آج ساری دنیا ایک انتہائی اہم سوال کے سامنے حیران و مبہوت کھڑی ہے کہ انسانی تہذیب و تمدن کس طرح اپنی بقا اور سالمیت قائم رکھ سکتی ہے۔ انسانی تہذیب و تمدن کے قیام کیلئے جس بنیادی عنصر ’’امن‘‘ کی سب سے زیادہ اہمیت اور ضرورت ہے وہ زندگی کے ہر شعبہ اور معاشرہ کے ہر طبقہ سے غائب ہو چکا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بے چینی، بدامنی ، بے اعتدالیاں ، نا انصافیاں اور فکر و پریشانیاں نظر آرہی ہیں اکثر انسان جذبات و احساسات سے عاری ہو کر مادہ پرستی، خود غرضی اور مفاد پرستی میں ڈوب چکے ہیں۔ اور اس مرض کا شکار کوئی ایک قوم نہیں ہے بلکہ دنیا کی اکثرقومیں ہیں۔ اس پر باعث فکر و تشویش امر یہ ہے کہ انتہائی خطر ناک اور نازک مراحل پر پہنچ چکا انسان ابھی بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے کا نام نہیں لے رہا بلکہ روز بروز ہلاکت و تباہی و بربادی کی جانب بڑھتا چلا جارہا ہے۔
خدا تعالیٰ کی یہ ابدی سنت ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی اصلاح کے لیے اپنے بندوں کو فساد و بے امنی سے بچانے کیلئے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا ہے۔ تاریخ عالم اس بات پر شاہد ہے کہ انسانیت انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ لائی گئی تعلیمات کے ذریعہ ہی حقیقی اور دائمی امن حاصل کرتی رہی ہے۔ ان تعلیمات میں سب سے بنیادی عنصر ’’ تقویٰ‘‘ کا حصول ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ خواہ عائلی یا خانگی ہویامعاشرتی یا سماجی پہلو ہو، انفرادی یا اجتماعی ہویا مذہبی یا سیاسی ہوغرض کہ ہر جگہ تقویٰ پر قدم مارنے سے ہی امن کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر ایک انسان کو تقویٰ کا فہم و ادراک ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کی صفات پر کاربند ہو سکتا ہے اور ان کو پھیلانے والا بن سکتا ہے۔
انبیاءعلیہم السلام کے سلسلہ میں سب سے زیادہ تقویٰ پر زوراس کی اہمیت وافادیت اور اس کا فہم اور ادراک ہمارے پیارے نبی خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دنیا کودیا ہے۔ آپ نے اخلاق و خصائل سے عاری بنی نوع انسان کو تقویٰ کے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے کے نہ صرف ذرائع اور طریق بیان فرمائے بلکہ خود ان پر عمل پیرا ہو کر بھی دکھایا اور اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کی ایک پاکیزہ جماعت بھی تیار کر کے دکھائی۔ساتھ ہی آپ ﷺنے آخری زمانہ کے متعلق پیشگوئیاں بھی فرمائیں اور مسیح موعود و مہدی معہود کہ آنے کی خبر بھی دی جو اس زمانہ میں مبعوث ہو کر احیاء دین کا کام سرانجام دینے والا تھا ۔
چنانچہ الٰہی وعدوں کے مطابق سیدنا حضرت اقدس مرزاغلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کا ظہور آپ کی بعثت ثانیہ کے طور پر ہوا۔ جس طرح آپﷺ موعود اقوام عالم ہیں ۔ آپ کی بعثت ثانیہ کیلئے بھی مقدر تھا کہ وہ موعود اقوام عالم ہو۔ چنانچہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ تمام اقوام کے موعود کی حیثیت سے آئے ہیں تا کہ دین واحد پر سب کو جمع کریں ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد دنیا میں امن اور سلامتی کا قیام بھی تھا۔ دنیا والوں کوآپس میں صلح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ علیہ السلام اپنی تصنیف پیغام صلح میں فرماتے ہیں:
’’پیارو !!صلح جیسی کوئی بھی چیز نہیں۔ آؤ ہم اس معاہدہ کے ذریعہ سے ایک ہو جائیں۔ اور ایک قوم بن جائیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ باہمی تکذیب سے کس قدر پھوٹ پڑ گئی ہے۔ اور ملک کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے آؤ اب یہ بھی آزما لو کہ باہمی تصدیق کی کس قدر برکات ہیں۔ ‘‘(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23صفحہ 456)
جیسا کہ بیان کیا گیا کہ یہ وہی آخری زمانہ ہے جس کی پیشگوئی آج سے 1500سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔ دنیا خداتعالیٰ کو بھلا چکی ہے۔ مگر ان تمام حالات کے درمیان ایک شخص جو خدا تعالیٰ کے حکم پر ان تمام برائیوں کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے اور دنیا بھر میں امن اور سلامتی کا پیغام پہنچا رہا ہے۔ وہ وجود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پانچویں خلیفہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا وجود ہے۔ آج جب دنیا امن کو ترس رہی اور تیسری عالمی جنگ کے بادل فضاؤں میں منڈلا رہے ہیں، امن کا یہ شہزادہ دنیا کو بار بار امن کی طرف بلا رہا ہےاور دنیا کو اس خطرناک تباہی سے بچنے کی طرف توجہ دلا رہا ہے ۔
خلافت خامسہ کا دور 2003 ءسے شروع ہوا اور حضرت مرزا مسرور احمد صاحب جماعت احمدیہ کے پانچویں خلیفہ بنے ۔ خلافت خامسہ کے آغاز سے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی ورہنمائی میں امن عالم کے لئے ہمہ جہت کوششیں جاری ہیں ۔
حضور انور کے خطبات
حضور انور نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ ہی مختلف مواقع پر اپنے خطبات کے ذریعہ دنیا کو در پیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے افراد جماعت کو بالخصوص اور تمام عالم کو بالعموم مخاطب کرتے ہوئے تمام دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے کوششوں کی تلقین فرمائی۔ اور احباب جماعت کو اسلام کی امن صلح و آشتی کی جو حسین اور خوبصورت تعلیم ہے وہ دنیا کے سامنے رکھنے کی تلقین فرمائی۔ اور مسائل کے حل کے لئے متعدد بار دعاؤں کی تحریک فرمائی ۔ نیز مسلم امہ اور بڑی طاقتوں کو انتباہ فرمایا اور ان معاملات میں رہنمائی فرمائی۔ ان میں حضور انور نے کسی ایک خطّہ کو ہی مخاطب نہ کیا ، بلکہ ایشیائی ممالک کے مسائل ہوں، یا یورپ کے ممالک کے خطرات، افریقی ممالک میں پائی جانے والی بے چینی ہو یا عرب دنیا میں پھیلی حکمران طبقے سے ناراضگی ۔ حضور انور نے ہر جگہ کے مسائل کا وقتا فوقتا ذکر کر کے اُن کی بار بار را ہنمائی فرمائی کہ ان میں کس طرح امن وصلح قائم ہوسکتی ہے۔
حضور انور کے خطابات
قیام امن عالم کی خاطر دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں اور سر براہوں کو بذریعہ خطوط مخاطب کرنا خلافت خامسہ کے کارہائے نمایاں کا ایک درخشاں اور تاریخی پہلو ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے برطانیہ میں بھی اورمختلف ممالک میں دورہ کر کے امن کی ضرورت اور امن قائم کرنے کے طریق کار پر راہنما ئی فرمائی ہے۔ ستمبر 2005ءمیں ڈنمارک میں اسلام کی حقیقی تعلیم کے موضوع پر خطاب فرما کر ان ممالک میں اسلامو فوبیا کو دور کرنے کی مساعی فرمائیں۔ اپریل 2006ء میں سڈنی آسٹریلیا میں امن قائم کرنے کی ضرورت اور طریق کار کے متعلق خطاب فرمایاجس سے ملک کے مختلف سیاسی سربراہان اور معززین نے استفادہ کیا۔ 2007ء میں ماحولیاتی امن کے قیام کی اہمیت پرRoehampton University Londonمیں تقریر فرمائی۔ 2008ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے تاریخی خطاب کے ذریعہ قرآن کریم سے موجودہ عالمی و معاشی بحران کے حل پیش کیے۔ اسی سال کیرالہ ہندوستان میں امن کے قیام، آپس میں محبت اور ہم آہنگی کے قیام کے اصول کے متعلق نصائح فرمائیں۔ 2009ء میں گلاسگو میں خطاب کے ذریعہ یہ راہنما اصول بیان فرمایا کہ اقتصادی ترقی کا انحصار امن پر اور امن کا انحصار انصاف پرہے۔2013ء میں نیوزی لینڈ کی نیشنل پارلیمنٹ میں ’’امن عالم۔ وقت کی ضرورت‘‘ کے نام سے تقریر فرمائی۔ 2014ء میں عالمی مذاہب کی کانفرنس پرفرمایا کہ جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے باوجود مخالفین کے ظلم و ستم کے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ 6؍اکتوبر 2015ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ڈچ قومی پارلیمنٹ میں خطاب فرمایاجس کے ذریعہ امن عالم کی راہ میں درپیش مسائل کے حل پیش کیے۔ 2016ء میں آپ نے کینیڈا کا دورہ فرمایا جہاں مختلف مقامات پرجن میں کینیڈا کی نیشنل پارلیمنٹ میں تقریر بھی شامل تھی، خطابات کے ذریعہ قیام امن کی ضرورت اور طریق کار پر نصائح فرمائیں۔ ستمبر 2017ء میں لجنہ اماء اللہ یوکے کے اجتماع پر عورتوں کامقام اور حقوق بیان فرمائے۔ 2018ء میں جنوبی ورجینیا، امریکہ میں مسجد مسرور کے افتتاح پرمذہبی آزادی اور رواداری کے موضوع پر روشنی ڈالی۔2019ء میں پیرس میں UNESCOکے ہیڈکوارٹرز میں خطاب فرمایا جہاں اسلامی تعلیم کی روشنی میں تعلیم اور خدمت انسانیت پر زور دیا۔
خطوط
حضور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نے دنیا بھر کے حکمرانوں کو در پیش عالمی خطرات کے تناظر میں2012ء میں قیام امن کی خاطر سنجیدہ تعاون اور جدو جہد کے لئے خطوط لکھنے کا اہتمام فرمایا۔ یہ خطوط پوپ بینیڈکٹ XVI ، اسرائیل کے وزیر اعظم ، صدر اسلامی جمہوریہ ایران، صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ، وزیر اعظم کینیڈا، خادم حرمین شریفین سعودی ، عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم ، وزیر اعظم برطانیہ، چانسلر جرمنی ، صدر جمہوریہ فرانس، ملکہ برطانیہ، صدر روسی فیڈریشن اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی وغیرہ کو لکھے جو کہ بڑی بڑی طاقتیں ہیں اگر یہ چاہیں تو دنیا کو ایک ساتھ کر سکتی ہیں اور ان میں امن پیدا کر سکتی ہیں ۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان عالمی راہنماؤں کے نام خطوط میں حضور انور نے کمال حکمت سے ان سر بر اہان کو سمجھا یا کہ دنیا آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑی ہے اگر ان میں محبت و بھائی چارہ قائم نہ ہوا تو دنیا ایک خوف ناک منظر بھی دیکھے گی ۔
National Peace Symposiumکی بنیاد2004ء میں آپ نےNational Peace Symposiumکی بنیاد رکھی جس کا مقصد دنیا میں مختلف مکتبہ ہائے فکر اور شعبہ جات کے لوگوں کو دعوت دے کر ان کے ساتھ دنیا میں امن قائم کرنے کے طریق پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ یہ Peace Symposiumہر سال منعقد کیا جاتا ہے اور الا ماشاءاللہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بنفس نفیس تشریف لا کراپنے خطابات کے ذریعہ خصوصی طور پر موجود مہمانو ں کو اور عمومی طور پر پوری دنیا کو اسلامی تعلیم کی روشنی میں قیام امن کے راہنما اصول بیان فرماتے ہیں اور دنیا کے موجودہ مسائل کے حل پیش کرتے ہیں۔ Peace Symposiumمیں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نےآزادی اظہار، رواداری، امن کے قیام کے لیے خدا تعالیٰ کی پہچان، ایٹمی جنگ کےتباہ کن نتائج، انصاف کی ضرورت اور انصاف پر مبنی تعلقات جیسے اہم موضوعات پر راہنمائی فرمائی ہے۔
Prize of Peace
اسی طرح ایسے افرادجو دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے کوشش میں ہیں ان کی خدما ت کو سراہنے کے لیے2009ءمیں حضور انورنےAhmadiyya Muslim Prize for the Advancement
of Peace کے نام سے ایک انعام بھی جاری فرمایا۔ یہ انعام ہر سال ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنی فیلڈ میں امن کے قیام کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلا پرائزان کی انسانی حقوق کی خدمات کو سراہتے ہوئے لارڈ ایرک ایوبری کو دیا گیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ بدستور جاری رہا اور مختلف مر د و خواتین جنہوں نے قیام امن کے لیے اپنی زندگیاں وقف رکھیں اُن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پیش کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی کام ہیں جو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک دور خلافت میں امن کے قیام کے لئے جاری وساری ہیں جن میں Peace Pamphletsکی تقسیم بھی کارہائے نمایاں میں شامل ہے۔
غرض یہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس براہ راست خود بھی اور آپ کی نگرانی میں احباب جماعت بھی دنیا بھر میں اپنی آواز اور عمل کے ذریعہ قیام امن کی کاوش میں دن رات ایک کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں خلاصۃً اس تعلیم پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے کہ آخر وہ تعلیم کیا ہے جو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبات و خطابات میں پیش کر رہے ہیں؟چند ارشادات درج ذیل ہیں :
جماعت احمدیہ کا ماٹو
صد سالہ خلافت احمد یہ جو بلی کی بے شمار تقاریب میں جماعت احمدیہ نے ہر جگہ لوگوں کو اسلام کی پر امن تعلیم کا پیغام دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی اپنے بے شمار خطابات میں امنِ اسلام کا پیغام دیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:۔
’’ اسلام تو ایسا حسین مذہب ہے کہ اپنے مخالفوں سےبھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے ۔ ہم صرف اسی مذہب کو جانتے ہیں ۔ جو محبت اور پیار کا مذہب ہے۔ ..... اسلام نے انصاف کی تنفیذ میں دشمن دوست کی تفریق نہیں رکھی۔ اور یہ کہ اسلام نے دشمن سے بھی حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو تمام مذاہب کے مرسلین اور انبیاء کی عزت قائم کرتا ہے ۔ دراصل وہ لوگ سماجی اور معاشرتی امن کو برباد کرتے ہیں جو آزادی تحریر و تقریر کے نام پر انبیاء کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ اور ان کو ہر طرح کے گندے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔۔۔۔۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ کی پہنچان کروائیں اور انسانیت کی خدمت کریں۔ ہمارا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ ہماری زبانی تعریف کی جائے ۔ ہمارا ماٹوتو یہ ہے کہ
’’ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘
ہم سب کو چاہئے کہ اللہ کے خوف کو ہمیشہ مدنظر رکھیں ۔ (اخبار بدر شمارہ نمبر 44، 2008 ء)
عدل و انصاف اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے اہم اصول ہیں جن کے بغیر کسی بھی معاشرے میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس تسلسل میں فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حکم دیتا ہے کہ دنیا کی سلامتی کا دار ومدار انصاف پر ہے اور انصاف کا معیار تمہارا کتنا بلند ہو اس بارہ میں فرماتا ہے :
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلہِ شُہَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ۰ۡوَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا۰ۭ اِعْدِلُوْا۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۰ۡوَاتَّقُوا اللہَ۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (سورۃالمائدہ :9)
کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرو یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو ۔
(خطبات مسرور جلد 4صفحہ 465)
طاقتور ممالک کو انصاف سے کام لینے کی تلقین
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطابات میں متعدد مرتبہ طاقتور ممالک کو انصاف سے کام لینے کی تلقین کرتے رہے ہیں کیونکہ اسی سے امن اور صلح کا دروازہ کھلا رہ سکے گا ۔اسی تسلسل میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ بڑے بڑے ممالک نا جائز طور پر دوسرے ملکوں کو امن کے نام پر اپنے ماتحت کرتے ہیں زیر نگیں کرتے ہیں۔ اپنی شرطوں پر ان کو زندہ رہنے کا حق دیتے ہیں۔ صرف اس لئے کہ چھوٹے ملکوں کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کی دولت پر قبضہ کر سکیں۔ آج دنیا میں جو تمام فساد نظر آتا ہے وہ اسی وجہ سے ہے۔ دنیا کی معیشت پر قبضہ کرنے کے لئے یا معاشی فائدے اٹھانے کے لئے یا پیسہ کمانے کے لئے یہ سب فساد ہے۔ یعنی یا یہ کہہ لیں کہ دوسرے کی چیز پر نظر رکھنے کی وجہ سے یہ ہے۔ دوسرے کے مال کو اپنا مال بنانے کی ہوس جو ہے اس کی وجہ سے یہ فساد ہے۔ اور یہ سب کچھ اس زمانے میں اس لئے بڑھ گیا ہے کہ جس نا جائز پیسہ کمانے کے طریق سے اللہ تعالی نے روکا تھا وہ عام ہو گیا ہے۔‘‘
( خطبات مسرور جلد2 صفحہ 667)
تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ممالک نے اکثر کمزور ممالک کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دولت اور اقتدار کی لالچ میں انسانیت کو بھلادیا جاتا ہے۔ طاقتور ممالک اپنی فوجی اور اقتصادی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے کمزور ممالک پر دباؤ ڈالتے ہیں اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد دوسرے ملکوں کے وسائل پر قبضہ کرنا اور ان سے مالی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ اس طرح کے رویے کی وجہ سے دنیا میں عدم استحکام اور فساد کی صورتحال پیدا ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو نا جائز طریقے سے دولت کمانے کو روکا تھا ، وہ آج کل عام ہو گئے ہیں۔ لیکن جب ان عہدیداران کو کہا جاتا ہے اس طرح کی پالسیاں نہ بناؤ جن میں چھوٹی حکومتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا ان کو وہ سہولیات نہیں دی جا رہی جن کے وہ حقدار ہیں تو ان کا صرف یہی کہنا ہوتا ہے کہ ہم تو صرف ان کی بھلائی کے لئے ہی کر رہے ہیں تا کہ وہ امن کی زندگی بسر کر سکیں ۔ اسی طرح کا بیان اسرائیل کے صدر نے دیاہے کہ ہم تو فلسطین میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے امن قائم کرنے کے چکر میں فلسطین کے ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا۔
ایک اور اقتباس میںحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیان فرماتے ہیں :
’’ کسی فریق کو نہیں چاہیے کہ وہ دوسروں کی دولت اور ان کے وسائل کو کبھی بھی حاسدانہ رنگ میں دیکھے ۔ اسی طرح کسی ملک کو نہیں چاہیے کہ وہ نا انصافی کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے وسائل پر ان کی مدد کرنے کے جھوٹے عذر کا سہارا لے کر غاصبانہ قبضہ کرلے۔ اسی طرح تکنیکی مہارت فراہم کرنے کی بنیاد پر حکومتوں کو نہیں چاہیے کہ وہ دوسری اقوام کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی معاملات یا معاہدات کر کے ناجائز فائدہ اُٹھائیں۔ اس طرح مدد یا مہارت فراہم کرنے کی بنیاد پر حکومتوں کو ترقی پذیر اقوام کے اثاثوں یا قدرتی وسائل کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ جہاں کم تعلیم یافتہ افراد یا حکومتوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہو کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو کس طرح صحیح رنگ میں استعمال کر سکتے ہیں تو یہ کرنا چاہیے۔‘‘
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ77 )
اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزبیان فرماتے ہیں:
’’ طاقتور ممالک کو غریب اور کمزور ملکوں کے حقوق اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش کرتے ہوئے غصب نہیں کرنے چاہئیں۔ نہ ہی غریب ممالک کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک روا رکھنا چاہیے۔ دوسری طرف غریب اور کمزور ممالک کو نہیں چاہیے کہ وہ طاقتور اور امیر ممالک کو نقصان پہنچانے کے موقع کی تلاش میں رہیں بلکہ دونوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ انصاف کے اصولوں کی پوری پوری پابندی کریں۔ در حقیقت مختلف ممالک کے مابین پر امن تعلقات قائم رکھنے کے لیے یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے۔‘‘
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ76)
جنگ عظیم کی ہولناک تبا ہیوں کا ذکر اور ایک تنبیہ
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جنگ عظیم کے خطرناک نتائج اور بڑی حکومتوں کو انصاف سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ آج کے دور میں خدا کی قہری تجلی ایک اور عالمی جنگ کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسی جنگ کے بداثرات اور تباہی صرف ایک روایتی جنگ یا صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گے۔ در حقیقت اس کے ہولناک نتائج آ ئندہ کئی نسلوں تک ظاہر ہوتے رہیں گے ایسی جنگ کا المناک نتیجہ تو ان نو مولود بچوں کو بھُگتناپڑے گا ۔ جواب یا آئندہ پیدا ہوں گے۔ جو ہتھیار آج موجود ہیں وہ اس قدر تباہ کن ہیں کہ ان کے نتیجہ میں نسلاً بعد نسلٍ بچوں کے جینیاتی یا جسمانی طور پر معذور پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
جاپان وہ واحد ملک ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹمی حملہ والے ہولناک تجربہ سے گزرا ہے۔ آج بھی اگر آپ جاپان جائیں اور وہاں کے لوگوں سے ملیں تو آپ دیکھیں گے جنگ کے بارے میں ان کی آنکھوں اور ان کی باتوں سے شدید خوف اور نفرت جھلکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت استعمال کیے گئے ایٹمی ہتھیار جنہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھلا ئی آج چھوٹے ملکوں کے پاس موجودہ ایٹمی ہتھیاروں سے بھی بہت کم طاقت کے حامل تھے۔
کہا جاتا ہے کہ جاپان میں سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نوزائیدہ بچوں میں ایٹم بم کے بد اثرات اب بھی ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ اگر کسی شخص کو گولی مار دی جائے تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ طبعی امداد مہیا ہونے پر اس کی جان بچائی جا سکے لیکن اگر ایٹمی جنگ چھڑ جاتی ہے تو جولوگ براہ راست اس کی زد میں آئیں گے۔ ان کے بچنے کا کوئی امکان نہیں لوگ آناًفاناً ہلاک ہو جائیں گے۔ یا مجسموں کی صورت میں منجمد ہو جائیں گے اور اُن کی جلد پانی کی طرح بہ جائے گی۔ پینے کا پانی، غذا اور سبزیاں وغیرہ ایٹمی تباہ کاری سے نا قابل استعمال ہو جائیں گے۔ اس تباہ کاری کے اثرات سے جو بیماریاں پیدا ہوں گی ہم صرف ان کا تصور کر سکتے ہیں۔ ان مقامات پر جہاں براہ راست حملہ نہیں ہو گا اور جہاں تباہ کاری کے اثرات کم ہونگے وہاں بھی بیماریوں کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔ اور ان کی آئندہ نسلیں بھی بہت بڑے خطرات میں گھِر جائیں گی۔
محتاط اندازوں کے مطابق جنگ عظیم دوم میں چھ کروڑ سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور کہا جاتا ہے کہ اس میں چار کروڑ افراد عام شہری تھے۔ اس طرح بالفاظ دیگر فوجیوں سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے۔ با وجود اس کے کہ جاپان کے علاوہ باقی ہر جگہ پر روایتی ہتھیاروں سے جنگ لڑی گئی پھر بھی اتنی شدید تباہی ہوئی ۔ برطانیہ میں پانچ لاکھ لوگ لقمہ اجل بنے۔ اس وقت برطانیہ کی حکومت نو آبادیاتی طاقت تھی اور اس کی کالونیاں اور وہ ممالک جو برطانیہ کی طرف سے لڑرہے تھے اگر ان اموات کو بھی شامل کر لیا جائے تو پھر یہ تعداد کروڑوں میں پہنچتی ہے صرف انڈیا میں ہی سولہ لاکھ لوگ لقمہ اجل بنے۔
تاہم اب حالات بدل چکے ہیں وہ ممالک جو کبھی حکومت برطانیہ کی کالونیاں تھے اور جنہوں نے برطانیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ لیا تھا۔ جنگ کی صورت میں اب شاید اب وہ برطانیہ کے ہی خلاف جنگ کے لئے تیار ہو جائیں ۔ مزید یہ کہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اب تو بعض چھوٹے ممالک نے بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔
فکر کی بات یہ ہے کہ یہ ایٹمی ہتھیار ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں جن کے پاس اتنی قابلیت ہی نہیں ہے یا جو اپنے اعمال کے نتائج کا ادراک نہیں کرنا چاہتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ عواقب سے بالکل بے پرواہ اور جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔
پس اگر بڑی طاقتوں نے انصاف سے کام نہ لیا اور چھوٹے ملکوں کے احساس محرومی کو ختم نہ کیا اور عمدہ حکمت عملی نہ اپنائی تو حالات بالآخر ہاتھ سے نکل جائیں گے اور پھر جو تباہی اور بربادی ہوگی وہ ہماری سوچ اور تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی بلکہ دنیا کی اکثریت جو امن کے خواہاں ہے وہ بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آجائے گی۔‘‘
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ 43 تا 45)
اسلام کی تعلیمات اور پیغام محبت، ہمدردی ، نرمی
اور امن آشتی کے سوا کچھ نہیں
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز امن عالم کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں فرماتے ہیں :
’’ اس امن کا نفرس کے ذریعہ میں تمام دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کی تعلیمات اور پیغام محبت، ہمدردی ، نرمی اور امن آشتی کے سوا کچھ نہیں۔
افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی ایک انتہائی قلیل تعداد اسلام کی ایک بالکل بگڑی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے۔ اور اپنے گمراہ کن عقائد کے مطابق عمل پیرا بھی ہوتی ہیں میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ ان کے پیش کردہ اسلام کو حقیقی اسلام نہ سمجھا جائے اور ان کے غلط کاموں کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کی امن پسند اکثریت کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے یا انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جائے۔
قرآن کریم تمام مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس اور سب سے زیادہ قابل تعظیم کتاب ہے۔ لہذا اس کی توہین کرنا اور قابل اعترض زبان استعمال کرنا یا اسے جلا دینا یقیناً ایسے اقدام ہیں جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے ۔ ہم نے دیکھا ہے ایسے اقدام کے رد عمل میں انتہا پسند مسلمان اکثر بالکل غلط اور نامناسب قدم اُٹھا لیتے ہیں۔
ابھی حال میں ہی ہم نے افغانستان میں دو ایسے واقعات کے بارے میں سنا ہے جہاں کچھ امریکی فوجیوں نے قرآن کریم کی ہتک کی اور معصوم عورتوں اور بچوں کو ان کے گھروں میں مار دیا ۔ اس طرح جنوبی فرانس میں ایک بے رحم انسان نے ایک فرانسیسی فوجی کو بغیر کسی وجہ سے گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اس کے چند روز بعد وہ شخص ایک اسکول میں داخل ہوا اور وہاں تین معصوم یہودی بچوں اور ان کے ایک استاد کو مار ڈالا۔
ایسا رویہ بالکل غلط ہے اور اس سے کبھی بھی امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ اس قسم کے مظالم آئے دن پاکستان اور دوسری جگہوں پر ہوتے رہتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے اسلام دشمن عناصر کو اسلام کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار اور بڑے پیمانے پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بہانہ مل جاتا ہے بربریت کے ایسے اظہار جو چھوٹے پیمانے پر کیے جاتے ہیں یا کسی ذاتی عناد یا کدورت کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ در حقیقت اس کی وجہ بعض حکومتوں کی نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنائی گئی غیر منصفانہ پالیسیاں ہوتی ہیں۔
پس دنیا میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ ہر سطح پر اور دنیا کے ہر ملک میں انصاف کے درست معیار قائم کیے جائیں۔ قرآن کریم نے ایک معصوم جان کے قتل کو تمام انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔
پس ایک دفعہ پھر مسلمان ہونے کے ناطہ میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کسی بھی نوع شکل یا طریق سے کیے جانے والے مظالم اور زیادتی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
آپس کے اختلافات کو ختم کرنا ہو گا
موجودہ خطرناک حالات جو آجکل بنے ہوئے ہیں اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تما م دنیا کے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ اللہ تعالیٰ اسرائیلی حکومت اور امریکہ کی حکومت اور بڑی طاقتوں کے ہاتھوں کو روک سکتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں سب طاقت ہے لیکن اس کے لیے مسلمانوں کو بھی اپنے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے ہوں گے اور بھائی بھائی ہونے کا نمونہ بننا ہو گا۔ آپس کے اختلافات کو ختم کرنا ہو گا جو نظر نہیں آ رہا ۔ تب کہیں اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ بھی پورا ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ مورخہ 12؍اکتوبر 2024ء)
ایک اور جگہ آپ مسلم امۃ کو امت واحدہ بننے اور آپس میں اختلاف ختم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’مسلمان حکومتوں، سیاستدانوں اور بادشاہتوں کو چاہیے کہ صرف وہ اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی بجائے یہ کوشش کریں کہ ہم نے بحیثیت ملت اسلامیہ ایک ہونا ہے اور اس کے لیے ہم نے بھر پور کوشش کرنی ہے۔ جب ایسا ہو گا تبھی ہم دنیا کے حملوں سے بچ سکیں گے۔ تبھی اپنا و قار قائم کر سکیں گے اور تبھی اسلام مخالف طاقتوں کو اپنے اندر پھاڑ ڈالنے سے روک سکیں گے۔ اس کے لیے ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں کیا انتظام فرمایا ہے۔ وہ کون سا الٰہی انتظام ہے جس پر اگر ہم عمل کریں یا اس کو مانیں تو ہم ان باتوں سے بچ سکتے ہیں اور ایک ملت واحدہ بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وہ انتظام یہ ہے کہ اس نے مسیح موعود کو بھیجا تا کہ وہ ایک اُمتِ واحدہ بنائے۔
(روزنامہ الفضل انٹر نیشنل جمعۃ المبارک 2مارچ 2026ءصفحہ نمبر 3)
جماعت احمدیہ کا کام دنیا میں امن قائم کرنا
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز افراد جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ تمہارا واحد کام دنیا میں امن کا فروغ اور اس کا قیام ہے۔ ان کی نفرتوں اور زیادتیوں کے جواب میں تم صرف یہ کہو کہ تم پر سلامتی ہو اور انہیں بتاؤ کہ تم ان کے لئے محض سلامتی کا پیغام لائے ہو۔ جماعت احمد یہ مسلمہ انہی تعلیمات پر کار بند ہے اور انہی کے مطابق زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہی وہ ہم آہنگی ، رواداری اور ہمدردی کی تعلیم ہے جسے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے ہم مصروف عمل ہیں۔ہم احمدی مسلمان ہی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تاریخی ، بے نظیر اور لاثانی نرمی، محبت اور شفقت کی تقلید کرتے ہیں کہ کئی سالوں پر محیط سخت تکلیف اور کرب ناک مظالم سہنےکے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتحانہ شان کے ساتھ واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی بدلہ نہ لیا بلکہ اعلان عام کروادیا کہ تم میں سے کسی پر بھی کوئی پکڑ نہیں کیونکہ میں نے تم سب کو معاف کر دیا ہے۔ میں محبت اور امن و سلامتی کا نبی ہوں۔ خدا تعالیٰ کی صفت ’’السلام‘‘ کا سب سے زیادہ علم مجھے دیا گیا ہے۔ وہی خدا ہے جو سلامتی بخشتا ہے۔ میں تمہاری ساری سابقہ زیادتیاں تمہیں معاف کرتا ہوں اور میں تمہیں سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہوں ۔
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ 127 تا128)
جماعت احمدیت کو نصیحت
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت احمدیہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ آج ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے ہوں، اس کی مخلوق کے حق ادا کرنے والے بنیں۔ اگر ایسا ہوگا تو تب ہی ہم اس دنیا کو امن و سلامتی کا گہوار ہ بنانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔ ‘‘(آمین)
(خطبہ جمعہ مورخہ 18؍اکتوبر 2024ء)
عالمی جنگی حالات کے پیش نظر دعائوں کی پر درد تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت احمدیہ کو عالمی جنگی حالات کے پیش نظر دعائوں کی پر درد تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ ہمیں اور ہماری نسلوں کو جنگوں کی آگ سے محفوظ رہنے اور اس کے بعد کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے بہت دعا کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔ اور اب لگتا ہے کہ یہ جنگ سامنے کھڑی ہے بلکہ عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے لیکن دنیا کے حکمرانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ ان کے خیال میں وہ محفوظ رہیں گےاور عوام مریں گے۔ لیکن یہ بھی ان کی خام خیالی ہے، اپنی انا کو مقدم کر رہے ہیں۔ عوام کی تو ان کو کوئی پروا بھی نہیں ہے ۔ یہی دجالی چالیں ہیں۔ عوام کو اپنے داؤ میں پھنسا لیا ہے کہ ہم یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں تمہارے لیے۔ بہرحال اب تو عوام میں کہیں کہیں آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں۔ لیکن ان کی چالوں نے لوگوں کو خدا تعالیٰ سے دور کردیا ہے۔ خود تو یہ دُور ہیں ہی اور ساتھ ہی ہر قسم کی بے حیائی اور بے باکی عروج پر ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلنا ہے کہ خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آئیں۔
ایسے میں احمدیوں کو اپنے آپ کو خدا کے قریب کرنے اور دعاؤں میں اضطراب پیدا کرنے کی بہت ضرورت ہے اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی رنگ میں دعاؤں کی توفیق بھی عطا فرمائے۔
(روزنامہ الفضل انٹر نیشنل جمعۃ المبارک 2مارچ 2026ءصفحہ 7)