن مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جماعت میں ایک باقاعدہ اور مستقل نظام قائم ہے۔
مذکورہ بالا سطور میں اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جماعت احمدیہ میں ایک عظیم نظام قائم ہے جس کے ذریعہ خلافت کی ذمہ داریوں کو بڑی خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں ادا کیا جا رہا ہے۔ ایسا عظیم نظام دنیا کے کسی خطہ میں نہیں پایا جاتا۔ اس نظام میں خلیفۃ المسیح کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی مثال جسم میں دل کی طرح ہے۔ جسم میں مختلف نظام کام کرتے ہیں ان تمام نظاموں کی کارکردگی کا انحصار دل پر ہے۔ دل اگر کسی وجہ سے کسی نظام کو مطلوبہ مقدار میں خون نہیں پہنچائے گا تو اس نظام کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
جماعت کے تمام نظاموں کو خلیفہ وقت کی ہدایات کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے ہوتے ہیں۔ تمام نظاموں اداروں اور ذیلی تنظیموں کو خلیفہ وقت کی اطاعت کرنے سے ہی جملہ امور ادا کرنے کی توفیق اور اہمیت میسّر آتی ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ پر ہمیشہ خلافت کا سایہ قائم رکھے اور احمدیت کی ترقی کا کارواں اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں رہے۔ آمین ثم آمین۔
اسی نظام کے ذریعہ اسلام کا عالمگیر غلبہ مقدر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت احمدیہ کی مجموعی ترقی کا نقشہ کھینچتے ہوئے پُرشوکت الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’اے تمام لوگو ! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔ اور ہر ایک کو جواس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نا مراد رکھے گا۔ اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی…دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔ میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سومیرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا۔ اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے‘‘۔
(تذکرۃالشہادتین، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 66-67)
ژژژ