اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-14

جماعت احمدیہ میں خلافت کے قیام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات (منصور احمد مسرور پرنسپل جامعہ احمدیہ قادیان)

قرآن کریم میں مسیح موعود و مہدی معہودعلیہ السلام کی بعثت کا جابجا ذکر پایا جاتاہے۔مثلاً قرآن کریم میں سورہ جمعہ میں آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کی خبر دی گئی ہے۔ اور یہ آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ امام مہدی اور مسیح موعود کی صورت میں ہی ہونی تھی۔ سورہ صف میں اسلام کا تمام مذاہب اور ادیان پر غلبہ بیان کیا گیا ہے جسکے متعلق مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ اسلام کو یہ غلبہ مسیح موعود کے ذریعہ ملے گا۔ قرآن کریم کے اور بھی کئی مقامات پر مسیح موعود و مہدی معہود کی بعثت کی خبر دی گئی ہے۔
اسی طرح احادیث میں بھی جابجا مسیح موعود و مہدی معہود کی بعثت پیشگوئی موجود ہے۔ مثلاً آنحضرت ﷺ نے فرمایا:کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔
(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام حدیث نمبر 3449)
حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اُس وقت تمہارا کیا حال ہوگاجب ابن مریم تم میں مبعوث ہوگا اور وہ تم میں سے ہوگا تمہارا امام ہوگا ۔
اسی طرح ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے مہدی کے لئے دو نشانات اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اورجب سے کہ زمین و آسمان اللہ نے بنائے ہیں یہ نشان کسی اور کے لئے اُس نے مقرر نہیں فرمائے۔ اور پھر آنحضرت ﷺ نے رمضان کے مہینے میں معین تاریخوں میں کسوف و خسوف کے ظہور کا نشان اپنے مہدی کےلئے بیان فرمایا۔
(سنن دار قطنی باب صفۃ صلوۃ الخسوف والکسوف وہیئتہما جلد1 صفحہ 188مطبع انصاری دہلی 1310ھ)
حدیث سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام مہدی اورمسیح موعود ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔ چنانچہ ابن ماجہ باب شدۃ الزمان میں یہ حدیث ہے :
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا، وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلٰى اَشْرَارِ النَّاسِ ، وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ۔(ابن ماجہ کتاب الفتن، باب شدّۃ الزمان، حدیث نمبر 4039)
ترجمہ ::انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے“۔
خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے بہت واضح اور صاف پتا چلتاہے کہ امام مہدی و مسیح موعود کا نزول امت محمدیہ میں ایک یقینی امر ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ امام مہدی اور مسیح موعود دو الگ الگ وجود نہیں ہونگے بلکہ ایک وجود ہوگا ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام مہدی ومسیح موعود کی امت محمدیہ میں کیا حیثیت ہوگی۔ سو واضح ہو کہ وہ اُمتی نبی ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشادات عالیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ۔تم میں سے جو کوئی عیسیٰ بن مریم کو پائے اسے میری طرف سے سلام پہنچائے۔‘(الدر المنثورجلد ۲ صفحہ ۲۴۵)اور ایک حدیث میں ہے کہ جب تم اسے دیکھو تو اس کی بیعت کرو خواہ اس کے لئے تمہیں برف کے پہاڑوں سے گھٹنے کے بل جانا پڑے۔ (مستدرک حاکم کتاب الفتن و الملاحم باب خروج المہدی) اور علمائے اسلام نے کہاہے کہ امام مہدی ومسیح موعود کا انکار کرنے والا کافر ہوجائیگا۔
ان باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ امام مہدی نبوت کے مقام پر فائز ہوگا لہٰذا اس کا ماننا ضروری و لازمی ہوگا۔نہ ماننے والا کافر ہوجائیگا۔ اسلام میں انسانوں سے تعلق رکھنے والا صرف نبوت کا منصب ہی ایسا منصب ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔ پس اللہ جل شانہ کی طرف سے امام مہدی و مسیح موعود نبوت کے منصب پر فائز ہوگا۔ لیکن یہ اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ امت محمدیہ میں سوائے امتی نبی کے اور کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ پس امام مہدی اور مسیح موعود امتی نبی ہی ہوگا۔
چنانچہ سیّدنا مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کا یہی دعویٰ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں مسیح موعود و مہدی معہود بناکر مبعوث فرمایا ہے اور آپؐامتی نبی ہیں۔ امتی نبی کا مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو جو کچھ بھی ملا ہے آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی ، کامل اطاعت وفرمانبرداری اور کامل عشق و محبت کی وجہ سے ملا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو الہام وکلام کے شرف سے مشرف فرمایا، آپؐنے قرآنی علوم کے جو علم و معرفت کے دریا بہائے، آپؑجو دینی خدمات بجالائے، سب کچھ آنحضرت ﷺ کی متابعت کے نتیجہ آپ کو نصیب ہوا۔ پس یہ ہے امتی نبی کا مطلب۔
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ جل شانہ کی قسم کھاکر اپنی سچائی بیان فرماتے ہیں، آپؑنے فرمایا:
’’جیسا کہ مَیں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو مَیں سُناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اورہرایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حَکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابلِ مواخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اُس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو ردّ کر دیا مَیں صرف یہ نہیں کہتا کہ مَیں اگر جھوٹا ہوتا تو ہلاک کیا جاتا بلکہ مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد اور آنحضرت صلعم کی طرح مَیں سچا ہوں اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس ہزار سے بھی زیادہ نشان دکھلائے ہیں۔ قرآن نے میری گواہی دی ہے رسول اللہﷺ نے میری گواہی دی ہے۔ پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا اور یہ جو مَیں نے کہا کہ میرے دس ہزار نشان ہیں یہ بطور کفایت لکھاگیا ورنہ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک سفید کتاب ہزارجز کی بھی کتاب ہو اور اس میں مَیں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوںگے۔‘‘
(تحفۃ الندوہ رُوحانی خزائن جلد 19صفحہ 95)
اب جبکہ آپؑامتی نبی بن کر مبعوث ہوئے تو لازماً آپؑکے بعد خلافت کا سلسلہ چلنا تھا۔ اور اس کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے چودہ سو سال پہلے کردی تھی۔ چنانچہ آپؑنے فرمایا :
تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلٰى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تمہارے درمیان نبوت موجود رہے گی پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر کاٹ کھانے والی حکومت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا اس کے بعد ظلم کی حکومت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت آجائے گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔
(مسند احمد؍اوّل مسند الکوفيين؍حدیث نمبر 18406)
اور آنحضرتﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ :
’’ مَا کَانَتِ النُّبُوَّۃُ قَـــطُّ اِلَّاتَبِعَتْہَا خِلَافَۃٌ‘‘ (کنز العمال جلد 6صفحہ 119)
کہ ہر نبوت کے بعد خلافت لازمی طور پر قائم ہوتی رہی ہے ۔
پس ضرور تھا کہ امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپؑکی جماعت میں خلافت کا نظام جاری ہوتا۔ چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی وفات 26 مئی 1908 کے بعدباذن الٰہی آپؑکی قائم کردہ جماعت ، جماعت احمدیہ میں 27 مئی 1908ء کو خلافت کا نظام اللہ تعالی کے فضل وکرم سے جاری ہوگیا۔ پہلے خلیفہ حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ بنے۔ جماعت احمدیہ میں خلافت کے قیام کے متعلق سیّدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے بھی پیشگوئی فرمائی تھی، اور اپنی جماعت کو نصائح فرمائی تھیں کہ تم اس کے لئے اپنی کوششوں کو بروئے کار لاتے رہنا۔ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ خلافت کی یہ نعمت اب تم میں ہمیشہ کے لئے جاری و ساری رہے گی۔اِس وقت سیّدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد پوری دُنیا کی احمدی جماعتوں کی روحانی وجسمانی قیادت فرمارہے ہیں۔ آپ کےوجود سے جہاں جماعت احمدیہ کے افراد فائدہ اُٹھاتے ہیں وہاں آپ کی رُوحانی قیادت اور آپ کی دعائیں پوری دُنیا کو فائدہ پہنچارہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خلافت کی روحانی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی توفیق فرمائے۔ ہم اس عظیم الشان نعمت سے اپنی جھولی بھرنے والے ہوں۔
قیام خلافت کے متعلق سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اِس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اِسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی اُنہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (1) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (2) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓکے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓبھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جب کہ حضرت موسٰی مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اِس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہوگئے اور بنی اسرائیل میں اُن کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بیوقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسٰی کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔ اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہوگئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا۔
سو اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سُنّت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دوقدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دوجھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ مَیں اِس جماعت کو جو تیرے پَیرو ہیں
قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوںگا سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اُس نے وعدہ فرمایا اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوںگے جو دوسری قدرت کا مظہرہوںگے سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعامیں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔ اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آ جائے گی۔
اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُن تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میںآباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیاء اُن سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔ اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔
(رسالہ الوصیت رُوحانی خزائن جلد 20، صفحہ 304 تا 307)
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
بعض صاحب آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ کی عمومیت سے انکارکر کے کہتے ہیں کہ منکم سے صحابہ ہی مرادہیں اور خلافتِ راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہو گئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام و نشان نہیں ہو گا ۔ گویا ایک خوا ب وخیال کی طرح اس خلافت کاصرف تیس برس ہی دَورتھا اورپھر ہمیشہ کیلئے اسلام ایک لازوال نحوست میں پڑگیا مگرمَیں پُوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقاد رکھے کہ بلاشبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چود ہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتدہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود رہیں اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک اس کی برکات کے نمونے اس کے رُوحانی خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں ایسی باتوں کو سُن کر تو ہمارا بدن کانپ جاتا ہے مگر افسو س کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالاکی اور بیباکی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مُدّت ہوئی کہ اُن کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
ماسوا س کے مِنْکُمْ کے لفظ سے یہ استدلال پیداکرنا کہ چونکہ خطاب صحابہ سے ہے اس لئے یہ خلافت صحابہ تک ہی محدود ہے عجیب عقلمندی ہے اگر اسی طرح قرآن کی تفسیر ہو تو پھر یہودیوں سے بھی آگے بڑھ کر قدم رکھنا ہے۔ اب واضح ہو کہ منکم کالفظ قرآن کریم میں قریبًا بیاسی جگہ آیا ہے اور بجُز دویاتین جگہ کے جہاں کوئی خاص قرینہ قائم کیا گیا ہے باقی تمام مواضع میں مِنْکُمْ کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مُراد ہیں جو قیامت تک پَیدا ہوتے رہیں گے۔
اب نمونہ کے طور پر چند وہ آیتیں ہم لکھتے ہیں جن میں مِنْکُمْ کالفظ پایاجاتاہے۔
(شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 330)
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
اور یہ کہنا کہ حدیث میں آیا ہے کہ خلافت تیس سال تک ہوگی عجیب فہم ہے جس حالت میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِنَ الْاٰخَرِیْنَ تو پھر اس کے مقابل پر کوئی حدیث پیش کرنا اور اس کے معنی مخالف قرآن قرار دینا معلوم نہیں کہ کس قسم کی سمجھ ہے اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَھْدِی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی علماء کو اس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے کیا معترض نے غور نہیں کی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت بعض خلیفوں کے ظہور کی خبریں دی گئی ہیں کہ حارث آئے گا۔ مہدی آئیگا۔ آسمانی خلیفہ آئے گا۔ یہ خبریں حدیثوں میں ہیں یا کسی اور کتاب میں۔
احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زمانے تین ہیں۔
اول خلافت راشدہ کا زمانہ پھر فیج اعوج جس میں ملک عضوض ہوں گے اور بعد اس کے آخری زمانہ جو زمانہ نبوت کے نہج پر ہوگا۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا اول زمانہ اور پھر آخری زمانہ باہم بہت ہی متشابہ ہیں اور یہ دونوں زمانے اس بارش کی طرح ہیں جو ایسی خیر و برکت سے بھری ہوئی ہو کہ کچھ معلوم نہیں کہ برکت اس کے پہلے حصہ میں زیادہ ہے یا پچھلے میں۔
(شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 337)
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
خدا تعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلی طور پر انوار نبوت پاکر دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلاویں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہریک زمانہ کے لئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مجدد وقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جو موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے سو ہمیشہ خدا تعالیٰ اسی طرح کرتا رہے گا جب تک کہ اس کو منظور ہے کہ آثار رشد اور اصلاح کے دنیا میں باقی رہیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ نظائر متواترہ اس کے شاہد ہیں اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح تک ہزارہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے کہ جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہوکر توریت کی خدمت میں مصروف رہے۔ چنانچہ ان تمام بیانات پر قرآن شاہد ہے اور بائیبل شہادت دے رہی ہے اور وہ نبی کوئی نئی کتاب نہیں لاتے تھے کوئی نیا دین نہیں سکھاتے تھے صرف توریت کے خادم تھے اور جب بنی اسرائیل میں دہریت اور بے ایمانی اور بدچلنی اور سنگدلی پھیل جاتی تھی تو ایسے وقتوں میں وہ ظہور کرتے تھے۔ اب کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسیٰؑ کی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کیلئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اس کا دامن پھیلا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزارہا نبی اس شریعت کی تجدید کیلئے بھیجے اور بارہا آنے والے نبیوں نے ایسے نشان دکھلائے کہ گویا بنی اسرائیل نے نئے سرے خدا کو دیکھ لیا تو پھر یہ امت جو خیرالا مم کہلاتی ہے اور خیر الرسل ﷺ کے دامن سے لٹک رہی ہے کیونکر ایسی بدقسمت سمجھی جائے کہ خدا تعالیٰ نے صرف تیس برس اس کی طرف نظر رحمت کر کے اور آسمانی انوار دکھلا کر پھر اس سے منہ پھیر لیا اور پھر اس امت پر اپنے نبی کریم کی مفارقت میں صدہا برس گذرے اور ہزارہا طور کے فتنے پڑے اور بڑے بڑے زلزلے آئے اور انواع و اقسام کی دجالیت پھیلی اور ایک جہان نے دین متین پر حملے کئے اور تمام برکات اور معجزات سے انکار کیا گیا اور مقبول کونا مقبول ٹھہرایا گیا لیکن خداتعالیٰ نے پھر کبھی نظر اٹھا کر اس امت کی طرف نہ دیکھا اور اس کو کبھی اس امت پر رحم نہ آیا اور کبھی اس کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ لوگ بھی تو بنی اسرائیل کی طرح انسان ضعیف البنیان ہیں اور یہودیوں کی طرح ان کے پودے بھی آسمانی آبپاشی کے ہمیشہ محتاج ہیں کیا اس کریم خدا سے ایسا ہوسکتا ہے جس نے اس نبی کریم ﷺ کو ہمیشہ کے مفاسد کے دور کرنے کے لئے بھیجا تھا کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزارہا رسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کرکے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا۔
(شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 342)
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں پھر اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اس امت میں خلیفے پیدا کرتا رہوں گا جیسے موسیٰ کے بعد خلیفے پیدا کئے تو دیکھنا چاہیئے تھا کہ موسیٰ کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا۔ کیا اس نے صرف تیس برس تک خلیفے بھیجے یا چودہ سو برس تک اس سلسلہ کو لمبا کیا۔ پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھا چنانچہ اس نے خود فرمایا وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ عَظِیْـمًا اور ایسا ہی اس امت کی نسبت فرمایاكُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تو پھر کیونکر ہوسکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تیس برس تک خلافت کا خاتمہ ہوجاوے اور نیز جب کہ یہ امّت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کے لئے خالی ہے تو پھر آیت اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے کیا معنی ہیں کوئی بیان تو کرے۔مثل مشہور ہے کہ اوخویشتن گم است کرا رہبری کند۔ جب کہ اس امت کو ہمیشہ کے لئے اندھا رکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھنا ہی مدنظر ہے تو پھر یہ کہنا کہ تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیا معنی رکھتا ہے۔ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے سواے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں پھر کیونکر کہتے ہو کہ خلافت صرف تیس برس تک ہوکر پھر زاویہ عدم میں مخفی ہوگئی۔ اِتَّقُواللّٰہَ۔ اِتَّقُواللّٰہَ۔ اِتَّقُواللّٰہَ۔ ‘‘
(شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 352)
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کے ارشادات عالیہ کے پیش نظر خلافت احمدیہ سے وابستہ ہونے اور اپنی نجات کے سامان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔